Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسرائیل کی مغربی کنارے غیرقانونی بستی کے قیام کی منظوری

    اسرائیل کی مغربی کنارے غیرقانونی بستی کے قیام کی منظوری

    اسرائیل نے مغربی کنارے میں انتہائی متنازع اور غیر قانونی بستی کے قیام کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی جسے فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

    انتہا پسند اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل اسموتریچ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ای ون بستی کے قیام کا منصوبہ انہوں نے گزشتہ ہفتے پیش کیا تھا اور بدھ کو وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے اس کی باضابطہ منظوری دے دی،خیال رہے کہ ای ون منصوبہ مقبوضہ مغربی کنارے کو درمیان سے کاٹ دے گا اور مشرقی القدس (یروشلم) سے اس کا زمینی رابطہ ختم ہوجائے گا۔ اسموتریچ نے کہا کہ ای ون کے ساتھ ہم وہ وعدہ پورا کر رہے ہیں جو برسوں پہلے کیا گیا تھا، فلسطینی ریاست کے امکان کو نعرے بازی سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ختم کیا جائے گا۔

    فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی بستی مقامی فلسطینی آبادی کو الگ تھلگ کردے گا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کردے گی.جرمن حکومت کے ترجمان نے بھی اس اقدام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور ’یہ دو ریاستی حل اور مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں‘۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس منصوبے پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم اتوار کو مغربی کنارے کی ایک اور بستی ’عوفرا‘ کے دورے کے دوران ان کا کہنا تھا کہ میں نے 25 سال پہلے کہا تھا کہ ہم ہر ممکن اقدام کریں گے کہ سرزمینِ اسرائیل پر اپنی گرفت مضبوط رکھ سکیں، فلسطینی ریاست کے قیام کو روک سکیں اور ہمیں یہاں سے بے دخل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا سکیں۔ میں نے جو وعدہ کیا تھا ہم نے وہ پورا کیا،

    ای ون منصوبہ ماضی میں 2012 اور 2020 میں امریکی اور یورپی دباؤ کے باعث روک دیا گیا تھا، اس منصوبے کے تحت تقریباً 3 ہزار 400 نئے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ اسرائیلی تنظیم ’پیس ناؤ‘ کے مطابق بنیادی انفراسٹرکچر کے کام آئندہ چند ماہ میں شروع ہوسکتے ہیں جبکہ رہائشی تعمیرات ایک سال کے اندر شروع ہونے کا امکان ہے۔

  • پاک امریکہ تعلقات،پاکستانی امریکی کمیونٹی کی خدمات،کیلیفورنیا سینیٹ کی تاریخی قرارداد

    پاک امریکہ تعلقات،پاکستانی امریکی کمیونٹی کی خدمات،کیلیفورنیا سینیٹ کی تاریخی قرارداد

    کیلیفورنیا سٹیٹ سینیٹ نے متفقہ طور پر 31 کے مقابلے میں 0 ووٹوں سے ایک تاریخی قرارداد منظور کی ہے، جس میں پاکستان اور امریکہ کے دیرینہ تعلقات کا جشن منایا گیا ہے اور کیلیفورنیا کی معیشت، معاشرت اور ثقافتی دھارے میں پاکستانی امریکی کمیونٹی کی انمول خدمات کو تسلیم کیا گیا ہے۔

    یہ قرارداد کیلیفورنیا سینیٹر میلیسا ہارٹاڈو نے پیش کی، جو کیلیفورنیا کی تاریخ میں سب سے کم عمر خاتون سینیٹر ہیں اور ریاستی سینیٹ کمیٹی برائے زراعت کی چیئرپرسن بھی ہیں۔ قرارداد میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری کئی جہتی تعلقات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں پاکستانی امریکیوں کے کیلیفورنیا کی ترقی اور معاشی میدان میں اہم کردار کو بھی سراہا گیا ہے، جہاں کیلیفورنیا دنیا کی چوتھی بڑی معیشت ہے۔سینیٹر میلیسا ہارٹاڈو نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا، "آج میں پاکستانی امریکی تعلقات کی بھرپور تاریخ اور کیلیفورنیا میں پاکستانی امریکیوں کی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے کھڑی ہوں۔ ان کی کہانی قربانی، وقار اور ثابت قدمی کی داستان ہے۔”

    قرارداد میں پاکستانی امریکی کمیونٹی خصوصاً نوجوان نسل کی ثقافتی وابستگی اور فخر کو اجاگر کیا گیا ہے، جو کیلیفورنیا کی متنوع اور جیتی جاگتی کمیونٹیز میں معنی خیز کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس قرارداد میں ان افراد اور تنظیموں کو بھی خراج تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے پاکستانی امریکی ثقافت، روایات اور کامیابیوں کو فروغ دیا ہے۔سینیٹر ہارٹاڈو نے کہا، "امریکہ اور پاکستان کے تعلقات نہ صرف تجارت اور سفارت کاری پر مبنی ہیں بلکہ یہ شراکت داری مشترکہ اقدار جیسے کہ برداشت، جمہوریت اور انسانی وقار پر بھی مبنی ہے۔ جیسے ہم پاکستان کی آزادی کا جشن مناتے ہیں، ویسے ہی ہم امریکہ اور پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔”

    قرارداد کے موقع پر پاکستان کے امریکہ میں سفیر، جناب رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔ سینیٹر ہارٹاڈو نے ان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا، "آئیے ہم سب مل کر ان کا شکریہ ادا کریں جو ہمارے ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی خدمات، قیادت اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔”سفیر رضوان سعید نے سینیٹر ہارٹاڈو کی قیادت اور ‘کونسل آف پاکستان’ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم اقدام کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی پختہ عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ کیلیفورنیا سینیٹ کی یہ قرارداد پاکستان کے 79ویں یوم آزادی کے موقع پر ہمارے دو طرفہ تعلقات کی گہرائی اور عوامی سطح پر روابط کی عکاسی کرتی ہے۔

    "گولڈن اسٹیٹ” کے نام سے مشہور کیلیفورنیا ایک عالمی اقتصادی مرکز اور ثقافتی تنوع کی مثال ہے، جہاں پاکستانی امریکیوں کی خدمات سے اس کی ترقی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا گیا ہے۔

  • فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے۔

    ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے بیان پر شرجیل میمن نے ردعمل دیا اور کہا کہ فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے ہے لیکن وہ غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے ہیں، ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے، ایم کیو ایم کو نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ طویل عرصہ تک اقتدار میں شریک رہے ہیں،بارش کو جواز بنا کر 17سال کی بدعنوانی کا الزام لگانا ایم کیو ایم کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے،کراچی میں بہت ہی کم وقت میں اتنی زیادہ بارش ہوئی، شہر میں کچھ جگہوں پر 145 ملی میٹر تک بارش ہوئی، شہر میں کافی مقامات سے پانی کی نکاسی کر دی گئی ہے،

  • کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    کراچی سے جاری کیے گئے ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں بارش اور اربن فلڈنگ کی صورتِ حال پر گفتگو کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں وفاقی اداروں کو مکمل فعال کرنے کی اپیل کی،وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو کراچی میں مکمل فعال رہنے کی ہدایت دے دی۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے آج کراچی میں پریس کانفرنس کی اور بارش کے دوران بحالی کے کاموں پر میڈیا کو بریف کیا،مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس کے دوران تیز بارش شروع ہوگئی۔ پہلے تو مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر میڈیا والوں کو کوئی مسئلہ نہیں تو وہ بیٹھے ہیں، بارش کے دوران بھی بات کریں گے۔ تاہم اس دوران بارش کا سلسلہ تیز ہوگیا تو بالآخر انہیں پریس کانفرنس ختم کرنا پڑی،میئر کراچی نے کہا کہ کل شہر میں 12 گھنٹوں کے دوران 170 سے لے کر 235 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔ شہر کے برساتی نالوں میں صرف 40 ملی میٹر تک بارش جھیلنے کی گنجائش ہے

    علاوہ ازیں ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی کا کہنا ہے کہ کورنگی کریک کی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، پانی کا بہاؤ بہت زیادہ ہے جس کے باعث کورنگی کریک اور کازوے بند ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ علی نے کراچی کے علاقے کورنگی کا دورہ کیا ہے،اس موقع پر ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹریفک پولیس سمیت علاقہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے،ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 سے 11 ہزار کے قریب نفری نے ساری رات کام کیا ہے، مختلف جگہوں پر کھدائی کے باعث گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، کورنگی کی مین سڑک کو کھولنا تھوڑا خطرناک ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو کھول دیں، بارش ہوئی تو کورنگی کی مین سڑک کو دوبارہ بند کر دیں گے، ایئرپورٹ روڈ کھلا ہوا ہے، کئی افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

  • کابل میں سہ فریقی اجلاس میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

    کابل میں سہ فریقی اجلاس میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق

    پاکستان نے افغان سرزمین سے حملوں پر افغانستان سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون میں سست روی پر اظہارِ تشویش کیا اور افغان سرزمین سے حملوں پر مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا،نائب وزیراعظم نے کالعدم تحریک طالبان اور بی ایل اے، مجید بریگیڈ کے خلاف قابل تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس دوران افغان وزیر خارجہ نے یقین دلایا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی،دوران ملاقات دونوں وزرائے خارجہ نے سیاسی اور معاشی تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق خطے میں دہشت گردی کے خاتمے، امن اور استحکام کےلیے قریبی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا جبکہ تعلقات میں مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    دوسری جانب افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سہ فریقی اجلاس میں سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے،پاکستان، چین اور افغانستان وزرائے خارجہ کے درمیان چھٹا سہ فریقی اجلاس کابل میں ہوا۔دفتر خارجہ کے مطابق سہ فریقی اجلاس میں سیاسی، اقتصادی اور سیکیورٹی تعاون پر بات چیت ہوئی، اجلاس میں تینوں ممالک نے دہشتگردی کےخلاف مشترکہ کوششیں تیز کرنے کا عزم کیا۔ترجمان نے بتایا کہ سہ فریقی اجلاس میں تجارت، ٹرانزٹ، علاقائی ترقی، صحت، تعلیم و ثقافتی تعاون بڑھانے اور سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا گیا۔بعد ازاں نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کابل کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے پاکستان کیلئے روانہ ہوگئے، اسحاق ڈار کے ہمراہ افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق بھی شریک تھے۔وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام بھی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ موجود تھے، اسحاق ڈار کی افغان نگراں وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ہوئی۔

  • وزیراعظم،فیلڈمارشل کا خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ،ریسکیوآپریشن کا جائزہ

    وزیراعظم،فیلڈمارشل کا خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ،ریسکیوآپریشن کا جائزہ

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی وزراء اور چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کے ہمراہ خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ اضلاع سوات، بونیر، شانگلہ اور سواتی کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم اور آرمی چیف کو جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کے دوران وفاقی حکومت اور پاک فوج کی جانب سے ان کی ہر ممکن مدد کے لیے بھرپور عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے افواجِ پاکستان اور سول انتظامیہ کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے متاثرہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ حکومت ہر قسم کی مدد فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے تمام دستیاب وسائل کو متحرک کیا جائے گا تاکہ متاثرہ علاقوں میں جلد از جلد بحالی اور معمولات زندگی کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکے۔

    انہوں نے خاص طور پر غیر قانونی تجاوزات، لکڑی مافیا، اور ندی نالوں میں غیر قانونی کان کنی اور توڑ پھوڑ کی جانب توجہ دلائی، جو جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے جہاں قانون کی حکمرانی لازم ہے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ریسکیو آپریشنز میں مصروف افواج، پولیس اور سول انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور زمین پر کام کرنے والے افسران و جوانوں سے کہا کہ اس مشن کو مکمل عقیدت اور دیانتداری کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور راحت ان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔وزیراعظم اور دیگر شرکاء نے اس قدرتی آفت میں جان بحق ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔

  • مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیم مینگورہ پہنچ گئی،مینگورہ تباہ،آدھا شہر ڈوب گیا

    مرکزی مسلم لیگ کی امدادی ٹیم مینگورہ پہنچ گئی،مینگورہ تباہ،آدھا شہر ڈوب گیا

    خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مرکزی مسلم لیگ کی امدادی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے،مینگورہ میں تباہی ،10 ہزار گھر ڈوب گئے، مکین کھلے آسمان تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں، مرکزی مسلم لیگ نے مینگورہ میں بھی ریلیف و ریسکیو آپریشن کے لئے کیمپ قائم کر دیا، دو ہزار افرادمیں مستقل بنیادوں پر روزانہ پکی پکائی خوراک تقسیم کی جا رہی ہے، میڈیکل کیمپ میں ہزاروں افراد کا علاج معالجہ کیا جا چکا ہے، مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل انجینئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں.

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں میں متحرک ہے،خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر مرکزی مسلم لیگ نے بونیر ،سوات،مینگورہ و دیگر علاقوں میں امدادی کیمپ قائم کر دیئے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم و دیگر مینگورہ پہنچ چکے ہیں،انجینئر حارث ڈار،تابش قیوم نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سیلاب نے علاقوں میں کچھ نہیں چھوڑا، جانی و مالی نقصان بہت زیادہ ہوئے ہیں، مینگورہ میں تباہی بہت زیادہ ہوئی ہے، 10 ہزار سے زائد گھر سیلاب میں ڈوبے، ہزاروں دکانیں پانی میں ڈوب گئی ہیں،دس دس فٹ پانی گھروں ،دکانوں میں آیا جس کے بعد وہاں مٹی اور کیچڑ ہے، گھروں کے مکین کھلے آسمان تلے زندگیاں بسر کر کرنے پر مجبور ہیں، ایسے میں مرکزی مسلم لیگ متاثرین میں روزانہ پکی پکائی خوراک تقسیم کر رہی ہے، دو ہزار سے زائد افراد میں کھانا تقسیم کیا جارہا ہے، میڈیکل کیمپ میں متاثرین کا مفت طبی معائنہ کیا جا رہا ہے، علاقے میں الرجی پھیل چکی ہے،جلدی بیماریاں زیادہ پھیل رہی ہیں، مرکزی مسلم لیگ کے مختلف شہروں سے طبی عملے کی ٹیمیں پہنچ چکی ہیں، ہزاروں نوجوان متحرک ہیں مگر افرادی قوت کی مزید ضرورت ہے کیونکہ گھروں سے کیچڑ نکال کر انہیں مکینوں کے لئے بحال کرنا ہے، مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار رب کی رضا کے لئے خدمت کے عمل میں مصروف عمل ہیں،مزید بارش سے بچاؤ کے لئے متاثرین میں پلاسٹک کی چادریں بھی تقسیم کی جا رہی ہیں،ملک بھر سے مرکزی مسلم لیگ کے امدادی قافلے اضلاع کی سطح پر متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے ہمراہ پہنچ رہے ہیں،اب تک مرکزی مسلم لیگ پانچ سو سے زائد خاندانوں میں خشک راشن بھی تقسیم کر چکی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم مشکل کی اس گھڑی میں پیچھے نہ رہے بلکہ اخوت کے جذبے کو زندہ کرتے ہوئے اپنے متاثرہ بھائیوں کی مدد کریں.

  • لاہور ہائی کورٹ ، وکیل حنا جیلانی کو جاری عدالتی شوکاز نوٹس معطل

    لاہور ہائی کورٹ ، وکیل حنا جیلانی کو جاری عدالتی شوکاز نوٹس معطل

    لاہور ہائی کورٹ نے وکیل حنا جیلانی کو جاری کردہ عدالتی شوکاز نوٹس کو معطل کر دیا ہے۔ عدالت نے شوکاز نوٹس معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین سے جواب طلب کر لیا ہے۔

    عدالت عالیہ میں جسٹس خالد اسحاق کی سربراہی میں وکیل حنا جیلانی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ وہ خواتین کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قانونی خدمات سرانجام دے رہی ہیں اور ان کے خلاف جاری کردہ شوکاز نوٹس بلا جواز ہے۔درخواست میں عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ایک مقدمے میں جس میں لڑکی کو پیش نہ کرنے کے الزام پر ٹرائل کورٹ نے حنا جیلانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ یہ نوٹس غیر منصفانہ اور ان کے کام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ جاری شدہ عدالتی شوکاز نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے تاکہ وکیل حنا جیلانی بغیر کسی دباؤ کے خواتین کے حقوق کی دفاع جاری رکھ سکیں۔عدالت نے درخواست کی سماعت کے بعد شوکاز نوٹس کو معطل کر دیا اور آئندہ سماعت پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔

  • یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا مسئلہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں زیرِ بحث

    یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش کا مسئلہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں زیرِ بحث

    اسلام آباد: یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش اور ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں شدید بحث کا موضوع بن گئے۔ چیئرمین پی اے سی جنید اکبر خان نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے منیجنگ ڈائریکٹر کو تنخواہ دی جا رہی ہے لیکن ملازمین کی اجرتیں نہیں دی جا رہیں۔

    رکن پی اے سی عامر ڈوگر نے بھی سختی سے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے چودہ ہزار ملازمین کا روزگار چھینا جا رہا ہے، جو کہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان ہزاروں لوگوں کے سامنے روزگار کا مسئلہ پیدا کرنا ملک کی معیشت اور سماجی استحکام کے لیے نقصان دہ ہے۔

    اجلاس میں سیکریٹری صنعت نے تفصیل سے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کے پاس اپنے اخراجات اٹھانے کے لیے کوئی ریونیو موجود نہیں، اسی وجہ سے وہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے یوٹیلیٹی اسٹورز اپنے تمام اخراجات خود اٹھاتے تھے، تاہم اب صورتحال بدل گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فنانس ڈویژن سے بجٹ میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے رقم مانگی گئی تھی، مگر بدقسمتی سے بجٹ میں ان کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔

    سیکریٹری صنعت نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کا پرانا ماڈل اب ممکن نہیں رہا کیونکہ وفاقی حکومت جو سبسڈی فراہم کر رہی تھی، وہ اب شفاف انداز میں آگے منتقل نہیں کی جا رہی۔ اشیاء پر سبسڈی دینے کا یہ عمل پہلے اسٹورز کو چلانے میں مددگار ثابت ہوتا تھا لیکن اب یہ طریقہ کار ناکام ہو چکا ہے۔

    چیئرمین پی اے سی جنید اکبر نے کہا کہ ایسے مسائل روزانہ زیرِ بحث آ رہے ہیں تو کیا تمام ادارے ختم کر دیے جائیں؟ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سترہ سال سے کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کے بارے میں کوئی مناسب قدم نہیں اٹھایا گیا، اور ان لاکھوں غریبوں کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔اس کے جواب میں سیکریٹری صنعت نے یقین دہانی کروائی کہ جمعے تک یوٹیلیٹی اسٹورز کے تمام ملازمین کے لیے فائنل پیکج پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز میں تین اقسام کے ملازمین کام کر رہے ہیں، کنٹریکٹ، ریگولر اور ڈیلی ویجز، اور تمام اقسام کے ملازمین کو مناسب پیکج دیا جائے گا۔

  • بھارتی فوج میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، اعلیٰ افسروں کو استثنیٰ حاصل

    بھارتی فوج میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات ، اعلیٰ افسروں کو استثنیٰ حاصل

    بھارتی فوج میں خواتین کی جنسی ہراسانی اور زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ادارے کی ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تازہ ترین واقعے میں ایک کرنل نے اپنی اہلیہ کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف کیا ہے ۔ جس میں بھارتی فوج کے متعدد اعلیٰ افسران ملوث ہیں۔ریٹائرڈ کرنل امیت کمار کے مطابق انکی اہلیہ کو اوڈیشہ کے ہسپتال میں اعلیٰ فوجی افسروں کی طرف سے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ کرنل کی طرف سے پیش کئے گئے ویڈیو شواہد اور باضابطہ ایف آئی آر میں تین بریگیڈیئرز اور ایک لیفٹیننٹ کرنل کو نامزد کئے جانے کے باوجود فوج کی انٹرنل انکوائری میں انہیں الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔کرنل امیت کمار نے بھارتی فوج کی قیادت اور پولیس پر ساز باز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فوج میں اعلیٰ افسروں کی طرف سے خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعات طویل عرصے سے جاری ہیں اور متاثرہ خواتین اور خاندانوں کو ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارتی فوج میں خواتین سے زیادتی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ۔2015ء میں راجستھان میں آرمی کی سگنل کور کی ایک نوجوان خاتون افسر نے اپنے کمانڈنگ افسر کے خلاف جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کی شکایت درج کرائی تھی۔ تاہم مذکورہ افسر کے خلاف کارروائی میں جان بوجھ کر کئی ماہ کی تاخیر کی گئی اور مجبوراً ، خاتون افسر کو وزیر دفاع سے انصاف کی اپیل کرنی پڑی ۔ اس سے قبل 2008ء میں آرمی سپلائی کور کی کیپٹن پونم کور نے سینئر افسران پر ذہنی اور جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا تھا ۔ تاہم اعلیٰ افسروں کو بچانے کیلئے تحقیقات میں کیپٹن کے تمام الزامات کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا گیا تھا۔بھارتی فوج مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی بڑے پیمانے پر جنسی تشدد اور عصمت دری کے واقعات میں ملوث ہے۔ 1991ء میں بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں تلاشی کی کارروائی کے دوران درجنوں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔ اگرچہ اس واقعے کی ایف آئی آر صرف 23 متاثرہ خواتین کی طرف سے درج کرائی گئی تاہم انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق متاثرہ خواتین کی اصل تعداد 100 کے قریب ہے ، جو آج بھی انصاف کی منتظر ہیں ۔ان سنگین واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد اور شفاف نظام کی عدم موجودگی سے بھارتی فوج کو ان گھناؤنے جرائم کی پردہ پوشی کا موقع فراہم ہوتا ہے۔ کرنل امیت کمار کی اہلیہ سے اعلیٰ افسروں کی زیادتی کے واقعے سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ بھارتی فوج میں خواتین کے تحفظ اور اُنہیں انصاف کی فراہمی کے دعوے صرف کھوکھلے ہیں۔