Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پرامن احتجاج پر تشدد،پیپلز پارٹی کا خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

    پرامن احتجاج پر تشدد،پیپلز پارٹی کا خیبر پختونخوا اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

    پُرامن احتجاج پر لاٹھی چارج: پیپلز پارٹی کے ایم پی اے احمد کریم کنڈی کا خیبرپختونخوا اسمبلی میں شدید احتجاج

    پشاور: پاکستان پیپلز پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی احمد کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں ایک اہم توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا ہے، جس میں گزشتہ روز پشاور میں ہونے والے پیپلز پارٹی کے پُرامن احتجاج پر پولیس کی طرف سے کیے گئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

    احمد کریم کنڈی نے اسمبلی میں جمع کروائے گئے نوٹس میں اس واقعے کو شہری آزادیوں اور جمہوری اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج ایک بنیادی انسانی و جمہوری حق ہے، جسے دبانے کی کوشش حکومت کی آمرانہ سوچ کا عکاس ہے۔ "یہ تشدد صوبائی حکومت کے ماتھے پر ایک سیاہ دھبہ ہے، جو کبھی نہیں مٹ سکے گا،” انہوں نے زور دے کر کہا۔ایم پی اے کنڈی نے بتایا کہ احتجاج کے دوران نہ صرف سیاسی کارکنان بلکہ بزرگ شہریوں، خواتین اور نوجوانوں کو بھی پولیس تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت عوام کی آواز سننے کے بجائے طاقت کے ذریعے انہیں خاموش کرانا چاہتی ہے۔ پُرامن احتجاج کو کچلنا ایک جمہوری حکومت کے شایانِ شان نہیں۔ "ایسی کارروائیاں جمہوری اصولوں کے منافی ہیں، اور عوامی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلاف رائے کو برداشت کرے اور احتجاج کرنے والوں کو سننے کا حوصلہ رکھے۔” اس واقعے کی فوری اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی بھی پُرامن احتجاج پر ایسے ظالمانہ اقدامات نہ کیے جائیں۔

  • نوشکی میں فائرنگ،پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    نوشکی میں فائرنگ،پولیو ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار شہید

    نوشکی کے علاقے کلی محمد حسنی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر تعینات پولیس اہلکار چل بسا۔ ایس ایچ او نوشکی کے مطابق حملہ آور پولیس اہلکار کی کلاشنکوف اور موٹر سائیکل لے کر فرار ہو گئے۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اس حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکار عبدالوحید کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے شہید کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے صبر جمیل کی دعا کی۔

    سردار ایاز صادق نے کہا کہ بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے مامور انسداد پولیو ٹیم پر حملہ ناقابل برداشت ہے۔ ایسے شر پسند عناصر جو بچوں کی صحت اور زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں، ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہید کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے دکھ کو محسوس کرتے ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی نوشکی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید پولیس اہلکار عبدالوحید کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور اہل خانہ کو صبر و استقامت دے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پولیو مہم کے خلاف حملے کسی صورت قبول نہیں کیے جائیں گے اور اس سلسلے میں کارروائی سختی سے کی جائے گی تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے ملک کے ترقیاتی اور صحت کے نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    صوبائی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات بلوچستان میر ظہور احمد بلیدی نے نوشکی میں پولیو سیکورٹی ٹیم پر فائرنگ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ نوشکی میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکار وحید احمد ولد محمد ہاشم کی شہادت ایک نہایت افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے۔

  • عالمی سطح پر بھارت کا دوغلا پن بے نقاب،ٹرمپ پربھی الزامات

    عالمی سطح پر بھارت کا دوغلا پن بے نقاب،ٹرمپ پربھی الزامات

    بھارت کی جنگی شکست اور سفارتی ہزیمت نے نئی شکل اختیار کر لی، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھارتی میڈیا کے نشانے پر ہیں،پاکستان کے ہاتھوں 6-0 کی عبرتناک شکست کے بعد بھارت نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی،ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "پاک بھارت جنگ بندی میں ان کا اہم کردار رہا”

    جب ٹرمپ نے امن کوششوں کا کریڈٹ لیا، بھارتی میڈیا چیخنے لگا کہ "ٹرمپ جھوٹا ہے، غیر ذمہ دار ہے!،

    بھارت نے امریکہ سے ثالثی کی درخواست کر کے، ٹرمپ مخالف مہم چلا دی ،بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ جنگ بندی DGMO رابطے سے ہوئی،بھارتی اینکر ارناب گوسوامی نے ٹرمپ کو "غیر سنجیدہ، جھوٹا، توجہ کا بھوکا” قرار دیا ،یہی ارناب جنگ کے دوران امریکہ کو "اسٹریٹیجک پارٹنر” کہہ رہا تھا ،جنگ میں ناکامی کے بعد بھارت، ٹرمپ پر تنقید، WTO میں امریکہ کے خلاف شکایت، اور امریکی صحافیوں پر قدغنیں جیسے ہڑبے استعمال کر چکا ہے ،امریکی صحافی جیکسن ہنکل کو بھارت میں بلاک کر دیا گیا کیونکہ وہ بھارتی فالس فلیگ کو پہچان چکے تھے ،بھارت ٹرمپ کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ امریکی پالیسیوں کو "دھوکہ” قرار دے رہا ہے،بھارت کا امریکہ پر الزامات لگانا، اپنی شکست، کمزوری اور ناکام حکمت عملی کو چھپانے کا ایک طریقہ ہے ، آج بھارت امریکی ٹیرفس کو "غیر منصفانہ” قرار دے کر واویلا مچا رہا ہے ،بھارتی میڈیا، حکومت، اور دفاعی تجزیہ کار سب مل کر دنیا کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں

    دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مضحکہ خیز مؤقف ہے کہ امریکہ اور چین دونوں بھارت کو اقتصادی مقابلہ سمجھتے ہیں، بھارت جنگ میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے اس لیے امریکہ جیسے ملک کو بھی دشمن کے طور پر دیکھ رہا ہے، بھارت اپنی کمزوری چھپانے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے، پھر چاہے امریکہ اور ٹرمپ کو دشمن ہی کیوں نہ بنانا پڑے،

  • پی آئی اے 544 ہائی جیکنگ، بھارت کی پراکسیز کی جوہری پروگرام روکنے کی سازش

    پی آئی اے 544 ہائی جیکنگ، بھارت کی پراکسیز کی جوہری پروگرام روکنے کی سازش

    پی آئی اے 544 ہائی جیکنگ: بھارت کی پراکسیز کی جوہری پروگرام روکنے کی سازش

    بھارت طویل عرصے سے پاکستان میں دہشتگردی کو ہوا دینے کے لیے اپنی پراکسیز کا استعمال کرتا آیا ہے, مئی 1998 میں بھارت نے پاکستان کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے دہشتگردوں کو استعمال کیا،25 مئی1998 کو بھارت نے پی آئی اے فلائٹ 544 کو دہشتگردوں کے ذریعے ہائی جیک کروایا،فلائٹ ہائی جیک کرنے کا مقصد پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کو روکنا تھا،ہائی جیکرز نے بلوچستان کے نام پر بھارت کا ایجنڈا پھیلانے کی کوشش کی، بھارت نےان دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا، دہشتگردوں نے بھارت کے اشارے پر جہاز ہائی جیک کیا،پاکستانی افسران نے حیدرآباد ایئرپورٹ پر بھارتی منصوبہ ناکام بنا دیا تھا ,

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت ہمیشہ سے پاکستان کی سلامتی کا دشمن ہے مگر پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، بھارت آج بھی اپنی سپانسرڈ پراکسیز کے ذریعے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے، جعفر ایکسپریس سے لیکر خضدار اسکول بس حملے تک بھارت کا مکروہ ہاتھ شامل ہے،

  • پہلگام ڈرامہ مودی کی سازش، سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا کا بڑا انکشاف

    پہلگام ڈرامہ مودی کی سازش، سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا کا بڑا انکشاف

    سابق بھارتی وزیر خارجہ یشونت سنہا نے انٹرویو کے دوران مودی کی گھناؤنی چالیں بے نقاب کر دیں

    یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ پہلگام اور پلوامہ جیسے واقعات عین الیکشن کے موقع پر ہی کیوں ہوتے ہیں ؟یہ ڈرامہ بہار کا الیکشن جیتنے کے لیے کیا گیا، پلوامہ میں بھی انتخابات سے پہلے دہشتگردی ہوئی تھی، تب بھی مودی نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا، اڑی حملہ سرجیکل اسٹرائیک کا باعث بنا، جسے انتخابی مہم میں سیاسی طور پر استعمال کیا گیا، مودی نے قومی سلامتی کے مسئلے کو سیاست کے لیے استعمال کیا ، مودی نے انتخابی جلسوں میں پلواما کے ’شہیدوں‘ کے نام پر ووٹ مانگے تھے،پہلگام حملہ بہار کے الیکشن جیتنے کی غرض سے کیا گیا، مودی سرکار دہشتگردی کے واقعات سے صرف سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ درحقیقت مودی سرکار سیز فائر کے بعد پاکستان سے بات چیت نہیں بلکہ بہار الیکشن کی تیاری پر بات کر رہی ہے، مودی کی ناقص پالیسیوں کے باعث بھارت پورے خطے میں تنہا رہ گیا ہے،

  • مودی سرکار اور میڈیا کی مبالغہ آرائی اور جھوٹ، پر شدید تنقید

    مودی سرکار اور میڈیا کی مبالغہ آرائی اور جھوٹ، پر شدید تنقید

    بھارتی تجزیہ کار اور صحافی بھی مودی سرکار کی انتہا پسند اور ناکام پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگے

    حال ہی میں کرن تھاپر نے تجزیہ کار اجے ثانی کا بھارتی چینل دی وائر پر ایک انٹرویو جاری کیا،انٹرویو میں بھارتی حکومت کی نااہلی اور بھارتی میڈیا کے جھوٹ سے پردہ فاش کیا گیا، کرن تھاپر نے سوال کیا کہ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی ایئر فورس 20 فیصد تباہ ہو چکی ہے، اجے ثانی نے جواب دیا کہ بھارتی میڈیا صرف مبالغہ آرائی کر رہی ہے تا کہ جھوٹ کی تشہیر کی جا سکے،بھارتی حکومت کی فوجی حکمت عملی شدید ناکامی کا شکار ہو چکی ہے، آپریشن سندور محض سیاسی شو تھا جس سے بھارتی ناکامیوں کا کھل کر انکشاف ہوا،پاکستانی دفاعی صلاحیت کو کم سمجھنا بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہوا،بھارتی میڈیا پر عوام کو گمراہ کرنے والی رپورٹس چلائی گئیں،جنگی حکمت عملی کی سمجھ بوجھ کی کمی بھارتی حکومت کا سنگین مسئلہ ہے،پاکستان کے خلاف بھارت کی ناکافی حملہ آور حکمت عملی سے بھارتی عوام مکمل مایوس ہے، حکومت کی ناقص فوجی منصوبہ بندی بھارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے،

    بھارت کے معروف سیاسی تجزیہ کار اور صحافی کرن تھاپر نے مودی کی پالیسیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا.دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی سرکار عالمی سطح پر اپنی جمہوری ساکھ کھو چکی ہے،مودی کی نااہلی اور جھوٹ کا سچ پوری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھا،

  • شادی ہال میں دلہا اور دلہن کے رشتہ داروں میں شدید جھگڑا، پولیس اہلکار زخمی

    شادی ہال میں دلہا اور دلہن کے رشتہ داروں میں شدید جھگڑا، پولیس اہلکار زخمی

    عزیز آباد: دو روز قبل عزیز آباد کے ایک شادی ہال میں دلہا اور دلہن کے رشتہ داروں کے درمیان تلخ کلامی اور ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا، جس میں دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر کرسیاں بھی پھینکیں اور ایک دوسرے کو شدید نقصان پہنچایا۔

    واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آ چکی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ابتدا میں دلہا اور دلہن والوں کے رشتہ داروں کے درمیان معمولی تلخ کلامی ہوئی، جو جلد ہی ہاتھا پائی اور ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کر گئی۔ جھگڑے کے دوران دونوں طرف سے شدید قسم کی لڑائی ہوئی اور کئی کرسیاں بھی ایک دوسرے پر پھینکی گئیں۔شادی ہال میں بڑھتے ہوئے انتشار اور تشدد کی وجہ سے انتظامیہ کو پولیس کو فوری طور پر طلب کرنا پڑا۔ تاہم، پولیس کے پہنچنے کے بعد بھی مشتعل افراد نے پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی اور ہاتھا پائی کی، جس کے دوران کانسٹیبل حافظ عثمان زخمی ہو گئے۔

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار کر لیا، جن کے نام یونس مسیح، ہیری اور ہیری ولد وکٹر بتائے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، 30 سے 40 نامعلوم افراد کے خلاف بھی عزیز آباد تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس میں ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ، اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے اور متاثرہ افراد کے بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • جہلم میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے گھر سے ملازمہ کی لاش برآمد

    جہلم میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے گھر سے ملازمہ کی لاش برآمد

    جہلم: شہر کے ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع گھر سے 18 سالہ ملازمہ کی لاش برآمد ہونے سے علاقے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ پولیس کے مطابق مقتولہ اوکاڑہ کی رہائشی تھی

    پولیس حکام نے بتایا کہ لڑکی کے جسم پر تشدد کے کوئی واضح نشانات نہیں پائے گئے، جس کے باعث ابتدائی طور پر قتل کے محرکات کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ تاہم، واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور گھر کے مکینوں سمیت دیگر متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔پولیس نے اس ضمن میں کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے جن میں گھر کی مالک خاتون بھی شامل ہے۔ گرفتار شدگان سے مزید تفتیش کے ذریعے معاملے کی اصل حقیقت سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے

  • کوہاٹ ،کنویں میں گرنے والے اونٹ کو نکال لیا گیا

    کوہاٹ ،کنویں میں گرنے والے اونٹ کو نکال لیا گیا

    خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں ایک گہرے کنویں میں ایک اونٹ گرنے کا واقعہ پیش آیا جسے ریسکیو اہلکاروں نے بڑی مہارت اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ بحفاظت نکال لیا۔

    ریسکیو حکام کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر فوری پہنچ گئی۔ حادثے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ریسکیو اہلکاروں نے سیڑھی اور مضبوط رسیوں کی مدد سے خود کو کنویں کے اندر اتارا تاکہ اونٹ کی مدد کی جا سکے۔اونٹ کی مدد کے لیے اسے رسیوں سے محفوظ طریقے سے باندھا گیا اور پھر کرین کی مدد سے کنویں سے باہر نکالا گیا۔ ریسکیو آپریشن میں تمام عملہ انتہائی احتیاط سے کام کر رہا تھا تاکہ کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو۔مقامی لوگ اور اونٹ کے مالک ریسکیو ٹیم کی بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کر رہے ہیں۔ اس کامیاب ریسکیو آپریشن کی بدولت اونٹ کو کسی جسمانی نقصان سے بچایا جا سکا ہے۔

    ریسکیو حکام نے شہریوں سے درخواست کی ہے کہ وہ کنوؤں کے ارد گرد حفاظتی انتظامات یقینی بنائیں تاکہ اس قسم کے حادثات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

  • برطانیہ،جشن مناتے ہجوم میں گاڑی گھس گئی،متعدد افراد زخمی

    برطانیہ،جشن مناتے ہجوم میں گاڑی گھس گئی،متعدد افراد زخمی

    برطانیہ کے شہر لیور پول میں ڈرائیور نے گاڑی مبینہ طور پر ہجوم سے ٹکرا دی جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

    برطانیہ کے لِورپول شہر میں پریمیئر لیگ کی فتح کا جشن منانے کے دوران ایک کار نے اچانک ہجوم میں داخل ہو کر دھماکہ خیز صورتحال پیدا کر دی، جس کے نتیجے میں کم عمر بچوں سمیت درجنوں افراد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ 6 بجے شام کے قریب شہر کے مشہور علاقے واٹر اسٹریٹ پر پیش آیا، جو لِورپول ٹاؤن ہال اور لائیور بلڈنگ کے قریبی علاقہ ہے۔

    لِورپول فٹ بال کلب کی پریمیئر لیگ جیتنے پر سینکڑوں ہزاروں افراد شہر کی گلیوں میں خوشی منا رہے تھے۔ واٹر اسٹریٹ پر لوگ پرجوش انداز میں فٹ بال ٹیم کی جیت کا جشن منارہے تھے جب اچانک ایک سفید رنگ کی کار ہجوم میں گھس گئی اور لوگوں کو روندتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی تیز رفتار تھی اور لوگ اسے روکنے کے لیے دوڑ پڑے، تاہم وہ روک نہیں پائے۔پولیس کے مطابق، اس واقعے میں چار بچے بھی شامل ہیں جن کی حالت مختلف بتائی گئی ہے۔ کل 27 افراد کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے دو افراد کی حالت نازک ہے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ مزید 20 زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ زخمیوں میں مرد، خواتین اور بچے سب شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت پر ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

    میری سائیڈ پولیس کی ڈپٹی چیف کنسٹیبل جینی سمز نے کہا کہ "یہ واقعہ ایک الگ تھلگ حادثہ ہے، اور اس کے پیچھے کوئی دہشت گردی کا عنصر موجود نہیں۔” انہوں نے کہا کہ پولیس اس وقت کسی دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش نہیں کر رہی اور ڈرائیور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈرائیور کی شناخت 53 سالہ ایک سفید فام برطانوی شخص کے طور پر کی گئی ہے جو لِورپول کے علاقے کا رہائشی ہے۔ ہنگامی سروسز اور پولیس فورس نے بہت جلد کارروائی کی، زخمیوں کو فوری علاج فراہم کیا اور علاقے کو محفوظ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ حادثہ جان بوجھ کر کیا گیا یا غلطی سے پیش آیا۔

    واٹر اسٹریٹ پر موجود افراد نے بتایا کہ "گاڑی کی رفتار بہت زیادہ تھی، لوگ اس سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ کچھ نے گاڑی کو روکنے کے لیے پیچھے دوڑ لگائی، جبکہ کئی لوگ چیخ رہے تھے اور خوفزدہ ہو گئے تھے۔” پیٹر جونز نامی گواہ نے بتایا کہ گاڑی کی پچھلی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئی تھیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ لوگ اسے روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔ہیری رشید، جو اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ پریڈ میں شامل تھے، نے کہا کہ "واقعہ بہت خوفناک تھا، بہت شور اور چلانے کی آوازیں سنائی دیں، لوگ گھبرا گئے تھے۔”

    برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر سٹارمر نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور لِورپول کے میئر سٹیو روٹھی ریم سے بات کی۔ انہوں نے پولیس اور ہنگامی خدمات کی بہادری کو سراہا اور کہا کہ "ہر شہری، خاص طور پر بچے، کو اپنے ہیروز کے جشن میں شامل ہونے کا حق حاصل ہے بغیر کسی خوف کے۔”لِورپول کے میئر نے بھی زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعائیں کیں اور شہر کے عوام سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔

    پولیس نے علاقے میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں تاکہ کسی بھی طرح کی دوبارہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔تحقیقات جاری ہیں کہ آیا یہ واقعہ ایک حادثہ تھا یا کسی دوسرے محرک کی وجہ سے ہوا۔اہل علاقہ اور مداحوں کو پرسکون رہنے اور پولیس کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے،