Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    علی امین گنڈا پور کا چیلنج ،مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے کھری کھری سنا دیں

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے بھائی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنے کا چیلنج قبول کرلیا۔

    مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے بھائی انجینئر ضیا الرحمان نے جاری ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا الیکشن لڑنےکا چیلنج قبول کرتے ہوئے کہا ہے علی امین گنڈاپور تمہارا چیلنج قبول ہے، تمہاری اوقات نہیں کہ مولانا فضل الرحمان تمہارا چیلنج قبول کرے،پہلے تم مفتی محمود کے اس بیٹے سے مقابلہ کرکے دکھاؤ۔مولانا فضل الرحمان نے تو تمہارے لیڈر کو اقتدار کی کرسی سے گھسیٹ کر نکالا تھا، تم اپنے بھائی سے استعفیٰ دلوا کر ان کا مجھ سے مقابلہ کراؤ،میں نے ڈی آئی خان کے چوک میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ اگر ان کا ڈی این اے کیاگیا تو یہ گنڈاپور نہیں نکلے گا۔ گنڈاپور بہادر اور غیرت مند لوگ ہیں،مگر یہ ان میں سے نہیں، علی امین گنڈاپور کے انداز گفتگو اور تکلیف سے انہیں معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے چل چلاؤ کا زمانہ آچکا ہے۔

    واضح رہے کہ اتوار کو لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مولانا فضل الرحمان کو کھلا چیلنج دیا تھا،علی امین گنڈاپور نے مولانا فضل الرحمان کو چیلنج دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی آئی خان میں میرے بھائی کے خلاف الیکشن جیت کر دکھائیں، مولانا فضل الرحمان نے الیکشن جیت لیا تو میں استعفیٰ دے دونگا۔

  • دہلی،چھ روز سے لاپتہ طالبہ کی لاش دریاسے برآمد

    دہلی،چھ روز سے لاپتہ طالبہ کی لاش دریاسے برآمد

    نئی دہلی: دہلی یونیورسٹی کی 19 سالہ طالبہ سنیہا دیبناتھ جو چھ روز قبل لاپتہ ہوئی تھی، کی لاش یامنا دریا سے برآمد ہو گئی ہے۔ پولیس کے مطابق سنیہا دیبناتھ، جو تری پورہ کی رہائشی تھی، کی لاش کو اس کے اہل خانہ نے شناخت کر لیا ہے۔ لاش کو مزید تفتیش کے لیے پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

    سنیہا دیبناتھ چھ جولائی کو شمالی دہلی کے سِگنیچر برج کے قریب ایک کیب میں سوار ہوئی تھی، جس کے بعد وہ لاپتہ ہو گئی تھی۔ پولیس کے مطابق، اس نے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ چھوڑا تھا جس میں اس نے خودکشی کا اشارہ دیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس کا تعلیمی شعبے سے کوئی مسئلہ نہیں تھا بلکہ اس کی ذہنی اذیت کا سبب خاندانی مسائل تھے۔تحقیقات کے دوران پولیس نے تکنیکی نگرانی کی مدد سے سنیہا کی حرکتوں کا سراغ لگایا اور اس کی آخری معلوم جگہ سِگنیچر برج کو قرار دیا۔ لاش شمالی دہلی کے ماجنوں کا تِلا کے قریب گیتا کالونی میں ایک فلائی اوور کے نیچے واقع یامنا دریا سے ملی، جو سِگنیچر برج سے تقریباً 10 کلومیٹر نیچے ہے۔

    پولیس کے مطابق، کیب ڈرائیور نے بیان دیا کہ اس نے سنیہا کو سِگنیچر برج پر اتارا تھا۔ کچھ عینی شاہدین نے بھی بتایا کہ انہوں نے ایک لڑکی کو پل پر کھڑا دیکھا تھا جو کچھ دیر بعد وہاں سے غائب ہو گئی تھی۔لاش کی تلاش کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور پولیس کی مختلف ٹیموں نے شمالی دہلی کے نگم بودھ گھاٹ سے لے کر نویدا تک کے علاقوں کی چھان بین کی۔پولیس نے بتایا کہ سنیہا نے سات جولائی کی صبح کے وقت اپنے قریبی دوستوں کو ای میلز اور پیغامات بھیجے تھے۔ اس کے دوستوں نے بتایا کہ وہ پچھلے چند مہینوں سے ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا تھی۔سنیہا کے اہل خانہ اور کچھ دوستوں نے سِگنیچر برج کے سی سی ٹی وی کیمرے کی نگرانی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ جب سنیہا لاپتہ ہوئی تو وہاں نصب تمام کیمرے کام نہیں کر رہے تھے۔پولیس اس کیس کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ سنیہا کی موت کے پیچھے چھپے حقائق سامنے آ سکیں۔

  • پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور پولیس نے نامناسب ویڈیوز بنانے والے ٹک ٹاکر کو دوبارہ گرفتار کر لیا

    پشاور: پشاور پولیس نے اندرون شہر تحصیل پارک گور کھڑی علاقے سے نامناسب ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے معروف ٹک ٹاکر ‘ماصل’ کو ایک بار پھر گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم پر مختلف دفعہ منشیات کے استعمال، لڑائی جھگڑے اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنانے کے متعدد مقدمات پہلے سے درج ہیں اور وہ عادی مجرم کے طور پر ریکارڈ میں موجود ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ماصل نے تحصیل پارک گور کھڑی میں متعدد بار ایسے نامناسب اور غیر اخلاقی ویڈیوز بنا کر انہیں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپلوڈ کیا تھا، جس سے عوام میں شدید تشویش اور ناپسندیدگی پائی گئی۔ عوامی حلقوں نے اس قسم کی حرکتوں کی سخت مذمت کی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس نے مزید بتایا کہ ماصل کو تھری ایم پی او (مقامی قانون کے تحت) کے تحت جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وہ آئندہ ایسے جرائم سے باز رہے۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی جاری رکھے گی جو معاشرتی اقدار اور اخلاقیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

  • دو روز قبل 83 ویں سالگرہ منانے والے بھارتی اداکار چل بسے

    دو روز قبل 83 ویں سالگرہ منانے والے بھارتی اداکار چل بسے

    700 سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے سینیئر اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سابق ایم ایل اے کوٹا سرینواسا راؤ 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کوٹا سرینواسا راؤ کا انتقال اتوار کی صبح حیدرآباد دکن میں واقع رہائش گاہ پر ہوا، صرف 2 دن قبل ہی انہوں نے اپنی 83ویں سالگرہ منائی تھی،آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے اداکارکوٹا سرینواسا راؤ کافی عرصے سے بیمار تھے،سرینواسا راؤ نے 1978 میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا۔ 4 دہائیوں پر مشتمل اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے 750 سے زائد فلموں میں اداکاری کی، جن میں تیلگو، تامل، کنڑ اور ہندی فلمیں شامل تھیں۔

    وہ خصوصاً منفی کرداروں اور کیریکٹر رولز میں اپنی بہترین اداکاری کے لیے مشہور ہوئے۔کوٹا سرینواسا راؤ کو ان کی بھارتی سنیما کے لیے خدمات پر کئی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں 2015 میں ’پدما شری‘ ایوارڈ بھی شامل ہے،اداکاری کے علاوہ انہوں نے سیاست میں بھی قدم رکھا اور 1999 سے 2004 تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایم ایل اے کےطور پر خدمات انجام دیں،بھارتی فلم انڈسٹری لیجنڈری اداکار کے انتقال پر سوگوار ہے اور ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں کی جانب سے خراجِ عقیدت کا سلسلہ جاری ہے۔

  • غزہ میں بمباری سے شہادتیں،پھر بھوک سے اموات، ایک المیہ ہے،حافظ خالد نیک

    غزہ میں بمباری سے شہادتیں،پھر بھوک سے اموات، ایک المیہ ہے،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی مظالم ایک طرف تو وہیں بھوک سے فلسطینی مر رہے ہیں،اقوام متحدہ کی دل دہلا دینے والی رپورٹ سامنے آئی ہے،خوراک کے حصول کی کوشش میں 798 فلسطینیوں کا شہید ہونا ایک المیہ ہے،اسرائیلی مظالم کیخلاف امت کو ایک آواز ہونے کے ساتھ امدادی سامان پہنچانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے

    حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ غزہ میں مئی 2024 سے اب تک 798 فلسطینی صرف خوراک حاصل کرنے کی کوشش میں شہید ہو چکے ہیں،غزہ میں بچوں، خواتین اور بوڑھوں کو خوراک جیسی بنیادی انسانی ضرورت کی تلاش میں قتل کرنا اسرائیل کی ظالمانہ پالیسیوں کی انتہا ہے، یہ صرف جنگی جرم نہیں بلکہ منظم نسل کشی ہے، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے نام نہاد ادارے کہاں ہیں، کیا فلسطینی انسان ہیں ،انکے حقوق نہیں، غزہ کی موجودہ صورتحال پر او آئی سی کو آگے بڑھنا چاہئے، پاکستان کو بھی سفارتی محاذ پر متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستانی عوام، خصوصاً نوجوان سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کریں،یہ صرف فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں، یہ انسانیت کا امتحان ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    خیبر پختونخوا میں تبدیلی کی خواہش، مگر پی ٹی آئی اکثریت میں ہے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہمارا صوبہ کسی سیاسی کشمکش کا متحمل نہیں ہوسکتا، صوبے سے متعلق پارٹی مشاورت سے فیصلہ کرے گی، میری تجویز ہوگی صوبے میں تبدیلی آئے۔

    پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تبدیلی آئے تو پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، سینیٹ سے متعلق کیا ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے ابھی تبصرہ نہیں کر سکتا،فاٹا انضمام غلط فیصلہ تھا جسے سب پارٹیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، کل قبائل کا گرینڈ جرگہ دوبارہ بیٹھے گا، ان سے مشاورت کریں گے، ہم نے پہلے بھی فاٹا کے عمائدین کے مشورے سے فیصلے کرنا چاہے، انضمام مقصد نہیں تھا، بات قبائل کے سیاسی مستقبل کی تھی، انضمام کی تجویز آئی تھی ہم نے کہا نہیں، قبائل کو اختیار دو، فاٹا سے متعلق قبائلی مشران کی مشاورت ناگزیر ہےکمیٹی نے جے یو آئی ف سے نام مانگا ہے اور ہمیں فریق تسلیم کیا ہے، فاٹا کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں کتنے پشتون ہیں اور کتنے صوبے سے ممبر ہیں؟ ہمارے صوبہ کا پیسا صرف اس لیے ہے کہ مراعات لی جائیں، 8 سال ہوگئے ہیں فاٹا میں ایک پٹواری نہیں جا سکتا ہے،2006 اور 2007 میں خیبرپختونخوا میں امن و امان تھا اور اس وقت صوبے میں ہماری حکومت تھی

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کے پی اور بلوچستان میں جس بچے پر ظلم ہوتا ہے، میں ان کو اپنا بچہ سمجھتا ہوں، جمعیت علما اسلام سے بڑھ کر کس نے ملین مارچ کیے؟ عوام کا مورال بلند کرنے کے لیے پشاور میں ملین مارچ کیا، سیاستدان جیل جاتا ہے، لیکن تحریک صرف رہائی کے لیے نہیں ہوتی، تحریکیں عظیم مقاصد کے لیے ہوتی ہیں،کوئی سیاستدان جیل میں نہیں ہونا چاہیے ،پی ٹی آئی اور جے یو آئی کے درمیان دشمنی تو نہیں ہے،اسمبلیاں بکی ہوئی ہیں،بکاؤ حکومت کا حصہ نہیں بن سکتا،اگر وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہوتا تو حکومت کا حصہ ہوتا،کسی کےسامنے جھک کر اقتدار نہیں مانگو ں گا،

  • سپریم کورٹ، ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد

    سپریم کورٹ، ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد

    سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر انکے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کردی

    ذرائع کا بتانا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ختم ہو گیا ہے،نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں عدالتی ضابطہ اخلاق سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا، سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کیخلاف شکایات نمٹانے پر ان کے نام پبلک کرنے کی تجویز مسترد کر دی، اجلاس میں یہ فیصلہ بھی ہوا کہ جن ججز کیخلاف شکایات نمٹائی جاتی ہیں ان کے نام پبلک نہ کرنے کا کونسل کا فیصلہ ہے،

    دوسری جانب سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا،اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ، منیب اختر، عالیہ نیلم اور جنید غفار نے شرکت کی،سپریم جوڈیشل کونسل سروس رولز 2025 کا مسودہ منظور کر لیا گیا،ضابطہ اخلاق میں ترامیم پر مزید قانونی غور کی ضرورت قرار،انکوائری کے طریقہ کار پر بھی مزید مشاورت کی جائے گی، اجلاس میں ججز کے خلاف 24 شکایات پر غور کیا گیا، 19 شکایات کو متفقہ طور پر خارج کر دیا گیا،5 شکایات کو مؤخر کر دیا گیا،

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا قافلہ لاہور روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پی ٹی آئی اراکین کا قافلہ لاہور روانہ

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کا قافلہ پنجاب اسمبلی سے نکالے گئے نمائندوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہے۔

    اپنے ایک بیان میں علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ قافلہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف پُرامن ردعمل ہے۔ ہم امن، محبت، بھائی چارے اور رواداری کا پیغام لے کر جارہے ہیں،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ احتجاج نہیں محض اظہارِ یکجہتی ہے، ہمارا مقصد انتشار نہیں بلکہ جمہوری اقدار کا تحفظ ہے، ہم یہ بتانےجارہے ہیں کہ جمہوری نمائندوں کے ساتھ ہیں،ہم صرف امن، محبت، بھائی چارے اوررواداری کا پیغام لیکرجا رہے ہیں، جوسمجھتے ہیں کوئی احتجاج ہے، جان لیں یہ محض اظہارِیکجہتی ہے، عوام دیکھ لیں یہ قافلہ نفرت نہیں، صرف محبت لے کر نکل رہا ہے

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گرفتاریاں ممکن نہیں ہیں، ایسا نہیں ہونے والا.اسلام آباد میں خیبر پختونخوا ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صرف پارلیمنٹیرینز لاہور جا رہے ہیں،ہمارا پنجاب والوں سے رابطہ ہے وہ بھی پارلیمنٹیرینز ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہمارا حق ہے ہم سڑک پر چل سکتے ہیں ،آرٹیکل 19 ہمارا بنیادی حق ہے یہ حق ہم سے چھین لیا گیا ،ہماری خواہش ہے ہم لوگوں کے ساتھ بیٹھیں اور گفتگو کریں اور ان کے مسائل سنیں ،یہ قافلہ صرف گفتگو کرنے کے لیے لاہور روانہ ہورہا ہے ،آج میٹنگ ہوگی اور کل بھی ہوگی اور اس کے بعد واپس آئیں گے ،بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کا واپس آنا ان کا بنیادی حق ہے وہ آئیں گے

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، بحریہ ٹاؤن سکینڈل، مرزاشہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، بحریہ ٹاؤن سکینڈل، مرزاشہزاد اکبر ماسٹر مائنڈ قرار

    بحریہ ٹاؤن کے 190 ملین پاؤنڈز کے اسکینڈل میں اب تک کی سب سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس میں مرزا شہزاد اکبر کو مرکزی کردار ادا کرنے والا ملزم قرار دیا گیا ہے۔

    شہزاد اکبر جو سابق وزیراعظم عمران خان کے معاون اور احتساب کے حوالے سے خاص ذمہ داری نبھاتے تھے، ان پر قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات کے سامنے ہیں،آزادنیوز کے مطابق یہ اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے پاکستان کو بحریہ ٹاؤن کے خلاف مالی بدعنوانی کی تحقیقات میں 190 ملین پاؤنڈز کی ریکوری کی پیشکش کی۔ یہ رقم پاکستان کی سرکاری ملکیت میں ہونی چاہیے تھی، لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس کو غیر قانونی طریقے سے ایک مخصوص اکاؤنٹ میں منتقل کیا گیا، جس کا تعلق رجسٹرار سپریم کورٹ پاکستان سے تھا۔

    تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مزا شہزاد اکبر نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے 6 نومبر 2019 کو ایک "کانفڈینشیئلٹی ڈید” پر دستخط کیے، جس میں رجسٹرار کے اکاؤنٹ کو "ڈیزگنیٹڈ اکاؤنٹ” قرار دیا گیا تاکہ رقم اسی اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے۔ اس معاہدے پر دیگر متعلقہ افراد جیسے ضیاءالمصطفیٰ نسیم نے بھی دستخط کیے۔مزید یہ کہ شہزاد اکبر نے کابینہ کی منظوری لینے سے پہلے یہ دستاویز خود دستخط کر دی تھی، اور پھر 3 دسمبر 2019 کو کابینہ کے اجلاس میں اس کی منظوری کے لیے پیش کیا، جو کہ حکومتی عمل میں دھوکہ دہی اور جان بوجھ کر حقائق چھپانے کا واضح ثبوت ہے۔

    شہزاد اکبر اور ضیاءالمصطفیٰ نسیم نے 2019 میں برطانیہ کے دو دورے کیے، جن میں انہوں نے نیشنل کرائم ایجنسی اور برطانوی ہوم سیکرٹری سے ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد مالی جرائم کی تحقیقات اور رقم کی حوالگی سے متعلق بات چیت تھی۔تاہم، اس دوران پاکستان کے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک جیسے اداروں کو مذاکرات سے مکمل طور پر خارج رکھا گیا، جس کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

    کانفڈینشیئلٹی ڈید، جس پر شہزاد اکبر نے 6 نومبر 2019 کو دستخط کیے، جو کہ اصل میں غیر قانونی اکاؤنٹ کو مالی رقوم منتقل کرنے کے لیے ایک سرکاری اجازت نامہ تھا۔ کابینہ کی منظوری کے بغیر رقم کی منتقلی، جو قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔مارچ 2019 میں شہزاد اکبر اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان اس اسکینڈل کے حوالے سے ملاقاتیں ہوئیں، جن میں اہم معلومات کو چھپایا گیا۔سرکاری خطوط اور نوٹیفیکیشنز، جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ شہزاد اکبر کے پاس قانونی دائرہ کار کے اندر کام کرنے کی ذمہ داری تھی، مگر انہوں نے اپنی ذاتی مرضی سے قواعد کی خلاف ورزی کی۔

    تحقیقات میں واضح ہوا ہے کہ اس سازش کی وجہ سے پاکستان کے قومی خزانے کو 190 ملین پاؤنڈز کا بھاری نقصان ہوا ہے۔ اس اسکینڈل میں شامل افراد کی غفلت اور بدانتظامی کی بنا پر یہ رقم بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے غیر قانونی طور پر منتقل ہوئی، جس سے ملک کی معیشت اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا۔

    3 فروری 2019 کی کابینہ میٹنگ سے پہلے 06.11.2019 کو معاہدے پر دستخط کرنے سے اس کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے۔نومبر 2019 کے آخری ہفتے یعنی کابینہ اجلاس سے پہلے برطانیہ سے پاکستان کو جرائم کی رقم کی منتقلی اس بات کا ثبوت ہے۔ اعظم خان کا بیان، جس میں ملزم عمران خان اور اشتہاری مجرم مرزا شہزاد اکبر کے 02.03.2019 کو نوٹ پر ملاقات کا ذکر ہے۔شہزاد اکبر نے کابینہ سے حقائق چھپائے اور معاہدے پر دستخط کرنے سے پہلے اسے بغیر کسی اجازت کے مکمل کر لیا۔تحقیقات میں اس کی اہمیت اور بد نیتی کے شواہد واضح ہیں اور وہ اس وقت اشتہاری مجرم کے طور پر مطلوب ہیں۔دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شہزاد اکبر نے کابینہ سے اہم حقائق چھپائے اور ایسی کارروائیاں کیں جن کے لیے انہیں قانونی اختیار حاصل نہیں تھا۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس جان بوجھ کر کی گئی بدانتظامی نے ایک غیر قانونی منتقلی اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں مدد فراہم کی، جس سے پاکستان کے قومی مفاد کو شدید نقصان پہنچا۔ حکام اب اس سنگین معاملے میں ملوث تمام افراد سے مکمل احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو  کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی افغان سفیر کو کینسر اسپتال کے قیام میں معاونت کی پیشکش

    اسلام آباد: وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات، باہمی تعاون اور علاقائی استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں وزیرِ اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیریسٹر محمد علی سیف بھی موجود تھے۔ انہیں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے افغانستان کے متعلقہ حکام سے رابطے کی ذمہ داری سونپی گئی، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان عملی سطح پر روابط کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے افغانستان میں کینسر اسپتال کے قیام میں تعاون فراہم کرنے کی پیشکش کی، جبکہ زراعت کے شعبے میں بھی بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت افغانستان کے عوام کی فلاح و بہبود میں ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

    ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد، مشترکہ زبان، نسلی، قبائلی اور مذہبی رشتے موجود ہیں، جنہیں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کے ساتھ مزید مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ دونوں فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ بیرونی طاقتوں کے مذموم عزائم کے خلاف مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، مستحکم اور پرامن مستقبل فراہم کیا جا سکے۔

    افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب نے افغان مہاجرین کا خاص خیال رکھنے پر حکومتِ خیبر پختونخوا کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے اعلان کیا کہ وہ ایک خصوصی وفد افغانستان بھیجنا چاہتے ہیں، جو پاکستان اور افغانستان کی عوام کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کے فروغ میں پل کا کردار ادا کرے گا۔