Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت کا یاترا کی آڑ میں فوجی تسلط اور پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب

    بھارت کا یاترا کی آڑ میں فوجی تسلط اور پاکستان مخالف بیانیہ بے نقاب

    انسداد دہشتگردی اور احتیاطی سیکیورٹی کے نام پر مودی کی پاکستان کے خلاف ایک اور سازش سامنے آئی ہے

    مودی سرکار نےپہلگام فالس فلیگ کی ہزیمت مٹانے کے لیے ایک بار پھر مقبوضہ کشمیر میں آپریشن شیوہ کا آغازکر دیا،مودی کی جانب سے فوجی اقدامات انسداد دہشتگردی کے لیے نہیں بلکہ سیاسی جنگ کے ہتھیار ہیں،مودی سرکار مذہبی رسومات اور حفاظتی انتظامات کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں فوجی موجودگی کو جواز فراہم کر رہی ہے ،امرناتھ یاترا کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے آپریشن شیوہ 2025 شروع کیا گیا ہے،پاکستان سے کشمیر میں دراندازی روکنے کے لیے 8,500 سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں،اودھم پور اور کشتواڑ میں حالیہ جھڑپیں عسکری شدت پسندی کی علامت ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق راجوری، پونچھ، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں 40 سے 50 پاکستانی عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات ہیں، آپریشن سندور کے بعد پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے ساتھ دہشتگردوں کو دوبارہ تعینات کر دیا ہے،

    بھارت فرضی خطرات گھڑ کر پاکستان کو بدنام اور کشمیری مزاحمت کو دہشتگردی ثابت کرنا چاہتا ہے،بھارتی فوج کے مستقل آپریشنز مقبوضہ کشمیر پر زبردستی مسلط ہونے کی علامت ہیں ،یاترا کی آڑ میں بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو مکمل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے،اگر آپریشن سندور کامیاب تھا تو اب دوبارہ ہزاروں فوجی مقبوضہ کشمیر میں کیوں تعینات کیے جا رہے ہیں؟ مودی سرکار امرناتھ یاترا کو سیاسی مقصد کے لئے استعمال کر کے کشمیری شناخت مٹا رہی ہے

  • کیسےمودی نے بھارت میں فاشزم کو پروان چڑھایا؟

    کیسےمودی نے بھارت میں فاشزم کو پروان چڑھایا؟

    مودی کا اقتدار بھارت کے لیے جمہوریت نہیں بلکہ فاشزم اور آمریت کی راہ ثابت ہو رہا ہے

    مودی سرکار نے جمہوریت کے نام پر ایسا نظام قائم کیا جہاں صرف حکمراں کی زبان بولی جاتی ہے،عدلیہ، میڈیا اور ریاستی اداروں پر مودی سرکار کا شکنجہ بھارت کو ایک خالص آمرانہ ریاست میں تبدیل کر رہا ہے،مودی سرکار کی پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر سب سے بڑی جمہوریت کے بجائے فسطائیت کی علامت بنا دیا ،حال ہی میں سینئر صحافی پریم شنکر جھا نے مودی سرکار پر مفصل کتاب لکھی ،جس میں بھارت کی جمہوریت کے زوال کو بیان کیا گیا،کتاب میں بتایا گیا کہ مودی نے بطور وزیر اعظم بھارت کو تدریجی طور پر فاشسٹ ریاست میں تبدیل کیا

    بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق؛”پریم شنکر جھا نے عدلیہ، میڈیا اور وفاقی ڈھانچے پر مودی کے منظم حملوں کو بے نقاب کیا”مودی نے حکومت سنبھالتے ہی وزارتوں میں کیمرے لگوا کر صحافیوں کے پریس انفارمیشن بیورو کارڈز منسوخ کردیے، صحافیوں اور بیوروکریسی کے درمیان آزادانہ رابطہ ختم کرکے صرف سرکاری بیانیہ نافذ کیا گیا، وزارتوں کے فیصلے سرکاری وزراء کی جگہ بی جے پی کے نامزد افراد کے مشورے سے ہونے لگے، آزادی صحافت پر حملے کے تحت مودی نے میڈیا کو اشتہارات کی بندش اور جھوٹے مالی مقدمات میں جکڑ لیا، این ڈی ٹی وی کے بانیوں پر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگا کر چینل کو مفلوج کیا گیا،بالآخر این ڈی ٹی وی کو اڈانی گروپ کے ہاتھ فروخت کروا کر سرکاری ترجمان بنادیا گیا، عدلیہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد پرکشش عہدے دیکر مشروط وفاداری خریدی گئی، سابق چیف جسٹس پی ستیہ شیوم کو گورنر اور اے ایم کھانولکر کو لوک پال بنایا گیا، مودی نے اپنی حکومت کے دوران نہ کبھی پریس کانفرنس کی نہ قومی ترقیاتی کونسل کی میٹنگ بلائی،منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ نیتی آیوگ قائم کیا اور ترقیاتی فنڈز کو ذاتی و جماعتی مفاد کے مطابق بانٹا گیا، نیتی آیوگ مودی سرکار کی پالیسی ساز تنظیم جو منصوبہ بندی کمیشن کی جگہ لاکر فنڈز پر سیاسی کنٹرول کا ذریعہ بنی،

    مودی سرکار نے اختلاف رائے کو جرم اور صحافت کو غلامی میں بدل دیا ،بھارت میں آئین قانون اور شفافیت سب کچھ مودی سرکار کی مرضی کے تابع کر دیا گیا ،مودی نے اداروں کو نوکرشاہی میں بدل کر بھارت کو شخصی حکمرانی کی تجربہ گاہ بنادیا ،مودی کے بھارت میں انصاف، آزادی اور سچ کا قتل جبکہ اختلاف رائے غداری اور سچ بولنا جرم ہے

  • الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرین کے وکیل کے دلائل مکمل ہو گئے،وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ جنرل نشستوں کے بعد ہی مخصوص نشستیں ملنی ہیں،جتنی جنرل نشستیں ہونگی اتنی ہی مخصوص نشستیں ملنی چاہیے، سب سے اہم مسئلہ کٹ آف تاریخ کا ہے.قانون میں ایسی کوئی تاریخ نہیں کہ اس تاریخ تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ کرنا لازم ہے،اگر ضمنی انتخابات کو بھی دیکھنے کا کہا جائے تو مخصوص نشستوں والا معاملہ مزید گھمبیر ہوجائے گا،ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ اگر ضمنی انتخابات میں کسی جماعت کی سیٹیں کم ہوجائیں تو کیا مخصوص نشستیں کم ہوسکتیں ہیں،وکیل پی ٹی آئی پی نے کہا کہ نہیں،مخصوص نشستیں واپس نہیں لی جاسکتیں،
    ہمارے تحفظات ہیں کہ ہمارے دو نمائندوں کو ایک شمار کیا گیا ہےنوٹیفکیشنز کے ساتھ اگر دیکھا جائے تو ہماری دو مخصوص نشستیں بنتی ہیں،

    الیکشن کمیشن میں خیبرپختونخواہ اسیمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران بجلی چلی گئی ،الیکشن کمیشن نےکمرے کے دروازے اور کھڑکیاں کھول کرروشنی کا استعمال کیا لیکن سماعت ملتوی نہ کی،

  • فواد حسن فواد کی چینی کی درآمد پر حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت

    فواد حسن فواد کی چینی کی درآمد پر حکومت کے فیصلے کی سخت مخالفت

    اسلام آباد: سابق نگران وفاقی وزیر اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کے قریبی ساتھی فواد حسن فواد نے حکومت کی جانب سے چینی کی درآمد کے حالیہ فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے نہ صرف غیر موثر بلکہ ملکی مفاد کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

    گزشتہ چند دنوں سے ملک بھر میں چینی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی شہروں میں چینی کی فی کلو قیمت 200 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو گئی ہے، جس کے باعث عام صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت نے چینی کے بحران سے نمٹنے کے لیے 5 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے پہلا باضابطہ ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس درآمد کے لیے تقریباً 30 کروڑ ڈالر کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

    فواد حسن فواد نے حکومت کے اس اقدام پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ چینی کی درآمد کے فیصلے پر فوری طور پر نظرثانی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ چینی کا سب سے بڑا صارف عام آدمی نہیں بلکہ فوڈ اور بیوریجز انڈسٹری ہے، جو ملک میں چینی کی ایکسپورٹ اور درآمد دونوں کی ذمہ دار ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس نے پہلے چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت لے کر مارکیٹ میں کمی پیدا کی اور پھر مہنگی قیمتوں پر چینی بیچ کر بھاری منافع حاصل کیا۔ اس طرح کے حالات میں حکومت کی جانب سے چینی درآمد کرنا مسئلہ حل کرنے کی بجائے اسے مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

    فواد حسن فواد نے حکومت سے سوال کیا کہ جن لوگوں کو چینی کی ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی، ان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے؟ اور اس پورے معاملے میں ایف بی آر کہاں ہے؟ انہوں نے حکومتی ناکامی کو چینی درآمد کرنے کی بنیاد نہیں قرار دیا اور کہا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، جس میں اب تک ناکامی کا سامنا ہے۔

  • اے این ایف کا کریک ڈاؤن،3 خواتین سمیت 9 ملزمان سے منشیات برآمد

    اے این ایف کا کریک ڈاؤن،3 خواتین سمیت 9 ملزمان سے منشیات برآمد

    اسلام آباد: اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں اور تعلیمی اداروں کے قریب منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 9 مختلف کارروائیوں کے دوران 3 خواتین سمیت کل 9 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جبکہ 98 لاکھ 29 ہزار روپے مالیت کی 65.278 کلوگرام منشیات برآمد ہوئی ہے۔

    پشاور میں یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک کالج کے قریب گاڑی سے 3 کلو ہیروئن برآمد کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ مزید برآں، یونیورسٹی کے قریب ایک اور ملزم کے قبضے سے 1.5 کلو چرس برآمد ہوئی۔ گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات کی فراہمی کرتے رہے ہیں، جس پر سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔فیصل آباد ایئرپورٹ پر قطر جانے والے مسافر کے سامان سے ٹرالی بیگ میں چھپائی گئی 1.378 کلو آئس برآمد، ملزم گرفتار کر لیا گیا

    وارثک روڈ پشاور میں کوریئر آفس سے گجرات اور کراچی بھیجے جانے والے پارسلز میں سے 1.8 کلو چرس برآمدکی گئی،کراچی کے سہراب گوٹھ بس سٹینڈ کے قریب 2 خواتین کے قبضے سے 12 کلو چرس برآمد، دونوں خواتین ملزمہ گرفتار کر لی گئیں،جامشورو ٹول پلازہ کے قریب مسافر بس میں سوار خاتون کے قبضے سے 12 کلو چرس برآمد، ملزمہ گرفتار کر لی گئی،لاہور میں جی ٹی روڈ شالیمار باغ کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم کے قبضے سے 13.20 کلو چرس اور 6 کلو افیون برآمد کی گئی،ہجرت کالونی کراچی کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزم کے قبضے سے 12 کلو چرس برآمد کی گئی،اسلام آباد موٹروے ٹول پلازہ پر مسافر بس میں سوار ملزم کے قبضے سے 2.4 کلو چرس برآمد کی گئی

    گرفتار ملزمان کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اے این ایف کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ اور فروخت کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں تاکہ خاص طور پر نوجوان نسل کو اس وبا سے بچایا جا سکے۔

  • حمیرا اصغر کی موت کب ہوئی؟ ڈی آئی جی ساؤتھ نے ممکنہ تاریخ بتا دی

    حمیرا اصغر کی موت کب ہوئی؟ ڈی آئی جی ساؤتھ نے ممکنہ تاریخ بتا دی

    ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ میں مردہ پائی گئی حمیرا اصغر کی موت سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔

    جیونیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ لاش خراب ہونے کی بو 5 سے 40 دن تک ہوتی ہے اور اس مدت کے دوران حمیرا کے ہمسائے بھی اپنے فلیٹ میں نہیں تھے۔اسد رضا نے کہا کہ حمیرا اصغر کے پڑوس والا فلیٹ بھی کافی عرصہ خالی تھا، جہاں اداکارہ کی لاش تھی وہاں ساتھ والے کمرے میں واش روم کی کھڑکی کھلی تھی، ہوسکتا ہے کہ کھڑکی کے ذریعے لاش کی بُو باہر نکلتی رہی ہو، فلیٹ کی مینجمنٹ کمیٹی، چوکیدار اور ہمسائے کو بھی شامل تفتیش کریں گے، حمیرا اصغر کراچی سے لاہور سفر کرتی رہتی تھیں، ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے سمجھا ہو وہ لاہور گئی ہوئی ہیں۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں 7 اکتوبر 2024 کو یہ واقعہ پیش آیا جس کے 3 دن بعد ایک بار چوکیدار نے حمیرا کو فون بھی کیا جس کا جواب نہیں آیا،7 اکتوبر کے بعد حمیرا اصغر کے ایک دوست نے بھی ایک بار فون کیا۔

    حمیرا اصغر کی لاش 8 جولائی کو اتحاد کمرشل کے ایک فلیٹ سے اس وقت ملی جب کرائے کی عدم ادائیگی پر مالک مکان کے عدالت پہنچنے پر عدالتی بیلف ان کے گھر پہنچا اور فلیٹ کا دروازہ نہ کھولنے پر دروازہ توڑا گیا تو اداکارہ کی لاش برآمد ہوئی،لاش کے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لاش ڈی کمپوز کے آخری اسٹیج پر ہے جسے دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اداکارہ کی موت تقریباً 8 ماہ پرانی ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ،انڈیکس ایک لاکھ 35 ہزار سے بھی اوپر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ،انڈیکس ایک لاکھ 35 ہزار سے بھی اوپر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے 100 انڈیکس نے ایک بار پھر ریکارڈ توڑتے ہوئے ایک لاکھ 35 ہزار 313 پوائنٹس کی نئی بلند ترین سطح عبور کر لی ہے۔ نئے کاروباری ہفتے کے آغاز پر اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی جس کے باعث 100 انڈیکس میں ایک ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔

    ہفتے کے پہلے دن 100 انڈیکس میں 1013 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے مارکیٹ کا اعتماد واضح طور پر بڑھا ہوا نظر آیا۔ اس تیزی کے باعث سرمایہ کاروں میں جوش و خروش پایا گیا اور کاروباری سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔یاد رہے کہ گزشتہ کاروباری ہفتے میں بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی کا رجحان رہا۔ پورے ہفتے کے دوران 100 انڈیکس میں 2350 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، اور ہفتے کے اختتام پر انڈیکس 134,299 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔ گزشتہ ہفتے انڈیکس نے مجموعی طور پر 2605 پوائنٹس کے بینڈ میں اپنی حرکت دیکھی گئی۔

    اس مارکیٹ کی مضبوط کارکردگی کو ملکی معیشت کے بہتر ہونے، سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان اور بین الاقوامی سطح پر مالیاتی حالات کے سازگار ہونے سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ کی یہ مثبت صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کی علامت ہے اور مستقبل میں بھی مارکیٹ کی کارکردگی میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • متنازع پیکا ایکٹ،انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے چیف جسٹس کو لکھا خط

    متنازع پیکا ایکٹ،انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس نے چیف جسٹس کو لکھا خط

    متنازع پیکا ایکٹ اور صحافیوں کے مسائل پر انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (آئی ایف جے) نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا۔

    انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی وزیر اعظم، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اور صدر پی ایف یو جے کو بھی بھیجی گئی ہے،آئی ایف جے نے پیکا ایکٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں بڑھتے خطرات کا سامنا ہے، صحافیوں کو پیکا قانون کے تحت مقدمات، ہراسانی اور دھمکیوں کا سامنا ہے،پاکستان نے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور اقوام متحدہ کے کنونشنز پر دستخط کر رکھے ہیں، پیکا کے تحت آزادی اظہار اور بنیادی حقوق محدود ہو رہے ہیں، پریس فریڈم رپورٹ کے مطابق 34 خلاف ورزیاں رپورٹ ہوئیں،صحافیوں پر حملے، ہراسانی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیزی اور تشدد کے کئی کیسز رپورٹ ہوئے، پاکستان میں صحافیوں کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا سامنا ہے، پاکستان میں صحافیوں کو غیرقانونی برطرفیوں اور سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

    آئی ایف جے نے کہا کہ سپریم کورٹ کو براہ راست اپیلوں کی اجازت دینا ہائی کورٹس کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے، آئی ایف جے نے پاکستان میں دو مشن بھیجے، جنہوں نے میڈیا ورکرز سے براہ راست ملاقاتیں کیں، سپریم کورٹ پیکا قانون کا ازسرنو جائزہ لے اور حکومت کو قانون میں ترامیم کی ہدایت دے، آرٹیکل 19 کے تحت آزادی صحافت کے تحفظ کے لیے فوری اقدام کیا جائے، پاکستان میں ایک سال کے دوران 7 صحافی قتل کیے گئے، چیف جسٹس سے اپیل ہے پیکا قانون کا فوری ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

  • پاکستانی تین نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ہنی ٹریپ میں پھنس کر تھائی لینڈ سے اغوا

    پاکستانی تین نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ہنی ٹریپ میں پھنس کر تھائی لینڈ سے اغوا

    ساہیوال: ساہیوال کے تین نوجوانوں کو بھارتی لڑکیوں کے ذریعے ہنی ٹریپ کرکے تھائی لینڈ میں اغوا کر لیا گیا ہے۔ متاثرہ نوجوان عثمان امین، محمد احمد اور تجمل شہزاد اپنے فیصل آباد کے ایک دوست کے ساتھ 26 مئی 2025 کو تھائی لینڈ پہنچے تھے، جہاں سے انہیں اغوا کر کے میانمار منتقل کیا گیا۔

    تینوں نوجوان بھارتی لڑکیوں کے ساتھ ٹیلیفونک رابطے میں تھے جنہوں نے ان کا اعتماد جیت کر انہیں ہنی ٹریپ کیا۔ متاثرہ نوجوانوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اسی بھارتی لڑکی نے تھائی لینڈ کے لیے ان نوجوانوں کے ٹکٹ بھیجے تھے، اور لاہور ایئرپورٹ پر نامعلوم افراد نے انہیں رخصت کیا تھا۔نوجوانوں کے والدین نے بتایا کہ میانمار سے اغواکاروں نے ان کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ہے۔ والدین نے حکام سے فوری کارروائی اور اپنے بچوں کو بازیاب کرانے کی اپیل کی ہے۔

    یہ واقعہ ایک بار پھر ہنی ٹریپنگ اور انسانی اسمگلنگ کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جس میں نوجوانوں کو فریب دے کر غیر ممالک میں لے جایا جاتا ہے اور پھر ان سے تاوان طلب کیا جاتا ہے۔ حکام کی جانب سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور نوجوانوں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

  • خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    خیبرپختونخوا کی سیاست میں بڑی تبدیلی کی بازگشت،اہم مشاورت حتمی مرحلے میں

    پشاور: خیبرپختونخوا کی سیاسی فضا میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے، جہاں صوبے کی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اہم مشاورت حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس حوالے سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر امیر مقام، وزیراعظم کے مشیر پرویز خٹک اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی، جس میں صوبائی سیاسی صورتحال، ضم شدہ اضلاع کے مسائل اور امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    نجی ٹی وی کے مطابق یہ غیر رسمی ملاقات پرویز خٹک کی رہائش گاہ پر ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے ہوئی، مگر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی قیادت نے صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور ایک متحدہ لائحہ عمل کے تحت انتخابات لڑنے پر اصولی اتفاق رائے قائم کیا ہے۔اسی دوران ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جاری بدامنی اور عوامی تشویش پر بھی غور کیا گیا اور وزیراعظم کی جانب سے قائم کی گئی کمیٹی کے کردار اور کارکردگی پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اپوزیشن ان اضلاع کے مسائل کو سیاسی ایجنڈے میں اہم مقام دے رہی ہے تاکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ موقف اپنایا جا سکے۔

    دوسری جانب گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام کے درمیان بھی گورنر ہاؤس پشاور میں ایک علیحدہ ملاقات ہوئی جس میں صوبے کی آئندہ سیاسی حکمت عملی پر غور و خوض کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ گورنر ہاؤس میں اپوزیشن اراکین اسمبلی کی ایک بڑی بیٹھک جلد بلائی جائے گی، جس میں صوبے کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں کی سرگرمیوں میں تیزی اور مشترکہ حکمت عملی کی طرف پیش رفت، صوبے کی سیاسی صورتحال میں ممکنہ بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ خاص طور پر سینیٹ انتخابات اس نئی سیاسی صف بندی کا پہلا بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں، جس کا اثر نہ صرف صوبے بلکہ ملک کی سیاسی سیاست پر بھی پڑے گا۔