Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران  کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی پرزور  مذمت کرتے ہیں ۔خالد مسعود سندھو

    ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں ۔خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ حملہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کی دانستہ کوشش ہے بلکہ عالمی امن کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر رہا ہے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملے کی پرزور مذمت کرتے ہیں امریکہ نے اسرائیل کے جنگی جنون کو روکنے کے بجائے خود جنگ کی آگ بھڑکا دی امریکی حملے کے بعد پورے خطے اور دنیا کا امن خطرے میں ہے،پاکستان سمیت کئی ممالک نے اس جنگ کو روکنے کے لیئے اپنی سفارتی کوششیں کیں تاہم امریکہ نے صیہونی لابی کو خوش کرنے کے لیئے یہ قدم اٹھایا ۔ اقوام متحدہ ،او آئی سی سمیت تمام مسلمان ممالک کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔مسلمان ممالک کو دفاعی صلاحیت ، اتحاد اور امن و استحکام کے لئے مشترکہ کوششیں کرنی چاہئے، جب تک مسلم امہ آپس میں تقسیم رہے گی، بیرونی طاقتیں ہمارے وسائل، خودمختاری اور استحکام کو کمزور کرتی رہیں گی،امن، استحکام اور خودمختاری کے لیے مسلم ممالک کو ایک مؤثر، متحد اور دوراندیش حکمت عملی اپنانا ہو گی۔

  • جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا، مذمت کرتے ہیں ،بلاول

    جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا، مذمت کرتے ہیں ،بلاول

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے کہا ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر ایران پر حملہ کیا گیا،ہم ایران پر حملے کی مذمت کرتے ہیں ،ایران کے سیاستدانوں اور سائنسدانوں پر اٹیک کیا گیا ، ایران کے نیوکلیئر سائیٹس پر حملہ کیا ،ہم اس حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں،

    قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ ہمارے خطے میں بھی نیتن یاہو کی ایک سستی کاپی موجود ہے۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے اِس سستی کاپی کو جنگ کے میدان میں، سفارتکاری کے میدان میں اور بیانیہ کے میدان میں ہرا دیا.بھارت سندھ طاس معاہدہ سے انکاری ہو گا تو ہم جنگ کر کے سارا پانی واپس لیں گے،2019 میں اُس وقت کے وزیراعظم نے کہا کہ میں کیا کروں، آپ کیا چاہتے ہو، کیا میں بھارت کے ساتھ جنگ چھیڑ دوں، ریکارڈنگ دیکھ لیں، میں فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اِس دفعہ جب حملہ ہوا تو پاکستان ڈرا نہیں، جُھکا نہیں، ہم نے جنگ کی،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا ،جس شخص کے بارے میں ہمیں پتہ نہیں کیا کیا سُننے پر مجبور کیا گیا، اُسی شخص ہمارے فیلڈ مارشل عاصم مُنیر صاحب کو ٹرمپ نے خود کھانے پر بلایا،کیا کسی ہاری ہوئی فوج کو اِس طرح کی دعوت دی جاتی ہے، نہیں جناب اسپیکر!یہ اُس شخص کو مبارکباد دینے کی دعوت تھی،اگر بھارت سندھ طاس معاہدے کو نہیں مانتے، ڈیمز اور نہریں بنائیں گے تو پھر پاکستان جنگ کرے گا، ہم 6 کے 6 دریائوں کا پانی اپنے عوام کو دلوائیں گے،

    بلاول بھٹو کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کی بولنے کی کوشش،سپیکر نے پی ٹی آئی رکن اقبال آفریدی کو بولنے سے روک دیا۔

    چاہتے تھے تنخواہوں، پنشن میں مزید اضافہ کیا جائے،پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت کرے گی،بلاول
    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت کرے گی، حکومت کی پالیسی سے مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ ہماری حکومتی کی پالیسیاں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ رہی ہیں اس شعبہ میں غیر معمولی سرمایاکاری کی ضرورت ہے،کسان جائیں توکہاں جائیں،ہر مسئلہ کا حل ڈیم بنانا بھی نہیں ،جہاں بنتا ہے بنائیں لیکن متنازعہ نہیں، زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے، پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ تنخواہوں اور پنشن میں مزید اضافہ ہو،بجٹ صرف اعدادوشمار کا نام نہیں پیپلز پارٹی کو سولر ٹیکس پر شدید اعتراض تھا،جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور آصف علی زرداری صدرِ مملکت بنے، تو وہ پاکستان جو گندم، چینی اور چاول درآمد کرتا تھا، صرف ایک سال میں ہم نے وہی گندم، چینی اور چاول برآمد کرنا شروع کر دیے۔یہ عوام کے بارے میں نہیں سوچتے،پی ٹی آئی کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ’’ہمارا قیدی‘‘ رہا کریں ،ہم وزیراعظم، وزیر خزانہ اور اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کرتے ہیں، انہوں نے ہم سے بات کی اور ہمارے اعتراضات دور کیے۔

  • بھارت صرف فلموں میں جنگیں جیت سکتا ہے،شرجیل میمن

    بھارت صرف فلموں میں جنگیں جیت سکتا ہے،شرجیل میمن

    سندھ کےصوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے ایران پر امریکی حملے کی شدید مذمت کی اور بھارتی پروپیگنڈے کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا اور کہا کہ بھارت صرف فلموں میں جنگیں جیت سکتا ہے، جبکہ پاکستان نے بھارت کو میدان جنگ میں تاریخی شکست دی ہے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت نے فیک نیوز کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہیں، اور عوام تک درست معلومات پہنچانے کے لیے وزارت اطلاعات اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "I Work For Sindh” کے نام سے بنائی گئی ایپ کے ذریعے اب تک 72 لاکھ لوگ مستفید ہو چکے ہیں، 17 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ 12,310 نوکریاں پوسٹ کی جا چکی ہیں۔ ایپ میں 9,234 سکلڈ ورکرز نے رجسٹریشن کرائی ہے،صحافتی تنظیموں کو 29 کروڑ روپے کی گرانٹس دی گئی ہیں، اور انڈومنٹ فنڈ کی مد میں مزید 29 کروڑ 70 لاکھ روپے جاری کیے جا رہے ہیں، کمرشل گاڑیوں کی فٹنس کے لیے سینٹرز قائم کر دیے گئے ہیں، اور جعلی فٹنس سرٹیفکیٹس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ گرین اور اورنج لائن پر شٹل سروس شروع کی جائے گی اور مسافروں کی تعداد کو ایک لاکھ تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، پیپلز بس سروس میں مزید بسیں شامل کی جائیں گی، اور سفری کارڈ بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سندھ اور تمام اراکین ایران پر حالیہ حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں اور اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم اپنی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی، کی جانب سے بھی ایرانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں،سندھ اسمبلی اور پیپلز پارٹی اس کٹھن وقت میں ایرانی قوم کے ساتھ ہے۔

  • مودی سرکار کی تعلیم دشمنی، بھارت کی کئی ریاستوں میں سکول بند

    مودی سرکار کی تعلیم دشمنی، بھارت کی کئی ریاستوں میں سکول بند

    مودی سرکار نے تعلیم دشمنی کرتے ہوئے غریب بچوں کا مستقبل تاریک کر دیا

    مودی سرکار بیشتر اسکول بند کر کے غریب بھارتی بچوں کے خواب چھینے لگے،اتر پردیش میں سکولز بی جے پی حکومت کے نشانے پر، پانچ ہزار سے زائد سرکاری اسکول بند کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی سرکار پانچ ہزار سے زائد سکول بند کرنے جارہی، بی جے پی نے بڑی تعداد میں آٹھویں جماعت تک کے سرکاری سکولوں بند کرنے کے احکامات جاری کر دئیے، بی جے پی نے دعویٰ کیا کہ یہ فیصلہ تعلیم بہتر بنانے کے لیے ہے مگر اسکی حقیقت کچھ اور ہے، تعلیم کے محافظوں نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہوئے بی جے پی کو آڑے ہاتھوں لیا،اپوزیشن لیڈران کا کہنا ہے کہ تعلیم کا حق ہر بچے کو حاصل ہے اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا، بی جے پی جماعت بچوں کے مستقبل سے کھیل رہی ہے، انہیں تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے، اپوزیشن جماعتوں اور تعلیمی اداروں کی جانب سے بی جے پی کو فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے،اور کہا گیا ہے کہ بی جے پی حکومت کو چیلنج کیا گیا کہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا، اس سے قبل 14 نومبر 2024 کو یوگی حکومت نے 27 ہزار اسکول بند کرنے کی تیاری کی،اتر پردیش میں اس وقت 27670 بنیادی اسکول موجود ہیں جن میں سے متعدد کو بند کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے،اس سے قبل جھارکھنڈ میں مودی سرکار نے 5 ہزار دیہی اسکول بند کر کے دلت ذات بچوں سے تعلیم چھین لی، تعلیم دشمن فیصلوں سے بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف امیروں کی پارٹی ہے نہ کہ غریب بچوں کی امید

  • انتہا پسند مودی کے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری

    انتہا پسند مودی کے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری

    مودی کے اقتدار میں اقلیتوں پر حملے معمول بن چکا ہے،مسلمان، عیسائی اور دیگر اقلیتیں مسلسل انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پرہیں

    بی جے پی اقتدار میں ہندو انتہا پسندوں کو کھلی چھوٹ، اقلیتوں کی جان و مال اور عبادات سب خطرے میں ہے،بھارتی ریاست اڑیسہ کی عیسائی برادری پر انتہا پسند ہندوؤں کے حملے بڑھنے لگے،اس حوالے سے بھارتی تجزیہ کار، ڈاکٹر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتہا پسند ہندوؤں کے ظلم کو آشکار کر دیا ،ڈاکٹر اشوک سوائن کا کہنا تھا کہ ریاست اڑیسہ کےضلع ملکانگیری میں عیسائی برادری پر مہلک ہتھیاروں سے بہیمانہ حملہ کر دیا،ہندوتوا غنڈوں کا عیسائی برادری پر بہیمانہ حملہ، 28 افراد شدید زخمی، مودی کے بھارت میں کوئی محفوظ نہیں، حملہ آوروں نے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کو بھی نہیں بخشا، پولیس خاموش تماشائی بنی رہی، اقلیتوں کے خلاف نفرت پر مبنی حملے بی جے پی کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں جبکہ مودی سرکار سے انصاف کی کوئی امید باقی نہیں

    اس حوالے سے بھارتی جریدے نیوز ریل ایشیا کی تحقیقاتی ٹیموں نےعیسائی برادری کی قتل و غارت کے حوالے سے ہوشربا انکشافات کئے ہیں،تحقیقات کے مطابق "ریاست اڑیسہ کے اضلاع نابرانگپور، گجپتی اور بالاسور میں عیسائی برادری تدفین کے بنیادی حق سے محروم ہیں،مارچ سے اپریل 2025 کے دوران تین فیکٹ فائنڈنگ ٹیموں نے ریاست اڑیسہ کے تین اضلاع میں عیسائیوں پر بڑھتے مظالم کی تصدیق کی، ضلع نابرانگپور میں 2022 سے 2025 تک عیسائیوں پر حملوں کے 8سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، عیسائی خاندانوں کو اپنے مرحومین کی تدفین سے روکا گیا،ضلع نابرانگپور میں عیسائی نوجوان کی تدفین کے بعد لاش کی چوری، ماں اور بہن پر وحشیانہ تشدد کر کے گھر سے نکال دیا گیا، 18 دسمبر 2024 کو بالاسور میں عیسائی نوجوان کی تدفین روکی گئی، قبائلی عیسائیوں کو بائیکاٹ اور دھمکیوں کا سامنا، بھارتی پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے،ضلع گجپتی میں 22 مارچ 2025 کو جوبا کیتھولک چرچ پر پولیس نے دھاوا بولا،خواتین اور بچیوں پر حملہ، دو پادریوں کو پاکستانی کہہ کر بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ضلع گجپتی میں پولیس نے پادری کا کندھا توڑ دیا، خواتین کی چادریں پھاڑ دیں ،عیسائی مذہبی علامات کی بے حرمتی کی گئی،دیگر متعدد دیہاتوں میں مسیحیوں کو گاؤں کے قبرستان میں تدفین سے روکا گیا، جنگلوں میں لاشیں دفنانے پر مجبور کیا گیا،

    بھارت میں اقلیتیں جبر کا شکار ہیں جبکہ ریاستی مشینری خاموش تماشائی ہے، شکایات کے باوجود کسی اہلکار کے خلاف کاروائی نہیں ہوئی، مقامی اخبارات نے عیسائیوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی خبریں شائع کیں، تین نسلوں سے مسیحی برادری کو اب "غیر روایتی” قرار دے کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، بھارتی جریدے کرسچینٹی ٹوڈے نے ریاست اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف بدترین تشدد کو آشکار کیا،ریاست اڑیسہ فرقہ وارانہ تشدد کے دہانے پر ہے، ضلع نابرانگپور میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے انکشاف کیا کہ پولیس اہلکار اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ہو کر مظالم میں کردار ادا کرتے ہیں،رپورٹ کے مطابق: قبائلی عیسائیوں پر حملوں میں فرقہ وارانہ تعصب اور ذات پات پر مبنی ذہنیت ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے، مودی سرکار کے دور میں انصاف دفن، قانون ہندو انتہاپسندوں کا محافظ بن گیا،بھارت میں مذہبی آزادی محض دکھاوا، اقلیتیں ریاستی ظلم کی زد میں ہیں،مودی سرکار کے دور میں اقلیتوں کی مذہبی آزادی مکمل خطرے میں جبکہ مودی اپنی جھوٹی تشہیر میں مصروف ہے

  • مودی راج، 11سالہ دور جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر قائم

    مودی راج، 11سالہ دور جھوٹ اور فریب کی بنیاد پر قائم

    نااہل مودی حکومت جھوٹ پر مبنی بیانیے،حقائق چھپانےاور میڈیا کے ذریعے سچ کو دفنانے میں مہارت رکھتی ہے

    مودی کی قیادت میں سچ، احتساب اور شفافیت غائب، صرف فوٹو شوٹس اور جھوٹے اشتہارات باقی ہیں،احمدآباد طیارہ حادثہ میں 270 سے زائد ہلاکتیں ہوئیں، مگر مودی سرکار کی جانب سے صرف خاموشی اور بے حسی سامنے آئی،مودی راج میں نئے ائیرپورٹس کے افتتاحی فیتے تو کاٹے جا رہے ہیں، مگر DGCA میں 48فیصد اور ایوی ایشن اداروں میں 37فیصد آسامیاں خالی ہیں،بھارتی سول ایوی ایشن کا نظام شدید عملے کی کمی کا شکار ہے،

    2017 سے 2022 کے درمیان 244 ریلوے بڑے حادثات ہوئے،لیکن مودی کی توجہ صرف بھارت کی نئے ٹرینوں کی افتتاحی تقریبات پر رہی،اشتہاروں میں "شائننگ انڈیا”، لیکن حقیقی بھارت بھوک، غربت اور افلاس کا شکار رہی، بھارت ہنگر انڈکس میں 127 میں سے 105 پر آچکا ہے،مودی نے 2016 میں نوٹ بندی کو ’ماسٹر سٹروک‘ فیصلہ کہا لیکن آج بھی آڈٹ کا کہیں ذکر تک نہیں،مودی راج میں سوال پوچھنے والا ’غدار‘، بھارت صحافتی آزادی میں 151 ویں نمبر پر پہنچ چکا ہے، مودی کا "گودی میڈیا”صرف جھوٹ دکھانے میں مصروف ہے،کورونا میں صرف انسان نہیں مرے، سچ بھی دفن ہوا, مودی کے اپنے گجرات میں اموات 33 گنا زیادہ، سرکاری گنتی فراڈ نکلی،مودی سرکار نےپارلیمنٹ کو آج تک نہیں بتایا کہ لاک ڈاؤن میں کتنی چھوٹی صنعتیں بند ہوئیں، کتنے مزدور بے روزگار ہوئے، سچ آج بھی دفن ہے

    پلوامہ حملے میں 40 بھارتی جوان ہلاک ہوئے، مگر 6 سال بعد بھی نہ انصاف ملا، نہ سچ سامنے آیا ،پلوامہ اور پہلگام حملوں پر صرف مودی نے اپنی سیاست چمکائی ، کمبھ میلہ بھگدڑ کی اموات پر بھی مودی نے عوام کو گمراہ کیا،بھارتی حکومت نے 37 اموات بتائیں، ، بی بی سی رپورٹ کے مطابق 82 افراد جان سے گئے،پہلگام حملے پر بھی مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے عوام کوگمراہ کیا، سیاحوں کی سیکورٹی مکمل طور پر ناکام ہو چکی تھی،

    مودی سرکار کی سفارتی ناکامی واضح ، کینیڈا سے تعلقات کشیدہ، نجر قتل پر خاموشی،مودی کا دور بھارت کی ناکامی کا دور ثابت ہو رہا ہے،

  • حملوں کے باوجود ایران کی جوہری صلاحیت برقرار رہنے کا خدشہ

    حملوں کے باوجود ایران کی جوہری صلاحیت برقرار رہنے کا خدشہ

    واشنگٹن: عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملوں کے باوجود ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ امریکی حملوں نے ایران کے یورینیئم کی افزودگی کے عمل کو متاثر کیا ہے، مگر ایران کی ایٹمی پروگرام کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا ابھی ممکن نہیں ہوا۔

    اسکائی نیوز کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ایڈیٹر ٹام کلارک کے مطابق، پینٹاگون نے بتایا ہے کہ ایران کی تین بڑی ایٹمی تنصیبات پر حملے کے لیے 125 جنگی طیارے، بحری جہاز اور آبدوزیں استعمال کی گئیں۔ تاریخ میں پہلی بار بی-2 بمبار طیاروں کو اتنی بڑی تعداد میں تعینات کیا گیا، جنہوں نے نطنز اور فردو کے ایٹمی پلانٹس پر 14 "GBU-57 بنکر بسٹر” بم گرائے۔پینٹاگون کے مطابق، فردو کمپلیکس جو کہ پہاڑ کے اندر 80 سے 90 میٹر کی گہرائی میں واقع ہے، اسرائیلی حملوں سے محفوظ تھا، مگر امریکی حملوں کے بعد سیٹلائٹ تصاویر میں پہاڑ میں تین مقامات پر بڑے شگاف دیکھے گئے ہیں۔ ایران نے اس حوالے سے کہا ہے کہ یہ صرف بالائی سطح پر نقصان ہے اور اندرونی تنصیبات محفوظ ہیں۔

    امریکی حملوں کا بنیادی مقصد زیر زمین موجود ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا تھا تاکہ ایران یورینیئم کو اس حد تک افزودہ نہ کر سکے جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے ضروری ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت ختم نہیں ہوگی، کیونکہ ایران کے پاس انتہائی معیاری یورینیئم افزودگی کے جدید نظام، بارودی مواد کے دیگر پیچیدہ نظام اور ٹیکنالوجی موجود ہے، جن کے خاتمے کے بغیر اس کا جوہری پروگرام برقرار رہے گا۔ماہرین نے مزید کہا کہ امریکی حملوں کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے وقت درکار ہے، کیونکہ یہ حملے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • امریکی صدر  کا ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ

    امریکی صدر کا ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ

    مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں موجودہ نظام حکومت کی تبدیلی کا کھل کر مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اگرچہ "رجیم چینج” کی اصطلاح سیاسی طور پر درست نہیں سمجھی جاتی، مگر اگر موجودہ ایرانی حکومت ملک کو عظیم نہیں بنا سکتی تو پھر نظام کی تبدیلی کیوں نہیں ہونی چاہیے؟

    صدر ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حالیہ امریکی فضائی حملے کی کامیابی کو ایک شاندار فوجی کارنامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے نہایت بہادری اور ذہانت کا مظاہرہ کیا اور حملے میں ایک ایسا بم ایران کے ہاتھ سے چھین لیا جو اگر انہیں موقع ملتا تو وہ ضرور استعمال کرتے۔انہوں نے مزید کہا، "ہماری فوج نے مکمل اور فیصلہ کن فتح حاصل کی، ہماری ناقابلِ یقین فوج کا شکریہ، انہوں نے حیرت انگیز کام کیا، یہ واقعی خاص تھا۔”

    ایران میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے جاری حملوں، معاشی بحران، بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ اور ممکنہ عوامی احتجاج کے تناظر میں سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر تہران میں نظام حکومت کی تبدیلی ہوتی ہے تو اقتدار کے لیے ممکنہ متبادل کون ہوسکتا ہے؟ماہرین کے مطابق، ایران کے اندر مختلف سیاسی اور نسلی دھڑے موجود ہیں، جن کے درمیان اختلافات ہیں، اور ان کا اتحاد نظام کی تبدیلی کے عمل میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، یہ بھی دیکھا جانا باقی ہے کہ آیا بیرونی دباؤ اور اندرونی مخالفت مل کر تہران کی حکومت کو حقیقی طور پر بدل سکیں گی یا نہیں۔

  • امریکہ پر ایران کی جانب سے سائبر حملوں کا خطرہ،الرٹ جاری

    امریکہ پر ایران کی جانب سے سائبر حملوں کا خطرہ،الرٹ جاری

    واشنگٹن: ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں کے فوری بعد امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران سے وابستہ ہیکرز امریکی نیٹ ورکس پر سائبر حملے کرسکتے ہیں۔ امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اس ضمن میں ایک نیشنل ٹیررازم ایڈوائزری سسٹم کے تحت تھریٹ الرٹ بھی جاری کیا ہے۔

    اس تھریٹ الرٹ میں کسی خاص سائبر حملے کی واضح دھمکی کا ذکر تو نہیں کیا گیا، تاہم محکمے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایرانی ہیکرز امریکہ کے حساس نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر پر ہلکی سطح کے سائبر حملے کر سکتے ہیں، جو معلوماتی نظام اور آن لائن خدمات کو متاثر کر سکتے ہیں۔محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے اپنی جاری کردہ وارننگ میں واضح کیا کہ ایرانی حکومت سے منسلک مختلف سائبر گروپس بھی امریکی اداروں اور حکومتی محکموں کے خلاف کارروائیاں کر سکتے ہیں، خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جنہیں ایران 2020 میں ایک اہم ایرانی فوجی کمانڈر کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتی ہے۔

    امریکی حکام نے بتایا ہے کہ تمام متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیاں اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور ممکنہ سائبر خطرات کے پیش نظر اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی سائبر حملے کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔

    یہ دھمکی اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی شدید ہو گئی ہے اور واشنگٹن نے ایران کے تین جوہری مقامات پر فضائی حملے کیے ہیں، جن کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے تھے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی صورتحال میں سائبر سکیورٹی کو ہر قیمت پر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ امریکہ کے اہم نیٹ ورک اور انفراسٹرکچر محفوظ رہ سکیں۔

  • وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ،پاکستان

    وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ،پاکستان

    اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ہوا،سیکیورٹی کونسل کا اجلاس ایران کی درخواست پر بلایاگیا.

    پاکستان ، چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد کا مسودہ پیش کردیا،قراردادمیں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی جائے،ایران،عراق،کویت کوسلامتی کونسل کےاجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے،

    سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نےسلامتی کونسل اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ صرف اور صرف امن قائم ہو،میری اپیل پر توجہ نہیں دی گئی اور ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکا نے حملہ کردیا، اب ہم ادلے کے بدلے کے چکر میں گھرتے جا رہے ہیں، ایران کے جوہری پروگرام پر جامع مذاکرات ہونے چاہئیں،ہمیں ایک قابل اعتبار حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے،تمام ممالک صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، امن کو موقع دینے کے بجائے ایران پر حملہ کردیاگیا،ایران کواین پی ٹی معاہدہ کااحترام کرنا چاہیے

    پاکستانی مندوب عاصم افتخار نےسلامتی کونسل سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران کی بھر پور حمایت کرتے ہیں، سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں،سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے پر شکر گزار ہیں، عالمی امن وسلامتی کیلئے پاکستانی قیادت متحرک رہی ہے،تمام مسائل اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہونے چاہئیں،مزید حملوں کے خطے میں بہت منفی اثرات مرتب ہونگے، 13جون سے لیکر اب تک ایران پر تمام حملوں کی مذمت کرتے ہیں،تمام فریقوں کوعالمی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے،وقت آگیا ہے سیکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داریاں ادا کرے

    ایرانی مندوب کا کہنا تھا کہ ایران میں معصوم شہریوں اور سول املاک کو نشانہ بنایا گیا، امریکی حملے سے قیام امن کی سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا، اسرائیل کے جھوٹے موقف پر آنکھیں بند کرکے اعتبار کیا گیا، اسرائیل نے این ٹی پی میں شمولیت سے انکار کیا، ایران نے ہمیشہ سفارتی کوششوں کی حمایت کی، ہم نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے تحفظ کے لیے اقدامات کیے،اسرائیل اور امریکا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی، امریکا اور اسرائیل کے الزامات بے بنیاد ہیں، امریکا کی سیاسی تاریخ پر ایک اور سیاہ دھبہ لگ گیا ہے، نیتن یاہو امریکا کی خارجہ پالیسی کو ہائی جیک کرنے میں کامیاب رہا، امریکی حملوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا،جنگی مجرم نیتن یاہوامریکا کوجنگ میں دھکیلنے میں کامیاب ہوا ہے،ایران کوبین الاقوامی قانون امریکی حملے کیخلاف دفاع کاحق دیتا ہے،ایران کے خلاف تمام امریکی الزامات بے بنیاد ہیں،ایران کوامریکی جارحیت کے خلاف دفاع کاحق حاصل ہے،ایران کے جواب کی نوعیت اوروقت کافیصلہ ہماری مسلح افواج کریں گی،