Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا میں اگر فورس لوڈشیڈنگ بند نہ ہوئی تو موٹر وے بند کریں گے، اسد قیصر

    خیبر پختونخوا میں اگر فورس لوڈشیڈنگ بند نہ ہوئی تو موٹر وے بند کریں گے، اسد قیصر

    اسلام آباد : سابق اسپیکر قومی اسمبلی و رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ایران پر جو حملہ کیا ہے اور ایران نے جس طرح جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنا حقِ دفاع استعمال کیا ہے، ہم اس میں اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں اور ان کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس موقع پر ایران کا ساتھ دینا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پر بدترین ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے بچوں، عورتوں، بزرگوں، اسپتالوں اور اسکولوں تک کو نہیں چھوڑا۔ اس نسل کشی پر دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور جمہوریت کی دعویدار ریاستیں مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر امتِ مسلمہ کی خاموشی انتہائی معنی خیز اور افسوسناک ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتِ پاکستان فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے مؤثر سفارتی کوششیں کرے۔

    اسد قیصر نے کہا کہ مجھ سے قبل خواجہ آصف صاحب نے لمبی چوڑی تقریر کی جس میں انہوں نے اشاروں، کنایوں اور براہ راست ہمارے قائد عمران خان پر تنقید کی۔ عمران خان وہ لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کو عالمی سطح پر عزت دی، ورلڈ کپ جتوایا، شوکت خانم اسپتال اور جدید تعلیمی ادارے قائم کیے، اور سب سے بڑھ کر قومی سلامتی و خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ 2019 میں جب بھارت نے پلوامہ واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو عمران خان نے پارلیمان میں واضح اعلان کیا کہ اگر بھارت حملہ کرے گا تو ہم جواب پہلے دیں گے، اور دنیا نے دیکھا کہ ہم نے منہ توڑ جواب دیا۔
    انہوں نے خیبر پختونخوا کے مالیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کا این ایف سی ایوارڈ میں حصہ 14 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد ہونا چاہیے تھا، لیکن آج تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں کی گئی۔ میاں شہباز شریف جب خیبر پختونخوا آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے مد میں آپ کو ایک فیصد اضافی حصہ ملتا ہے، لیکن وہ 4.84 فیصد سالانہ حصہ، جو 381 ارب روپے بنتا ہے، وہ تاحال نہیں دیا جا رہا۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کو سالانہ ہائیڈل پرافٹ کی مد میں ملنے والی اربوں روپے کی رقم بھی روکی گئی ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف کو ووٹ دیا ہے، ان کے آئینی حقوق ضبط کر لیے جائیں؟

    اسد قیصر نے صوابی اور دیگر علاقوں میں بجلی کی بدترین صورتحال پر کہا کہ اس عید پر خیبر پختونخوا کے عوام خصوصاً صوابی کے عوام کے لیے عید عذاب بن گئی۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی دی گئی، جس کی وجہ سے قربانی کا گوشت خراب ہوا اور عوام شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ حکومت کی طرف سے بارہا اعلانات ہوئے کہ عید پر لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ بجلی کا نظام چونکہ وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اس لیے احتجاج کا رخ ہمارے گھروں اور وزراء کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ فورس شیڈنگ NTDC کے ذریعے کی جاتی ہے اور موجودہ حکومت نے بجلی کے نظام میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کی۔ عمر ایوب خان کے دور میں دو نئے گریڈ اسٹیشنز کے لیے فنڈز مختص کیے گئے، لیکن موجودہ حکومت نے پورے خیبر پختونخوا کے لیے PSDP میں صرف 55 کروڑ روپے رکھے، جن کے اخراجات بھی مشکوک ہیں۔ ہم آئینی حق مانگ رہے ہیں، اور اگر حالات جوں کے توں رہے تو ہم اپنے عوام کے ساتھ موٹر وے پر دھرنا دیں گے۔

    فاٹا کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انضمام کے بعد وفاق نے اپنی ذمہ داریاں خیبر پختونخوا پر ڈال دیں، مگر وسائل کی تقسیم میں ناانصافی جاری ہے۔ فاٹا کے لوگ دہائیوں سے جنگ، دہشت گردی اور ہجرت کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔ اب ان پر 10 فیصد مجوزہ ٹیکس عائد کرنا ظلم کے مترادف ہے۔ ہم وزیر خزانہ سسے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مجوزہ ٹیکس کو واپس لیا جائے اور فاٹا کے لیے خصوصی ترقیاتی اقدامات کیے جائیں۔

    خطاب کے اختتام پر اسد قیصر نے تمباکو کے کاشتکاروں کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس علاقے سے میں، شہرام ترکئی، مردان، چارسدہ اور نوشہرہ کے ممبران اسمبلی تعلق رکھتے ہیں، وہ تمباکو کی پیداوار کا مرکز ہیں۔ پاکستان میں سالانہ تقریباً 110 ملین کلو گرام تمباکو پیدا ہوتا ہے، جس کا 55 فیصد صرف صوابی میں اگایا جاتا ہے۔ تقریباً 70 ہزار خاندان اس فصل سے وابستہ ہیں، اور حکومت کو اس شعبے سے سالانہ 300 ارب روپے آمدن حاصل ہوتی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان ٹوبیکو بورڈ کے ڈائریکٹرز کا تقرر تاحال نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے تمباکو کی کم از کم قیمت مقرر نہیں ہو سکی اور کمپنیاں کسانوں کا استحصال کر رہی ہیں۔ میں خواجہ آصف صاحب کو بتانا چاہتا ہوں کہ میرا تمباکو کے کاروبار سے کوئی ذاتی مفاد نہیں، لیکن میں اپنے حلقے کے عوام کے روزگار کا تحفظ ہر فورم پر کرتا رہوں گا۔

  • اسرائیل کا ایران میں 14 منزلہ رہائشی عمارت پر حملہ،60 افراد کی موت

    اسرائیل کا ایران میں 14 منزلہ رہائشی عمارت پر حملہ،60 افراد کی موت

    ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے ہفتہ کو ملکی خبر رساں ایجنسی "مہر” کو بتایا ہے کہ ایران کا فضائی حدود اتوار کی صبح 2 بجے تک (مقامی وقت) بند رہے گا۔ یہ بندش ہفتہ کی شام 6:30 بجے (امریکی مشرقی معیاری وقت) سے نافذ العمل ہے۔

    اسی دن صبح غزہ سے اسرائیل کی جانب دو راکٹ داغے گئے جو کہ دونوں کھلے علاقے میں گرے، جو غزہ کی سرحد کے قریب ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں بتایا کہ "صبح 10:15 بجے غزہ کی سرحد کے قریب علاقوں میں سائرن بجنے کے بعد دو راکٹوں کو دیکھا گیا جو کھلے علاقے میں گرے۔”اس واقعے میں کسی قسم کا جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔غزہ سے راکٹ داغنے کے واقعات اب پہلے کی نسبت کم ہو گئے ہیں کیونکہ اسرائیل مسلسل اس علاقے پر حملے کر رہا ہے، جو گزشتہ 600 دنوں سے جاری ہے۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایک 14 منزلہ رہائشی عمارت تباہ ہو گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 60 افراد مارے گئے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، تہران کے رہائشی کمپاؤنڈ "شہرک شہید چمران” میں یہ عمارت واقع ہے، جہاں امدادی کارکن ملبے تلے سے لاشیں نکال رہے ہیں۔ایران کے مقامی رپورٹر نے بتایا کہ اس عمارت میں 20 بچے بھی مارے گئے ہیں، جن میں 6 ماہ کے ننھے بچوں سمیت مختلف عمر کے بچے شامل ہیں۔ اب بھی 10 لاشیں ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

  • تبریز میں اسرائیلی حملہ،دو افراد شہید،تہران جل جائے گا،اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

    تبریز میں اسرائیلی حملہ،دو افراد شہید،تہران جل جائے گا،اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

    اسرائیل نے ایران کے شمال مغربی شہر تبریز میں واقع ریفائنری کے قریب میزائل حملہ کیا ہے، جب کہ ایران کے مغربی علاقوں میں تین مختلف مقامات پر زور دار دھماکے اور فضائی حملے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں دو افراد کے شہید ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق، تبریز میں زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی۔ واقعے کے بعد آسمان پر دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، حملہ تبریز آئل ریفائنری کے قریب کیا گیا، تاہم ایرانی حکام نے فی الحال حملے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ایرانی مغربی شہر اسد آباد میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں دو افراد شہید اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ ایرانی حکام نے حملے کو "جارحیت” قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران اپنی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی: "تہران جل جائے گا”
    دوسری جانب، اسرائیلی وزیر دفاع نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے”اگر خامنہ ای ایران سے اسرائیل پر میزائل حملے جاری رکھتے ہیں تو ہم تہران کو خاکستر کر دیں گے۔”یہ بیان اسرائیلی میڈیا کے ذریعے جاری کیا گیا ہے اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

    امریکی صحافی کو حملے کی کوریج سے روک دیا گیا
    اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ایک امریکی میڈیا رپورٹر کو تل ابیب میں ایرانی میزائل حملے کے متاثرہ علاقے کی لائیو کوریج سے روک دیا۔ صحافی موقع پر براہ راست حملے کے نقصانات دکھا رہا تھا جب سکیورٹی اہلکاروں نے مداخلت کی اور میڈیا کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب عالمی میڈیا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی کوریج میں مصروف ہے۔ صحافیوں کو کوریج سے روکنے پر انسانی حقوق کے حلقے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • برطانیہ نے اسرائیل کا دفاع کیا تواسے بھی نشانہ بنائیں گے،ایران

    برطانیہ نے اسرائیل کا دفاع کیا تواسے بھی نشانہ بنائیں گے،ایران

    تہران نے برطانیہ، امریکہ اور فرانس کو سخت تنبیہ کی ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں کی حمایت نہ کریں۔

    ایرانی حکام نے کہا ہے کہ اگر یہ ممالک علاقے میں موجود اپنے جہازوں اور فوجی اڈوں کے ذریعے اسرائیل کی مدد کریں گے تو ایران ان اہداف کو نشانہ بنائے گا۔یہ بیان ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے رپورٹ کیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ تہران خطے میں اپنی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے بھرپور ردعمل دے گا۔

    سابق برطانوی سفارتکار لارڈ ریکٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں حکومت کے خلاف عوامی بغاوت کا امکان کم ہے بلکہ اس کے برعکس ایرانی عوام اپنے حکمرانوں کے ساتھ زیادہ متحد ہو سکتے ہیں۔لارڈ ریکٹز، جو 2010 سے 2012 تک برطانیہ کے پہلے قومی سلامتی مشیر رہے، کا کہنا تھا کہ اگرچہ ایران میں موجودہ نظام بہت ناپسندیدہ ہے، مگر اسرائیل کے حملوں کے فوری اثرات حکومتی قیادت کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
    نیتن یاہو اور اسرائیل کے بہت سے لوگ ایران میں موجود ملاوں کو ختم ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں، جو واقعی وہاں ناپسندیدہ ہیں، مگر میری رائے میں لوگ اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتے۔” "فی الوقت یہ حملہ عوام کو اپنے رہنماؤں کے ساتھ متحد کر دے گا کیونکہ ملک پر اتنے بڑے حملے کے دوران عوام حکومت کا ساتھ دینا چاہے گی۔”

    ایرانی ریاستی ٹی وی کے مطابق، ایرانی دارالحکومت تہران میں اسرائیلی حملے میں 60 افراد ہلاک، جن میں 20 بچے بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایک رہائشی کمپلیکس پر کیا گیا۔

    اسرائیلی ایمبولینس سروس "ماگن ڈیوڈ آدوم” کے مطابق، حملے میں دو افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تقریباً 45 سالہ مرد اور 60 سالہ خاتون شامل ہیں۔ایمبولینس سروس نے بتایا کہ "60 سالہ خاتون کو مردہ حالت میں نکالا گیا جبکہ 45 سالہ مرد کو سی پی آر کے دوران ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں بعد میں اس کا انتقال ہو گیا۔”زخمیوں میں 16 کی حالت ہلکی، دو کی معتدل اور ایک کی حالت سنگین بتائی گئی ہے۔

  • ایران نے شمال مغربی سرحد کے قریب اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا

    ایران نے شمال مغربی سرحد کے قریب اسرائیلی ڈرونز کو مار گرایا

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اسرائیل کے چند ڈرونز کو مار گرایا جو ایران کی شمال مغربی سرحد کے قریب سلمس کے علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ یہ اطلاع ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی نور نیوز نے ہفتہ کے روز دی۔ نور نیوز کے مطابق، "اسلامی جنگجوؤں نے سرحد عبور کرنے والے اسرائیلی ڈرونز کو گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔”

    اسرائیلی فورسز سے اس حوالے سے تاحال کوئی فوری ردعمل موصول نہیں ہوا، مگر ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف اپنے حملوں میں ڈرونز کا وسیع استعمال کیا ہے۔اسرائیلی فضائیہ نے جمعہ کی صبح ایران کے مختلف اہداف پر فضائی حملے کیے جن میں تہران کے قریب میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، انہوں نے ایران کے اندر ایک اڈہ قائم کیا تھا جہاں سے دھماکہ خیز ڈرونز بھیجے گئے۔اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر میجر جنرل تو میر بار نے کہا، "یہ حملے آپریشنل اور قومی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہم نے دشمن کے اسٹریٹجک مقامات اور معلوماتی ذرائع کو نقصان پہنچایا ہے اور آگے بھی پہنچائیں گے۔” انہوں نے بتایا کہ تہران کے دفاعی نظام کو 1,500 کلومیٹر سے زائد فاصلے سے نشانہ بنایا گیا جو پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

    امریکی سفیر مائیک ہیکبی نے اپنی ٹویٹ میں بتایا کہ ایران کی طرف سے میزائل حملوں کی وجہ سے انہیں پانچ مرتبہ بمباری کی پناہ گاہوں میں جانا پڑا۔ انہوں نے کہا، "اسرائیل میں یہ رات بہت مشکل رہی۔” انہوں نے شبت (ہفتہ کا یہودی دنِ آرام) کے حوالے سے کہا کہ عام طور پر یہ دن پرسکون ہوتا ہے مگر اس بار شاید ایسا نہ ہو۔

    اسرائیل کے حملے سے چند روز پہلے، امریکی وزارتِ دفاع اور خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں غیر ضروری امریکی عملے کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ حملے ایران کے جوہری اور فوجی مراکز کو نشانہ بنا کر ایک نیا تنازع شروع کر چکے ہیں، جن میں ایران کے سینئر رہنماؤں سمیت 78 افراد ہلاک اور 320 زخمی ہوئے ہیں۔ایرانی حملوں کے جواب میں اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے کہا کہ ایران نے "سرخ لکیر پار کر دی ہے” اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    سی این این کے ڈیجیٹل فوٹو ٹیم کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے میزائل حملوں نے اسرائیل میں تباہی مچائی ہے۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں تین افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

  • باجوڑ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی  کے گھر پر راکٹ حملہ

    باجوڑ میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کے گھر پر راکٹ حملہ

    باجوڑ: قومی اسمبلی کے رکن اور وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب خان کے گھر پر راکٹ حملہ کیا گیا ہے۔

    پولیس اور مقامی حکام کے مطابق اس حملے میں جانی نقصان نہیں ہوا تاہم گھر کے مین گیٹ کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ڈی پی او باجوڑ نے میڈیا کو بتایا کہ رات کے اوقات میں نامعلوم افراد نے رکن قومی اسمبلی مبارک زیب خان کے گھر پر راکٹ داغا، جس کے باعث گھر کے بیرونی دروازے کو نقصان پہنچا۔ تاہم خوش قسمتی سے اس حملے میں نہ تو کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی کسی قسم کا جانی نقصان ہوا۔پولیس نے فوری طور پر واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حملہ آوروں کو جلد از جلد گرفتار کیا جا سکے۔

    مبارک زیب خان این اے 8 باجوڑ سے آزاد حیثیت میں 2024 کے عام انتخابات میں منتخب ہوئے تھے۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے انہیں معاون خصوصی برائے قومی امور مقرر کیا تھا۔ ان کی سیاسی سرگرمیاں باجوڑ اور خیبر پختونخوا میں خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے واقعے کی مکمل چھان بین کر رہے ہیں اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی قسم کی افواہوں سے گریز کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تحقیقات میں تعاون فراہم کریں۔

  • ایران اسرائیل کشیدگی ،6 ممالک کی فضائی حدود بند، بھارت کی ہوا بازی صنعت شدید متاثر

    ایران اسرائیل کشیدگی ،6 ممالک کی فضائی حدود بند، بھارت کی ہوا بازی صنعت شدید متاثر

    ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث چھ ممالک کی فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں، جس کے باعث عالمی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا ہے۔ اگرچہ پاکستان کا فلائٹ آپریشن محدود سطح پر متاثر ہوا ہے، تاہم بھارت کو ہوا بازی کے شعبے میں بھاری نقصان کا سامنا ہے۔

    ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، حملے کے وقت بھارت کی تقریباً 30 بین الاقوامی پروازوں کا رخ موڑنا پڑا، جبکہ درجنوں پروازیں مکمل طور پر منسوخ کر دی گئیں۔ خاص طور پر دہلی کی دو پروازیں ایران کی فضائی حدود میں داخل ہو چکی تھیں، جنہیں ہنگامی طور پر واپس بلایا گیا۔نیو یارک، واشنگٹن، لندن، وینکور، شکاگو اور ٹورنٹو سے دہلی، ممبئی اور بنگلور جانے والی پروازوں کو ویانا، فرینکفرٹ، جدہ اور شارجہ جیسے متبادل ایئرپورٹس پر اتارا گیا۔ امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور یورپی ممالک کی کئی پروازیں منسوخ کی گئیں۔اب امریکا سے بھارت کی پروازیں کینیڈا، روس، منگولیا، چین، میانمار اور بنگلا دیش سے ہوتے ہوئے منزل تک پہنچ رہی ہیں، جس سے پرواز کے دورانیے میں 3 سے 5 گھنٹے تک اضافہ ہو گیا ہے۔

    پاکستان کی فضائی حدود اگرچہ کھلی ہے، تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ سے جڑی پروازوں میں تاخیر دیکھی گئی۔ نجف سے کراچی، باکو سے لاہور اور کراچی سے جدہ جانے والی کم از کم سات پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں۔غیر ملکی ایئرلائنز کی کویت سے کراچی کی دو پروازیں چھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں۔ دبئی سے کراچی کی دو پروازیں دو گھنٹے لیٹ ہوئیں، جبکہ کراچی سے استنبول آنے اور جانے والی چار پروازیں ایک گھنٹے سے زائد تاخیر سے روانہ ہوئیں۔قومی ایئرلائن کی کراچی سے مسقط جانے والی پرواز پانچ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی، جبکہ شارجہ اور دبئی سے فیصل آباد، سیالکوٹ اور ملتان کی چار پروازیں دو سے تین گھنٹے لیٹ ہوئیں۔

    ایران، عراق، شام، لبنان، اردن اور اسرائیل نے اپنی فضائی حدود مکمل طور پر بند کر رکھی ہیں۔ اسرائیل نے جوابی ایرانی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر سخت سیکیورٹی اقدامات کیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو مزید ممالک اپنی فضائی حدود بند کر سکتے ہیں، جس سے عالمی ہوا بازی پر وسیع تر اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ایران کا اسرائیل پر تازہ میزائل حملہ، جوہری تحقیق مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران کا اسرائیل پر تازہ میزائل حملہ، جوہری تحقیق مرکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ایران نے ہفتہ کی علی الصبح ایک اور بڑا میزائل حملہ اسرائیل پر کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بار اسرائیلی جوہری تحقیق مرکز کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر چوتھی بڑی کارروائی ہے، جو موجودہ کشیدگی کو مزید شدید کرتی جا رہی ہے۔

    ایرانی سرکاری میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیانات کے مطابق، تازہ ترین حملے میں درجنوں بیلسٹک اور کروز میزائل داغے گئے، جن میں سے ایک میزائل تل ابیب کے وسطی علاقے میں اپنے ہدف پر آن گرا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل اسرائیل کے اہم جوہری تحقیق مرکز کو نشانہ بنانے میں کامیاب ہوا۔اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے کئی میزائل اسرائیلی فضائی حدود میں داخل ہوئے، جن میں سے متعدد کو آئرن ڈوم اور دیگر دفاعی نظاموں کے ذریعے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم، فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ میزائل تل ابیب کے مختلف حصوں میں آگرے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ محفوظ پناہ گاہوں میں چلے جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے لیے تیار رہیں۔ سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایمرجنسی سروسز زخمیوں اور نقصانات کی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔

    یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے 200 سے زائد میزائل اور ڈرون حملے کے ذریعے اسرائیل کے خلاف انتقامی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ یہ حملے ایران کے اعلیٰ کمانڈروں کی اسرائیلی کارروائی میں موت کے جواب میں کیے گئے تھے، جنہوں نے ایران کے مطابق "خطرناک حد تک سرخ لائن” عبور کی تھی۔ایران کی جانب سے اب تک کی جانے والی کارروائیوں میں کئی فوجی اور صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اور تازہ حملے میں جوہری مرکز کی تباہی کا دعویٰ اس تنازعے کو نئی اور خطرناک سطح پر لے جا سکتا ہے۔

    اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں مزید دو افراد ہلاک
    اسرائیل کی پیرامیڈک سروس ‘ماگن ڈیوڈ ایڈوم’ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل میں ایرانی میزائل حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔اسرائیل عام طور پر میزائل حملوں کی جگہ ظاہر نہیں کرتا، لیکن اطلاعات کے مطابق یہ حملہ ریشون لیزیون علاقے میں ہوا ہے۔مزید 19 افراد زخمی ہیں جبکہ فائر اینڈ ریسکیو سروس نے بتایا کہ چار گھر شدید نقصان پہنچا ہے۔

  • ایرانی میزائل حملوں‌کے بعد اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس

    ایرانی میزائل حملوں‌کے بعد اسرائیلی کابینہ کا ہنگامی اجلاس

    جمعہ کی شب ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کے دوران امریکہ نے اسرائیل کی فضائی دفاعی نظام کو مدد فراہم کی، دو اسرائیلی ذرائع نے سی این این کو اس بات کی تصدیق کی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نہ صرف امریکہ بلکہ خطے کے دیگر ممالک نے بھی اسرائیلی فضائی دفاع میں تعاون کیا، جس طرح وہ ماضی میں ایران کے حملوں کے دوران کرتے رہے ہیں۔ایک اعلیٰ اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی کابینہ اس وقت ہنگامی اجلاس میں مصروف ہے جس میں ایران کے حالیہ میزائل حملے کے بعد آئندہ کا ردعمل زیر غور ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل 2024 میں بھی ایران نے اسرائیل پر ایک بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا جس میں 300 سے زائد میزائل اور ڈرون شامل تھے ، ان میں تقریباً 170 ڈرونز اور 120 سے زائد بیلسٹک میزائل شامل تھے۔اس وقت اسرائیلی فوج کا دعویٰ تھا کہ اس حملے میں "99 فیصد” میزائل اور ڈرونز کو اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام اور اس کے "اتحادیوں” نے کامیابی سے روک لیا تھا۔اس بار بھی، اسرائیلی ذرائع کے مطابق، امریکہ نے فضائی اور نیول ٹیکنالوجی کے ذریعے اسرائیل کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملے سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ دیگر علاقائی اتحادیوں کی جانب سے بھی دفاعی تعاون کیا گیا، جس کی تفصیلات فی الحال ظاہر نہیں کی گئیں۔اسرائیلی حکام کے مطابق، توقع کی جا رہی ہے کہ اسرائیل اب ایران کے خلاف اپنے حملوں کو مزید "شدید” کرے گا۔ ایک اہلکار نے کہا "یہ صرف ابتدا ہے، ایران کو اس کی جارحیت کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔”

    ایران نے اسرائیل پر 100 سے کم میزائل داغے، چند اہداف کو نشانہ بنایا: اسرائیلی فوج کا دعویٰ
    تل ابیب: جمعہ کی شب ایران نے اسرائیل پر 100 سے کم میزائل داغے، جن میں سے چند نے اپنے ہدف کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی ڈیفنس فورسز کے ترجمان ایفی ڈیفرن نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ ان میں سے بعض "ہٹ” دراصل میزائلوں کو روکنے کے بعد پیدا ہونے والے ملبے سے ہوئی ہیں، نہ کہ براہِ راست ایرانی حملوں سے۔انہوں نے مزید کہا کہ رات کے مزید حصے میں بھی میزائل حملوں کے سلسلے جاری رہنے کا خدشہ ہے۔ اس حوالے سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قریبی محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہیں اور ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔

    ایرانی حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 40 افراد زخمی، متعدد کی حالت تشویشناک
    اسرائیلی ایمرجنسی سروس ماگن ڈیوڈ آدوم نے بتایا ہے کہ جمعہ کی شب ایران کے اسرائیل پر حملوں میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ایمرجنسی سروس کے مطابق زخمیوں میں سے دو افراد کی حالت تشویشناک ہے جبکہ دو دیگر کی حالت درمیانے درجے کی ہے۔ دیگر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔علاوہ ازیں، مختلف اسپتالوں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق زخمیوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ کچھ افراد اب تک MDA کے اعداد و شمار میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔تل ابیب کے سوراسکی میڈیکل سینٹر، شیبا ٹیل ہاشومیر میڈیکل سینٹر اور رابن میڈیکل سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ان تینوں اسپتالوں میں مجموعی طور پر 40 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کے مختلف علاقوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، اور طبی عملہ مسلسل مصروفِ عمل ہے۔

    درجنوں بیلسٹک میزائل کامیابی کے ساتھ اہم اسٹریٹیجک اہداف پر لگے، پاسداران انقلاب
    تہران: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیل کے فوجی مراکز اور فضائی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم نے جدید اسمارٹ اور درست نشانہ لگانے والے میزائل سسٹمز کے امتزاج سے ان فوجی مراکز اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف مجرمانہ جارحیت کا ذریعہ بنے۔”بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حملے میں ان اسرائیلی عسکری و صنعتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو میزائل اور دیگر جنگی سازوسامان تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔
    "فیلڈ رپورٹس، سیٹلائٹ تصاویر اور انٹرسپٹ شدہ انٹیلیجنس سے ظاہر ہوتا ہے کہ درجنوں بیلسٹک میزائل کامیابی کے ساتھ اہم اسٹریٹیجک اہداف پر لگے۔”پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی دعوؤں کے برعکس، دشمن ایرانی میزائل حملوں کی لہروں کا مؤثر طور پر دفاع کرنے میں ناکام رہا۔”یہ آپریشن پوری قوت کے ساتھ جارحانہ انداز میں انجام دیا گیا، جس میں ایران کی تمام مسلح افواج اور ادارے مکمل ہم آہنگی سے شریک تھے۔ اس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سلامتی ہماری سرخ لکیر ہے۔”

  • ایران پر اسرائیلی حملہ،بھارت،اسرائیل گٹھ جوڑ سامنے آ گیا،میجر (ر) ہارون رشید

    ایران پر اسرائیلی حملہ،بھارت،اسرائیل گٹھ جوڑ سامنے آ گیا،میجر (ر) ہارون رشید

    اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، اسرائیل نے ایران کی عسکری قیادت اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے

    اسرائیلی حملے کے حوالہ سے تجزیہ کارمیجر (ر) ہارون رشیدنے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے ایران پر حملہ کرکے خطے میں کشیدگی کی نئی لہر کو جنم دیا ہے، مگر اس حملے کے پیچھے کئی ایسے پوشیدہ حقائق ہیں جن سے آگاہی حاصل کرنا ضروری ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیل نے ایران کی فوجی تنصیبات، اہم شخصیات اور حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ اور اس کے ایجنٹوں کا سہارا لیا۔ بتایا گیا ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے افراد کو را کی نگرانی میں ایران میں تربیت دی جاتی رہی ہے اور انہی کے ذریعے اسرائیل کو زمینی تعاون فراہم کیا گیا۔ایرانی سرزمین کے ان علاقوں میں، جو بظاہر محفوظ سمجھے جاتے تھے، اسرائیلی ڈرونز پہلے سے موجود تھے۔ یہ وہی علاقے ہیں جہاں را کی سرپرستی میں تربیت یافتہ BLA کے افراد کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کی جاتی ہے۔ اس سے ایران کی اندرونی سیکیورٹی پر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

    ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ اسرائیل نے حملے سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کی اطلاع دی، تاہم مودی نے ایران کو مطلع کرنا گوارا نہ کیا۔ ایران جو کہ ماضی میں بھارت کا اتحادی سمجھا جاتا رہا ہے، اس اقدام سے شدید دھوکہ کھایا۔ یہ واقعہ ہندو انتہا پسند سوچ کی اصلیت کو بے نقاب کرتا ہے۔حال ہی میں پاک-بھارت کشیدگی کے دوران ایران نے پاکستان کی کھل کر حمایت نہیں کی۔ اگرچہ پاکستان ہمیشہ ایران کو برادر اسلامی ملک سمجھتا رہا ہے اور اس کے دفاع میں آواز بلند کرتا رہا ہے، مگر ایران کی جانب سے وہ گرمجوشی نظر نہ آئی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔پاکستانی قوم اور ریاستی ادارے ہمیشہ ایران کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ ہم نے ہر جارحیت کی مذمت کی، چاہے وہ اسرائیل کی ہو یا بھارت کی۔ موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان نے ایران پر حملے کی شدید مذمت کی ہے اور مسلم دنیا سے اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایران کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے اصل دوست کون ہیں اور دشمن کون۔ اسے چاہیے کہ اپنی سرزمین سے را اور BLA کے تمام ایجنٹوں کو فوری طور پر بے دخل کرے؛بھارتی اثر و رسوخ کو ختم کرے؛اور چاہ بہار بندرگاہ پر بھارت کے ساتھ جاری تعاون کا از سر نو جائزہ لے۔ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ خطے میں اس کی بقا اور سلامتی پاکستان جیسے مخلص دوستوں کے ساتھ اتحاد میں ہے، نہ کہ موقع پرست اتحادیوں کے ساتھ جنہوں نے آزمائش کے وقت اسے تنہا چھوڑ دیا۔