Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹرمپ،روسی صدر رابطہ،روس کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

    ٹرمپ،روسی صدر رابطہ،روس کی ایران پر اسرائیلی حملوں کی مذمت

    امریکی صدر ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے،

    روس کے سرکاری میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر مفصل گفتگو کی۔ یہ رابطہ تقریباً 50 منٹ تک جاری رہا۔روسی میڈیا کے مطابق، اس گفتگو کے دوران صدر پیوٹن نے ایران پر اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کی شدید مذمت کی اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملے خطے میں مزید تشویش اور عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔

    دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی نازک اور تشویشناک قرار دیا اور خطے میں پرامن حل کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے حوالے سے بین الاقوامی تعاون بہت ضروری ہے۔مزید برآں، امریکی صدر نے اعلان کیا کہ امریکی مذاکرات کار ایرانی نمائندوں کے ساتھ دوبارہ بات چیت اور مذاکرات شروع کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔

    روسی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، جو کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

  • بھارتی سرکاری میڈیا "دور درشن” کی فیک رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کی تعریفیں

    بھارتی سرکاری میڈیا "دور درشن” کی فیک رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کی تعریفیں

    ایران پر اسرائیلی جارحیت، بھارتی سرکاری میڈیا "دور درشن” کی فیک رپورٹنگ کے ذریعے اسرائیل کی تعریفیں سامنے آئی ہیں

    بھارتی چینل نے ایران پر اسرائیلی حملے کی جھوٹی ویڈیو نشر کر کے دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے،دور درشن نے اکتوبر 2024 کی پرانی ویڈیو کو حالیہ واقعہ بنا کر پیش کر دیا،دور درشن کی نیوز کاسٹر کا کہنا تھا کہ: "اسرائیلی حملے سے ایران کانپ اٹھا”

    بھارتی عوام کے ٹیکس سے چلنے والا میڈیا عالمی سطح پر بھارت کو شرمندہ کر رہا ہے،معروف بھارتی مفکر سندیپ منودھنے نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے پر کڑی تنقید کی، سندیب منودھنے کا کہنا تھا کہ "یہ بھارت کا قومی نشریاتی ادارہ ہے، جو عوام کے ٹیکس سے چلتا ہے” "ایران بھارت کا دوست ہے، اور بھارت وہاں بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے””ایسے حساس موقع پر جھوٹی ویڈیو چلانا غیر ذمہ دارانہ صحافت ہے”، ایران کے خلاف منفی تاثر پیدا کرنا بھارت کی دوغلی سفارت کاری کو ظاہر کرتا ہے،

    بھارتی سرکاری میڈیا کی حرکت سے خطے میں کشیدگی کو ہوا مل سکتی ہے،صحافتی ذمہ داری سے عاری رپورٹنگ نے بھارت کے ریاستی اداروں پر سوالات اٹھا دیے، سندیپ منودھنے کی بات نے بھارتی میڈیا کی ساکھ کو جھنجھوڑ دیا، بھارتی میڈیا اسرائیلی بیانیے کو بڑھاوا دے رہا ہے،دور درشن جیسے چینل مودی کی زبان بولتے ہیں،مودی سرکار کو چاہیے کہ وہ پاکستان کیخلاف جھوٹی رپورٹنگ سےسبق سیکھے،ایرانی عوام اور ریاست نے بھارتی میڈیا کی رپورٹنگ پر سخت تحفظات کا اظہار کیا، گودی میڈیا ٹی آر پی کے چکر میں امن کا بڑا دشمن ہے،فیک نیوز پھیلانا نہ صرف صحافتی جرم ہے بلکہ سفارتی جرم ہے،عالمی میڈیا بھارتی ریاستی میڈیا کے جھوٹوں سے واقف ہو چکا ہے

  • برطانیہ مشرق وسطیٰ میں جنگی طیارے بھیج رہا ہے، کیئر اسٹارمر کا اعلان

    برطانیہ مشرق وسطیٰ میں جنگی طیارے بھیج رہا ہے، کیئر اسٹارمر کا اعلان

    برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہاں لڑاکا طیارےبھیج رہا ہے۔ یہ اعلان برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کیا ہے، جو فی الحال G7 اجلاس کے لیے جا رہے تھے۔

    مشرق وسطیٰ کی تازہ کشیدگی کے دوران ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر برطانیہ، امریکہ اور فرانس ایران کے خلاف اسرائیل کی مدد کریں گے تو ان ممالک کے فوجی اڈے حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ ایسے نازک حالات میں برطانیہ نے اپنی عسکری حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ "یہ آپریشنل فیصلے ہیں اور صورتحال مسلسل بدل رہی ہے، اس لیے میں تفصیلات میں نہیں جاؤں گا۔”

    سر کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ "ہم نے پہلے ہی علاقے میں اپنی عسکری اثاثے بھیجنا شروع کر دیے ہیں، جن میں لڑاکا طیارے بھی شامل ہیں، تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں معاونت فراہم کی جا سکے۔”یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی شدید ہو گئی ہے، خاص طور پر ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازعے کی وجہ سے۔ برطانیہ، امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک اپنے فوجی اثاثے متحرک کر کے علاقے میں ممکنہ خطرات کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔

    ایران نے حال ہی میں اسرائیل پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران نے برطانیہ، امریکہ اور فرانس کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے خلاف اسرائیل کی مدد کریں گے تو وہ ان کے مشرق وسطیٰ میں موجود فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔برطانیہ کی حکومت اس وقت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے اپنے فوجی اثاثے مشرق وسطیٰ بھیجنے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

  • اسلام آباد سے تاشقند، ازبکستان ایئرلائن کی افتتاحی پرواز کی تقریب

    اسلام آباد سے تاشقند، ازبکستان ایئرلائن کی افتتاحی پرواز کی تقریب

    اسلام آباد – پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کے زیرِ اہتمام ازبکستان ایئرلائن کی اسلام آباد سے تاشقند کے لیے براہ راست پرواز (HY466) کی افتتاحی تقریب شاندار انداز میں منعقد ہوئی، جو پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان فضائی روابط کو فروغ دینے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔

    افتتاحی پرواز ایک بجکر نو منٹ پر 126 مسافروں کے ساتھ روانہ ہوئی۔ چیک ان زون ون میں کیا گیا، جسے خوشنما غباروں اور تہوار جیسی سجاوٹ سے سجایا گیا تھا۔تقریب میں ازبکستان، تاجکستان، قازقستان اور آذربائیجان کے معزز سفرا نے شرکت کی۔ چیف آپریٹنگ آفیسر/ایئرپورٹ مینیجر، منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن، اور ازبکستان ایئرلائن کے کنٹری منیجر بھی موجود تھے۔معزز مہمانوں نے اسٹینڈ نمبر تین پر مسافروں کا گرمجوشی سے استقبال کیا، اور لاؤنج ( اے فائیو) کے میں کیک کاٹنے کی رسمی تقریب منعقد ہوئی۔پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی عالمی فضائی شراکت داری کے فروغ اور عالمی معیار کی مسافر خدمات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔

  • ہم آیت اللہ  حکومت کے ہر مقام اور ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے،اسرائیلی وزیراعظم

    ہم آیت اللہ حکومت کے ہر مقام اور ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہفتہ کے روز ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اسرائیل جلد ہی ایران کے ہر ہدف پر حملہ کرے گا، کیونکہ دونوں دیرینہ دشمنوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ "بہت جلد آپ اسرائیلی فضائیہ کے بہادر پائلٹس کو تہران کے آسمانوں پر پرواز کرتے دیکھیں گے۔”انہوں نے کہا، "ہم آیت اللہ حکومت کے ہر مقام اور ہر ہدف کو نشانہ بنائیں گے۔”اسرائیلی وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسرائیل کا مقصد ایران کے "دوہرے خطرے” کو ختم کرنا ہے، جس میں تہران کی جوہری صلاحیتیں اور بیلسٹک میزائل کا ذخیرہ شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے پہلے ہی ایران کے اہم جوہری مرکز کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ "ہم نے یورینیم کی افزودگی کے اہم مرکز پر حملہ کیا ہے جو بم بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ہم نے ان سائنسدانوں کی ٹیم کو بھی نشانہ بنایا جو ان منصوبوں کی قیادت کر رہے تھے۔ یہ حملے ایران کو کئی سالوں تک پیچھے دھکیل سکتے ہیں۔”

    یہ بیان نیتن یاہو کے جمعہ کی رات ایرانی عوام سے براہ راست خطاب کے بعد آیا، جس میں انہوں نے ایرانیوں پر زور دیا کہ وہ اپنی آواز بلند کریں کیونکہ مزید حملے متوقع ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی دفاعی فورسز کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ اب اسرائیلی طیارے تہران کے فضائی حدود میں بلا روک ٹوک پرواز کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ایران کے کئی فضائی دفاعی نظاموں کو تباہ کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرن نے ہفتہ کو بریفنگ میں کہا، "ہم نے مغربی ایران سے تہران تک فضائی آزادی حاصل کر لی ہے۔”انہوں نے کہا، "ہمارے پائلٹس دو سے ڈیڑھ گھنٹے تک تہران کے اوپر پرواز کرتے رہے، ساتھ ہی بغیر پائلٹ کے طیارے چوبیس گھنٹے فضاء میں رہ کر نگرانی کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی حملے اور انٹیلی جنس جمع کر رہے ہیں۔”ڈیفرن نے کہا کہ اس فضائی برتری کی بدولت اسرائیل نے ایران پر اچانک حملے کیے اور اسرائیل کو درپیش خطرات کو ناکام بنایا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ شب 70 سے زائد اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے تہران اور اس کے گرد و نواح میں 40 اہداف کو نشانہ بنایا۔ڈیفرن نے کہا، "یہ پہلی بار ہے کہ ہم ایران کی فضائی حدود میں اس قدر گہرائی تک داخل ہوئے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "ہمارے پہلے حملوں نے ایران کے کئی فضائی دفاعی نظاموں کو ختم کر دیا، جس کے باعث درجنوں طیارے اب تہران کے اوپر بلا روک ٹوک پرواز کر رہے ہیں۔”

  • ایرانی جوابی کاروائی،اسرائیلیوں نے "سب سے خوفناک”رات قرار دے دیا

    ایرانی جوابی کاروائی،اسرائیلیوں نے "سب سے خوفناک”رات قرار دے دیا

    جمعہ کی رات سے لے کر ہفتے تک اسرائیلی شہریوں کو شدید خوف اور بے چینی کا سامنا کرنا پڑا، جب ایران کی جانب سے کئی لہروں میں میزائل حملے کیے گئے جس کی وجہ سے ملک بھر میں ایئر ریڈ سائرنز بج اٹھیں اور کئی جگہوں پر وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی۔ ان حملوں میں چار افراد ہلاک ہو گئے۔

    رمت گن کی رہائشی جولی لیوی نے رات کو ایک “سب سے زیادہ خوفناک” تجربہ قرار دیتے ہوئے بتایا، "ہم نے کئی دھماکوں کی آواز سنی، کچھ دھماکے ہمارے قریب تھے جس کی وجہ سے ہمارے حفاظتی کمرے کا دروازہ ہل رہا تھا۔” جمعہ کی شام ایک میزائل حملے میں 60 سالہ خاتون کی موت کا مقام ان کے قریب تھا۔عویاد کسپی، جو اشدود کے قریب بیتزارون کی چھوٹی کمیونٹی میں رہتے ہیں، نے کہا کہ اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ بار بار حفاظتی پناہ گزینی کی کوشش کے بعد دھماکوں کی آوازیں سن کر وہ حملوں کی شدت سے دنگ رہ گئے۔ اشدود اسرائیل-غزہ سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    ہفتے کی صبح ریشون لیتزیون میں میزائل کے بعد ہونے والے نقصان کی تصاویر دیکھ کر کسپی نے کہا، "یہ حملے حماس کے راکٹ حملوں سے کہیں زیادہ شدید اور مختلف نوعیت کے تھے۔” انہوں نے اس رات کو "بہت مشکل” قرار دیا۔

    تل ابیب کے مضافات میں واقع شیبا میڈیکل سینٹر میں طبی عملے نے مریضوں کو محفوظ زیر زمین علاقوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ممکنہ ایرانی جوابی حملوں سے ان کی حفاظت کی جا سکے۔ ویڈیو فوٹیج میں دیکھا گیا کہ مریضوں کو محفوظ زیر زمین سہولیات میں منتقل کیا جا رہا ہے اور طبی سامان کو بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔اس میڈیکل سینٹر نے بتایا کہ وہ ایرانی حملوں میں زخمی متعدد مریضوں کا علاج کر رہا ہے ،ملک بھر کے ہسپتال مریضوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں انہیں بچایا جا سکے۔

    یہ حملے ایران کی جانب سے اسرائیل کے جمعہ کو کیے گئے غیرمعمولی حملے کے بعد شروع ہوئے، جس میں ایران کے اہم نیوکلیئر اور عسکری مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا اور متعدد سینئر فوجی قائدین مارے گئے تھے

  • عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات منسوخ

    عمان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری مذاکرات منسوخ

    امریکہ اور ایران کے درمیان آئندہ جوہری مذاکرات کا دور، جو اس اتوار کو عمان کے دارالحکومت مسقط میں منعقد ہونا تھا، منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس بات کی تصدیق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کی ہے۔

    وزیر خارجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا "ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات جو اس اتوار کو مسقط میں ہونے تھے، اب منعقد نہیں ہوں گے، لیکن سفارت کاری اور مکالمہ ہی پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔”

    یہ مذاکراتی عمل کا چھٹا دور ہونا تھا، جس کی میزبانی عمان کر رہا تھا اور اس عمل میں ثالثی کا کردار بھی ادا کر رہا تھا۔ تاہم حالیہ دنوں میں اسرائیل کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے حملوں نے اس عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کچھ روز قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہنے کے دوران ایسے مذاکرات "ناقابلِ جواز” ہیں۔ اگرچہ انہوں نے مذاکرات کی مکمل منسوخی کا اعلان نہیں کیا تھا، تاہم ان کا رویہ اس جانب اشارہ کر رہا تھا کہ ایران فی الحال مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ منسوخ ہونا خطے میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ کی ثالثی کی کوششیں بھی بار آور ثابت نہیں ہو رہیں۔

  • ایرانی میزائل حملوں میں چار اسرائیلی ہلاک،اسرائیلی فوجیوں سمیت 90 زخمی

    ایرانی میزائل حملوں میں چار اسرائیلی ہلاک،اسرائیلی فوجیوں سمیت 90 زخمی

    ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے، جہاں ایران نے اپنے دعوے کے مطابق "وعدہ صادق سوم” آپریشن کے تحت اسرائیل پر بھرپور میزائل حملے کیے ہیں۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں اب تک 4 اسرائیلی ہلاک اور 90 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

    گزشتہ روز اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر شدید فضائی حملے کیے گئے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی سخت کارروائی کی۔ ایرانی فوج نے 200 سے زائد بیلسٹک میزائل اسرائیل کے مختلف اہداف پر داغے، جن میں تل ابیب، حیفہ اور دیگر اہم شہروں کے فوجی اڈے، جوہری تحقیقی مراکز اور دفاعی صنعتی ادارے شامل تھے۔تل ابیب کے جنوب میں ایرانی میزائل حملے میں تین اسرائیلی شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جس کی اسرائیلی میڈیا نے بھی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے تل ابیب کے سات مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ساحلی شہر حیفہ اور دیگر شہروں میں ایئر الرٹس بجنے شروع ہو گئے۔

    ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈر جنرل وحیدی نے اعلان کیا کہ "وعدہ صادق سوم” آپریشن جاری رہے گا جب تک کہ اسرائیل پر حملے نہ روک دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی میزائل حملوں کا ہدف صہیونی حکومت کے اہم فضائی اڈے اور دفاعی صنعتی مراکز ہیں۔

    دوسری جانب ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک جدید اسرائیلی ایف-35 جنگی طیارہ بھی مار گرایا ہے۔ مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی فضائی دفاعی یونٹ نے مغربی فضائی حدود میں اسرائیلی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنایا، جس کا پائلٹ گرنے سے قبل کامیابی سے باہر نکلا مگر ایرانی کمانڈوز نے اسے گرفتار کرلیا۔

    اس سے قبل، اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے مختلف شہروں پر حملے کیے تھے جن کے نتیجے میں 9 ایرانی سائنسدانوں اور عسکری قیادت سمیت 80 سے زائد افراد شہید ہو گئے تھے۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں وعدہ صادق سوم کے تحت بھرپور کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

  • پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

    پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم کا ایرانی صدر سے رابطہ

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے آج شام اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان، اسرائیل کی بلا اشتعال اور بلاجواز جارحیت پر، حکومت ایران اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی میں کھڑا ہے۔

    انہوں نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی، جو اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں، اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق حاصل ہے.

    حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر صدر پیزشکیان سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایران کے لیے پاکستان کی حمایت کا ذکر کیا۔ وزیر اعظم نے اسرائیل کی اشتعال انگیزی اور مہم جوئی کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

    انہوں نے اسرائیل کی جانب سے بہادر فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ نسل کشی کی بلا روک ٹوک کارروائیوں کی بھی شدید مذمت کی۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے جارحانہ رویے اور اس کے غیر قانونی اقدامات کے خاتمے کے لیے فوری اور قابل اعتبار اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے فروغ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس تناظر میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

    صدر پیزشکیان نے اس مشکل وقت بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایران کے ساتھ پاکستان کی حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کو اسرائیل کے ساتھ بحران پر ایران کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا اور عالمی برادری بالخصوص اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے مل جل کر کام کریں۔ دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

  • آنکھ کے بدلے آںکھ،اسرائیلی حملے پر تہران کی عوام میں غم و غصہ

    آنکھ کے بدلے آںکھ،اسرائیلی حملے پر تہران کی عوام میں غم و غصہ

    اسرائیل کی جانب سے ایرانی دارالحکومت تہران پر مہلک حملوں کے بعد عوام میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ شہریوں نے اسرائیلی کارروائی کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

    29 سالہ ٹیکسی ڈرائیور محمود دوری نے امریکی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا "اسرائیل نے ہمارے کمانڈروں کو شہید کیا ہے، اور وہ ہم سے کس بات کی توقع کرتے ہیں؟ ایک بوسہ؟ ہم ان کا پیچھا کریں گے، بدلہ ضرور لیں گے، آنکھ کے بدلے آنکھ۔”اسی طرح 31 سالہ استانی پری پورغازی نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا "کسی کو اسرائیلیوں کو روکنا ہوگا، وہ سمجھتے ہیں کہ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ایران نے ثابت کیا کہ اسرائیل غلط تھا، وہ شاید غزہ یا لبنان کے لوگوں کو بمباری سے دبا سکتے ہیں، ہمیں نہیں۔”تاہم کچھ شہریوں نے تحمل اور صبر کی اپیل بھی کی ہے۔ 61 سالہ مکینک ہوشنگ عبادی نے کہا "میں اپنے ملک کی حمایت کرتا ہوں، لیکن جنگ کسی کے حق میں نہیں، اسرائیل نے حملہ کر کے غلطی کی، لیکن اب معاملہ ختم ہو جانا چاہیے۔”

    ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ 9 سائنسدانوں اسرائیلی حملے میں جان سے گئے
    اسرائیلی فوج نے ہفتے کو دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ 9 سائنسدانوں اور ماہرین کو ہلاک کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تعداد 6 بتائی گئی تھی۔ہلاک شدگان میں علی بخوی کریمی (مکینکس کے ماہر)، منصور عسگری (فزکس کے ماہر) اور سعید برجی (مٹیریلز انجینئر) شامل ہیں۔ ان کی ہلاکت کی تصدیق ایران کے نیم سرکاری ادارے تسنیم نیوز ایجنسی نے بھی کی ہے۔اس کے علاوہ ایران تائیکوانڈو فیڈریشن نے بھی تین اراکین کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ شہداء میں ایران جونیئر تائیکوانڈو ٹیم کے رکن امیر علی امینی، نو عمر کھلاڑی میر علی امینی اور فیڈریشن کے امام حجت‌الاسلام احمدپور شامل ہیں۔

    ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیلی عسکری مراکز اور ایئربیسز کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں اسرائیل کی فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔