Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایران میں ایرانی وزیرخارجہ سے ملاقات

    ایران کے دورے پر گئے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے اہم ملاقات کی ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے سمیت اہم علاقائی معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق محسن نقوی اور عباس عراقچی کے درمیان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں یہ دوسری ملاقات ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی رابطوں کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ایران کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات، خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں، جبکہ محسن نقوی 24 گھنٹوں کے اندر دوبارہ تہران پہنچ گئے ہیں۔ وزیرِ داخلہ کا ایک ہفتے کے دوران ایران کا یہ دوسرا دورہ دونوں ممالک کے قریبی روابط اور خطے میں جاری اہم سفارتی سرگرمیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

  • بھارتی فوج میں کرپشن کا راج،کرنل رشوت کیس میں پکڑا گیا

    بھارتی فوج میں کرپشن کا راج،کرنل رشوت کیس میں پکڑا گیا

    بھارت میں فوجی اداروں میں کرپشن کے ایک اور بڑے اسکینڈل نے تہلکہ مچا دیا، جہاں بھارتی تحقیقاتی ادارے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے آرمی آرڈیننس کور کے کرنل ہمانشو بالی کو 50 لاکھ روپے رشوت کیس میں گرفتار کر لیا۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرنل ہمانشو بالی ایسٹرن کمانڈ کے تحت فورٹ ولیم، کولکتہ میں تعینات تھے۔ سی بی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم افسر پر فوجی ٹینڈرز کے اجرا کے بدلے بھاری رشوت وصول کرنے کے الزامات ہیں۔رپورٹس کے مطابق کرنل بالی اور دیگر متعلقہ افسران پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مختلف کمپنیوں کو ٹھیکے دلوانے کے لیے لاکھوں روپے رشوت لی۔ سی بی آئی نے کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو حراست میں لے کر مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔بھارتی اخبار کے مطابق کیس میں مزید فوجی و سول افسران کے ملوث ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقاتی ادارہ مالی ریکارڈ اور ٹینڈرنگ کے عمل کا تفصیلی جائزہ لے رہا ہے۔

    اس واقعے کے بعد بھارتی فوج کے مالیاتی اور انتظامی نظام پر سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ اپوزیشن حلقوں اور عوامی حلقوں میں بھی شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

  • شرم کی بات ،صوبےسے ڈی این اے سیمپل لاہور بھیجےجاتے ہیں، چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ

    شرم کی بات ،صوبےسے ڈی این اے سیمپل لاہور بھیجےجاتے ہیں، چیف جسٹس پشاورہائیکورٹ

    پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے ایک کیس میں ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا 4 کروڑ عوام کا صوبہ ہے جو جل رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    پشاور ہائی کورٹ میں لارجر بنچ کے کریمینل جسٹس سسٹم میں خامیوں سے متعلق فیصلے پر عمل درآمد نہ ہونے کےخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس اعجاز خان نے کی جس دوران چیف سیکرٹری، ایڈووکیٹ جنرل، سیکرٹری داخلہ کے پی عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس ہائیکورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے پوچھا کہ چیف سیکرٹری صاحب بتائیں لارجر بنچ کےفیصلے پرعمل کیوں نہیں ہوا، جو رپورٹ آپ نے پیش کی اس میں توکچھ نہیں، ہم نے پراسیکیوشن کو مضبوط کرنےکا کہا ہے۔ یہ صوبہ 4 کروڑعوام کا ہے، صوبہ جل رہا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں، جنوبی اضلاع دہشتگردی کی وجہ سے جل رہے ہیں، ڈی آئی خان، کرک، ٹانک میں کوئی جا نہیں جاسکتا، میں خود ڈی آئی خان جارہا تھا، سکیورٹی وجوہات کی وجہ سےنہیں جاسکا، آپ اس صوبے کے بڑے افسر ہیں، اس صوبے میں کیا ہو رہا ہے، پراسیکیوشن ڈپارٹمنٹ کے افسران پسماندہ اضلاع میں نہیں جاتے، ہماری خاتون جج وہاں ڈیوٹی کرسکتی ہے تو دوسرےافسران کیوں نہیں جاتے،شرم کی بات ہےکہ صوبےسے ڈی این اے سیمپل لاہور بھیجےجاتے ہیں، ایک ڈی این اے ٹیسٹ پر 11 لاکھ روپے خرچہ آتا ہے جبکہ صوبے میں ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے کوئی لیبارٹری نہیں ہے۔

    چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے، لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کریں، اگر کوئی اپنا کام نہیں کر رہا تو ہم اس کےخلاف کارروائی کا حکم دیں گے۔،چیف سیکرٹری کے پی شہاب علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ دو تین ہفتے دے دیں میں خود اس کو دیکھوں گا، ہم نے رپورٹ تیارکی ہے وہ بھی عدالت کےساتھ شیئر کریں گے،اس پر چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے کہا کہ ہم ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں، جو افسران کام نہیں کرتےفارغ کریں، جو اچھےہیں ان کو تعینات کریں، اگر سیاسی مداخلت ہو رہی ہو تو ہمیں بتائیں،بعد ازاں عدالت نے درخواست کی مزید سماعت یکم جولائی تک ملتوی کردی۔

  • پرنس رحیم آغا خان پنجم کا دورہ پاکستان، وزیراعظم شہباز سے ملاقات

    پرنس رحیم آغا خان پنجم کا دورہ پاکستان، وزیراعظم شہباز سے ملاقات

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کے پہلے سرکاری دورۂ پاکستان کے موقع پر اُن کے اعزاز میں ناشتے کی ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا

    وزیراعظم نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے امن، استحکام اور حکومتوں و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اُن کے عزم کو سراہا۔انہوں نے ان اعلیٰ مقاصد کے لیے پاکستان کے مشترکہ عزم کا بھی اعادہ کیا۔وزیراعظم نے پاکستان اور آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے دیہی ترقی، صحت، تعلیم، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت، ماحولیاتی تبدیلی سے مطابقت، قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت اور نوجوانوں میں کاروباری صلاحیتوں کے فروغ کے شعبوں میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے خصوصاً گلگت بلتستان اور چترال کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں اے کے ڈی این کے مؤثر کردار کو سراہا۔وزیراعظم نے پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال میں اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی ترغیب دی، جہاں ادارہ جاتی موجودگی اور عوامی خدمات کو بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ مزید تعاون کا بھی خیرمقدم کیا اور صحت و اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں اس کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ماحولیاتی تحفظ کے لیے پرنس رحیم آغا خان پنجم کی کاوشوں کو تسلیم کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، خصوصاً گلیشیئرز سے متاثرہ شمالی علاقوں میں ماحولیاتی استحکام کے فروغ کے لیےاے کے ڈی این ایک قدرتی اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔

    وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان پنجم کا پاکستان کے دورے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اُن کا دوسرا گھر رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پرنس رحیم کے باقاعدہ دورے پاکستان اور اسماعیلی برادری کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنائیں گے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے سرینا ہوٹل بلا معاوضہ فراہم کرنے پر پرنس رحیم آغا خان پنجم کی فراخدلانہ معاونت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔وزیراعظم نے پرنس رحیم کے والدِ گرامی، مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے مرحوم آغا خان کی تقریباً سات دہائیوں پر محیط پاکستان سے وابستگی اور اُن کی لازوال انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

  • چین کی ترقی اور تبدیلی ترقی پذیر ممالک کیلئے باعثِ تحریک اور قابل تقلید ہے،وزیراعظم

    چین کی ترقی اور تبدیلی ترقی پذیر ممالک کیلئے باعثِ تحریک اور قابل تقلید ہے،وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ سی پیک نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ اور صنعتی تعاون میں کردار ادا کیا ہے۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر پیغام دیتے ہوئےکہا کہ پاکستان، چین کے سفارتی تعلقات پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں، چین کی ترقی اور تبدیلی ترقی پذیر ممالک کیلئے باعثِ تحریک اور قابل تقلید ہے،انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات اور مثالی دوستی ایک مضبوط “ہرموسم کی تزویراتی اشتراکی شراکت داری” میں تبدیل ہوچکی ہے، بدلتے ہوئےعلاقائی اور عالمی حالات کے باوجود یہ دوستی مسلسل مضبوط، مؤثر اور تزویراتی اہمیت کی حامل ہوتی گئی ہے۔

    وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین کے صدر شی جن پنگ کی مدبرانہ قیادت اور مختلف شعبہ جات میں چین کے تعاون کو بےحد قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان “ایک چین” کے اصول پر اپنے غیرمتزلزل سفارتی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے، پاکستان کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی ترجیحات میں چین کی مضبوط معاونت نے غیرمعمولی کردار ادا کیا، سی پیک نےپاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، توانائی کے تحفظ،صنعتی تعاون میں بے پناہ کردار ادا کیا ہے، دنیا میں پاکستان اور چین کثیرالجہتی تعاون، پُرامن بقائے باہمی اور جامع ترقی کے اصولوں پر کاربند ہیں، اللہ کرے کہ پاکستان اورچین کی لازوال دوستی ہر آنے والی نسل کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی چلی جائے۔

  • نیب کی سندھ میں بڑی کاروائی،بحریہ ٹاؤن کی زمین منجمد

    نیب کی سندھ میں بڑی کاروائی،بحریہ ٹاؤن کی زمین منجمد

    نیب کراچی کی جانب سے جاری کردہ منجمدی (فریزنگ) احکامات کی تعمیل میں، ڈپٹی کمشنر جامشورو نے پولیس کی نفری اور محکمہ جنگلات حکومتِ سندھ کے کنزرویٹر کے ہمراہ دیہہ مول، تعلقہ تھانہ بولا خان، نیز بحریہ ٹاؤن (BTK) 2 ضلع جامشورو کی زمین کا قبضہ لے لیا .

    ترجمان نیب کے مطابق چند روز قبل نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کردہ عظیم الشان حویلی، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر “علی ولا” کے طور پر بحریہ ہلز، بحریہ ٹاؤن کراچی میں قائم ہے، کو منجمد کر دیا تھا۔ یہ 67 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہےڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کردہ منجمدی (فریزنگ) احکامات کی تعمیل میں ڈپٹی کمشنر جامشورو نے پولیس کی نفری اور محکمہ جنگلات حکومتِ سندھ کے کنزرویٹر کے ہمراہ دیہہ مول تعلقہ تھانہ بولا خان نیز بحریہ ٹاؤن (بی ٹی کے) 2 ضلع جامشورو کی زمین کا قبضہ لے لیا ہے۔ایک اور کارروائی میں ڈپٹی کمشنر ضلع ملیر نے بھی ایک دوسرے فریزنگ آرڈر کی تعمیل میں علی ولا کو سیل کر دیا ہے، نیب نے ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کے لیے تعمیر کردہ عظیم الشان حویلی، جو ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے نام پر ’’علی ولا‘‘ کے طور پر بحریہ ہلز بحریہ ٹاؤن کراچی میں قائم ہے، کو منجمد کر دیا تھا یہ 67 ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے۔علی ولا بحریہ ٹاؤن کراچی کے پہاڑی علاقے میں تعمیر کیا گیا ہے اور اس میں جدید ترین سہولیات موجود ہیں، جن میں ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔

    مزید برآں دو نئی انکوائریوں میں نیب نے 1338 ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی ہے. جس پر الزام ہے کہ اسے بحریہ ٹاؤن کراچی نے ناجائز طور پر قبضہ کیا اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف پریسنکٹس 33، 34، 38 تا 40، 42 اور 61 وغیرہ تعمیر کیے جانے تھے، جبکہ یہ زمین حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے۔اسی طرح نیب نے بحریہ ٹاؤن 2 کی مکمل 3150 ایکڑ زمین بھی منجمد کر دی ہے، جسے مبینہ طور پر M/s Paradise Real Estate (Pvt.) Limited نے دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا تھا یہ الگ حکم بھی ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کی جانب سے جاری کیا گیا۔مذکورہ فریزنگ احکامات میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بحریہ ٹاؤن کراچی کو کسی بھی تیسرے فریق کے حقوق پیدا کرنے سے روکیں۔نیب اس سے قبل بھی ریفرنس نمبر 1/2025 احتساب عدالت کراچی میں دائر کر چکا ہے جس میں ضلع ملیر کی 17,672 ایکڑ سرکاری زمین کی غیر قانونی تبدیلی/ خردبرد کے الزامات شامل ہیں جن کی مالیت 708 ارب روپے بتائی گئی ہے۔الزام ہے کہ یہ کارروائیاں حکومتِ سندھ کے بعض افسران کی ملی بھگت سے کی گئیں اور اسی زمین پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایم-9 موٹروے کے قریب بحریہ ٹاؤن کراچی تعمیر کیا گیا۔

  • سابق ایرانی صدر کو نئی قیادت کے طور پر لانے کی امریکہ واسرائیل کی منصوبہ بندی ناکام

    سابق ایرانی صدر کو نئی قیادت کے طور پر لانے کی امریکہ واسرائیل کی منصوبہ بندی ناکام

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو نئی قیادت کے طور پر سامنے لانے کی منصوبہ بندی کی تھی، تاہم یہ منصوبہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔

    رپورٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران میں اقتدار کسی اندرونی سیاسی شخصیت کو منتقل کیا جائے اور اس مقصد کے لیے محمود احمدی نژاد کا نام زیرِ غور آیا تھا۔
    اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے میں تہران میں احمدی نژاد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد انہیں مبینہ نظر بندی سے نکالنا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملے میں وہ زخمی ہوئے لیکن زندہ بچ گئے۔رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر محمود احمدی نژاد اس منصوبے سے آگاہ تھے، تاہم حملے کے بعد وہ بددل ہو گئے اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ تعاون سے پیچھے ہٹ گئے۔ اس کے بعد سے ان کے موجودہ مقام اور حالت کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔

    نیویارک ٹائمز نے مزید لکھا کہ محمود احمدی نژاد ماضی میں اسرائیل مخالف بیانات، ایرانی جوہری پروگرام کی حمایت اور امریکا مخالف مؤقف کے باعث سخت گیر رہنما سمجھے جاتے تھے، تاہم بعد میں ان کے ایرانی قیادت کے ساتھ اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔

  • پنکی کے قریبی ساتھی سےتحقیقات کے لیے پولیس کا عدالت سے رجوع

    پنکی کے قریبی ساتھی سےتحقیقات کے لیے پولیس کا عدالت سے رجوع

    کراچی میں منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے قریبی ساتھی محمد سمیر سے تفتیش کے لیے پولیس نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت سے رجوع کر لیا۔

    پولیس کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں پہلے سے گرفتار سہولت کار محمد سمیر کی باقاعدہ گرفتاری اور مزید تفتیش کی اجازت طلب کی گئی۔ عدالت نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے 2 مقدمات میں ملزم کی گرفتاری اور تفتیش کی اجازت دے دی۔عدالت نے تفتیشی افسران کو ہدایت جاری کی کہ وہ سینٹرل جیل جا کر ملزم محمد سمیر سے تفتیش کریں اور مقدمات سے متعلق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں۔پولیس حکام کے مطابق ملزم محمد سمیر جون 2021ء میں درج ایک مقدمے میں پہلے ہی گرفتار ہو کر جیل میں قید ہے، جبکہ مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اس وقت جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں موجود ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ محمد سمیر موٹر سائیکل کے ذریعے منشیات سپلائی کرتا تھا، جبکہ منشیات فروشی سے حاصل ہونے والی رقوم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جاتی تھیں۔تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ اور اس کے ساتھیوں کے مالی لین دین اور نیٹ ورک سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کیس میں مزید گرفتاریوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • انتہائی مطلوب خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک

    انتہائی مطلوب خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک

    شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سیکیورٹی فورسز کو آپریشن میں بڑی کامیابی ملی ہے

    انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں انتہائی مطلوب دہشت گرد سرغنہ خارجی عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب 4 دیگر دہشت گردوں سمیت ہلاک ہو گیا،خارجی سرغنہ عمرعرف جان میر عرف ثاقب تور کے سر کی قیمت 30لاکھ روپے مقرر تھی،ہلاک فتنہ الخوارج کا سرغنہ سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر کئی دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا
    خارجی عمر عرف ثاقب تور نے اسپین وام میں بوبالی مسجد کے اطراف علاقے میں زیر زمین بنکر، سرنگیں اور بارودی جال بچھا رکھا تھا،سیکیورٹی فورسز نے مربوط حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کو گھیرے میں لے کر ہلاک کیا

  • اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

    اداکارہ مومنہ کو ہراساں کرنے کا معاملہ، ایم پی اے کی طلبی ہو گئی

    پنجاب کے رکنِ صوبائی اسمبلی ثاقب چدھڑ اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کا معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اداکارہ کی درخواست پر فریقین کو آج طلب کر لیا ہے۔ دوسری جانب متعلقہ ایم پی اے کی جانب سے بھی اپنے آبائی ضلع میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کروایا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا تھا کہ انہیں ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے طویل عرصے سے آن لائن ہراسانی، سائبر بُلنگ، ذہنی دباؤ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ اداکارہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے اس معاملے پر متعدد بار این سی سی آئی اے، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس سے رجوع کیا، تاہم مبینہ سیاسی اثر و رسوخ کے باعث کارروائی نہ ہو سکی۔مومنہ اقبال کا کہنا تھا کہ انصاف فراہم کرنے کے بجائے انہیں حوصلہ شکنی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے اہلخانہ کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ان کے خاندان کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔

    اداکارہ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹس میں اعلیٰ حکام، اہم سرکاری دفاتر، نیوز چینلز اور مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی ٹیگ کیا۔ بعد ازاں ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں مومنہ اقبال نے این سی سی آئی اے کی جانب سے کارروائی شروع کیے جانے پر مریم نواز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کا باضابطہ بیان ریکارڈ ہونے سے قبل کسی پر الزام عائد نہ کیا جائے اور نہ ہی کسی کا نام لیا جائے۔

    اداکارہ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں دیگر خواتین کے بھی پیغامات موصول ہو رہے ہیں جنہوں نے اسی ایم پی اے کی جانب سے مبینہ ہراسانی کا الزام لگایا ہے۔ دوسری طرف مذکورہ ایم پی اے کی جانب سے بھی اپنے کزن کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف دھمکیوں کا مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے، جس کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔