Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • صوابی ،بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی، 42 افراد جاں بحق

    صوابی ،بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ سے بڑے پیمانے پر تباہی، 42 افراد جاں بحق

    صوابی: خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں موسمی صورتحال انتہائی خراب ہونے کے باعث شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں 42 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ چند روز قبل گاؤں دالوڑی بالا میں آنے والے کلاؤڈ برسٹ نے 17 گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا، جس کے باعث 40 افراد ملبے تلے دب گئے تھے۔

    ڈپٹی کمشنر صوابی نصراللہ نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے سے 40 افراد کو نکالا، جن میں سے 37 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ صوابی کے دیگر علاقوں میں بھی کلاؤڈ برسٹ کی شدت برقرار رہی، جس سے کئی گھر متاثر ہوئے اور کئی مکینوں کی جانیں بھی گئیں۔ خاص طور پر سرکوئی پایاں میں کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 4 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ کرنل شیر ندی کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہنے والے ایک نوجوان کی لاش گزشتہ روز ریسکیو ٹیموں نے نکالی۔

    ڈپٹی کمشنر نصراللہ نے کہا کہ مجموعی طور پر صوابی میں بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کی وجہ سے 42 افراد اپنی جانیں کھو چکے ہیں۔ دالوڑی بالا میں 17 گھر، سرکوئی میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہوا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 27 گھروں کو مختلف سطح پر نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ علاقے میں بحالی کے کام بھی جاری ہیں تاکہ متاثرین کو جلد از جلد سہولیات فراہم کی جا سکیں۔انتظامیہ اور ریسکیو ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لئے خصوصی امداد کا اعلان کیا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور موسمی صورتحال کا خاص خیال رکھیں۔

  • آزاد کشمیر،بھارتی خفیہ ایجنسی کو معلومات دینے والا گرفتار

    آزاد کشمیر،بھارتی خفیہ ایجنسی کو معلومات دینے والا گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کو حساس معلومات فراہم کرنے کے الزام میں راولاکوٹ کے رہائشی ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف تھانہ صدر مظفرآباد میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق، ملزم نے بھارتی خفیہ ایجنسی کے لیے جاسوسی کرتے ہوئے ملکی حساس معلومات دشمن ملک کو مہیا کیں۔ ملزم نے اپنے مقامی علاقے کی جی پی ایس لوکیشنز بھاری رقم کے عوض ‘را’ کو فراہم کیں، جو کہ قومی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت نے 6 مئی کی شب مظفرآباد کی تاریخی بلال مسجد پر میزائل حملہ کیا تھا، جس سے مسجد کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

    پولیس اور سکیورٹی ادارے اس کیس کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ جاسوسی کے دیگر ممکنہ نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا سکے اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کو مؤثر طریقے سے ختم کیا جا سکے۔مظفرآباد کے شہریوں نے اس گرفتاری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانا پاکستان کی سلامتی کے لیے بہت ضروری ہے۔

  • سیلاب ، برطانیہ کے کنگ چارلس سوئم کا وزیر اعظم پاکستان کے نام پیغام

    سیلاب ، برطانیہ کے کنگ چارلس سوئم کا وزیر اعظم پاکستان کے نام پیغام

    پاکستان میں مون سون کی بارشوں کے نتیجے میں سیلاب کے حوالے سے برطانیہ کے کنگ چارلس سوئم نے وزیر اعظم شہباز شریف کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ اور انکی اہلیہ پاکستان میں حالیہ مون سون کے سیلاب کی وجہ سے ہونے والے جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی اور امدادی کارروائیوں کے دوران ہیلی کاپٹر کے ہولناک حادثے کے بارے میں جان کر سخت غمزدہ ہیں. اس سیلاب کے تناظر میں پیدا ہونے والی تباہی کا پیمانہ واقعی دل دہلا دینے والا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں، گھروں اور معاش کو کھو دیا ہے۔

    انہوں نے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان پائیدار تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں بہت سے ایسے خاندان آباد ہیں جن کا پاکستان کے ساتھ انتہائی قریبی رشتہ ہے ہم ان تمام خاندانوں کے ساتھ بھی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم متاثرہ افراد کے لیے اپنی گہرے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور اس مشکل ترین وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا ہے کہ ہم ہنگامی خدمات، رضاکاروں اور مقامی کمیونٹیز کی ہمت اور عزم کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو خطرے میں پڑنے والوں کو بچانے اور ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جن کی زندگیاں اس سیلاب سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔ ان کی یہ بے لوث کوشش گھپ اندھیرے میں بھی شمع کی مانند ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ چونکہ متاثرہ کمیونٹیز بحالی اور تعمیر نو کے چیلنجوں کا مقابلہ کر رہی ہیں، ہم اپنی خصوصی دعاؤں کے ساتھ ساتھ ان کی بہادری اور کاوشوں کو سراہتے ہیں۔

  • تم کون ہو؟فیس بک کی دوستی،شادی،دولہا کاگھر پہنچنے پر دلہن کو پہچاننے سے انکار

    تم کون ہو؟فیس بک کی دوستی،شادی،دولہا کاگھر پہنچنے پر دلہن کو پہچاننے سے انکار

    سوشل میڈیا کے ذریعے بننے والے تعلقات ایک بار پھر تنازع کا سبب بن گئے، جب اتر پردیش کے ضلع سون بھدر کے ایک نوجوان اور جھارکھنڈ کی ایک لڑکی کے درمیان فیس بک پر ہوئی دوستی شادی کے بندھن تک تو پہنچی، لیکن بعد میں لڑکے نے لڑکی کو پہچاننے سے ہی انکار کر دیا، جس پر لڑکی نے دھوکا دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے پولیس سے رجوع کر لیا۔

    تفصیلات کے مطابق جھارکھنڈ کی رہائشی ایک نوجوان لڑکی نے سون بھدر کے ایک لڑکے کی فیس بک فرینڈ ریکویسٹ قبول کی، جو ایک معروف ادارے میں ملازم ہے۔ دونوں کے درمیان آن لائن چیٹ اور ویڈیو کالز کا سلسلہ شروع ہوا، جو جلد ہی ایک گہرے رشتے میں بدل گیا۔ بعد ازاں دونوں نے آمنے سامنے ملاقات کی اور ایک مقامی مندر میں ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کر لی، جس میں سات پھیروں کی رسم بھی شامل تھی۔لڑکی کا کہنا ہے کہ اس نے نوجوان کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنا گھر بار اور خاندان تک چھوڑ دیا، لیکن جب وہ اپنے مبینہ شوہر کے گھر پہنچی، تو اس نے اسے تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا۔ لڑکی کے مطابق نوجوان نے صاف لفظوں میں کہا "معاف کرنا، تم کون ہو؟ میں تمہیں نہیں جانتا!”

    یہ سن کر لڑکی پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔ وہ وہیں رو پڑی اور گھر کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئی، جس سے محلے میں سنسنی پھیل گئی۔ مقامی لوگ جمع ہو گئے، اور معاملہ بڑھنے پر پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔بعد ازاں لڑکی نے تھانے میں تحریری شکایت درج کرائی جس میں اس نے الزام لگایا کہ "اس نوجوان نے مجھے فیس بک کے ذریعے محبت اور شادی کا جھانسہ دیا، میرے جذبات سے کھیلا، مجھ سے شادی کی، اور اب اپنی بیوی ماننے سے انکار کر رہا ہے۔ مجھے انصاف چاہیے اور میرے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔”

    پولیس حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ معاملے کی مکمل جانچ کر رہے ہیں۔ افسران کا کہنا ہے کہ شادی کے قانونی پہلوؤں اور لڑکی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی روشنی میں تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو نوجوان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ واقعہ علاقے میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے، اور سوشل میڈیا کے ذریعے بننے والے رشتوں کی سچائی اور پائیداری پر سوالات اٹھا رہا ہے۔ سماجی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ایسے معاملات میں جلد بازی اور جذباتی فیصلوں سے گریز کیا جائے، کیونکہ اکثر یہ تعلقات دھوکہ، جذباتی ٹوٹ پھوٹ اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔

  • کالعدم   ‘عوامی لیگ’ کی سرگرمیاں فوری بند کی جائیں،بنگلہ دیش کا بھارت سے مطالبہ

    کالعدم ‘عوامی لیگ’ کی سرگرمیاں فوری بند کی جائیں،بنگلہ دیش کا بھارت سے مطالبہ

    بنگلادیش نے بھارت سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری اور موثر اقدامات کرے تاکہ بھارتی سرزمین پر موجود کوئی بھی بنگلادیشی شہری ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو۔

    یہ مطالبہ بنگلادیش کی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سامنے آیا ہے جس میں بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کالعدم قرار دی گئی جماعت ‘بنگلادیش عوامی لیگ’ کے تمام دفاتر کو فوری طور پر بند کرے۔بنگلادیشی وزارتِ خارجہ کے مطابق، بھارت میں اس جماعت کے کئی سینئر رہنما بنگلادیش میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کے مقدمات میں مفرور ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 21 جولائی 2025 کو عوامی لیگ کے رہنماؤں نے دہلی پریس کلب میں ایک این جی او کے نام سے عوامی رابطہ مہم چلائی اور صحافیوں میں کتابچے تقسیم کیے، جس کی بھارتی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے کہ بھارت میں اس جماعت کی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔وزارتِ خارجہ کے بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ بنگلادیشی شہریوں کی طرف سے، خاص طور پر مفرور رہنماؤں اور کالعدم جماعت کے کارکنوں کی طرف سے بھارت میں سیاسی سرگرمیاں یا دفاتر قائم کرنا بنگلادیش کی خود مختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کھلا حملہ ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو نقصان پہنچائیں گی بلکہ عوامی جذبات کو بھی شدید متاثر کریں گی، جو دوطرفہ تعلقات اور تعاون پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بنگلادیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ اور اس کی ذیلی تنظیموں کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یہ پابندی جماعت کے رہنماؤں پر قتل، نسل کشی، انسانیت کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین الزامات کی بنا پر لگائی گئی۔ اسی دن الیکشن کمیشن نے عوامی لیگ کی انتخابی رجسٹریشن بھی معطل کر دی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بنگلادیش کی جانب سے بھارت پر یہ مطالبہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر بھارت نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا تو یہ مسئلہ نہ صرف سیاسی اور سفارتی سطح پر بلکہ عوامی سطح پر بھی کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔

  • کمسن بچوں بارے فحش مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتار،مقدمہ درج

    کمسن بچوں بارے فحش مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتار،مقدمہ درج

    لاہور: این سی سی آئی اے کی کارروائی ، کمسن بچوں بارے فحش مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتارکر لیا گیا

    کارروائی امریکی ادارے NCMEC کی اطلاع پر عمل میں لائی گئی،ایف آئی آر نمبر 202/25 درج کر لی گئی،ملزم میاں مومن احمد نے اسنیپ چیٹ کے ذریعے فحش مواد شیئر کیا،کارروائی سائبر کرائم ایکٹ کی دفعہ 22 کے تحت کی گئی،تفتیش ایس آئی شفقات احسان کے سپرد کر دی گئی،مزید تحقیقات جاری ہے،

    نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی لاہور نے 20 اگست 2025 کو ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال اور سیکس ٹورشن کے مقدمے میں ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقدمہ نمبر 202/2025 کے تحت درج ایف آئی آر کے مطابق، ملزم میاں مومن احمد ولد میاں خالد احمد، رہائشی چونگی امر سدھو، لاہور کینٹ، کے خلاف سیکشن 22 کے تحت پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کارروائی کی گئی۔ ملزم کا موبائل نمبر +923164422074 اور ای میل mk7285632@gmail.com کی مدد سے اس کے خلاف شواہد جمع کیے گئے۔

    NCCIA کی ٹیم نے تکنیکی معاون غلام مصطفیٰ، ذیشان انجم، اور محمد افتخار کی نگرانی میں ملزم کے گھر پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران ملزم سے ایک موبائل فون اور متعلقہ سم قبضے میں لیے گئے، جن کی جانچ پڑتال کے بعد موبائل میں موجود بچوں کی جنسی مواد کی تصاویر اور اسکرین ریکارڈنگز کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔ موقع پر کی گئی تفتیش میں ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا۔سب انسپکٹر شفقت احسن کی سربراہی میں جاری تفتیش میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق، تفتیش مکمل ہونے کے بعد مجرمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    NCCIA لاہور کے انسپکٹر عاقب علی خان نے بتایا کہ ملک بھر میں سائبر کرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس طرح کے جرائم میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔یہ واقعہ ملک میں بچوں کے حقوق کے تحفظ اور سائبر کرائم کے خلاف بڑھتی ہوئی کوششوں کا مظہر ہے۔ شہریوں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

  • میلہ،دربار پر خواجہ سراؤں کا رقص،مقدمہ درج

    میلہ،دربار پر خواجہ سراؤں کا رقص،مقدمہ درج

    جہلم ، دربار بابا میلہ پارس جو پانچ دنوں تک رنگا رنگ گانے بجانے اور جشن کی محفلوں میں ڈوبا رہا، اب تنازعے کا مرکز بن گیا ہے۔ میلے کے اختتام پر کچھ علماء کرام نے دربار کے احاطے میں مبینہ طور پر مجرا ہونے کی نشاندہی کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے دربار کا تقدس مجروح ہوا ہے۔ اس معاملے پر ایف آئی آر درج کروائی گئی ہے، جس میں ایک غریب نوجوان کو نامزد کیا گیا ہے۔

    دربار انتظامیہ اور احاطے کے مالک محکمہ اوقاف کے مینجر کو بے قصور قرار دیا گیا، جبکہ الزام صرف ایک نوجوان پر لگا۔ اس پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہی انصاف تھا؟ جنہوں نے ایف آئی آر درج کروائی، انہوں نے میلے کی اجازت کیوں دی؟ کیا اس دوران کوئی خاموش تماشائی نہیں تھا؟ جب میلہ ختم ہوا تو سب ہی میدان میں آگئے اور کہا کہ میلے میں مجرا ہوا ہے، جو بالکل غلط اور غیر مہذب حرکت تھی، اور اس سے بابا جی کے دربار کا تقدس بھی متاثر ہوا۔دوسری جانب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا اسی دربار کے احاطے میں منشیات کا استعمال نہیں ہوا؟ پولیس کی موجودگی تقریباً معدوم تھی، صرف دو تین اہلکار کرسیوں پر بیٹھے نظر آئے۔ کیا منشیات کے اس استعمال سے دربار کا تقدس متاثر نہیں ہوا؟

    ایف آئی آر نمبر 252/25، تھانہ سٹی جہلم کے تحت درج، مورخہ 19 اگست 2025 کو مرتب کی گئی۔ رپورٹ میں درج ہے کہ ایک ویڈیو کے ذریعے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ مورخہ 15 اگست 2025 کو دربار کے احاطے میں خواجہ سرا ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے ہوئے نظر آئے۔ اس ویڈیو کے ذریعے ملزم عدنان اکبر عرف بوبی ڈار کو ساؤنڈ سسٹم کا بلا اجازت استعمال کرنے اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں نامزد کیا گیا ہے۔پولیس نے اس مقدمے کی تفتیش شروع کر دی ہے، اور ریاض حیدر ایس آئی کو تفتیش کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

    مقامی شہری اور علماء اس معاملے پر متفق ہیں کہ مجرا ایک ناقابل قبول حرکت ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جانا چاہیے۔ لیکن وہ انتظامیہ اور پولیس کے کردار پر سوالات اٹھاتے ہیں کہ انہیں موقع پر موثر اقدامات کیوں نہیں کرنے دیے گئے۔ کئی شہریوں کا ماننا ہے کہ صرف ایک نوجوان کو نامزد کرنا ناانصافی ہے جب کہ انتظامیہ اور دیگر افراد ملوث ہیں۔در حقیقت یہ واقعہ صرف ایک نوجوان کی داستان نہیں، بلکہ انتظامیہ، پولیس، اور سماجی رویوں پر سوالیہ نشان ہے۔ کیا واقعی انصاف عمل میں آیا ہے یا ایک کمزور فرد کو قربانی بنایا گیا ہے؟ سوالات ابھی بھی باقی ہیں، جن کے جواب فوری طور پر تلاش کرنا ضروری ہیں تاکہ دربار بابا کے تقدس کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

  • چین کے وزیر خارجہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    چین کے وزیر خارجہ اہم دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے

    اسلام آباد: چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی ایک اہم سرکاری دورے پر آج اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ان کا یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے خاص اہمیت کا حامل ہے۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وانگ ژی کے دورے کے دوران اسلام آباد میں چھٹا پاک چین وزرائے خارجہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ منعقد ہوگا، جس کی صدارت دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کریں گے۔ یہ ڈائیلاگ پاک چین تعلقات کے مختلف پہلوؤں، خاص طور پر دفاع، اقتصادی تعاون، سی پیک (چائنا-پاکستان اکنامک کاریڈور)، اور علاقائی سیکیورٹی امور پر توجہ مرکوز کرے گا۔

    چینی وزیر خارجہ وانگ ژی اس موقع پر اپنے پاکستانی ہم منصب اسحاق ڈار کے ہمراہ اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں شرکت کریں گے اور اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے۔ اس مذاکراتی اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے تاکہ دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    یہ دورہ چین اور پاکستان کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور حکومتی سطح پر باہمی اعتماد کو مزید بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدے بھی ہوں گے جو دونوں ملکوں کے عوام کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

  • اسرائیل کی مغربی کنارے غیرقانونی بستی کے قیام کی منظوری

    اسرائیل کی مغربی کنارے غیرقانونی بستی کے قیام کی منظوری

    اسرائیل نے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی کے قیام کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی جسے فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

    انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ای ون بستی کے قیام کا منصوبہ انہوں نے گزشتہ ہفتے پیش کیا تھا اور بدھ کو وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے اس کی باضابطہ منظوری دے دی،خیال رہے کہ ای ون منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو درمیان سے کاٹ دے گا اور مشرقی القدس (یروشلم) سے اس کا زمینی رابطہ ختم ہوجائے گا۔ اسموتریچ نے کہا کہ ای ون کے ساتھ ہم وہ وعدہ پورا کر رہے ہیں جو برسوں پہلے کیا گیا تھا، فلسطینی ریاست کے امکان کو نعرے بازی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ختم کیا جائے گا۔

    فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی بستی مقامی فلسطینی آبادی کو الگ تھلگ کردے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کردے گی.جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ’یہ دو ریاستی حل اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم اتوار کو مغربی کنارے کی ایک اور بستی ’عوفرا‘ کے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میں نے 25 سال پہلے کہا تھا کہ ہم ہر ممکن اقدام کریں گے کہ سرزمینِ اسرائیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکیں، فلسطینی ریاست کے قیام کو روک سکیں اور ہمیں یہاں سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا سکیں۔ میں نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے وہ پورا کیا،

    ای ون منصوبہ ماضی میں 2012 اور 2020 میں امریکی اور یورپی دباؤ کے باعث روک دیا گیا تھا، اس منصوبے کے تحت تقریباً 3 ہزار 400 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ اسرائیلی تنظیم ’پیس ناؤ‘ کے مطابق بنیادی انفراسٹرکچر کے کام آئندہ چند ماہ میں شروع ہوسکتے ہیں جبکہ رہائشی تعمیرات ایک سال کے اندر شروع ہونے کا امکان ہے۔

  • پاک امریکہ تعلقات،پاکستانی امریکی کمیونٹی کی خدمات،کیلیفورنیا سینیٹ کی تاریخی قرارداد

    پاک امریکہ تعلقات،پاکستانی امریکی کمیونٹی کی خدمات،کیلیفورنیا سینیٹ کی تاریخی قرارداد

    کیلیفورنیا سٹیٹ سینیٹ نے متفقہ طور پر 31 کے مقابلے میں 0 ووٹوں سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جس میں پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات کا جشن منایا گیا ہے اور کیلیفورنیا کی معیشت، معاشرت اور ثقافتی دھارے میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کی انمول خدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

    یہ قرارداد کیلیفورنیا سینیٹر میلیسا ہارٹاڈو نے پیش کی، جو کیلیفورنیا کی تاریخ میں سب سے کم عمر خاتون سینیٹر ہیں اور ریاستی سینیٹ کمیٹی برائے زراعت کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ قرارداد میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کئی جہتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستانی امریکیوں کے کیلیفورنیا کی ترقی اور معاشی میدان میں اہم کردار کو بھی سراہا گیا ہے، جہاں کیلیفورنیا دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔سینیٹر میلیسا ہارٹاڈو نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا، "آج میں پاکستانی امریکی تعلقات کی بھرپور تاریخ اور کیلیفورنیا میں پاکستانی امریکیوں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے کھڑی ہوں۔ ان کی کہانی قربانی، وقار اور ثابت قدمی کی داستان ہے۔”

    قرارداد میں پاکستانی امریکی کمیونٹی خصوصاً نوجوان نسل کی ثقافتی وابستگی اور فخر کو اجاگر کیا گیا ہے، جو کیلیفورنیا کی متنوع اور جیتی جاگتی کمیونٹیز میں معنی خیز کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس قرارداد میں ان افراد اور تنظیموں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستانی امریکی ثقافت، روایات اور کامیابیوں کو فروغ دیا ہے۔سینیٹر ہارٹاڈو نے کہا، "امریکہ اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف تجارت اور سفارت کاری پر مبنی ہیں بلکہ یہ شراکت داری مشترکہ اقدار جیسے کہ برداشت، جمہوریت اور انسانی وقار پر بھی مبنی ہے۔ جیسے ہم پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہیں، ویسے ہی ہم امریکہ اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔”

    قرارداد کے موقع پر پاکستان کے امریکہ میں سفیر، جناب رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔ سینیٹر ہارٹاڈو نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، "آئیے ہم سب مل کر ان کا شکریہ ادا کریں جو ہمارے ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی خدمات، قیادت اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔”سفیر رضوان سعید نے سینیٹر ہارٹاڈو کی قیادت اور ‘کونسل آف پاکستان’ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم اقدام کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ کیلیفورنیا سینیٹ کی یہ قرارداد پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر ہمارے دو طرفہ تعلقات کی گہرائی اور عوامی سطح پر روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

    "گولڈن اسٹیٹ” کے نام سے مشہور کیلیفورنیا ایک عالمی اقتصادی مرکز اور ثقافتی تنوع کی مثال ہے، جہاں پاکستانی امریکیوں کی خدمات سے اس کی ترقی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا گیا ہے۔