Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پہلگام واقعہ،37بھارتی مودی پر تنقید ،پاکستان کی حمایت کے جرم میں گرفتار

    پہلگام واقعہ،37بھارتی مودی پر تنقید ،پاکستان کی حمایت کے جرم میں گرفتار

    بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے اب تک 37 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پہلگام حملے کے بعد مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے واقعے کی ذمہ داری پاکستان پر ڈالنے کے بیانیے کو مسترد کیا اور پاکستان کی حمایت یا دفاع میں بیانات دیے۔

    ، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ریاستی پولیس نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کی ہے جو بقول ان کے ’’ملک دشمن بیانیہ‘‘ پھیلا رہے تھے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا”پولیس نے ریاست بھر میں ان افراد کی نشاندہی کی ہے جو سوشل میڈیا پر یا عوامی سطح پر پاکستان کا دفاع کر رہے تھے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے تھے۔”ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں طلباء، سماجی کارکنان، اور سیاسی کارکن بھی شامل ہیں، جنہوں نے مختلف پلیٹ فارمز پر پہلگام واقعے کو ’’اندرونی سازش‘‘ قرار دیتے ہوئے پاکستان کو اس حملے سے بری الذمہ قرار دیا تھا۔

    یاد رہے کہ پہلگام میں ہونے والا حالیہ حملہ، جس میں 27 افرادہلاک ہوئے، کے بعد بھارتی حکومت اور میڈیا نے حسب روایت اس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر عائد کر دیا تھا۔ تاہم ملک کے مختلف حصوں، بالخصوص شمال مشرقی ریاست آسام میں کچھ افراد نے سوشل میڈیا پر اس بیانیے کو چیلنج کیا اور مودی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔حکام کے مطابق، گرفتار شدگان پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات، بشمول ریاست کے خلاف سازش، نفرت انگیز تقریر اور سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی جیسے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

    واضح رہے کہ آسام میں بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی حکومت قائم ہے، جو اکثر اپنی سخت گیر پالیسیوں اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے معروف ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان نے ان گرفتاریوں کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کو فوری رہا کیا جائے۔بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، کیونکہ بھارت میں اظہار رائے کی آزادی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

  • برطانیہ میں دہشتگردی کے مقدمات میں ایرانیوں سمیت 8 افراد گرفتار

    برطانیہ میں دہشتگردی کے مقدمات میں ایرانیوں سمیت 8 افراد گرفتار

    یورپ میں جاری سکیورٹی خدشات کے تناظر میں برطانیہ سے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے، جہاں میٹروپولیٹن پولیس نے دہشت گردی کے دو علیحدہ لیکن "اہم” مقدمات میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کی انسدادِ دہشت گردی ٹیم نے ملک کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو حراست میں لیا۔ ان میں سے چار ایرانی شہری ہیں۔ میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ایک مخصوص جگہ کو نشانہ بنانے کے مشتبہ منصوبے کے سلسلے میں کی گئیں۔پولیس نے بیان میں کہا”ہم نے متاثرہ جگہ سے رابطہ کیا ہے اور انہیں مشورہ و تعاون فراہم کیا ہے، تاہم آپریشنل وجوہات کی بنا پر فی الحال مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔”انسدادِ دہشت گردی کمان کے سربراہ کمانڈر ڈومینک مرفی کا کہنا تھا کہ”یہ دو انتہائی اہم کارروائیاں تھیں جن کا مقصد عوام کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ سینکڑوں افسران اور عملہ اس تحقیقات پر کام کر رہا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی کہ آیا یہ منصوبہ اسرائیل سے متعلق تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائیاں غیر معمولی نوعیت کی ہیں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ افواہوں سے گریز کریں۔

    ایم آئی 5 کے ڈائریکٹر جنرل کین میککلم نے اکتوبر میں انکشاف کیا تھا کہ 2022 کے بعد سے ایران کی پشت پناہی والے 20 مہلک منصوبوں کا پتا چلایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ایرانی ریاستی جارحیت میں اضافے کا خطرہ موجود ہے۔روچڈیل کے رہائشی کائل وارن نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ ان کے بچے باغ میں کھیل رہے تھے جب ایک نقاب پوش شخص نے انہیں اندر جانے کو کہا۔ وہ باہر نکلے تو فائرنگ کی آواز، 20 سے 30 مسلح اہلکاروں کی موجودگی اور ایک شخص کو گرفتار کیے جانے کا منظر دیکھا۔”میری بیٹیاں خوفزدہ ہو گئیں… انہوں نے کبھی بندوق دیکھی نہیں تھی، اور اچانک 20 ماسک پہنے افراد بندوقوں کے ساتھ دیکھنا ان کے لیے بہت ڈراؤنا تجربہ تھا۔”

    میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق گریٹر مانچسٹر، لندن اور سوینڈن کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے۔ جن افراد کو حراست میں لیا گیا، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے:
    29 سالہ شخص، سوئینڈن سے
    46 سالہ شخص، مغربی لندن سے
    29 سالہ شخص، اسٹاکپورٹ سے
    40 سالہ شخص، روچڈیل سے
    ایک شخص (عمر ظاہر نہیں کی گئی)، مانچسٹر سے

    اسی روز لندن میں تین مزید ایرانی شہری ایک مختلف تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار کیے گئے۔ انہیں نیشنل سیکیورٹی ایکٹ 2023 کی دفعہ 27 کے تحت حراست میں لیا گیا، جس کے تحت ان افراد پر غیر ملکی طاقت کے لیے سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔برطانیہ کی وزیرداخلہ یویٹ کوپر نے ان کارروائیوں کو "اہم ترین انسدادِ ریاستی خطرات اور دہشت گردی کی کارروائیاں” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا”یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مسلسل ردعمل اور حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔”

    یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ برطانیہ کو اب بھی غیر ملکی ریاستوں اور انتہا پسند عناصر کی جانب سے سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے، اور سکیورٹی ادارے ان سے نمٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

  • سیکیورٹی بریفنگ میٹنگ کا بائیکاٹ پی ٹی آئی کی ملک دشمنی ہے،عظمیٰ بخاری

    سیکیورٹی بریفنگ میٹنگ کا بائیکاٹ پی ٹی آئی کی ملک دشمنی ہے،عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں نے سیکیورٹی بریفنگ میٹنگ کا بائیکاٹ کر کے ملک دشمنی کا ثبوت دیا ،

    عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ملک دشمن ٹولے سے اس کے علاوہ توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔ پی ٹی آئی کے نام نہاد ٹائیگر ابھی بھی ملک اور اداروں کے خلاف جنگ برپا کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہی وہ جماعت ہے جو اپنے دور حکومت میں کسی سیکیورٹی بریفنگ میں شرکت نہیں کرتی تھی اور پھر میڈیا پرآ کرشکوے کرتی تھی کہ کیا کروں ، جنگ کر لوں ؟

    واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ملکی صورتحال،پاک بھارت کشیدگی پر سیاسی جماعتوں کو بریفنگ دی ہے تا ہم پی ٹی آئی نے اس بریفنگ میں شمولیت سے انکار کیا،پی ٹی آئی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں بریفنگ میں شامل ہوئی ہیں

  • ریلوے اسٹیشن سے موٹر سائیکل چوری کرنے والا پولیس کا اہلکار نکلا

    ریلوے اسٹیشن سے موٹر سائیکل چوری کرنے والا پولیس کا اہلکار نکلا

    ایس ایچ او ریلوے کینٹ اسٹیشن اصغر بروہی کی بروقت کارروائی، چوری شدہ موٹرسائیکل برآمد کرلیا گیا .

    ایس ایس یو کا حاضر سروس سجن خان ولد گلن خان کانسٹیبل گرفتار ریلوے پولیس اسٹیشن کینٹ کے ایس ایچ او اصغر بروہی نے چوری کی واردات پر فوری اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ موٹرسائیکل برآمد کرلی جب کہ واردات میں ملوث ایس ایس یو کا حاضر سروس کانسٹیبل ملزم سجن خان ولد گلن خان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔متاثرہ شہری جو بلوچستان کے ضلع خاران کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ 7 دسمبر 2024 کو کراچی کینٹ اسٹیشن کے قریب اپنی موٹرسائیکل (رجسٹریشن نمبر: KKNM-7966) کی چوری کی شکایت درج کروائی تھی۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ موٹرسائیکل کو حاضر سروس اہلکار نے چوری کیا ہے۔ایس ایچ او ریلوے پولیس کینٹ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کرکے۔موٹرسائیکل بھی برآمد کرلی گئی ہے،ملزم کے خلاف دفعہ 381-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے (ایف آئی آر نمبر 154/2025) اور مذید تفتیش ASI کی نگرانی میں شروع کردی گئی ہے

  • دوسری جنگِ عظیم کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ

    دوسری جنگِ عظیم کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ

    دوسری جنگِ عظیم کے مشہور سپِٹ فائر لڑاکا طیارے کا ایک ماڈل ہفتہ، 3 مئی 2025 کو کینٹ کے علاقے ہیتھ کے قریب ایک کھیت میں گر کر تباہ ہو گیا۔ خوش قسمتی سے، طیارے کا پائلٹ اور اس کے ہمراہ ایک مسافر مکمل طور پر محفوظ رہے۔

    یہ طیارہ "Fly A Spitfire” کمپنی کی ملکیت تھا، جو عام شہریوں کو تاریخی سپِٹ فائر طیارے میں پرواز کا موقع فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا "ہم اپنے ایک سپِٹ فائر طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک احتیاطی لینڈنگ تھی جو کسی باقاعدہ ہوائی اڈے پر نہیں کی گئی۔ پائلٹ اور مسافر محفوظ ہیں، اور اس وقت ہمارے پاس مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔”

    مقامی میڈیا کے مطابق، عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں "کیرَوَن پارک” کے اوپر پرواز کے دوران کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی، اور وہ درختوں سے بال بال بچتے ہوئے قریبی کھیت میں جا گرا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں طیارے کو زمین کی طرف آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم دھماکے یا آگ کا کوئی منظر نظر نہیں آیا۔یہ واقعہ یورپ میں فتح (VE Day) کی 80 ویں سالگرہ سے چند دن قبل پیش آیا۔ کچھ رپورٹس کے مطابق، طیارہ ممکنہ طور پر تقریبات کی ریہرسل میں مصروف تھا، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ "Fly A Spitfire” کمپنی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ان کی پروازیں حسبِ معمول جاری رہیں گی، جو کہ £450 سے £1,800 کے درمیان قیمت پر دستیاب ہیں۔

    وی ای ڈے 8 مئی کو منایا جائے گا، جب 1945 میں دوسری جنگِ عظیم کے اختتام پر یورپ میں فتح کا اعلان کیا گیا تھا۔ لندن میں پیر کے روز ہزاروں افراد ایک فوجی پریڈ، فضائی مظاہرے، اور سر ونسٹن چرچل کی تاریخی تقریر جو کہ اداکار ٹموتھی اسپال کی آواز میں پیش کی جائے گی دیکھنے کے لیے جمع ہوں گے۔

    سپِٹ فائر طیارے، خاص طور پر 1940 میں ہونے والی "بیٹل آف برٹن” کے دوران، برطانوی فضائی حدود کی حفاظت میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔”سپِٹ فائر طیارے نے جولائی سے اکتوبر 1940 کے دوران جرمن لوفت وافے کے خلاف برطانوی فضا کا دفاع کیا، جو فتح کا ایک اہم سبب بنا۔”

  • بلاول نے بھارت کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب کر دیا،سحر کامران

    بلاول نے بھارت کا جھوٹا بیانیہ بے نقاب کر دیا،سحر کامران

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنمارکن قومی اسمبلی سحر کامران نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کومعطل کرنے کی سازش کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جرات مندانہ سفارت کاری نے نہ صرف مودی حکومت کی ہندوتوا سوچ کو بے نقاب کیا بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت کے جھوٹے دعووں کو بھی دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ بھارت کی موجودہ بوکھلاہٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے اصولی مؤقف اور عالمی سطح پر مؤثر سفارتی کوششوں سے شدید دباؤ میں ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے جس وضاحت اور بہادری سے کشمیریوں کی آواز بلند کی اور سندھ طاس معاہدہ کے معاملے پر پاکستان کے پانی کے حقوق کا دفاع کیا، وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی فتح ہے۔بھارت کی طرف سے دریاؤں پر یکطرفہ قبضے کی کوشش، نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی ہے۔ بلاول بھٹو کا یہ مؤقف کہ "پانی پر سیاست نہیں کی جا سکتی” آج پوری دنیا میں گونج رہا ہے۔

    سحر کامران کامزید کہنا تھا کہ بھارت کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہے کہ پاکستان نے عالمی برادری میں مقبوضہ کشمیر کی اصل صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بھارت کی جانب سے ہونے والی جارحیت کو پوری قوت سے اُجاگر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی دہلی میں بوکھلاہٹ ہے،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے پانی کے تحفظ اور کشمیریوں کے حقوق کے لیے جو مہم چلائی، وہ نہ صرف ایک نوجوان لیڈر کی پختگی کی علامت ہے بلکہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں نئی اُمید بھی جگا رہی ہے۔ ان کا مؤقف واضح ہے: "پاکستان کے پانی اور کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔”

    سحر کامران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کا نوٹس لے اور جنوبی ایشیا میں امن کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی چاہتا ہے مگر اپنی خودمختاری، قدرتی وسائل اور کشمیری عوام کے حقوق کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

  • بھارتی تربیتی طیارہ دیوار سے جا ٹکرایا

    بھارتی تربیتی طیارہ دیوار سے جا ٹکرایا

    الہ آباد میں پائلٹ ٹریننگ کے دوران طیارہ حادثے کا شکار، طالبعلم محفوظ رہا

    بھارت میں الہ آباد کے دھنی پور ایئرپورٹ پر پائینیر فلائنگ اکیڈمی کا ایک تربیتی طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ حکام کے مطابق، یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایک طالبعلم پائلٹ اکیلے پرواز کر رہا تھا۔

    محکمہ شہری ہوا بازی کے ڈائریکٹر ایس ایس اگروال نے بتایا، "دوپہر 3 بج کر 10 منٹ پر پائینیر فلائنگ اکیڈمی کا ایک طیارہ، جو طالبعلم کے زیرِ کنٹرول تھا، ایئرپورٹ کی باونڈری وال سے ٹکرا گیا اور نقصان کا شکار ہوا۔ خوش قسمتی سے طالبعلم محفوظ ہے اور طیارے میں کسی قسم کی آگ نہیں لگی۔”واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔ حکام نے مزید بتایا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور آئندہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • بھارتی اداکار پر خاتون کا زیادتی کا الزام

    بھارتی اداکار پر خاتون کا زیادتی کا الزام

    ایک خاتون نے اداکار اعجاز خان کے خلاف شکایت درج کرائی، جس میں اس پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے اسے فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کا وعدہ کرکے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    پولیس کے ایک افسر کے مطابق، 30 سالہ خاتون نے حال ہی میں ایک شکایت درج کرائی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ اعجاز خان نے مختلف مقامات پر اس کے ساتھ زیادتی کی، یہ وعدہ کرتے ہوئے کہ وہ اسے فلموں میں کام دلائے گا۔چڑکاپ پولیس کے افسر نے مزید بتایا کہ اداکار کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہیتا کے متعلقہ سیکشنز کے تحت زیادتی کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اعجاز خان کا نام ‘ہاؤس ارریسٹ’ نامی ویب شو میں مبینہ طور پر فحش مواد نشر کرنے پر بھی آیا تھا، سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کلپس میں اعجاز خان کو شریکوں پر دباؤ ڈالتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، وہ شرکا سے فحش سوالات بھی پوچھتے ہیں۔تحقیقات کا عمل جاری ہے اور اس معاملے کی مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

  • پہلگام حملے کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد ملبہ کشمیریوں پر پھینکا جارہا ،مشعال ملک

    پہلگام حملے کا بھانڈا پھوٹنے کے بعد ملبہ کشمیریوں پر پھینکا جارہا ،مشعال ملک

    خطے کی کشیدہ صورت حال اور بھارت کی حالیہ اشتعال انگیزیوں کے بعد آزاد کشمیر کو فوری طور پر "وار کونسل” قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ موجودہ حالات میں قومی قیادت فوری اقدامات کرے تاکہ کشمیری عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    مشعال ملک کا کہنا تھا کہ بھارت نے حالیہ دنوں میں پہلگام حملے کے بعد ایک بار پھر فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے جھوٹے الزامات کشمیریوں پر عائد کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس حملے کے تانے بانے بھارتی خفیہ اداروں سے ملتے ہیں، مگر بھارت نے بغیر تحقیق کے الزام کشمیری عوام پر ڈال دیا ہے، جو کہ اقوام متحدہ کے قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔بھارت کی جانب سے دریاؤں کا پانی روکنے اور اس کا رخ موڑنے کی کوششیں کھلم کھلا آبی دہشتگردی کے زمرے میں آتی ہیں۔ پاکستان کو ملنے والے پانی کے حق پر بھارت کی یکطرفہ چیرہ دستی نہ صرف سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں ماحولیاتی بحران کو بھی جنم دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں گھروں کو بارود سے اڑانے اور کشمیریوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔

    مشعال ملک کا مزید کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں، بالخصوص لائن آف کنٹرول کے اطراف میں رہنے والے شہریوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دینا وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت کی صورت میں فوری ردعمل اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ اقدام ناگزیر ہو چکا ہے۔مشعال ملک نے وزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر قوم سے خطاب کریں اور موجودہ صورتحال پر اعتماد میں لیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جنگ کی تلوار ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے، اور کشمیر ایک فلیش پوائنٹ بن چکا ہے”۔ انہوں نے پارلیمنٹ کا جوائنٹ سیشن بلانے اور بھارت کے ساتھ شملہ معاہدہ ختم کرنے کی تجویز بھی دی، تاکہ بھارت کو واضح پیغام دیا جا سکے کہ مزید دھوکہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔مشعال ملک نے اس امر پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھایا جائے، کیونکہ یہ مسئلہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور دوطرفہ معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا اب بین الاقوامی برادری کو اس ضمن میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔

  • بھارت کی ناپاک منصوبہ بندی،اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم،پاکستان بھی تیاروبیدار

    بھارت کی ناپاک منصوبہ بندی،اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم،پاکستان بھی تیاروبیدار

    پہلگام ڈرامے کے بعد بھارت نے پاکستان پر بنا ثبوتوں کے الزامات لگائے ،پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارتی بیانیے کو بے نقاب کیا اور کہا کہ بھارت چاہے تو تحقیقات میں تعاون کےلیے تیار ہیں ،پاکستان نے اس بات کی تردید کی کہ پاکستان پہلگام واقعہ میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں تا ہم بھارت بضد ہے اور مودی سرکار کا جنگی جنون دنیا کے سامنے کھل کر آ رہا ہے، بھارت سرکار اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے ،سیکورٹی خامیوں کو دبانے کے لئے پاکستان پر حملہ کرنا چاہتی ہے لیکن پاکستان بھی تیار و بیدار ہے، کسی بھی بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لیے مسلح افواج الرٹ ہیں اور پاکستان قوم بھی پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے،یہی وجہ ہے کہ بھارت نے دھمکیاں تو دیں لیکن اب تک کوئی کاروائی نہ کر سکا، لیکن اب ایسے لگ رہا ہے کہ بھارت ایک بار کچھ کرنے کی کوشش کرے گا اور اگر کچھ کیا تو پھر اب ابھینندن والی چائے کو بھی بھول جائے گا.اگلے 72 گھنٹے انتہائی اہم ہیں بھارت کی جانب سے کوئی بھی اشتعال انگیزی کی جا سکتی ہے

    با خبر ذرائع کے مطابق حالات تیزی سے کشیدہ ہو رہے ہیں اور مختلف ذرائع سے اطلاعات مل رہی ہیں کہ بھارت خطے میں کسی ناپاک اور خطرناک منصوبے کی تیاری کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بھارت کی جانب سے آنے والے دنوں میں کسی جارحانہ کارروائی کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و امان کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتی ہے۔ بھارت کے فوجی اور حکومتی حلقے ایک نیا جارحانہ منصوبہ بنا رہے ہیں۔مودی نے بھارتی افواج کو مکمل چھوٹ دے رکھی ہے اور بھارت خطے کا امن تہہ و بالا کرنا چاہتا ہے، اس منصوبے کے تحت بھارت کسی بھی وقت کسی اہم سرحدی یا حساس علاقے میں مداخلت کر سکتا ہے، جس سے پورے خطے میں جنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، بھارت کے فوجی اداروں نے اپنے اہم علاقوں میں اضافی فوجی تعینات کر لیے ہیں اور فوجی آپریشنز کی تیاری شروع کر دی ہے۔بھارت نے سرحدی علاقے خالی کروا لئے ہیں، خاص طور پر کشمیر اور لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی فوج کی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ بعض اطلاعات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت کسی بڑی عسکری کارروائی کی تیاری میں ہے جس کا مقصد پاکستان کے خلاف کسی خاص علاقے میں حملہ کرنا یا پھر پاکستان کے دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے۔تاہم پاکستان بھی تیار ہے، پاک فضائیہ الرٹ ہے اور افواج پاکستان کسی بھی بھارتی غلطی کا بھر پور جواب دینے کے لیے بیتاب ہیں.

    موجودہ صورتحال کے پیش نظر، حکومت اور افواج پاکستان نے اپنی تیاریاں مکمل رکھی ہے، کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے اہم سرحدی علاقوں میں اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ انٹیلی جنس ادارے بھی بھارتی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور سرحدی علاقوں میں اپنی سیکیورٹی کو مزید مضبوط کر لیا ہے۔

    بین الاقوامی سطح پر بھی اس معاملے پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ عالمی طاقتوں نے بھارت کو کسی بھی جارحانہ کارروائی سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے اور پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے قیام کی کوششوں کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا ہے تاہم بھارت بضد ہے اور بھارت نے کچھ کیا تو پھر بھارت کے ایک نہیں کئی ٹکڑے ہوں گے.

    یہ ایک نازک وقت ہے، اور ہم سب کو اس وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہے۔ دعا گو ہیں کہ اللہ ہمیں اپنی حفاظت میں رکھے اور اس مشکل وقت سے نکالے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر قسم کی پریشانیوں سے محفوظ رکھے، اور امن و سکون کے قیام میں ہماری مدد کرے۔اگر کشیدگی ہوتی ہے تو ایسے میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے حکومتی ہدایات پر عمل کریں۔اپنے خاندان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور انہیں حالات کی سنگینی سے آگاہ کریں۔ یہ وقت ہم سب کے لیے بہت اہم ہے، اور ہمیں اللہ کی مدد کی ضرورت ہے۔پاکستان کا بچہ بچہ وطن عزیز کے دفاع کے لئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہو گا، ہم سب کو اپنی حفاظت کے لیے تیار رہنا ہوگا اور امن کے قیام کے لیے دعا گو رہنا ہوگا۔ اللہ ہمیں اپنی حفاظت میں رکھے، آمین۔