Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 9 مئی مقدمہ،دس سال قید کی سزا،اسلام آبادہائیکورٹ کا 4 ملزمان کو بری کرنے کا حکم

    9 مئی مقدمہ،دس سال قید کی سزا،اسلام آبادہائیکورٹ کا 4 ملزمان کو بری کرنے کا حکم

    سانحہ 9 مئی کیس میں دس دس سال قید کی سزا پانے والے پی ٹی آئی کے کارکنان کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کر دیا ہے

    تحریک انصاف کے 9 مئی کے کیسز میں سزا یافتہ 4 ورکرز کو ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس اعظم خان اور جسٹس خادم سومرو نے بری کر دیا،بری ہونے والے ورکرز میں سہیل،شاہ زیب،میرا خان،اکرام خان شامل ہیں
    جنکو 30 مئی کو اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے سزا سنائی تھی

    پی ٹی آئی کے جن چار کارکنوں کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے بری کیا اُن میں دو سے کوئی برآمدگی نہیں تھی، ایک سے پی ٹی آئی کا جھنڈا اور اُسکا ڈنڈا برآمدگی لکھی گئی جبکہ چوتھے سے پی ٹی آئی کی ٹوپی برآمد کی گئی تھی، چاروں میں سے کسی ملزم سے اسلحہ برآمدگی نہیں تھی، کسی پر کوئی مخصوص جرم کرنے کا الزام نہیں پولیس کا کوئی افسر یا اہلکار زخمی نہیں، کسی کی ایم ایل آر نہیں پھر بھی اقدامِ قتل کی دفعہ میں سزا سنائی گئی تھی.

  • 300 روپے کی نسوار چوری،15 پر کال،مقدمہ درج

    300 روپے کی نسوار چوری،15 پر کال،مقدمہ درج

    راولپنڈی کے علاقے ڈھوک بنارس میں نسوار چوری کا ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں صرف 300 روپے مالیت کی نسوار چوری ہونے پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔

    متاثرہ شہری نے پولیس ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے اطلاع دی کہ اس کی 10 پُڑیاں نسوار، جن کی مالیت تقریباً 300 روپے ہے، چوری ہو گئی ہیں۔ یہ واقعہ تھانہ ریس کورس کی حدود میں پیش آیا۔متاثرہ شہری کی کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس موقع پر پہنچی اور ابتدائی تفتیش کے بعد اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے چوری کے اس انوکھے کیس کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث ہے، جہاں شہری اس اقدام کو قانون کی عملداری کی ایک مثال قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ صارفین نے اسے پولیس وسائل کے غیر ضروری استعمال سے بھی تعبیر کیا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ چاہے نقصان کم ہو یا زیادہ، شہریوں کی شکایات پر کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے، اور کسی بھی قسم کی چوری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

  • پیپلز پارٹی  نے عوام سے جو وعدے کیے وہ نبھا رہی ہے،شرجیل میمن

    پیپلز پارٹی نے عوام سے جو وعدے کیے وہ نبھا رہی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر ،وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ٹریفک کے ایشو پر ہمارا موقف ہے کہ انتظامی معاملات سندھ حکومت کا اختیار ہے، کراچی کی 11 سڑکوں پر چنگچی رکشوں پر پابندی عائد کی گئی ہے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت کراچی میں پہلا 50 لاکھ گیلن یومیہ کا ڈی سالینیشن پلانٹ قائم کرنے جا رہی ہے، محکمہ تعلیم سندھ نے 93 ہزار اساتذہ میرٹ کی بنیاد پر سکھر آئی بی اے کے ٹیسٹ کے ذریعے بھرتی کیے ہیں۔حکومت سندھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کے ویژن کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔ شہروں اور دیہات کے درمیان فرق ختم کرنے کے لیے دیہی و پسماندہ علاقوں میں ترقی کے نئے راستے کھولے جا رہے ہیں۔حکومت سندھ نے چار لاکھ سے زائد گھروں کو سولر سسٹمز فراہم کرنے کا عمل شروع کر رکھا ہے، جو تیزی سے جاری ہے۔ اس منصوبے سے نہ صرف بجلی کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ ماحولیاتی آلودگی اور بلوں کے بوجھ میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے عوام سے جو وعدے کیے وہ نبھا رہی ہے، ہمارا مقصد ایک بااختیار، خوشحال اور پائیدار سندھ ہے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ گھوٹکی، قمبر اور گڈانی میں اربوں روپے کے انفرااسٹرکچر منصوبے شروع کیے ہیں جبکہ سمندری پانی کو میٹھا کر کے پینے کے قابل بنانے کیلیے سالینیشن پلانٹ قائم کریں گے، کراچی میں پہلا 5 ایم جی ڈی ڈی سالینیشن پلانٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ہوگا، زراعت اور آبپاشی کے میدان میں نارا کینال کی لائننگ کےلیے 4.29 ارب روپے خرچ ہوں گے، نکاسی آب کے منصوبوں پر 33 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، این ای ڈی یونیورسٹی میں 1.7 ارب لاگت سے 17 منزلہ سائنس و ٹیکنالوجی پارک قائم کیا جا رہا ہے، یہ منصوبہ کویت حکومت کی مالی معاونت سے مکمل ہوگا، پارک مصنوعی ذہانت، آئی ٹی اور سائنسی تحقیق کے فروغ کا مرکز بنے گا، عالمی بینک کے تعاون سے 3.2 ارب ڈالر کے 13 بڑے منصوبے بھی جاری ہیں، بی آر ٹی، سولر انرجی، اربن موبیلیٹی، فلڈ ریزیلینس، صاف پانی، تعلیم اور زراعت شامل ہیں۔

  • گورنر کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے،حکومت کیا گرائیں گے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    گورنر کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے،حکومت کیا گرائیں گے،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کی ان کی حکومت گرانے کی صلاحیت نہیں ہے۔

    پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف سازشیں اور افواہیں بے بنیاد ہیں اور ان کی حکومت مستحکم ہے۔، "گورنر کے پی کونسلر کی سیٹ بھی جیتنا ممکن نہیں، اس لیے وہ حکومت گرانے کی بات کریں تو یہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ سوات میں حالیہ واقعے کی انکوائری جاری ہے اور جہاں جہاں غفلت پائی جائے گی، سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جس سے خیبرپختونخوا بحران کا شکار ہو۔ انہوں نے گورنر اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات کو سازش قرار دینا درست نہیں سمجھا۔عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ "عدم اعتماد ایک آئینی اور قانونی عمل ہے، اور بانی تحریک انصاف خود اس کا سامنا کر چکے ہیں۔”

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان نے بھی وضاحت کی کہ اے این پی خیبرپختونخوا کی حکومت گرانے کے کسی بھی عمل میں شامل نہیں ہوگی اور نہ ہی وہ کسی ہارس ٹریڈنگ کا حصہ بنے گی۔انہوں نے کہا، "کچھ جماعتیں چاہتی ہیں کہ خیبرپختونخوا میں اپوزیشن کی مشترکہ حکومت قائم ہو، لیکن ہم جمہوری لوگ ہیں اور غیر جمہوری طریقے ہماری روایت نہیں۔” انہوں نے گزشتہ روز ایمل ولی اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ملاقات میں ملک کے سیاسی معاملات پر بات ہوئی، لیکن خیبرپختونخوا کی حکومت گرانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی۔

  • تنخواہ میں اضافہ،خواجہ آصف کی تنقید،ایاز صادق نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    تنخواہ میں اضافہ،خواجہ آصف کی تنقید،ایاز صادق نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا

    خواجہ آصف کی مسلسل تنقید اور الزامات پر ا سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے وزیراعظم کو خط لکھا ہے

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپنی تنخواہ کا معاملہ وزیراعظم پر چھوڑ دیا،ایاز صادق کا کہنا تھا کہ تنخواہ کے معاملے سے میرا کوئی تعلق ہے اورنہ ہی دلچسپی،تنخواہ بڑھانے کا فیصلہ وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کا ہے میرا کا نہیں، بے شک میری تنخواہ مت بڑھائیں مگر میرا اس معاملے سے لینا دینا نہیں،اسپیکر ایاز صادق نےوزیردفاع خواجہ آصف کے الزامات کا جواب دینے سے گریز کیا،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نےخط میں بڑھی ہوئی تنخواہ لینے سے بھی انکار کر دیا

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نےکہا تھا کہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، چیئرمین سینیٹ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تنخواہ اور مالی مراعات میں بے تحاشہ اضافہ مالی فحاشی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی کی زندگی کو ذہن میں رکھیں۔ ہماری تمام عزت و آبرو اس کی مرہون منت ہے۔

  • لاہور قلندر اور  اینٹی نارکوٹکس فورس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

    لاہور قلندر اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

    نوجوانوں کو منشیات کی لعنت سے چھٹکارا دلانے اور اس سے متعلق آگاہی کیلئےپاکستان سپر لیگ کی فرنچائز لاہور قلندرز اور اینٹی نارکوٹکس فورس پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے گئے۔

    مفاہمتی یادداشت کے مطابق لاہور قلندرز اور اینٹی نارکوٹکس فورس مل کر نوجوانوں میں منشیات کے خلاف آگاہی کے لیے کام کریں گے اور لاہور قلندرز کھیلوں کی سرگرمیوں اور آگاہی مہم کے ذریعے منشیات کے استعمال کے خلاف جہاد کریں گے۔ کمانڈر ریجنل ڈائریکٹوریٹ اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب اور رانا عاطف سی ای او لاہور قلندرز کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے۔

  • خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان

    خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان

    خیبر پختونخوا حکومت کا ایک اور تجربہ ناکام، محکمہ سیاحت کو 9 کروڑ 98 لاکھ کا نقصان اٹھانا پڑ گیا۔

    صوبے میں 33 سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو 3 سال کے دوران آؤٹ سورس نہیں کیا گیا، محکمہ سیاحت کوسرکاری ریسٹ ہاؤسز آؤ ٹ سورس نہ کرنے سے 9 کروڑ 98 لاکھ روپے کانقصان ہوا۔دستاویزات کے مطابق سرکاری ریسٹ ہاؤسز کو آؤٹ سورس نہ کرنے سے 6 کروڑ 68 لاکھ روپے نقصان ہوا جبکہ ریسٹ ہاؤسز کی مرمت پر 3 کروڑ 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

    خیبر پختونخوا حکومت نے 2022 میں سرکاری ریسٹ ہاؤ سز آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا تھا، مشیر سیاحت خیبرپختونخوا زاہد چن زیب تمام ریسٹ ہاؤسز متعلقہ اداروں کو واپس کیے گئے ہیں۔مشیر سیاحت خیبر پختونخوا نے کہا کہ ریسٹ ہاؤ سز واپس کرنے کا فیصلہ کابینہ نے کیا، انہوں نے سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان پر بات کرنے سے گریز کیا۔

  • معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم ناگزیر ہے : وزیراعظم

    معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم ناگزیر ہے : وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کیش لیس و ڈیجیٹل معیشت کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس، اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

    اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معیشت میں شفافیت لانے کے لیے ڈیجیٹل ٹرانزیکشن سسٹم ناگزیر ہے؛ شہریوں اور کاروباری اداروں کے درمیان ادائیگیوں کو آسان بنانے، ڈیجیٹل سسٹم کےاستعمال کے بارے میں آگاہی بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ کیش لیس اکانومی کے حوالے سے قائم کردہ کمیٹیاں تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر قابل عمل تجاویز پیش کریں۔

    وزیر اعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پچھلے اجلاس قائم کی گئی ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کمیٹی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کمیٹی اور گورنمنٹ پیمنٹس کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہیں۔ اجلاس میں ڈیجیٹل پیمنٹس انوویشن اینڈ ایڈوپشن کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹیوں نے معیشت کی ڈیجیٹایزیشن کے حوالےسے تجاویز اور حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان تاجروں کے لئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہء کار کو آسان اور سہل بنانے کے لئے حکمت عملی ترتیب دی رہا ہے ۔ڈیجیٹل ادائیگیوں میں چھوٹے کاروباروں کی حوصلہ افزائی اور شمولیت کے لئے سہل پیکج متعارف کرایا جائے گا ۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے موبائل فون ایپلی کیشنز استعمال کرنے والوں کی تعداد 95 ملین سے 120 ملین تک لے جانے کا ہدف ہے ۔ کیو آر کوڈ استعمال کرنے والے تاجروں کے تعدد 0.9 ملین سے 2 ملین تک لے جانے کا ہدف ہے۔ مجموعی ڈیجیٹل ادائیگیوں کو 7.5 بلین روپے سے 12 بلین روپے تک بڑھایا جائے گا۔ وزیر اعظم نے ان تمام اہداف کو دگنا کرنے کی ہدایت کی۔

    اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشنل پاکستان کے حوالے سے ڈیجیٹل اکانومی پراجیکٹ شروع ہو چکا ہے ۔اسلام آباد سٹی موبائل فون ایپلی کیشن کے اب تک 1.3 ملین ڈاؤن لوڈز ہیں جبکہ اس ایپلی کیشن پر 15 سروسز دستیاب ہیں ۔ اسلام آباد سٹی ایپ کے ذریعے آئی سی ٹی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی مد میں 15.5 بلین روپے جمع کئے جا چکے ہیں ۔ڈیجیٹل پاکستان آئی ڈی منصوبے کی تکمیل کے لئے تیزی سے کام جاری ہے ۔اسلام آباد میں ای-اسٹیمپنگ کی سہولت جلد متعارف کروائی جا رہی ہے۔اسلام آباد بھر ، خصوصاً اسپتالوں، تعلیمی اداروں ، سرکاری دفاتر ، پارکس اور میٹرو بس لائینز پر وائی فائی انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے کام جاری ہے ۔ وزیر اعظم نے یہ تمام سہولیات تمام وفاقی علاقے، آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی متعارف کروانے کے احکامات دئے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ ، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • سانحہ سوات، انکوائری کمیٹی کے چئیرمین کا عدالت میں کوتاہیوں کا اعتراف

    سانحہ سوات، انکوائری کمیٹی کے چئیرمین کا عدالت میں کوتاہیوں کا اعتراف

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے سانحہ سوات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سوال کیا کہ کیا سانحہ سوات کی تحقیقات مکمل ہو چکی ہے؟

    ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ تحقیقات چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم کر رہی ہے،چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ چیئرمین صوبائی انسپکشن ٹیم کو بلائیں، پھر کیس کو سنتے ہیں،دوران سماعت چیئرمین انسپکشن ٹیم نے کہا کہ سوات کا دورہ کیا ہے، تحقیقات جاری ہیں، مختلف محکموں کی کوتاہی سامنے آئی ہے،چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ غفلت برتنے والوں کا تعین جلد کیا جائے، ہزارہ میں سیاحوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ دفعہ 144 نافذ ہے، تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ سیاحوں کو محفوظ ماحول اور سیکیورٹی فراہم کریں، میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں کیا انتظامات ہیں؟،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ نتھیا گلی اسپتال میں اضافی عملہ تعینات کیا ہے،جسٹس فہیم ولی نے کہا کہ سوات واقعے کے بعد ایمرجنسی رسپانس کے کیا انتظامات ہیں،آر پی او ہزارہ نے کہا کہ پولیس اور ریسکیو آپس میں کوآرڈینیشن میں ہیں،عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو کیا ڈرون سے فوری ریسپانس ممکن ہے،کمشنر ہزارہ نے کہا کہ ڈرون حاصل کیے ہیں جو لائف جیکٹس پہنچا سکتے ہیں۔

    چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ڈرونز کو ٹیسٹ کریں، کہیں عین وقت پر ناکام نہ ہوں، آزمائشی مشق کریں، دیکھیں کتنی دیر میں ایمرجنسی میں پہنچ سکتے ہیں، کمشنر مالاکنڈ اور آر پی او رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں، سانحہ سوات سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ بھی پیش کریں۔

  • داماد  نے گولیاں چلا دیں، سسر سمیت تین کی موت

    داماد نے گولیاں چلا دیں، سسر سمیت تین کی موت

    کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن مومن آباد میں خاندانی تنازعہ خونریز تصادم میں تبدیل ہو گیا، جہاں داماد نے سسرالیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس افسوسناک واقعے میں سسر سمیت تین افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب مقتول غوث الدین عرف عمران اپنے رشتے داروں کے ہمراہ اپنی بیٹی کے گھر آیا ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق گھر میں کسی پرانے خاندانی جھگڑے پر بحث و تکرار شروع ہوئی جو شدت اختیار کر گئی۔اسی دوران مقتول عمران کا داماد حمید، اس کا بھائی رحمت، والد شاہجہان اور ایک رشتے دار نے مل کر فائرنگ شروع کر دی۔ اچانک ہونے والی اس فائرنگ کے نتیجے میں غوث الدین عرف عمران، گل بخت خان اور امین موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث ملزمان میں سے دو شاہجہان اور ایک رشتے دار کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مرکزی ملزم حمید اور اس کا بھائی رحمت جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق جائے واردات سے ایک پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے، جسے فرانزک کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ فائرنگ میں استعمال ہونے والے ہتھیار کی تصدیق ہو سکے۔ایس ایس پی ویسٹ کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں، اور پولیس کو امید ہے کہ جلد ہی مفرور ملزمان حمید اور رحمت کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک حرکت کی فوری اطلاع پولیس کو دیں۔