Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر، مودی سرکار کی سیاسی ناکامی

    بی جے پی صدر کے انتخاب میں تاخیر، مودی سرکار کی سیاسی ناکامی

    نئی دہلی — بی جے پی صدر کے انتخاب میں غیر متوقع تاخیر کو ملکی سیاسی منظرنامے میں مودی حکومت کی ناکامی اور پارٹی کے اندرونی خلفشار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس معاملے نے بحث کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔

    بھارتی اخبار دی ایشین ایج میں شائع ایک مضمون کے مطابق، مودی سرکار نے جولائی میں پیش آنے والے پہلگام حملے کو جواز بنا کر بی جے پی صدر کے انتخاب کو مؤخر کر دیا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو توقع تھی کہ اس حملے اور بعد میں کیے گئے آپریشن سندور کے ذریعے پارٹی اور اس کے حامیوں کو سیاسی فائدہ حاصل ہوگا، خاص طور پر آر ایس ایس کو قائل کر کے ان کے حمایت یافتہ امیدوار کو کامیاب کروایا جا سکے گا۔دی ایشین ایج کا تجزیہ ہے کہ مودی سرکار نے پاکستان کو دہشتگردی کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش میں زیادہ توجہ دی، مگر بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سیاسی ناکامی کے بعد حکومت اب عالمی برادری کے سامنے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    مضمون میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے "ترنگا یاترا” کے نام سے نکالی جانے والی ریلیاں، جن کا مقصد قومی یکجہتی اور حب الوطنی کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے، دراصل ووٹ بینک کی سیاست کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں۔ بی جے پی ان ریلیوں کو انتخابی مہم کا حصہ بناتے ہوئے اپنی سیاسی برتری بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔

    کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن سندور اور پہلگام حملے کی اصل تفصیلات چھپائی جا رہی ہیں۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا جائے جہاں حکومت ان دونوں اہم واقعات پر مکمل شفافیت سے روشنی ڈالے۔کانگریس رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی محض بہار اسمبلی انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے آپریشن سندور کا نام لے کر انتخابی مہم چلا رہی ہے، جبکہ ملک کی سیکیورٹی اور قومی مفادات کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔

    سیاست دانوں اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلگام حملے کا وقت اور آپریشن سندور کا اعلان محض انتخابی فائدے کے لیے منصوبہ بند تھا۔ اس سے نہ صرف ملک کی سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عوام میں حکومت کے سیاسی عزائم پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔دفاعی ماہرین کا خدشہ ہے کہ مودی سرکار نے آپریشن سندور کے نام کو سیاسی ہتھیار بنا کر ملک کی سلامتی کے حساس معاملات کو ووٹرز کی نفسیات سے جوڑ دیا ہے، جو کہ قومی سلامتی کے نقطہ نظر سے انتہائی خطرناک اقدام ہے۔

  • کراچی سے  فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    کراچی سے فتنہ الہندوستان کا ہائی ویلیو کارندہ گرفتار

    صبح تقریباً 4:15 بجے مشترکہ کاؤنٹر ٹیررزم ٹاسک فورس اور حساس اداروں نے کراچی کے مضافاتی علاقے ہزارہ گوٹھ میں برق رفتار آپریشن کیا۔

    ایک کمرشل گودام سے ملحقہ خفیہ ٹھکانے پر کی جانے والی اس کارروائی میں زکریا اسماعیل کو زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم کا اصل نام ذوالفقار ہے، اور وہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے کے کراچی سیل کا ہائی ویلیو آپریٹو ہے۔ گرفتاری کے وقت اس کے قبضے سے Thuraya سیٹلائٹ فون 9 ملی میٹر Glock، جعلی افغان شناختی کارڈ اور 11,800 ڈالر کی نقدی برآمد ہوئی۔ ملزم کے سیٹلائٹ فون سے خضدار اسکول بس بم دھماکے (21) مئی سے چند گھنٹے قبل 9-11-XXXXXX دہلی نمبر پر ہونے والی تین منٹ 41 سیکنڈ کی کال ثابت کرتی ہے کہ وہ براه راست بھارتی ہینڈلرز سے رابطے میں تھا۔

    تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ زکریا نے 2023 میں محمد رزاق ولد عبداللہ کے نام سے بھارتی ویزا حاصل کیا اور دبئی کے راستے دہلی پہنچا، جہاں اسے RAW کے بلوچستان ڈیسک نے پیشہ ورانہ سبوتاژ اور IED فیوزنگ کا کورس کرایا۔ اسی پیریڈ میں دہلی نارتھ بلاک میں ہونے والی بریفنگز میں Ajit Doval کا بدنام زمانہ Defensive Offence Doctrine پڑھایا گیا وہی حکمت عملی جس میں پاکستان کو اندر سے غیر مستحکم کرنے کے لیے بلوچستان میں دہشت گردوں کو بطور پراکسی استعمال کرنے پر زور دیا گیا تھا۔ زکریا کو کراچی یونیورسٹی کے لاء ڈیپارٹمنٹ میں ایڈجسٹ کرایا گیا تھا تاکہ وہ سلیپر نیٹ ورک کو وسعت دے سکے۔ یہ وہی کیمپس ہے جہاں 2022 میں بی ایل اے کی خودکش بمبار شاری بلوچ نے چینی اساتذہ کو نشانہ بنایا تھا۔

    یونیورسٹی میں دو بار نوٹ شده مشکوک سرگرمیوں کے باعث زکریا کا منصوبہ وقت پر پکڑا گیا اور وہ بڑی واردات سے پہلے ہی روپوش ہو گیا۔خضدار میں APS اسکول بس پر حملے کے بعد کال ڈیٹیل ریکارڈ (CDR) سے پتا چلا کہ دھماکے سے 29 منٹ پہلے زكریا نے خضدار میں موجود بی ایل اے کے فیلڈ کمانڈر حامد داود سے رابطہ کیا۔

    کرائم سین سے ملنے والے ریموٹ ڈٹونیٹر کی فارنزک جانچ نے اسی Thuraya فون کی آؤٹ گوئنگ سگنل فریکوئنسی کے ساتھ میچ کر لیا ہے۔زكریا اسماعیل کی گرفتاری محض ایک فرد کی پکڑ نہیں بلکہ بی ایل اے – RAW گٹھ جوڑ کی شہ رگ پر کاری ضرب ہے ایک دہائی قبل اجیت دوول نے جو گریٹ گیم تھیوری پیش کی تھی اس کا منطقی انجام اب کراچی سے خضدار تک بکھرے ثبوتوں کی شکل میں دنیا کے سامنے آ رہا ہے۔

  • سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    پاکستان کی سیاست میں چند ہی شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو نہ صرف داخلی امور میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کا وقار بلند کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ سحر کامران انہی گنے چنے رہنماؤں میں سے ایک ہیں جنہوں نے بطور رکن قومی اسمبلی اور پیپلز پارٹی کی متحرک رہنما کے طور پر نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر اپنی بھرپور موجودگی دکھائی، بلکہ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کا مثبت تاثر دنیا کے سامنے پیش کیا،پارٹی کی بھی ترجمانی کا حق ادا کیا،قومی اسمبلی میں کبھی وہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ نظر آئیں تو کبھی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقاتیں کرتے نظر آئیں،

    سحر کامران کا شمار پیپلز پارٹی کی ان پرعزم خواتین رہنماؤں میں ہوتا ہے جو نظریاتی وابستگی، ذہانت، تدبر اور بین الاقوامی فہم و فراست کی حامل ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ سفارتی میدان میں بھی ایک مؤثر اور مربوط آواز بن کر ابھریں۔بطور رکن قومی اسمبلی، سحر کامران نے مختلف پارلیمانی کمیٹیوں میں بھرپور کردار ادا کیا، سندھ میں پانی کا مسئلہ ہو یا پی آئی اے کی نجکاری، سحر کامران نے ہمیشہ عوامی جذبات کی ترجمانی کی، پاکستان کی عوام کا مقدمہ پارلیمنٹ میں لڑا، وہ نہ صرف قانون سازی میں سرگرم رہتی ہیں بلکہ انسانی حقوق، تعلیم، خواتین کے مسائل اور نوجوانوں کے لیے عملی اقدامات کے حق میں مضبوط آواز بھی بنی رہتی ہیں،

    سحر کامران کا بین الاقوامی سطح پر کردار قابل ستائش ہے۔ انہوں نے مختلف بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کی اور وہاں اپنے مدلل مؤقف اور متوازن طرز گفتگو کے ذریعے ملک کے وقار میں اضافہ کیا۔ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کو اجاگر کرنا ان کی ایک اہم سفارتی کاوش ہے، جس پر انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے سراہا بھی گیا،پاک روس تعلقات بارے بھی انکا کردار قابل تعریف ہے،سحر کامران نے خواتین کو سیاست میں بااختیار بنانے کے لیے بھی قابل قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر کوئی بھی جمہوری عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی تقریریں، تحریریں اور عملی اقدامات خواتین کو سیاسی، سماجی اور اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کے عزم کا آئینہ دار ہیں۔

    سحر کامران صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ ایک وژنری رہنما بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں تدبر، لب و لہجے میں وقار اور رویے میں شائستگی نمایاں ہوتی ہے، ان کے کام کا انداز جدید سفارتی اصولوں سے ہم آہنگ اور قومی مفاد پر مرکوز ہوتا ہے، وہ نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہیں، خصوصاً ان خواتین کے لیے جو سیاست اور سفارت جیسے شعبوں میں اپنا نام روشن کرنا چاہتی ہیں،سحر کامران پاکستان کی سیاسی و سفارتی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ ان کی انتھک محنت، حب الوطنی، اور پیپلز پارٹی کے منشور سے والہانہ وابستگی انہیں دیگر سیاستدانوں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ آج بھی سیاسی و سفارتی حلقوں میں ایک فعال، باشعور اور بااثر شخصیت کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ پاکستان کو ایسے ہی باوقار اور نظریاتی سیاستدانوں کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔

  • حافظ عبدالکریم کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہلحدیث مزید  فعال ہو گی  ،خالد مسعود سندھو

    حافظ عبدالکریم کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہلحدیث مزید فعال ہو گی ،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے حافظ عبدالکریم کو مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ عبدالکریم کی قیادت میں مرکزی جمعیت اہلحدیث مزید مضبوط اور فعال ہو گی

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک،انجینئر حارث ڈار، ترجمان تابش قیوم و دیگر کا کہنا تھا کہ حافظ عبدالکریم کو دینی، علمی اور عوامی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے،حافظ عبدالکریم کا بلا مقابلہ مرکزی جمعیت اہلحدیث کا صدر منتخب ہونا انکے لئے ایک اعزاز ہے،پاکستان کو اس وقت ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو نظریاتی بنیادوں پر متحد ہو کر ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کر سکے،امید ہے حافظ عبدالکریم پاکستانی قوم کے اتحاد اور نظریہ پاکستان کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کریں گے

  • نیب کا کمال،77 سالہ شخص کو جونیئر ایکسپرٹ تعینات کر دیا

    نیب کا کمال،77 سالہ شخص کو جونیئر ایکسپرٹ تعینات کر دیا

    پاکستان میں قومی احتساب بیورو،نیب نے پاکستان کے قوانین کے برخلاف 77 سالہ شخص میجر راعجاز احمد خان کو نیب لاہور میں بطور جونیئر ایکسپرٹ تعینات کر دیا ہے، انکی تقرری کا نوٹفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے،

    جاری نوٹفکیشن کے مطابق نیب نے میجر (ریٹائرڈ) اعجاز احمد خان کو جونیئر ایکسپرٹ-ون کے طور پر نیب لاہور میں ایک سال کے لیے خدمات انجام دینے کے لیے بھرتی کر لیا ہے۔ یہ تقرری قومی احتساب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 28(b) کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔نیب ہیڈکوارٹرز اسلام آباد سے جاری کردہ دفتر حکم نامے کے مطابق میجر (ر) اعجاز احمد خان کی تعیناتی 3 اپریل 2025 سے مؤثر ہوگی۔ انہیں ماہانہ 2 لاکھ 40 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ ان کی تقرری کنٹریکٹ بنیاد پر کی گئی ہے اور شرائط و ضوابط پہلے ہی نیب کے خط مؤرخہ 28 مارچ 2025 کے تحت طے کی جا چکی ہیں۔دفتر حکم نامے پر ڈپٹی ڈائریکٹر (ریکروٹمنٹ اینڈ ٹی سی ایس)، ثاقب حیدر کے دستخط ثبت ہیں۔ یہ تقرری نیب کے مختلف شعبہ جات اور متعلقہ افسران کو مطلع کر دی گئی ہے جن میں چیف آف اسٹاف نیب ہیڈکوارٹر، ڈائریکٹر فنانس، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایڈمن/ایچ آر نیب لاہور، اور اکاؤنٹس آفیسر اے جی پی آر سب آفس لاہور شامل ہیں۔

    باخبر ذرائع کے مطابق میجر ر اعجاز احمد خان کی عمر اس وقت 77 برس ہے اور نیب نے انہیں جونیئر ایکسپرٹ بھرتی کیا ہے،پاکستان میں 77 سال کا کوئی بھی سرکاری ملازم اس وقت نہیں ہے لیکن چیئرمین نیب نے انکی تقرری کر دی ہے،عام طور پر عمر کی حد کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری خدمات میں ایسی عمر میں بھرتی کی اجازت نہیں دی جاتی۔ تاہم، چیئرمین نیب کی منظوری سے یہ تقرری عمل میں آئی ہے، جس پر مختلف حلقوں میں سخت تنقید ہو رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 77 سال کی عمر میں کسی جونیئر سطح کی پوسٹ پر تقرری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے اور اس سے نیب کی شفافیت پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
    nab

  • باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ادبی کانفرنس میں ایوارڈ سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی کی نور فاطمہ کو ادبی کانفرنس میں ایوارڈ سے نوازا گیا

    انٹرنیشنل یونین آف رائٹرز کی پہلی ادبی کانفرنس بانی و چیئرمین زبیر احمد انصاری کی زیرِ سرپرستی میں ہوئی۔کانفرنس میں باغی ٹی وی کی نورفاطمہ کو ایوارڈ سے نوازا گیا

    تقریب مہمان خصوصی سینئر صحافی مجیب الرحمٰن شامی ، پی ٹی وی پروڈیوسر تمغہ امتیاز سجاد احمد، لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری ،سینئر نائب صدر افضال طالب، خزانچی سالک نواز، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ ممبر گورننگ باڈی رانا شہزاد اور سینئر صحافی ندیم نظر تھے۔ تقریب میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ادیب اور صحافیوں مرد و خواتین میں ایوارڈز اور میڈل دیئے گئے۔باغی ٹی وی کی رائیٹر،سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نورفاطمہ کو بھی ایوارڈ سے نوازا گیا،

    مہمانان خصوصی مجیب الرحمٰن شامی ، ارشد انصاری اور ندیم نظر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا آج کی شاندار تقریب میں اور ایوارڈ حاصل کرنے والے شرکا کو مبارکباد دی،تقریب میں مرکزی صدر ثمینہ طاہر بٹ شریک نہ ہو سکیں ، سنیئر نائب صدر فاطمہ شیروانی ، نائب صدر سعدیہ ہما شیخ ، پیٹرن چیف ریحانہ عثمانی، ایمان زبیر احمد انصاری، عروبہ مرزا، نائب صدر پنجاب نمرہ ملک، نائب صدر غلام غوث ، نائب صدر آمین رضآ مغل، طاہر تبسم درانی ، ڈاکٹر فضلیت بانو، احتشام جمیل شامی ، اصغر بھٹی، نعیم اشرف درانی، پریس سیکرٹری نبیلہ اکبر، سوشل میڈیا ایڈوائزر رشنا اختر، ثناء آغا خان ، ڈاکٹر انعم پری، فلک زاہد یوتھ ونگ صدر، حورین فیصل دیگر ممبران فرزانہ چوہدری ، درخشندہ علمدار ، زاہدہ پروین ، رابعہ عظمت، رخسانہ افضل، شازیہ بھٹی، ثمن عروج ، صائمہ ممتاز، مسرت جبیں، بشریٰ نواز، حنا یاسمین . فوزیہ غنی، غلام زہرا، ایڈووکیٹ خضر حیات خان، ڈاکٹر چودھری تنویر سرور، سجاد علی بھنڈر، خالد اعجاز مفتی ، ضماد گریوال، ایچ آر قادری،فاروق خان، مشتاق قمر ، محمد عمران امین، کرامت مسیح، آصف سیٹھی، ڈاکٹر شاہد استقلال کو ایوارڈ سے نوازا گیا،بعد ازاں عشائیہ کا بھی انتظام کیا گیا.

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے سیاسی و عسکری قیادت کو عشائیہ دیا گیا ہے جس میں صدرٍ مملکت آصف علی زرداری، وزیرِ اعظم شہباز شریف سمیت سیاسی قیادت نے شرکت کی ہے۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے سربراہان و دیگر عسکری حکام بھی عشائیے میں شریک ہوئے،عشائیے میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء، تمام صوبائی گورنرز، وزرائے اعلیٰ نے بھی شرکت کی،اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکۂ حق کے دوران سیاسی قیادت کی دور اندیشی کو سراہا۔

    عشائیہ معرکۂ حق آپریشن بنیان مرصوص میں عوام کے جذبے کے اعزاز میں دیا گیا،فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارتی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے پر پاکستانی میڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستانی نوجوانوں کے جذبے کو بھی سراہا، انہوں نے معرکۂ حق کے دوران سیاسی قیادت کی اسٹریٹیجک بصیرت پر اظہارِ تشکر کیا۔آرمی چیف نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کی کامیابی میں تینوں افواج کے درمیان ہم آہنگی کو بھی سراہا اور بھارتی پروپیگنڈہ مہم کے خلاف پاکستانی نوجوانوں اور میڈیا کے ناقابلِ تسخیر کردار کو ’آہنی دیوار‘ قرار دیا.آرمی چیف نے بھارتی پروپیگنڈے کے خلاف نوجوانوں کی بھرپور کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، انہوں نے پاکستانی سائنسدانوں، انجینئرز اور سفارت کاروں کے پیشہ ورانہ عزم اور کردار کو بھی سراہا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق شرکاء نے اس فیصلہ کن دور میں قوم کی رہنمائی کرنے والی مدبرانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور افواجِ پاکستان کی جرأت و قربانی اور پاکستانی عوام کے پختہ جذبۂ حب الوطنی کو سراہا۔

  • جناح ہاؤس حملہ کیس، پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 252 ملزمان پر فردجرم عائد

    جناح ہاؤس حملہ کیس، پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 252 ملزمان پر فردجرم عائد

    نو مئی کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    پی ٹی آئی رہنماؤں اعجاز چوہدری ،عمر سرفراز چیمہ سمیت 252 ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہےاے ٹی سی جج نے کوٹ لکھپت جیل کیس کی سماعت کی ،دوران سماعت بتایا گیا کہ جناح ہاؤس حملہ کیس کے 5ملزمان فوت ہوچکے ہیں ،جناح ہاؤس حملہ کیس کے9ملزماں کو اشتہاری قرار دے دیا گیا، عدالت نے فردجرم عائد کی تو ملزمان نے صحت کرم سے انکار کیا،عدالت نے 31 مئی کو گواہان کو طلب کر لیاہے،

    یاد رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو بغاوت اور فسادات پر اکسانے کی کوشش کی۔ اس مقدمے میں ملزموں کے خلاف تھانہ سرور روڈ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ملزموں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جناح ہاؤس پر حملہ کیا اور ملک کی سالمیت کے خلاف اقدامات کیے۔

    اکرم چوہدری نجی ٹی وی کا عثمان بزدار ثابت،دیہاڑیاں،ہراسانی کے بھی واقعات

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

  • ڈیفنس سےدن دہاڑے کار سواروں نے خاتون کو اغوا کر لیا

    ڈیفنس سےدن دہاڑے کار سواروں نے خاتون کو اغوا کر لیا

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے پوش علاقے ڈیفنس میں دن دہاڑے خاتون کے اغوا کا خوفناک واقعہ پیش آیا ہے۔ اس واردات کی دل دہلا دینے والی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ دو مسلح ملزمان نے خاتون کو زبردستی پکڑ کر ایک گاڑی میں سوار کیا اور تیزی سے فرار ہو گئے۔

    مغوی خاتون کے بھائی کی مدعیت میں پولیس میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مدعی نے پولیس کو بتایا کہ میری بہن کو اس کے سابقہ بہنوئی فیاض نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر اغوا کیا ہے۔ متاثرہ خاتون کو چھ ماہ قبل شوہر سے طلاق دی گئی تھی، جس کے بعد وہ اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے کی کوشش کر رہی تھی۔پولیس نے فوری طور پر علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ایس پی آپریشنز نے کہا ہے کہ ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ خاتون کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

  • بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

    بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

    بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،

    معرکہ حق میں شکست کی ہزیمت چھپانے کے لیے بھارت نے نیا پروپگینڈا شروع کر دیا،بھارت ابلاغی محاذ پر پاکستان کو چین کی زیر تابع ریاست کے طور پر پیش کرنے لگا ،بھارتی صحافی برکھا دت کے مطابق بھارتی فوج کو دو محاذ پر جنگ کا سامنا ہے ، پاکستان کو چینی مفادات کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،کیشور مہبوبانی نے برکھا دت کے استفسار کے جواب میں کہا کہ؛ "ہم پاکستان اور چین کے تعلقات کو صرف بھارتی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں”ہم صرف کشمیر اور سی پیک کو دیکھ رہے ہیں، پاکستان اگر واقعی چین کی زیلی ریاست ہوتا تو اسے آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑتا،پاکستان کو چین کی زیلی ریاست کا لیبل دینا غلطی ہوگا، ہندوستان ہمیشہ ماضی کے مسائل پر اختلافات پر توجہ مرکوز کرتا ہے، بھارت دوسرے ممالک سے سبق سیکھنے اور بہتر راستہ تلاش کرنے کے لیے نہیں سوچتا۔ اس وقت پاکستان اور چین کے جغرافیائی سیاسی مفادات کا اتحاد ہے۔ جس طرح امریکہ نے کمیونسٹ چین کو اندرونی سیاسی نظام نظر آنداز کرتے ہوئے پاٹنر کے طور پر چنا ہے، آج ویتنام اور چین کے درمیان تجارت کو دیکھا جا سکتا ہے ، آپ اپنے مخالف کو اپنے آپ کو مضبوط بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں،

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اپنی شکست سے افسردہ عوام کو مطمئن کرنے کے لیے دو محاذ جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے ،بھارت پاکستان کو چین کی زیلی ریاست ثابت کرنے پر تلا ہے،دو ممالک کے درمیان تعلقات پسندیدگی یا نظریاتی ہم آہنگی پر نہیں، بلکہ جغرافیائی اور معاشی مفادات پر مبنی ہوتے ہیں، یہ سب ایک بڑی گیم ہے، جس میں ہر ملک اپنا فائدہ دیکھ کر فیصلے کرتاہے،