Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    ایمل ولی خان کا ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر ردعمل

    پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر ایمل ولی خان نے سابق پارٹی رہنما ثمر بلور کی مسلم لیگ ن میں شمولیت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ثمر بلور کا مسلم لیگ ن میں شامل ہونا حیران کن بات نہیں ہے، کیونکہ متعدد پارٹی رہنماؤں نے پہلے ہی اس امکان کی نشاندہی کر دی تھی۔

    ایمل ولی خان نے کہا کہ ثمر بلور کو صوبائی اسمبلی کی نشست شہید بشیر بلور اور شہید ہارون بلور کے لہو کی قربانیوں کی بدولت ملی تھی، جنہوں نے پارٹی اور عوام کی خدمت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما حاجی غلام احمد بلور آج بھی پارٹی کے ساتھ چٹان کی طرح مضبوطی سے کھڑے ہیں اور ان کی سیاسی زندگی میں 60 سال سے زائد قربانیاں کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔صدر اے این پی نے مزید کہا کہ غلام احمد بلور کی عمر اور تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ مزید کسی بھی سیاسی آزمائش کے مستحق نہیں ہیں، اور ان کی قربانیاں پارٹی کے لیے رہنمائی کا منبع ہیں۔

    دوسری جانب عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما غلام احمد بلور نے بھی ثمر بلور کی پارٹی چھوڑنے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ثمر بلور کا یہ ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اس میں کسی مداخلت کے حق دار نہیں ہیں۔ غلام احمد بلور نے اپنی وفاداری عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ظاہر کی اور کہا کہ وہ پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    ثمر بلور، جو کہ پشاور کے معروف بلور خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، نے حال ہی میں مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کی ہے۔ وہ عوامی نیشنل پارٹی میں صوبائی سطح کی رہنما تھیں اور 2018 میں ضمنی انتخابات جیت کر پہلی بار صوبائی اسمبلی کی رکن بنیں۔ جون 2020 میں انہیں خیبر پختونخوا اے این پی کی صوبائی سیکرٹری انفارمیشن مقرر کیا گیا تھا۔

    ثمر بلور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں وفاقی وزیر امیر مقام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ثمر بلور کی شمولیت سے مسلم لیگ ن کو خیبر پختونخوا میں مضبوطی ملے گی۔ثمر بلور، شہید رہنما ہارون بشیر بلور کی بیوہ ہیں اور انہوں نے تقریباً چار سال تین ماہ (24 اکتوبر 2018 سے 18 جنوری 2023 تک) صوبائی اسمبلی کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔

  • حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    حمیرا اصغر ایک ماہ پہلے نہیں گزشتہ برس اکتوبر میں ہی مر گئی تھی،مبشر لقمان کا انکشاف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ حمیرااصغر کی پراسرار طریقے سے لاش ملی ہے، پولیس نے کہہ دیا کہ ایک مہینہ پرانی لاش ہے، لواحقین سامنے نہیں آ رہے، میں نے کچھ لوگوں سے باتیں کیں، چند گھنٹے میں مجھے وہ پتہ چل گیا جو پولیس کو نہیں پتہ، اس کی موت پچھلے سال اکتوبر میں ہوئی ہے،میں یہ بڑا سوچ کر کہہ رہا ہوں، اکتوبر یا ستمبر کے آخر میں موت ہوئی ہے، اسکے بعد کا کسی کو پتہ نہیں تھا لواحقین نے لاش لینے سے انکار کر دیا، سامنے کوئی نہیں آ رہا تو پولیس نے کہا مٹی ڈالو کیس ختم کرو کیونکہ اس کیس میں انکم تو ہو نہیں رہی

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نےکہا کہ ہم ویڈیو شیئر کرتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ مجھے ویڈیو نہ شیئر کریں، کوئی بھی ماں باپ اس طرح کی خبر سن کر ڈپریشن کا شکار ہو جاتا ہے،بجائے اس کے کہ ہم ویڈیو دیکھتے رہیں،حمیرا پچھلے دس سالوں سے کچھ سٹوڈیو میں آنا جانا تھا ایکٹنگ کر رہی تھی، لوگ کہتے تھے کہ اس کو شوق تھا لیکن بیچاری شاید لمیٹڈ تھی اپنی سکلز میں،اور اس کو بڑے موقع نہیں ملے، زندگی کا بڑا موقع تماشا میں ملا، پہلی باری فیم سامنے آیا اور لوگ اس کو جاننا شروع ہو گئے، ابھی بھی جب اس کی موت کی خبریں سامنے آئی ہیں تو تماشا میں لڑائی کی ویڈیو پھر وائرل ہو رہی ہے

    مبشر لقمان کاکہنا تھا کہ حمیرا کے باپ نے کہہ دیا کہ میں نے قطع تعلق کر دیا تھا لاش بھی نہیں لینی، میں کیا کہوں اسکے لئے میرے پاس لفظ نہیں،پتھر صفت انسان ہو گا یہ، انسان کے گھرمیں‌ رہنے والے جانور کی موت ہو جائے تو بندہ ہل جاتا ہے بجائے اس کے کہ اپنا خون جدا ہو اور انسان ایسا کرے، قطع تعلقی کہ وجہ اداکار بننا ہی ہو سکتا ہے، اگر وہ چلی گئی تو اس نے کتنی مشکلیں جھیلیں ،اگر کسی سے تعلق ہوتا تو نوبت ہی نہ آتی،اسکو سر چھپانے کی اور جگہ ملتی، اس نے اپنے آخری رابطوں میں دوستوں سے کہا تھا کہ میں آج کل بہت پریشان ہوں، اسکو شاید کہیں سے دھمکیاں مل رہی تھیں.

  • منتظر ہوں  پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    منتظر ہوں پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ بھارت کے جن گروپوں پر تحفظات ہیں، اس حوالےسے حال ہی میں ہم ایف اے ٹی ایف کے سخت عمل سے گزرے ہیں، ایف اے ٹی ایف میں عالمی برادری نے ان گروپوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان کسی گروپ کو ملک کے اندر یا باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کا شکارہے اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 92 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دہشت گردی کے 200 سے زیادہ واقعات پیش آئے، 1200 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، پاکستان میں دہشت گرد حملے رواں برس بھی جاری ہیں، دہشت گردی کے حوالے سے یہ سال پاکستان کی تاریخ میں بدترین سال ہے، میں خود دہشت گردی کا شکار رہا ہوں اور پہلگام دہشت گرد حملے کا درد محسوس کر سکتا ہوں۔

    ان کا کہنا تھاکہ ہمارے خطے میں دہشت گردی کی ایک تاریخ ہے اس میں لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ اور دیگر دہشت گرد گروپ ہیں، سرد جنگ کی وجہ سے پاکستان کی یہ پالیسی تھی کہ ان گروپس کو اس وقت نہ دہشت گرد سمجھا گیا نہ کہا گیا، دہشت گرد کا لفظ نائن الیون کے بعد آیا، اس سے پہلے ایسے گروپوں کو فریڈم فائٹرز کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور افغانستان اور سرد جنگ کے دوران لڑنے والوں کو اسی طرح دیکھا گیا، اُس وقت بھی میری والدہ اور میری جماعت اس بات کی ہم خیال نہیں تھی۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ ہم ماضی سے نہیں بھاگ رہے نہ ہی ماضی کی حقیقتوں کو نظرانداز کررہے ہیں، ماضی میں نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی برادری اور ڈکٹیٹر جنرل ضیا نے اس کوجہاد کے طور پر معاشرے میں پیش کیا، یہ انہوں نے افغانستان میں اپنی جنگ لڑنے کے پیش نظر کیا، ہمیں اپنے ملک میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش، بی ایل اے ان سب کی دہشت گردی کا سامنا ہے، جوکچھ افغانستان میں ہوا برصغیر میں ہونے والی دہشت گردی اس کا نتیجہ ہے، القاعدہ یا وہ تمام گروپ جن کا آپ نے ذکر کیا سب کی جڑیں ماضی میں افغان جہاد میں رہی ہیں، جب افغان جہاد ختم ہوا تو ان گروپوں نے القاعدہ میں جگہ بنائی اور نائن الیون والا حملہ کیا۔

    انہوں نے مزید کہاکہ کچھ گروپوں نے طے کیا کہ وہ افغان جہاد میں جائیں گے، ان گروپوں کا آغاز افغان جہاد سے ہوا اس کے بعد یہ گروپ القاعدہ اور دوسرے گروپوں میں تقسیم ہوئے، ان گروپوں میں وہ بھی شامل ہیں جو کشمیر جہاد میں گئے، جہاد کے نظریے کے تحت پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست میں ان گروپوں کی مخالفت نہیں کی گئی، پاکستانی گروپوں یا پاکستان سےتعلق رکھنے والےان افراد کی افغان جہاد کے لیے عالمی برادری کی طرف سے ٹریننگ کی گئی۔

    ان کا کہنا تھاکہ جیسا کہ میرے والد اور دوسرے کہتے رہے ہیں پاکستان ماضی میں ایک پروسیس سے گزرا ہے جسے بھارت نے نظرانداز کیا، دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کا ایف اے ٹی ایف نے بطور ادارہ تصدیق کر دی ہے، ریکارڈ کے مطابق پاکستان نے دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف 2 ہزار 645 کیسز درج کیے، دہشت گردی کی مالی معاونت کیسز میں پاکستان نے 2 ہزار 727 افراد کو گرفتار کیا، 549 افراد کو سزا دی، پاکستان میں حافظ سعید کو 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت پر 31 برس قید کی سزا دی گئی۔

    ممبئی حملوں کے حوالے سے پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ ممبئی حملوں سے متعلق کیس عدالت میں ہے جس میں بھارت نے معاونت سے انکار کیا،ضروری گواہان کو اب تک پیش نہیں کیا، ممبئی حملوں سے متعلق ہمارے پاس کیس چل رہا ہے بھارت آئے اور اس میں حصہ لے،گواہان پیش کرے، ہم بھی چاہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے متاثرین کو انصاف ملے لہٰذا ضرورت ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان دوبارہ ایسے تعلقات ہوں کہ باہمی تعاون سے ممبئی حملہ متاثرین کو انصاف کی فراہمی ہوسکے۔

    ان کا کہنا تھاکہ ممبئی حملے کے ساتھ میں آپ کو 2007 میں ہونے والا سمجھوتا ایکسپریس حملہ بھی یاد کرانا چاہتا ہوں، سمجھوتا ایکسپریس حملے میں بھارتی سرزمین پر 40 پاکستانی شہریوں کی جانیں گئیں، بھارت میں سمجھوتا ایکسپریس حملے پر نہ کوئی عدالتی کارروائی ہوئی بلکہ اعترافی بیان بھی واپس لے لیا گیا، پاکستان تو کیس بھی چلا رہا ہے حملوں میں ملوث افراد کی سزاؤں کے لیےبھی پُرعزم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت نے اپنے عوام سے جھوٹ بولا کہ پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہے، آج تک بھارت پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ایک ثبوت سامنے نہیں لا سکا، جنگ کے دوران بھارتی حکومت اور بھارت میڈیا نے بھارتی عوام سے جھوٹ بولا، دھوکہ دیا۔

    بھارت کی پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری کا کہناتھاکہ پاکستان میں بھارت کی حمایت سے ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے، بلوچستان میں پکڑے جانے والے بھارتی فوجی افسر کلبھوشن سے تو آپ بھی واقف ہوں گے، حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد حملوں کا ایک سلسلہ جاری رہا ہے اور حالیہ جعفرایکسپریس دہشت گرد حملے کا براہ راست تعلق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی سے ہے۔

    انہوں نے کہاکہ بھارت کی حمایت سے پاکستان میں دہشت گرد حملے ہوئے، میں ثبوت پیش کر سکتا ہوں، بھارتی فوجی افسر کلبھوشن یادیو بلوچستان سے پکڑا گیا، جعفرایکسپریس حملے کا براہ راست بھارتی حساس ادارے کے سہولتکاروں سے تعلق ہے۔

    ان کا کہنا تھاکہ پاکستان اور بھارت نے 2012 میں دہشت گرد گروپوں کی اطلاعات کے تبادلے پر اتفاق کیا تھا، پاکستان کی اطلاعات پر بھارت نے دہشت گردی کے کئی حملوں کو روکا، پاکستان کسی گروپ کو پاکستان کے اندر اور باہر دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیتا، پاکستان کے ہاتھ صاف تھے اس لیے بھارت کو آزاد بین الاقوامی انکوائری کی پیش کش کی لیکن بھارتی حکومت نے پاکستان کی پہلگام تحقیقات کی پیش کش نہیں مانی۔

    بلاول نے مزید کہا کہ ممبئی حملہ کیس بھارت کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہا، بھارت اب تک ممبئی حملہ کیس کے گواہوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے سے انکاری ہے، بھارت چاہے توممبئی حملے کے گواہوں کو آن لائن عدالت میں پیش کر سکتا ہے، دنیا نے دیکھا ہے پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیے، ایف اے ٹی ایف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کا معترف ہے، بھارت کی معتصبانہ سوچ کے بجائے عالمی سطح پر ریکارڈ زیادہ اہم ہے۔اب بھارت 25 کروڑ پاکستانیوں کا پانی بند کرنا چاہتا ہے، بھارتی حکومت گاندھی کےفلسفے کے خلاف چل رہی ہے، بھارتی عوام ڈس انفارمیشن سے بچے، اسکرین پر بیٹھے لوگ بھارتیوں کو نفرت کی طرف دھکیل رہے ہیں، میں نہیں چاہتا پاکستان اور بھارت کی جنریشنز کشمیر، دہشت گردی اور پانی پر لڑتی رہیں۔

    انٹرویو کے دوران بھارتی صحافی بار بار بلاول بھٹو کو جواب دینے سے روکتے رہے، اس پر بلاول نے کہا کہ اگر جواب نہیں سننا تو پروگرام چھوڑ کر چلاجاؤں گا۔

    پی پی چیئرمین کا کہنا تھاکہ مسعود اظہر پاکستان میں نہیں افغانستان میں ہے، اگر مسعود اظہر پاکستان میں ہو تو ہم فوری گرفتار کریں گے، بھارت کو پاکستان سے مزید اقدامات کی توقع ہے تو میڈیا پر پاکستان کے خلاف چیخنے کے بجائے جامع مذاکرات کا حصہ بنے، بھارت جامع مذاکرات کا حصہ بنے گا تو دیگر مسائل پر بھی بات ہوگی، منتظر ہوں کہ پاکستان بھارت جامع مذاکرات کی میز پر بیٹھیں، دہشت گردی ایجنڈے میں شامل ہو، ایف اے ٹی ایف ریکارڈ کے مطابق پاکستان نےجیش محمد اور لشکرطیبہ کے خلاف کارروائی کی ہے، ایف اے ٹی ایف کے تحت لشکر طیبہ، جیش محمد اور ٹی ٹی پی کے ہتھیار ڈالنے والے ارکان بحالی پروگرام کا حصہ بنائے گئے، بطور ریاست پاکستان تبدیل ہوا ہے یہ ایک حقیقت ہےکہ پاکستان میں دہشت گردی کےخطرات اب بھی موجود ہیں، جیسے کہ عراق میں القاعدہ کو شکست دی گئی لیکن وہ داعش کی صورت میں دوبارہ اُبھرے، میں جنوبی ایشیا کو دہشت گردی سے پاک خطہ دیکھنا چاہتا ہوں۔

    بلاول کا کہنا تھاکہ آپ تو ایف اے ٹی ایف پر بھی نہیں یقین کرتے لیکن ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کے اقدامات کی تصدیق کی، بھارت کو تعصب کے بجائے بین الاقوامی برادری کے مؤقف کے ساتھ جانا چاہیے، ماضی کے گروپوں کا نئے گروپوں کی صورت میں سامنے آنا عالمی حقیقت اور خطرہ ہے جس کا ہمیں بھی سامنا ہے، ان گروپوں کے خلاف کارروائیاں کر کے ہم نے عالمی برادری کو مطمئن کر دیا ہے، چاہے پاکستان میں ہو یا بھارت میں دہشت گردی ایک حقیقت ہے۔

  • وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی ملاقات

    وزیراعظم سے ترک وزیر خارجہ اور وزیر دفاع کی ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کے وزیر خارجہ عزت مآب ہاکان فیدان اور قومی دفاع کے وزیر عزت مآب یاسر گلر نے ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف, قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

    ترک وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا ذکر کیا جو مشترکہ تاریخ، ثقافت اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔ انہوں نے دوطرفہ تعلقات کے مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں ترکیہ کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ اس سال کے دوران ترکیہ کے صدر عزت مآب رجب طیب ایردوان کے ساتھ ہوئی اپنی مختلف ملاقاتوں بشمول 17ویں ای سی او سربراہی اجلاس کے دوران حالیہ ملاقات،کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے پاک -ترکیہ تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل کرنے کے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

    نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی مشترکہ صدارت میں مشترکہ کمیشن کے اجلاس کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید بہتر ہوں گے جس سے کثیر جہتی شعبوں میں تعاون کو تقویت ملے گی۔

    اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے لیے اپنی مضبوط اور غیر متزلزل حمایت جاری رکھیں گے، وزیر اعظم نے تیزی سے بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی ماحول بالخصوص غزہ اور ایران کے تناظر میں دونوں فریقوں کے درمیان قریبی روابط کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ حالیہ تنازعہ کے دوران پاکستان کی مستقل حمایت پر ترک قوم اور قیادت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے 5 بلین امریکی ڈالرز کے باہمی متفقہ ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کی دونوں ممالک کی جانب سے ٹھوس کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے ترک کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کا دائرہ بڑھانے کی دعوت دی اور ترکیہ کو پاکستان کی ساختی اصلاحات اور اقتصادی ترقی میں اشتراک کی دعوت دی۔

  • بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت، مالی معاونت کررہا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت، مالی معاونت کررہا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہےکہ بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت اور مالی معاونت کررہا ہے جب کہ ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کوبھارت نے بطورپالیسی پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے۔

    غیر ملکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے مذموم عزائم پاکستان کی سلامتی بالخصوص بلوچستان کو غیرمستحکم کرنے کی منظم سازش ہے، بھارت پاکستان میں دہشتگردکارروائیوں کی حمایت اور مالی معاونت کررہا ہے اور ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کوبھارت نے بطورپالیسی پاکستان کے خلاف اپنایا ہوا ہے، بھارتی سیاسی قیادت متعدد مواقع پر پاکستان میں دہشتگردی کی پشت پناہی کا اعتراف کرچکی ہے، امریکا اور کینیڈا سمیت کئی ممالک بھارتی ریاستی دہشتگردی کا اعتراف کر چکے ہیں، بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ اجیت دوول ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ڈکلئیرڈ ایٹمی طاقت ہے جس کی جوہری صلاحیت ناقابل تسخیر ہے، پاکستان کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے اور کوئی بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنانے کی جرات نہیں کر سکتا، یہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں اور موجودہ علاقائی توازن پر اعتماد کی عکاسی کرتا ہے،پاکستان نے اسلامی ریاست کے خلاف کسی بھی جارحیت کوعلاقائی استحکام کےلیے خطرہ قراردیا ہے، اسلام میں جہاد یا قتال کا اختیار صر ف ریاست کے پاس ہے، جہاد یا قتال کا کسی فرد ، تنظیم یا گروہ کو اختیار نہیں، فتنہ الخوارج کا اسلام، انسانیت ، پاکستان یا پاکستانی روایات سے کوئی تعلق نہیں، خارجیوں کی اصطلاح پاکستانی فوج اور میڈیا میں وسیع پیمانے پر استعمال ہورہی ہے جب کہ فتنہ الہندوستان کی اصطلاح ان دہشتگردوں کے لیے ہے جو بھارتی حمایت یافتہ ہیں، فتنہ الہندوستان خصوصاً بلوچستان میں ملک کو غیرمستحکم کرنےمیں سرگرم ہیں۔

  • نالہ کورنگ میں موٹرسائیکل سوار پانی کے ریلے میں بہہ گیا

    نالہ کورنگ میں موٹرسائیکل سوار پانی کے ریلے میں بہہ گیا

    اسلام آباد: نالہ کورنگ میں بارشوں کے باعث پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک موٹر سائیکل سوار نوجوان پانی کے شدید ریلے میں بہہ گیا۔ واقعے کی تشویشناک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں نالے پر بنائے گئے پُل سے لوگ اپنی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں احتیاط سے گزار رہے ہیں، لیکن نوجوان اچانک پانی کے زور دار بہاؤ میں آ کر غائب ہو گیا۔

    ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ نوجوان کی تلاش کے لیے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ حکام نے نالہ کورنگ کے کنارے موجود کچے مکانوں کو بھی نقصان پہنچنے کی تصدیق کی ہے، اور علاقے میں ممکنہ مزید سیلابی صورتحال سے خبردار کیا ہے۔ریسکیو ٹیموں نے نالہ کورنگ کے قریب رہائش پذیر افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات اختیار کرتے ہوئے نالے سے دور رہیں تاکہ کوئی مزید حادثہ پیش نہ آئے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارش کے دوران نالوں اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں اور حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔

    ماہرین موسمیات کے مطابق رواں ہفتے بھی اسلام آباد میں مزید بارشوں کا امکان ہے جس کی وجہ سے نالہ کورنگ اور دیگر ندی نالوں میں پانی کی سطح مزید بڑھ سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو خاص احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ہنگامی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر رکھا ہے اور ریسکیو ٹیمیں 24 گھنٹے چوکس ہیں۔

  • آصف زرداری پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے، شازیہ مری

    آصف زرداری پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے، شازیہ مری

    مرکزی ترجمان پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرینز شازیہ مری نے صدر آصف علی زرداری استعفی افواہوں پر بیان جاری کیا ہے

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ صدر زرداری کے استعفیٰ کی افواہیں من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی ہیں، پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری نے ثابت کیا ہے کہ ہم کبھی میدان نہیں چھوڑتے، تاریخ گواہ ہے کہ صدرآصف زرداری نے آمریت اور قید کا سامنا کیا لیکن پیچھے نہیں ہٹے،ہمارے اتحادیوں سے اچھے تعلقات ہیں، اور 4 صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اس لیے ایسے کسی سوال کا کوئی جواز نہیں، صدر زرداری وہ واحد سیاستدان ہیں جنہوں نے صدارتی اختیارات پارلیمان کو دئیے، صدر زرداری کی سیاسی بصیرت کے بدولت چاروں اکائیوں کو صوبائی خودمختاری ملی، جب ملک مشکلات میں آیا تو صدر زرداری ہی تھے جنہوں نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا،حقوق بلوچستان ہو یا سوات میں امن و امان کا قیام صدر زرداری کی بدولت ہی ممکن ہوا،صدر آصف علی زرداری ملک کے پہلے سویلین صدر ہوں گے جو اپنی دو صدارتی مدتیں مکمل کریں گے،

  • ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ نہ کرنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    تھانہ روات کے علاقے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں 16 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے باپ نے قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکی کے والد نے اسے موبائل فون پر ٹک ٹاک اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا، تاہم جب لڑکی نے اکاؤنٹ نہ ڈیلیٹ کیا تو والد نے فائرنگ کر کے اسے ہلاک کر دیا۔

    واقعے کے بعد ابتدائی طور پر فیملی نے لڑکی کی موت کو خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی، لیکن پولیس کی جانچ پڑتال کے دوران حقائق سامنے آ گئے۔ پولیس نے موقع واردات سے شواہد اکٹھے کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ایف آئی آر میں درج ہے کہ ملزم نے اپنی بیٹی کو زبردستی اکاؤنٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا، جب کہ لڑکی کے انکار پر اس نے گولی چلا دی۔ واقعے کے بعد ملزم فرار ہو گیا ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی کر رہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی عمر صرف 16 سال تھی اور یہ واقعہ سماجی و خاندانی مسائل کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسے معاملات میں جلد اطلاع دیں تاکہ جان لیوا واقعات کو روکا جا سکے۔

  • بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے، خاتون جاں بحق

    بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے، خاتون جاں بحق

    شمالی وزیرستان سے متصل ضلع بنوں میں مسلح افراد کی جانب سے ڈرون حملے کے دوران ایک خاتون جاں بحق اور تین دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق بنوں کے دو مختلف علاقوں میں ایک ڈرون تھانہ میریان اور دوسرا ڈرون ہوید کے علاقے میں ایک گھر پر گرا، جس کے نتیجے میں یہ جانی و مالی نقصان ہوا۔

    پولیس حکام نے بتایا کہ ڈرون حملہ صبح سویرے کیا گیا، جس میں خاص طور پر تھانہ میریان کے قریب سولر پلیٹس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔پولیس نے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ مسلح افراد کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔ اس واقعے کے بعد فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ حملے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے اور علاقے کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک افراد یا سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں تاکہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • نئی نسل ماضی کے تنازعات نہیں، امن کی راہ چنے گی،بلاول کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو

    نئی نسل ماضی کے تنازعات نہیں، امن کی راہ چنے گی،بلاول کا بھارتی میڈیا کو انٹرویو

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اُن کا بھارتی صحافی کرن تھاپر کو دیا گیا انٹرویو آج جاری کیا جائے گا۔ ہمیں بھارتی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل پر اعتماد ہے، اور اسی یقین کی بنیاد پر بھارتی میڈیا سے مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا۔

    بلاول بھٹو نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا، "میں نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دینے کا فیصلہ اس لیے نہیں کیا کہ وہاں سے کسی غیرجانبدارانہ پلیٹ فارم کی توقع تھی، بلکہ اس لیے کہ مجھے بھارت کے عوام، خاص طور پر نوجوان نسل پر یقین ہے۔”انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کی بات صرف پاکستان کی نہیں، بلکہ یہ دونوں اقوام کا مشترکہ مشن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی نسل کو چاہیے کہ وہ ماضی کی زنجیروں کو توڑے، جنگی جنون اور نفرت کی سیاست کو مسترد کرے، اور مستقبل کو امن، تعاون اور خوشحالی کی بنیاد پر تشکیل دے۔

    بلاول بھٹو نے کہا: "ہم وہ نسل ہوں گے جو تاریخ کی زنجیروں کو توڑے گی، جنگی سوداگر، مایوس کن عناصر اور نفرت پھیلانے والوں کو رد کرے گی۔ ہم دہشتگردی، موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات جیسے اصل چیلنجز کا مل کر مقابلہ کریں گے۔”انہوں نے بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں اقوام کا مستقبل ماضی کے تنازعات کے بجائے پرامن بقائے باہمی، تعاون اور مشترکہ خوشحالی سے عبارت ہوگا۔