Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • علی امین گنڈاپور کے وارنٹ اور اشتہاری کا اسٹیٹس  برقرار

    علی امین گنڈاپور کے وارنٹ اور اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار

    بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی پر فیض آباد احتجاج کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ اور اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار ہے۔

    اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سِپرا نے عمران خان کی نااہلی پر فیض آباد احتجاج کیس پر سماعت کی ، علی امین گنڈا پور عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے وارنٹ اور اشتہاری کا اسٹیٹس برقرار رکھتے ہوئے اسلام آباد پولیس کو پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے عامر محمود کیانی کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کردی،پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید نے بریت کی درخواست دائرکی جس پر جج نے کہا کہ پراسیکیوٹر کے دلائل سن کر آج ہی فیصلہ سنایا جائے گا۔

  • شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے پلان پیش کیا جائے.وزیراعظم

    شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے پلان پیش کیا جائے.وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل شپنگ کارپوریشن پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، جنید انور چوہدری اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    اجلاس کو نیشنل شپنگ کارپوریشن میں بحری جہازوں کی موجودہ تعداد، پاکستان میں سالانہ کارگو کی آمد و رفت اور مستقبل میں پی این ایس سی کی توسیع کے حوالے سے آگاہ کیا گیا. اجلاس کو پی این ایس سی کے آپریشنز پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی.وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان نیشنل شپکنگ کارپوریشن (PNSC) کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے جامع منصوبہ طلب کرلیا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شپنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی وسیع استعداد موجود ہے. شپنگ شعبے میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے جامع پلان مرتب کرکے پیش کیا جائے.بحری جہازوں کی تعداد میں اضافے اور پاکستان میں کارگو کی آمدو رفت کیلئے مسابقتی بنیادوں پر پی این ایس سی کے جہازوں کے استعمال کے فروغ کے حوالے سے اقدامات کئے جائیں. پی این ایس سی کو بین الاقوامی معیار کی شپنگ کمپنی بنانے کیلئے شعبے کے ماہرین و کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں. پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کی اصلاحات سے نہ صرف شپنگ کی مد میں بین الاقوامی کمپنیوں کو ادا کئے جانے والے قیمتی زر مبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ مقامی سی فیئررز کیلئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے.

  • ٹی وی پر جوئے،گیمبلنگ،شراب نوشی کے اشتہار کیوں چل رہے؟پیمرا سے قائمہ کمیٹی میں سوال

    ٹی وی پر جوئے،گیمبلنگ،شراب نوشی کے اشتہار کیوں چل رہے؟پیمرا سے قائمہ کمیٹی میں سوال

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر مقدمات سے متعلق تفصیلات فراہم نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ کو طلب کرلیا۔

    سینیٹر علی ظفر کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس پارلیمنٹ لاجز میں منعقد ہوا،اجلاس میں سینیٹر افنان اللّٰہ کا غیر اخلاقی اشتہارات کی ممانعت ایکٹ 2025ء کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا،سینیٹر افنان اللّٰہ نے کہا کہ ماضی میں اس طرح کی قانون سازی ہوچکی ہے، جو اشتہارات سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر چل رہے ہیں، کیا ہمارے لوگ اس طرح کے کپڑے پہنتے ہیں؟ ٹی وی چینلز پر اب جوئے، گیمبلنگ کا اشتہار چل رہا ہوتا ہے، کیا ہم نے اس ملک میں جوئے کو قانونی حیثیت دے دی ہے؟ شراب نوشی سے متعلق اشتہارات میں نے خود دیکھے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے ڈراموں میں شراب نوشی دیکھی ہے، میں نے ان سب کو مدنظر رکھ کر اس بل کو مزید اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی ہے،سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ میچز پر جوئے سے متعلق اشتہارات چل رہے ہیں، مختلف جوئے کی سوشل میڈیا ایپس ڈاؤن لوڈ کرکے آپ جوا کھیل سکتے ہیں، پی ٹی اے اس حوالے سے ایکشن لے سکتا ہے۔

    سینیٹر افنان اللّٰہ نے استفسار کیا کہ اگر پیمرا کا قانون موجود ہے تو یہ سارے اشتہارات کیسے چل رہے ہیں؟ قانون کی موجودگی میں جوئے کا اشتہار کیسے چلا ہے؟ کیا ٹی وی چینل پر چلنے والے اشتہار ہمارے معاشرے کی نمائندگی کرتے ہیں؟اس پر سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ لباس کا انتخاب موسم کی مناسبت، جغرافیائی لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس بل پر ووٹنگ کر لیتے ہیں۔

    سینیٹر افنان کا کہنا تھا کہ میں اس ایکٹ کے ذریعے عورتوں کو بالکل ٹارگٹ نہیں کر رہا ہوں، ٹی وی چینل پر جوئے کا اشتہار چلانے سے متعلق مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دے دیں،اس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اس حوالے سے پہلے سے پیمرا میں ایک کمیٹی ہے جو نگرانی کرتی ہے۔

    کمیٹی میں سینیٹر زرقا سہروردی کا معلومات تک رسائی کا ترمیمی بل 2023ء کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا،سینیٹر زرقا سہروردی نے کہا کہ معلومات جب مانگی جاتی ہیں تو ہمیں معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، اگر معلومات مانگی جائے تو مخصوص انفارمیشن فراہم نہیں کی جاتی ہے،اجلاس میں وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکام نے بتایا کہ سینٹرل سینسر بورڈ اسلام آباد کے لیے الگ ہے، صوبوں کے الگ سے بنے ہوئے ہیں۔

    سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ہمارے ہاں فلمیں بنتی نہیں ہیں اور سینسر بورڈ کے ممبران درجنوں میں ہیں، پاکستان میں فلمیں اس طرح سے بن ہی نہیں رہی ہیں، فلم میکر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فلم بنا تو لے لیکن سنیما ہی نہیں ہیں، اسلام آباد میں کوئی نئے سنیما ہاؤس بنانے کے حوالے سے اقدامات کرنے چاہئیں،قائمہ کمیٹی نے سینیٹر زرقا سہروردی کا بل آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔

    بعد ازاں اجلاس میں پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ پر مقدمات کا ایجنڈا زیرِ بحث آیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس حوالے سے وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں دی، وزارتِ اطلاعات نے تو وزارتِ داخلہ کو درخواست کی ہے، لیکن وہاں سے بھی کوئی رسپانس نہیں مل رہا، قائمہ کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سیکریٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔

  • سوشل میڈیا پر توہین آمیز بیان،وقاص اکرم کا فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ

    سوشل میڈیا پر توہین آمیز بیان،وقاص اکرم کا فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ

    ڈسٹرکٹ کورٹ اسلام آباد ،پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم نے فواد چوہدری کیخلاف 10 ارب ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا،

    دعوے میں کہا گیا کہ فواد چوہدری کیجانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پرجھوٹی اور توہین آمیز بیان بازی کی جاتی ہے، درخواست گزار عزت دار شہری اور قومی اسمبلی میں عوام کا الیکٹڈ نمائندہ ہے، مذکورہ دعویٰ اسلام آباد (ویسٹ) کے معزز ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر کیا گیا ہے، جس میں مدعی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فواد حسین نے اُن کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی غرض سے جھوٹے الزامات لگائے، جو نہ صرف ان کی ساکھ کے خلاف تھے بلکہ انہیں عوامی سطح پر بدنام کرنے کا سبب بنے۔ہ وہ ایک سینئر سیاستدان، سابق وفاقی وزیر اور موجودہ رکنِ قومی اسمبلی ہیں، جنہیں عوامی فلاح و بہبود اور سیاسی خدمات کے باعث وسیع پیمانے پر عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے مرکزی سیکرٹری سمیت متعدد اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔

    مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ فواد حسین کے الزامات نے نہ صرف ان کی نجی و سیاسی زندگی کو متاثر کیا بلکہ ان کی جماعت اور حلقہ انتخاب میں بھی ان کے خلاف غلط فہمی پیدا کی۔شیخ وقاص اکرم نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اُنہیں انصاف فراہم کیا جائے اور مدعا علیہ کو ہرجانے کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے۔

  • حمیرا اصغر کی تدفین کے لئے کئی شخصیات سامنے آ گئیں

    حمیرا اصغر کی تدفین کے لئے کئی شخصیات سامنے آ گئیں

    صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ کی جانب سے اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کرانے کا فیصلہ کیاگیا ہے

    صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نےایڈیشنل آئی جی کراچی سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ مرحوم اداکارہ حمیرا اصغر کے ورثاء اگر لاش وصول یا تدفین نہیں کرتے تو محکمہ ثقافت حمیرا اصغر کا وارث ہوگا۔ صوبائی وزیر نے ڈائریکٹر جنرل کلچر کو معاملے پر فوکل پرسن مقرر کردیا۔سیکریٹری ثقافت سندھ نے ڈی آئی جی ساؤتھ کو لاش حوالگی کیلئے خط لکھا ہے،صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ کا کہنا ہے کہ مرحوم حمیرا اصغر لاوارث نہیں سندھ حکومت محکمہ ثقافت وارث ہے۔ حمیرا اصغر کا واقعہ افسوسناک اور دل دہلانے والا واقعہ ہے۔ تدفین قبرستان سمیت تمام مراحل محکمہ ثقافت کے ذمہ ہوگا۔ ہماری پہلی کوشش ہے کہ والدین راضی ہوں اور لاش وصول کریں۔پولیس کے تعاون سے اس معاملے پر محکمہ ثقافت اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔

    دوسری جانب پاکستانی اداکار سونیا حسین اور یاسر حسین اداکارہ حمیرا اصغر کی تدفین کی ذمہ داری اٹھانے کے لیے میدان میں آگئے،ماڈل اور اداکارہ حمیرا اصغر کی درد ناک موت نے شوبز انڈسٹری اور ان کے مداحوں کو شدید صدمے میں مبتلا کیا، حمیرا کے والد کے لاش وصول کرنے سے انکار پر شوبز برادری کی کئی شخصیات ان کی تدفین کی ذمہ داری اٹھانے کےلیے تیار ہیں،اس کے علاوہ سماجی کارکن مہر بانو سیٹھی نے سب سے پہلے حمیرا اصغر کی تدفین کی ذمہ داری لینے کا اعلان کیا جس کے بعد اداکارہ سونیا حسین نے بھی اس مقصد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے،سونیا حسین نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجھے یہ خبر ملی کہ حمیرا کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کے گھر والے ان کی لاش وصول نہیں کررہے، میں یہ سن کر سکتے میں آگئی ہوں کہ کیا گناہ کیا تھا اُس لڑکی نے؟ میں کسی کو نصیحت کرنے نہیں آئی لیکن اگر خدا نخواستہ کوئی نہ آیا تو ایک انسان اور مسلمان ہونے کے ناطے میں اس کے کفن دفن کی ذمہ داری لینا چاہتی ہوں۔

  • طالبان نے 45 سالہ شخص کی 6 سالہ لڑکی سے شادی روک دی

    طالبان نے 45 سالہ شخص کی 6 سالہ لڑکی سے شادی روک دی

    جنوبی افغانستان کے ضلع مرجاہ میں ایک چھ سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے والد نے پیسے کے عوض 45 سالہ مرد سے زبردستی شادی کرا دی ہے۔ امریکی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ گزشتہ دنوں پیش آیا جہاں لڑکے نے، جس کی پہلے سے دو بیویاں ہیں، لڑکی کے خاندان کو شادی کے لیے رقم ادا کی۔

    طالبان حکام نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور لڑکی کو اس کے شوہر کے گھر لے جانے سے روک دیا ہے۔ طالبان کے مطابق، لڑکی کو اس کے شوہر کے گھر تب لے جایا جا سکتا ہے جب وہ کم از کم نو سال کی ہو جائے۔ اگرچہ مقامی طالبان حکام نے کوئی باقاعدہ بیان جاری نہیں کیا، لیکن انہوں نے لڑکی کو زبردستی شوہر کے گھر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔مرجاہ ضلع میں لڑکی کے والد اور دولہا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم اب تک ان کے خلاف کوئی رسمی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔ لڑکی اس وقت اپنے والدین کے ساتھ ہے۔ شادی کے لیے جس رسم یعنی "ولور” کا اطلاق کیا گیا، اس کے تحت لڑکی کی ظاہری حالت، تعلیم اور دیگر عوامل کی بنیاد پر قیمت مقرر کی گئی۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ صارفین نے اس گھناؤنے عمل پر صدمہ اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔ شادی کی تصاویر، جن میں دولہا اور کم عمر لڑکی ایک ساتھ نظر آ رہے ہیں، نے انسانی حقوق کے کارکنوں میں بھی زبردست ردعمل پیدا کیا ہے۔

    2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں کم عمر اور قبل از وقت شادیوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور خواتین و لڑکیوں پر سخت پابندیوں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل بندش، اس رجحان کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ افغانستان میں شادی کی کم از کم قانونی عمر کا تعین نہیں ہے، اور سابقہ سول کوڈ جس نے لڑکیوں کے لیے 16 سال کی عمر مقرر کی تھی، اب نافذ نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی خواتین کی تنظیم کی گزشتہ سال کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی طرف سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کے باعث کم عمر شادیوں میں 25 فیصد اضافہ اور قبل از وقت حمل کی شرح میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو لڑکیوں کی زندگیوں کو مزید خطرے میں ڈال رہا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کم عمر شادیوں سے لڑکیوں کی جسمانی، ذہنی اور معاشرتی صحت شدید متاثر ہوتی ہے۔ قبل از وقت شادیوں کے نتیجے میں حمل کے دوران صحت کے خطرات، گھریلو تشدد، اور سماجی تنہائی جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ تنظیمیں زور دیتی ہیں کہ کم عمر شادیوں کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ افغانستان کے سماجی اور اقتصادی استحکام کو محفوظ رکھا جا سکے اور نوجوان لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

  • کینیڈا میں تربیتی طیاروں میں‌تصادم،بھارتی پائلٹ سمیت دو ہلاک

    کینیڈا میں تربیتی طیاروں میں‌تصادم،بھارتی پائلٹ سمیت دو ہلاک

    کینیڈا میں دو تربیتی ہوائی جہازوں کے درمیان ایک افسوسناک فضائی تصادم ہوا جس میں دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔ بھارتی قونصل خانہ جنرل، ٹورنٹو نے بدھ کے روز اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مارے جانے والوں میں ایک ہندوستانی نژاد طالبعلم پائلٹ بھی شامل تھا۔

    یہ حادثہ منگل کی صبح پیش آیا، جب ہاروز ایئر پائلٹ اسکول کے قریب دو چھوٹے سیسنا ایک انجن والے تربیتی طیارے ایک ساتھ ٹکرا گئے۔ حادثہ تقریباً رن وے سے 400 میٹر کی دوری پر ہوا۔مارے جانے والے پائلٹس کی شناخت 21 سالہ سریہری سکیش کے طور پر ہوئی جو کیرالا، ہندوستان کے رہائشی تھے جبکہ دوسرے پائلٹ ان کے ہم جماعت، 20 سالہ کینیڈین شہری، ساوانا مے روئس تھے۔

    قونصل خانہ جنرل نے ایک ٹویٹ میں کہا”گہرے دکھ کے ساتھ ہم سریہری سکیش، ایک نوجوان ہندوستانی طالبعلم پائلٹ، کے اچانک انتقال پر افسوس کرتے ہیں جو سٹینبیک، مینیٹوبا کے قریب فضائی تصادم میں جاں بحق ہوئے۔ ہم ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ قونصل خانہ مرحوم کے خاندان، پائلٹ تربیتی اسکول اور مقامی پولیس سے رابطے میں ہے تاکہ ہر ممکن مدد فراہم کی جا سکے۔”

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سریہری پہلے ہی اپنا پرائیویٹ پائلٹ لائسنس حاصل کر چکے تھے اور وہ کمرشل پائلٹ سرٹیفیکیشن کے لیے تعلیم حاصل کر رہے تھے۔حادثے کے وقت دونوں طالبعلم چھوٹے سیسنا طیاروں میں ٹیک آف اور لینڈنگ کی مشق کر رہے تھے۔ ہاروز ایئر پائلٹ اسکول کے صدر ایڈم پینر نے بتایا کہ دونوں پائلٹس بیک وقت رن وے پر لینڈنگ کی کوشش کر رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کے طیارے آپس میں چند سو گز کے فاصلے پر ٹکرا گئے۔اگرچہ دونوں طیارے ریڈیو سے لیس تھے، لیکن نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بظاہر دونوں پائلٹس ایک دوسرے کو دیکھ نہیں پائے تھے۔

    ہاروز ایئر پائلٹ اسکول، جس کی بنیاد ایڈم پینر کے والدین نے 1970 کی دہائی میں رکھی تھی، ہر سال تقریباً 400 طالبعلموں کو پائلٹ کی تربیت دیتا ہے اور دنیا بھر سے طلباء یہاں پیشہ ورانہ اور تفریحی مقاصد کے لیے تربیت حاصل کرتے ہیں۔

  • وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم سے نانگا پربت سر کرنے والی پہلی قطری خاتون کوہ پیماء شیخہ اسماء الثانی کی ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں قطری کوہ پیما شیخہ اسماء الثانی سے ملاقات میں ان کا خیرمقدم کیا اور انہیں حال ہی میں نانگا پربت کو کامیابی سے سر کرنے والی خلیج اور قطر کی پہلی خاتون کا اعزاز حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

    ملاقات کے دوران وزیراعظم نے اس اہم سنگ میل کو حاصل کرنے کیلئے شیخہ عاصمہ کی غیر معمولی ہمت اور عزم کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے ایڈونچر اور کوہ پیمائی کے ذریعے دنیا بھر کی خواتین بالخصوص نوجوانوں کو با اختیار بنانے کی آگاہی کو فروغ دینے کے حوالے سے ان کی تعریف کی۔ پاکستان کے قدرتی حسن کی آگاہی کے لیے ان کی کامیابی اور عزم کے اعتراف میں، وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کو پاکستان کی ماؤنٹینز اینڈ ٹورازم کے لیے باقاعدہ طور پر برانڈ ایمبیسیڈر مقرر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کی چودہ بلند ترین چوٹیوں میں سے پانچ کا پاکستان میں ہونا، پاکستان کیلئے فخر کی بات ہے، جو اسے کوہ پیماؤں اور ایڈونچر کے متلاشیوں کے لیے ایک اہم مقام بناتا ہے۔ انہوں نے شیخہ عاصمہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستان کے شاندار پہاڑوں کا انتخاب کیا اور ان کے چیلنجز اور قدرتی خوبصورتی کی طرف بین الاقوامی توجہ دلانے میں قابل قدر کردار ادا کیا۔

    انہوں نے پاکستانی کوہ پیماء پورٹرز اور گائیڈز کی اہم شراکت کا بھی ذکر کیا جو دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کو ان کی مہمات میں مدد فراہم کرتے ہیں، اور کہا کہ ان کی مہارت اور لگن اس طرح کی غیر معمولی کامیابیوں کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔

    پاکستان اور قطر کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شیخہ اسماء کی کامیابی دونوں ممالک کے درمیان جرات، مثبت عزائم اور استقامت کی مشترکہ اقدار کی عکاس ہے۔ انہوں نے ایڈونچر ٹورازم، کھیلوں اور نوجوانوں کی شمولیت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے شیخہ اسماء آلثانی کے مساوی مواقع کی تخلیق میں جینڈر مساوات کمیشن کی نائب صدر کے طور پر فعال کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہیں تمام ضروری سہولیات، حفاظت اور مہمان نوازی کا یقین دلایا۔

    دنیا کی 8,000 میٹر کی چوٹیوں میں سے تمام چودہ چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے شیخہ اسماء کو مستقبل کی کوہ پیمائی کے لیے پاکستان واپس آنے اور پاکستان کے متنوع اور دلکش مناظر کو مزید دریافت کرنے کے لیے دعوت دی۔ شیخہ اسماء الثانی نے اپنے دوروں کے دوران ان کی پرتپاک مہمان نوازی پر وزیراعظم اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ نانگا پربت کی اپنی حالیہ کوہ پیمائی کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے مقامی پورٹرز اور گائیڈز کے تعاون کی تعریف کی اور اس شاندار پہاڑ کی خوبصورتی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے K2، جسے ماضی میں وہ سر کر چکی ہیں، اپنی سر کی گئیں تمام چوٹیوں میں بہترین پہاڑ قرار دیا اور کہا کہ اس کی خوبصورتی بے مثال ہے۔

    وزیر اعظم نے شیخہ اسماء الثانی کی مستقبل کی کوششوں اور عالمی سطح پر نوجوانوں بالخصوص خواتین کو عزم کے ساتھ اپنے اہداف کے حصول کی ترغیب دینے کے لیے ان کی جاری کوششوں کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی،نچلی عدالتوں میں معاملہ ختم ہونا چاہئے،چیف جسٹس

    فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی،نچلی عدالتوں میں معاملہ ختم ہونا چاہئے،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہیے

    سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کی،دوران سماعت چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیملی میٹرز میں معاوضوں کی ادائیگی کی اپیلیں سپریم کورٹ میں نہیں آنی چاہئیں، نچلی عدالتیں معاوضہ طے کردیں تو معاملہ ختم ہونا چاہیے، معاوضوں کی ادائیگیوں کی رقم میں سپریم کورٹ نہیں پڑے گی،اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ چھوٹے بچے کے لیے 25 ہزار ماہانہ خرچہ بہت زیادہ ہے،تاہم عدالت نے ماہانہ خرچہ 25 ہزار مقرر کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کردی۔

  • سندھ ہائیکورٹ نے جمشید محمود عرف جامی کی سزا معطل کردی

    سندھ ہائیکورٹ نے جمشید محمود عرف جامی کی سزا معطل کردی

    سندھ ہائیکورٹ نے فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود المعروف جامی کی سزا معطل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں جمشید محمود کی سزا کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران سنایا گیا۔

    عدالت نے جمشید محمود کو ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کی ہے۔ ضمانت کے بدلے 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کی شرط رکھی گئی ہے۔ وکیل حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ جمشید محمود کو جلد ہی جیل سے رہا کردیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے جمشید محمود کو ڈائریکٹ کمپلینٹ پر دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ یہ سزا فلم اور میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید کی طرف سے جمشید محمود کے خلاف دائر کی گئی ہتک عزت کی شکایت پر دی گئی تھی۔

    معروف فلم پروڈیوسر، رائٹر اور ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی نے ہتک عزت کے الزام میں دی گئی سزا کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کر دی تھی، جمشید محمود نے ہتک عزت کیس میں دی گئی سزا کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ جس جرم میں سزا سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہے اور سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، اس لیے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔