Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • حج کے بہترین انتظامات عبادت ہیں، ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    حج کے بہترین انتظامات عبادت ہیں، ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    لاہور( ) خادم الحرمین سلمان بن عبدالعزیز ،ولی عہد محمد بن سلمان اورسعودی وزیر حج ڈاکٹر توفیق بن فوزان الربیعہ حجاج کرام کی خدمت کا حق ادا کررہے ہیں ۔ پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی خدمات بھی قابل تحسین ہیں۔ حج کے بہترین انتظامات عبادت بھی ہے اور سعادت بھی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار پاکستان اسلامک کونسل کے چئیرمین اور جامعہ سعیدیہ سلفیہ کے پرنسپل ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے تاہم اس عبادت کا حق اسی وقت ادا ہوسکتا ہے جب مناسک حج سنت طریقے کے مطابق بجالائیں ۔ سعودی حکومت حج کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کرتی ہے۔ روڈ ٹو مکہ پراجیکٹ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔سعودی حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے پاکستان ، ملائشیا ، بنگلہ دیش ،انڈونیشیا سے حج کے لیے جانے والوں کیلئے بہت آسانی ہوگئی ہے ، اسی طرح سعودی حکومت کے اقدامات کی وجہ سے منی، مزدلفہ اور عرفات کے عظیم ترقیاتی منصوبوں کی بدولت ضیوف الرحمان کو مناسک حج کی ادائیگی میں بہت آسانیاں اور سہولتیں رہی ہیں ۔ ضیوف الرحمان نے مکمل اطمینان و سکون کے ساتھ حج کے تمام مناسک ادا کرتے ہیں ، پاکستان میں سعودی سفیر سعادت الاستاذ نواف بن سعید المالکی بھی خادم الحرمین الشریفین کے ہدایات کے مطابق پاکستانی حجاج ومعتمرین کے لیے ہر طرح کی سہولیات ا ور آسانیاں پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں اور حقیقی معنوں میں خادم الحرمین الشریفین کی نمائندگی کا حق ادا کیا ہے ، ہم پاکستانی عوام کی طرف سے خادم الحرمین الشریفین ملک سلمان بن عبدالعزیز آل سعود ، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، سعودی حکام اور پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی کے شکرگزار ہیں اور ان کی کوششوں کو تحسین کی نظر دیکھتے ہیں۔ سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی جہاں پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ہیں اسی طرح وہ سعودی عرب میں بھی پاکستان کی سفارت کاری کا حق ادا کرتے ہیں جس پر پاکستانی قوم سعودی سفیر کی کوششوں کو تحسین کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔

  • مودی کا دورہ یورپ مسلسل ناکامی سے دوچار،وال آف شیم مزید طویل

    مودی کا دورہ یورپ مسلسل ناکامی سے دوچار،وال آف شیم مزید طویل

    یورپی دورے کا ہر نیا دن بھارت کے لیے نئی سفارتی شرمندگی لے آیا- مودی کی “Wall of Shame” مزید طویل ہوتی جا رہی ہے- مودی یورپ کی ٹھنڈی فضاؤں سے لطف اندوز ہونے نکلے تھے مگر اقلیت مخالف پالیسیوں نے پورا دورہ جہنم بنا دیا،ہالینڈ سے شروع ہونے والی شرمندگی ناروے اور سویڈن تک پہنچ گئی،ہر ملک میں مودی کو انسانی حقوق کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا، دورہ ہالینڈ میں ، ہالینڈ کے وزیراعظم راب جیٹن نے بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اقلیتوں پر انسانیت سوز مظالم پر تشویش ظاہر کی۔ راب جیٹن نے کہا کہ ہالینڈ انسانی حقوق کا مسئلہ بھارت سے پہلے بھی اٹھاتا رہا ہے ، ناروے میں بھارتی وزیر اعظم کی پریس بریفنگ صحافی ہیلے لِنگ کے تلخ سوالات کی نظر ہو گئی،

    “ناروے بھارت پر کیوں اعتماد کرے ، جبکہ آپکا دامن انسانی حقوق کی پامالی سے داغدار ہے ؟؟” بھارتی وفد کے پاس اس ایک سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ بھارتی وزیر اعظم ناروے کے صحافیوں سے چھپتے نظر آئے، بھارتی وزیر اعظم سکھوں اور کشمیری مظاہرین سے بھی بھاگتے رہے ،

    ہالینڈ اور ناروے میں سکھوں نے خالصتان کا پرچم لہرا کر مودی کا استقبال کیا،سکھوں نے خالصتانی لیڈرز کے قتل پر قاتل مودی کے نعرے اور پوسٹ کارڈ اٹھا رکھے تھے ، اوسلو سٹی ہال کے باہر خالصتان ریفرنڈم کے حامی سکھ کارکنوں نے مودی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے “مودی، ہندوتوا دہشتگردی کا چہرہ” کے نعرے بلند کیے۔، سکھ مظاہرین نے بھارتی جھنڈے پھاڑ دیے جبکہ خالصتان کے جھنڈے لہرا کر “مودی دہشت گرد ” اور “مودی گو بیک” کے نعرے لگائے۔ ناروے کی پارلیمنٹ کے سامنے تحریکِ کشمیر ناروے نے بھی بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ،مقررین نے مودی حکومت کے مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلم دشمن اقدامات پر شدید تنقیدکی۔ مودی حکومت صرف کشمیریوں یا مسلمانوں ہی نہیں بلکہ بھارت کی ہر اقلیت کو ہندوتوا نظریے کے تحت دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔کشمیریوں کے مظاہرے میں ناروے کی سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی ،مظاہرین کا کہنا تھا کہ عالمی برادری مودی حکومت کو کشمیر اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیوں پر جوابدہ بناے۔ احتجاج میں “India Leave Kashmir “، “Butcher of Gujrat” اور “Modi Terrorist ” جیسے نعرے مسلسل گونجتے رہے، سکھوں کی ٹارگٹ کلنگ، کشمیریوں کی جبری گمشدگیاں اور مساجد و گرجا گھروں پر حملے مودی کا عالمی تعارف بنتے جا رہے ہیں، یورپی دارالحکومتوں میں مودی کے خلاف احتجاج بھارت کے “شائننگ انڈیا” بیانیے کو مسلسل نقصان پہنچا رہے ہیں، مودی حکومت کی شدت پسند پالیسیوں نےبھارت کی سیکولر شناخت کو عالمی سطح پر مشکوک بنا دیا، یورپ میں مودی کے ہر دورے کے ساتھ بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کا مسئلہ دوبارہ عالمی توجہ حاصل کر رہا ہے، خالصتان، کشمیر اور مذہبی آزادی کے معاملات اب بھارت کا مستقل سفارتی تعاقب بن چکے ہیں، مودی کی خارجہ مہم اب اقتصادی سفارتکاری سے زیادہ امیج بچاؤ مہم دکھائی دینے لگی ہے، یورپ میں مودی کے خلاف بڑھتا ردعمل ثابت کر رہا ہے کہ داخلی شدت پسندی اب بھارت کے لئے عالمی سفارتی بوجھ بنتی جا رہی ہے، مودی کا دورہ یورپ انکی “وال آف شیم” پر ایک کی بعد ایک تصویر کا اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے

  • مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب

    مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب

    سیاسی تشہیر کیلئے جاری مودی کے دورہِ یورپ نے بھارت کا سفاک چہرہ عیاں کر دیا،مودی کا دورہِ یورپ یا ہزیمت کا سفر؟ عالمی سطح پر مودی کی سفاکیت بے نقاب ہو گئی

    نیدرلینڈز کے وزیرِاعظم نے بھارت میں اقلیتوں کے حقوق، آزادیِ صحافت اور قانون شکنی پر مودی کو آئینہ دکھا دیا،ڈچ وزیرِاعظم سمیت یورپی یونین کو بی جے پی کے دورِ حکومت پر سخت تشویش ہے، ڈچ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں آزادیِ صحافت اور اقلیتوں کے حقوق بالخصوص مسلمان شدید دباؤ میں ہیں، آزاد تجارتی معاہدہ کے تحت بھارت میں انسانی حقوق اور جمہوریت پر بات کرنا ہوگی، مودی کے دورہ کے دوران نیدرلینڈز کی شہری انسیہ کا اغواء کیس ڈچ میڈیا میں نمایاں اہمیت کا حامل رہا، ناروے میں مودی اوراعلیٰ بھارتی عہدیدار انسانی حقوق پر سنگین سوالات کا جواب دینے سے کتراتے دکھائی دیئے، محض سیاسی اور ذاتی مفاد کیلئے جاری مودی کو دورہ یورپ میں سخت ہزیمت کا سامنا ہے ،عالمی ماہرین کے مطابق بھارت میں سیاسی اور انسانی حقوق پر سنگین سوالات مودی کے سیاہ ترین دور اقتدار پر طمانچہ ہے.

  • ناروے،مودی صحافیوں کے سوالات سن کر بھاگ گئے

    ناروے،مودی صحافیوں کے سوالات سن کر بھاگ گئے

    ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور بھارتی حکام کو صحافیوں کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑگیا۔

    مشترکہ بیان کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سوالات لیے بغیر روانہ ہوئے تو غیر ملکی صحافیوں نے اس پر شدید ردعمل دیا۔بھارتی وزارتِ خارجہ کی بریفنگ کے دوران ناروے کے ایک صحافی نے سوال اٹھایا کہ بھارتی وزیراعظم سوالات سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟، بھارتی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری اس سوال کا براہِ راست جواب نہ دے سکے۔سخت سوالات پر پریس کانفرنس کا ماحول کشیدہ ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر بھی بھارتی حکام کے جواب کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔

  • پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا،بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نےکوئٹہ گیریژن کا دورہ کیا، دورے کے دوران انہوں نےافسران و جوانوں سے ملاقات کی.

    دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج میں زیرِ تربیت افسران اور فیکلٹی ممبران سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اعلیٰ تربیتی معیار، فکری استعداد اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا اور اطمینان کا اظہار کیا کہ کالج کے فارغ التحصیل افسران اپنی غیر معمولی کارکردگی اور پیشے سے وابستگی کے باعث نمایاں مقام حاصل کرتے رہے ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کے اعلیٰ تربیتی معیار اور پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے بلند حوصلے اور آپریشنل تیاری کو سراہا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ جدید جنگ کی بدلتی نوعیت سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی ضروری ہے، مسلح افواج ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کیلئے پرعزم ہیں،پاکستان کی ترقی کو پروپیگنڈا یا بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا، بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے عوام دوست پالیسی اور بہتر گورننس ناگزیر ہے

    چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے جدید جنگ کے تیزی سے بدلتے ہوئے انداز پر روشنی ڈالتے ہوئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز، تینوں افواج کے باہمی اشتراک اور مستقبل کے جنگی چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ خود کو اور اپنے جوانوں کو مسلسل تربیت دیتے رہیں تاکہ بدلتی ہوئی جنگی صورتحال کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے، جبکہ پیشہ ورانہ مہارت، تیاری اور آپریشنل کارکردگی کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جائے۔بعد ازاں فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں تعینات فارمیشنز کے افسران اور جوانوں سے ملاقات کی۔ موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے زور دیا کہ پاکستان کی ترقی کے سفر کو پروپیگنڈے، جعلی خبروں یا بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پیشرفت کو پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والی دشمن قوتیں ریاست کے استحکام اور عوام کے اتحاد کے باعث ناکام ہوں گی۔بلوچستان میں پائیدار امن اور استحکام کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ طویل المدتی ترقی کے لیے سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ عوام دوست پالیسی، جامع ترقی اور بہتر طرزِ حکمرانی ناگزیر ہیں۔ انہوں نے حکومتِ بلوچستان کی جانب سے عوامی فلاح، سماجی و معاشی ترقی اور ریاست و عوام کے درمیان تعلق مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات کو بھی سراہا۔

    فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں امن، استحکام اور ریاستی رٹ برقرار رکھنے کے لیے افسران اور جوانوں کے بلند حوصلے، آپریشنل تیاری اور پیشہ ورانہ عزم کی بھی تعریف کی۔

  • سعودیہ،قطر،عرب امارات کی درخواست پر ایران پر کل کا حملہ مؤخر کر دیا،ٹرمپ

    سعودیہ،قطر،عرب امارات کی درخواست پر ایران پر کل کا حملہ مؤخر کر دیا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایرانپر کل کے لیے طے شدہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی قیادت کی جانب سے کی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا۔

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود اور متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان نے ان سے ایران پر حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی کیونکہ اس وقت اہم سفارتی مذاکرات جاری ہیں، ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو نہ صرف امریکا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کسی بھی قسم کے جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

    امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے سیکریٹری دفاع ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل اور امریکی فوج کو ہدایت جاری کی ہے کہ کل ایران پر حملہ نہ کیا جائے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار رہے گا۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ وہ ایران کو کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ امریکی اخبارنیو یارک پوسٹ کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ “بہت جلد کیا ہونے والا ہے”۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام پر 20 سالہ پابندی کے بدلے کسی سمجھوتے پر آمادہ ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ “اس وقت کسی چیز کے لیے تیار نہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب پہلے سے زیادہ معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے امریکی ردعمل کی شدت کا اندازہ ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کے حالیہ دورے سے واپسی کے بعد ٹرمپ نے ریاست ورجینیامیں اپنے گالف کلب پر قومی سلامتی ٹیم کے ساتھ اہم مشاورت کی، جہاں ایران کے خلاف آئندہ ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔

  • ووٹر کی عمر کی حد 18 سال سے 25 سال کرنے کی تجویز  کسی صورت قبول نہیں،خالد مسعود سندھو

    ووٹر کی عمر کی حد 18 سال سے 25 سال کرنے کی تجویز کسی صورت قبول نہیں،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے ووٹر کی عمر کی حد 18 سال سے 25 سال کرنے کی تجویز کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے،مرکزی مسلم لیگ حکومتی غلط فیصلوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے گی اور ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے حکمرانوں کو من مانی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک پاکستان کسی کی جاگیر نہیں، عوام پاکستان،وطن عزیز کے وارث ہیں، کسی بھی سیاسی جماعت کو آئینی ترمیم کے نام پر ووٹر کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنے کا کھلواڑ نہیں کرنے دیں‌گے، 18 سال کی عمر میں شادی کا بل حکمرانوں نے ہی منظور کروایا اگر 18 برس کی عمر میں شادی ہو سکتی ہے تو ووٹ کیوں نہیں دیا جا سکتا، شناختی کارڈ بننے کے بعد ووٹ کا اندراج خود بخود ہو جاتا ہے،ذاتی مفادات اور حکمرانی کی لالچ نے حکمرانوں کو اندھا کر دیا ہے،تین چار کروڑ افراد کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی تجویز حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کانتیجہ ہے،اگر ایسی کوئی بھی ترمیم آئی تو سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر ملک گیر احتجاج کریںگے، نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں، نوجوانوں کو ووٹ کے حق سے کسی صورت محروم نہیں رکھا جا سکتا،ہم عوام کے جذبات کی ترجمانی کریں گے اور حکمرانوں کو کوئی غلط فیصلہ نہیں کرنے دیں گے.

  • ملکہ کونین پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    ملکہ کونین پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع

    جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی، جیل کمپلیکس میں انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کی سماعت ہوئی، عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 4 دن کی توسیع کردی۔

    تفتیشی افسر نے مدعی مقدمہ کا دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست عدالت میں دائر کی، عدالت نے تفتیشی افسر کی درخواست منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ 21 مئی کو مدعی مقدمہ کا 164 کا بیان ریکارڈ کروایا جائے۔عدالت نے سیکیورٹی خدشات کے باعث ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیشی سے استثنیٰ دے دیا، عدالت کے مطابق مدعی کا 164 کا بیان ملزمہ کے وکلاء کی موجودگی میں ریکارڈ کیا جائے گا۔سیشن جج ساؤتھ نے قرار دیا کہ ملزمہ پہلے ہی جسمانی ریمانڈ پر ہے، اگر مزید تفتیش درکار ہے تو متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ سے رجوع کیا جائے۔

    دوسری جانب سول سوسائٹی پاکستان کے صدر عبداللہ ملک نے انمول عرف پنکی کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ منشیات کے حوالے سے 2018 میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا، جو ابھی تک زیر سماعت ہے، انمول پنکی کے کیس میں اس حوالے سے اہم شواہد مل سکتے ہیں۔ خط میں استدعا کی ہے کہ انمول عرف پنکی کو با اثر مافیا راستے سے ہٹا سکتے ہیں اس لیے اسے فول پروف سیکیورٹی دی جائے اور تمام آئی جیز سے منشیات کے حوالے سے رپورٹس مانگی طلب کی جائیں۔

  • خیبرپختونخوا میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں، عطا تارڑ

    خیبرپختونخوا میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبر پختونخوا حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور کرپشن و بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے۔

    اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شاہانہ اخراجات کیے جا رہے ہیں جبکہ عوامی پیسہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی کابینہ کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے، تاہم وزراء اور مشیران کے انتخاب میں اہلیت کے بجائے دیگر عوامل کو ترجیح دی گئی۔عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ کیا کابینہ کی تعداد بڑھانے سے گورننس بہتر ہو جائے گی، جبکہ گزشتہ 12 برس سے زائد عرصے میں صوبے کی کارکردگی میں بہتری نہیں آ سکی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات اس نہج پر کبھی نہیں پہنچے تھے اور صوبے کے معاملات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے بجائے سیاسی سرگرمیوں پر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، جس سے صوبے میں انتظامی مسائل میں اضافہ ہوا ہے۔

  • 19 سے 26 مئی کے دوران شدید گرمی کی لہر کا الرٹ جاری

    19 سے 26 مئی کے دوران شدید گرمی کی لہر کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے 19 سے 26 مئی کے دوران ملک بھر میں گرمی کی شدت میں اضافے کا الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق سندھ، جنوبی پنجاب اور مشرقی بلوچستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال ادارے کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل جاری کیے گئے موسمی جائزے اور پیشگی الرٹس کے عین مطابق ہے، جبکہ آئندہ چند روز کے دوران شدید گرمی کی لہر مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔الرٹ کے مطابق پنجاب میں بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر، ملتان، ڈیرہ غازی خان، مظفر گڑھ، راجن پور، سرگودھا، لودھراں، خانیوال، وہاڑی اور لاہور شدید گرمی سے متاثر ہونے والے شہروں میں شامل ہیں۔اسی طرح سندھ میں کراچی، حیدر آباد، جیکب آباد، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، دادو، نوشہرو فیروز، کشمور، تھرپارکر، شہید بینظیر آباد، مٹیاری، عمرکوٹ، میرپورخاص، بدین، کمبر اور شہداد کوٹ میں شدید ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔بلوچستان کے علاقوں تربت، سبی، اُتھل، جھل مگسی، ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد، استا محمد، کچھی، لسبیلہ اور پنجگور بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں رہیں گے۔

    این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ صحت کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے، لہٰذا شہری شدید دھوپ اور گرمی کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں اور پانی و نمکیات کی کمی سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کریں۔

    دوسری جانب این ای او سی نے آج سے 23 مئی تک شمالی علاقہ جات میں بڑھتے درجہ حرارت کے باعث گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات سے متعلق بھی الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے امکانات موجود ہیں۔الرٹ میں خردوپین، اشکومن، دسوات، شسپر، ہنارچو، ہنڈر، گلکن، درکوت، رعشن، بریپ، بونی، پنڈورو، چاٹ، چھٹی بوئی، لاشٹ، سردارگول، ٹھلو ون اور ٹو، ارکاری اور اوری سمیت متعدد علاقوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلیشیائی جھیلوں کے قریب جانے اور خطرناک ڈھلوانوں پر قیام سے اجتناب کریں، جبکہ متاثرہ علاقوں کے مکین مقامی انتظامیہ اور موسمی ایڈوائزری پر عمل کریں۔ ادارے نے بروقت معلومات کے لیے پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ استعمال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور پیشگی حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔