Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یومِ تکبیر کی پر وقار تقریب کا انعقاد

    پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی جانب سے یوم تکبیر کے موقع پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش پیش کیا گیا

    تقریب میں سابق فوجی، چین اور پاکستان کی نمایاں کاروباری شخصیات، پاکستان یوتھ پارلیمنٹ، دفاعی تجزیہ کاروں اور میڈیا نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی،چین کی جانب سے مس نینا (کنٹری ہیڈ، انرجی سولیوشنز) اور مسٹر یحییٰ (مائننگ و الیکٹرک کار بزنس مین) نےتقریب سے خطاب کیا،چین کی کاروباری شخصیات کی جانب سے پاکستان کی مسلح افواج کو خراج تحسین پیش ، فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مبارکباد دی گئی،پاک چین تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند، چین کے تاجران نے پاکستان میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کا اعادہ کیا،مقررین نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانےمیں ڈاکٹر عبدالقدیر اور سیاسی و عسکری قیادت کی خدمات کو سراہامتقریب میں بالخصوص آپریشن بُنيَانٌ مَرصُوصٌ میں تعاون پر چین، ترکی، آذربائیجان و دیگر دوست ممالک سے اظہار تشکر کیا گیا

    صدر ایکس سروس مین سوسائٹی ، لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم (ریٹائرڈ) نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت اور شاندار کامیابی کو سراہااور کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا، مئی کے مبارک مہینے میں پاکستان نے جوہری دھماکوں کے ذریعے دفاعی صلاحیت کو ناقابل تسخیر بنا دیا، آپریشن بُنيَانٌ مَرصُوصٌ میں ہماری مسلح افواج نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں دفاعی قوت کو ثابت کر دیا ، تمام سابق فوجی اور غازی مسلح افواج کے شانہ بشانہ پاکستان کے دفاع کے لیے حاضر ہیں،ہندوستان کو عبرتناک شکست دینے کی وجہ سے پاکستان کو ہندوستانی جارحیت کے خلاف چوکس رہنا ہوگا،

  • بھارت کی جارحیت اور جاہلیت دونوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم تیار ہے،تابش قیوم

    بھارت کی جارحیت اور جاہلیت دونوں کا مقابلہ کرنے کے لئے قوم تیار ہے،تابش قیوم

    یوم تکبیر کے کامیاب پروگرامات پر عوام کو خراج تحسین، مرکزی مسلم لیگ کی جدو جہد رنگ لا رہی ہے
    عوام اور فوج میں نفرتیں ڈالنے والے ناکام، مرکزی مسلم لیگ بارے بھارتی پروپیگنڈا مسترد،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے بھارتی میڈیا کی جانب سے مرکزی مسلم لیگ کے خلاف جاری پروپیگنڈے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی مسلم لیگ ایک نظریاتی، محب وطن اور پُرامن سیاسی جماعت ہے، جو اتحادِ امت اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔بھارتی میڈیا کے جھوٹے،من گھڑت پروپیگنڈہ،ہرزہ سرائیوں کو مسترد کرتے ہیں، یوم تکبیر کے موقع پرپاکستان میں اتحاد و یکجہتی کی فضا پیدا ہوئی،بھارت پاکستانی قوم کی یکجہتی سے خائف ہے،ہندوستان دہشت گردی کا مرکز ہے، پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے، پاکستان نے کئی بار ثبوت عالمی دنیا کے سامنے رکھے،بھارتی دہشتگردی کے خلاف عالمی دنیا کو نوٹس لینا چاہئے،

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ یوم تکبیر28 مئی کا دن پاکستانی قوم کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، مرکزی مسلم لیگ نے اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں جوش و جذبے کے ساتھ تقریبات کا انعقاد کیا، جن کا مقصد قومی وقار، اتحاد اور یگانگت کو اجاگر کرنا تھا،ہم ان تمام کارکنان اور ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ان تقریبات کو کامیاب بنایا۔ اس دن پورے ملک میں اتحاد اور یگانگت کی فضا دیکھنے کو ملی، اور یہی ہمارے نظریاتی مؤقف کی جیت ہے

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ پاکستان اور اس کی نظریاتی قوتوں کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی مہم چلائی ہے، "آپریشن بنیان مرصوص” کے دوران دنیا نے بھارتی میڈیا کے جھوٹ کا تماشا دیکھا، جب انہوں نے لاہور کو بندرگاہ بنا کر پیش کیا تھا۔ یہی حربے آج وہ مرکزی مسلم لیگ کے خلاف استعمال کر رہے ہیں،مرکزی مسلم لیگ کا کسی کالعدم تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، اور بھارتی میڈیا کےایسے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کی ہے، چاہے وہ پاکستان میں ہو یا دنیا کے کسی بھی خطے میں،پہلگام واقعہ کی بھی مرکزی مسلم لیگ نے مذمت کی ہے،دوسری جانب دیکھا جائے تو ہندوستان دہشت گردی کامرکز ہے، پاکستان میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے پیچھے ہمیشہ بھارت کا ہاتھ رہا ہے،کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے، حالیہ دنوں میں ترجمان پاک فوج نے بھی عالمی برادری کے سامنے بھارتی مداخلت اور دہشتگردی کے ٹھوس شواہد پیش کیے ہیں۔

    تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ بھارت پاکستانی قوم کے اتحاد سے خوفزدہ ہے۔ اسے ایک مضبوط اور متحد پاکستان سے خطرہ ہے، اسی لیے وہ مرکزی مسلم لیگ کے خلاف سازشیں کر رہا ہے کیونکہ مرکزی مسلم لیگ نظریہ پاکستان کی ترویج اور احیا کے لیے کام کر رہی ہے، مرکزی مسلم لیگ کا نصب العین ایک پُرامن، مضبوط اور نظریاتی پاکستان ہے۔ خالد مسعود سندھو کی قیادت میں یہ جماعت الیکشن کمیشن آف پاکستان میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور ملک بھر میں عوامی خدمات میں مصروفِ عمل ہے، جن افراد کے نام بھارتی میڈیا لیتا ہے، وہ مرکزی مسلم لیگ کے متحرک سیاسی کارکن ہیں اور پاکستان میں سیاسی طور پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحادِ امت اور قومی وحدت کی بات کی ہے، اور یہی وہ پیغام ہے جس سے بھارت خائف ہے۔ جو جماعتیں پاکستان میں انتشار اور دہشت گردی کو فروغ دیتی ہیں، ان پر بھارتی میڈیا خاموش رہتا ہے کیونکہ ان کی ترجیحات نظریہ پاکستان کے مخالفین کی حمایت پر مبنی ہیں.

  • سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت16 جون تک ملتوی

    سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت16 جون تک ملتوی

    اسلام آباد ، سپریم کورٹ میں ججز ٹرانسفر کیس کی سماعت16 جون تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، وکیل صلاح الدین جواب الجواب دلائل جاری رکھیں گے ،وکیل صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ جج کے تبادلہ سے سیٹ خالی نہیں ہو سکتی،جج کے مستقل ٹرانسفر سے آرٹیکل 175اے غیر موثر ہو جائیگا، ماضی میں کسی جج کی ایک سے دوسری ہائیکورٹ میں مستقل ٹرانسفر کی کوئی مثال نہیں ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ موجودہ ججز ٹرانسفرز کیس اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ آرٹیکل 200 کے تحت صرف عبوری ٹرانسفر ہو سکتا ہے، مستقل تقرری صرف جوڈیشل کمیشن کر سکتا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آرٹیکل 175 اے کے تحت نئی تقرری ہو سکتی ہے،نئی تقرری اور تبادلہ کے معنی الگ الگ ہیں ،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ جج ٹرانسفر کیلئے با معنی مشاورت ہونی چاہیے، با معنی مشاورت کے بغیر تبادلہ کا سارا عمل محض دکھاوا ہے ،یہاں معلومات کو چھپایا گیا اور غلط معلومات دی گئی،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالت کے سامنے آئینی و قانونی نقطہ کی تشریح کا معاملہ ہے،ہر چیز ایگزیکٹو کے ہاتھ میں نہیں تھی،تبادلے پر جج سے رضامندی بھی لی جاتی ہے،،وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ایکٹ سیکشن تھری میں تقرری کی بات ہے ٹرانسفر کا ذکر تک نہیں، جوڈیشل کمیشن رول 6میں "ریجن” لفظ ہے،جسٹس نعیم اختر نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا تھا جس کا جواب نہیں دیا ، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سوال تھا کہ معاملہ جوڈیشل کمیشن کے ایجنڈے میں شامل تھا یا نہیں، جوڈیشل کمیشن کے میٹنگ منٹس آپکے پاس موجود ہیں وہ دیکھ لیں، وکیل صلاح الدین نے کہا کہ میرے پاس میٹنگ مینٹس کا خزانہ نہیں ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ میٹنگ منٹس کے حوالے سے کچھ سوالات آخر میں آپ سے پوچھیں گے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ فرسٹ ایمپریشن کا کیس ہے ہمیں مستقبل کیلئے اس کیس کا فیصلہ کرنا ہے، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ پہلے راؤنڈ میں بھی یہ باتیں کی کہ جوڈیشل کمیشن نے کنسیڈر نہیں کیا،جسٹس صلاح الدین نے کہا کہ اگر 16 جون کو کیس پر سماعت مکمل ہوئی تو مشاورت کے بعد شارٹ آرڈر دے دیں گے،وکیل صلاح الدین نے استدعا کی کہ کل تک کیس کی سماعت کر دیں، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ کل بینچ میں موجود کچھ ججز دستیاب نہیں ہیں،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ آج دن ایک بجے کے بعد سماعت دوبارہ رکھ لی جائے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آج سماعت مکمل نہیں ہو پائے گی،

  • سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر،وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب جمع نہ ہوا،عدالت برہم

    سرکاری فنڈز سے ذاتی تشہیر،وزیراعلیٰ پنجاب کا جواب جمع نہ ہوا،عدالت برہم

    سرکاری فنڈز سے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی تشہیر کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران سرکاری وکیل کے جواب جمع نہ کروانے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری فنڈز سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تشہیر کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف سیکرٹری پنجاب کی طرف سے جواب جمع نہ کروایا گیا جبکہ سرکاری وکیل کی جانب سے جواب داخل کروانے کیلیے مہلت کی استدعا کی گئی، لاہور ہائیکورٹ نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ سرکار کی طرف سے جواب ہی جمع کروانا گوارہ نہیں کیا گیا، کیوں نہ آپ کا جواب جمع کروانے کا حق ختم کر دیا جائے، سرکار کا رویہ دیکھتے ہوئے کیوں نہ آج ہی کیس کا فیصلہ کر دیا جائے،لاہور ہائیکورٹ نے اے جی پنجاب اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو فوری طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ایڈیشنل اٹارنی جنرل فوری پیش ہو کر وضاحت دیں۔

    واضح رہے کہ درخواست میں درخواست گزار نے مؤقف اختیار کر رکھا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اپنی اور والد نواز شریف کی تشہیر کیلیے سرکاری فنڈز کا استعمال کیا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم میں کہا گیا ہے کہ سرکاری منصوبوں میں سیاستدانوں کے نام اور تصاویر نہیں لگائی جا سکتیں،درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ مریم نواز اور نواز شریف کی تشہیر کیلیے خرچ رقم کی معلومات فراہم کی جائیں، سرکاری منصوبوں سے ان کی تصاویر اور نام ہٹائے جائیں جبکہ تشہیر کیلیے سرکاری فنڈز کے استعمال کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

  • جارکھنڈ بھارت، یورینیم سے متاثرہ بیمار و معذور  بھارتیوں کی حالت زار

    جارکھنڈ بھارت، یورینیم سے متاثرہ بیمار و معذور بھارتیوں کی حالت زار

    جارکھنڈ بھارت، یورینیم سے متاثرہ بیمار و معذور بھارتیوں کی حالت زار

    مودی سرکار کابھارت خوبصورت لبادہ اوڑھے انتہائی بیمار و مفلوج ہو چکا ہے ،مودی کے بھارت کو بلندیوں پر لے جانے کے دعووں کی حقیقت جڈوگورا قبیلے کے خوفناک معذوری میں مبتلا غریب ہیں،مودی نے جڈوگورا کے باسیوں کو یورینیم کی بھینٹ چڑھا دیا، مودی حکومت نے جڈوگورا کی زمین کو جوہری طاقت کے بدلے زہریلا جہنم بنا دیا، بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست جارکھنڈ کے قبائلی علاقے جڈوگورا میں زمیں کی تہہ کی 600 میٹر گہرائی میں حکومتی سرپرستی میں یورینیم کی کان کنی جاری ہے، زمین سے یورینیم نکال کر حیدرآباد بھیجا جاتا ہے اور زہریلا فضلہ جڈوگورا کے گاؤں میں چھوڑ دیا جاتا ہے، نکالے گئے یورینیم کو بغیر حفاظت کے کھلے ٹرکوں میں لاد کر بھیجا جاتا ہے جس سے تابکار ذرات آبادی کے بیج سڑک پر گرتے ہیں، یورینیم کی کان کنی نے ایک مکمل انسانی بحران کو جنم دے دیا،جڈوگورا کے مقامی لوگ موت اور معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،جڈوگورا کے گھروں میں ہر تیسرا فرد معذوری کا شکار ہے، جوہڑ کی شکل میں موجود آلودہ پانی واحد ذخیرہ ہے جو پینے اور نہانے کیلئے استعمال ہوتا ہے، یورینیم زدہ پانی کے اثرات سے بچوں کی معذوری،جسم پر خوفناک نشانات اور اعضا کا ناکارہ ہونا بڑے انسانی المیے کی مثال ہیں ،

    معصوم بچے اضافی انگلیوں، معذور اعضا اور ذہنی بیماریوں کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں مگر مودی کی جانب سے بے حسی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے،جڈوگورا میں مزدور تابکاری مواد کے ساتھ بغیر کسی حفاظتی کٹ کے کام کر رہے ہیں، یورینیم فضلہ تالابوں میں پھینکا جا رہا ہے اور مقامی لوگ وہی پانی روزمرہ زندگی میں استعمال کرنے پر مجبور ہیں، مودی سرکار یورینیم کانوں سے اربوں کا منافع کما رہی ہے مگر قبائلی عوام کو کوئی حفاظت مہیا نہیں کی گئی، مقامی بچوں کی ٹی بی کینسر اور دماغی بیماریاں بڑھ رہی ہیں مگر سرکاری رپورٹس میں سب کچھ نارمل دکھایا جا رہا ہے،جڈوگورا کے رہائشی بار بار اپیل کرتے ہیں کہ ہماری صحت تباہ ہو چکی ہے مگر مودی حکومت انہیں غریب اور جاہل قرار دے کر نظر انداز کرتی ہے، مقامی لوگ یورینیم سے بھرے پانی کے استعمال کے عادی مگر مودی سرکار کی "نیشن فرسٹ” پالیسی میں جڈوگورا کی عوام شامل نہیں، ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مودی سرکار ترقی کی علامت کے طور پر جوہری ہتھیار پیش کرتی ہے مگر وہی ہتھیار قبائلیوں کی قبر کھودنے کا ذریعہ بن چکے ہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک جھاڑکھنڈ میں معدنیات ہیں مودی حکومت قبائلیوں کو غلام بنا کر رکھے گی اور ان کی چیخیں دبا دی جائیں گی، جوہری طاقت کے پیچھے انسانی جانوں کی قربانی مودی سرکار کی ناکامی ہے، جڈوگورا بحران پر مودی سرکار کی خاموشی مجرمانہ ہے، یورینیم سے ہتھیار بنانے کی دوڑ میں مودی اپنے ہی شہریوں کا دشمن بن چکاہے، مودی کی اس نااہلی اور یورینیم کی غیر حفاظتی کان کنی پر انٹر نیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کو نوٹس لینا چاہئے،

  • مودی سرکار کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں غذائی قلت کا بحران

    مودی سرکار کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں غذائی قلت کا بحران

    مودی سرکار کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں غذائی قلت کا بحران بڑھ رہا ہے

    بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بن چکا، لیکن کروڑوں لوگ آج بھی خوراک سے محروم ہیں،ورلڈ ہنگر انڈیکس کی رینکنگ میں بھارت 105 نمبر پر ہے،بھارت کی ورلڈ ہنگر انڈیکس میں رینکنگ نے مودی کے اپنے ملک کو معاشی طاقت قرار دینے کے دعوے کو جھوٹا ثابت کر دیا ،بھارت کے امیر 1 فیصد طبقے کو نکالا جائے، تو عوام کی حالت افریقہ کے پسماندہ ترین ممالک سے بھی بدترہے،بھارت کی مجموعی دولت کا 40 فیصد صرف 1 فیصد امیر طبقے کے پاس، مڈل اور لوئر مڈل کلاس عوام کے پاس محض 3 فیصد دولت ہے، تقریباً 70 کروڑ بھارتی شہریوں کو غذائی قلت کا سامنا ہیں،

    بھارتی معاشی ترقی صرف اشاریوں میں دکھائی جاتی ہے، جبکہ دیہی بھارت فاقہ کشی کا شکار ہیںَبھارت کی 90 فیصد لیبر فورس مقرر کردہ سے کم اجرت لیتی ہے،مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کے باعث 27 فیصد سے زائد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں

  • شوپیاں سانحہ کو 15 برس بیت گئے، آسیہ اور نیلوفر آج بھی انصاف کی منتظر

    شوپیاں سانحہ کو 15 برس بیت گئے، آسیہ اور نیلوفر آج بھی انصاف کی منتظر

    شوپیاں سانحہ کو 15 برس بیت گئے، آسیہ اور نیلوفر آج بھی انصاف کی منتظر

    29 مئی 2009 کو کشمیری خواتین آسیہ اور نیلوفر کی عصمت دری اور قتل سفاک بھارتی اہلکاروں کے ہاتھوں ہوا،آسیہ و نیلوفر کی قربانی کشمیری جدوجہد آزادی کی علامت بن چکی ہے،بھارتی فوج کی کشمیر میں خواتین کی بے حرمتی ایک سنگین جنگی جرم ہے،کشمیری میڈیا سروس کے مطابق "کشمیری خواتین کے خلاف جنسی تشدد بھارتی ریاستی دہشت گردی کا حصہ ہے”1989 سے اب تک 11,266 کشمیری خواتین بھارتی فورسز کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار ہیں

    شوپیاں کے مظلوم خاندان آج بھی انصاف کے منتظر، بھارت کی خاموشی ناقابل معافی جرم ہے،شوپیاں جیسے سانحات بھارتی افواج کے خلاف بین الاقوامی تحقیقات کا تقاضا کرتے ہیں،کشمیری رہنمانے اس سانحے پر بھارتی اداروں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا،انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شوپیاں سانحہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے،سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ آسیہ و نیلوفر کا انصاف ہماری انسانیت کی آزمائش ہے،بین الاقوامی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،

  • لاہور،شمالی چھاؤنی میں 10 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

    لاہور،شمالی چھاؤنی میں 10 سالہ بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

    لاہور کے علاقے شمالی چھاؤنی میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جہاں 10 سالہ بچہ کھلے ہوئے سیوریج لائن کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور بچے کو نکالنے کے لیے فوری کارروائی شروع کی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق مین ہول تقریباً 50 فٹ گہرا تھا جس کی وجہ سے بچے کو باہر نکالنے میں ریسکیو ٹیم کو 4 گھنٹے کا عرصہ لگا۔ حکام نے بتایا کہ کھلا ہوا مین ہول سیوریج لائن کے نظام کا حصہ تھا اور حفاظتی اقدامات کا فقدان اس حادثے کی بنیادی وجہ تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ نے علاقے میں سیفٹی معائنہ شروع کر دیا ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔ علاوہ ازیں، شہریوں میں بھی سیوریج لائنز اور کھلے مین ہولز کے حوالے سے خبردار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ریسکیو حکام نے والدین اور سرکاری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے خطرناک جگہوں کو فوری طور پر محفوظ بنائیں تاکہ معصوم بچوں اور شہریوں کی جان کو خطرات سے بچایا جا سکے

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے جنید صفدر کا رشتہ دوبارہ طے

    وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے جنید صفدر کا رشتہ دوبارہ طے

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کے صاحبزادے جنید صفدر کا رشتہ دوبارہ طے پا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنید صفدر کا نیا رشتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے قریبی عزیزوں کے ساتھ طے پایا ہے،

    نجی ٹی وی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ جنید صفدر کے رشتے کی بات چیت تقریباً ایک ماہ قبل شروع ہوئی تھی اور اب یہ رشتہ باضابطہ طور پر طے پا گیا ہے۔ یہ خاندان لاہور میں مقیم ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات گہرے اور خوشگوار ہیں۔

    واضح رہے کہ جنید صفدر نے پہلے 2021 میں عائشہ سیف سے شادی کی تھی، تاہم اکتوبر 2023 میں انہوں نے اپنی اہلیہ سے علیحدگی کی تصدیق کی تھی۔ جنید صفدر نے اپنی تعلیم برطانیہ سے مکمل کی ہے اور اس وقت وہ لاہور میں قیام پذیر ہیں۔اس رشتے کے طے پانے سے شریف خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اور خاندان کے قریبی حلقوں میں اس خبر کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں  کی تباہی، فرانسیسی فوج کا پہلی بار ردعمل

    پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی، فرانسیسی فوج کا پہلی بار ردعمل

    پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی، فرانسیسی فوج کا پہلی بار ردعمل سامنے آگیا

    ترجمان فرانسیسی فوج کرنل گیوم کا کہنا تھا کہ واقعےکی تفصیلات میں بہت سے پہلو تصدیق طلب ہیں،رافیل کی کارکردگی کے حوالے سے فرانس صورتحال کو بغور دیکھ رہا ہے،بھارت کے ساتھ براہ راست معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطے میں ہیں، رپورٹس کے مطابق اس لڑائی میں سیکڑوں طیاروں نے حصہ لیا، فرانس اس لڑائی کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا خواہاں ہے

    واضح رہے کہ چند دن قبل تک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر رہی،پہلگام ڈرامے کے بعد بھارت نے آپریشن سندور شروع کیا اور پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص سے جوابی حملہ کیا، اس کاروائی میں تین بھارتی رافیل تباہ ہوئے ہیں، پاکستان نے رافیل کی تباہی کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھ دیئے ہیں ،