Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک بھارت کشیدگی میں کمی کےلیے امریکا کا کردار عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن گیا

    پاک بھارت کشیدگی میں کمی کےلیے امریکا کا کردار عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن گیا

    پاک بھارت کشیدگی میں کمی کےلیے امریکا کا کردار عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن گیا
    امریکی حکومت نے ٹرمپ کے اختیارات کے معاملے پر عدالت میں درخواست دائر کردی، اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ کے اختیارات محدود کیےگئے تو پاک بھارت دوبارہ لڑائی کا خدشہ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ نے تجارتی مراعات کی پیشکش کے ذریعے سیز فائر کرایا،

    تجارتی پالیسیوں کے خلاف کیس میں امریکی وزیرتجارت ،خزانہ سمیت مختلف حکام عدالت پیش ہوئے، امریکی وزیر تجارت نے کہا کہ ٹرمپ دونوں ملکوں کوتجارتی رسائی کی پیشکش نہ کرتے تو بڑی جنگ چھڑ سکتی تھی،اگر اختیارات کم کیے تو پاکستان اور بھارت امریکی صدر کی پیشکش کی حیثیت پر سوال اٹھاسکتے ہیں، خطے کےا ستحکام اور لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہوسکتا ہے

    دوسری جانب امریکی بین الاقوامی تجارتی عدالت نےٹرمپ کے گلوبل ٹیرف کوروکنے کاحکم دے دیا،تین ججوں پر مشتمل پینل نے چین، میکسیکو اور کینیڈا پرٹیرف سے روک دیا،عدالت نےہنگامی اقتصادی اختیارات کے تحت عائد ٹیرف کو روکنے کاحکم دیا،عدالت نے کہا کہ دیگرقوانین کے تحت عائد ٹیرف عدالتی حکم سے متاثرنہیں ہوں گے.چین پر 30 فیصد، میکسیکو اور کینیڈا کی بعض اشیاء پر 10سے25 فیصد محصولات روک دیے ، تجارتی قانون سیکشن 232 کے تحت گاڑیوں وپرزہ جات، اسٹیل ، ایلومینیم پر عائد 25 فیصد ٹیرف برقرار ہے

  • ایلون مسک کا ٹرمپ انتظامیہ کی کفایت شعاری ٹیم سے علیحدگی کا اعلان

    ایلون مسک کا ٹرمپ انتظامیہ کی کفایت شعاری ٹیم سے علیحدگی کا اعلان

    ایلون مسک نےٹرمپ انتظامیہ کی کفایت شعاری ٹیم سے علیحدگی کا اعلان کر دیا

    ایلون مسک کاکہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ٹیم میں میرا کردار ختم ہو رہا ہے،صدر ٹرمپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے کام کا موقع دیا ،مجھے خصوصی سرکاری ملازم کا درجہ دیا گیا تھا،ایلون مسک سال میں 130 دن تک حکومتی خدمات سر انجام دے سکتے ہیں، ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد یہ مدت مئی کے آخر تک مکمل ہو رہی تھی،ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کےدفاعی اخراجات بل پر تنقید کی تھی،امریکی میڈیا کے مطابق ایلون مسک نے صدر ٹرمپ کو بتائے بغیر مشیر کا عہدہ چھوڑا ہے، وائٹ ہاؤس کے اہلکار نے بھی ایلون مسک کے ٹرمپ انتظامیہ چھوڑنے کی تصدیق کردی ہے۔

    ایلون مسک نے ایک ہی روز پہلے صدر ٹرمپ کے ’بڑے خوبصورت بل‘ پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا تھا،ایلون مسک نے کہا تھا کہ بل یا تو بڑا ہوسکتا ہے یا خوبصورت مگر وہ نہیں جانتے کہ ایسا بل دونوں خصوصیات کا حامل کیسے ہوسکتا ہے،ایلون مسک نے واضح کیا تھا کہ بل میں شامل بعض امور سے وہ خوش نہیں۔

  • 9مئی کے پر تشدد واقعات میں سرکاری املاک کو کتنا نقصان ہوا ، رپورٹ پیش

    9مئی کے پر تشدد واقعات میں سرکاری املاک کو کتنا نقصان ہوا ، رپورٹ پیش

    لاہور میں 9مئی کے پر تشدد واقعات میں سرکاری املاک کو کتنا نقصان ہوا ، رپورٹ پیش کر دی گئی

    رپورٹ کے مطابق کیمروں، سرکاری گاڑیوں کی مد میں 10 کروڑ 68 لاکھ7ہزار 900کا نقصان ہوا ، جے آئی ٹی نے 9مئی کو نقصانات کی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کر ادی ،دستاویزات کے مطابق لاہور میں9 مئی کے واقعات میں پولیس اور رینجرز کی 21 گاڑیاں تباہ ہوئیں، لاہور کے 9تھانوں کی حدود میں 9مئی کو درجنوں سرکاری گاڑیاں توڑی گئیں ، سرکاری گاڑیوں کو 8 کڑور 22 لاکھ 7ہزار 500 روپے کی مالیت کا نقصان پہنچایا گیا ،جناح ہاؤس کے قریب رینجرز کے ڈالے سمیت12 گاڑیوں میں توڑپھوڑ کی گئی .9مئی کے واقعات میں ٹریفک سگنلز اور آلات کو 53 لاکھ 5ہزار کا نقصان پہنچایا گیا، سیف سٹی کے کیمروں کو ایک کڑور 41لاکھ37ہزار500 روپے کا نقصان ہوا ،گرجا چوک کینٹ میں 25لاکھ 62ہزار 300 روپے مالیت کے کیمروں کو نقصان پہنچا ، شیر پاؤ پل کے قریب 5لاکھ 18ہزار مالیت کے کیمروں کو نقصان پہنچایا گیا ، قرطبہ چوک ،جیل روڈ ،شالیمار چوک پر بھی 5لاکھ 18روپے کی سرکاری املاک کو نقصان پہنچا

  • یوم تکبیر،مرکزی مسلم لیگ کے ملک گیر پروگرام، عوام کا جوش وجذبہ،پاک فوج کے حق میں نعرے

    یوم تکبیر،مرکزی مسلم لیگ کے ملک گیر پروگرام، عوام کا جوش وجذبہ،پاک فوج کے حق میں نعرے

    مودی مئی کو نہیں بھول پائے گا، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں‌ہے، خالد مسعود سندھو،قاری یعقوب شیخ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام سو سے زائد شہروں میں تکبیر کانفرنسز،ریلیوں کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ ایٹمی پاکستان آج فاتح پاکستان کے طور پر دنیا کے سامنے ڈنکے کی چوٹ پر کھڑا ہے،دشمنوں کی سازشوں کا جواب دینے کے لئے پاکستانی قوم متحد و بیدار ہے،میزائلوں سے نہ ڈرنے والی قوم کو مودی گولی سے نہیں ڈرا سکتا، ایمان کے جذبے سے دشمن کو ہر بار شکست دیں گے، پاکستانی قوم حافظ محمد سعید کی رہائی کا مطالبہ کرتی ہے، پاکستان کے دفاع پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے.

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،حافظ خالد نیک،حافظ محمد مسعود،ذوالفقار علی اولکھ،انجینئر حارث ڈار، فیصل ندیم، چوہدری محمد سرور، عارف اللہ خٹک ،حمید الحسن،شیخ فیاض احمد،اجمل چانڈیہ، احسان اللہ منصور،محمد راشد، مزمل اقبال ہاشمی،رانا محمد اشفاق، ابو احمد محبوب الرحمان،حبیب الرحمان، ثاقب مجید،سمیت دیگر رہنماؤں نے مختلف شہروں میں‌تکیبر کانفرنسز،سیمینارز،ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا.تکبیر کانفرنسز،ریلیوں میں ہزاروں افراد شریک ہوئے، شرکا نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے،یوم تکبیر پر ملک بھر میں تکبیر کے نعروں کی گونج سنائی دی، مرکزی مسلم لیگ کے پروگراموں میں عوام کا جوش وجذبہ دیکھنے میں آیا ،شرکا پاک فوج کے حق میں نعرے لگاتے رہے،

    خالد مسعود سندھو نے گوندلانوالہ اڈہ پر تکبیر کانفرنس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام پاکستان، سیاسی جماعتیں، افواج پاکستان سب پاکستان کے لیے ایک ہیں، یہی جذبہ دیکھ کر دشمن کے حوصلے پست ہوتے ہیں،پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے بتایا تھا کہ کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ نکال دیں گے، اس تکبیر کانفرنس نے دیکھا جس نےرافیل اڑایاپاکستان نے وہ گرا دیا، ڈرون آیا تو وہ گرا دیئے،پاکستان دفاع کے لئے ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے.پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن اگر بھارت جارحیت سے باز نہ آیا تو پھرپاکستان دس مئی سے بڑھ کر بھارت کو جواب دے گا،بھارت کے اکھنڈ بھارت کا خواب پاکستان نے چکنا چور کر دیا، آج بھارت تنہا اور دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے،پاکستان کی مؤثر خارجہ پالیسی کے ذریعے بھارت کے جھوٹ کے بیانیئے کو بے نقاب کیا جا رہا ہے، پہلگام واقعہ کی تحقیقات بھارت نے کیوں نہیں کروائی، پاکستان نے تمام محاذوں پر بھارت کو شکست دی،ہم نے دن کی روشنی میں بھارت کو جواب دیا.

    قاری محمد یعقوب شیخ،حافظ خالد نیک،حافظ محمد مسعود،ذوالفقار علی اولکھ،انجینئر حارث ڈار، فیصل ندیم، چوہدری محمد سرور، عارف اللہ خٹک ،حمید الحسن،شیخ فیاض احمد،اجمل چانڈیہ، احسان اللہ منصور،محمد راشد، مزمل اقبال ہاشمی،رانا محمد اشفاق، ابو احمد محبوب الرحمان،حبیب الرحمان، ثاقب مجید،سمیت دیگر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یومِ تکبیر نہ صرف پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کا دن ہے، بلکہ یہ قوم کے عزم، اتحاد، اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت و ذمہ دارانہ کردار کا روشن استعارہ ہے،ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان نے پیغام دیا کہ ہم امن کے داعی ضرور ہیں، مگر اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، دنیا میں بھارت کی شکست پر بحث جاری ہے جبکہ پاکستان فاتح کی حیثیت سے میدان میں کھڑا ہے،ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک ایٹمی پاکستان کے باشندے ہیں،ہماری مسلح افواج صرف دفاعی قوت نہیں بلکہ قومی وحدت کی علامت بھی ہیں،اندرونی خطرات ہوں یا بیرونی، ہر محاذ پر افواجِ پاکستان نے قربانیاں دے کر اس وطن کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ کیا ہے،

    مرکزی مسلم لیگ ضلع مٹیاری کی جانب سے ہالا شہر میں ریلی نکالی گئی۔ریلی شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ہالا پریس کلب پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی میں قیادت کے فرائض ضلع جنرل سیکریٹری شفیع محمد بروہی نے انجام دیے،مرکزی مسلم لیگ ضلع بہاول نگر کے زیر اہتمام بنیانِ مرصوص مارچ” کا انعقاد کیا گیا۔ریلی کمرشل کالج چوک سے شروع ہوئی اور رفیق شاہ چوک پر اختتام پذیر ہوئی۔شرکاء نے پاکستان اور افواجِ پاکستان سے وفاداری کا اظہار کیا،ریلی کی قیادت حافظ امیر حمزہ رافع نے کی،بورے والا میں مرکزی مسلم لیگ کےزیر اہتمام یوم تکبیر کے موقع پر ریلی نکالی گئی جس میں مرکزی مسلم لیگ بورے والا کے جنرل سیکرٹری عبداللہ عمیر نے خطاب کیا ،پاکپتن میں مرکزی مسلم لیگ کےزیر اہتمام یوم تکبیر کے موقع پر تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مرکزی مسلم لیگ پاکپتن کے جنرل سیکرٹری چوہدری اقبال کمبوہ ،مولانا عباس علی زاہد سمیت ودیگر نے خطاب کیا ،

    مرکزی مسلم لیگ دیامر کے زیر اہتمام گلگت زون کے صدر مقصود حسین سندھو کی قیادت میں صدر بازار میں یوم تکبیر کے حوالے سے ریلی کا انعقاد کیا گیا، شرکاء نے صدیق اکبر چوک تک ریلی نکالی، شرکاء نےپاکستان اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے مرکزی مسلم لیگ گلگت زون کے صدر مقصود حسین سندھو کا کہنا تھا کہ 57 اسلامی ملکوں میں پاکستان واحد ایٹمی قوت ہے۔ پاک فوج نے دنیا میں پاکستان کی عزت میں اضافہ کردیا ،

    پشاور میں پریس کلب کے سامنے تکبیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، کوئٹہ پریس کلب میں یوم تکبیر کے موقع پر سیمینارسے مقررین نے خطاب کیا،ملتان میں نواں چوک، فیصل آبادمیں ضلع کونسل چوک،بہاولپور میں فوارہ چوک،سرگودھا میں کمپنی باغ، جوہر آباد میں فوارہ چوک، گوجرانوالہ میں گوندلانوالہ اڈہ جی ٹی روڈ، منڈی بہاؤالدین میں میلاد چوک،میانوالی میں جہاز چوک کشمیرپارک،حافظ آباد میں فوارہ چوک،سیالکوٹ میں سرکلر روڈ ،نارووال میں ظفر وال بائی پاس،گجرات میں جیل چوک،اوکاڑہ میں گول چوک،ساہیوال میں مزدور چوک، شیخوپورہ میں جناح پارک،ایبٹ آباد میں امیر معاویہ چوک،بہاولنگر میں رفیق چوک،نوشہرہ میں شوبرہ چوک،جمرودخیبر میں نئی آبادی حاجی طارق حجرہ، بھکر میں جھنگ موڑ،راولپنڈی میں چاندنی چوک،مظفر گڑھ میں پریس کلب،ننکانہ میں ریلوے اسٹیشن چوک تا گوردوار ہ جنم استھان سٹی ،رحیم یار میں پریس کلب،ہری پور میں مین بازار صدئق اکبر چوک،جہلم میں‌سول لائن جہلم تا شاندار چوک،چکوال میں 15 چوک تا بھون چوک ،لیہ میں‌بیل چوک تا پریس کلب ،چنیوٹ میں یادگار شہداء ختم نبوت چوک،تلہ گنگ میں پرانا اڈہ تا جی پی او چوک،قصور میں الہ آباد چوک،تیمر گراہ میں شیل پمپ سبزی منڈی تا گورگری ،ماتلی میں فلکارہ چوک تا پریس کلب،حیدرآباد میں باغ مصطفیٰ چوک تا حیدر چوک تکیبر کانفرنسز،ریلیوں کا انعقاد کیا گیا.

  • یوم تکبیر،اپووا پھر بازی لے گئی،لکھاریوں کا اجتماع،کیک کاٹنے کی تقریب

    یوم تکبیر،اپووا پھر بازی لے گئی،لکھاریوں کا اجتماع،کیک کاٹنے کی تقریب

    آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (APWWA) کے زیر اہتمام ، استاد،شاعر،کالمنگار ناصر بشیر صاحب کی زیر صدرات ، ملک یعقوب اعوان کی زیر سرپرستی اور بانی اپووا ایم ایم علی کی زیر نگرانی مقامی ہوٹل میں یومِ تکبیر کے سلسلے میں ایک پروقار کانفرنس اور کیک کاٹنے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار محفل میں ملک بھر سے ممتاز ادیبوں، شعراء، لکھاریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔
    تقریب کا باقاعدہ آغاز حافظ محمد زاہد نے تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا، جس سے محفل میں روحانیت اور تقدس کی فضا قائم ہوئی۔ اس کے بعد، شریک محفل معززین نے یومِ تکبیر کی اہمیت، پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ضرورت اور اس کے دفاعی اثرات کے حوالے سے اپنے اپنے نادر خیالات اور جذبات کا اظہار کیا۔ مقررین نے پاکستان کی خودمختاری اور استحکام میں ایٹمی قوت کے کردار پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں بھی اسی جذبے سے ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    کانفرنس کے اختتام پر، یومِ تکبیر کی مناسبت سے ایک خصوصی کیک کاٹا گیا، جو اس عظیم قومی دن کی یاد میں ایک علامتی جشن تھا۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے پاکستان کی امن و سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔ آخر میں، شرکاء کے لیے ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جس کے دوران ادبی گفتگو اور باہمی رابطوں کا سلسلہ جاری رہا۔یہ تقریب APWWA کی جانب سے قومی دنوں کو یاد کرنے اور ادبی حلقوں میں قومی جذبے کو فروغ دینے کے عزم کی عکاس تھی۔

    تقریب میں معروف ادبی شخصیت،استاد ،شاعر کالمنگار ناصر بشیر ،معروف ادیب اشفاق احمد، معروف شوبز جرنلسٹ امبرین فاطمہ،سنئیر صحافی ندیم نظر ،ملی ادبی پنچائت کے چئیرمین ریاض احمد احسان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر مہمان اعزاز میں معروف ادبی شخصیت ڈاکٹر فضیلت بانو،معروف شاعرہ عروج درانی ،سنئیر صحافی ممتاز بانو، کالمنگار شاعر چوہدری غلام غوث، نوید شیخ، ایگزیکٹو پروڈیوسر کھرا سچ ،اردونیوز کے رپورٹر ادیب یوسفزئی،سینئر صحافی حافظ نعیم، نوجوان لکھاری خنیس الرحمان، ایک نیوز سے حافظ طارق،ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان۔سرپرست گلبل رسالہ نعمان احمد صابری،بچوں کے معروف ادیب عبدالصمد مظفر،لکھاری محمد نادر کھوکھر محمد قاسم کھوکھر، امجد نذیر ، محمد سعید ،محمد دانش رانا،بچوں کے معروف ادیب امان اللہ نیر شوکت ۔صحافی و کالمنگار ،مہر اشتیاق احمد سیالکوٹ،معروف کالمنگار ملک فیصل رمضان،صحافی و کالمنگار ،، فہد نفیس،محمد بابر، قصور سے چوہدری اکبر علی اپووا عہددران میں سے بانی و صدر اپووا ایم ایم علی،سنیئر نائب صدر حافظ محمد زاہد،نائب صدر سفیان فاروقی،نائب صدر میل ونگ محمد اسلم سیال،محمد بلال جوائینٹ سیکرٹری،اظہر حسین بھٹی ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن ،ڈپٹی جوائینٹ سیکرٹری اویس چوہدری،ڈپٹی سیکررٹری میل ونگ حافظ معاویہ ظفر،ڈپٹی پریس سیکرٹری عثمان بن معاویہ ۔جبکہ خواتین عہداران میں جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول،ڈپٹی سیکرٹری کو آرڈینیشن لاریب اقراء،ایڈیشنل سیکرٹری انفارمیشن ایمن سعید،نور فاطمہ ،سنئیر لکھاریہ تسنیم کوثر ،سوشل ایکٹیوسٹ سونیا معراج کے علاہ ماہ نور ،سدرہ رحمت،عائزہ بتول،اور دیگر شرکاء نے کثیر تعداد میں شرکت شرکت کی۔تمام شرکاء نے پرتکلف ناشتہ دینے پر سنئیر وائس چئیرمین اپووا ملک یعقوب اعوان کا شکریہ ادا کیا .

  • تین بھارتی شہری ایران میں‌اغوا

    تین بھارتی شہری ایران میں‌اغوا

    بھارت کی ریاست پنجاب کے تین نوجوانوں کو ایران میں اغوا کر لیا گیا ہے، اور اغواکار ان کے بدلے کروڑوں روپے تاوان کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کو آسٹریلیا میں ملازمت کے خواب دکھا کر دہلی کے ذریعے ایران بھیجا گیا تھا۔ اغوا شدگان کا تعلق پنجاب کے اضلاع سنگرور، ایس بی ایس نگر (نواں شہر)، اور ہوشیار پور سے ہے۔

    اغوا ہونے والے نوجوانوں میں سے ایک، حسن پریت سنگھ، سنگرور کے شہر دھوری کے وارڈ نمبر 21 کا رہائشی ہے۔ متاثرہ خاندان کے مطابق، نوجوانوں کا یکم مئی 2025 سے اپنے گھروالوں سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ اب تک 11 دن گزر چکے ہیں اور گھر والے شدید پریشانی کے عالم میں ہیں۔اہل خانہ کو حال ہی میں ایک ویڈیو کال موصول ہوئی، جس میں نوجوانوں کو رسیوں سے جکڑا ہوا دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں ان کے جسم پر زخموں کے نشانات واضح نظر آتے ہیں، اور ایک شخص ان کی گردن پر چاقو رکھے دکھائی دیتا ہے۔ کبھی 55 لاکھ روپے اور کبھی ایک کروڑ روپے تاوان کی رقم مانگی جا رہی ہے۔ اس معاملے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔

    نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کا وعدہ کرنے والا ایجنٹ اس وقت مفرور ہے۔ حسن پریت سنگھ کی والدہ بلوندر کور نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو بحفاظت واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ "میرے بیٹے کو آسٹریلیا بھیجنے کے نام پر دھوکہ دیا گیا، اب ہم بے بسی کی حالت میں ہیں۔”پڑوسی بھوپیندر سنگھ کے مطابق، انہیں اغوا کی اطلاع اس وقت ملی جب علاقے کے پٹواری کو ایک خط موصول ہوا جس میں تاوان کی تفصیل اور نوجوانوں کی ویڈیو شامل تھی۔ اہل علاقہ نے بھی حکومت سے فوری اقدام کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ حرکت میں آ گئی ہے۔ ایران میں موجود بھارتی سفارت خانے نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تینوں بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور انہیں جلد از جلد بازیاب کروایا جائے۔ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اور حکومت اس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطہ برقرار رکھا جا رہا ہے۔

  • 28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    28مئی کے بعد پاکستان کی ایک اور برتری،تحریر:قاضی کاشف نیاز

    اللہ کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے اہل پاکستان کو ،اسلامیان پاکستان کو پاکستان اور اسلام کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف ایک بار پھر تاریخی فتح سے ہم کنار کیا۔۔۔28مئی کے ایٹمی دھماکوں کے بعد اللہ نے پاکستان کو ایک اور برتری عطا کی۔۔۔ یہ سب یقینا اللہ کی خصوصی مدد سے ہی ممکن ھوا ھے۔۔۔اس موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جو اسوہ منقول ھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی فخر کے اظہار کی بجائے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی و خشیت سے جھک جاتے۔۔۔اور سجدہ شکر بجا لاتے۔۔۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ھوئے تو اس وقت آپ کی عاجزی کی یہ انتہا تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک اونٹنی پر اتنا جھکا ھوا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریش مبارک لکڑی کے کجاوے سے لگ رہی تھی(المعجم الاوسط للطبرانی:۶/۸۵، رقم الحدیث: ۵۸۷۱)
    اللہ نے بھی ایسے موقع پر اپنے نبی کو یہی تلقین کی
    فسبح بحمد ربک واستغفرہ
    پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اس فتح عظیم کے موقع پر اپنے رب کا شکر ادا کرو اور اس سے استغفار کرو۔۔
    غرض جب فتح کے موقع پر اللہ اپنے نبی جیسی معصوم عن الخطاء ہستی سے بھی یہ توقع رکھتا ھے کہ وہ اسے اپنی کسی قابلیت،کسی بہادری و ذہانت یا اپنی کسی زبردست جنگی سٹریٹجی کا نتیجہ نہ سمجھیں یا اپنے جدید اسلحہ و تعداد کا کوئی کرشمہ بھی نہ سمجھیں بلکہ اس فتح اور کامیابی کو اللہ تبارک و تعالیٰ کی خاص غیبی مدد ہی سمجھیں تاکہ اپنی صلاحیتوں کو ہی اصل سمجھ کر کسی غرور و گھمنڈ کا شکار نہ ھو جائیں۔۔ایک نبی کی ہستی سے ایسا گمان بھی معاذاللہ اگرچہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس طرح نبی کو مخاطب کر کے مسلمانوں کی مستقل تربیت کی گئی کہ وہ ایسے کسی بھی موقع پر کسی بھی قسم کی جاہلانہ نخوت کا شکار نہ ھوں۔۔۔
    ایک مسلمان کا یہی انداز ھوتا ھے۔۔جب وہ اپنی ہر کامیابی پر اللہ کے حضور اور زیادہ جھکتا،اسلام پر اور زیادہ کاربند ھوتا اور استغفار کرتا ھے تو اللہ بھی اسے پہلے سے زیادہ کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازتا ھے۔۔اس کی توبہ قبول کرتا ھے،اس کے گناھوں کو مٹاتا بلکہ ان گناھوں کو بھی نیکیوں میں بدل دیتا ھے اور اگر وہ یہ کام نہ کریں تو اللہ جیتی ھوئی جنگ شکست میں تبدیل کرتے بھی دیر نہیں لگاتے۔۔۔ایسی کئی جیتی ھوئی جنگوں کو شکست میں تبدیل ھونے کی کافی مثالیں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔۔سب سے بڑی مثال جنگ احد کی ھے جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین جنگ جیت چکے تھے۔۔۔جنگ کے آخر میں جب بعض صحابہ کرام سے صرف اتنی غلطی ھوئی اور وہ بھی ایک اجتہادی غلطی۔۔انہیں سالار جنگ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ہدایت تھی کہ ایک درہ کو تاحکم ثانی کسی صورت خالی نہیں کرنا۔۔۔جنگ کے اختتام پر جب لشکر کفار شکست کھا کر پسپا ھو گیا اور فتح پوری طرح واضح ھو گئی تو ان صحابہ کرام نے سمجھا کہ جب فتح ھو گئی اور جنگ بھی ختم ھو گئی،کفار سب پسپا ھو گئے تو اب یہاں کھڑے رہنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔چنانچہ انہوں نے وہ جگہ چھوڑ دی۔۔اس معمولی اجتہادی غلطی اور اپنے سالار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نادانستہ نافرمانی کا بھی یہ نتیجہ نکلا کہ پسپا ھوتا شکست خوردہ لشکر کفار درہ خالی دیکھ کے وہیں سے اچانک واپس پلٹا اور مسلمانوں پر پھر سے دھاوا بول دیا جس سے مسلمانوں کا کافی جانی نقصان ھوا اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شدید زخمی ھوئے۔۔
    دور نہ جائیں تو پاکستان کی ابتدائی دو جنگوں کا حال ہی سامنے رکھ لیں ۔۔65ء کی جنگ میں پاکستان نے الحمدللہ اپنے سے پانچ گنا بڑے ملک بھارت کو شکست فاش دی ۔۔۔بھارت کے اندر گھس کر بھارت کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ۔۔اس وقت بھی پاک فضائیہ نے بھارتی طیارے گرانے کے عالمی ریکارڈ قائم کیے ۔۔۔حالانکہ اس وقت ہمارے پاس نہ ایٹمی صلاحیت تھی نہ کوئی جدید چینی ہتھیار،میزائل اور طیارے تھے۔۔بس صرف اور صرف خالص اللہ کی مدد کے سہارے یہ جنگ نہ صرف لڑی گئی بلکہ زبردست کامیابی بھی حاصل کی گئی۔۔۔۔۔ہمارے ہیرو ایم ایم عالم نے تین منٹ سے بھی کم وقت میں پانچ بھارتی طیارے گرائے۔۔۔ایک ایک دن میں بائیس بھارتی طیارے مار گرائے گئے۔۔ سیالکوٹ چونڈہ کے محاذ پر دوسری عالمی جنگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ پاکستان نے کامیابی سے لڑی اور دشمن کے بے شمار ٹینکوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔۔۔اتنی بڑی کامیابی اور فتح کے صرف چھ سال بعد کیا ھوا۔۔۔ھم اپنے جشن اور مستیوں میں غرق ھوئے اور بھارت بدلے کے لیے ایک دن بھی آرام سے نہ ںیٹھا۔۔۔71ء میں اس نے واپس پلٹ کر حملہ کیا اور ہمارا آدھا ملک ھم سے الگ کر لیا۔۔۔یہ کامیابی مکار بنیے نے جنگ کے ذریعے کم اور پاکستانی مسلمانوں کو باھم ایک دوسرے سے لڑا کر زیادہ حاصل کی۔۔۔اس نے مغربی پاکستان،پنجاب اور پاک فوج کے خلاف جاہلانہ لسانی عصبیت کے نام پہ اس قدر شدید نفرت پھیلائی کہ مشرقی پاکستان کی عوام اپنی ہی فوج کے خون کی پیاسی ھو گئی۔۔۔جب عوام کو ہی فوج کے خلاف کر دیا جائے تو دنیا کی پھر طاقتور سے طاقتور فوج بھی ناکام ھو جاتی ھے۔۔اسی نکتے کو بھارت نے استعمال کیا اور اس نے اپنی چانکیائی سیاست کے ذریعے پاکستان کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کر لی۔۔۔
    آج بھی بھارت وہی کھیل دوبارہ بچے کھچے پاکستان میں کھیل رہا ھے۔۔۔پھر وہی اسی طرح کا ڈیزائن اور ماحول کہ فوج اور پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا دو اور پھر دیکھو کہ پاکستان ٹوٹتا ھے یا نہیں۔۔۔تاھم اللہ کا شکر ھوا کہ پاکستان اس بار بھارت اور ہمارے کچھ نادان سیاستدانوں کی طرف سے ایسے تمام زرخیز ماحول پیدا کرنے کے باوجود جنگ میں بری طرح شکست سے دو چار ھوا ھے۔۔۔لیکن دشمن سے ھمیں ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہنا چاہیے۔۔۔ہمارا دشمن انتہائی کمینہ دشمن ھے۔۔۔یہ صرف پاکستان کا دشمن نہیں،یہ اصلا اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ھے۔۔اسی لیے تو آج غزہ کا قصائی اسرائیل ہی جنگ میں اس کا واحد سب سے بڑا دوست بن کے کھڑا تھا۔۔ایسا دشمن زخم کھا کے آرام سے بیٹھنے والا نہیں۔۔۔یہ بدلے کی آگ میں سانپ کی طرح مسلسل پھنکار رہا ھے۔۔مودی ہر الیکشن کے قریب کبھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف
    محاذ کھول دیتا ھے تاکہ ہندؤوں کا ووٹ بینک پکا رکھا جا سکے اور کبھی وہ پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیتا ھے۔۔۔لیکن اس بار پاکستان کے خلاف اس کی مہم جوئی اسے بری طرح الٹ پڑ گئی۔۔اس نے بڑی منصوبہ بندی سے پہلگام میں کچھ سیاحوں کو خود قتل کرانے کا فالس فلیگ ڈرامہ کیا اور پھر اس کی آڑ میں 6ـ7مئی کی درمیانی شب رات کے اندھیرے میں پاکستان پہ حملہ آور ھو گیا۔۔۔ وہ اپنے تئیں بڑے طمطراق اور جدید ترین ہتھیاروں میزائلوں طیاروں کے ساتھ پورے کر و فر کے ساتھ پاکستان پہ حملہ آور ھوا اور اس یقین کے ساتھ کہ جیسے پاکستان بس چند منٹوں گھنٹوں کی مار ھے لیکن الحمدللہ پاک فوج نے اسے ایسا کرارا جواب دیا کہ وہ الٹا اپنے دو جدید ترین رافیل جہاز سمیت 6طیارے،48ڈرون اور اربوں ڈالر کا جدید ترین دفاعی اینٹی میزائل سسٹم SU 100 بھی تباہ کروا بیٹھا اور وہ پاکستان سے پانچ گنا بڑی طاقت ھونے کے باوجود صرف تین گھنٹے چالیس منٹ کی مار ثابت ھوا جس کی وجہ سے پورے عالم میں اس کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔۔۔جواب میں بھارت پاکستان کا ایک بھی طیارہ نہ گرا سکا نہ دکھا سکا۔۔۔ یوں مودی کا پاکستان کو نقصان پہنچا کر الیکشن جیتنے کا اس کا خواب چکنا چور ھو گیا۔۔ اس کی ہنڈیا بیچ چوراہے ہی پھوٹ گئی۔۔۔اس کے الیکشن جیتنے کے سارے تخریبی پلان دھرے رہ گئے چنانچہ الیکشن جیتنے اور اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے وہ اب کچھ بھی اڈونچر کر سکتا ھے۔۔اس کے مکروہ عزائم سے کون واقف نہیں۔۔لہذا اس وقت ضرورت اس امر کی ھے کہ ھم دشمن سے کسی بھی محاذ پہ غفلت کا شکار نہ ھوں۔۔۔ھم نے دشمن پہ فتح عظیم ضرور حاصل کی ھے لیکن یہ اتنی بڑی فتح نہیں کہ جس کے بعد دشمن ھم پہ دوبارہ حملہ کرنے کی ہمت اور طاقت بھی نہ رکھتا ھو۔۔اور ھم خواہ مخواہ کسی فخر و تکبر کا شکار ھو جائیں۔۔ھم نے دشمن کو پسپا ھونے پہ ضرور مجبور کیا ھے لیکن اس کو ھم نے مٹا نہیں دیا۔۔۔یا اس کی طاقت بالکل ختم نہیں کر ڈالی۔۔۔سانپ زخمی ضرور ھوا ھے لیکن اس کا سر ابھی پوری طرح کچلا نہیں گیا۔۔سانپ بھی ابھی موجود ھے اور وہ پھنکار بھی رہا ھے۔۔۔
    اس موقع پہ قوم میں باہمی یک جہتی سب سے زیادہ برقرار رکھنے کی ضرورت ھے۔عسکری محاذ پہ دشمن ہمیں بارہا آزما چکا ھے اور ہر جنگ میں اسے بری طرح منہ کی کھانا پڑی ھے۔۔اسے کامیابی ہمیشہ پاکستانی قوم اور اداروں کو باھم لڑانے سے ملی ھے۔۔۔ دشمن کی یہ سازش اگر ھم کامیاب نہ ھونے دیں اور قومی یکجہتی کو زیادہ سے زیادہ برقرار رکھیں،باہمی سیاسی اختلاف کو اس حد تک نہ بڑھائیں کہ ھم دشمن کے خواب کی تکمیل کا باعث بن جائیں۔۔اور آپس میں ہی لڑ کے تباہ ھو جائیں جبکہ دشمن بغیر جنگ کے ہی ھم پہ فتح حاصل کر لے۔۔۔
    اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں،سیاستدانوں اور پوری قوم کو یہ تدبر اور تفکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔اگر اس تدبر اور قومی یکجہتی کو برقرار رکھتے ھوئے ھم ایمان،اتحاد اور جہاد فی سبیل اللہ کے جذبے سے سرشار ھو کر آگے بڑھتے رھیں تو ان شاءاللہ دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ھو سکے گا۔۔
    بس اب صرف دو باتیں ہمیں پیش نظر رکھنی چایئیں۔۔۔پہلی بات یہ کہ صرف دفاع کافی نہیں۔۔ بھارت کی آئے دن کی جارحیت اور سندھ طاس
    عقیدہ معطل کرنے کی دھمکیوں کا علاج صرف دفاع کی بجائے جارحانہ حکمت عملی سے ممکن ھے۔۔اس لیے کہ
    offence is the best defence
    ہندو بنیے کا تو علاج ہی یہی ھے۔۔مسلمان فاتحین نے اسی اصول پر ہی انتہائی کم تعداد ھو کر بھی پورے برصغیر پر ایک ہزار سال تک حکومت کی۔۔اج بھی ہندو بنیے کا یہی علاج ھے
    دوسری بات یہ کہ بھارت اگر صرف دہشت گردی پہ مذکرات کرے تو پاکستان بھی سوائے مسئلہ کشمیر کے اور کسی آیشو پر بات کرنے سے انکار کر دے کیونکہ دنیا جانتی ھے کہ تمام مسائل کی وجہ صرف یہی مسئلہ ھے۔۔اب پاکستان کے ڈٹ کے کھڑے ھونے کا وقت ھے۔۔اب کسی قسم کی پرانی مصلحت آمیزانہ اور ضرورت سے زیادہ شریف بننے کی پالیسی ترک کی جائے ۔۔
    10مئی کے جواب کے بعد اب پاکستان دنیا میں الحمدللہ بھارت سے زیادہ طاقتور ملک بن کے ابھرا ھے ۔۔ اپنی اس حیثیت کا بھرپور فایدہ اٹھایا جائے تو ائندہ بھی کامیابیاں اور کامرانیاں ہمارا مقدر ھوں گی۔۔ان شاءاللہ
    پاکستان زندہ باد
    پاک فوج زندہ باد
    پاکستانی عوام زندہ باد

  • خوارج  کی حقیقت،ڈی جی آئی ایس پی آر کا ردعمل،علما کرام "خوارج پر برس پڑے

    خوارج کی حقیقت،ڈی جی آئی ایس پی آر کا ردعمل،علما کرام "خوارج پر برس پڑے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس — خوارج کی حقیقت بے نقاب

    راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نور ولی محسود نے ایک بار پھر اپنی سوچ اور تنظیم کے اصل چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے، جب اس نے اس بات کا دعویٰ کیا کہ "اسلامی امارات کی کمزوری کے اس مرحلے میں کفار کے ساتھ تعاون مکمل طور پر جائز ہے۔”

    ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ بیان نہ صرف شریعت کے سراسر خلاف ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کی اس پیش گوئی کو بھی سچ ثابت کرتا ہے جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ خوارج مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے قتال کریں گے۔ انہی کی روش پر چلتے ہوئے آج ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھا رہی ہیں اور دشمن قوتوں کی زبان بول رہی ہیں۔

    پاکستان کے جید دینی علما نے نور ولی محسود کے اس بیان کو غیر اسلامی، گمراہ کن اور خارجی فکر کا مظہر قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ کفار کے ساتھ اتحاد کر کے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑنا شریعت کی صریح مخالفت ہے۔

    نور ولی محسود کی یہ سوچ دراصل اُس خارجی فکر کی نمائندگی کرتی ہے جو تاریخِ اسلام میں ہمیشہ فتنہ، فساد، اور بدامنی کا سبب بنی ہے۔ ٹی ٹی پی جیسی تنظیمیں، جو پہلے ہی ریاستِ پاکستان اور امت مسلمہ کے لیے خطرہ بن چکی ہیں، اب غیروں کے ایجنڈے کو اسلامی لبادہ پہنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اس فتنے کا مقابلہ صرف افواج پاکستان یا حکومت کی سطح پر نہیں کیا جا سکتا سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر بھی اس کے خلاف واضح بیانیہ پیش کرنا ہوگا،اسلام کسی ایسے اتحاد کی اجازت نہیں دیتا جس کا مقصد مسلمانوں کے خلاف جنگ ہو۔ قرآن و سنت کی روشنی میں ایسے افراد فسادی اور گمراہ قرار دیے گئے ہیں۔ٹی ٹی پی نہ صرف ایک دہشت گرد تنظیم ہے بلکہ ایک خارجی گروہ ہے جو پاکستان کی سالمیت اور مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے درپے ہے۔ ان کا ایجنڈا اسلام نہیں بلکہ دشمن قوتوں کے مفادات کا تحفظ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان اور اس جیسے خارجی گروہ اسلام کے نہیں بلکہ اسلام دشمنوں کے نمائندے ہیں۔ نور ولی محسود جیسے افراد کے بیانات نہ صرف دینی گمراہی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ ہمیں ان کے فتنوں کو بے نقاب کرنا اور ان کے خلاف متحد ہو کر سچائی کا پرچم بلند رکھنا ہوگا۔

  • پاکستانی قوم ہمیشہ ذوالفقار بھٹو کے ایٹمی پاکستان کے احسان کو یاد رکھے گی،سحر کامران

    پاکستانی قوم ہمیشہ ذوالفقار بھٹو کے ایٹمی پاکستان کے احسان کو یاد رکھے گی،سحر کامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور ممبر قومی اسمبلی سحر کامران نے یوم تکبیر کے موقع پر اپنے پیغام میں پوری پاکستانی قوم کو اس تاریخی دن کی مبارکباد پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوم تکبیر پاکستانی قوم کا فخر اور تحفظ کی علامت ہے۔

    سحر کامران نے کہا کہ یہ دن پاکستان کی خودمختاری اور عزت کی یادگار ہے، جسے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی حکمت عملی اور عزم سے ممکن بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار بھٹو نے قوم کی عظمت اور سلامتی کے لئے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ آج حقیقت کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام قائد عوام کی سوچ اور حکمت عملی کا نتیجہ تھا، اور پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان ایک ناقابل تسخیر ایٹمی قوت ہے۔ سحر کامران نے کہا کہ پاکستانی قوم ہمیشہ ذوالفقار بھٹو کے اس احسان کو یاد رکھے گی جو انہوں نے ملک کی خودمختاری کے لیے کیا۔سحر کامران نے واضح کیا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایٹمی قوت کا دعویٰ بھی کرتا ہے۔ انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    آخر میں سحر کامران نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یوم تکبیر کے موقع پر وطن کے اتحاد اور حب الوطنی کے جذبے کو مضبوط کرنے کا عزم کرتی ہے اور پارٹی کا ہر نظریہ اور ہر عمل صرف اور صرف پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کے لیے وقف ہے۔

  • کرومیٹک کے زیر اہتمام چوتھی سالانہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس کا انعقاد

    کرومیٹک کے زیر اہتمام چوتھی سالانہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس کا انعقاد

    صحت عامہ کے لئے کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیم کرومیٹک نے اسلام آباد میں چوتھی سالانہ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس برائے تمباکو کنٹرول کا کامیاب انعقاد کیا۔ کانفرنس میں 15 سے زائد پارلیمنٹیرینز، بیوروکریٹس، ریسرچرز اور ماہرین صحت مقررین کے ساتھ 60 سے زائد ڈیجیٹل انفلوئنسرز اور نوجوان کانٹینٹ کریئیٹرز نے شرکت کی۔

    کانفرنس میں ای سگریٹس، نکوٹین پاؤچز، تمباکو مصنوعات کی اشتہاری مہم، ٹیکس اصلاحات، پالیسی سازی اور تمباکو نوشی سے بچاؤ کے لئے آگاہی مہم جیسے اہم موضوعات پر گفتگو ہوئی، ماہرین صحت نے تمباکو انڈسٹری کی طرف سے ماڈرن ٹوبیکو پراڈکٹس کے بارے میں پھیلائی جانے والی مبہم معلومات کے حوالے سے نوجوانوں کو آگاہی فراہم کی۔ عالمی یوم انسداد تمباکو نوشی کی مناسبت سے منعقدہ کرومیٹک سوشل میڈیا انفلوئنسرز کانفرنس تمباکو نوشی کے خلاف ایک عملی تحریک ثابت ہوئی، سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، شرکاء نے پاکستان کو تمباکو نوشی اور ماڈرن ٹوبیکو پراڈکٹس سے پاک صحت مند معاشرہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔