Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسرائیلی حملے،ایران میں دو بھارتی شہری بھی زخمی

    اسرائیلی حملے،ایران میں دو بھارتی شہری بھی زخمی

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی چوتھے روز میں داخل ہو گئی ہے اور حالات مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ اس جنگ میں اب تک اسرائیل کے 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مسلسل بمباری اور میزائل حملوں کے باعث خطے میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس تنازعے نے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

    اس جنگی ماحول میں ایران میں مقیم ہندوستانیوں کے لیے خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق تہران کی یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے قریب بین الاقوامی طلبا کے ہاسٹل پر ایک حملہ ہوا، جس میں دو بھارتی طلبا زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ ایران میں موجود ہندوستانیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ان زخمی طلبا کو شمالی ایران کے نسبتاً پرامن شہر رامسر منتقل کر دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اس وقت ایران میں تقریباً 10 ہزار ہندوستانی شہری موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد میڈیکل اور مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ہے۔ اسرائیل-ایران کشیدگی کے پیش نظر حکومت ہند نے ان شہریوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی ریسکیو آپریشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق ایران کی حکومت نے بھی غیر ملکی شہریوں کو بحفاظت ان کے وطن واپس بھیجنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس ضمن میں ہندوستانی شہریوں کو آذربائیجان، ترکمانستان اور افغانستان کے راستے نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت سرحدی علاقوں میں ہندوستانی سفارت خانہ اور متعلقہ ایجنسیاں پوری طرح متحرک کر دی گئی ہیں۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے اسرائیلی حملوں میں کشمیری طلباء کے زخمی ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔میرواعظ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ایران سے ایک ہوسٹل میں رہنے والے کشمیری طلباء کے اسرائیلی فضائی حملے کی زد میں آنے کی انتہائی پریشان کن خبر آ رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ 1,300 سے زائد کشمیری طلباء ایران میں زیرتعلیم ہیں جو جنگ کے باعث شدید خوف میں مبتلا ہیں جبکہ مقبوضہ جموں کشمیر میں ان کے اہلخانہ سخت پریشان ہیں۔میرواعظ نے حکام پر زور دیا کہ وہ ان کے تحفظ اور واپسی کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ اُنہوں نے تمام کشمیری طلباء کی سلامتی کے لیے دعا بھی کی۔دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے رہنما آغا سید روح اللہ مہدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیلی حملوں نے تہران میں حجت دوست علی ہاسٹل کو نشانہ بنایا جس میں بہت سے کشمیری طلباء رہائش پذیر تھے جن میں کئی زخمی ہوئے ہیں۔ اُنہوں نے ان کی فوری منتقلی اور انخلاء پر زور دیا۔

  • وزیراعظم نے ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کی تجویز کا نوٹس لے لیا

    وزیراعظم نے ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کی تجویز کا نوٹس لے لیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2025-26 میں ٹیکس چوری میں ملوث تاجروں کو گرفتار کرنے کی ایف بی آر کی تجویز کا نوٹس لے لیا ہے، اور اس حوالے سے اہم اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے فنانس بل میں شامل اس شق پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، چیئرمین ایف بی آر ملک امجد زبیر، اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شریک ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون سازی کے تحت ایسے تاجروں کو جو جان بوجھ کر ٹیکس فراڈ میں ملوث پائے جائیں، انہیں گرفتار کرنے کا اختیار ایف بی آر کو دیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، اس قانون کے تحت ٹیکس چوری ثابت ہونے پر سزا کی مدت 10 سال تک ہو سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے تجویز دی ہے کہ بھاری ٹیکس چوری، جعلی انوائسز، اور ریونیو چھپانے جیسے جرائم پر نہ صرف جرمانے بلکہ قید کی سزا بھی دی جائے تاکہ ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے اور محصولات میں اضافہ ہو۔

    تجارتی حلقوں کی جانب سے اس تجویز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مختلف تاجر تنظیموں نے اسے کاروباری طبقے کے خلاف “انتقامی کارروائی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے سے مہنگائی اور معاشی دباؤ کا شکار تاجر مزید پریشان ہوں گے۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت کاروباری طبقے کے تحفظات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرے گی، اور کسی بھی اقدام سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

  • پاکستان کی جانب سے اسرائیل پر جوہری حملے کی دھمکی کا پروپگینڈا بے نقاب

    پاکستان کی جانب سے اسرائیل پر جوہری حملے کی دھمکی کا پروپگینڈا بے نقاب

    پاکستان کی جانب سے اسرائیل پر جوہری حملے کی دھمکی کا جھوٹا اور من گھڑت پروپگینڈا بے نقاب ہو گیا

    انتہا پسند بھارتی حکومت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کے مزید شواہد منظر عام پر آ گئے،بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے پاکستان کیخلاف زہریلا پروپیگنڈا شروع کیا گیا ،را کے فیک اکاؤنٹ
    @Iriran_official نے دعویٰ کیا کہ;’’اسرائیلی چینلز کے مطابق پاکستان نے امریکا کو آگاہ کیا کہ اگر ایران پر جوہری حملہ ہوا تو پاکستان اسرائیل کے خلاف جوہری ردعمل دے گا‘‘

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اس منفی اور بے بنیاد پروپیگنڈے کا مقصد اسرائیل کیلئے ہمدردیاں پیدا کرنا ہے، اس زہریلے پروپیگنڈے کو پاکستان کی وزارت خارجہ نے یکسر مسترد کردیا ہے، حکومت پاکستان واضح کرچکی ہے کہ وہ ایران کی بین الاقوامی فورمز پر اخلاقی اور سفارتی مدد جاری رکھے گی،اس خبر کے جھوٹا ہونے کا یہ بھی ثبوت ہے کہ بیان کے ساتھ ایکس کا ایک وضاحتی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے، وضاحتی نوٹ کے مطابق ’“کسی بھی مستند یا سرکاری ذرائع نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ پاکستان نے امریکا کو ایسا کوئی پیغام دیا ہے‘‘خواجہ آصف کے حوالے سے جھوٹ بولا گیا کہ پاکستان نے ایران کو حملے سے قبل انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں،خواجہ آصف نے 14 جون کو قومی اسمبلی میں ایسا کوئی اعتراف نہیں کیا،اب آر ٹی وی نے بھی اس بیان کی غلط تشریح کرنے پر معذرت کی ہے،ایک طرح سے آر ٹی کا بھی یہ اقرار ہے کہ یہ پروپیگنڈا تھا جس شکار وہ بھی ہوئے ہیں،

    اس سے قبل بھارتی خفیہ ایجنسی را اور اسرائیل ملکر پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے پر کام کرتے رہے،پاکستان کو FATF گرے لسٹ میں شامل کرانے میں ناکامی کے بعد اب "را” نے یہ گھٹیا پروپیگنڈا شروع کردیااس منفی پروپیگنڈے کا مقصد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ امریکا سے توجہ ہٹانا بھی ہے،

  • اسرائیل میں ایرانی حملوں سے 300 شہری زخمی

    اسرائیل میں ایرانی حملوں سے 300 شہری زخمی

    اسرائیل میں رات بھر 300 کے قریب افراد اسپتال منتقل، ہلاکتیں 8 ہوگئیں

    اسرائیل کی وزارتِ صحت کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد رات بھر ملک بھر سے 287 افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے جبکہ 14 افراد درمیانے درجے کے زخمی ہیں۔زخمیوں میں دو بچے بھی شامل ہیں جنہیں تل ابیب کے مشرق میں واقع ایک بچوں کے اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بندرگاہی شہر حیفا میں ملبے سے مزید تین لاشیں نکالی گئی ہیں، جس کے بعد رات کے وقت اسرائیل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں اور خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ مہلک حملوں کے تبادلے کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ایرانی میزائل حملوں کے بعد، جن میں کچھ میزائل رہائشی عمارتوں پر بھی گرے، اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے شدید غصے کا اظہار کیا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا،”تہران کا متکبر آمر اب ایک بزدل قاتل بن چکا ہے۔ تہران کے رہائشی اس کی قیمت چکائیں گے، اور بہت جلد۔”اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے شہری علاقوں کو نشانہ بنانا کھلی دہشت گردی کے مترادف ہے، اور اسرائیل اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے قوم سے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کا دفاع کیا۔
    انہوں نے کہا "ایران کے عوام کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اس جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا جو ہم پر مسلط کی گئی ہے۔ ہم حملہ آور نہیں بلکہ مدافع ہیں۔””ہمیں یہ پورا حق حاصل ہے کہ ہم پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی سے فائدہ اٹھائیں اور ایسا تحقیقی کام کریں جو ہماری قوم کی ترقی و فلاح کا سبب بنے۔”

  • لکھنو ایئر پورٹ پر سعودی ایئر لائن کے طیارے کے پہیے میں آگ

    لکھنو ایئر پورٹ پر سعودی ایئر لائن کے طیارے کے پہیے میں آگ

    اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے چودھری چرن سنگھ (اماؤسی) بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سعودی عرب ایئر لائنز کے ایک مسافر بردار طیارے کے بائیں پہیے میں چنگاریاں اور دھواں اٹھنے لگا۔ خوش قسمتی سے، ایئرپورٹ کے عملے کی بروقت کارروائی کے باعث تمام 242 عازمین حج بحفاظت طیارے سے باہر نکال لیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق، سعودی ایئرلائن کی پرواز SV 3112 جدہ سے ہفتہ کی شب تقریباً 11:30 بجے روانہ ہوئی تھی، جس میں 242 عازمین حج سوار تھے جو حج کی ادائیگی کے بعد وطن واپس آ رہے تھے۔ یہ پرواز اتوار کی صبح 6:30 بجے لکھنؤ کے اماؤسی ایئرپورٹ پر اتری۔ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق، طیارہ بحفاظت رن وے پر لینڈ کر چکا تھا اور ٹیکسی وے پر آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک اس کے بائیں پہیے سے دھوئیں اور چنگاریاں نکلنا شروع ہو گئیں۔ پائلٹ نے فوری طور پر صورتحال کو محسوس کرتے ہوئے ایئر ٹریفک کنٹرول کو مطلع کیا۔اطلاع ملتے ہی ایئرپورٹ کی فائر سیفٹی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ انہوں نے فوم اور پانی کی مدد سے صرف 20 منٹ کے اندر آگ پر قابو پا لیا۔ اس دوران تمام مسافر طیارے میں موجود تھے تاہم جیسے ہی صورتحال معمول پر آئی، مسافروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت بغیر کسی نقصان کے طیارے سے باہر نکال لیا گیا۔

    واقعے کے دوران کئی مسافروں میں شدید خوف و ہراس پایا گیا، خاص طور پر جب انہیں دھوئیں اور چنگاریوں کا پتہ چلا۔ تاہم ایئرپورٹ عملے کی پیشہ ورانہ اور فوری کارروائی نے ممکنہ سانحے کو ٹال دیا۔حادثے کی ابتدائی معلومات کے مطابق تکنیکی خرابی کے باعث بائیں پہیے میں گرمائش پیدا ہوئی، جو چنگاریوں کا باعث بنی۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایئرلائن کو بھی واقعے کی تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ایران میں جاسوسی کرنیوالے کو پھانسی،تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کو حملے میں نقصان

    ایران میں جاسوسی کرنیوالے کو پھانسی،تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کو حملے میں نقصان

    ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں ایک شخص کو پھانسی دے دی

    ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایران نے اسماعیل فکری نامی شخص کو اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی دی ہے۔ یہ اس شخص کے علاوہ ایران میں حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں پھانسی پانے والا تیسرا فرد ہے۔

    تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کے قریب معمولی نقصان ہوا ہے، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہیکبی نے بتایا کہ ایرانی حملوں کے دوران تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کے قریب معمولی نقصان ہوا ہے، جس کے باعث سفارتخانہ بند رہے گا۔ خوش قسمتی سے امریکی عملے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    اسرائیل میں ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار ہوگئی
    مرکزی اسرائیل میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں ایک شخص کی مزید ہلاکت کی اطلاع ہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق بُنے براک میں ایک 80 سالہ مرد کی لاش ملی ہے۔ اس واقعے میں بیس سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس سے پہلے اسرائیل کے ہنگامی خدمات نے اطلاع دی تھی کہ چار مختلف مقامات پر ہونے والے راکٹ حملوں میں دو خواتین اور ایک مرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  • ملزم (عمران خان)کازبردستی ٹیسٹ کرانے کے لئے کوئی مشین نہیں،عدالت

    ملزم (عمران خان)کازبردستی ٹیسٹ کرانے کے لئے کوئی مشین نہیں،عدالت

    پیٹرن انچیف پی ٹی آئی عمران خان کے پولی گرافک ٹیسٹ کے حوالے سے عدالتی فیصلہ جاری کر دیا گیا

    عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالت نے عمران خان کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے بڑا منصفانہ موقع دیا۔مگر ملزم کی ضد اور انکار کی وجہ سے کوئی رزلٹ حاصل نہیں ہوسکے۔عام ملزم کے پاس ٹیسٹ کروانے سے انکار کرنے کا چانس نہیں ہوتا،ملزم نےنہ صرف ٹیسٹ کروانے سے انکارکیا بلکہ تفتیشی ٹیم سے بھی نہیں ملا،عدالت کے پاس ملزم (عمران خان)کازبردستی ٹیسٹ کرانے کے لئے کوئی مشین نہیں،عدالت یہ قانونی نقظہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ تفتیش کس طرح مکمل کی جائے گی ؟عدالت سمجھتی ہے کہ ملزم ٹیسٹ سے انکار کرکے ٹرائل کا سامنا کرنے سے گریز کررہا ہے،زبردستی ٹیسٹ کروانے کے لیے عدالت کے پاس کوئی مشین نہیں ہے،بانی پی ٹی آئی کو معصوم ثابت کرنے کے 2 مواقع دئیے تھے،،بانی پی ٹی آئی نے دونوں مواقع پر ٹیسٹ کروانے سے انکار کیا،تیسرے موقع میں بھی عدالت کو کوئی مثبت امید نہیں ہے،عدالت اب ٹیسٹ کروانے کے لیے تیسرا موقع نہیں دے گی،

  • ایرانی حملے، تل ابیب  میں خوف، ہنگامہ، بے چینی کے مناظر ،18 اسرائیلی ہلاک

    ایرانی حملے، تل ابیب میں خوف، ہنگامہ، بے چینی کے مناظر ،18 اسرائیلی ہلاک

    ایران نے صبح سویرے اسرائیل پر پھر بڑا میزائل حملہ کیا، اور 100 کے قریب میزائل داغے دیئے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے سنے گئے۔

    اسرائیل کے دفاعی نظام نے کئی حملوں کو فضا میں ناکام بنانے کی کوشش کی۔ حیفا میں ایران کے میزائل حملوں سے پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی،حیفہ پاور پلانٹ پر میزائل حملے کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں بجلی بند ہوگئی۔ اسرائیل کے وسطی علاقوں میں نقصانات ہوئے۔ تل ابیب میں بھی کئی راکٹ گرے ہیں۔ جن سے نقصانات ہوئے ہیں۔

    اتوار کی رات بھی ایران نے اسرائیل کے متعدد مقامات پر میزائل حملے کئے تھے ۔جن سے کئی عمارتیں متاثر ہوئیں۔حیفا میں ایرانی میزائل حملے سے 4 افراد زخمی ہوئے۔

    اس سے پہلے ایران کے جوابی میزائل حملوں سے تل ابیب، حیفہ، تامرا، قیصریہ سمیت کئی اسرائیلی شہروں میں تباہی مچ گئی، کئی عمارتیں کھنڈر بن گئیں، حملوں میں 18 افراد ہلاک، 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کا کوئی کونا رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے، اسرائیلی آبادکار مقبوضہ علاقے فوری خالی کردیں

    پیر کے روز تل ابیب کی ایک گلی میں خوف، ہنگامہ اور بے چینی کے مناظر دیکھنے میں آئے جب ایران کی طرف سے میزائل حملوں کی تازہ ترین لہر نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔سی این این کے یروشلم کے نمائندے جیریمی ڈائمنڈ کے مطابق سڑکیں ملبے سے بھر چکی تھیں اور ریسکیو اور فوجی اہلکار ملبے میں پھنسے لوگوں کی تلاش میں مصروف تھے۔ حملے میں کم از کم چار بیلسٹک میزائل استعمال ہوئے۔ایک خاتون نے بتایا کہ وہ تہہ خانے میں تھی جب میزائلوں کے دھماکوں کا اثر محسوس کیا۔ "ہم ڈر کے مارے آہستہ آہستہ باہر نکلے، عمارتیں ہمارے ساتھ گر رہی تھیں۔”انہوں نے کہا، "دھوئیں کی بو تھی، مجھے اپنی ٹی شرٹ سے ناک ڈھانپنی پڑی تاکہ دھواں نہ سانس میں جائے۔ ہمیں یہ یقینی بنانا تھا کہ ہم سڑک پر چلتے ہوئے اس زہریلے دھوئیں کو سانس میں نہ لیں۔”

    حملے کے مقام کے قریب ایک رہائشی عمارت جزوی طور پر گر چکی تھی اور ملبہ کئی بلاکس تک پھیلا ہوا تھا۔ جیریمی ڈائمنڈ کے مطابق کم از کم 10 افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

    اسرائیلی حکام نے بتایا کہ اس تازہ حملے میں وسطی اسرائیل میں چار افراد ہلاک ہو گئے، جن میں تین پتہ ٹکوا اور ایک بنے بریک سے ہے۔ ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل حملوں نے وسطی اور ساحلی علاقوں میں کئی جگہوں کو نشانہ بنایا، جن میں رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔اسرائیل کی قومی ایمرجنسی سروس ماگن ڈیوڈ آدوم کے مطابق چار مختلف مقامات پر کارروائی کی گئی اور درجنوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ان ہلاکتوں کے بعد اسرائیل میں مارے گئے افراد کی تعداد 18 تک پہنچ گئی ہے

    ایرانی میزائل حملوں کی وجہ سے اسرائیل کے مقامی بجلی کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیل الیکٹرک کارپوریشن نے بتایا کہ حفاظتی خطرات، خاص طور پر بجلی کی کٹی ہوئی تاروں کی وجہ سے جھٹکے کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔ریسکیو ٹیمیں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر رہی ہیں اور مرکزی اسرائیل میں دو بلند عمارتوں پر میزائل حملے کے بعد پھنسے ہوئے افراد کو نکال رہی ہیں۔ رائٹرز کے ایک ویڈیو میں ایک اپارٹمنٹ بلاک کی دیوار میں بڑا سوراخ دیکھا جا سکتا ہے جبکہ متعدد ایمرجنسی کارکنوں کو مریضوں کو لے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک دس سالہ لڑکا شدید حالت میں ہے اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ مزید متاثرین کی تلاش کی جا سکے۔تل ابیب کے ایک اسپتال میں آٹھ زخمیوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے جن کی حالت معمولی سے معتدل بتائی گئی ہے۔

    اسرائیلی پولیس کے مطابق ساحلی علاقے میں ایک میزائل کا اثر ہوا جس سے جائیداد اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ایرانی سرکاری میڈیا ے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حملوں کے جواب میں آٹھویں لہر ہیں۔

  • اسرائیل،ایران جنگ،امریکا شامل ہوسکتا ہے،ٹرمپ

    اسرائیل،ایران جنگ،امریکا شامل ہوسکتا ہے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امکان ظاہر کیا ہے کہ امریکا اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہوسکتا ہے۔

    امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کی سینیئر صحافی ریچل اسکاٹ سے آف کیمرا گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ ہم ایران اور اسرائیل کی اس لڑائی میں شامل ہو جائیں، لیکن انہوں نے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ اس وقت امریکا کسی فوجی کارروائی میں ملوث نہیں ہے،ٹرمپ نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ ایران اسرائیل جنگ میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اگر ثالثی کا کردار ادا کریں تو وہ اس کے لیے کھلے دل سے تیار ہیں،ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جاری ہیں اور ان کے بقول اب جب کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان شدید فضائی حملے ہو رہے ہیں، ایران ممکنہ طور پر معاہدے کے لیے زیادہ آمادہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ جمعہ کی صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر بڑے حملے اور پھر ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کے بعد خطے کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔

  • غیر ملکی پروازوں کو کابل فلائٹ انفارمیشن ریجن استعمال کرنے سے قبل پیشگی اجازت لازم

    غیر ملکی پروازوں کو کابل فلائٹ انفارمیشن ریجن استعمال کرنے سے قبل پیشگی اجازت لازم

    افغانستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ایک اہم نوٹم جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اب غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو کابل فلائٹ انفارمیشن ریجن استعمال کرنے کے لیے قبل از وقت اجازت حاصل کرنا لازمی ہو گیا ہے۔ اس نوٹم کے بعد بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول میں بعض تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں، کیونکہ بیشتر پروازوں کو کابل کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے پاکستان کی فضائی حدود میں کچھ وقت کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔

    اس نوٹم کے مطابق، تمام غیر ملکی پروازیں جو افغانستان کی فضائی حدود سے گزرنا چاہتی ہیں، انہیں سول ایوی ایشن اتھارٹی افغانستان سے کلیئرنس لینا ہوگی۔ اجازت کے بغیر کابل فلائٹ انفارمیشن ریجن میں داخلہ ممنوع ہے، جس کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود میں چکر لگا کر کابل کی اجازت کا انتظار کر رہی ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس نئی پالیسی کے باعث کئی مشہور بین الاقوامی پروازوں کو اس پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ مثلاً دہلی سے لندن جانے والی برٹش ائیر ویز کی پرواز "بی اے 142” کو تقریباً 20 منٹ تک پاکستان کی فضائی حدود میں گردش کرنی پڑی، جب تک کہ کابل فلائٹ انفارمیشن ریجن میں داخلے کی اجازت نہ مل گئی۔اسی طرح سنگاپور سے فرینکفرٹ، سنگاپور سے لندن، سنگاپور سے کوپن ہیگن، تائی پے سے فرینکفرٹ، اور دہلی سے زیورچ جانے والی پروازوں کو بھی افغانستان کی فضائی حدود میں داخلے کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ افغانستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے جاری کردہ نوٹم میں واضح کیا گیا ہے کہ کلیئرنس کے بعد ہی یہ پروازیں کابل کی فضائی حدود استعمال کر سکیں گی۔

    پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ) نے بھی اس نوٹم کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ تمام متعلقہ پروازوں کو افغان فضائی حدود میں داخلے کی اجازت ملنے تک پاکستان کی حدود میں انتظار کرنا ہوگا تاکہ فضائی آپریشنز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا حادثے سے بچا جا سکے۔