Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پنجاب میں "غنڈہ ایکٹ”تیار

    پنجاب میں "غنڈہ ایکٹ”تیار

    پنجاب کے محکمہ داخلہ نے پنجاب کنٹرول آف غنڈہ ایکٹ کا مسودہ تیار کر لیا ہے جس کا مقصد غنڈوں اور بدمعاشوں کی قانونی شناخت واضح کرنا اور امن عامہ کو یقینی بنانا ہے۔ اس نئے مسودے میں غنڈہ کی تعریف، ان کے خلاف کارروائی، نگرانی کے طریقہ کار اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

    سائبر کرائم میں ملوث شخص ’’غنڈہ‘‘ ہوگا، غنڈے بدمعاش شخص کو نو فلائی لسٹ میں،شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کیا جاسکتا ہے، غنڈے بدمعاش کے بینک اکاؤنٹس منجمد، اسلحہ لائسنس کینسل کیے جاسکتے ہیں، غنڈوں کی نگرانی کیلئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور بائیو میٹرک ڈیٹا کولیکشن کی جاسکے گی

    مسودے کے مطابق غنڈہ وہ شخص ہوگا جو مجرمانہ سرگرمیوں یا سماج مخالف رویے میں ملوث ہو۔ ایسے افراد کو امن عامہ کے لیے خطرہ سمجھا جائے گا اور وہ عوام کی زندگیوں میں پریشانی کا باعث بنیں گے۔غنڈہ قرار دینے کا اختیار ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی (District Intelligence Committee) کو دیا گیا ہے جو پولیس، انتظامیہ اور حساس اداروں کی رپورٹس یا شکایات کی بنیاد پر کسی بھی شخص کو غنڈہ قرار دے سکتی ہے۔ یہ کمیٹی تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے کارروائی کرے گی۔منشیات کی فروشی، جوئے، بھتہ خوری، ہراسانی، اور دیگر سماج دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کو غنڈہ قرار دیا جا سکے گا۔ اس سے ان غیر قانونی عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن ہو گی۔

    مسودے کے تحت غنڈہ قرار دیے گئے افراد کو مختلف پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن میں نو فلائی لسٹ میں شامل کرنا،شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی بلاکنگمبینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا،اسلحہ لائسنس کی منسوخی شامل ہیں،غنڈوں کی نگرانی کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور بائیو میٹرک ڈیٹا کلیکشن کا انتظام کیا جائے گا تاکہ ان کی سرگرمیوں پر مستقل نظر رکھی جا سکے،متاثرہ شخص ڈویژنل، صوبائی یا اپیل کمیٹیوں میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر سکتا ہے۔ اپیل کی سماعت ایک ٹریبونل کرے گا جس کی سربراہی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کریں گے، تاکہ شفاف اور منصفانہ فیصلے یقینی بنائے جا سکیں۔ضلعی انٹیلی جنس کمیٹی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے کو 3 سے 5 سال قید اور 15 لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جائے گا۔اگر جرم دہرایا گیا تو ملزم کو 7 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔

    محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ایکٹ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر ہے اور اس کے ذریعے غنڈہ گردی اور بدمعاشی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

  • عالمی مارخور ڈے ، قدرت کا حسین تحفہ اور پاکستان کا قومی فخر

    عالمی مارخور ڈے ، قدرت کا حسین تحفہ اور پاکستان کا قومی فخر

    آج دنیا بھر میں ایک ایسے شاہکارِ فطرت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے، جو فلک بوس پہاڑوں میں اپنی گونج چھوڑتا ہے، برفانی ڈھلوانوں پر اپنی موجودگی ثبت کرتا ہے، اور حیاتیاتی تنوع کی ایک زندہ علامت ہے۔ جی ہاں، آج مارخور کا عالمی دن منایا جا رہا ہے ، پاکستان کا قومی جانور، جو نہ صرف ہمارے قدرتی ورثے کی شان ہے بلکہ دنیا بھر میں بہادری، وقار اور قدرتی حسن کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔

    گلگت بلتستان — وہ خطہ جہاں ہر چٹان ایک کہانی سناتی ہے اور ہر وادی ایک راز چھپائے بیٹھی ہے — یہاں کے سربفلک پہاڑوں میں مارخور اپنی گھوم دار سینگوں اور پر وقار چال کے ساتھ قدرت کی حسین رعنائی کا ایک زندہ اثاثہ ہے۔ یہ خوبصورت مگر نایاب جانور نہ صرف ان پہاڑوں کی خوبصورتی کو مکمل کرتا ہے بلکہ ہمارے ماحولیاتی نظام کا ایک اہم ستون بھی ہے۔مارخور کی تعداد میں حالیہ برسوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو حکومت اور مقامی برادری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ کنزرویٹر وائلڈ لائف گلگت بلتستان، خادم عباس کہتے ہیں،”ہم نے مقامی برادری کو اس مشن کا حصہ بنایا ہے۔ اب مارخور کا تحفظ یہاں صرف ایک حکومتی پالیسی نہیں، بلکہ عوامی شعور کی ایک تحریک بن چکا ہے۔”

    اسی حوالے سے خنجراب نیشنل پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ آفیسر محمد جعفر کا کہنا ہے،”مارخور صرف ایک جانور نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی محافظ ہے۔ جب ہم مارخور کو بچاتے ہیں تو ہم دراصل قدرت کی اس زنجیر کو محفوظ رکھتے ہیں جو جنگلات، پہاڑوں، ندیاں اور چرند پرند کو جوڑے ہوئے ہے۔”

    مارخور کا تحفظ صرف ایک جانور کو بچانا نہیں بلکہ پورے نظامِ فطرت کو توازن میں رکھنا ہے۔ جنگلات، پانی، اور دیگر جاندار مارخور کے وجود سے جڑے ہیں، اور اس کے بغیر یہ نظام بے توازن ہو سکتا ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں بھی مارخور کو آزاد فضا میں دیکھ سکیں، تو ہمیں آج ہی سے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا ہو گا۔ مارخور کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرتی حسن کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔آئیے اس خاص موقع پر ہم سب عہد کریں کہ ہم اس تاجدارِ قدرت کی حفاظت کریں گے، کیونکہ مارخور کا تحفظ، ہماری فطرت، ہماری شناخت، اور ہماری نسلوں کا تحفظ ہے۔

  • امریکی پروفیسر نے بھارتی حکومت کو آئینہ دکھا دیا،پاکستان کی کامیابی کے معترف

    امریکی پروفیسر نے بھارتی حکومت کو آئینہ دکھا دیا،پاکستان کی کامیابی کے معترف

    امریکی پروفیسر نے بھارتی حکومت کو آئینہ دکھا دیا

    بھارت کو معرکہ حق میں شکست کے بعد مسلسل ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غیر ملکی دانشور بھی پاکستان کی کامیابیوں کے معترف ہیں،بھارتی ٹی وی پروگرام کے دوران پروفیسر کرسٹین فیئر کا کہنا تھا کہ ” بھارت پاکستان کو ہر ممکن کوشش کے باوجود خوفزدہ نہیں کرسکا” ڈیٹرنس کا اندازہ اس ملک کے رویے سے لگایا جاتا ہے جسے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہو، موجودہ حالات میں ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ پاکستان نے اپنی پوزیشن ترک کی ہو یا موقف سے پیچھے ہٹا ہو، بھارت نے بے بنیاد دعوے کرکے خود کو ایک خطرناک صورتحال میں ڈال دیا ہے، بھارت کے اندر میڈیا، خاص طور پر جنہیں میں ‘فسادی میڈیا’ کہتی ہوں، نے عوام کو غلط معلومات فراہم کی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو کسی ناکامی سے دوچار کرسکا اور نہ ہی اسے خوفزدہ کرسکا ہے، پاکستان پیچھے نہیں ہٹا اور نہ ہی وہ بھاگا ہے،یہ تنازعہ بھارت کی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے شدت اختیار کر گیا،

    پروفیسر کرسٹین فیئرکا کہنا تھا کہ بھارت خود بھی چاہتا تھا کہ تنازعے کو کم کرنے کے لیے کوئی محفوظ راستہ نکالا جائے، بدقسمتی سے بھارتی بے لگام میڈیا عوام میں ایسی توقعات پیدا کرتا ہے جو بعد میں عسکری تقاضوں کو جنم دیتی ہیں، بھارت اور اس کا میڈیا جنگجویانہ رویہ رکھتے ہیں،

  • مودی کی جارحانہ پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری داؤ پر

    مودی کی جارحانہ پالیسیاں، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری داؤ پر

    بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے میدان میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران بھارت کی غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح میں زبردست کمی دیکھی گئی ہے، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً 96.5 فیصد گر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی کل رقم 10 ارب امریکی ڈالرز سے گھٹ کر محض 353 ملین ڈالرز پر آ گئی ہے، جو بھارت کی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جارحیت، خاص طور پر اس کی عسکری اور سفارتی حکمت عملیوں کی وجہ سے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ بھارت کی جانب سے پڑوسی ممالک کے ساتھ کشیدگی بڑھانے اور عالمی سیاسی محاذ پر جارحانہ موقف اپنانے نے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان پالیسوں کی وجہ سے سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں اور وہ اپنے سرمائے کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی کے اثرات بھارتی معیشت پر واضح نظر آ رہے ہیں۔ بھارتی روپیہ مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی کم ہو رہے ہیں، جس سے بھارت کی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو بھارت کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کا اثر عام شہریوں کی زندگی پر بھی پڑے گا۔

    غیر ملکی سرمایہ کار جو پہلے بھارت کو اپنی سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ اور منافع بخش جگہ سمجھتے تھے، اب مودی سرکار کی جارحانہ اور غیر مستحکم پالیسوں سے نالاں ہو کر اپنے سرمایے کو دیگر ممالک منتقل کر رہے ہیں۔ اس تبدیلی سے بھارت کی صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کاری کی کمی سے نئی کاروباری سرگرمیاں رک جاتی ہیں۔مودی سرکار کی ان پالیسوں کی وجہ سے بھارت نہ صرف عالمی سطح پر اقتصادی تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے بلکہ سرمایہ کاری کے بحران میں بھی گھر چکا ہے۔ حکومت کی غیر مؤثر اقتصادی حکمت عملی اور بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے بھارت کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے بھارت اب سرمایہ کاری کے لیے عالمی مارکیٹ میں کمزور اور غیر محفوظ ملک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • سکھ تنظیم MAAR کی عالمی عدالت میں دہائی،بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    سکھ تنظیم MAAR کی عالمی عدالت میں دہائی،بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    سکھ تنظیم MAAR کی عالمی عدالت میں دہائی،بھارت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

    مودی کی جنگی جنونیت نے عبادتگاہوں کو بھی نہ چھوڑا،سوئٹزرلینڈ کی سکھ تنظیمMAAR نے ننکانہ صاحب پر بھارتی ڈرون حملے کےخلاف آئی سی سی میں شکایت درج کروا دی،MAAR موومنٹ نے بھارتی فوج کے مبینہ ڈرون حملے پر عالمی فوجداری عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے،

    7 اور 8 اپریل کی رات بھارت کا ننکانہ صاحب پر ڈرون حملہ پاکستانی افواج نے کامیابی سے پسپا کیا ،بھارت نے 1971 میں کرتارپور صاحب پر بھی بم گرایا تھا، سکھ تنظیمMAAR نے یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ مذہبی مقامات پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہیں،ننکانہ صاحب پر حملہ سکھ برادری کی مذہبی آزادی پر حملہ ہے، بھارت سکھوں کے مقدس مقامات کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے،مقدس مذہبی و ثقافتی مقامات کا ہر حال میں تحفظ لازم ہے، خصوصاً سیاسی یا عسکری کشیدگی کے دوران،

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری

    آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں مالیاتی ادارے نے پاکستان سے مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد ہدف میں لانے پر زور دیا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان مکمل ہو گیا، مالی سال 2025-26 کے بجٹ پر پاکستانی حکام سے تعمیری بات چیت ہوئی، پاکستان کا پرائمری سرپلس کا ہدف 1.6 فیصد مقرر کیا گیا ہے، زرمبادلہ ذخائر کی بحالی اور شرح مبادلہ میں لچک لانا ہو گی، اصلاحات کے لیے پاکستانی حکام پُراعتماد ہیں، آئندہ دنوں میں بجٹ پر مزید بات چیت جاری رہے گی، پاکستان میں توانائی کی لاگت کم کرنے کے لیے بات چیت ہوئی جبکہ معاشی ترقی کی شرح بڑھانے کے لیے بنیادی اصلاحات پر بھی مشاورت ہوئی، معاشی پالیسی مضبوط اور دیرپا بنانے کے لیے بھی زور دیا گیا تاکہ کوئی خلا نہ رہے،معاشی پالیسی کے لیے مانیٹری پالیسی سخت بنائی جائے، اسٹیٹ بینک افراط زر کو مدنظر رکھتے ہوئے مانیٹری پالیسی بنائے، آئندہ مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھے جائیں اور کرنسی کا ایکسچینج ریٹ مارکیٹ کے مطابق رکھا جائے تاکہ بیرونی دباؤ کو برداشت کر سکے ۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دورہ پاکستان میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تعاون کے مشکور ہیں، تعمیری بات چیت کرنے پر حکومت پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں، پاکستان کے معاشی پالیسی میں استحکام کے لیے کاربند رہنا قابل ستائش ہے، پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت انداز میں آئندہ بھی جاری رہے گی۔

    آئی ایم ایف مشن کے سربراہ نیتھن پورٹر کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھائی جائے، آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ آئندہ بجٹ میں اخراجات کی ترجیحات پرمشاورت ہو.

  • عمران خان کی رہائی کی کوشش،پاکستانی ڈاکٹر امریکا سے پھر پاکستان پہنچ گئے

    عمران خان کی رہائی کی کوشش،پاکستانی ڈاکٹر امریکا سے پھر پاکستان پہنچ گئے

    عمران خان کیلئے خاموش سفارتکاری میں شامل امریکا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹرز اور تاجر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی رہائی کی تازہ کوششوں کے سلسلے میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پہنچ گئے۔

    روزنامہ جنگ میں شائع خبر کے مطابق پاکستانی ڈاکٹروں اور تاجروں کے ایک گروپ نے چند ماہ قبل اسلام آباد کے دورے کے دوران ایک سینئر عہدیدار کے ساتھ ساتھ عمران خان سے جیل میں ملاقات کی تھی۔ یہ گروپ اس وقت لاہور میں موجود ہے،تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد اب تک عمران خان سے ملاقات میں کامیاب نہیں ہو پایا، اس بات کی تصدیق بھی نہیں ہوئی کہ کسی اہم عہدیدار کے ساتھ اس وفد کی کوئی بات چیت ہوئی ہے یا نہیں،اس وفد کیلئے آئندہ ہفتے کے دوران ہونے والے رابطوں کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دورے پی ٹی آئی کے حامیوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کے قانونی اور سیاسی معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

  • بلوچستان میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔رضوان شیخ

    بلوچستان میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔رضوان شیخ

    امریکا میں سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ 25 کروڑ کی آبادی کا پانی روکنا اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا۔

    امریکا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل کرنے کی کوئی شق یا گنجائش نہیں، عالمی برادری پانی کو بطور ہتھیار استعمال کی حمایت نہیں کرے گی, پاک بھارت جنگ بندی میں امریکا نے نمایاں کردار ادا کیا، پاک بھارت کشیدگی میں کمی سے متعلق امریکی قیادت کا کردار قابلِ تحسین ہے, امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے داعی ہیں، مسئلہ کشمیر کے حل میں پیش رفت سے متعلق امریکی صدر کی کوششوں کی قدر کرتے ہیں، پاکستان کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلے کے مستقل حل کا خواہاں ہے, بھارتی قیادت کے بیانات کشیدگی کو ہوا دینے کا سبب بن رہے ہیں، بھارتی قیادت کے بیانات ہندوتوا کی دہشت گردانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں، بلوچستان میں بھارت کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

  • برطانیہ میں سیاسی پناہ،پاکستانیوں کا پہلا نمبر

    برطانیہ میں سیاسی پناہ،پاکستانیوں کا پہلا نمبر

    لندن: برطانیہ میں سیاسی پناہ طلب کرنے والے افراد کی تعداد میں پاکستانی شہریوں نے سب سے آگے نکل کر پہلے نمبر پر جگہ بنا لی ہے۔

    برطانوی وزارت داخلہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 11 ہزار 48 افراد نے سیاسی پناہ کی درخواست دی، جو کہ مجموعی پناہ طلب کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارچ 2025 میں ختم ہونے والے مالی سال میں برطانیہ میں کل 1 لاکھ 9 ہزار 343 افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کروائیں۔ اس دوران پاکستانی درخواست گزاروں کی تعداد نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے جبکہ افغان پناہ طلب کرنے والوں کی تعداد 8 ہزار 69 رہی، جو دوسرے نمبر پر ہے۔

    گذشتہ سال مالی 2023-24 میں پاکستانی پناہ طلب کرنے والے تیسرے نمبر پر تھے، مگر اس سال ان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ ملکی حالات اور سیاسی و معاشی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔برطانوی وزارت داخلہ کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے سمندر عبور کرکے برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں میں سے تقریباً 33 فیصد پاکستانی شہری ہیں، جو کہ ایک تشویشناک اور بڑھتی ہوئی رجحان کی علامت ہے۔یہ اعداد و شمار برطانیہ میں سیاسی پناہ کی بڑھتی ہوئی مانگ اور خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی میں اس رجحان کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ برطانوی حکام نے اس صورتحال پر قابو پانے اور پناہ گزینوں کے حوالے سے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ قانونی عمل کو بہتر بنایا جا سکے۔

  • 40 ارب کا اسیکینڈل،تحقیقات کے دوران اکاؤنٹنٹ جنرل کا تبادلہ،پی اے سی کا اظہار ناراضگی

    40 ارب کا اسیکینڈل،تحقیقات کے دوران اکاؤنٹنٹ جنرل کا تبادلہ،پی اے سی کا اظہار ناراضگی

    پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اسپیکر بابر سلیم سواتی نے 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی انکوائری کے دوران صوبے کے اکاؤنٹنٹ جنرل، نصیرالدین سرور، کے اچانک تبادلے پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    22مئی 2025 کو کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس اسلام آباد کے نام ایک مراسلے میں، کمیٹی کے چیئرمین نے اس تبادلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے وضاحت طلب کی ہے،مراسلے میں کہا گیا ہے کہ اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نصیرالدین سرورکے اچانک تبادلے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کنٹرولر جنرل سے وضاحت طلب کرلی، بابر سلیم سواتی نے کہا کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں، اس نوعیت کی مالی بے ضابطگیاں متعلقہ افسران کی ملی بھگت یا غفلت کے بغیر ممکن نہ تھیں، 40 ارب روپے کے کوہستان اسکینڈل کی تحقیقات اور مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نصیرالدین کو ڈی جی انویسٹی گیشن، ویجیلنس و ریگولیشن تعینات کیا گیا جہاں اب وہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے انچارج ہوں گے۔

    خط، اسپیکر کی جانب سے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس کو لکھا گیا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کے ان خدشات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تبادلے کا وقت اور اس کے اثرات تشویشناک ہیں.