Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یومِ تکبیر: پاکستانی قوم کی غیر متزلزل خودداری کی علامت

    یومِ تکبیر: پاکستانی قوم کی غیر متزلزل خودداری کی علامت

    یومِ تکبیر: پاکستانی قوم کی غیر متزلزل خودداری کی علامت

    پاکستان کا ایٹم طاقت بننا دفاعی خود مختاری اور خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے کا ضامن ہے،یومِ تکبیر اس عزم کی یاد دلاتا ہے جب پوری قوم نے دشمن کے ایٹمی تجربات کے جواب میں متحد ہو کر اپنی سالمیت کا تحفظ کیا،پاکستان پہلا مسلم ایٹمی ملک ہے جو امت مسلمہ کے لیے خود انحصاری کی علامت ہے ،پاکستان کا جوہری پروگرام دفاع اور امن کے تحفظ کے لیے ہے ،بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کی ایٹمی صلاحیت علاقائی امن اور استحکام کی ضمانت ہے ،پاکستان کی ذمہ دار جوہری قیادت خطے میں امن و استحکام کی مظہر ہے

    بھارت میں بڑھتی انتہاپسندی کے باوجود پاکستان ایک محتاط اور ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے،آج پاکستان کو ایٹمی قوت بنے 27 سال ہو چکے ہیں جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ ہمارا ملک ایک پرامن باوقار اور ذمہ دار ریاست ہے

    پاکستان کو ایٹمی طاقت بنے 27 سال مکمل ہو گئے ،آج پاکستان بھرمیں ’’یوم تکبیر‘‘ قومی جذبے سے منایا جا رہا ہے،28مئی1998کو پاکستان نے بھارت کے5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں 6 ایٹمی دھماکے کرکے ملک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا،آج پوری قوم کا سر فخر سے بُلند ہے اور پہلی اسلامی ایٹمی طاقت پاکستان کا ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے ،ایٹمی تجربات کے مقام پر پاکستانی سائنسدانوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے نعرہ تکبیر اللہ اکبر بلند کیا،ایٹمی تجربات نے ثابت کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا، یوم تکبیر پاکستان کے دشمنوں کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کیخلاف جارحیت کا مظاہرہ کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہوگا’،آج پاکستان 1998ء کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور مستحکم ہے،آج پاک فوج اور جمہوری قیادت ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں اور رہیں گے،1998 سے اب تک پاکستان ابدالی، غوری، شاہین ، بابر، غزنوی ، ابابیل ، فتح ، رعد، براق اور دیگر جدید بیلسٹک، کروز میزائلز اور ڈرونز کے کامیاب تجربات کر کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا چکا ہے،پاکستان جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے

  • پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل الگ جماعتیں ہیں، ن لیگ کی سپریم کورٹ میں درخواست

    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل الگ جماعتیں ہیں، ن لیگ کی سپریم کورٹ میں درخواست

    مسلم لیگ ن نے مخصوص نشستوں متعلق نظر ثانی کیس میں اضافی گزارشات سپریم کورٹ میں جمع کرادیں

    ن لیگ کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست میں کہا گیا ہے کہ 12جولائی کے فیصلےمیں آرٹیکل 187 کا اختیار طے شدہ عدالت رولز کے منافی استعمال ہوا،آرٹیکل 187 مکمل انصاف کا اختیار زیر التواء مقدمات میں استعمال ہو سکتا ہے.مخصوص نشستوں کے کیس میں آرٹیکل 187 کا استعمال عدالتی اصولوں کے منافی ہے، سنی اتحاد کونسل نے 80 ارکان کے ساتھ مخصوص نشستوں کیلئے اپیل دائر کی،اپیل پر فیصلےسے سنی اتحاد کونسل کے پاس زیرو ارکان ر ہ گئے،12جولائی کے فیصلہ نے سنی اتحاد کونسل سے ان کےاپنے ارکان بھی واپس لے لیے،آرٹیکل 187 کا اختیار لامحدود نہیں ہے، جب نکات پر فیصلہ دیا گیا وہ کبھی عدالت کے ریکارڈ پر نہیں تھے،سنی اتحاد کونسل کے 80 ارکان میں کوئی عدالت روبرو پیش نہیں ہوا،سنی اتحاد کونسل اور تحریک انصاف کو ایک پارٹی نہیں سمجھا جا سکتا،12جولائی کے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے ،

  • ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب کا روشن چراغ، آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا)

    ادب ایک ایسا نور ہے جو دلوں کو منور کرتا ہے، سوچوں کو جلا بخشتا ہے اور معاشروں کو سنوارتا ہے۔ یہی ادب جب قلم سے قرطاس پر اُترتا ہے، تو تہذیبوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اور جب لکھنے والے اپنی عزت، تحفظ، اور شناخت کے لیے اکٹھے ہوں تو وہ صرف تنظیم نہیں بناتے، وہ ایک فکری انقلاب کی بنیاد رکھتے ہیں۔آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (اپووا) بھی ایسی ہی ایک روشن امید ہے ، جو اہلِ قلم کی خدمت، تحفظ، فلاح اور ترقی کے لیے معرضِ وجود میں آئی۔ اس کے بانی اور روحِ رواں، ایم ایم علی، اس قافلے کے وہ سالار ہیں جنہوں نے نہ صرف لکھنے والوں کو ایک پلیٹ فارم دیا بلکہ ادب کو ادارہ جاتی حیثیت عطا کی۔

    ایم ایم علی ، بانی صدر، اپووا
    ایم ایم علی کا نام اردو ادب میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق قلم کار، حساس دل رکھنے والے تخلیق کار اور باہمت تنظیم ساز ہیں۔ ان کی قیادت میں اپووا نے صرف تنظیمی بنیادیں نہیں رکھیں، بلکہ ایک نظریاتی پیغام دیا ہے”ادب زندہ ہے، جب تک اہلِ ادب باوقار ہیں!”

    وہ جن کی سوچ میں صداقت کا رنگ ہو
    جن کی قیادت میں قلم کو امنگ ہو
    وہی ہیں بانی اس کارواں کے، جن کا نام
    ایم ایم علی، جن پہ فخر کرے ہر سخن ور کا کلام

    ان کا وژن ہے کہ لکھاری، شاعر، ادیب، ناقد، افسانہ نگار، سب کو ایک ایسا ادارہ فراہم کیا جائے جہاں وہ نہ صرف اپنی تخلیقات کو فروغ دیں بلکہ اپنے حقوق کی پاسداری بھی یقینی بنائیں۔ اپووا کی بنیاد اسی وژن کی علامت ہے۔

    ملک یعقوب اعوان ، سینئر وائس چیئرمین،
    اپووا کی قیادت میں ایک اور معتبر نام ملک یعقوب اعوان کا ہے، جو تنظیم کے سینئر وائس چیئرمین ہیں۔ ان کی شخصیت سنجیدگی، تدبر، اور ادبی وفا کا پیکر ہے۔ وہ لکھاریوں کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور ادیبوں کی بہبود کو ایک مشن سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔

    یعقوب اعوان ہیں فکر و ادب کا امین
    جو لفظوں میں رکھے ہیں خلوص کے نگین
    ہو جس کے ساتھ، وفا کا پرچم بلند
    وہی تو ہے اپووا کا معتبر کندن

    ان کی خدمات تنظیم کے استحکام اور وسعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا ہر بیان، ہر قدم ادب کے احترام اور تخلیق کار کی عزت کے لیے اُٹھتا ہے۔

    سلمیٰ کشم،سینئر نائب صدرخواتین
    اردو ادب میں جب ہم نسائی شعور، جمالیاتی احساس، اور فکری بلندی کی بات کرتے ہیں تو چند نام فوراً ذہن میں ابھرتے ہیں، اور ان میں ایک ممتاز، تابناک نام سلمیٰ کشم کا ہے۔ وہ صرف ایک شاعرہ یا ادیبہ نہیں، وہ ایک مکمل فکری دنیا کا نام ہیں؛ ایک ایسا نکھرا ہوا قلم جو لفظوں کو فقط لکھتا نہیں، روح میں اتارتا ہے۔ان کا تعلق قصور کی سرزمین سے ہے ، وہی قصور جو بلھے شاہ کی دھرتی ہے، جہاں ہر سانس میں ادب کی خوشبو ہے، اور ہر گلی میں صوفیانہ جمال بکھرا ہوا ہے۔ اسی دھرتی کی بیٹی سلمیٰ کشم ادب کی اس روایت کی وارث ہیں۔

    قصور کی مٹی نے بخشا ہے ان کو رنگِ خیال
    ہر لفظ میں رس، ہر سوچ میں اجالا ہے کمال
    سلمیٰ ہیں وہ نام، جن کے حرفوں سے
    غزلیں مہکیں، نظمیں چمکیں، جذبے بولیں

    سلمیٰ کشم کے قلم کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں صرف جذبات نہیں، بلکہ گہرا مشاہدہ، زندگی کی جزئیات، کا نچوڑ بھی ملتا ہے۔ وہ اپنے اشعار میں سماج کی اُن پرتوں کو اجاگر کرتی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ان کے ہاں درد بھی ہے، امید بھی، سوال بھی اور جواب بھی۔ وہ اردو ادب میں خواتین کے نمائندہ چہروں میں سے ایک سمجھی جاتی ہیں۔سلمیٰ کشم نہ صرف ایک تخلیق کار ہیں بلکہ ایک فعال ادبی رہنما بھی ہیں۔ اپووا میں ان کا نائب صدر بننا اس بات کا اعتراف ہے کہ وہ نہ صرف تخلیقی میدان میں ممتاز ہیں بلکہ تنظیمی، فلاحی اور فکری قیادت کی بھی اہل ہیں۔ وہ ان خواتین کی آواز ہیں جو لکھنا چاہتی ہیں، لیکن مواقع کی منتظر ہیں۔

    جن کے لہجے میں شائستگی، قلم میں سچائی
    جن کے خیال سے جاگے کئی دلوں کی بینائی
    وہ سلمیٰ کشم، جو رہنمائی کا چراغ ہیں
    اپووا کی زینت، نسائی ادب کی شفاف مثال ہیں

    قصور کی دھرتی نے جو گوہر ہمیں عطا کیے ہیں، سلمیٰ کشم اُن میں نمایاں ہیں۔ ان کی تخلیقات مقامی فضا میں جَڑی ضرور ہیں لیکن ان کے اثرات عالمی افق تک جاتے ہیں۔ سلمیٰ کشم ایک خیال کا نام ہے، ایسا خیال جو معاشرے کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتا ہے، جو صنفِ نازک کو باوقار انداز میں پیش کرتا ہے، جو ادب کو فقط کتابوں میں قید نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کے دلوں میں اُتارتا ہے۔ان کی موجودگی اپووا جیسے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہے، اور ان کی تخلیقات اردو ادب کے خزانے میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔اپووا میں ان کی موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ تنظیم خواتین اہلِ قلم کو بھی وہی عزت، وقار، اور نمائندگی دے رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں۔

    کشیدہ ہر لفظ، ہر مصرع اُن کا جمال
    قلم سے نکلے تو ہو جائے حسنِ کمال
    وہ سلمیٰ کشم، جو احساس کی ترجمان
    ہیں اپووا میں روشنی کی پہچان

    آج کے دور میں، جب ادب کو محض مشغلے یا غیر اہم سرگرمی سمجھا جا رہا ہے، اپووا ایک ایسی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے جو اہلِ قلم کی عزتِ نفس، ان کی فکری آزادی، اور تخلیقی حیثیت کو معاشرے میں اجاگر کر رہی ہے۔یہ صرف ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادبی انقلاب کی تمہید ہے ایسا انقلاب جو..
    ہر لکھاری کو ایک ادارہ جاتی پہچان دے
    شاعروں کی آواز کو پلیٹ فارم دے
    ادیبوں کی بہبود کے لیے عملی اقدامات کرے
    قومی و بین الاقوامی سطح پر اردو ادب کی نمائندگی کرے
    نئی نسل کے لکھاریوں کی تربیت، حوصلہ افزائی اور رہنمائی کرے

    اپووا کی قیادت، یعنی ایم ایم علی، ملک یعقوب اعوان، اور سلمیٰ کشم، نہ صرف تنظیمی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں بلکہ ایک مشن کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ مناصب کوئی عہدے نہیں، بلکہ ایک امانت ہیں جو قوم کے اہلِ قلم نے ان کے سپرد کی ہے۔

    قلم کے وارثوں کا یہ قافلہ چلے
    سچائی، روشنی، وفا کے گیت گائے
    اپووا ہو منزل، اتحاد ہو زادِ راہ
    ادب کی دنیا میں یہ چراغ جلائے

    دعا ہے کہ اپووا کا یہ کارواں بڑھتا رہے، پھلتا پھولتا رہے، اور اردو ادب کو وہ مقام دلوائے جس کا وہ ہمیشہ سے مستحق رہا ہے۔

  • ‏اسلامی نظریاتی کونسل نے 18 سال سے کم عمر شادی سے متعل بل کو مسترد کر دیا،

    ‏اسلامی نظریاتی کونسل نے 18 سال سے کم عمر شادی سے متعل بل کو مسترد کر دیا،

    نکاح سے قبل تھیلی سیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے بجائے اسے اختیاری رکھتے ہوئے شعور اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کا 242واں اجلاس آج بتاریخ 27؍ مئی 2025ء کو چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر علامہ محمد راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں متعدد اہم معاملات پر غور و خوض کیا گیا اور سفارشات مرتب کی گئیں۔

    اجلاس میں وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے استفسار پر نکاح سے قبل تھیلی سیمیا کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے بجائے اسے اختیاری رکھتے ہوئے شعور اجاگر کرنے پر زور دیا گیا۔ کونسل نے رائے دی کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نکاح کو غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنا چاہیے، اور اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اجلاس میں عدالتی فیصلوں کی ذرائع ابلاغ میں رپورٹنگ پر بھی گفتگو ہوئی اور کونسل نے عدالتی فیصلوں کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ پر تشویش کا اظہار کیا۔ یہ معاملہ عدالتی خلع سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے تناظر میں زیر بحث آیا۔ جہیز کے حوالے سے کونسل نے واضح کیا کہ لڑکی والوں پر سامان دینے کے لیے زور زبردستی کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، اور لڑکے والوں کی جانب سے مطالبات بھی درست نہیں۔ اس حوالے سے کونسل نے والدین کو تلقین کی کہ وہ رسم و رواج سے بالاتر ہو کر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں فیصلے کریں۔

    شادی شدہ خواتین کے ڈومیسائل سے متعلق اٹارنی جنرل سپریم کورٹ آف پاکستان کے استفسار پر کونسل نے رائے دی کہ خواتین کو اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے علاقے کا ڈومیسائل رکھیں یا اپنا سابقہ ڈومیسائل برقرار رکھیں۔ اس ضمن میں قانون جانشینی کی دفعہ 15، 16 میں ترمیم کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ خواتین کے حقوق متاثر نہ ہوں۔ ادارہ اوقاف کو فعال اور مؤثر بنانے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس ادارے کے انتظامی ڈھانچے، کارکردگی اور خدمات کے جائزے کے بعد سفارشات مرتب کرے گی۔

    اجلاس میں وزارت مذہبی امور وبین المذاہب ہم آہنگی کی طرف سے بھیجے گئے مسلم عائلی قوانین (ترمیمی) بل 2025 کی دفعہ 7 میں ترامیم تجویز کی گئیں۔ مزید برآں، کونسل کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی جو ایک جامع اسلامی عائلی قانون کا مسودہ تیار کرے گی۔ خیبرپختونخوا حكومت كى طرف سے ارسال کردہ "امتناع ازدواجِ اطفال بل 2025” کو کونسل نے شریعت سے متصادم قرار دیا۔ اسی طرح محترمہ شرمیلا فاروقی کی جانب سے پیش کردہ "کم سنی کی شادی کے امتناع کا بل” کو بھی غیر اسلامی قرار دیا۔ کونسل نے قرار دیا کہ ان بلوں میں عمر کی حد مقرر کرنے، اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی کو زیادتی (child abuse) قرار دینا اور اس پر سزائیں مقرر کرنے جیسی دیگر شقیں بھی اسلامی احکام سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ تاہم كونسل نے كم سنى كى شادىوں مىں مفاسد كى بھى نشاندہى كى اوراس كى حوصلہ شكنى پر زور دىا۔ مجموعى طور پر كونسل نے اس بل كو مسترد كر دىا۔ كونسل نے اس امر كو بھى واضح كىا كہ اس بل كو پارلىمنٹ ىا سىنٹ كى طرف سے كونسل كو رىوىو كے لىے ارسال نہىں كىا گىا۔ اجلاس میں نیب کی جانب سے موصول ہونے والے سوالات، خاص طور پر مضاربہ، ہاؤسنگ اسکیمز اور دیگر سرمایہ کاری سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا گیا۔
    کونسل نے عدت کے دوران خواتین کے نان و نفقہ سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے استفسار کا بھی جائزہ لیا اور قراردیا کہ عدت کے بعد خاوند پر مطلقہ بیوی کے کوئی مالی حقوق واجب نہیں ہوتے۔ اسی طرح کونسل نے ازدواجی اثاثہ جات (Matrimonial) کے تصور کی بھی نفی کی۔

  • بلوچستان سے بڑا بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا

    بلوچستان سے بڑا بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا

    بلوچستان میں بھارت کا بڑا منصوبہ ناکام ہوگیا ہے ۔ کڑی نگرانی اور جدید تفتیشی طریقوں نے ایک اور بھارتی نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حالیہ چھاپوں میں اُن 9افراد کو گرفتار کیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گرد تنظیم فتنہ الہندوستان بی ایل اے کیلئے مخبری اور لوجسٹکس کا کام کر رہے تھے۔ ان کے قبضے سے سیٹلائٹ فونز، ہندوستانی سِم کارڈز اور غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی ہے اور بھارت کی ایما پر یہ دہشت گردی کا بڑا حملہ کرنے کی پلاننگ کررہے تھے ۔

    گرفتار شدگان کی تفصیلی پروفائل ظاہر کرتی ہے کہ یہ کوئی عام افراد نہیں تھے بلکہ ایک منظم نیٹ ورک کا حصہ تھے جو فتنۂ الہندوستان بی ایل اے کے لیے سرگرمِ عمل تھے۔ کلی داتو مستونگ سے تعلق رکھنے والے عابد حسین دہشت گرد تنظیم کا لاجسٹک فنانسر تھا، جس کے قبضے سے ایک سیٹلائٹ فون (SIM: +881…) اور CPEC روٹ میپ والی ڈرائیو برآمد ہوئی۔

    عبدالرزاق، کلی منگلاباد کوئٹہ سے سگنل رنر کے طور پر کام کر رہا تھا، اس کے پاس سے 27 خفیہ آڈیو کلپس والی فلیش ڈرائیو برآمد ہوئی۔ اسی علاقے سے تعلق رکھنے والا محمد اسحاق موٹر سائیکل پر مشکوک سرگرمیوں کی ریکی کرتا تھا، جس کے پاس سے VR گوگل میپ کی آفلائن فائلیں ملیں۔ادھر عبدالمجید ، جو خضدار کے علاقے گازگی کا رہائشی ہے، سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کا مرکزی چہرہ تھا اس کے ڈیجیٹل آلات سے بی ایل اے کے فیک اکاؤنٹس کی فہرست ملی۔ جئند ولد لیاقت کیچ کے علاقے بغ میری سے، چیٹ موڈیولیٹر کے طور پر متحرک تھا اور اس کے لیپ ٹاپ سے پراجیکٹ نترَاج کا مکمل سورس کوڈ حاصل ہوا جو بھارتی انٹیلی جنس سے تعلق ظاہر کرتا ہے۔صرف یہی نہیں بلکہ صفی اللہ ولد غلام نبی، مستونگ کے علاقے کڈکوچہ سے، ہاؤس فنانس چینل چلا رہا تھا جس کے ذریعے دہشت گردی کی فنڈنگ کی جاتی تھی؛ اس کے اکاؤنٹ سے دبئی کے FZE والیٹ کے ذریعے 38,000 امریکی ڈالر کی ٹرانزیکشن کا سراغ ملا۔ آخر میں گوہر بخش، سردشت کلانچ پسنی سے، ساحلی نگرانی کے لیے ڈرون آپریٹر کے طور پر کام کر رہا تھا، جس کے قبضے سے بندرگاہ کی حساس ویڈیو فیڈز پر مشتمل ڈرون کلپس برآمد کیے گئے۔ ان تمام افراد کی گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایک مربوط نیٹ ورک تھا جو پاکستان کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی عالمی سازش میں سرگرم تھا۔

    ان چھوٹے مگر طاقت ور تھریا سیٹس پر سرگرم +881 سیریز کے نمبروں کی کل 312 کالیں ریکارڈ ہوئیں جن میں سے 47 براہِ راست ہندوستان کے راجستھان علاقے کی بی ایل اے سپلائی لائن میں سرگرم فیلڈ کمانڈر کودنیم دُرگا شنکر کو گئی تھیں۔ انٹر سروسز سائبر ڈویژن کی ڈیپ پیکٹ انالیٹکس کے مطابق ایک مخصوص کال میں 14 اگست 2025 (یومِ آزادی) کو گوادر-کراچی CPEC کارواں پر بیک وقت تین وی بی آئی ایِڈی دھماکوں کی ہدایات دی گئیں۔

    خفیہ دستاویز RAW-BH/OP Code-984 اشارہ کرتی ہے کہ نترَاج اصل میں بی ایل اے کی وہ تازہ ترین حکمتِ عملی ہے جس میں بلوچستان کے ساحلی شہروں سے لے کر افغان سرحدی پٹی تک سیٹلائٹ فون رِلے بنائے گئے۔ ہر رِلے میں ایک نوجوان اسٹوڈنٹ کو فرنٹ فیس بنا کر رکھا جاتا، تاکہ گرفتاری کی صورت میں انسانی حقوق کارڈ کھیلا جا سکے۔ جئند اور عبدالرزاق اسی سیل کے مبینہ فِکس پوائنٹس تھے۔

    فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے مطابق Saffron Rise Pvt. Ltd. (دبئی) سے USDT میں آنے والی رقوم کڈکوچہ اور مستونگ کے چھوٹے بزنس اکاؤنٹس میں پارک کی گئیں، جہاں سے کیش نکال کر اسمگل چینل کے ذریعے افغانستان بھیجا جاتا رہا۔ صفی اللہ اس سہولت کا منی پشر تھا اسی کے گھر سے GCC FIU Joint Circular 04/24 میں درج والیٹ کی پرنٹڈ ریکوری فریز ملی۔

    اس نیٹ ورک کی گرفتاری کوئی اتفاقیہ واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ماہرانہ انٹیلی جنس ورک اور مسلسل نگرانی کا نتیجہ ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلی بڑی کامیابی اُس وقت ملی جب وائر ٹیپ 17-B/25 کے تحت ایک حساس کال ریکارڈ کی گئی، جس میں موٹر سائیکل کے ریف نمبر کو بطور یک طرفہ کوڈ ورڈ استعمال کیا جا رہا تھا یہ ایک ایسا طریقہ تھا جس کے ذریعے پیغامات خفیہ انداز میں منتقل کیے جاتے تھے۔ دوسری جانب، ڈرون فیڈ اینالیٹکس کے ذریعے گوہر بخش کے زیر استعمال DJI Mavic ڈرون سے حاصل کردہ بندرگاہی نگرانی کی ویڈیوز نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ حساس تنصیبات کی ریکی میں ملوث تھا۔

    اس کے علاوہ، CTD کی جانب سے ہنومن پراکسی کے ڈی کرپٹ ہونے کے بعد یہ انکشاف ہوا کہ مجید بلوچ نے بی ایل اے کے لیے 400 سے زائد فیک ٹوئٹس کو ہینڈل کیا، جن میں دہشت گرد حملوں کو انسانی حقوق کی جدوجہد کا رنگ دے کر عالمی ہمدردی سمیٹنے کی کوشش کی گئی۔ یہ تمام شواہد اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ کوئی مقامی یا غیر منظم گروہ نہیں بلکہ ایک مکمل طور پر منصوبہ بند، ٹیکنالوجی سے لیس اور بھارتی سرپرستی یافتہ نیٹ ورک تھا جسے پاکستانی اداروں نے بروقت کارروائی کرکے بے نقاب کر دیا۔

    کراچی سے زکریا اسماعیل کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جو کہ خضدار میں اسکول بس حملے میں ملوث تھا ۔ بلوچستان میں پُرامن ترقی کے سفر کو سبوتاژ کرنے کے لیے دشمن قوتیں ایک مرتبہ پھر سیٹلائٹ فونوں، کرپٹو کرنسی اور جذباتی پروپیگنڈے کا سہارا لے رہی تھیں۔ لیکن پاکستانی ادارے نہ صرف زمینی بلکہ سائبر میدان میں بھی پوری طرح مستعد ہیں۔

  • پنجاب سے کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور بارود غائب

    پنجاب سے کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور بارود غائب

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی تازہ ترین آڈٹ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ محکمہ داخلہ پنجاب کے زیر نگرانی مختلف اداروں سے 2021ء تا 2024ء کے دوران کروڑوں روپے مالیت کا اسلحہ اور بارود غائب ہو گیا ہے۔ اس اہم معاملے نے صوبے میں سیکیورٹی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، پولیس آفس لاہور کے علاوہ دیگر 12 اضلاع کے پولیس دفاتر سے اسلحہ اور بارود کی چوری یا لاپتہ ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس دوران غائب ہونے والے اسلحے اور بارود کی مالیت لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں روپے تک پہنچ گئی ہے، جو انتظامی لاپرواہی اور ممکنہ بدانتظامی کی عکاسی کرتی ہے۔اسلحہ اور بارود کی لاپتہ ہونے کے واقعات کی مکمل تحقیقات کے لیے تمام متعلقہ ذیلی اداروں سے جواب طلب کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی میں پیش کی گئی اس رپورٹ نے صوبائی حکومت اور پولیس انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بھی اس معاملے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان کے ایٹمی قوت بننے سے بھارتی بالا دستی کا خواب خاک میں ملا،مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان کے ایٹمی قوت بننے سے بھارتی بالا دستی کا خواب خاک میں ملا،مرکزی مسلم لیگ

    ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے یوم تکبیرکے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ یہ دن ہمیں دشمن بھارت کے ناپاک عزائم کی یاد دہانی کرواتا ہے ، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے سے بھارتی بالا دستی کا خواب خاک میں ملا، اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے وطن عزیز کا جوہری صلاحیت حاصل کرنا پوری اُمت مسلمہ کے لیے اعزاز ہے،

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، جوائنٹ سیکرٹری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک،انجینئر حارث ڈار، ترجمان تابش قیوم و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ 28 مئی کو ہونے والے ایٹمی دھماکوں کے بعد آج پاکستان مضبوط اور مستحکم ملک ہے،ایٹمی صلاحیت کا حامل پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امیدوں کا مرکز و محور ہے،پاکستان ایک پر امن ملک ہے ، مگر وطن عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات پر حملہ آور ہونے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،بھارت نے ابھی دیکھ لیا،بھارتی جارحیت کے مقابلے میں افواج پاکستان نے بنیان مرصوص شروع کیا تو پاکستانی قوم شانہ بشانہ رہی،یہی جذبے دشمن کو ہر وقت ملیں گے

  • یوم تکبیر ،مرکزی مسلم لیگ کا 100 سے زائد شہروں میں کانفرنسز،ریلیوں کا اعلان

    یوم تکبیر ،مرکزی مسلم لیگ کا 100 سے زائد شہروں میں کانفرنسز،ریلیوں کا اعلان

    لاہور میں اسمبلی ہال،اسلام آباد،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں پروگرامز ہوں گے

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تکبیر کے موقع پر بدھ کو "امت کا پشتی بان،مضبوط پاکستان” کے عنون سے ملک بھر میں 100 سے زائد شہروں میں تکبیر کانفرنسز، ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا، یوم تکبیر کے پروگراموں سے مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی،صوبائی،زونل و ضلعی رہنما خطاب کریں گے،کانفرنسز و ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوں گے،مختلف شہروں میں تکبیر کانفرنسز ،ریلیوں کی تیاریاں و انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں، لاہور کی سڑکوں، چوکوں ،چوراہوں پر تکبیر کانفرنس کی تیاریوں کے سلسلے میں سائن بورڈز لگائے گئے ہیں ،

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام لاہور میں اسمبلی ہال کے سامنے تکبیر کانفرنس سے سیاسی و مذہبی رہنما خطاب کریں گے،اسلام آباد میں ایف نائن پارک میں تکبیر کانفرنس ہو گی،کراچی میں سہراب گوٹھ سے مزائد قائد تک تکبیر ریلی کا انعقاد کیا جائے،پشاور میں پریس کلب کے سامنے تکبیر کانفرنس ہو گی، کوئٹہ میں پریس کلب میں یوم تکبیر کے موقع پر سیمینار منعقد ہو گا، ملتان میں نواں چوک، فیصل آبادمیں ضلع کونسل چوک،بہاولپور میں فوارہ چوک،سرگودھا میں کمپنی باغ، جوہر آباد میں فوارہ چوک، گوجرانوالہ میں گوندلانوالہ اڈہ جی ٹی روڈ، منڈی بہاؤالدین میں میلاد چوک،میانوالی میں جہاز چوک کشمیرپارک،حافظ آباد میں فوارہ چوک،سیالکوٹ میں سرکلر روڈ ،نارووال میں ظفر وال بائی پاس،گجرات میں جیل چوک،اوکاڑہ میں گول چوک،ساہیوال میں مزدور چوک، شیخوپورہ میں جناح پارک،ایبٹ آباد میں امیر معاویہ چوک،بہاولنگر میں رفیق چوک،نوشہرہ میں شوبرہ چوک،جمرودخیبر میں نئی آبادی حاجی طارق حجرہ، بھکر میں جھنگ موڑ،راولپنڈی میں چاندنی چوک،مظفر گڑھ میں پریس کلب،ننکانہ میں ریلوے اسٹیشن چوک تا گوردوار ہ جنم استھان سٹی ،رحیم یار میں پریس کلب،ہری پور میں مین بازار صدئق اکبر چوک،جہلم میں‌سول لائن جہلم تا شاندار چوک،چکوال میں 15 چوک تا بھون چوک ،لیہ میں‌بیل چوک تا پریس کلب ،چنیوٹ میں یادگار شہداء ختم نبوت چوک،تلہ گنگ میں پرانا اڈہ تا جی پی او چوک،قصور میں الہ آباد چوک،تیمر گراہ میں شیل پمپ سبزی منڈی تا گورگری ،ماتلی میں فلکارہ چوک تا پریس کلب،حیدرآباد میں باغ مصطفیٰ چوک تا حیدر چوک تکیبر کانفرنسز،ریلیوں کا انعقاد کیا جائے گا.

  • بحری جہازحادثہ،بھارتی جوہری مواد کی حفاظت پر سوال اٹھنے لگے

    بحری جہازحادثہ،بھارتی جوہری مواد کی حفاظت پر سوال اٹھنے لگے

    کوچی، 25 مئی 2025،بحرِ عرب میں بھارتی ریاست کیرالہ کے ساحل کے قریب ایک خطرناک سانحہ پیش آیا، جب مال بردار بحری جہاز MSC ELSA 3 اپنے 640 کنٹینرز سمیت سمندر برد ہو گیا۔ ان میں سے 13 کنٹینرز میں انتہائی زہریلے کیمیکل اور 12 میں کیلشیم کاربائیڈ موجود تھا، جو پانی کے ساتھ خطرناک کیمیائی ردِعمل پیدا کرتا ہے۔

    یہ صرف کیمیکل کا مسئلہ نہیں ، جہاز میں 450 میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل اور فرنس آئل بھی موجود تھا، جو سمندری حیات، آبی ماحولیاتی نظام اور انسانی صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔بھارت کی کیرالہ حکومت نے فوری طور پر ریاست گیر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ماہی گیروں کو ساحلی علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ پانی میں زہریلے مادے بڑی تیزی سے پھیل رہے ہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو گا۔

    یہ واقعہ ایک سوال کو جنم دیتا ہے جو صرف کیرالہ تک محدود نہیں،اگر بھارتی حکومت زہریلے کیمیکلز کے ایک کارگو کو محفوظ طریقے سے نہیں سنبھال سکتی، تو کیا وہ جوہری مواد جیسی نازک ذمہ داری اٹھانے کے قابل ہے؟بھارت میں آئے روز حکومتی غفلت اور ناقص انتظامات کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، لیکن MSC ELSA 3 کا سانحہ حد سے تجاوز کر گیا۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ نظام کی ناکامی کی کھلی دلیل ہے۔

    عوام کو مسلسل یہ بتایا جاتا ہے کہ بھارت کو بیرونی خطرات لاحق ہیں، لیکن اس وقت سب سے بڑا خطرہ شاید اپنے ہی ذخائر اور حکومتی نااہلی سے ہے۔جوہری توانائی اور خطرناک کیمیکلز سے لیس ملک میں اگر احتیاطی تدابیر، ہنگامی ردِعمل اور تحفظاتی نظام موجود نہ ہوں، تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ”بھارتی عوام کو کسی بیرونی دشمن سے نہیں، اپنی ہی ریاستی غفلت سے خطرہ ہے!”،کیا ہندوستان اپنے ہی زہریلے ذخائر کا شکار بنے گا؟یہ سوال اب صرف ماحولیات یا ماہی گیروں کا نہیں ، یہ پورے بھارت کی سلامتی، صحت، اور مستقبل کا سوال ہے۔جب ایک بحری جہاز کا زہریلا کارگو سنبھالا نہ جا سکے، تو کیا حکومت سینکڑوں جوہری تنصیبات اور تابکار مواد کی دیکھ بھال کی اہلیت رکھتی ہے؟

  • بھارتی جارحیت، آئی ایس پی آر کا ذمہ دارانہ کردار،ناقابل تردید شواہد

    بھارتی جارحیت، آئی ایس پی آر کا ذمہ دارانہ کردار،ناقابل تردید شواہد

    آپریشنِ سندور: بھارتی جارحیت بے نقاب، آئی ایس پی آر نے بروقت اور ذمے داری سے ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے

    بھارتی میڈیا نے نام نہادآپریشن سندور کے دوران مودی کے جھوٹ پر مبنی خبریں اور گمراہ کن مواد پھیلایا، گودی میڈیا نے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچا کر عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید کمزور کر دیا، این ڈی ٹی وی، نیوز 18 اور دیگر کئی گودی میڈیا چینلز نے جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی، بھارتی چینلز نے جھوٹا دعویٰ کرتے ہوئے پاکستان کے ایف 16 اور دو F-17 طیارے مار گرائے اور پاکستانی پائلٹ کو بھی گرفتار کیا،یہ سرخیاں پرائم ٹائم میں چلیں اور سٹوڈیوز میں موضوع بحث بنی رہیں، بین الاقوامی میڈیا بشمول رائٹرز سمیت، فیکٹ چیک اداروں نے بھارتی میڈیا کے دعووں کو جھوٹا ثابت کر دیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے ڈیپ فیک ویڈیوز بھی بنائی گئیں، ڈیپ فیک ویڈیوز میں یہ تاثر دیا گیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر طیاروں اور پاکستان کے نقصانات سے متعلق آگاہی دے رہے ہیں، یہ وڈیوز سراسر جھوٹ پر مبنی تھیں جس کو بین الاقوامی میڈیا نےفیکٹ چیک کر کے مودی کے جھوٹ کا پردہ فاش کیا، گودی میڈیا کی جانب سے حقیقت، افسانہ، اور ڈرامے کی لکیر مکمل طور پر مٹ چکی ہے، ایک سنسنی خیز افواہ یہ بھی اڑائی گئی کہ پاکستان کے جوہری ذخائر پر میزائل حملہ کیا گیا، مگر یہ افواہ بھی تھوڑی دیر بعد دم توڑ گئی، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے مودی کے جھوٹے بیانیے کو زمین بوس کرتے ہوئے گودی میڈیا کی خبروں کو جھوٹا قرار دےدیا،

    بھارتی بحریہ نے کراچی بندرگاہ کو تباہ کرنے کا بھی ڈرامہ کیا مگر نہ اسکی سیٹلائٹ تصویر فراہم کی نہ کوئی بین الاقوامی تصدیق کی یا ثبوت پیش کیا، بھارتی میڈیا کی جانب سے شور مچایا گیا جو قوم پرستی کو ہوا دینے کے لیے پیدا کیا گیا، بھارتی میڈیا نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے خلاف اندرونی بغاوت کی من گھڑت کہانی بھی بنا ڈالی،

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا نے اپنی حکومت کو انٹیلیجنس کی سنگین ناکامی اور حفاظتی خامیوں پر جواب دہ ٹھہرانے کی بجائے جھوٹ کا ساتھ دیا، بھارت کی جانب سے پہلگام واقعے کو ریاستی پروپیگنڈا بنا کر پیش کیا گیا اور گودی میڈیا نے عوام کو بدلےکے مطالبے پر اکسایا، بھارتی جنگی جنون کے جواب میں پاکستان نے پیشہ ورانہ سنجیدگی اور حکمت کے ساتھ جواب دیا، پاکستان کے صاف شفاف تحقیقات کے مطالبے کو بھی مودی کی جانب سے مسترد کیا گیا، پاکستان نے محض حقائق پر زور دیا جس کی قیادت آئی ایس پی آر نے کی،

    دفاعی ماہرین نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سینیئر احکام کے ساتھ بروقت تفصیلی پریس بریفنگ دیتے رہے، پریس بریفنگ میں ریڈار لاگز، سیٹلائٹ تصاویر، پروازوں کا ڈیٹا اور جسمانی شواہد بھی پیش کیے گئے، پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا جبکہ اپنی تیاری سے منہ توڑ جواب دیا، بھارتی جھوٹے دعووں کو آئی ایس پی آر نے ٹھوس شواہد سے مسترد کیا، آئی ایس پی آر نے بین الاقوامی میڈیا کو مبینہ حملے کی جگہوں تک رسائی بھی دی،

    پہلگام واقعے کے بعد آئی ایس پی آر کی بریفنگ، واضح پیغام تھا کہ جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور دفاع کریں گے, اگر کوئی خلاف ورزی ہوئی یا پاکستان پہ جارحیت کی گئی تو ہمارا رد عمل یقینی فوری اور تباہ کن ہوگا،

    سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے صرف اپنی عوام نہیں بلکہ عالمی برادری کو بھی ٹھوس ثبوت پیش کئے، پاکستان کا بین الاقوامی مبصرین کو خوش آمدید کہنا اور تیسرے فریق سے تحقیقات کی دعوت دینا ایک سنجیدہ اور ذمہ دار قدم ہے،آج کے ہائبرڈ وار فیئر کے دور میں فیک نیوز ایک ہتھیار بن چکی ہیں ،جھوٹے نظریاتی بیانیے اصل حقائق کو مسخ کر سکتی ہے اور فیصلے دھندلے کر سکتی ہیں جو بھارت نے کیا، بھارت نے جعلی جھوٹی خبروں اور اشتعال انگیزی سے تنازع کو بھڑکانے کی ناکام کوشش جاری رکھی، پاکستان نے بہترین حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ انداز میں سچائی کو اجاگر کیا، بین الاقوامی مبصرین نے پاکستان کے معلوماتی نظم و ضبط اور ذمہ دارانہ موقف کی تعریف کی،