Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ورجینیا میں فضائیہ کی بیس میں گھسنے کی کوشش، مشتبہ شخص گرفتار

    ورجینیا میں فضائیہ کی بیس میں گھسنے کی کوشش، مشتبہ شخص گرفتار

    امریکا کی ریاست ورجینیا میں واقع امریکی فضائیہ کی ایک حساس فوجی تنصیب میں جمعرات کی صبح ایک مشتبہ شخص نے گاڑی کے ذریعے زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کرلیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    امریکی فضائیہ کے ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ علی الصبح پیش آیا جب ایک شخص نے بغیر اجازت بیس کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ سیکیورٹی عملے نے فوری ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔ابتدائی تفتیش کے مطابق واقعے میں کسی قسم کے دہشت گردی یا بڑے خطرے کے شواہد نہیں ملے، تاہم مشتبہ شخص سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے تاکہ واقعے کی نوعیت اور ممکنہ محرکات کا پتہ چلایا جا سکے۔حکام کے مطابق بیس کی سیکیورٹی پر مامور اہلکار تربیت یافتہ تھے اور ان کی بروقت کارروائی کی بدولت کسی نقصان یا سیکیورٹی خلا سے بچا گیا۔ فوجی بیس کے اندر اور اطراف میں معمول کے مطابق سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    فی الحال مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس کا کسی تنظیم سے تعلق ہے یا نہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید معلومات فراہم کریں گے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکا میں فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی پر پہلے ہی سخت توجہ دی جا رہی ہے، اور کسی بھی مشکوک حرکت کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی ناممکن :الجزیرہ کی رپورٹ منظر عام پر

    سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی ناممکن :الجزیرہ کی رپورٹ منظر عام پر

    سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی ناممکن :الجزیرہ کی رپورٹ منظر عام پرآ گئی

    مودی کی ہندوتوا پالیسی نے خطے کو آبی تباہی کی دہلیز پر لا کھڑا کر دیا،الجزیرہ کی تفصیلی رپورٹ میں بھارت کی نااہلی اور محدود صلاحیتوں کا انکشاف کیا ہے،الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق "سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی ناممکن، معاہدہ ختم یا تبدیل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی رضا ضروری ہے”بھارت ڈیم بنا کر بھی پانی ذخیرہ نہیں کر سکتا، سیلاب کا خطرہ اس کی اپنی آبادی کو لاحق ہے، بھارت کشمیر پر قبضے سے دریاؤں کے پانی پر مکمل کنٹرول چاہتا ہے،بھارت پانی کے مسئلے کو دوبارہ سیاست کا حصہ بنا رہا ہے،

    اسلام آباد کے ماحولیاتی اور پانی کے ماہر نصیر میمن کے مطابق "یہ بھارتی سرکار کی ایک "سیاسی چالاکی” ہے جو پانی کا بہاؤ تبدیل کرنے کے بجائے صرف پاکستان میں خوف پھیلانا چاہتا ہے”کنگز کالج لندن کے جغرافیہ کے سینئر لیکچرر ماجد اختر کے مطابق "بھارت کا معاہدہ معطل کرنا پاکستان کو فوری نہیں، علامتی نقصان پہنچانے کی کوشش ہے”ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا کے مطابق ” سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں”معاہدے کی تبدیلی یا خاتمہ صرف دونوں ملکوں کی باہمی منظوری سے ہی ممکن ہے

    نئی دہلی کی سیاسی تجزیہ کار اور پانی کی ماہر انتمہ بینرجی کے مطابق "بھارت دریا کے بہاؤ کو روک نہیں سکتا، صرف اخراج کو وقتی طور پر منظم کر سکتا ہے”یونیورسٹی کالج لندن کے ماحولیاتی تاریخ دان اور مصنف ڈین ہینزکے مطابق "پہلگام حملے کے فوری بعد بھارت نے پانی کو سیاسی ہتھیار بنا کر معاہدہ معطل کیا”

    بھارت عالمی عدالت کے فیصلے کو نظر انداز کر کے کھلی قانون شکنی کر رہا ہے،

  • آسام: بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوز کر دیے گئے

    آسام: بنگالی نژاد مسلم خاندانوں کے گھر بلڈوز کر دیے گئے

    مودی کی فسطائیت کا نیا وار، اڈانی منصوبے کے لیے آسام کے ہزاروں مظلوموں مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلوا دیے

    مودی حکومت کا ریاستی ظلم جاری، عوام بے گھر،سرمایہ دار راتوں رات علاقے کےمالک بن بیٹھے ممودی حکومت نے اڈانی کو زمین دینے کے لیے، ہزاروں افراد سے زبردستی گھر چھین کر سڑکوں پر پھینک دیا، دکن کرونیکل کے مطابق”مودی سرکار کی آسام میں بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی بے دخلی مہم شروع”ہو گئی ہے،کارروائی کے دوران 2,000 سے زائد خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا, اڈانی گروپ کے تھرمل پاور پروجیکٹ کے لیے مظلوم مسلمانوں سے زمین خالی کروائی گئی, بے دخلی کے خلاف عوام کا شدید احتجاج ، پولیس اور مظاہرین آمنے سامنے، حالات کشیدہ ہیں،بے گھر افراد نےحکومت سے مکمل معاوضہ اور باوقار طریقے سے دوبارہ آبادکاری کا مطالبہ کیا ہے،

    مودی-اڈانی گٹھ جوڑ ایک بار پھر بے نقاب ہو چکا ہے،مودی سرکار سرمایہ داروں کے فائدے کے لیے ریاستی مشینری کو عوام کے خلاف ہتھیار بنا کر استعمال کر رہی ہے،سرمایہ داروں کی جنت، غریبوں کا جہنم ,یہ مودی کا نیا بھارت ہے

  • پاکستان اسٹیل ملز  کراچی کی بحالی کیلیے پاکستان اور روس کے پروٹوکول پر دستخط

    پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی بحالی کیلیے پاکستان اور روس کے پروٹوکول پر دستخط

    پاکستان اور روس نے پاکستان اسٹیل ملز کراچی کی بحالی اور جدید کاری کے لیے ایک پروٹوکول پر دستخط کیے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی صنعتی شراکت داری کو مزید تقویت ملی ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان ایمبیسی، ماسکو میں پاکستان کی طرف سے صنعت و پیداوار کے سیکرٹری جناب سیف انجم اور روسی وفد کی طرف سے انڈسٹریل انجینئرنگ ایل ایل سی کے ڈائریکٹر جناب وادم ویلیچکو نے دستخط کیے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی جناب ہارون اختر خان اور پاکستان کے روس میں سفیر جناب محمد خالد جمالی بھی موجود تھے۔

    اس منصوبے کا مقصد اسٹیل کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنا اور اس میں توسیع کرنا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا ایک نیا باب ہے۔ جناب ہارون اختر خان نے کہا، "روس کے تعاون سے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی ہماری مشترکہ تاریخ اور مضبوط صنعتی مستقبل کے عزم کی عکاس ہے۔”،1973 میں سوویت یونین کے تعاون سے تعمیر ہونے والی پاکستان اسٹیل ملز، پاکستان اور روس کے تعلقات کی ایک پائیدار علامت ہے۔

  • شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری پر غور

    شبلی فراز کی اوپن ہارٹ سرجری پر غور

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائدِ حزب اختلاف شبلی فراز کی صحت کی سنگینی کے باعث ان کی اوپن ہارٹ سرجری کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ شبلی فراز اس وقت پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرِ علاج ہیں جہاں ان کے طبی معائنے اور ٹیسٹ جاری ہیں۔

    ہسپتال ذرائع کے مطابق شبلی فراز کو بعض اوقات دل میں درد محسوس ہوتا ہے جبکہ ان کا بلڈ پریشر بھی بلند ہے۔ ان کی دل کی مرکزی شریانوں میں سے ایک شریان پر مسلز بریج کی تشخیص ہوئی ہے، جس کی وجہ سے شریان میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے اور اس سے دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ڈاکٹروں نے ان کی حالت کے پیشِ نظر ممکنہ طور پر اوپن ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا ہے، تاہم حتمی فیصلہ ٹیسٹوں کے نتائج کے بعد کیا جائے گا۔

    شبلی فراز نے اپنی صحت کے حوالے سے بتایا کہ انہیں دل کی بیماری کافی عرصے سے ہے لیکن وہ اس سلسلے میں احتیاط نہیں کر رہے تھے اور ادویات کا بھی صحیح استعمال نہیں کر رہے تھے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ معمولی ذہنی دباؤ (ٹینشن) بھی ان کی صحت پر منفی اثر ڈال رہا تھا۔انہوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی صحت کے لیے دعا کریں اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ اپنی صحت کا خاص خیال رکھیں گے تاکہ بہتر زندگی گزار سکیں۔

  • بلوچستان میں 9 مسافروں کا بس سے اتار کر قتل،وزیراعظم سمیت دیگر کی  مذمت

    بلوچستان میں 9 مسافروں کا بس سے اتار کر قتل،وزیراعظم سمیت دیگر کی مذمت

    کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس سے اغوا کیے گئے 9 بے گناہ مسافروں کی شہادت پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلی اور درندگی کی ایسی مثال قائم کی ہے جو ناقابل معافی ہے اور ریاست اس کا بھرپور جواب دے گی۔

    میر سرفراز بگٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی شناخت پر معصوموں کا قتل ناقابل معافی جرم ہے اور بے گناہوں کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ریاستی جنگ ہے جس میں کوئی دوٹوک فیصلہ ہوگا اور حکومت فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں کے تمام نیٹ ورک کو تباہ کرے گی۔

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس کو نشانہ بنایا اور بس کے 9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کر دیا۔ حملہ مخصوص طور پر بلوچستان کے علاقوں قلات، مستونگ اور لورالائی میں کیا گیا جہاں دہشتگردوں نے متعدد حملے بھی کیے۔لورالائی کے قریب بس سے مسافروں کو اتار کر اغوا کیا گیا، جس کے بعد ان پر فائرنگ کی گئی۔ اسسٹنٹ کمشنر ژوب نوید عالم نے تصدیق کی کہ اغوا کیے گئے 9 مسافروں کو شہید کیا گیا ،بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان نے آج تین دہشتگرد حملے کیے جنہیں فوراً پسپا کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ سے پنجاب جانے والے مسافروں کو بس سے اتار کر قتل کیا گیا، جو انتہائی قابل مذمت عمل ہے۔شاہد رند نے کہا کہ یہ واقعہ فتنہ الہندوستان کی جانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کی ماضی کی وارداتوں کا تسلسل ہے۔ بے گناہ شہریوں کا بیہمانہ قتل دہشتگردوں کی کھلی درندگی کا ثبوت ہے۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سر ڈھاکہ میں بس سے مسافروں کے اغوا اور ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردوں سے پوری قوت سے نمٹیں گے.بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا. نہتے شہریوں کا قتل فتنتہ الہندوستان کی کھلی دہشتگردی ہے.عزم، اتحاد اور طاقت سے دھشت گردی کے ناسور سے نمٹیں اور اس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے.

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی کروا کر اپنی رسوائی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فتنہ الہندوستان کے آلہ کار پاکستان میں خون بہا رہے ہیں، مگر پاکستان کے عوام دہشتگردی کے خلاف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔خالد مسعود سندھو نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کو جائز حقوق ملنے چاہئیں لیکن اس آڑ میں قتل و غارت اور دہشتگردی کی گنجائش ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

    بلوچستان حکومت اور پاکستانی عوام نے دہشتگردوں کی اس بزدلانہ کارروائی کو یکسر مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ واقعے کے بعد سیکورٹی فورسز کی جانب سے سرچ آپریشنز جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

  • لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    گوالمنڈی کے علاقے لاہور ہوٹل کے قریب ایک مکان کی بالائی منزل کی خستہ حال لکڑی کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی مہارت سے ملبے کے نیچے دب گئیں تمام خواتین کو بچا کر انہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبنے والی خواتین کی شناخت ماریہ، نبیہ، مینال، جوریہ، بابرا اور فوزیہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ مکان کی چھت لکڑی کی تھی جو کافی پرانی اور کمزور ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے اچانک گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ خواتین کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انہیں فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔پولیس اور ریسکیو ٹیمیں واقعے کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں اور مکان کے مالک کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ علاقہ مکینوں نے خستہ حال عمارتوں کی بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • بدنصیب حمیرا،گتھی الجھ گئی،ملک ریاض کیلئے ڈیل نہ ڈھیل،نہ زرداری کا استعفیٰ

    بدنصیب حمیرا،گتھی الجھ گئی،ملک ریاض کیلئے ڈیل نہ ڈھیل،نہ زرداری کا استعفیٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آصف زرداری مستعفی نہیں ہو رہے، سب خبریں من گھڑت ہیں، ملک ریاض پاکستان نہیں آ رہے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہوئی،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ ایک ہفتے میں تین خبریں‌گرم رہی ہیں، ان پر کافی چہ میگوئیاں ،پروگرام ،تجزیئے بھی ہو گئے، میرے پاس ان میں سے دو خبروں کی مکمل تصدیق سے اصلیت بتا سکتا ہوں، تیسری خبر کی تفصیلات تو آ رہی ہیں لیکن مکمل نہیں، ایک حمیرا اصغر،کی موت کی تفصیلات،ایک آصف زرداری کے گھر جانے کی باتیں اور انکی جگہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے آنے کی باتیں،تیسری ملک ریاض کی ڈیل ہو گئی ہے اور وہ کراچی آ کر بلاول ہاؤس ٹھہریں گے،دو خط بھی لکھے آرمی چیف کو تعلقات بہتر کرنے کی…میں اس پر بڑا کلیئر بتا سکتا ہوں کہ اداروں کا واضح مؤقف ہے کہ شہدا ہمارے دلوں کی دھڑکن ہے، کسی بھی فردواحد کو کہ وہ کہے کہ پیسوں سے مددکر رہا ہوں یہ اجازت نہیں، یہ ریاست کا کام ہے اور ریاست کر رہی ہے،پاکستان کی ریاست کا یہ کہنا ہے کہ ملک ریاض مطلوب ہیں ،وہ بار بار بلانے کے باوجود عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے، بحیثیت مجرم انکے خلاف فیصلے آ چکے ہیں،ملک ریاض پاکستان کے شہیدوں کو اپنی ڈیل میں مت گھسیٹیں کیونکہ کبھی بھی ایسا نہیں ہو گا کہ شہدا کی عزت پر ادارے کمپرومائز کریں،نہ ڈیل ہونی ہے نہ 15 جولائی کو ملک ریاض نے لینڈ کرنا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آصف زرداری کے گھر جانےکی خبر میں بھی کوئی صداقت نہیں،ن لیگ کو پیپلز پارٹی کی ضرورت ہے حکومت کے لئے کیونکہ اس وقت جو اپوزیشن میں آئے گا وہ ایک دم اوپر نکل جائے گا، ن لیگ ایسا کچھ نہیں‌کرے گی، آصف زرداری عمر کے جس حصے میں ہیں انکی طبیعت خراب،ٹھیک ہو گی لیکن انکے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دینا، جب وہ پہلے صدر تھے تو اس وقت بھی ایسی خبریں آئیں تھی تو انہوں نے پارلیمنٹ کو تمام اختیارات منتقل کر دیئے تھے، اس وقت میری آصف زرداری سے ذاتی طور پر بات ہوئی تھی،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ حمیرا اصغر کے والد نے مان لیا ہے کہ لاش کو وصول کروں گا،لیکن اب سی سی پی او کراچی کا بھی بیان آ گیا ہے کل رات کو ،میں نے پروگرام میں دعویٰ کیا تھا کہ حمیرا کی موت ستمبر یا اکتوبر میں ہوئی،کل رات کراچی پولیس کا بھی یہ کہناتھا کہ چھ ماہ یا اس سے زیادہ ہو گئے ہیں ،لیکن اسکے اپارٹمنٹ میں جو کھانے پینے کے اشیا تھیں وہ ستمبر تک ایکسپائری تھیں، بجلی کٹی ہوئی تھی، ان کا کوئی بل ستمبر سے نہیں دیا گیا، اب ایک سوال بار بار آ رہا کہ عائشہ خان کی کچھ دن قبل موت ہوئی،ایک ہفتے کے بعد جو ہمسائے تھے اتنی زیادہ بو آئی کہ انہوں نے شکایت کی ،دروازہ توڑا گیا اور لاش ملی، اب یہاں لاش تھی، اسکے باوجود کوئی شکایت نہیں ہوئی، وہی فلیٹس ہیں چھوٹے چھوٹے، آج میری کسی سے بات ہوئی تو کسی نے کہا کہ وہاں کھڑکی کھلی ہوئی تھی،جالی والی،یہ ساری باتیں مجھے ہضم نہیں ہو رہی،ہمسائے ڈر کر بیٹھے ہوئے ہیں،کوئی اس میں نہیں پڑ رہا، حمیرا نے مرنے سے پہلے اپنے دوستوں کو میسج کئے تھے کہ وہ پریشان ہے اور دھمکیاں مل رہی ہیں، اب واقعی یہ طبعی موت ہے یا ….نوجوان لڑکی ہے اور صحتمند تھی، کوئی بیماری نہیں تھی،

  • بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، کورکمانڈرز کانفرنس

    بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کیخلاف کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، کورکمانڈرز کانفرنس

    کورکمانڈرز کانفرنس نے بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر قرار دیا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں کورکمانڈرز کانفرنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہمارے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائےگا، پاکستان کے عوام کا تحفظ اور سلامتی مسلح افواج کی اولین ترجیح ہے،کور کمانڈرز کانفرنس میں کہا گیا کہ بھارتی حمایت یافتہ اور اسپانسرڈ پراکسیز کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن اور جامع کارروائیاں جاری رکھنا ناگزیر ہے، بھارت کی دوطرفہ فوجی کشیدگی میں کسی تیسرے فریق کو شامل کرنا بھارت کی بلاک پولیٹکس کو فروغ دینےکی بے بنیاد کوشش ہے۔

    اس موقع پر آرمی چیف فیلڈ مارشل سیدعاصم منیر کا کہنا تھا کہ درحقیقت دنیا واضح طور پر بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے بدظن ہوتی جارہی ہے، دنیا بھارت کے ہندوتوا انتہاپسندی کے خطرناک رجحانات سے بدظن ہوتی جا رہی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فورم کو آرمی چیف کے تاریخی اور منفرد دورہ امریکا کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، دورہ امریکا کے دوران امریکی قیادت کو پاکستان کا دو طرفہ معاملات پر مؤقف پیش کیا گیا، اعلیٰ سطح امریکی قیادت کو علاقائی اور بین الاقوامی امور پر پاکستان کا بامقصد مؤقف براہ راست پیش کیا گیا،فورم نے مشرق وسطیٰ اور ایران کی حالیہ پیش رفت کے تناظر میں داخلی و خارجی سلامتی اُمور کا تفصیلی جائزہ لیا۔ فورم نے طاقت کے استعمال کے بڑھتے عالمی رجحان کو بحیثیت ترجیحی پالیسی ٹول استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔

    فورم کا کہنا تھا کہ پہلگام واقعے میں واضح شکست کے بعد بھارت اب فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی پراکسیز سے مذموم ایجنڈا مزید آگے بڑھانےکی کوشش کر رہا ہے، اس بھونڈی کوشش کا مقصد بھارت کا خطے میں نیٹ سکیورٹی پرووائڈر کے خود ساختہ کردار کو گمراہ طور پر پیش کرنا ہے،فورم نےدہشت گرد پراکسیز کے خلاف فورسز کی حالیہ کامیابیوں کا جائزہ بھی لیا۔ آرمی چیف نے وزیر اعظم کے ہمراہ ایران، ترکیے، آذربائیجان، سعودی عرب اور یو اے ای کےدوروں پر فورم کو آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے حالیہ کامیاب دوروں پر پاکستان کے فعال سفارتی کردار کی تفصیلات سے فورم کو آگاہ کیا، فورم کو جنگ کی بدلتی نوعیت، ابھرتے خطرات کے پیش نظر پاک فوج کی حکمت عملی اور جدتوں پر بریفنگ دی گئی۔

    آرمی چیف نے ٹرائی سروسز ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرنےمیں پاک بحریہ اور فضائیہ کی قیادت کو بھی سراہا۔ آرمی چیف نے ملک کو درپیش تمام خطرات کے خلاف پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں پر مکمل اعتمادکا اظہارکیا۔

  • بھارت نے آپریشن سندور میں شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار شروع کر دی

    بھارت نے آپریشن سندور میں شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار شروع کر دی

    پاکستان کے خلاف بھارت نے آپریشن سندور میں اپنی ذلت آمیز شکست کے بعد دوبارہ پراکسی وار کا پرانا ہتھکنڈا اپنانا شروع کر دیا ہے۔

    بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بلوچستان میں ایک بار پھر آپریشن بام کے نام سے حملے شروع کیے ہیں، جو "فتنہ الہندستان” کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کا مقصد عام شہریوں کی بنیادی سہولیات کو نشانہ بنا کر خوف و دہشت پھیلانا اور ملک کے اندرونی حالات کو خراب کرنا ہے۔ہدف عام شہریوں کی گاڑیاں، موبائل ٹاورز اور دیگر غیر عسکری تنصیبات ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حملے مزاحمت نہیں بلکہ دہشت گردی کی شکل میں آزادی کی تحریک کا بھیانک نقاب ہیں۔ بھارتی ایجنڈا پاکستان کو اندر سے کمزور کرنا اور عام شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا ہے۔

    پاکستان کی سکیورٹی ادارے اس سازش سے اچھی طرح واقف ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بارہا بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کی بلوچستان میں بدامنی پھیلانے میں ملوث ہونے کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھی ہیں۔خصوصی طور پر بھارت کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول کو اس سارے نیٹ ورک کا مرکزی معمار قرار دیا گیا ہے، جو نہ صرف عسکری حملوں بلکہ ڈیجیٹل و معلوماتی جنگ میں بھی سرگرم ہے۔

    تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے ہر بار ان پراکسی حملوں کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا ہے۔ یہ نئی پراکسی وار بھی اسی طرح پاکستانی افواج کی جوابی کارروائیوں سے ناکام ہوگی۔دہشت گردوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنی دہشت گردی کو مزاحمت کا رنگ دے سکیں، لیکن پاکستان اپنی خودمختاری اور داخلی سلامتی کے دفاع میں ہر گز کسی قسم کی نرمی برتنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔پاکستانی قوم اور اس کے محافظ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہمیشہ تیار اور متحد ہیں۔