Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستانی ہیکرز کا کمال،بھارتی فوج کی ویب سائٹ ہیک

    پاکستانی ہیکرز کا کمال،بھارتی فوج کی ویب سائٹ ہیک

    پاکستانی ہیکرز نے بھارت کے آرمی اسکول اور عسکری ویب سائٹس کو ہیک کرلیا، بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی ہیکرز نے عوامی طور پر دستیاب عسکری، فلاحی اور تعلیمی ویب سائٹس کو نشانہ بنایا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس معلومات کے مطابق چار تصدیق شدہ حملے ہوئے تھے۔ ان میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) سری نگر اور اے پی ایس رانی کھیت کی ویب سائٹس کو ہدف بنایا گیا۔پاکستان کے زیر اہتمام ہیکر گروپس کئی ہندوستانی ملٹری ویب سائٹس اور ڈیٹا بیسز کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، ہندوستانی سائبر ایجنسیاں اس خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق اس ہفتے کم از کم دو سائبر حملہ کرنے والے گروپس کی طرف سے نئی کوششیں کی گئیں، جن میں کچھ ملٹری سے منسلک ویب سائٹس بشمول اسکولوں کی ویب سائٹس کو خراب کیا گیا۔بھارتی مسلح افواج سے وابستہ ویب سائٹس پر سائبر حملے ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں ہیکنگ اور پیجز کی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق سائبر اشتعال انگیزیوں کی ایک تازہ لہر میں پاکستانی ہیکر گروپس نے ہندوستانی ویب سائٹس کو توڑ کر بچوں، سابق فوجیوں اور فلاحی خدمات سے منسلک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا ہے۔ہیکنگ کے ذریعے میں بھارت کے اہم قومی نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گروپ IOK Hacker کے نام سے کام کر رہا تھا، جس کا مقصد ویب پیجز کو خراب کرنا، آن لائن خدمات کو متاثر کرنا، اور ذاتی معلومات حاصل کرنا تھا۔

  • سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں کارروائیاں، 5 خوارج ہلاک، 2 گرفتار

    سیکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا میں کارروائیاں، 5 خوارج ہلاک، 2 گرفتار

    30 اپریل اور یکم مئی 2025 کو خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز نے تین مختلف کارروائیوں کے دوران 5 خوارج کو ہلاک اور 2 کو گرفتار کر لیا۔ ان کارروائیوں کے دوران خوارج کے ٹھکانوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز کو ضلع باجوڑ میں خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملی، جس کے بعد ایک انٹیلی جنس آپریشن کیا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا اور ان کی سرگرمیوں کو روکنا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، باجوڑ میں کی جانے والی کارروائی میں ہائی ویلیو ٹارگٹ خارجی فرید اللّٰہ سمیت 3 خوارج ہلاک ہوگئے۔ فرید اللّٰہ ایک اہم دہشت گرد تھا جو علاقے میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔ان کارروائیوں میں خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا، جو سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ اسلحہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں استعمال ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے ان کی منصوبہ بندی اور آپریشنز میں ناکامی ہوئی۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے خلاف حکومت پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے اور عوام کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی۔یہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف اپنی جدوجہد میں کامیاب ہو رہی ہیں اور خیبرپختونخوا میں امن قائم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کیخلاف سیکیورٹی فورسز کی صلاحیتیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔

  • پہلگام حملہ،بھارتی میڈیا کو کشمیری صحافی کا منہ توڑ جواب

    پہلگام حملہ،بھارتی میڈیا کو کشمیری صحافی کا منہ توڑ جواب

    پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں ایک نوجوان کشمیری صحافی نے بھارتی میڈیا اور اینکرز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ان کی منافقانہ رپورٹنگ اور جنگی جنون پر مبنی بیانیے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے اس بہادر صحافی نے ایک لائیو شو کے دوران بھارتی اینکرز کو آئینہ دکھاتے ہوئے کئی تلخ سچ سامنے رکھ دیے۔

    کشمیری صحافی نےکہا کہ "پانی بند کرنے کی آپ محض باتیں ہی کر رہے ہیں، ابھی تک پانی بند کیوں نہیں کیا؟”کشمیری صحافی نے بھارتی دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بھارت اگر واقعی اتنا سنجیدہ ہے تو عملی اقدامات کیوں نہیں کرتا؟کشمیری صحافی نے کہا کہ "آپ کو لگتا ہے آرمی چیف آپ سے ڈر کے ملک سے چلےجائے گا؟”بھارتی میڈیا کے دھمکی آمیز بیانیے پر طنز کرتے ہوئے صحافی نے کہا کہ پاکستان کی قیادت اور افواج کسی دھمکی سے مرعوب نہیں ہوتیں۔مزید کہا کہ "آپ بے شک تعداد میں زیادہ ہو سکتے ہیں، مگر ہم اور ہماری فوج کوالٹی میں آپ سے زیادہ ہیں”نوجوان صحافی نے عددی برتری کی بنیاد پر بھارتی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج کی مہارت اور جذبہ کہیں زیادہ بہتر ہے۔

    کشمیری صحافی نے مزید کہا کہ "آپ ہر دفعہ پاکستان پر الزام لگاتے ہیں”بھارتی میڈیا کے ہر حملے کے بعد پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانے کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے بیانیے عالمی سطح پر قابل اعتبار نہیں رہے۔ "پلوامہ ڈرامے میں بھی آپ کو 700 کروڑ کا نقصان ہوا تھا”انہوں نے پلوامہ واقعہ کو ایک معاشی چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے اس حملے کو بھی سیاسی اور مالی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ "عالمی سطح پر آپ تنہا ہو چکے ہیں”صحافی نے نشاندہی کی کہ بھارت کا جنگی جنون اور اقلیتوں کے خلاف پالیسیز عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں۔

    ماہرین کا ماننا ہے کہ پہلگام واقعہ ایک مرتبہ پھر فالس فلیگ آپریشن ہو سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں پلوامہ یا اڑی حملوں میں دیکھا گیا۔ مقصد صرف پاکستان کو بدنام کرنا اور داخلی سطح پر الیکشن سے قبل سیاسی فائدہ حاصل کرنا ہو سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر کشمیری صحافی کے بیانات وائرل ہو چکے ہیں۔ پاکستانی عوام سمیت کئی عالمی صارفین نے ان کی جرأت اور صاف گوئی کو سراہا ہے۔ "سچ بولنے کی جرات رکھنے والا صحافی” اور "بھارتی میڈیا کا پوسٹ مارٹم” جیسے ہیش ٹیگز ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

  • پروفیسر ساجد میر وفات پا گئے، نماز جنازہ آج رات دس بجے

    پروفیسر ساجد میر وفات پا گئے، نماز جنازہ آج رات دس بجے

    مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے سربراہ پروفیسر ساجد میر انتقال کرگئے ہیں، ان کی عمر 85 سال سے زائد اور وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے ۔

    خاندانی ذرائع کے مطابق مہرے کے آپریشن کے باعث ان کی طبعیت ناساز رہتی تھی، اس سے قبل ان کو دل کی تکلیف بھی ہوئی تھی جس کے باعث ان کا بائی پاس کروایا گیا تھا،علامہ سینٹر ساجد میر کی نماز جنازہ رات 10 بجے علامہ اقبال کالج خادم علی روڈ سیالکوٹ میں ادا کی جائے گی

    مرحوم ایک عظیم دینی، علمی، اور سیاسی شخصیت تھے، جنہوں نے ساری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، علم و فہم کے لیے وقف کیے رکھی، 1963 ء میں انہوں نے پہلی بار تراویح کے دوران تلاوت سنائی ، والدہ جسے انہوں نے نہیں دیکھا تھا، ان کی خواہش پر ہی بڑے ہو کر رسمی پڑھائی چھوڑ کر قرآن پاک حفظ کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے 1994 میں پہلی مرتبہ ساجد میر کو اپنی جماعت کے ٹکٹ پر پنجاب سے سینیٹر منتخب کرایا جس کے بعد کئی بار سینیٹ کے ممبر رہ چکے ہیں۔ بین المسالک ہم آہنگی کیلئے تیار ہونیوالے ضابطہ اخلاق کو بنانے والی کمیٹی کے سربراہ تھے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی مضبوطی میں بھی ان کا نمایاں کردار رہا۔ وہ کچھ سالوں تک نائیجیریا میں درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے جہاں سے 1985 میں وہ پاکستان واپس آئے۔

    ساجد میر نے ہمیشہ انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی، وزیراعظم
    وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے امیر جمیعتِ اہل حدیث اور سینیٹر پروفیسر ساجد میر کے انتقال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم ساجد میر کی بلندی درجات اور انکے اہل خانہ کے لیے صبر و تحمل کی دعا کی۔وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ "ساجد میر پاکستان کی اہل بصیرت سیاسی شخصیت اور دینی اسکالر تھے، جن کی رحلت سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے، جو شاید ہی کبھی پُر ہو سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ساجد میر نے ہمیشہ انتہاء پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف آواز اٹھائی، جو ان کی سیاست اور دین کی خدمات کا سنہری باب ہے۔” وزیرِ اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ساجد میر کی خدمات پاکستان کی سیاست اور دین میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔وزیرِ اعظم نے اس مشکل گھڑی میں مرحوم کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مشکل کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدریاں ساجد میر کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔”

    ساجد میر کی رحلت نے پاکستان کی دینی و سیاسی کمیونٹی کو ایک بڑا نقصان پہنچایا ہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

  • پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والے ابدالی میزائل کا تجربہ

    پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والے ابدالی میزائل کا تجربہ

    پاکستان نے آج “ایکس انڈس” مشق کے تحت “ابدالی ویپن سسٹم” کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا،یہ زمین سے زمین پر مار کرنے والا میزائل ہے

    ابدالی ہتھیاروں کا نظام 450 کلومیٹر تک کامیابی سے ہدف کو نشانہ بناسکتا ہے.یہ میزائل تجربہ “انڈس” مشق کا حصہ ہے.ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق تجربہ کا مقصد فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں کو یقینی بنانا تھا اہم تکنیکی پیرامیٹرز بشمول جدید نیوی گیشن سسٹم کو یقینی بنانا تھا۔

    کمانڈر آرمی اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ نے تربیتی لانچ کا مشاہدہ کیا،اس موقع پر اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن، فوجی کمانڈ اور اسٹریٹیجک سائنسدانوں نے شرکت کی، صدر، وزیراعظم، چیئرمین جوائنٹ چیفس اور سروسز چیفس نے کامیاب میزائل تجربے پر مبارکباد دی،قومی سلامتی کے تحفظ اور مؤثر دفاع کیلئے مکمل اعتماد کا اظہار کیا،

  • بھارتی فوج کا جیلوں میں قید پاکستانیوں کا فیک انکاؤنٹر کرنے کا مذموم منصوبہ

    بھارتی فوج کا جیلوں میں قید پاکستانیوں کا فیک انکاؤنٹر کرنے کا مذموم منصوبہ

    بھارت کا ایک اور گھناؤنا منصوبہ ،بھارتی فوج نےغیر قانونی اور جبراً حراست میں رکھے معصوم پاکستانیوں کو فیک انکاؤنٹر میں استعمال کرنے کا مذموم منصوبہ بنا لیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی انٹیلیجینس اور بھارتی فوج نے بیسیوں پاکستانی جو جبراً اور غیر قانونی طور پر بھارتی ایجنسیوں کی حراست میں ہیں، کو مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں باہر نکال کر فیک انکاؤنٹر ز میں مارنے کا شرمناک منصوبہ بنا لیا۔ مختلف جیلوں اور ایجنسیوں میں رکھے جانے والے افراد کو مارنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سرحد پار دہشت گرد قرار دیا جائے گا، منصوبہ کے مطابق فیک انکاؤنٹر کے فوری بعد بھارتی میڈیا کو پہلے ہی سے ان افراد کی لاشیں اور پلانٹڈ ہتھیار وغیرہ کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کر دی جائیں گی، بھارتی میڈیا روائتی طریقے سے ان افراد کو پاکستان سے آنے والے دہشت گرد ظاہر کرے گا، اس مذموم منصوبے کا مقصد پہلگام فالس فلیگ ناکام ہونے کے بعد پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے کی ایک اور من گھڑت کہانی بنانا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق کچھ غیر قانونی طور پر حراست زدہ ان افراد کو زندہ دہشت گرد ظاہر کر کے میڈیا کے سامنے پاکستان مخالف بیانات اور اعتراف جرم کے بیان بھی دلوائے جا سکتے ہیں،29 اور 30 اپریل کو ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی پریس کانفرنسز میں پہلے ہی 723 پاکستانی افراد جو مختلف بھارتی جیلوں میں غیر قانونی طور پر بند ہیں، کی تفصیلات بتا چکے ہیں،سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسکے علاوہ 56 ایسے پاکستانی افراد بھی ہیں جو بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے غیر قانونی اور جبراً اپنی حراست میں رکھے ہیں،ان 56 افراد کی تفصیلات بھی ڈی جی آئی ایس پی آر اپنی 29 اور 30 اپریل کو بتا چکے ہیں،سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان بھارتی حراست میں رکھے گئے افراد کو کسی بھی وقت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور جارحیت کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،اس سے پہلے بھی 24 اپریل کو آزاد جموں کشمیر کے دو شہریوں محمد فاروق اور محمد دین کو غلطی سے بارڈر کراس کر جانے پر بھارتی فوج نے ظالمانہ طریقے سے فیک انکاؤنٹر میں مار دیا تھا، بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں فیک انکاؤنٹر اسپیشلسٹ کے طور پر بد نام زمانہ ہے،پہلگام فالس فلیگ کی ناکامی کے بعد بھارت مکمل طور بھوکھلا چکا ہے۔

  • بھارت مسئلہ کشمیر کو دنیا سے چھپانے کی کوشش نہیں کر سکتا، چیئرمین سینیٹ

    بھارت مسئلہ کشمیر کو دنیا سے چھپانے کی کوشش نہیں کر سکتا، چیئرمین سینیٹ

    کراچی: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بھارت کی جانب سے پاکستان پر الزام تراشیوں کے حوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کو پہلے اپنے الزامات کی تفتیش کرنی چاہیے، پھر الزام تراشی کرنا چاہئے۔ گیلانی نے مزید کہا کہ بھارت کشمیر کے مسئلے کو دنیا سے چھپانے کی کوشش نہیں کر سکتا، اور اس بات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ الزامات کے بجائے بھارت کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہ اپنے الزام تراشی کے دعووں کو ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد فراہم کرے۔

    دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسماعیل نے بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے پانی کی فراہمی کو روکنے کی کوششوں پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان کا پانی بند کیا جائے، مگر پاکستان اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔گورنر سندھ نے اس موقع پر کہا کہ قوم کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہماری افواج ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی افواج کا عزم اور طاقت کسی بھی بیرونی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہے۔

    پاکستان کی حکومت اور افواج کی جانب سے مسلسل یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی جارحانہ اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیر کے مسئلے پر عالمی سطح پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بھی جاری رکھی جائیں گی۔پاکستان کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل صرف اور صرف کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت ہی ممکن ہے، اور بھارت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

  • پاکستان نے بھارتی میڈیا کے یوٹیوب چینلز کو کیا بلاک

    پاکستان نے بھارتی میڈیا کے یوٹیوب چینلز کو کیا بلاک

    پاکستان نے بھارت کی جانب سے کی جانے والی حالیہ اشتعال انگیز کوششوں کے جواب میں بھارت کی کئی اہم ویب سائٹس اور ٹی وی چینلز کو بلاک کرنے کی فیصلہ کن کارروائی کی ہے۔ جس کا مقصد بھارت کو واضح پیغام دینا تھا کہ پاکستان کسی بھی صورت میں بھارت کی ناپاک کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

    پاکستان نے بھارت کے اہم ٹی وی چینلز کو اپنے انٹرنیشنل پلیٹ فارمز سے بلاک کر دیا۔ یہ اقدام پاکستان کی جانب سے بھارت کو ہر سطح پر سخت جواب دینے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد بھارت کے میڈیا اور ویب سائٹس کے آپریشنز کو پاکستانی حدود میں متاثر کرنا تھا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں بھارت کے اہم میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میں بلاک ہو چکے ہیں۔پاکستان کی اس کارروائی سے ایک واضح پیغام دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی غیر قانونی یا اشتعال انگیز کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ، یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید بھارتی ویب سائٹس اور چینلز کو بھی پاکستان کی جانب سے بلاک کیا جا سکتا ہے، جس سے بھارت کے میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پاکستان میں مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔

    پاکستان نے بھارت کے درج ذیل اہم ٹی وی چینلز کو بلاک کیا ہے:

    ABN Telugu
    youtube.com/@abntelugutv

    CNN-News18
    youtube.com/@cnnnews18

    DD News
    youtube.com/@DDnews

    IndiaTV
    youtube.com/@IndiaTV

    News18 India
    youtube.com/@news18india

    Republic World
    youtube.com/@RepublicWorld

    TIMES NOW
    youtube.com/@TimesNow

    TIMES NOW Navbharat
    youtube.com/@timesnownavbh

    WION
    youtube.com/@WION

    Zee News
    youtube.com/@ZeeNews

    Republic Bharat
    youtube.com/@RepublicBharat

    پاکستان کی جانب سے اس کارروائی نے بھارت کے میڈیا پلیٹ فارمز کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کے آپریشنز کو پاکستانی حدود میں متاثر کیا ہے۔ پاکستان کے حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ اگر بھارت نے اپنے رویے میں تبدیلی نہ کی، تو مزید چینلز اور ویب سائٹس کو بھی بلاک کیا جا سکتا ہے۔پاکستان کی جانب سے اس جوابی کارروائی نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اقدام اٹھائے گا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

  • بھارت،مندر میں‌بھگدڑ مچنے سے 6 ہلاک 50 سے زائد زخمی

    بھارت،مندر میں‌بھگدڑ مچنے سے 6 ہلاک 50 سے زائد زخمی

    گووا کے شہر شیرگاؤں میں ایک مندر میں ہونے والی سالانہ لیرائی دیوی جترہ کے دوران بھگدڑ کے باعث کم از کم چھ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ ہفتہ کی صبح پیش آیا۔

    یہ سانحہ سری دیوی لیرائی مندر میں پیش آیا، جو ریاستی دارالحکومت پانجی سے تقریباً 40 کلومیٹر دور واقع ہے۔ جب ایک بڑے مذہبی اجتماع کے دوران خوف و ہراس پھیل گیا، تو ہزاروں عقیدت مندوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی، جس کے نتیجے میں بھگدڑ کا شکار ہوگئے۔ گواہان کے مطابق، لوگ بھیڑ سے بچنے کی کوشش میں ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے نظر آئے، جس کے باعث شدید افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے شیرگاؤں میں بھگدڑ کے نتیجے میں جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے اپنے دفتر کی جانب سے ایک بیان میں کہا، "وہ افراد جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، ان کے ساتھ اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔ زخمی افراد جلد صحت یاب ہوں۔ مقامی انتظامیہ متاثرہ افراد کی مدد کر رہی ہے۔وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے بھی زخمیوں سے ملاقات کے لیے اسپتال کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا، "میں ذاتی طور پر حالات کی نگرانی کر رہا ہوں تاکہ ہر ضروری قدم اٹھایا جائے۔”

    حکام نے ابھی تک بھگدڑ کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا ہے، تاہم ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ زیادہ رش کو کنٹرول کرنے کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے پیش آیا۔

    لیرائی دیوی جترہ ہر سال شمالی گوا کے گاؤں شیرگاؤں میں منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار دیوی لیرائی کی پوجا کے طور پر منایا جاتا ہے، جنہیں ہندو مت کے مطابق دیوی پاروتی کا اوتار اور گوا کی سات بہنوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔اس تہوار کی خاصیت اس کے منفرد رسومات میں ہے، جن میں "اگنی دیویا” (آگ پر چلنے) کی رسم شامل ہے، جس میں عقیدت مند، جنہیں دھوند کہا جاتا ہے، ننگے پاؤں جلتی ہوئی انگاروں پر چل کر برکت حاصل کرتے ہیں۔ہر سال گوا، مہاراشٹر اور کرناٹک سے ہزاروں عقیدت مند اس تہوار میں شرکت کرتے ہیں۔

  • موت سے نہ ڈرایا جائے،دنیا دیکھے گی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔مصطفیٰ کمال

    موت سے نہ ڈرایا جائے،دنیا دیکھے گی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔مصطفیٰ کمال

    وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا کے 333 طلبا کے داخلہ کا مسئلہ حل ہوگیا ہے،بھارت بھڑکیں مار رہا ہےہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا، غزہ میں نہتے بچوں اور مائوں کو پوری دنیا مل کر سرینڈر نہیں کروا سکے تو بھارت کیا کر سکتا ہے ۔

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ میں پی ایم ڈی سی میں ایک بہت ہی گھمبیر مسئلے کے سلسلہ میں آیا ہوں جو حل ہو چکا ہے۔ ایک تو فاٹا کے مرج طلبا کا مسئلہ تھا اوردوسرا بلوچستان کے میڈیکل کے طلبا کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق دی گئی سیٹوں کے علاوہ کوئی اور سیٹ نہیں دی جا سکتی تھیں لیکن ان طلبا کے ایڈمشن کا مسئلہ بھی تھا ۔انہوں نے کہاکہ میڈیکل کے 190 طلبا کے لیے ہم نے اضافی سیٹیں دی ہیں جس پر وہ پی ایم ڈی سی کی ٹیم کے مشکور ہیں۔ پی ایم ڈی سی نے اس سلسلہ میں نوٹیفیکیشن دو دن پہلے ہی جاری کر دیاتھا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور فاٹا کے 333 طلباء کے داخلہ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے اور ان طلباء کو پاکستان کے مختلف کالجوں میں داخلہ مل سکے گا ۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کالجز کو کہا ہے کہ طلبا کےسیٹس بڑھائیں جس سےزیادہ سے زیادہ طلبا کو اپنے صوبے میں ہی داخلہ مل سکے گا۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ایم ڈی سی اور ہیلتھ منسٹری نے رات دن اس کام کو پایا تکمیل پر پہنچایا ہے ۔ہمارے کراچی کے بچوں کو سکھر اور لاڑکانہ بھیجا جاتا ہے ، وہاں پر بھی میڈیکل سیٹس کا مسئلہ ہے۔ میرٹ پرطلبا و طالبات کو اگر داخلے نہ ملے تو تعلیمی معیار خراب ہو گا ، ہمارے معاشرے میں خرابی ہے اس کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ میرے پاس جو بھی کرپشن کی چیز آئی ہے ایک منٹ میں مسئلہ حل کریں گے اور اسے قطعاً برداشت نہیں کیاجائےگا۔

    وفاقی وزیر نے کہاکہ بھارت جو بھڑکیاں مار رہا ہے ہمارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا۔ غزہ میں نہتے بچوں اور مائوں کو پوری دنیا مل کر سرینڈر نہیں کروا سکی تو بھارت کیا کر سکےگا۔انڈین آرمی کوذرا ملک میں آنے دو پچیس کروڑ عوام ان کو واپس نہیں جانے دے گی۔ ہمیں موت سے نہ ڈرایا جائے ۔ وزیر دفاع کی اس بات کو تائید کرتا کہ نیوکلیئر جو بنایا یہ پٹاخے پھوڑنے کے لیے نہیں بنایا ۔ کراچی میں انڈین را جو کروا رہی اسکو ہم بھگت چکے ہیں ۔ ہم اس وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ انڈیا یہ کرے اور پھر دنیا دیکھے گی کہ ہم کیا کر سکتے ہیں۔