Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بغیر اجازت خواتین کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والاگرفتار

    بغیر اجازت خواتین کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والاگرفتار

    بنگلورو میں انسٹاگرام پر خواتین کی بغیر اجازت ویڈیوز اور تصاویر پوسٹ کرنے والے 26 سالہ شخص کو ایک خاتون کی وائرل انسٹاگرام پوسٹ کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ملزم کی شناخت گردیپ سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جو ہوٹل مینجمنٹ کا گریجویٹ ہے اور فی الحال بے روزگار ہے۔ اسے بنگلورو کے کے آر پورم علاقے میں واقع اس کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا۔ گردیپ سنگھ اپنے بھائی کے ساتھ رہتا ہے اور پولیس کی تحویل میں ہے، کیونکہ پولیس نے خود اس کیس کا نوٹس لیا تھا۔زیرِ بحث انسٹاگرام اکاؤنٹ بنیادی طور پر چرچ سٹریٹ پر فلمائی گئی ویڈیوز کلپس پوسٹ کرتا تھا، جو وسطی بنگلورو کا ایک مقبول تجارتی اور پیدل چلنے والا علاقہ ہے۔ ان کلپس میں خواتین کو عوامی مقامات پر چلتے ہوئے دکھایا جاتا تھا، جو اکثر کیمرہ ان کی طرف ہونے پر بے خبر یا چونکتی ہوئی نظر آتی تھیں۔ کئی ویڈیوز میں خواتین کو خفیہ طور پر فالو کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا،

    یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب ایک خاتون نے انسٹاگرام پر اس مواد کے خلاف خطرے کی گھنٹی بجائی۔ خاتون نے الزام لگایا کہ اسے شہر میں چلتے ہوئے اس کی اجازت یا علم کے بغیر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کی ویڈیو کو ہٹانے کی کوششیں، بشمول انسٹاگرام کے اندرونی میکانزم کے ذریعے رپورٹیں فائل کرنا، ناکام رہی تھیں۔اپنی پوسٹ میں، اس نے کہا، "یہ شخص چرچ سٹریٹ پر ‘کیوس’ کو فلمانے کا بہانہ کرتا ہے ، لیکن حقیقت میں، یہ صرف خواتین کو فالو کرتا ہے اور انہیں ان کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ میرے ساتھ ہوا۔ اور مجھے یقین ہے کہ بہت سی دوسری خواتین کو بھی نہیں معلوم کہ انہیں بھی فلمایا گیا ہے۔ صرف اس لیے کہ میرا اکاؤنٹ عوامی ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں عوامی طور پر فلمائے جانے کی رضامندی دیتی ہوں۔ رضامندی ایسے کام نہیں کرتی۔” اس نے مزید الزام لگایا کہ اس ویڈیو کے نتیجے میں اسے آن لائن اجنبیوں کی طرف سے فحش پیغامات موصول ہوئے۔

    پولیس کے مطابق، انسٹاگرام اکاؤنٹ کو ہٹانے کی کوششیں پلیٹ فارم کی اندرونی پالیسیوں کی وجہ سے پیچیدہ ہو گئی ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ اب میٹا (انسٹاگرام کی پیرنٹ کمپنی) کو اکاؤنٹ ہٹانے پر مجبور کرنے کے لیے عدالتی مداخلت حاصل کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    یہ گرفتاری ایک ایسے ہی کیس کے چند ہفتوں بعد ہوئی ہے جس میں ایک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ شامل تھا، جس نے بنگلورو میٹرو میں سفر کرنے والی خواتین کی بغیر اجازت تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے لیے بدنامی حاصل کی تھی۔ اس اکاؤنٹ کے پیچھے 27 سالہ دیگنت، جو ہاسن ضلع سے تعلق رکھتا ہے، کو جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ایک نجی فرم کے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور اس نے اپنی روزمرہ کی آمدورفت کے دوران خواتین کو فلمانے کا اعتراف کیا تھا۔

  • سیف کا تاجر پر تشدد کیس،گواہ ملائیکہ اروڑا کے وارنٹ منسوخ

    سیف کا تاجر پر تشدد کیس،گواہ ملائیکہ اروڑا کے وارنٹ منسوخ

    ممبئی کی ایک عدالت نے اداکارہ ملائیکہ اروڑا کے خلاف جاری قابل ضمانت وارنٹ منسوخ کر دیا، جو کہ 2012 میں ہونے والے ایک ہوٹل جھگڑے کے مقدمے میں ثبوت پیش کرنے والی گواہ تھیں۔ یہ مقدمہ بالی وڈ اسٹار سیف علی خان سے متعلق ہے۔ وارنٹ اس وقت جاری کیا گیا تھا جب ملائیکہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔

    عدالت نے ملائیکہ کو گواہ کی حیثیت سے مقدمے سے خارج کر دیا کیونکہ استغاثہ نے کہا کہ اداکارہ ان کے کیس کی حمایت نہیں کر رہیں۔یہ مقدمہ 13 سال پرانا ہے جس میں سیف علی خان پر الزام ہے کہ انہوں نے ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں ایک غیر ملکی تاجر پر حملہ کیا تھا۔ملائیکہ اروڑا اس گروپ کا حصہ تھیں جو اس رات سیف علی خان کے ساتھ ہوٹل میں کھانے کے لیے گئی تھیں۔ یہ واقعہ 22 فروری 2012 کو پیش آیا تھا۔اپریل میں عدالت نے ملائیکہ کے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف قابل ضمانت وارنٹ جاری کیا تھا۔

    بدھ کو اداکارہ ملائیکہ اروڑا نے چیف جسٹس میجسٹریٹ (ایسپلانڈ کورٹ) کے سامنے پیش ہو کر وارنٹ منسوخی کی درخواست دی، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔

    سیف علی خان اور دو دیگر افراد کو اس واقعے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری ایک تاجر اقبال میر شرما کی شکایت پر ہوئی تھی۔ گرفتار تینوں کو بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔سیف علی خان کے ساتھ اس رات ان کی اداکارہ اہلیہ کرینہ کپور، ان کی بہن کرشمہ، ملائیکہ اروڑا، ان کی بہن امرتا اروڑا اور کچھ مرد دوست بھی موجود تھے۔پولیس کے مطابق، جب تاجر اقبال میر شرما نے فلمی ستارے اور ان کے دوستوں کی شور شرابے کی شکایت کی تو سیف علی خان نے تاجر کو دھمکی دی اور ان کی ناک پر مکا مار،نہ صرف اقبال میر شرما، بلکہ ان کے سسر رمن پٹیل کو بھی سیف علی خان اور ان کے دوستوں کی جانب سے مارا گیا تھا۔سیف علی خان کا موقف ہے کہ تاجر نے ان خواتین پرتوہین آمیز الفاظ استعمال کیے اور ان کی توہین کی، جس کی وجہ سے جھگڑا ہوا۔عدالت میں اس معاملے کی اگلی سماعت 22 اگست کو ہوگی۔

  • بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارے کا حادثہ،دو پائلٹ ہلاک

    بھارتی فضائیہ کے جنگی طیارے کا حادثہ،دو پائلٹ ہلاک

    راجستھان کے چورو ضلع میں کل پیش آنے والے جاگوار جنگی طیارے کے حادثے میں دو بھارتی فضائیہ کے پائلٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔

    ہلاک ہونے والے پائلٹس کی شناخت سکواڈرن لیڈر لوکندر سنگھ سندھو، عمر 31 سال، اور فلائٹ لیفٹیننٹ رشی راج سنگھ، عمر 23 سال کے طور پر ہوئی ہے۔ سکواڈرن لیڈر سندھو ہریانہ کے روہتک سے تعلق رکھتے تھے جبکہ فلائٹ لیفٹیننٹ رشی راج سنگھ راجستھان کے پالی ضلع کے رہائشی تھے۔حادثہ گزشتہ روز دوپہر کو بھانوڑا گاؤں کے قریب پیش آیا جب یہ ڈبل سیٹر جاگوار جنگی طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا۔ بھارتی فضائیہ نے واقعے کے فوری بعد ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک تحقیقات کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

    بھارتی فضائیہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے بھارتی فضائیہ کا جاگوار ٹرینر طیارہ معمول کی تربیتی مشن کے دوران آج چورو، راجستھان کے قریب حادثے کا شکار ہوا۔ دونوں پائلٹ حادثے میں جان بحق ہو گئے۔ شہری املاک کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ آئی اے ایف اس المناک حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتا ہے اور مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ حادثے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ایک کورٹ آف انکوائری تشکیل دی گئی ہے۔

    یہ سال کا تیسرا جاگوار طیارہ حادثہ ہے، اس سے قبل مارچ میں ہریانہ کے پنچکولا میں اور اپریل میں گجرات کے جمنگڑ کے قریب جاگوار طیارے گر چکے ہیں۔بھارتی فضائیہ میں استعمال ہونے والا جاگوار فائٹر بمبر ایک پرانا ماڈل ہے جسے سالوں میں کئی بار اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ بھارت کے پاس تقریباً 120 ایسے طیارے موجود ہیں جو چھ مختلف اسکواڈرنز میں تقسیم ہیں۔یہ حادثہ ایک بار پھر جاگوار طیاروں کی حفاظت پر سوالات اٹھاتا ہے۔ یہ طیارے 1979 میں بھارتی فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے اور زیادہ تر ہندستان ایرواسپیس لمیٹڈ (HAL) نے فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ کمپنی SEPECAT سے ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے ذریعے تیار کیے ہیں۔

    بھارتی فضائیہ اب جاگوار طیاروں کی واحد آپریٹر ہے کیونکہ برطانیہ، فرانس، ایکواڈور، نائیجیریا اور عمان جیسے ممالک نے اپنے جاگوار طیارے ریٹائر کر دیے ہیں۔ اگرچہ بھارتی فضائیہ جاگوار کے پرانے ماڈلز کو ریٹائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن HAL تیجس Mk2، رافیل، اور ملٹی رول فائٹر ایئرکرافٹ کی ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے انہیں ابھی بھی جاگوار پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔گزشتہ حادثات کی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اکثر حادثات انجن کی خرابی کی وجہ سے ہوئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جاگوار طیاروں کو جلد از جلد ریٹائر کیا جانا چاہیے۔

  • لاہور میں چھ گھنٹے بارش،سڑکوں‌پر پانی،بجلی غائب،مزید بارشوں کا الرٹ جاری

    لاہور میں چھ گھنٹے بارش،سڑکوں‌پر پانی،بجلی غائب،مزید بارشوں کا الرٹ جاری

    لاہور: پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی موسلا دھار بارشوں کے باعث محکمہ پی ڈی ایم اے ے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا ہے کہ یہ بارشیں 13 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ ریسکیو 1122، واسا، اور دیگر محکمے اپنی مشینری اور عملے کو الرٹ رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری کارروائی کی جا سکے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کے جمع ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے پانی کی نکاسی کے کاموں کو جلد از جلد مکمل کرنا ضروری ہے۔ شہریوں کو کچے مکانات اور پرانی و بوسیدہ عمارتوں سے دور رہنے کی بھی سخت ہدایت کی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو۔

    لاہور میں آج صبح سے جاری مسلسل بارش نے شہر کا معمول درہم برہم کر دیا ہے۔ نشیبی علاقوں میں پانی کی شدید گرفت نے کئی سڑکیں تالاب بنا دی ہیں، کئی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پانی میں پھنس گئی ہیں۔ اب تک لاہور میں 178 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے، جیل روڈ پر 119 ملی میٹر، ایئرپورٹ 60 ملی میٹر ہیڈ آفس گلبرگ 141,لکشمی چوک 133,اپر مال 121,مغلپورہ 127, تاجپورہ 117,نشتر ٹاون 178,چوک نا خدا 131, ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔جس کے باعث شہر میں مختلف جگہوں پر چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔سیشن کورٹ لاہور نزد سول سیکرٹریٹ اسلام پورہ روڈ بارش کی وجہ سے شگاف پڑ گیا۔

    واسا کے ایم ڈی غفران احمد نے بارش کے دوران نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور واسا کے عملے کو تمام مرکزی شاہراہوں کو جلد از جلد پانی سے کلیئر کرنے کی ہدایات دی ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ واسا کی ٹیمیں دن رات کام کر رہی ہیں اور شہریوں کو سہولت فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔

    بارش کی وجہ سے لاہور اور قریبی اضلاع میں لیسکو کے 142 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی ہے۔ لیسکو کے سی ای او کا کہنا ہے کہ جیسے ہی بارش رکے گی، بجلی کی بحالی کے کام فوری شروع کر دیے جائیں گے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بجلی کے کھمبوں اور دیگر تنصیبات سے دور رہیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ لاہور میں 6 گھنٹے سے مسلسل بارش جاری ہے۔ واسا اور ضلعی انتظامیہ کی تمام ٹیمیں فیلڈ میں موجود ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انڈر پاسز کو کلیئر رکھا گیا ہے اور چند نشیبی علاقوں میں پانی کی نکاسی کے کام جاری ہیں تاکہ شہریوں کو آسانی ہو۔

  • سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کی انکوائری کمیٹی مقررہ وقت تک رپورٹ پیش کرنے میں ناکام

    سانحہ سوات کے حوالے سے قائم کی گئی تین رکنی انکوائری کمیٹی مقررہ ڈیڈ لائن کے باوجود اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس کمیٹی کو صرف سات روز میں تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت دی تھی، لیکن اب تک رپورٹ مکمل نہیں ہو سکی۔

    انکوائری کمیٹی نے واقعے کی مکمل چھان بین کے لیے پچاس سے زائد متعلقہ افسران اور اہلکاروں کے بیانات قلم بند کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسکیو، آبپاشی، ریلیف، پی ڈی ایم اے، ٹی ایم اے اور دیگر متعلقہ محکموں سے بھی تحقیقات کی گئی ہیں تاکہ واقعے کی اصل وجوہات اور امدادی اقدامات کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے۔انکوائری کمیٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ تیار کرنے کا کام جاری ہے اور اسے دو سے تین روز کے اندر حکومت کو پیش کر دیا جائے گا۔ کمیٹی کی جانب سے اس تاخیر کی وجہ رپورٹ کی جامع تیاری اور تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ قرار دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ 27 جون کو دریائے سوات میں شدید سیلاب کے باعث پھنس جانے والے 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حادثے نے سوات کے عوام میں شدید صدمہ اور تشویش پیدا کی تھی، جس کے بعد فوری طور پر ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی تاکہ ذمہ داروں کا تعین اور مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کی جا سکیں۔

  • پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    پٹودی لقمان کے رشتہ دار،سیف قطر بھاگنے کو تیار،ممبئی ایئر پورٹ مبشر لقمان کی زمین پر بنا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ممبئی ایئر پورٹ کی زمین انکے خاندان کی تھی اور عدالت میں کیس کیا تھا جو ہماری فیملی جیتی تھی،

    مبشر لقمان کا ایک وی لاگ میں کہنا تھا کہ مجھےیہ لگ رہا ہے کہ سیف کرینہ کو طلاق دے رہے ہیں،کیونکہ سیف علی خان چھوٹی میڈ کے ساتھ پکڑے گئے تھے بقول میڈیا کے جو بھارت میں ہیں ،سیف علی خان رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا اور وہ حملہ کرینہ نے ہی کیا تھا، سیف علی خان نے قطر کی نیشنلٹی لے لی ہے لیکن کرینہ نہیں جا نا چاہ رہی، بھارت کی سیلبرٹیز نے یوکے ،کینیڈا اور دیگر ممالک کی نیشنلٹی لی ہوئی ہے،یہ انڈیا آتے کام کرتے ،پیسے کماتے اور نکل جاتے ہیں

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میری ماں اورانکی بہنوں کی ممبئی میں زمینیں تھیں جہا‌ں ممبئی ایئر پورٹ بنا ہوا ہے، میری ماں اور خالاؤں نے کیس کیا تھا،دیوانی کیس جس طرح چلتے ہیں، پچیس تیس سال چلا، اور پھر سیٹلمنٹ یہ ہوئی تھی کہ ستر یا 72 ہزار ہم دے رہے ہیں لیکن وہ انڈیا سے باہر نہیں جائیں گے یہیں خرچ کرنے ہوں گے، ہماری فیملی یہ زمین جیتی ہے یہ زمین ہمارے بزرگوں کی ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سیف علی خان سے کوئی رشتہ نہیں ہے،میری نانی کو بھوپال سے تعلق تھا، تین پیڑیاں اگر اوپر کوئی رشتے داری ہے تو میں یہ کلیم نہیں کر سکتاکہ کوئی عزیز داری یا رشتے داری ہے،میں آج تک ملا نہیں نہ وہ ملے تو پھر کون سا تعلق،بھارت میں یہ قانون ہے کہ اینمی پراپرٹی حکومت ضبط کر لے گی، ہائیکورٹ نے سیف علی خان کے خلاف فیصلہ دیا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ یہ جوائنٹ پراپرٹی ہے، بہنیں بھی حصے دار اور وہ پاکستان میں ہیں، اسلئے یہ زمین انڈیا حکومت کی بن گئی، پٹوڈی پیلس بھی سیف علی خان سے چلا گیا، سپریم کورٹ میں بھی یہ کیس نہیں چلے گا کیونکہ قانون بنا ہوا ہے،عدالت قانون کے خلاف نہیں جا سکتی.

  • "میڈ اِن انڈیا” کا فریب بے نقاب، مودی سرکار کا خود کفالت کا خواب چینی ماہرین کا محتاج نکلا

    "میڈ اِن انڈیا” کا فریب بے نقاب، مودی سرکار کا خود کفالت کا خواب چینی ماہرین کا محتاج نکلا

    مودی سرکار کے من گھڑت "میڈ اِن انڈیا” بیانیے کی قلعی کھل گئی

    بھارت کی پیداواری معیشت کا مصنوعی دعویٰ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا،چینی تعاون کے بغیر بھارت کی آئی ٹی اور الیکٹرونکس صنعت مفلوج، مودی سرکار کی خود انحصاری محض فریب ہے،گزشتہ چھ ماہ میں بھارت سے 100 سے زائد چینی ماہرین واپس بلا لیے گئے،چینی انجینئرز کی واپسی کے بعد بھارت کی آئی فون پروڈکشن لائن سست روی اور ناکامی کا شکارہو گئی

    پریس ریڈر کے مطابق؛”فاکسکون کے چینی ماہرین کی واپسی نے بھارت میں ایپل کی پیداوار میں توسیع اور آمدنی میں اضافے کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے”بھارتی حکومت کے دعووں کے برعکس، مقامی اسمبلی لائنز چینی ماہرین کی عدم موجودگی میں خودکفالت ثابت کرنے میں ناکام دکھائی دی،رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ویلیو ایڈیشن یعنی "خالص منافع” اب براہِ راست چینی تکنیکی معاونت سے منسلک ہو چکا ہے، فاکسکون کی بھارتی سبسڈری "رائزنگ اسٹارز ہائی ٹیک” چینی ماہرین کے بغیر پیداواری اہداف حاصل کرنے سے قاصر نظر آتی ہے، بھارت میں 80 سے 90 ملین آئی فونز سالانہ تیار کرنے کا ہدف اب چینی ماہرین کے بغیر صرف ایک تخمینہ محسوس ہوتا ہے،چینی انجینئرز کی واپسی نے بھارت میں ایپل کی طویل مدتی سرمایہ کاری کے عمل کو غیر یقینی بنا دیا، بھارت کی 500 ارب ڈالر الیکٹرانکس معیشت کا خواب، چینی مہارت کے بغیر زمینی حقیقت سے کوسوں دور، امریکی، ویتنامی اور تائیوانی ماہرین کو متبادل کے طور پر لایا گیا، بھارت کے پاس کوئی تربیت یافتہ مقامی فورس نہیں، اسی لیے بیرونی ماہرین پر انحصار جاری ہے،بھارتی حکام کے بلند دعوؤں کے باوجود، فنی تربیت کا عمل تاحال مکمل خودمختاری حاصل کرنے میں ناکام رہا،

    فاکسکون سے چینی قیادت کے انخلا نے بھارت کے کھوکھلے اور ناتجربہ کار ٹیک ماڈل کی حقیقت بے نقاب کر دی،مودی سرکار کا ‘میڈ ان انڈیا’ محض نعرہ ثابت ہوا، انحصار آج بھی بیرونی پروڈکٹس اور ماہرین پر قائم ہے،مودی سرکار کے جھوٹے دعوے اور ناکام پالیسیاں، بھارت عالمی سرمایہ داروں کے لیے خودکشی بنتے جا رہے

  • جمشید محمود عرف جامی نے سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    جمشید محمود عرف جامی نے سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    کراچی: معروف فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی نے ہتک عزت کے الزام میں دی گئی سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، جمشید محمود نے ہتک عزت کیس میں دی گئی سزا کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ جس جرم میں سزا سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہے اور سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، اس لیے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ فلمساز جمشید محمود عرف جامی کے خلاف فلم اور میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کی تھی۔ اس کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے جمشید محمود کو 2 سال قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ ملزم نے شکایت کنندہ کے خلاف سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر غیر محتاط رویہ اپنایا اور توہین آمیز مواد شائع کیا، نیز ملزم نے اس مواد کی تردید کرنے اور خود کو علیحدہ رکھنے میں بھی ناکامی کا مظاہرہ کیا۔

  • اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    اسلام آبادپولیس پر حملہ کیس،عمران خان ذاتی حیثیت میں عدالت طلب

    لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ نے بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کو گھر کے باہر اسلام آباد پولیس پر حملہ کیس میں 22 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے روبکار بھی جاری کردی۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ کینٹ سہیل رفیق نے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کے نام حکم نامے میں کہا کہ لاہور میں بانیٔ پی ٹی آئی کے گھر کے باہر اسلام آباد پولیس پر حملہ کیس میں بانیٔ پی ٹی آئی کو 22 جولائی تک ذاتی حیثیت میں پیش کیا جائے

    یاد رہے کہ اسلام آباد پولیس نے بانیٔ پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ ریس کورس لاہور میں مقدمہ درج کروا رکھا ہے،عدالت نے کیس کی پیروی کے لیے اڈیالہ جیل میں قید بانیٔ پی ٹی آئی کو ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے طلبی کے حکم نامے کے ساتھ روبکار بھی جاری کردی ہے۔

  • حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    حمیرا کی لاش چھ ماہ پرانی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے معروف اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش برآمد ہونے کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے، اور اب تک سامنے آنے والی معلومات نے اس واقعے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق، ابتدائی شواہد اور فارنزک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اداکارہ کی لاش تقریباً چھ ماہ پرانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلیٹ میں موجود کھانے پینے کی اشیاء پر درج ایکسپائری تاریخ 2024 کی ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ فلیٹ کئی مہینوں سے بند پڑا تھا۔تحقیقات کے دوران اداکارہ کے موبائل فون کا ڈیٹا بھی حاصل کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا ہے کہ آخری پیغام اکتوبر 2024 میں بھیجا گیا تھا۔ اس آخری رابطے میں ایک آن لائن ٹیکسی ڈرائیور شامل ہے، جس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فلیٹ کی بجلی بھی طویل عرصے سے منقطع تھی، اور اداکارہ کا فلیٹ کے مالک سے آخری رابطہ بھی 2024 میں ہی ہوا تھا۔پولیس حکام کے مطابق، اداکارہ کے اہلخانہ آج لاش وصول کرنے کے لیے سرد خانے پہنچیں گے۔ اس موقع پر پولیس کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ مزید تفتیش میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی حمیرا اصغر کی موت کے اسباب سے متعلق مزید حقائق سامنے لائے جائیں گے۔