Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیرِ اعظم  شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم شہباز شریف گلگت پہنچ گئے

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت پہنچ گئے

    گلگت پہنچنے پر گلگت بلتستان کے گورنر سید مہدی شاہ اور وزیرِ اعلی گلبر خان نے وزیر اعظم کا استقبال کیا. وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ امور برائے کشمیر و گلگت بلتستان انجینئیر امیر مقام، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر شبیر عثمانی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں. وزیرِ اعظم گلگت میں بارشوں و سیلاب کے متاثرین سے ملاقات کریں گے اور امدادی رقوم تقسیم کریں گے.

    وزیر اعظم کو گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں نقصانات کے حوالے سے بریفنگ دی جائے گی. وزیر اعظم گورنر و وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سے بھی ملاقات کریں گے.

  • شادمان نالے میں خاتون اور بچے کی ہلاکت،ورثا کو 99 لاکھ ادائیگی کا حکم

    شادمان نالے میں خاتون اور بچے کی ہلاکت،ورثا کو 99 لاکھ ادائیگی کا حکم

    سٹی کورٹ کراچی کے سینئر سول جج نے شادمان نالے میں گرنے سے خاتون اور دو ماہ کے بچے کی ہلاکت کے کیس میں فریقین کو 99 لاکھ روپے سے زائد ورثاء کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

    کے ایم سی اور ڈی ایم سی وسطی کے خلاف شہری کے ہرجانے کے دعویٰ پر سماعت ہوئی،دوران سماعت سینئر سول جج نے ریمارکیس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حادثہ فریقین کی غفلت کے باعث پیش آیا، کے ایم سی اور ڈی ایم سی وسطی عوامی فرائض کی انجام دہی میں ناکام رہے، قانونی ذمے داری تھی کہ سیوریج کے نظام کی دیکھ بھال اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں،درخواست گزار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 2022ء کی بارشوں کے دوران موٹر سائیکل سوار خاندان نالے میں گر گیا تھا، فریقین کی غفلت سے مدعی کی اہلیہ اور دو ماہ کا بیٹا جاں بحق ہوا،وکیل نے کہا کہ برساتی نالے کے اطراف کوئی حفاظتی انتظامات نہیں تھے، مدعی کے 3 ماہ کے بیٹے کی لاش بھی نہیں مل سکی۔

  • مودی راج کا ووٹر وار، ہندوتوا کا نیا ہتھیار، بہار میں مسلم ووٹرز کا منظم اخراج

    مودی راج کا ووٹر وار، ہندوتوا کا نیا ہتھیار، بہار میں مسلم ووٹرز کا منظم اخراج

    بھارت میں ووٹ مانگنے سے پہلے ووٹر ہی مٹا دیے گئے,مودی راج میں اقلیت ہونا سب سے بڑا جرم بن چکا ہے

    مودی کا الیکشن پلان بے نقاب، ووٹر لسٹ سے اقلیتوں کا منظم اخراج جاری ہے،بہار میں الیکشن سے قبل لاکھوں اقلیتی ووٹرز کو فہرست سے باہر کردیا گیا،ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کا اخراج تیزی سے جاری، جمہوری حق چھیننے کی خاموش مہم عروج پر ہے،ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بہار میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹر لسٹ کی چھانٹی کرتے ہوئے لاکھوں مسلمانوں، دلتوں اور غریبوں کو فہرست سے باہر کر دیا گیا

    دی ٹریبیون انڈیا کی رپورٹ کے مطابق”بہار میں مسلم اکثریتی اضلاع سے ووٹرز کے ناموں کا بڑے پیمانے پر اخراج کیا گیا،اقلیتی آبادی والے اضلاع میں ووٹر لسٹ سے ناموں کی غیر معمولی کٹوتی کی گئی،الیکشن کمیشن کے مطابق بہار کے 10 اضلاع میں سب سے زیادہ ووٹرز کو فہرست سے نکال دیا گیا ہے،مدھوبنی، مشرقی چمپارن، پورنیہ اور ستمرھی جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں ووٹر لسٹ سے ہزاروں نام غائب ہیں،اپوزیشن کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعے اقلیتوں اور غریبوں کو ووٹر لسٹ سے نکالا جا رہا ہے،مدھوبنی میں 3,52,545 فارم جمع نہ ہونے پر ووٹرز کی ممکنہ فہرست سے اخراج کیا گیا ہے،مشرقی چمپارن میں 3,16,793، پورنیہ میں 2,73,920 اور ستمرھی میں 2,44,962 فارم واپس نہ آئے ،الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ فارم کی عدم وصولی کا مطلب ووٹر لسٹ سے ممکنہ اخراج ہے، دیگر متاثرہ اضلاع میں پٹنہ، گیا، گوپال گنج، سارن، مظفرپور اور سمستی پور شامل ہیں،مجموعی طور پر 65 لاکھ سے زائد ووٹرز کو مردہ، منتقل شدہ یا دہری رجسٹریشن کی بنیاد پر نکالا گیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق 7.24 کروڑ ووٹرز کے فارم موصول ہوئے، اعتراضات جمع کرانے کی آخری تاریخ یکم ستمبر ہے ،جمہوریت کا چولا، ہندوتوا کا کھیل , مودی راج میں الیکشن سے پہلے اقلیتوں کا صفایا معمول بن چکا ہے،مودی سرکار کا "سب کا ساتھ سب کا وکاس” صرف ایک سیاسی نعرہ , اصل میں مسلمانوں کا ووٹر لسٹ سے صفایا جاری ہے

  • ہندوتوا کے نظریے پر کاربند ظالم مودی سرکار کا جنگی جنون حد سے تجاوز کر گیا

    ہندوتوا کے نظریے پر کاربند ظالم مودی سرکار کا جنگی جنون حد سے تجاوز کر گیا

    مودی جنگی جنون میں پاگل،ایک بار پھر خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں.

    مودی سرکار کے نام نہاد” آتم نربھر بھارت” کے پیچھے چھپی ایک اور مذموم عسکری سازش بے نقاب ہو گئی،بھارت کی ہتھیار بندی اور جنگی مشقوں میں اضافہ خطے میں علاقائی استحکام کیلئے بڑا خطرہ بن گیا ،بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین آرمی نے 212 عدد 50 ٹن ٹینک ٹرانسپورٹر ٹریلرز کی خریداری کیلئے معاہدہ کر لیا،ٹینک ٹرانسپورٹر ٹریلرز کی خریداری کیلئے 224 کروڑ روپے کے معاہدے کیے گئے، یہ ٹریلرز50 ٹن وزنی ٹینکوں اور دیگر جنگی گاڑیوں کے نقل و حمل کیلئے ڈیزائن کیے گئے ہیں،ان ٹریلرز میں ہائیڈرولک اور پنیومیٹک لوڈنگ ریمپس نصب ہیں ، انڈین آرمی نے ٹریلرز کی خریداری کیلئے اینجسکیڈس ایروسپیس کیساتھ معاہدہ کیا، ٹینک ٹرانسپوٹ ٹریلرز کامعاہدہ “آتم نربھر بھارت” مہم کی مناسبت سے کیا گیا ہے ،

    جنگی سازوسامان کیلئے کروڑوں روپے کے معاہدے بھارت کا پاکستان کیخلاف عسکری جارحیت کی طرف قدم ہے ،جنگی تیاری کے اقدامات مودی کی بی جے پی اور آر ایس ایس کی انتہا پسند ہندوتوا اور جنگی ذہنیت کے عکاس ہے، بی جے پی کی سرکار مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے نوجوانوں کی جنگی ذہن سازی کرنے لگی

    بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین آرمی نے لداخ میں این سی سی کیڈٹس کیلئے آرمی اٹیچمنٹ اور ٹریننگ کیمپ کا انعقاد کیا،این سی سی کیڈٹس کی تربیت بنیادی شعبوں اور فیلڈ ایکسر سائزز پر مرکوز کی گئی، جس میں ہتھیاروں کی تربیت، نقشہ پڑھنا اور جسمانی فٹنس شامل تھیں

    لداخ میں ڈرلز اور ہتھیاروں کی تربیت کے پیچھے مودی کی جارحیت کا مکار مقصد چھپا ہے ، نوجوانوں کی سوچ میں عسکریت پسندی پیداکرنے کا مقصد مودی کے مذموم سیاسی مقاصد کا حصول ہے ،بی جے پی ہندو توا نظریے کی بنیاد پر قومی وسائل کو ایک جارحانہ جنگی مشن کی توسیع میں لگا رہی ہے،مودی سرکار جنگی صلاحیتوں میں اضافے کی آڑ میں آپریشن سندور کی بد ترین شکست کا داغ نہیں مٹا سکتی،جنگی ہتھیاروں کی تیاری میں بے پناہ اضافہ ہمسایہ ممالک کو اشتعال دلانے کی خطرناک روش ہے،پاکستان بھارت کی کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور اور مؤثر جواب دینےکی صلاحیت رکھتا ہے،

  • یومِ آزادی معرکۂ حق: پاکستان کا قیام کئی نسلوں کے خوابوں کی تعبیر

    یومِ آزادی معرکۂ حق: پاکستان کا قیام کئی نسلوں کے خوابوں کی تعبیر

    14اگست کو ایک آزاد، خودمختار ریاست کا عظیم خواب شرمندہ تعبیر ہوا

    پاکستان سرزمین آبا ؤ اجداد کی لازوال قربانیوں کی میراث ہے،پاکستان کی عظیم کہانی ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرا کی زبانی سنتے ہیں، ڈاکٹر سیدہ عارفہ زہرا کہتی ہیں کہ میں 4 سال کی تھی جب ہم پاکستان آ گئے ، پاکستان لوگوں کیلئے ایک خواب کی تعبیر تھا، پاکستان لوگوں کے ایک عمل کے اثر کیلئے تھا ، آج بھی لوگ مجھ سے کہتےہیں ہمیں پاکستان نے کیا دیا ، میں ان سے پوچھتی ہوں کہ پاکستان نے کیا نہیں دیا ، پاکستان نے ہمیں ایک پہچان دی، دنیا میں ایک ایسی مٹی ہے جو میرے پیر پکڑے رکھتی ہے ،باقی سب جگہ ہم شہری تو ہو جاتے ہیں مگر وہ ہمارا وطن نہیں ہوتا،

    پاک سرزمین کی آزادی کئی نسلوں کی قربانیوں اور جدوجہد سے ممکن ہوئی،14اگست یومِ آزادی ایمان ، اتحاد اور تنظیم کے عزم نو کا دن ہے

  • جیل میں مردہ مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

    جیل میں مردہ مرغیوں کے گوشت کی سپلائی کا انکشاف

    فیصل آباد: ڈسٹرکٹ جیل فیصل آباد میں قیدیوں کو مردہ مرغیوں کا گوشت سپلائی کیے جانے کا سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے۔ پولیس کی اسپیشل برانچ کے ڈی آئی جی نے چند روز قبل محکمہ داخلہ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا کہ جیل کے ٹھیکیدار شہباز زندہ مرغیاں تو لاتے ہیں لیکن کچھ دیر بعد ان کے ملازمین مردہ مرغیوں کا گوشت جیل میں لے آتے ہیں، جسے زندہ مرغیوں کے گوشت کے ساتھ ملا کر قیدیوں کو کھلایا جاتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، جیل میں 2000 سے زائد قیدیوں کے لیے ہفتے میں پانچ دن روزانہ ساڑھے پانچ من گوشت فراہم کیا جاتا ہے، جس میں سے دو سے اڑھائی من گوشت مردہ مرغیوں کا ہوتا ہے جو غیر معیاری اور غیر صحت بخش ہے۔ یہ مردہ گوشت نیلے رنگ کے ڈرموں میں مرغی کے پروں کے نیچے چھپا کر ایک سلاٹر ہاؤس لایا جاتا ہے، جہاں زندہ اور مردہ مرغیوں کا گوشت مکس کیا جاتا ہے۔محکمہ داخلہ کو موصول رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیل کے افسران اور عملہ ٹھیکیدار کے ساتھ مل کر کرپشن میں ملوث ہیں، اور اس غیر قانونی عمل کو چھپانے میں مدد دے رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ایک سٹنگ آپریشن کے دوران ٹھیکیدار کے ایک ملازم کو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔

    اس انکشاف کے بعد 30 جولائی کو جیل سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو معطل کر دیا گیا تاہم چند گھنٹوں بعد محکمہ داخلہ نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے دونوں افسران کو بحال کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ جیل میں مردہ مرغی کی سپلائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور اعلیٰ تحقیقاتی ٹیم کی مکمل انکوائری کے بعد یہ معاملہ حل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں قیدیوں کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔

    اس اہم واقعے کے حوالے سے ابھی تک محکمہ داخلہ کی طرف سے پیش کیے گئے ثبوتوں کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں، جس پر شفافیت اور جواب دہی کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔ عوام اور انسانی حقوق کے ادارے اس معاملے پر سخت نظر رکھے ہوئے ہیں اور مزید وضاحت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس انکشاف سے نہ صرف جیل کے انتظامات پر سوالات اٹھے ہیں بلکہ قیدیوں کی صحت اور انسانی حقوق کی حفاظت کے حوالے سے بھی شدید خدشات پیدا ہوئے ہیں، جن کا فوری ازالہ ضروری ہے۔

  • غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت تین افراد گرفتار

    غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون قتل، شوہر سمیت تین افراد گرفتار

    بہاولپور کے علاقے تلہڑ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ خاتون کو اس کے شوہر، سسر اور دیور نے مبینہ طور پر جان سے مار دیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمان نے شک کی بنیاد پر خاتون کو پھندا لگا کر قتل کیا،پولیس ذرائع کے مطابق واقعہ کے بعد ملزمان لاش کو دفنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور فوری کارروائی کرتے ہوئے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ملک میں بڑھتے ہوئے غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔ چند روز قبل 17 جولائی کو راولپنڈی میں بھی جرگے کے حکم پر ایک شادی شدہ خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، جس نے معاشرتی برائیوں پر روشنی ڈالی ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

  • حکومت نے چینی درآمد کرنے کے لیے ایک اور بڑا ٹینڈر جاری کر دیا

    حکومت نے چینی درآمد کرنے کے لیے ایک اور بڑا ٹینڈر جاری کر دیا

    اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملکی منڈی میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور قلت کے پیش نظر ایک اور ٹینڈر جاری کیا ہے تاکہ چینی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے مطابق ایک لاکھ میٹرک ٹن چینی کا ٹینڈر 11 اگست کو کھولا جائے گا۔

    چینی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور عوامی سطح پر دستیابی میں کمی کے باعث حکومت نے چند روز قبل ہی دو لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر جاری کیا تھا تاکہ مقامی منڈیوں میں چینی کی قلت کو کم کیا جا سکے۔تاہم دوسری جانب ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری نرخوں پر چینی کی فراہمی اب تک ممکن نہیں ہو سکی اور خاص طور پر لاہور میں چینی کی دکانوں سے مکمل طور پر گمشدگی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دکانداروں نے گڑ اور شکر کی قیمتوں میں بھی اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

    کوئٹہ میں حالیہ دنوں میں چینی کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے جہاں گزشتہ روز تک چینی 185 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہی تھی جو اب 7 روپے فی کلو کی کمی کے بعد 178 روپے فی کلو پر آ گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے چینی کی سرکاری قیمت 177 روپے فی کلو مقرر کی ہوئی ہے تاکہ صارفین کو مناسب قیمت پر چینی مہیا کی جا سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور مقامی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹوں کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے تدارک کے لیے حکومت کی طرف سے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے صورتحال پر مزید نگرانی ضروری ہے تاکہ عام آدمی کو ریلیف پہنچایا جا سکے۔

  • پی ٹی آئی کااسلام آباد احتجاج،جلسہ منسوخ

    پی ٹی آئی کااسلام آباد احتجاج،جلسہ منسوخ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اسلام آباد میں اپنے متوقع احتجاج اور جلسے کو منسوخ کر دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اب احتجاج کی نئی حکمت عملی کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں کی بنیاد پر اضلاع اور قصبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے، جہاں عوامی شرکت زیادہ متوقع ہے۔

    خیبر پختونخواہ میں بھی پی ٹی آئی کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ اب وہاں میلے ٹھیلے کی شکل میں چھوٹے احتجاج کیے جائیں گے جبکہ بڑے پیمانے پر شور شرابے یا ہنگامے کا امکان بہت کم ہے۔ پارٹی نے اگست کے مہینے کے حوالے سے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے احتجاج کی نوعیت اور مقامات کو محدود کر دیا ہے۔پی ٹی آئی نے 5 اگست کو ہونے والے احتجاج میں اپنی توقعات کے مطابق کامیابی نہ ملنے کے بعد احتجاجی تحریک کو 14 اگست تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل ترجیح بانی رہنما کی رہائی ہے، اور یہ تحریک بحالی جمہوریت کے نعروں سے زیادہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف، سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین، اور پارلیمانی پارٹی کی سربراہ سمیت کئی اہم ارکان کو پولیس تلاش کر رہی ہے، اور انہیں پارلیمنٹ کے قریب آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ حکومتی سیکیورٹی اقدامات کے باعث ان رہنماوں کے پارلیمنٹ ہاؤس کے قریب پہنچنے کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔آج پیر کو قومی اسمبلی کا 18 واں اجلاس شروع ہو رہا ہے، جہاں پارلیمنٹ ہاؤس میں جلسے اور ہنگاموں کے بجائے ایک معمول کے اجلاس کے انعقاد کا امکان ہے۔ قومی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل سید طاہر حسین نے اجلاس کے لیے 32 نکات پر مشتمل تفصیلی ایجنڈا جاری کیا ہے، جو حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔

  • بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    بلوچستان محسن صوبہ،کسی کو حق نہیں کہ امن خراب کرے،بلوچستان امن جرگہ

    اتحاد امت کوئٹہ کے زیر اہتمام بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان اور قوم پاکستان کا محسن صوبہ ہے، اسی صوبہ نے پاکستان کے قیام میں اہم کردار ادا کیا ،بلوچستان کا امن پاکستان کا امن ہے کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ پاکستان کا امن خراب کرے،آئیں ہم متحد ہوکر پاکستان کے استحکام کے لیے مل کر سیاست کریں ،اہل بلوچستان کا انکے حقوق دیئے جائیں، بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کی جائے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے

    ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق،ہدیۃ الھادی پاکستان کے سربراہ پیر سید ہارون علی گیلانی،مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،چئرمین شعبہ خدمت خلق چوہدری شفیق الرحمن وڑائچ،بلوچ رہنما ڈاکٹر نادر خان اچکزئی،میر فیض مری ، مولانا عبدالقادر لوئی، زبیر حسین، سردار محمد افضل تاجک، عبدالہادی کاکڑ، عبدالحق ہاشمی، ملک میرا خان نیازی، میر شاہجہان گرگناڑی، سردار سعود ساسولی، ملک محمد اسلم، ڈاکٹر ہارون، میرشکر خان رئیسانی، ڈاکٹر عبدالرشید، پیر سید حبیب اللہ چشتی، ثاقب، حافظ محمد ادریس اور مختلف عمائدین نے کوئٹہ کے مقامی ہوٹل میں‌ بلوچستان امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا.جرگہ کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ بلوچستان امن جرگہ میں‌شرکا نے حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان میں امن وامان کے قیام کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کیا ۔ جرگہ نے بلوچستان میں بھارت کی جانب سے کھلی دہشت گردی، قتل وغارت اور اس کے پورے ملک میں بڑھتے ہوئے دائرہ کار کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور حکومت سے اس کی فوری روک تھام کا پر زور مطالبہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ لسانیت، صوبائیت اور علاقائیت کی بنیاد پر پر امن شہریوں کے قتل عام کی روک تھام کی جائے۔ جرگہ اس قتل و غارت گری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ امن و امان کی فضا کو فروغ دیا جائے۔صوبے بھر کے تمام راستوں کو کلیئر کرنا اور اُنہیں محفوظ بنانا صوبائی و وفاقی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے تا کہ لوگوں کی آمد ورفت پر امن انداز میں ممکن ہو اور تجارت کو فروغ مل سکے۔

    بلوچستان امن جرگہ کے اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کو سیاسی اور معاشی معاملات میں آئینی حقوق دیے جائیں اور صوبے کے تمام فیصلے منتخب نما ئندوں کو کرنے کا مکمل اختیار دیا جائے۔بلوچستان میں گالی، گولی اور سختی کی پالیسی کو ترک کیا جائے اور چیک پوسٹوں پر عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔گوادر سے چمن تک بارڈر کی بندش کے باعث 30 لاکھ افراد بے روز گار ہو چکے ہیں انہیں باعزت روز گار فراہم کیا جائے۔لاپتہ افراد کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔جن سیاسی آزادیوں کی اجازت آئین پاکستان دیتا ہے ان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تا کہ آزاد وطن میں حقیقی آزادی عام ہو سکے،اغوا کاروں، بھتہ خوروں، لینڈ مافیا اور منشیات فروشوں کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے اور ان کی سر پرستی بند کی جائے۔بلوچستان سے متعلق تمام اہم امور ، بشمول گیس، ریکوڈک اور ساحل سے متعلق معاہدات عوام کے سامنے لائے جائیں اور بلوچستان کے مسائل کو اولین ترجیح دی جائے۔حقوق بلوچستان کے آغاز سے آج تک کوئی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ حکومت وقت سے مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو اُس کے حقوق دیے جائیں اور کیسے گئے وعدے وفا کیے جائیں۔بلوچستان میں سی پیک کے فیز ون اور فیز ٹو کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔امن جرگہ حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کیلئے ایک با اختیار کمیٹی قائم کرے جو تمام مسائل کا حل تلاش کرے۔امن جرگہ بلوچستان تمام مذہبی، سیاسی جماعتوں اور تنظیموں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہے کہ آئیے ہم اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کریں، تا کہ ہم سب مل کر پاکستان کے خلاف آنے والے چیلنجز کا منظم اور متفق ہو کر مقابلہ کر سکیں۔ ہم اتحاد کے ذریعے ہی کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم کوئی ہجوم نہیں، بلکہ ایک امت ہیں۔ آئیے ایک امت بن کر ، وحدت کے ساتھ ، اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لیے جد و جہد کریں۔امن جرگہ ، صوبائی و وفاقی حکومتوں سے پر زور مطالبہ کرتا ہے کہ بلوچستان کو امن وامان کی دولت سے مالا مال کیا جائے کیونکہ اس صوبے کا امن دراصل پاکستان کا امن ہے۔