Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ، گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری

    بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ، گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری

    بھارتی آبی جارحیت خطےکیلئے خطرہ: گنگامعاہدہ معطل کر کےبنگلہ دیش کاپانی روکنےکی تیاری کر رہا ہے

    پہلگام حملے کو جواز بنا کر جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے پورے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کردیا ہے ،سندھ طاس معاہدہ معطلی کے بعد اب بھارت نےبنگلہ دیش سے گنگامعاہدے پرنظرثانی کافیصلہ کرلیا،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق "1996 کا بھارت -بنگلہ دیش گنگا معاہدہ 30 سال مکمل ہونےپر 2026 میں ختم ہونے والاہے”گنگا معاہدے کی شق نمبر 12 کے مطابق اس معاہدے کی تجدید دونوں فریقین کی باہمی رضامندی سے کی جائے گی،گنگامعاہدے کے مطابق خشک موسم خصوصاَ فرکا بیراج کے اطراف میں پانی کی تقسیم کو منصفانہ بناناتھا ، بھارت نے بنگلہ دیش کو آگاہ کیا ہے کہ ترقیاتی ضروریات کیلئے زیادہ پانی درکار ہے،
    بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق "پہلگام حملے سے پہلے بھارت گنگا معاہدہ 30 سال بڑھاناچاہتا تھا، مگر حالات یکسر بدل گئے”

    بھارت کے یکطرفہ فیصلے پر بنگلہ دیش نےتشویش کا اظہار کیاہے،جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی آبی جارحیت جنوبی ایشیامیں ایک نئے بحران کو جنم دے سکتی ہے،

  • ایران کے قطر میں میزائل حملے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش

    ایران کے قطر میں میزائل حملے اپنی قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش

    ایرانی میزائل حملے ناکام، امریکی اور قطری فضائی دفاع نے ناکارہ بنا دیا

    ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے کسی بڑے نقصان کا سبب نہیں بنے کیونکہ امریکی اور قطری فضائی دفاعی نظاموں نے تمام میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے غالباً ہائپرسونک میزائل استعمال نہیں کیے تاکہ کسی قسم کے جانی نقصان سے بچا جا سکے اور یہ حملہ ایک علامتی جواب تھا جس کا مقصد اپنے شہریوں کے درمیان حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیلیوں نے انڈینز کے ذریعے بلوچ، ایرانی اور پاکستانیوں کو اندرونی مسائل پیدا کرنے کے لیے کہا ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس صورتحال میں سفارتی راستے ہی بہترین حل ہیں تاکہ خطے میں امن قائم رہے اور کسی بھی قسم کے عسکری تصادم سے بچا جا سکے۔ امریکہ اور قطر کی جانب سے بروقت حفاظتی اقدام نے حالات کو کشیدگی سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

  • صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی،ایرانی میڈیا

    صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی،ایرانی میڈیا

    ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ بندی کا اعلان کر دیا ،

    سی این این کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ دشمن پر جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے،جنگ بندی امریکی جارحیت کے جواب میں فوجی ردعمل کے بعد کی گئی،امریکی جارحیت کے جواب میں کامیاب میزائل آپریشن کے بعد جنگ بندی کی .ایرانی سرکاری میڈیا نے جنگ بندی کے نفاذ کے وقت کا اعلان نہیں کیا،

    دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر صبح سے تیسرا میزائل حملہ کردیا۔ اسرائیل کے جنوبی شہر بیرشیبا میں میزائل گرنے سے تباہی ہوئی، 3 اسرائیلی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    یورپ اور مشرق وسطیٰ میں دیر رات تک جاری رہنے والی کشیدگی کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، تاہم اس جنگ بندی کے نفاذ اور اس کی شرائط کے بارے میں اب تک کوئی واضح معلومات نہیں ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان 12 دن سے جاری تصادم کے خاتمے کے حوالے سے یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے پیر کی دیر رات مشرقی وقت کے مطابق اعلان کیا کہ مکمل جنگ بندی تقریباً چھ گھنٹے بعد یعنی منگل کی صبح اسرائیل کے وقت صبح 7 بجے شروع ہو جائے گی۔ قطر نے اس جنگ بندی کے معاملے میں ثالثی کی ہے

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے منگل کی صبح اعلان کیا کہ دشمن پر جنگ بندی "مجبوری میں عائد کی گئی ہے” جو امریکہ کی جارحیت کے جواب میں ایران کی فوجی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ ایران کے سرکاری نیوز چینل نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کی درخواست "گڑگڑانے جیسے انداز میں” کی۔ دوسری طرف ٹرمپ نے کہا کہ "اسرائیل اور ایران نے مجھے امن کے لیے رابطہ کیا۔”

    قبل ازیں قطر میں امریکی اڈے پر ایران کی جانب سے میزائل حملہ اس کے چند دن پہلے خالی کر دیے جانے کے بعد کیا گیا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایرانی حکام نے قطر کو اس حملے کی پیشگی اطلاع دی تھی۔

  • اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ،ٹرمپ کا اعلان

    اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی ،ٹرمپ کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے وقت سے قبل ہی اسرائیل نے تہران پر شدید حملے کیے، جبکہ ایران کے مختلف شہروں جیسے کرج اور راجائی میں بھی کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران نے بھی اسرائیل پر اب تک چھ مرحلوں میں ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں سے آخری حملہ جنگ بندی کے وقت کے بعد کیا گیا۔

    ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں اب تک تین اسرائیلی ہلاک اور پانچ زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی پر اعلان کیا کہ اسرائیل اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے رابطہ کر کے انہیں جنگ بندی کے حوالے سے مطلع کیا اور بتایا کہ ایرانی فوجی طاقت کمزور ہو چکی ہے، اس لیے مزید جنگ کی ضرورت نہیں۔ امریکی ٹی وی رپورٹ کے مطابق قطری رہنماؤں نے ایران کو جنگ بندی کی تجاویز دی تھیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ اور قطری حکام کے درمیان رابطہ کر کے جنگ بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل اور ایران دونوں نے امن کی بات کی ہے اور دنیا، خاص طور پر مشرق وسطیٰ، اس جنگ کی اصل فاتح ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن، محبت اور خوشحالی نصیب ہوگی، اور اگر یہ راستے سے ہٹ گئے تو بہت کچھ کھو دیں گے۔

    ایرانی ردعمل اور جنگ بندی کی حقیقت
    تاہم ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ابھی تک کوئی ‘معاہدہ’ یا جنگ بندی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی افواج کی کارروائیاں صبح 4 بجے تک جاری رہیں اور ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشنز روکنے کا حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کی افواج ہر حملے کا جواب دینے کے لیے مکمل تیار ہیں اور دشمن کے حملوں کا جواب خون کے آخری قطرے تک دیا جائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پہلے بھی کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے صبح 4 بجے تک اپنی جارحیت بند کر دی تو ایران کی جانب سے مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

    ایرانی عہدیدار کی جانب سے جنگ بندی کی تصدیق
    تاہم بعد میں ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جو کہ امریکی صدر کے دعوے کی تائید ہے۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر بیان جاری کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے 6 گھنٹوں میں دونوں فریق اپنے جاری مشن مکمل کریں گے اور 12 گھنٹے بعد جنگ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی ایران سے شروع ہوگی اور 12 گھنٹے بعد اسرائیل بھی اسے نافذ کرے گا، جس کے بعد 24 گھنٹے کے اندر 12 روزہ جنگ کا باضابطہ خاتمہ ہو جائے گا۔

    خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، امریکی صدر اور نائب صدر نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ ٹرمپ نے امیر قطر سے کہا کہ اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہے اور ایران کو بھی قائل کرنے میں قطر کی مدد درکار ہے۔ بعد ازاں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے ایرانی حکام سے بات چیت کر کے انہیں امریکی جنگ بندی کی تجویز پر راضی کر لیا۔

    یہ تنازعہ جو "12 روزہ جنگ” کے نام سے جانا جا رہا تھا، اب بظاہر ختم ہونے کے قریب ہے۔ صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کو اس جنگ بندی پر مبارکباد دی اور کہا کہ اس سے نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کو امن، خوشحالی اور استحکام کا موقع ملے گا۔

  • سعودی عرب کی قطر میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملے کی مذمت

    سعودی عرب کی قطر میں امریکی اڈوں پر ایران کے حملے کی مذمت

    سعودی وزارت خارجہ نے قطر پر ایرانی حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کا یہ حملہ کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

    سعودی عرب نے قطر کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایسے اقدامات خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں۔سعودی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا، "قطر پر ایرانی حملہ جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور خطے میں امن و امان کے لیے تمام فریقین سے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔”

    دوسری جانب قطر کی حکومت نے ایرانی حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے کے بعد قطر کو اپنے دفاع کے لیے جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے۔ حکام نے تصدیق کی کہ امریکی فوجی اڈے پر ہونے والے اس میزائل حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔قطر کے وزارت دفاع نے بیان دیا کہ ایرانی میزائل حملے کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور صورتحال کو قابو میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اڈہ شہری تنصیبات اور رہائشی علاقوں سے کافی فاصلے پر واقع ہے، جس کی وجہ سے جانی نقصان سے بچا جا سکا۔

    ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس حملے میں اتنے بم استعمال کیے گئے جتنے امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے دوران استعمال کیے تھے۔ ایرانی حکام نے یہ بھی کہا کہ امریکی فوجی اڈہ شہری علاقوں سے دور ہے اور یہ حملہ ایک دفاعی اقدام تھا۔

    اسرائیل کی حکمتِ عملی واضح دکھائی دیتی ہے،پہلے ایران پر حملہ، امریکہ کو مداخلت پر مجبور کرنا، پھر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے، اور نتیجتاً قطر، یو اے ای، سعودی عرب کو جنگ میں گھسیٹنا۔یہ ایک بڑی علاقائی جنگ کا منصوبہ لگتا ہے، جس میں سب فریق بےاختیار ہو جائیں۔

    حالیہ دنوں میں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ گیا ہے، اور اس دفعہ جو منظرنامہ ابھر رہا ہے، وہ کسی حادثاتی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی تزویراتی چال معلوم ہو رہی ہے۔ تجزیہ کاروں اور ماہرین بین الاقوامی امور کے مطابق ایران پر امریکی حملے اور اس کے بعد ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر جوابی حملوں کا تسلسل ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے جس کا مقصد پورے مسلم خطے کو خانہ جنگی میں جھونکنا ہے اور اس منصوبے کی تشکیل میں اسرائیل کا کردار سب سے نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

    گزشتہ ہفتے امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر ایک بڑا حملہ کیا، جس میں فردو، نطنز اور اراک جیسے حساس مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے سے قبل اسرائیل نے مبینہ طور پر ایران کے اندر خفیہ کارروائیوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے خطے میں کشیدگی کو ہوا دی۔ اس صورتحال نے امریکہ کو ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کی طرف دھکیلا۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد یہی تھا امریکہ کو جنگ میں کھینچنا،ایران کو اشتعال دلانا کہ وہ امریکی مفادات پر حملہ کرے،اور یوں خلیجی ممالک خصوصاً قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو جنگی اتحاد میں شامل ہونے پر مجبور کرنا۔یہی وہ تزویراتی منصوبہ ہے جس کا مقصد اسرائیل کو خطے میں "واحد مستحکم ریاست” کے طور پر پیش کرنا، جبکہ مسلم دنیا کو داخلی محاذ آرائی اور خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا ہے۔

    ایران نے امریکی حملے کے بعد نہ صرف فوری ردعمل دیا بلکہ قطری سرزمین پر قائم "العدید ایئربیس” پر درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے۔ اس حملے میں کوئی امریکی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی،یہ صورتحال اس مفروضے کو تقویت دیتی ہے کہ اسرائیل درحقیقت مسلم دنیا کو آپس میں لڑانے کے منصوبے پر کاربند ہے۔قطر، جو ماضی میں ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا رہا، اب امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے دباؤ میں ہے۔سعودی عرب اور یو اے ای، جو ایران سے سیکیورٹی خدشات رکھتے ہیں، اب خود کو امریکی و اسرائیلی اتحاد کی جانب جھکتے دیکھ رہے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی ممالک امریکی اتحاد میں شامل ہو کر ایران کے خلاف کسی محاذ پر سرگرم ہوتے ہیں، تو یہ ایک نئی عرب عجم جنگ کی بنیاد ڈالے گا، جس میں سب سے زیادہ نقصان امت مسلمہ کو ہوگا۔ یہ ایک ایسا جال ہے جو مسلم دنیا کے لیے داخلی انتشار، معیشتی تباہی اور سفارتی تنہائی کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس تاثر کو مضبوط کر رہے ہیں کہ ایران پورے خطے کے لیے خطرہ ہے، تاکہ باقی عرب ریاستیں خود کو اسرائیلی دفاعی چھتری کے نیچے لا کھڑا کریں۔ یہ لمحہ مسلم قیادت کے لیے فیصلہ کن ہے۔ یا تو وہ اسرائیلی تزویراتی منصوبوں کو ناکام بنا کر اتحاد، امن اور سفارتی حل کی جانب قدم بڑھائیں، یا پھر ایک ایسی خونی خانہ جنگی میں داخل ہو جائیں جس کا فائدہ صرف دشمنوں کو ہوگا۔

  • توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    توقع تھی ایران کا جوابی حملہ ہو گا،ٹرمپ مزید فوجی کاروائی نہیں چاہتے،ذرائع وائیٹ ہاؤس

    واشنگٹن: امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کو توقع تھی کہ تہران امریکہ کے جوہری مقامات پر کیے گئے فضائی حملوں کے جواب میں فوری ردعمل دے گا، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید فوجی مداخلت سے گریز کرنا چاہتے ہیں، ایک سینئر وائٹ ہاؤس اہلکار نے آج سی این این کو بتایا۔

    اہلکار نے کہا، "ہم جانتے تھے کہ وہ جوابی حملہ کریں گے۔ انہوں نے قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد بھی ایسا ہی ردعمل دیا تھا۔” انہوں نے ایران کے اس سابق کمانڈر کا حوالہ دیا جو 2020 میں امریکی فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔وائٹ ہاؤس کے سینئر اہلکار نے مزید کہا کہ ابتدائی تخمینوں کے مطابق پیر کو ایران کی جانب سے داغے گئے میزائل اپنے اصل ہدف کو نہیں پہنچ سکے۔ قطر کے وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اس کے فضائی دفاع نے ملک میں واقع امریکی فضائی اڈے پر ایک ایرانی میزائل حملے کو کامیابی سے روکا۔اہلکار نے کہا کہ صدر ٹرمپ اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوجی مداخلت کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔ صدر کے پیر کی دوپہر قومی سلامتی کے حکام سے بات چیت کا پروگرام تھا، اور اس ملاقات کے بعد ان کے رویے میں تبدیلی کے امکانات موجود ہیں۔

  • پی ائی اے کا پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن منسوخ

    پی ائی اے کا پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کا فضائی آپریشن منسوخ

    : خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے باعث پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے اپنے فضائی آپریشن میں حفاظتی اقدام کے طور پر اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ پی آئی اے نے پاکستان سے قطر، بحرین، کویت اور دبئی کے لیے اپنی تمام پروازوں کو وقتی طور پر منسوخ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، پی آئی اے کی انتظامیہ نے خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی کی روشنی میں اپنے مسافروں اور عملے کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان ممالک کے لیے پروازیں فی الحال محدود رکھی جائیں گی۔پی آئی اے کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "خلیج فارس میں غیر مستحکم صورتحال اور ممکنہ تنازعہ کی وجہ سے پاکستان اور خلیج کے درمیان فضائی رابطے کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہم مسافروں کو بروقت آگاہ کرتے رہیں گے اور صورتحال میں بہتری کے بعد پروازوں کی بحالی کا اعلان کریں گے۔”

    ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ اور خطے میں کشیدگی کی وجہ سے فضائی راستوں میں ممکنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، جس کے پیش نظر پاکستان سمیت متعدد ممالک نے اپنی فضائی سرگرمیاں محدود کی ہیں۔مسافروں کے لیے پی آئی اے نے ہیلپ لائنز اور کسٹمر سروس کو فعال کر رکھا ہے تاکہ وہ اپنی بکنگ اور سفر کے متعلق معلومات حاصل کر سکیں۔

  • سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی ہنگامی پروازیں

    سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی ہنگامی پروازیں

    ایران کی جانب سے قطر میں واقع امریکی فوجی اڈے العدید ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملے کے بعد، سعودی عرب میں تعینات امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے پرنس سلطان ایئر بیس سے فوری طور پر پروازیں کی ہیں۔

    عالمی دفاعی ذرائع کے مطابق، سعودی عرب میں واقع امریکی ایئر بیس سے جنگی طیارےفضا میں بلند کیے گئے تاکہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی فضائی حدود میں کسی ممکنہ دوسرے حملے یا ایرانی ڈرونز کی نگرانی کی جا سکے۔ قطر میں واقع العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا اور اسٹریٹیجک فوجی اڈہ ہے۔ ایران کی جانب سے اس بیس کو نشانہ بنانا امریکی مفادات پر ایک براہِ راست حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ "طاقتور اور تباہ کن” تھا اور امریکی نیوکلیئر تنصیبات پر حملے کے جواب میں کیا گیا۔

    سعودی عرب میں موجود امریکی اور اتحادی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ پرنس سلطان ایئر بیس سے امریکی طیاروں کی پروازوں کا مقصد نہ صرف فضا کا دفاع کرنا ہے بلکہ ایران کی مزید کارروائیوں کا سدباب کرنا بھی ہے۔ سعودی حکام نے بھی اپنی فضائی نگرانی اور دفاعی تیاریوں کو بڑھا دیا ہے۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق، خطے میں موجود امریکی افواج کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں۔ امریکی وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اس وقت وائٹ ہاؤس کی سچوئیشن روم میں موجود ہیں اور حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، ایران نے قطر اور عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جسے ایرانی آپریشن کا کوڈ نام "اے ابو عبداللہ” یعنی "فتح کی برکت” دیا گیا ہے۔ تہران نے اس حملے کو امریکہ کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حالیہ حملوں کا جواب قرار دیا ہے۔پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ ایرانی افواج نے "طاقتور اور تباہ کن میزائل حملہ” قطر کے العدید ایئر بیس پر کیا، جہاں خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ واقع ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا "اسلامی جمہوریہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا۔”ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق قطر پر داغے گئے میزائلوں کی تعداد وہی ہے جتنی بمباری امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر کی۔

    قطر نے ایران کے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اپنی فضائی حدود اور خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا "ریاستِ قطر اس واضح جارحیت کا بین الاقوامی قوانین کے تحت جواب دینے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔”انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ قطری فضائی دفاعی نظام نے ایرانی میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا اور کسی قسم کی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوحہ کے ایک رہائشی نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ شہر میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور شہریوں کو پیشگی کوئی انتباہ نہیں دیا گیا۔”ہمارے بچے خوفزدہ ہو گئے، انہیں اندازہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ حکام کی طرف سے کوئی ہدایت یا الرٹ جاری نہیں کیا گیا تھا۔”

    ایران کے میزائل حملے سے قبل امریکی طیارے اور بحری جہاز خلیجی اڈوں سے منتقل، سیٹلائٹ تصاویر نے انکشاف کر دیا،سی این این کی رپورٹ کے مطابق، قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر ایران کے میزائل حملے سے کئی دن پہلے ہی امریکہ نے اپنے غیر محفوظ طیارے وہاں سے منتقل کر دیے تھے۔ 19 جون کو لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر میں بیس کے رن وے اور ٹارمک (جہاز کھڑے ہونے کی جگہ) تقریباً خالی نظر آتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ طیاروں کو حملے سے پہلے ہی دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ امریکی دفاعی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا تاکہ امریکی عسکری اثاثوں کو کسی ممکنہ حملے سے محفوظ رکھا جا سکے۔ امریکی دفاعی حکام کے مطابق "یہ طیارے خطے میں بدلتی صورتحال اور ایران کے ممکنہ ردعمل کے پیش نظر دوسری خفیہ مقامات پر منتقل کیے گئے تھے۔”یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ایران نے پیر کے روز امریکی نیوکلیئر تنصیبات پر امریکی حملے کے جواب میں العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔

    اسی طرح بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے تمام جنگی جہاز بھی گزشتہ ہفتے ہی نیول سپورٹ ایکٹیویٹی بحرین نامی بیس سے روانہ ہو چکے تھے۔ بحرین میں موجود اس امریکی نیول بیس کو خطے میں امریکی سمندری مفادات کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی طیارے اور بحری جہاز کہاں منتقل کیے گئے ہیں، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام ایک وسیع تر پیشگی حفاظتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ ایران کے ممکنہ حملوں سے امریکی اثاثے متاثر نہ ہوں۔

    ایران کے حملے کے بعد خلیج میں موجود کئی ممالک کی جانب سے اپنی فضائی اور سمندری حدود کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ قطر، بحرین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ امریکی فوج مسلسل خطرے کا جائزہ لے رہی ہے۔ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ خطے میں جاری کشیدگی اگر بڑھی تو یہ ایک بڑے عسکری تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں .

  • نان کسٹم سگریٹوں کے خلاف آپریشن، ملزمان کا ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا  حملہ

    نان کسٹم سگریٹوں کے خلاف آپریشن، ملزمان کا ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا حملہ

    راولپنڈی میں نان کسٹم سگریٹوں کے خلاف آپریشن ملزمان کا ایف بی آر ٹیم پر جان لیوا حملہ ،،مقدمہ درج کرلیا گیا

    ملزمان نے نان کسٹم سگریٹ آپریشن والی ایف بی آر ٹیم پر حملہ کردیا، عمران نامی ایف بی آر ملازم شدید زخمی ہو گیا،حملہ کے دوران آہنی راڈ لگنے سے ایف بی آر ملازم عمران کے سر پر زخم آئے، ملزمان کے خلاف تھانہ گنجمنڈی میں اسٹنٹ ڈائریکٹر ریجنل ٹیکس آفس راولپنڈی شجاعت علی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا،مقدمہ اقدام قتل،کار سرکار مزاحمت سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا ،ملزمان سے 20کارٹن نان کسٹم سگریٹ قبضہ میں لئے گئے،سرکاری گاڑی میں ضبط شدہ سامان لوڈکرتے وقت ملزمان نے حملہ کیا۔35 مسلح افراد نےایف ی بی آر ٹیم پر حملہ کیا، مقدمہ متن کے مطابق بظاہر پٹھان ملزمان کے آہنی راڈوں سے مسلح 35ساتھی بھی حملہ اور ہو گئے،ملزمان نے گاڑی سے زبردستی نان کسٹم سگریٹ نکال لیے ،سرکاری گاڑی کے شیشے توڑے دیئے،ملزمان نے کار سرکار مداخلت کی،سرکاری اہلکاروں پر حملہ کیا،ہجوم کو حملے کے لئے ابھارا، حملہ اور ملزمان کا تعلق زر گل،خالد شاہ اورحنان خان وغیرہ سے ہے،

  • پاکستان علماء کونسل کا محرم میں امن و امان کے قیام کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    پاکستان علماء کونسل کا محرم میں امن و امان کے قیام کیلئے ضابطہ اخلاق جاری

    پاکستان علماء کونسل نے محرم الحرام میں امن و امان کے قیام ، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی و رواداری کیلئے انتہا پسندی، دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کیلئے تمام مکاتب فکر اور مذاہب کی مشاورت سے پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق جاری کر دیا ۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر قومی یکجہتی کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت مختلف مکاتب فکر اور مذاہب کے علماء و مشائخ کے ہمراہ جاری کردہ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ ، خطباء ، ذاکرین ، واعظین ، پیغام پاکستان ضابطہ اخلاق کی مکمل پابندی کریں گے ، کسی بھی خطیب ، ذاکر یا واعظ کے ضابطہ اخلاق کے خلاف عمل کی تائید و حمایت نہیں کی جائے گی۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےساتھ ہر سطح پر تعاون کیا جائے گا ۔

    لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے اجلاس کے بعد ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے ، اجلاس کی صدارت چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی، اجلاس میں مولانا اسد عبید ، مولانا اسد اللہ فاروق، علامہ ڈاکٹر محمد سبطین اکبر، علامہ رائے ظفر علی ، آغا شاہ حسین قزلباش ، خرم نقوی ، قاسم علی شاہ ، شکیل الرحمن ناصر ، حافظ اصغر گجر، سید بابر شاہ ، حاجی محمد طاہر جاوید نقشبندی، علامہ محمد کامران رضا قادری، سید سجاد حیدر نقوی ، مولانا عبد الحکیم اطہر ، مولانا اسلم صدیقی ، مولانا قاری مبشر رحیمی، قاری فیصل امین، مولانا محمد اشفاق پتافی ، مولانا ابو بکر حمید صابری ، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا عزیز اکبر قاسمی ، مولانا حق نواز خالد، مولانا عبید اللہ گورمانی، علامہ طاہر الحسن ، مولانا انوار الحق مجاہد ،مولانا عبد اللہ حقانی، مولانا حبیب الرحمن عابد،مولانا امین الحق اشرفی، مولانا سعد اللہ لدھیانوی ، مولانا انیس الرحمن بلوچ ، مولانا عبد الرشید ، مفتی محمد عمر فاروق ،مولانا عبد الغفار شاہ حجازی ،مولانا محمد احمد مکی،مولانا عزیز الرحمن معاویہ ،مفتی عمران معاویہ ، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا یاسر علوی ، قاری عبدالرئوف ، مولانا مطلوب مہار ،مولانا زبیر کھٹانہ ،مولانا عقیل زبیری ،قاری عزیز الرحمن ،مولانا شبیر کھٹانہ، مولانا قاسم سانگی، مولانا منیب الرحمن حیدری، اوراور دیگر علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ اجلا س میں اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حلیف گریٹر اسرائیل بنانے کے منصوبہ پر عمل کر رہے ہیں۔ ایران ہمارا اسلامی برادر ملک ہے اور ہمارا پڑوسی ہے ، اسرائیلی جارحیت کا جواب دینا ایران کا عالمی قوانین کے مطابق حق ہے۔کسی بھی ملک کو اس کے دفاع اور سلامتی کو مضبوط بنانے کا حق عالمی قوانین دیتے ہیں لہذا ایران کو بھی یہ حق حاصل ہے۔ عالم اسلام نے سعودی عرب کی سربراہی میںا یک مضبوط موقف اپنا یا ہے اور حکومت پاکستان کا موقف پاکستان کے عوام اور عالم اسلام کے مسلمانوں کی ترجمانی ہے ۔ہم ایران کی حکومت اور عوام کو مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہیںاور جنگ کے خاتمے کیلئے سعودی عرب ، ترکی ، روس کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ ہم چین ، روس ، یورپی یونین ، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینی عوام کے حقوق اور آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فوری طور پر اپنا کردار ادا کریںاور عالمی امن سے کھیلنے کی اسرائیل اور ہندوستان کی سازشوں کے خلاف اقدامات کریں۔ اجلاس میں محرم الحرام میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے ضابطہ اخلاق کو جاری کیا گیا

    1) فرقہ ورانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے زور پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت اسلامیہ کے احکام کے منافی اور فسادفی الارض اور ایک قومی و ملی جرم ہے۔
    2) تمام مسالک کے علماء و مشائخ اور مفتیان پاکستان انتہا پسند انہ سوچ اور شدت پسندی کو مکمل مسترد کرتے ہیں۔
    3) انبیاء کرامؑ، اصحاب ؓرسولﷺ ،خلفاء راشدین ؓ، ازواج مطہراتؓ اور اہل ِبیت اطہارؓکےتقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہےاور جو شخص ان مقدسات کی توہین و تکفیر کرے گا تمام مکاتب فکر اس سے برات کرتے ہیں اور ایسے شخص کے خلاف قانون کو فوری حرکت میں آنا چاہیے ۔
    4) علماء و مشائخ اور مفتیان عظام کا فریضہ ہے کہ درست اور غلط نظریات میں امتیاز کرنے کے بار ےمیں لوگوں کو آگاہی دیں جبکہ کسی کو کافر قرار دینا (تکفیر) ریاست کا دائرہ اختیار ہےجو ریاست شریعت اسلامیہ کی رو سے طے کرے گی۔
    5) پاکستان کے تمام غیر مسلم شہر یوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے اور جو حق غیر مسلم شہریوں کو آئین پاکستان نے دئیے ہیں ان کو کوئی فرد ، گروہ یا جماعت سلب نہیں کر سکتی۔
    6) جو غیر مسلم اسلامی ریاست میں امن کے ساتھ رہتے ہیں انہیں قتل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ گناہ ہے اور جو آئین پاکستان اور قوانین پاکستان کی خلاف ورزی کریں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کو قانون کے دائرے میں سزا دے۔
    7) اسلام کی رو سے خواتین کا احترام اور ان کے حقوق کی پاس داری کرنا سب کے لئے ضروری ہے ۔خواتین کو وراثت میں حق دینا اور خواتین کی تعلیم کا حکم شریعت اسلامیہ نے دیا ہے ۔
    8) محرم الحرام ، صفر المظفر کے ایام عزا میں پاکستان کے تمام شہریوں اور مسلمانوں کو مقررہ مجالس ، کانفرنسز ، اجتماعات منعقد کرنے کی حسب قانون آزادی ہو گی ، نیز قانون کے دائرے میں ہونے والے اجتماعات میں چادر و چار دیواری کے تقدس کا مکمل خیال رکھا جائے ۔
    9) تمام اہل محلہ اور محبان اہل بیت علیہم السلام اور عاشقان صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ باہمی برداشت کے ساتھ وطن اور اسلام دشمنوں کی سازشوں پر پوری نظر رکھیں ۔ تمام مکتب فکر کے مسلمانوں کے ساتھ ان کے نظریہ اور عقیدہ کے مطابق قانونی اور آئینی طور پر ان ایام کو منانے کیلئے بھرپور مدد کریں گے ۔
    10) تمام مکاتب فکر کے علماء کرام ، ذاکرین عظام ، خطباء امت کو جوڑنے کا فریضہ ادا کریں گے ۔ مفسدین اور تخریب کاروں پر نظر رکھ کر موقعہ پر انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔
    11) یہ امر پہلے سے طے شدہ ہے کہ ہر مسلک کے عالم ، واعظ ، خطیب ، ذاکر کو اپنے مسلک کے پیروکاروں کو اپنے مذہب کے عقائد ، اصول و فروع کو بیان کرے ۔ انداز بیان میں اس بات کا خیال رکھے کہ تمام عالم اسلام کی مذہبی و دینی شخصیات کی توہین نہ ہو اور دوسروں کے عقائد و نظریات کو طعن تشنیع کا نشانہ نہ بنائیں۔
    12) ملک کے تمام سرکاری و غیر سرکاری ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ محرم الحرام سے قبل ، بعد اور دوران پیغام پاکستان کی روشنی میں مرتب کردہ ضابطہ اخلاق کی مکمل تشہیر کریں اور وحدت اور اتحاد کے پیغام کو عام کرنے میں معاون بنیں۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا و پرنٹ میڈیا پر کسی بھی ایسی تحریر و تقریر جس سے اشتعال پیدا ہو ، اس کے خلاف متعلقہ حکومتی ادارے فوری طور پر کاروائی کریں۔
    پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ وطن عزیز پاکستان میں قیام امن کیلئے انتہا پسندی ، دہشت گردی اور عدم برداشت کے خاتمے کیلئے ریاست کے تمام اداروں اور حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔
    عزم استحکام پاکستان کے حوالہ سے حکومت اور تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کوچاہیے کہ وہ متفقہ پالیسی اپنائیں تا کہ ملک میں امن و امان قائم ہو، دہشت گردی کا خاتمہ ہو اور معاشی استحکام آئے۔
    پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ملک بھر میں علماء و مشائخ کنونشنز کا انعقاد کیا جائے گااور اس سلسلہ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے امن و امان کے قیام اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کیلئے بھرپور تعاون کی اپیل کی جاتی ہے۔