Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سوشل میڈیا پربارشی پانی کی تصویریں ڈی ایچ اے کی ،وہ ہمارےدائرہ اختیار میں نہیں آتا،عظمیٰ بخاری

    سوشل میڈیا پربارشی پانی کی تصویریں ڈی ایچ اے کی ،وہ ہمارےدائرہ اختیار میں نہیں آتا،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہاہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار بلوچستان میں ہونے والے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سخت اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کا سب سے اہم ترجیحی ایجنڈا صحت کا شعبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز اس حوالے سے دن رات محنت کر رہی ہیں تاکہ صحت کے شعبے کی بہتری کو یقینی بنایا جا سکے۔ عظمیٰ بخاری نے اس بات کی وضاحت کی کہ صحت کارڈ پروگرام کے تحت مریضوں کا علاج مسلسل جاری ہے اور اس پروگرام کو بند کرنے کی افواہیں اور پروپیگنڈہ بے بنیاد ہیں۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ صحت کارڈ کا استعمال نجی اسپتالوں میں تو بخوبی ہو رہا ہے لیکن سرکاری اسپتالوں میں اس کا غلط استعمال پایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے تمام آڈٹ رپورٹس جلد منظر عام پر لائی جائیں گی تاکہ عوام کو مکمل شفافیت فراہم کی جا سکے۔

    وزیر اطلاعات نے پنجاب حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی احتجاجی کال پر خاموشی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے نہ پہلے پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال پر کوئی ردعمل دیا اور نہ ہی اب دے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خیبرپختونخواہ حکومت سے پی ٹی آئی کو فنڈز کی فراہمی کی خبریں ہیں، جس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

    بارشوں کے باعث لاہور میں پانی کے جمع ہونے کے حوالے سے سوال پر عظمیٰ بخاری نے کہا کہ طوفانی بارشوں میں پانی کا جمع ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ سوشل میڈیا پر جو تصاویر گردش کر رہی ہیں، وہ ڈی ایچ اے کی حدود کی ہیں اور ڈی ایچ اے پنجاب حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایچ اے کے شہری جنہیں ووٹ دیتے ہیں ان سے پوچھیں،

  • مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے کشمیر کے موقع پر 13 جولائی کو مکمل ہڑتال کی کال

    مقبوضہ جموں کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے 13 جولائی (بروز اتوار) کو "یوم شہدائے کشمیر” کے موقع پر مکمل ہڑتال کی کال دی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تمام آزادی پسند رہنماﺅں اور تنظیموں نے ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوجیوں کے ہاتھوں 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونیوالے 22 کشمیریوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ہڑتال کی کال کی حمایت کی ہے ۔ حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیری عوام سے شہداء کی روح کے ایصالِ ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی غرض سے مزار شہداء نقشبند صاحب سرینگر کی طرف مارچ کی بھی اپیل کی ہے ۔حریت ترجمان نے کہا کہ کشمیری شہداء کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا اور بھارتی تسلط سے جموں کشمیر کی آزادی تک شہداء کے مشن کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا۔

    یاد رہے کہ 13 جولائی 1931ء کو شہید ہونے والے یہ افراد ان ہزاروں لوگوں میں شامل تھے جو عبدالقدیر نامی ایک شخص کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر سرینگر سینٹرل جیل کے باہر جمع ہوئے تھے جس نے کشمیری عوام کو ڈوگرہ حکمرانی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا کہا تھا۔ نمازِ ظہر کے وقت ایک کشمیری نوجوان نے جب اذان دینا شروع کی تو مہاراجہ کے فوجیوں نے اسے گولی مارکر شہید کر دیا۔اس کے بعد دوسرا شخص اذان پوری کرنے کےلئے کھڑا ہوا تو اسے بھی شہید کر دیا گیا۔ یوں اذان مکمل ہونے تک 22 کشمیریوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

  • ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ترجمان پاک فوج کا مظفرآباد دورہ،سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ہلالِ امتیاز (ملٹری) نے مظفر آباد کا دورہ کیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی آزاد جموں و کشمیر کی سول سوسائٹی کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے،شرکا ء اور ڈی جی آئی ایس پی آر کے درمیان سوال و جواب کی جامع نشست کا بھی اہتمام کیا گیا،حاضرین کا کہنا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی، شرکا کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت جدا نہیں کر سکتی،

    کشمیری عوام نےپاک آرمی سے محبت کا انوکھا اظہار کیا، ڈی جی آئی ایس پی آر کو کشمیری ثقافتی لباس پیش کیا،
    آزاد جموں و کشمیر کی عوام نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا،شرکاء نے پاکستان اور کشمیر کے جھنڈے لہرا کر پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ کشمیری عوام کل بھی پاکستان کے ساتھ تھے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہیں گے،کشمیر بنےگا پاکستان کے نعروں کی گونج بھی نظر آئی.

  • ملالہ یوسف زئی  28 برس کی ہو گئیں

    ملالہ یوسف زئی 28 برس کی ہو گئیں

    پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ سماجی کارکن اور تعلیم کی علمبردار، نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی آج 28 سال کی عمر میں قدم رکھ چکی ہیں۔ ملالہ نے اپنی زندگی تعلیم، امن اور خواتین کے حقوق کی علمبرداری کے لیے وقف کی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

    ملالہ یوسف زئی 12 جولائی 1997 کو سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں۔ بچپن سے ہی تعلیم کے لیے ان کا جذبہ بے مثال تھا اور انہوں نے سکول کی سطح پر ہی لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کرنی شروع کی۔ تاہم، ان کی یہ آواز دہشت گردوں کو ناگوار گزری اور 9 اکتوبر 2012 کو وہ سکول سے گھر جاتے ہوئے شدت پسندوں کی فائرنگ کا نشانہ بن گئیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔کئی دنوں تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد ملالہ نے ہمت نہیں ہاری اور نہ صرف اپنی صحت کو بحال کیا بلکہ دنیا بھر میں تعلیم اور خواتین کے حقوق کے لیے ایک عالمی علامت بن گئیں۔ ان کی جرأت اور حوصلہ نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا۔

    2014 میں ملالہ یوسف زئی کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جو انہیں دنیا کی سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ شخصیت بناتا ہے۔ اس کے علاوہ ملالہ کو سخاروف انعام، ورلڈ چلڈرن پرائز سمیت 40 سے زائد بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ملالہ نے تعلیم کے فروغ کے لیے "ملالہ فنڈ” بھی قائم کیا ہے، جو دنیا بھر میں تعلیم کے حق کے لیے کام کر رہا ہے۔ آج وہ برطانیہ کے شہر لندن میں مقیم ہیں، جہاں سے اپنے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ حقیقی تبدیلی صرف تعلیم کے ذریعے ممکن ہے اور وہ ہمیشہ اس عزم کے ساتھ تعلیم کے فروغ اور محروم بچوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہیں گی۔

    پاکستانی قوم ملالہ کی سالگرہ پر انہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہے اور ان کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔

  • ژوب واقعہ ، شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد کی بھی موت،دو جنازے ایک ساتھ

    ژوب واقعہ ، شہید بیٹے کی لاش دیکھ کر والد کی بھی موت،دو جنازے ایک ساتھ

    بلوچستان کے ضلع ژوب میں دہشتگردی کے تازہ واقعے میں شہید ہونے والے غلام سعید کی شہادت نے میاں چنوں کے علاقے کو غم میں ڈوب دیا۔ شہید غلام سعید کا تعلق چک نمبر 72 پندرہ ایل سے تھا۔ جب ان کا جسدِ خاکی آبائی گھر پہنچا، تو ان کے والد غلام سرور کی بھی شدت غم کی وجہ سے موت ہو گئی

    غلام سرور جو کافی عرصے سے بیماری کا شکار تھے، بیٹے کی شہادت کی اطلاع ملتے ہی شدید صدمے میں مبتلا ہو گئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ غلام سعید کے بیٹے کی خبر سن کر وہ چھٹی لے کر گھر واپس آ رہے تھے، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔میاں چنوں میں واقع ان کے آبائی گاؤں 72 پندرہ ایل کے اسکول گراؤنڈ میں شہید غلام سعید اور ان کے والد غلام سرور کی مشترکہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ نماز جنازہ میں فوج کے دستے کے علاوہ سیاسی رہنماؤں، سماجی کارکنوں، پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی، جنہوں نے شہید کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کیا۔نماز جنازہ میں شریک افراد نے دہشتگردی کے خلاف یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شہداء کے خون کا انصاف کرے اور علاقے کو دہشتگردی سے پاک کرے تاکہ عوام سکون سے زندگی گزار سکیں۔

  • بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی  منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، مسلم ممالک کے خلاف جارحیت کی منصوبہ بندی جاری ہے

    بھارت اسرائیل عسکری اتحاد کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کے فروغ کے لیے سرگرم ہیں مبھارت دنیا کا ایک بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک ہونے کے باوجودآپریشن سندور میں ناکامی سے دوچار ہوا،جنگی جنون میں مبتلا مودی سرکار نے اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے،یہود ہنود گٹھ جوڑ کے بعد اسلحے کی خریدو فروخت پاکستان سمیت مسلم ممالک کے خلاف گھناؤنی سازش ہے ،روس، فرانس ،امریکہ اوراسرائیل سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خرید کر مودی سرکار نے خطے کو اسلحے کا مرکز بنا دیا،مختلف بھارتی اخبارات اور مودی سرکار کے بیانیے نے بھارت اور اسرائیل کو دہشتگردی سے متاثرہ ملک قرار دے دیا

    انڈیا ٹوڈے کے مطابق اسرائیل اور بھارت کو مسلم ممالک سے مشترکہ خطرہ ہے، اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2012 سے 2022 کے دوران 37 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ خریدا،بھارت، اسرائیلی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے، گزشتہ دہائی میں اسرائیلی فوجی سازوسامان اور دفاعی ٹیکنالوجی پر تقریباً 2.9 بلین ڈالر خرچ کیا،”میک ان انڈیا” منصوبے کے تحت بھارتی اوراسرائیلی کمپنیاں مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کی ٹیکنالوجی بھی تیار کر رہی ہیں،بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ کے مطابق؛”یہ ہتھیار نہ صرف غزہ میں اسرائیلی فوج استعمال کر رہی ہے بلکہ بھارتی فوج بھی ان کا استعمال مقبوضہ کشمیر میں کر رہی ہے”

    بھارتی ادارے آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کی تحقیقات کے مطابق؛ "اسرائیل نے 1965 اور 1971 کی پاک بھارت جنگوں کے دوران بھارت کو اسلحہ فراہم کیا”دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی معاہدہ بھی زیر غور ہے، ریاستی دہشتگردی کے لیے اسرائیل بھارت کو جدید میزائل، انٹیلیجنس اور نگرانی کے نظام فراہم کر رہا ہے،کشمیر سے غزہ تک، بھارتی و اسرائیلی افواج ایک جیسے ہتھیار اور جابرانہ حربے استعمال کر رہی ہیں،صہیونیت و ہندوتوا کا اسلاموفوبیا پر مبنی نظریہ مسلم دنیا کے لیے مشترکہ خطرہ بن چکا ہے ،اسرائیل و بھارت کی مسلم ممالک کے خلاف دہشت گردی کے خلاف عالمی برادری کی خاموشی خطے کو جنگ میں دھکیل رہی ہے

  • لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    لکی مروت میں دہشت گردوں کا تھانہ گمبیلا پر حملہ ناکام

    خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت کے علاقے تھانہ گمبیلا پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کی کوشش کو پولیس نے کامیابی سے ناکام بنا دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق دہشت گردوں کی مشتبہ نقل و حرکت کو بروقت بھانپتے ہوئے سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کی اور فائرنگ کا آغاز کیا جس کے باعث دہشت گرد موقع سے فرار ہوگئے۔

    اس واقعے میں خوش قسمتی سے پولیس کی نفری مکمل طور پر محفوظ رہی اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہشت گردوں کے حملے کی ناکامی سے علاقہ مکینوں میں بھی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔اِس موقع پر آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید نے لکی مروت پولیس کے جوانوں سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کی بروقت کارروائی اور بہادری کو سراہتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی ادا کیا اور دہشت گردوں کی سازش کو ناکام بنایا۔

    آر پی او بنوں ریجن سجاد خان نے بھی اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فورس دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے پہلے سے ہی الرٹ ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے جو ہر طرح کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی ادارے اپنی خدمات جاری رکھیں گے تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

  • کراچی میں حمیرا کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا،چچاکا بیان

    کراچی میں حمیرا کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا،چچاکا بیان

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 میں مقامی فلیٹ سے معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی مردہ حالت میں لاش برآمد ہوئی ہے۔ واقعے کے بعد ادکارہ کے قریبی رشتہ دار، خاص طور پر ان کے چچا محمد علی نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم اطلاعات فراہم کیں۔

    محمد علی کا کہنا تھا کہ انہیں کراچی میں حمیرا اصغر کے رہائشی پتے کا علم نہیں تھا اور ان کا رابطہ زیادہ تر فون کے ذریعے ہوتا تھا۔ "جب بھی وہ لاہور آتی تھی تو گھر ضرور آتی تھی، لیکن کراچی میں ان کے گھر کا پتہ ہمیں معلوم نہیں تھا”، انہوں نے کہا۔اداکارہ کے چچا نے بتایا کہ حمیرا اصغر شوبز انڈسٹری میں کام کرنے کی خواہش مند تھیں اور اس شعبے میں اپنی شناخت بنانا چاہتی تھیں۔ "وہ وہاں خوش تھیں لیکن ان کے والدین اس فیصلے سے خوش نہیں تھے، اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے روابط میں کمی آئی۔” محمد علی نے مزید کہا کہ جب ان کا فون بند ہوگیا تو کوئی بھی حمیرا سے رابطہ نہیں کر سکا۔

    محمد علی نے اپنی بہن کی وفات کا بھی ذکر کیا جو ان کے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ "ہم اس غم میں مبتلا تھے ، حمیرا نے 2018 میں کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ حمیرا تعلیم یافتہ تھیں، پینٹنگز بنانے کا شوق رکھتی تھیں اور اپنے فن میں خوش رہتی تھیں۔

  • سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    سانحہ سوات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122ذمہ دار قرار

    صوبائی انسپکشن کمیٹی نے دریائے سوات میں 26 جون کو پیش آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 13 افراد کے ڈوبنے کے واقعے کی جامع انکوائری مکمل کر کے 63 صفحات پر مشتمل رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو پیش کر دی ہے۔

    رپورٹ میں ضلعی انتظامیہ، محکمہ آبپاشی، بلدیات اور ریسکیو 1122 کو اس حادثے کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے رپورٹ میں شامل کوتاہیوں کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائیاں کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف محکموں بشمول محکمہ پولیس، ریونیو، ایریگیشن، ریسکیو، اور ٹورازم پولیس کے درمیان فیلڈ میں کوآرڈینیشن کا شدید فقدان رہا، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیاں بروقت اور مؤثر طریقے سے انجام نہ دی جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ محکمے 60 دن کے اندر اپنی تمام قانونی ذمہ داریاں پوری کریں اور کوتاہی برتنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔مزید برآں، رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارے 30 دن کے اندر اپنی کوتاہیوں کو دور کریں تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

    وزیراعلیٰ نے چیف سیکرٹری کی قیادت میں ایک اورسائٹ کمیٹی بنانے کی منظوری دی ہے جو ماہانہ بنیادوں پر وزیراعلیٰ کو رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ کمیٹی ریور سیفٹی ماڈیولز کی تشکیل، اگلے مون سون کے دوران ایمرجنسی پلان بنانے، اور ریسکیو 1122 کی استعداد بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی کرے گی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دریاؤں کے اطراف سیاحتی مقامات میں حفاظتی خطرات کی کوئی درجہ بندی نہیں کی گئی، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر قانونی تعمیرات روکنے کے لیے اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صوبہ بھر میں تجاوزات کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کے دوران 127 غیر قانونی عمارتوں کو سیل کیا گیا اور 682 کنال زمین پر تعمیرات کو مسمار کیا گیا۔رپورٹ میں آئندہ ایسے سیلابی حادثات سے نمٹنے کے لیے 36 نئے ریسکیو اسٹیشنز کے قیام، جدید ریسکیو آلات کی خریداری اور 70 کمپیکٹ ریسکیو اسٹیشنز قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے تاکہ بروقت خطرات کی نشاندہی اور مؤثر ردعمل ممکن ہو سکے۔

    یاد رہے کہ 26 جون کو دریائے سوات میں آنے والے سیلابی ریلے کے باعث 17 افراد بہہ گئے تھے، جن میں سے 4 کو بچالیا گیا جبکہ 12 کی لاشیں مل چکی ہیں اور ایک لاش اب تک نہیں ملی۔

  • حمیرا اصغر  کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    حمیرا اصغر کیس،میر پور کے حکیم پر نازیبا ویڈیو،مبینہ زیادتی کا الزام،حکیم کی تردید

    میرپورخاص ( باغی ٹی وی نامہ نگار سید شاہزیب شاہ کی رپورٹ ) مشہور اداکارہ حمیرہ اصغر قتل کیس میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد پر الزامات، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل،جبکہ حکیم سجاد نے الزامات کو جھوٹا اور بلیک میلنگ قرار دے دیا

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک متنازعہ ویڈیو نے میرپورخاص میں ہلچل مچا دی، جس میں مشہوراداکارہ حمیرہ اصغر کے قتل کا الزام میرپورخاص سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر سارم سجاد اور ان کے خاندان پر عائد کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں متعدد سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے ہیں، جن میں نازیبا ویڈیوز، بدسلوکی، اور جنسی زیادتی جیسے دعوے شامل ہیں۔ویڈیو میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ٹک ٹاکر کی ایک مبینہ دوست ڈاکٹر سیدہ کائنات شاہ کی جانب سے آئی جی سندھ اور ایف آئی اے کو ایک تحریری درخواست دی گئی ہے، جس میں مذکورہ ڈاکٹر اور ان کے والد پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد مبینہ طور پر حمیرا اصغر کو میرپورخاص کے ایک فارم ہاؤس پر لے جاتے تھے جہاں اس کی نازیبا ویڈیوز اور تصاویر بنائی جاتیں۔ویڈیو میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ ڈاکٹر سارم سجاد کے والد نے بھی حمیرہ اصغر سے جنسی زیادتی کی۔ویڈیو میں مذکورہ خاندان کی ذاتی زندگی اور کردار پر بھی سخت تنقید کی گئی۔

    الزامات کا نشانہ بننے والے میرپورخاص کے معروف سماجی شخصیت حکیم سجاد (ڈاکٹر سارم سجاد کے والد) نے حیدرآباد روڈ پر واقع پریس کلب میں وکلا وشن داس کولھی اور یحییٰ آفریدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا، من گھڑت اور بلیک میلنگ قرار دیا۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر اور میرے خاندان پر سوشل میڈیا پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ مجھ سے دو سے تین کروڑ روپے بھتہ مانگا جا رہا تھا۔ اور اب یہ ویڈیو اسی بلیک میلنگ کی ایک شکل ہے۔ یہ تمام ویڈیوز فیک ہیں، ایڈیٹنگ کی گئی ہے، حتیٰ کہ ویڈیو میں موجود نمبر، آئی ڈی اور ایڈریس بھی جعلی ہیں۔حکیم سجاد نے مزید کہا کہ میری کسی بھی وقت کی موبائل فون لوکیشن، شناختی کارڈ کی تفصیلات اور سرکاری ریکارڈ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ میں تو نہ کبھی حمیرہ اصغر سے ملا ہوں اور نہ ہی کبھی کوئی ذاتی تعلق رہا ہے۔ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی بھی فرد کی جعلی ویڈیو تیار کرنا ممکن ہوچکا ہے اور سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں اکثر اوقات بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کو بدنام کیا جاتا ہے۔ اسی لئے حکام نے ویڈیوز کی فارنزک جانچ اور ڈیجیٹل ٹریسنگ کے ذریعے اصل حقائق تک پہنچنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔حکیم سجاد نے میرپورخاص انتظامیہ، ڈی آئی جی پولیس، اور وفاقی سائبر کرائم ونگ سے مطالبہ کیا کہ اس جعلی ویڈیو اور بلیک میلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔حکیم سجاد نے پریس کانفرنس میں واضح الفاظ میں کہا کہ میں اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ مجھ پر بار بار فیک آئی ڈیز کے ذریعے حملے کئے جا رہے ہیں۔ میرے خاندان کو بدنام کرکے پیسے بٹورنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس سازش کا سختی سے نوٹس لیا جائے۔تاحال اس معاملے میں کوئی سرکاری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، تاہم پولیس اور ایف آئی اے ویڈیو کے مندرجات درخواست کی صداقت اور الزام عائد کرنے والے عناصر کی شناخت پر کام کر رہی ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر عوامی رائے دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے، کچھ افراد ان الزامات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے واضح بلیک میلنگ قرار دے رہے ہیں۔