Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے۔ پاکستان سلامتی کونسل کی آٹھویں مدت (2025–26) کے دوران صدر منتخب ہوا۔

    محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر، عالمی قانون اور کثیرالجہتی اصولوں کے لیے پُرعزم ہے۔ عالمی تنازعات اور انسانی بحرانوں کے تناظر میں پاکستان کی قیادت ایک اہم موقع پر سامنے آئی ہے، پاکستان سلامتی کونسل کو مؤثر، بامعنی اور سفارت پر مبنی فیصلوں کی طرف لے جانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس موقع پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کے درمیان تعاون پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،امن و سلامتی، تنازعات کے حل اور کثیرالجہتی عالمی نظام پر اہم دستخطی تقریبات پاکستان کی زیرصدارت ہوں گی۔ فلسطین کے مسئلے پر سہ ماہی کھلے مباحثے کی صدارت بھی پاکستان کرے گا،پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ متوازن اور مؤثر نتائج کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔

  • کراچی میں ٹرمپ کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی میں ٹرمپ کیخلاف مقدمہ کی درخواست

    کراچی کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے عالمی قوانین و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اورایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کرلیے۔

    کراچی سٹی کورٹ میں قائم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں عالمی قوانین و جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اورایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمے کے اندراج کی درخواست دائر کی گئی،درخواست وکیل جمشید علی خواجہ کی جانب سے دائر کی گئی جس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ایس ایس پی ساؤتھ اور ایس ایچ او ڈاکس کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بطور ملزم نامزد کیا گیا ہے،درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مسلسل مجرمانہ سرگرمیوں، عالمی قوانین اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شکایت کی، کراچی پولیس کے مختلف اعلیٰ افسران کو شکایتی درخواستیں دیں مگر درخواست پر نہ تو ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی بیان ریکارڈ کیا گیا،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے عالمی امن کو خطرے میں ڈالا گیا بلکہ کروڑوں مسلمانوں اور ہزاروں وکلا کو جسمانی، ذہنی و مالی نقصان پہنچا، پولیس کو سیکشن 154 سی آر پی سی کے تحت بیان ریکارڈ کرکے مقدمہ اندراج کا حکم دیا جائے،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے درخواست سماعت کیلئے ایڈیشنل سیشن عدالت منتقل کردی۔ ایڈیشنل سیشن عدالت نے درخواست پر اختیارات اور حدود سے متعلق دلائل طلب کرلیا اور درخواست گزار کے وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی ہدایت کردی،عدالت نے درخواست کی مزید سماعت جولائی تک ملتوی کردی۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نیا مالی سال 2025-26ء کے آغاز پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح اضافہ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 8 روپے 36 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت صارفین کو نافذ کی جائے گی، جس کے باعث گاڑیوں کے ایندھن کا مہنگا ہونا یقینی ہے۔اسی طرح، ڈیزل کی قیمت میں بھی 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر کا اضافہ نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ ڈیزل پر یہ اضافہ خاص طور پر ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کو متاثر کرے گا کیونکہ ڈیزل پر چلنے والے گاڑیوں اور مشینری کی لاگت بڑھ جائے گی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ملک میں مہنگائی کی موجودہ شرح کو مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھنے کے باعث عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

  • بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان،سیلابی ریلوں میں دو روز میں 5 افراد کی موت

    بلوچستان میں گزشتہ 2 روز کے دوران مون سون بارشوں کے باعث سیلابی ریلوں میں بہہ جانے اور ڈیم میں ڈوبنے کے واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    بلوچستان میں مون سون کا آغاز 26 جون سے ہوا، صوبے کے متعدد اضلاع لسبیلہ، حب، بارکھان، ژوب، ہرنائی اور ڈیرہ بگٹی میں موسلا دھار بارشیں ہوئیں، ژوب میں سیلابی ریلے میں بہہ جانے سے ایک ہی خاندان کی 3 خواتین اور ایک لڑکی سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے،ادھر زیارت کے علاقے زڑگئی میں ڈیم میں ڈوبنے سے ایک خاتون جاں بحق ہوئی اور 2 خواتین کو بروقت ریسکیو کرلیا گیا، اسی طرح ہرنائی کے علاقے کھوسٹ میں سیلابی ریلے میں پھنسے 3 افراد کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا،پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے زرعی اراضی اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا، خضدار میں 10 مکانات جب کہ زیارت میں ایک اسکول سمیت 2 عمارتیں گرگئیں، بارشوں سے کوئٹہ اور لسبیلہ میں 2 پلوں کو بھی جزوی نقصان پہنچا،محکمہ موسمیات نے 4 جولائی سے مون سون کے ایک اور اسپیل کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال مون سون کے دوران معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں۔

  • یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین اور پرتگال میں درجہ حرارت نئی بلندیوں کو چھو گیا

    یورپ شدید گرمی کی لپیٹ میں، اسپین اور پرتگال میں درجہ حرارت نئی بلندیوں کو چھو گیا

    یورپ اس وقت تاریخ کی بدترین گرمی کی لہر کی زد میں ہے، جس کے باعث درجہ حرارت کئی ممالک میں ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا ہے، جنگلات میں آگ بھڑک اُٹھی ہے، درجنوں اسکول بند ہو چکے ہیں اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

    اسپین کے صوبہ ہُیلوہ کے علاقے ال گرانیڈو میں ہفتے کے اختتام پر درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا، جو کہ جون میں اسپین کا اب تک کا سب سے زیادہ درجہ حرارت ہے۔ اس سے قبل 1965 میں سیویل میں 45.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہوا تھا۔پرتگال کے شہر مورا میں اتوار کو 46.6 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔ ملک کے سات علاقوں بشمول دارالحکومت لزبن کو مسلسل دوسرے دن "ریڈ الرٹ” پر رکھا گیا ہے۔ فائر بریگیڈ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے اور جنگلاتی علاقوں میں شدید خطرات لاحق ہیں۔ عوام کو دن کے گرم ترین اوقات میں گھروں سے نہ نکلنے کی تاکید کی گئی ہے۔

    برطانیہ میں بھی گرمی کی شدت معمولات زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ جنوب مشرقی انگلینڈ میں پیر کو درجہ حرارت 34 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا۔ ویمبلڈن میں ٹینس ٹورنامنٹ کے دوران درجہ حرارت ریکارڈ 29.7 ڈگری رہا، جو کہ اس ایونٹ کی تاریخ کا سب سے گرم آغاز ثابت ہوا۔ویمبلڈن میں عالمی چیمپئن کارلوس الکاراز کے میچ کے دوران ایک تماشائی گرمی کے باعث بے ہوش ہو گیا، جسے کرسی پر اٹھا کر باہر لے جایا گیا۔ یہ واقعہ میچ میں 15 منٹ کا وقفہ بھی بن گیا۔

    برطانیہ بھر کے ساحلی علاقوں میں لوگ گرمی سے بچاؤ کے لیے اُمڈ آئے۔ برائٹن اور بورن ماؤتھ کے ساحلوں پر معمول سے کہیں زیادہ بھیڑ دیکھی گئی۔ سڑکوں پر بھی ٹریفک جام معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

    یونان کے شہر اسکالا، میسینیا میں درجہ حرارت 43 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا۔ جنوبی ایتھنز کے قریب جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی۔ جمعے کے روز یونانی جزیرے کارپاتھوس پر 55 سالہ برطانوی سیاح لاپتہ ہو گیا جس کی تلاش تاحال جاری ہے۔

    فرانس کے شہر آؤدے، ٹولوز کے قریب، 400 ہیکٹر زمین پر مشتمل جنگلات میں آگ لگ گئی، جس کا سبب ایک غیر مکمل طور پر بجھا ہوا باربی کیو بتایا جا رہا ہے۔ ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ فرانس کی ماحولیاتی وزیر اگنیس پنیے-روناشر کے مطابق ملک کے 96 میں سے 84 علاقوں میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔فرانس میں 4 کروڑ 40 لاکھ افراد ایسی شہری جگہوں میں مقیم ہیں جنہیں ہیٹ آئی لینڈز کہا جاتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں عمارتیں، سڑکیں اور کنکریٹ درجہ حرارت کو بڑھا دیتے ہیں، اور یہاں کی گرمی دیہی علاقوں کی نسبت 4 سے 12 ڈگری سیلسیس زیادہ ہو سکتی ہے۔

    شدید گرمی کے باعث یورپ بھر میں تقریباً 200 اسکول بند یا جزوی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ بچوں، بزرگوں اور مزدور طبقے کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ خاص طور پر کھلی جگہوں پر کام کرنے والوں کو سایہ دار جگہوں پر وقفے اور پانی پینے کی ہدایت کی گئی ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے لندن، مشرقی انگلینڈ، ساؤتھ ویسٹ، ساؤتھ ایسٹ اور مڈلینڈز میں ایمبر ہیٹ الرٹ جاری کر دیا ہے، جو منگل شام 6 بجے تک مؤثر رہے گا۔ ماہرین کے مطابق منگل کو جنوب مشرقی علاقوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں ایسی شدید اور جان لیوا گرمیوں کا تسلسل مستقبل میں مزید بڑھے گا، جس سے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ ماحولیات، معیشت اور زرعی شعبے پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

  • بچوں کے معروف ادیب اظہر عباس کی وفات،اپووا کا اظہار افسوس

    بچوں کے معروف ادیب اظہر عباس کی وفات،اپووا کا اظہار افسوس

    بچوں کے معروف ادیب اور نوے کی دہائی سے لے کر موجودہ دور تک ادبِ اطفال کی مختلف تحریکوں کے روح رواں، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز چائلڈ رائٹر اظہر عباس طویل علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر تقریباً 65 برس تھی۔

    اظہر عباس ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کی شدید تکلیف میں مبتلا تھے اور کئی ماہ سے صاحبِ فراش تھے۔ ان کے انتقال کی خبر نے نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر کے ادبی و تعلیمی حلقوں کو افسردہ کر دیا۔ وہ بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک پہچانا ہوا نام تھے جنہوں نے کئی دہائیوں تک بچوں کے لیے تخلیقی اور تعلیمی مواد تخلیق کیا۔ ان کی تحریریں نہ صرف معصوم ذہنوں کی تربیت کرتی تھیں بلکہ ان میں اخلاقی اقدار اور حب الوطنی کا جذبہ بھی اُجاگر کرتی تھیں۔

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) کے بانی صدر ایم ایم علی، سینئر وائس چیئرمین ملک یعقوب اعوان، خواتین ونگ کی سینئر نائب صدر سلمیٰ کشم، سیکرٹری جنرل مدیحہ کنول، نائب صدر حافظ محمد زاہد، سفیان علی فاروقی، اسلم سیال، صدر خواتین ونگ خیبر پختونخوا فائزہ شہزاد،جنرل سیکرٹری خواتین ونگ خیبر پختونخوا ناز پروین،ضلع چکوال سے اپووا کوآرڈینیٹر فیضان شیخ، سیالکوٹ سے خرم میر، قصور سے طارق نوید سندھو، کلرکہار سے اعجاز الحق عثمانی ،ڈی جی خان سے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی اور دیگر اراکین نے اظہر عباس کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئےاظہر عباس کی وفات کو بچوں کے ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ ان کی علمی و ادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،اظہر عباس کی وفات ایک چراغِ علم کے بجھنے کے مترادف ہے۔ ان کا تخلیقی سرمایہ نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ بنا رہے گا۔

  • جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں؟ اسرائیلی طرز پر بھارت کے فوجی عزائم بے نقاب

    بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ، ایک خاموش ڈرون حملے سے جنوبی ایشیا میں جنگ چھڑ سکتی ہے

    بھارت کی جانب سے جدید اور مہلک ہتھیاروں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور ایران پر حالیہ اسرائیلی حملے جیسے ماڈل کو اپنانے کی رپورٹس سے خطے کے امن و استحکام پر سوالیہ نشان لگ گیاہے۔خبررساں ادارے کے مطابق ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت اپنی دفاعی پالیسی میں جارحانہ تبدیلی لا رہا ہے اور اسرائیلی ماڈل کو ایک مؤثر حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہا ہے جس کے تحت حملے کا جواز پیدا کر کے کارروائی کی جاتی ہے۔گزشتہ چند برسوں میں بھارت نے اسرائیل ، فرانس اور روس سمیت مختلف ممالک سے اربوں ڈالر کا جنگی ساز و سامان خریدا ، جن میں فرانس سے 9 ارب ڈالر کے 36 رافیل طیاروں کی خریداری ، روس سے 5.4 ارب ڈالر کا S-400 دفاعی نظام کا معاہدہ ، اسرائیل سے بارک 8-میزائل سسٹم ، ہیرن و ہیرپ ڈرونز ، نائٹ وژن اور دیگر دفاعی آلات شامل ہیں۔حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران بھارت نے اسرائیلی کارروائی کو سراہا جس کے بعد خطے میں بھارت کی نیت اور عزائم پر عالمی سطح پر تشویش پیدا ہوئی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی یہ تیاری ممکنہ طور پر کسی بڑی علاقائی چال یا کارروائی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق ”موساد” اور ”را” کے درمیان انٹیلی جنس تعاون بھی اسرائیلی ماڈل کو اپنانے کی حکمت عملی کا حصہ نظر آ رہا ہے۔2019ء کے پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے اسرائیل سے متاثر ہو کر پیشگی حملے کی حکمت عملی اپنائی۔ بالاکوٹ میں فضائی حملہ اور بعدازاں 2025ء میں آپریشن سندور جیسی بزدلانہ جارحیت اسی پالیسی کا حصہ ہیں اور بھارت اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے آگے بھی اسرائیل کی مدد سے پاکستان کے خلاف جارحیت کا ارادہ رکھتا ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خدشات میں بھارت کی اسرائیل سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور AWACS اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کا حصول نمایاں ہیں۔ بھارت کی پیشگی حملے کی پالیسی اور اسرائیلی ماڈل کی تقلید خطے بالخصوص جنوبی ایشیاء کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔ بھارت اور اسرائیل کے درمیان 2015ء سے 2025ء کے دوران دفاعی شراکت داری میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالرز کے دفاعی معاہدے طے پائے جن میں جدید ہتھیاروں کی خریداری ، مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ شامل ہیں۔ اس شراکت داری کا مرکز فوجی صلاحیتوں میں اضافہ اور مشترکہ مذموم عزائم کا تحفظ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے اسرائیل کے ساتھ کئی اہم دفاعی منصوبوں پر کام کیاہے جن میں بارک-8 طویل فاصلے کے فضائی دفاعی میزائل ، اسپائیڈر ایئر ڈیفنس ، اسپائیک اینٹی ٹینک میزائل ، ہیرون UAVs اور ہاروپ ڈرونز کا حصول شامل ہیں۔ فضائی صلاحیت کے اضافے کے لیے بھی بھارت نے اسرائیلی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا۔ EL/W-2090 ریڈار سے لیس فالکن AWACS طیاروں کی خریداری سے بھارت ممکنہ فضائی خطرات کا جواب دینے کی تیاری میں مصروف ہے ۔ بھارت کی کئی دفاعی کمپنیاں جیسے HAL ، بھارت فورج ، ٹاٹا اور اڈانی گروپ نے اسرائیلی اداروں کے ساتھ مل کر ڈرون ، توپ خانے ، گائیڈڈ گولہ بارود اور الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز کی مشترکہ پیداوار شروع کی ہوئی ہے۔ اس سے بھارت کی دفاعی خودانحصاری میں مزید اِضافہ ہو رہا ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ میزائل اور فضائی دفاع کے میدان میں بھارت نے روسی S-400 نظام خریدا ، جبکہ اسرائیلی بارک-8 کو مقامی سطح پر تیار کیا گیا۔ دونوں نظام بری اور بحری پلیٹ فارمز پر نصب کیے گئے۔ اسرائیل سے ملنے والے ہتھیار جیسے ڈربی ، پائیتھن میزائل اور اسپائس بم بھارت نے کنٹرول لائن پر بھی استعمال کیے۔ڈرون ٹیکنالوجی میں بھارت نے اسرائیل سے ہیرون ، سرچر Mk-II اور ہاروپ جیسے ڈرون حاصل کیے۔بھارت کی دفاعی پالیسی صرف اسرائیل تک محدود نہیں رہی۔ فرانس سے رافیل لڑاکا طیارے ، روس سے S-400 سسٹمز اور امریکہ سے MQ-9B ڈرونز اور میزائل سسٹمز حاصل کر کے بھارت نے کئی محاذوں پر دفاعی تیاری کو بہتر کیا۔ اسرائیلی ، روسی اور فرانسیسی ٹیکنالوجی کا امتزاج بھارتی فوج کو جدید ہتھیاروں سے مسلسل لیس کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر وارفئیر ، ڈرون حملے اور چہرے کی شناخت جیسے جدید آلات بھارت نے اسرائیل سے سیکھ کر اپنی حکمت عملی میں شامل کیے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان بھی بھارت کی بدلتی حکمت عملی کے جواب میں اپنی تیاریاں تیز کر رہا ہے ، خاص طور پر سائبر کمانڈ اور ڈرون ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن پر توجہ دی جا رہی ہے اور دفاعی شعبے کی ٹیکنالوجی کو بڑھانا وقت کا تقاضا ہے ۔ یہ ساری پیش رفت جنوبی ایشیاء میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر رہی ہے۔ مستقبل کی جنگ روایتی طرز پر نہیں بلکہ غیر اعلانیہ، ٹیکنالوجی پر مبنی اور ممکنہ طور پر ایک خاموش ڈرون حملے سے شروع ہو سکتی ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، مگر کسی بھی جارحیت کا سخت، مربوط اور فیصلہ کن جواب دینے کے عزم پر قائم ہے۔

    پاکستان کے سکیورٹی ادارے بھارت کے ہر قدم پر نظر رکھے ہوئے ہیں اورانہوں نے واضح کیا ہے کہ وطن عزیز کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور قومی سلامتی پر کسی بھی قیمت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

  • گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے، گورنر کے پی

    گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے، گورنر کے پی

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے ہمراہ ڈسکہ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پر 13 سال سے نااہل حکومت مسلط ہے ،

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ سوات واقعہ کا مقدمہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کیخلاف درج ہونا چاہیے،،صوبائی حکومت کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے ، علی امین گنڈا پور میں اخلاقی جرات ہوتی تو اب تک استعفیٰ دے چکے ہوتے ، پی ٹی آئی حکومت نے صوبے کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ہے؛سوات واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں ، سوات واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کابیان افسوسناک ہے ، سانحہ سوات کے متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، اگر صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ چاہتی تو آدھے گھنٹے میں ہیلی کاپٹر آسکتا تھا ،

  • 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق  ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر  ریسکیو

    27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا،سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو

    سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو نے سوات واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی کو بیان قلمبند کرا دیا ہے

    سرکاری ذرائع کے مطابق سابق ڈی ای او ریسکیو نے ریکارڈ اور شواہد بھی کمیٹی کو جمع کرادیے، فوٹیجز، عملہ اور گاڑیوں کا ریکارڈ انکوائری کمیٹی کو فراہم کیا گیا،کمیٹی نے سابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سے سوال کیا کہ قیمیتی جانیں کیوں نہ بچائی جاسکیں؟ اس پر سابق ریسکیو آفیسر نے جواب دیاکہ ڈوبنےوالوں کو بچانےکی ہر ممکن کوشش کی، خوازخیلہ پل کےمقام پر پانی کا بہاو77 ہزار کیوسک سےتجاوز کرگیا تھا، 9 بج کر 49 منٹ پرشہری کی کال ملی کہ ہوٹل میں بچے پھنسے ہوئے ہیں، 10 بج کر4 منٹ پر ریسکیو میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچی، 15منٹ میں غوطہ خور اور ٹیوب کشتی سےسیاحوں کوبچانےکی کوشش شروع کی، واقعے کی جگہ پر پانی کا بہاؤ بہت تیز اور زیادہ تھا، 40 سے 45 منٹ میں جوکرسکتےتھے، ہم نےکیا، 3 سیاحوں کو ریسکیوکیا، سوات واقعے سے قبل 2 ایمرجنسی آپریشن مکمل کرکے سیاحوں کو محفوظ مقامات تک پہنچایا، 27 جون کو 8 مقامات پرآپریشنز کرکے107 سیاحوں کوریسکیوکیا۔

    دوسری جانب سوات میں تجاوزات کے خلاف ضلعی انتظامیہ کا گرینڈ آپریشن جاری ہے، بائی پاس اور فضاگھٹ پر اب تک 26 ہوٹل او ریسٹورنٹس کےخلاف کارروائی کی جاچکی ہے، متاثرہ فیملی نے دریاک ے کنارے جس ہوٹل پر ناشتہ کیا تھا وہ ہوٹل بھِی گرادیاگیا،ضلعی انتظامیہ کے مطابق سنگوٹہ تک 49 ہوٹلز اور ریسٹورنٹس کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں دریائے سوات میں سیلابی ریلے میں طغیانی کے باعث بہنے والے17 افراد میں سے ایک بچہ تاحال نہ مل سکا، بچے کو ڈھونڈنے کیلئے ریسکیو آپریشن چوتھے روز بھی جاری ہے .

  • ویتنام، ایئر پورٹ پر دو طیاروں کے ٹکراؤ کے بعد 4 پائلٹس معطل

    ویتنام، ایئر پورٹ پر دو طیاروں کے ٹکراؤ کے بعد 4 پائلٹس معطل

    ہنوئی: ویتنام کی ایئر لائنز نے 27 جون کو دارالحکومت ہنوئی کے نوئی بائی ایئر پورٹ پر پیش آنے والے ایک سنگین حادثے کے بعد اپنی چار پائلٹس کو معطل کر دیا ہے۔

    یہ واقعہ تب پیش آیا جب ایک بوئنگ 787 طیارے کو ہوچی منہ سٹی کی فلائٹ کے لیے رن وے پر ٹیک آف کے دوران ٹیکسیئنگ کی جا رہی تھی۔حادثہ دن دو بجے پیش آیا جب ایک بوئنگ 787 طیارہ رن وے پر اپنی جگہ پر حرکت کر رہا تھا کہ اچانک اس کی دُم دوسرے طیارے کے پر سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے نے مسافروں اور عملے کے درمیان شدید خوف و ہراس پھیلا دیا۔ایئرلائن کے حکام نے بتایا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر چار پائلٹس کو معطل کر دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داروں کی نشاندہی کی جا سکے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    ویتنام ایئر لائنز نے مسافروں کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرپورٹ سیکیورٹی اور فلائٹ آپریشنز کے معیارات کو مزید سخت کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔یہ واقعہ گزشتہ جمعہ کو پیش آیا، جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ حادثہ ہوابازی کے معیار اور ایئرپورٹ کے آپریشنز میں احتیاط کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ویتنام کی ایئر لائنز کے حکام نے وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ آئندہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔