Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں،آرمی چیف

    ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں،آرمی چیف

    پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریب میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، غیر ملکی سفارت کاروں، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو تقریب میں آمد پر سلامی پیش کی گئی

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کیلئے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اِس کا دفاع کرنا جانتے ہیں، بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا اپنے روایتی جھوٹے پروپیگنڈے سے تاریخ کو مسخ نہیں کر سکتا،دو قومی نظریہ ہمیشہ سے پاکستان کے وجود کی بنیاد رہا ہے،دو قومی نظریہ میں کسی بھی پاکستانی کو رتی برابر بھی شک نہیں،مسلمان زندگی کے تمام پہلوؤں میں ہندوؤں سے مختلف ہیں،قائداعظم نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ کیسے اکٹھے ہو سکتے ہیں،ہمارے آباؤ اجداد نے پاکستان کی تخلیق کی خاطر بے پناہ قربانیاں دیں، ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں

  • پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو بھرپور طاقت سے جواب ملے گا،وزیراعظم

    پانی روکنے کی کوشش ہوئی تو بھرپور طاقت سے جواب ملے گا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے پانی کو روکنے’ کم کرنے یا بہاؤ تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا

    پاکستان ملٹری اکیڈمی (پی ایم اے) کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریب میں وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ، غیر ملکی سفارت کاروں، اعلیٰ سول و عسکری حکام نے بھی شرکت کی،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو تقریب میں آمد پر سلامی پیش کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پریڈ کا معائنہ کیا اور کیڈٹس کے حوصلے اور پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا،اس موقع پر پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس نے ملک سے وفاداری اور آئین کی پاسداری کا حلف اٹھایا۔ 13 غیر ملکی کیڈٹس جن کا تعلق بنگلہ دیش، عراق، نیپال اور قطر سے تھا، بھی پاس آؤٹ ہونے والوں میں شامل تھے،تقریب کے دوران بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ انڈر آفیسر زین العابدین کو صدارتی طلائی تمغے سے نوازا گیا، جبکہ انڈر آفیسر محمد حنان ملک نے اعزازی شمشیر حاصل کی،لیڈی کیڈٹ لائبہ رحمان کو بھی ان کی شاندار کارکردگی پر اعزاز سے نوازا گیا۔ انڈر آفیسر محمد طلحہ ایاز نے کمانڈنٹ کی اعزازی چھڑی اپنے نام کی.

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے ہر طرح کی دہشت گردی کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناطے پہلگام واقعہ کی ’’کسی بھی غیر جانبدارانہ، شفاف اور قابل اعتماد تحقیقات‘‘ میں شرکت کے لیے تیار ہے، پانی ہمارے عوام کے لیے لائف لائن ہے، پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے ملک کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مشرقی سرحد پر ہمارے پڑوسی نے پہلگام کے حالیہ سانحہ میں قابل بھروسہ تحقیقات یا قابل تصدیق شواہد کے بغیر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگانے کا اپنا رویہ جاری رکھا ہے جو اس کی دائمی الزام تراشی کی ایک اور مثال ہے، جس کو روکنا ضروری ہے۔سندھ طاس معاہدہ کو معطل کرنے کے بھارت کے اعلان کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے اور ہمارے 240 ملین عوام کے لیے لائف لائن بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی کی دستیابی کو ہر قیمت اور حالات پر محفوظ رکھا جائے گا، سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے، کم کرنے اور اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا اور اس حوالہ سے کسی کو بھی کسی قسم کے غلط تاثر اور الجھن میں نہیں رہنا چاہیے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف ملک کی سالمیت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح سے اہل اور تیار ہیں جس کا واضح ثبوت فروری 2019 میں بھارتی دراندازی پر اس کے پرعزم ردعمل سے ہوتا ہے، اس لیے کسی کو بھی اس حوالہ سے کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ 240 ملین عوام کی پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے ساتھ اور متحد ہے اور اپنی مادر وطن کے ایک ایک انچ کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ یہ پیغام سب کے لیے واضح ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم اپنے پیارے پاکستان کے وقار اور سلامتی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن اور سلامتی کے لیے عالمی سطح پر ذمہ دارانہ اور تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے اپنا غیر متزلزل عزم جاری رکھے گا کیونکہ ہم نسل انسانی کے اتحاد پر یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بجا طور پر کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے باوجود حل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری اپنی جدوجہد میں کامیاب نہیں ہو جاتے اس وقت تک پاکستان کشمیریوں کے حق خودارادیت کیلئے جاری جدوجہد اور عظیم قربانیوں کی حمایت جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہماری دلی خواہش ہے کہ مستقبل میں ان کے ساتھ پرامن رہیں لیکن بدقسمتی سے ہماری مخلصانہ کوششوں کے باوجود افغان سرزمین سے دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نائب وزیراعظم نے حال ہی میں کابل کا دورہ کیا ہے اور برادر اور ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کے لیے اپنی کوششوں کا اشتراک کیا ہے تاہم انہوں نے عبوری افغان حکومت کو ایک واضح پیغام بھی دیا کہ ہم کابل کے ساتھ پرامن ہمسایہ تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس وقت تک ایسا ممکن نہیں ہو سکتا جب تک کہ فتنہ الخوارج پاکستان میں بے گناہ لوگوں کو مارنے کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہا ہو۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں اپنی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں اور سکھوں کے خلاف منظم طریقے سے باقاعدہ مہم چلانے کا سلسلہ گزشتہ برسوں میں زیادہ وسیع ہو گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کو اپنی مظلوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت پوری ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دوسری طرف پاکستان نے ہمیشہ دہشت گردی کی ہر شکل میں مذمت کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’دہشت گردی کے خلاف دنیا کی فرنٹ لائن ریاست کے طور پر پاکستان نے 90 ہزار انسانی جانی نقصان اور 600 بلین ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ اس درد کو ہم پاکستانیوں سے بہتر کون سمجھ سکتا ہے جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان سے زیادہ کس ملک کو دہشت گردی سے اتنا بھاری نقصان ہوا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا عزم مستحکم ہے اور ہم کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو کسی بھی رنگ میں برداشت نہیں کریں گے اور ہم نے ہمیشہ اس کا ثبوت بھی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی جمود کے دور کے بعد پاکستان معاشی بحالی کی جانب جرات مندانہ پیش قدمی کر رہا ہے اگرچہ یہ چیلنجز سے بھرا ایک طویل سفر ہے لیکن آپ کی دعاؤں اور اللہ تعالی کی مدد سے ہم پرعزم جذبے کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے اقدامات اہم سنگ میل عبور کر رہے ہیں اور کان کنی، زراعت، لائیو سٹاک، آئی ٹی اور دفاعی پیداوار جیسے اہم شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر رہے ہیں۔

    وزیر اعظم نے مزید کہا کہ سفارتی محاذ پر بھی ہم نے عالمی سطح پر رسائی کے فروغ کے لیے نئے تعلقات استوار کرتے ہوئے پرانی اور آزمودہ دوستی کو پھر سے تقویت دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 26-2025 کی مدت کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کے طور پر پاکستان عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو برقرار رکھنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے ہمیشہ مختلف مواقع اور پلیٹ فارمز پر فلسطین کے معصوم لوگوں کے لیے آواز بلند کی اور فلسطین کے آزاد اور خود مختار ریاست کے مطالبے کو اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں میں تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کیڈٹس کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بہادری، نظم و ضبط اور قوم کے لیے غیر متزلزل عزم کے لیے مشہور دنیا کی بہترین افواج میں شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے برادر ممالک کے کیڈٹس کو کورسز کی تکمیل پر مبارکباد بھی پیش کی اور کہا کہ یہ ہماری صدیوں پرانی روایت ہے کہ ہم مہمانوں کا اپنے خاندان کے ایک حصہ کے طور پر ہمیشہ کھلے بازوؤں سے استقبال کرتے رہیں گے۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار بھی کیا کہ ہم خود کو عظیم قائد کے وژن اور ان کے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں کے محافظوں میں تبدیل کریں گے۔

    قبل ازیں وزیراعظم نے پریڈ کا معائنہ کیا اور بہترین کیڈٹس میں انعامات بھی تقسیم کئے۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر، عسکری قیادت، سفارتی کور کے ارکان اور کیڈٹس کے والدین نے بھی شرکت کی۔

  • پہلگام ڈرامہ، مودی یاد رکھے،حقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،سحرکامران

    پہلگام ڈرامہ، مودی یاد رکھے،حقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،سحرکامران

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما، خارجہ امور کی ماہر، رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلگام حملے کی آڑ میں دنیا کو گمراہ کرنے کی ایک اور ’’فالس فلیگ‘‘ سازش بے نقاب ہو چکی ہے۔ مودی حکومت کو اپنی سیکیورٹی کی ناکامیوں کا جواب دینا ہوگا،

    سحر کامران نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’گجرات سے لے کر کشمیر تک قتل عام، مودی اور بی جے پی کے ہندوتوا انتہاپسند نظریے کو بے نقاب کرتا ہے۔ را کے خفیہ قاتل گروہ اب کینیڈا اور امریکہ میں بھی بے نقاب ہو چکے ہیں، جو بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔‘‘انہوں نے عالمی برادری کو متنبہ کیا کہ بھارت کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں، خصوصاً انڈس واٹر ٹریٹی کو خطرے میں ڈالنے کی کوششوں، سے خطے میں معاشی اور سفارتی بحران جنم لے سکتا ہے۔

    سحر کامران نے پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا’’پاکستان نے ٹھوس اور دوٹوک اقدام کرتے ہوئے بھارت سے واہگہ بارڈر بند کر دیا، فضائی حدود معطل کی، اور تجارتی روابط منقطع کیے۔ یہ بھارت کو واضح پیغام ہے کہ جھوٹ اب زیادہ دیر نہیں چھپ سکتے۔‘‘انہوں نے بھارت کو یاد دلایا’’تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو، ہمیں یاد ہے سب ذرا ذرا ،بالا کوٹ، ابھی نندن، اور تمہاری جھوٹی فتح کے دعوے۔ حقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے!‘‘

    سحر کامران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی شدت پسند پالیسیوں، خطے میں جھوٹ پر مبنی فالس فلیگ آپریشنز، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموش تماشائی نہ بنے۔’’پاکستان کا مؤقف ہمیشہ امن، انصاف، اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی رہا ہے۔ بھارت کے جھوٹ اب دنیا سے نہیں چھپ سکتے۔‘‘

  • سکھر جیل روڈ پر پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ

    سکھر جیل روڈ پر پیپلز پارٹی کے نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ

    سکھر جیل روڈ کے مقام پر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نثار کھوڑو کی گاڑی پر پتھراؤ کیا گیا۔ اس واقعے میں گاڑی کے پچھلے حصے کا شیشہ ٹوٹ گیا۔

    ترجمان پیپلز پارٹی سندھ کے مطابق، حملہ اس وقت کیا گیا جب نثار کھوڑو کی گاڑی میں صوبائی جنرل سیکریٹری وقار مہدی اور سکھر ضلع کے جنرل سیکریٹری ویرم مہر بھی موجود تھے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور تمام رہنما محفوظ رہے۔ یہ حملہ ایک غیر متوقع واقعہ تھا جس کی فوراً مذمت کی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے رہنماؤں نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی،اس واقعے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا ہے کہ وہ اس قسم کی ہراسانی اور تشویش پھیلانے والی کارروائیوں کو برداشت نہیں کریں گے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ان کے عزم اور حوصلے کو توڑنا ہے، لیکن وہ کسی بھی طور پر اپنے عوامی مفاد کے کاموں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے حملوں سے بچا جا سکے۔

  • پاکستان میں گرفتار بھارتی بی ایس ایف اہلکارکے اہلخانہ کی دہائی

    پاکستان میں گرفتار بھارتی بی ایس ایف اہلکارکے اہلخانہ کی دہائی

    بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس (بی ایس ایف) کے جوان پورنم ساہو کے پاکستان رینجرز کی حراست میں ہونے کی خبر سامنے آنے کے بعد ان کے مغربی بنگال کے ریسڑا علاقے میں واقع گھر پر اہل خانہ کی حالت غیر ہے۔ گھر والوں کی آنکھوں سے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں اور وہ ہر لمحہ اپنے بیٹے کی واپسی کے لیے دعا گو ہیں۔

    پورنم ساہو کے والد بھولاناتھ ساہو نے روتے ہوئے کہا کہ "میرا بیٹا ملک کی خدمت کر رہا تھا اور اب ہمیں یہ بھی نہیں پتا کہ وہ محفوظ ہے یا نہیں۔ ہمیں اطلاع ملی ہے کہ وہ پاکستان کی حراست میں ہے۔” پورنم کے دوست اور پڑوسی ان کے گھر آ کر ان کی ہمت بڑھا رہے ہیں، جبکہ گھر والے پوچھ رہے ہیں، "میں بس یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا بیٹا کہاں ہے؟ کیا وہ محفوظ ہے؟ کیا وہ ٹھیک ہے؟”پنجاب کے فیروز پور سیکٹر میں بی ایس ایف کی 182ویں بٹالین میں تعینات پورنم ساہو، جو وردی میں ملبوس تھے اور ان کے پاس سروس رائفل بھی تھی، بدھ کے روز پاکستان کی سرحد پار کر گئے تھے۔ بی ایس ایف افسران کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پورنم ساہو سرحد کے قریب کسانوں کے گروپ کی حفاظت کے لیے وہاں موجود تھے۔ وہ ایک درخت کے نیچے آرام کرنے گئے اور غلطی سے پاکستانی علاقے میں داخل ہو گئے، جہاں پاکستان رینجرز نے انہیں حراست میں لے لیا۔

    بی ایس ایف افسران نے جمعرات کی رات اس بات کی تصدیق کی کہ پورنم ساہو کی رہائی کے لیے ہندوستانی اور پاکستانی سرحدی فورسز کے درمیان فلیگ میٹنگ ہو چکی ہے، مگر ابھی تک اس معاملے میں اہل خانہ کو کوئی نئی اطلاع نہیں ملی۔ بھولا ناتھ نے تھرتھراتی آواز میں کہا، "میرا بیٹا تین ہفتے پہلے چھٹی سے واپس آیا تھا، اور اب وہ دوبارہ چلا گیا ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ آگے کیا ہوگا، وہ کب واپس آئے گا۔”

    پورنم ساہو کی بیوی رجنی نے بتایا کہ وہ بدھ کی رات 8 بجے اپنے شوہر سے آخری بار بات کر پائی تھیں، جب انہوں نے انہیں فون کیا تھا۔ رجنی نے بتایا کہ "اس کے بعد سے ہم سو نہیں پائے ہیں، ہم بس انہیں واپس چاہتے ہیں۔” پورنم کے ایک دوست نے انہیں اس واقعے کی اطلاع دی تھی، جس کے بعد پورنم کے والد نے فون کرنے کی کوشش کی تھی مگر کوئی جواب نہیں آیا۔ رجنی نے حکومت سے ایک ہی گزارش کی، "ہماری حکومت سے بس یہی درخواست ہے کہ انہیں ہمارے پاس واپس لے آئیں، چاہے جو بھی کرنا پڑے، بس انہیں واپس لے آئیں۔”

  • بھانجوں کے ہاتھوں ماموں قتل ،ایک ملزم گرفتار

    بھانجوں کے ہاتھوں ماموں قتل ،ایک ملزم گرفتار

    لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں بھانجوں کے ہاتھوں ماموں کے قتل کے کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کی ہے۔ نواب ٹاؤن پولیس نے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں ایک مفرور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے اس واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ترجمان کے مطابق، ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایت پر ملزمان کی گرفتاری کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی، جس نے آپریشن کے دوران ملزم احتشام کو گرفتار کر لیا۔ترجمان کے مطابق، ملزمان احتشام اور گلشام گزشتہ روز اس واقعہ کے بعد فرار ہو گئے تھے۔ ان کے خلاف مقدمہ 2484/25 گزشتہ روز ہی درج کر لیا گیا تھا۔ پولیس نے ملزم گلشام کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کی ہدایات کے تحت پولیس نے اس کیس میں انتہائی تیزی سے کارروائی کی ہے اور مزید پیشرفت کی توقع کی جا رہی ہے۔ملزم احتشام کی گرفتاری کے بعد پولیس گلشام کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے مختلف جگہوں پر چھاپے مار رہی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ بھی جلد قانون کے شکنجے میں ہوگا۔

  • بھارت،شادی سے واپس آنیوالی 4خواتین کے ساتھ 7 افراد کی اجتماعی زیادتی

    بھارت،شادی سے واپس آنیوالی 4خواتین کے ساتھ 7 افراد کی اجتماعی زیادتی

    بھارت میں خواتین غیر محفوظ ہو گئیں، مدھیہ پردیش میں‌شادی سے واپس آنے والی تین لڑکیوں اور ایک خاتون کے ساتھ جنگل میں زیادتی کی گئی ہے، سات ملزمان نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا

    بالا گھاٹ ضلع کے ایک جنگل میں سات ملزمان نے شادی سے واپس آنے والی تین لڑکیوں اور ایک خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنایا۔پولیس کے مطابق، 15، 16 اور 17 سال کی تین قبائلی لڑکیاں اور 21 سالہ خاتون ایک مرد کے ساتھ رات 1 بجے سے 2 بجے کے درمیان اپنے گاؤں واپس جا رہی تھیں جب موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان نے انہیں گھیر لیا۔متاثرین نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن انہیں جنگل میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔

    بالا گھاٹ کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ناگیندر سنگھ نے بتایا کہ "لڑکیوں کے ساتھ موجود شخص کو دھمکایا گیا اور بھگا دیا گیا۔ ہم نے چھ بالغ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور نابالغ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تمام گرفتاریاں اطلاع موصول ہونے کے چھ گھنٹے کے اندر عمل میں لائی گئیں۔پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا، پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنسز (POCSO) ایکٹ اور SC/ST ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔کچھ متاثرین کو علاج کے لیے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

    یہ واقعہ مدھیہ پردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کی سنگین صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار تو کر لیا ہے، تاہم اس واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور علاقے میں امن و امان کی بحالی اب پولیس اور انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

  • برازیلی ماڈل نے مردوں سے بچنے کے لئے شادی کی جعلی انگوٹھی پہن لی

    برازیلی ماڈل نے مردوں سے بچنے کے لئے شادی کی جعلی انگوٹھی پہن لی

    میں اتنی پرکشش ہوں کہ مجھے عوام میں جعلی شادی کی انگوٹھی پہننی پڑتی ہے، تاکہ مردوں کی فلیرٹنگ سے بچ سکوں”برازیل کی خوبصورت ماڈل اور انفلوئنسر جو ایسین نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں مردوں کی طرف سے مسلسل توجہ ملتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں عوامی مقامات پر ایک جعلی شادی کی انگوٹھی پہننی پڑتی ہے تاکہ وہ فلیرٹنگ سے بچ سکیں۔

    جو ایسین، جو کہ 2.6 ملین انسٹاگرام فالوورز کی حامل ہیں، نے بتایا کہ مرد انہیں ہر جگہ، جیسے کہ جِم، سپرمارکیٹ، فارمیسی اور حتٰی کہ سوئمنگ پول میں بھی اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اس بات سے تھک چکی تھیں کہ انہیں بار بار مردوں کی جانب سے توجہ ملتی تھی، چاہے وہ واضح طور پر ان میں دلچسپی نہ رکھتی ہوں۔جو ایسین نے نیڈ ٹو ناؤ کو بتایا، "مجھے مسلسل اپروچز سے تنگ آ چکی تھی – یہ لگاتار تھا، چاہے میں بالکل بھی دلچسپی نہ رکھتی تھی۔” اس نے اپنی انگلی پر ایک سادہ سی انگوٹھی پہننے کا فیصلہ کیا، اور جیسے ہی اس نے یہ انگوٹھی پہنی، اس کا اثر فوراً نظر آیا۔ایسی انگوٹھی جو اس کی انگلی پر تھی، مردوں کو یہ پیغام دیتی تھی کہ وہ دستیاب نہیں ہیں۔ ایسین نے کہا، "چاہے یہ حقیقت میں شادی کی انگوٹھی نہ ہو، لیکن یہ ایک قسم کی روک تھام ہے، جو مردوں کو اس بات سے روک دیتی ہے کہ وہ آ کر بات کریں۔” اس نے مزید کہا کہ جب سے اس نے انگوٹھی پہننی شروع کی ہے، مردوں نے اسے مختلف انداز میں دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اب وہ کچھ کہنے سے پہلے دو بار سوچتے ہیں۔”یہ اس طرح سے میرے ساتھ سلوک کرنے کے انداز کو بدل دیتا ہے، خاص طور پر جِم یا بار جیسے مقامات پر،” ۔

    ایسین نے ایک تجربہ بھی شیئر کیا جب وہ ایک فارمیسی میں تھیں اور ایک شخص نے ان سے بات چیت شروع کی تھی، مگر جیسے ہی اس نے انگوٹھی دیکھی، اس کا رویہ بدل گیا۔ "اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں شادی شدہ ہوں، میں نے صرف مسکرا کر جواب دیا، اور اس نے کہا، ‘سمجھ گیا، معاف کرنا،’ اور چلا گیا۔” ایسین نے کہا کہ یہ بہت عزت اور احترام کے ساتھ کیا گیا اور اس کے بعد اس کو سکون مل گیا۔

    ماڈل اور انفلوئنسر نے یہ بھی کہا کہ اس نے 23 سال کی عمر میں پہلی بار یہ انگوٹھی پہننا شروع کی تھی اور اب یہ اس کی روزمرہ کی عادت بن چکی ہے۔ "یہ کسی کو دھوکہ دینے کے بارے میں نہیں ہے، یہ حدود قائم کرنے کا ایک خاموش طریقہ ہے،” ایسین نے کہا۔ "اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اب بھی کام کرتا ہے۔”

    اگرچہ اس نے کچھ سال پہلے انگوٹھی پہننا چھوڑ دی تھی، لیکن اس نے محسوس کیا کہ مردوں کی طرف سے توجہ پہلے کی طرح رہی۔ اس کا خیال ہے کہ اس کی وجہ ڈیٹنگ ایپس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔”آج کل مردوں میں وہ خود اعتمادی نہیں رہی جو پہلے تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ بے پرواہ ہیں،” ایسین نے کہا۔ "وہ بری پِک اپ لائنز جو مجھے پہلے تنگ کر دیتی تھیں، اب کم ہی سنی جاتی ہیں۔”ایسین نے یہ بھی کہا کہ "ٹیکنالوجی نے فلیرٹنگ کو مار ڈالا ہے۔” اس نے مزید کہا، "آج کل ہر کوئی بس ڈیٹنگ ایپ پر میچ ہونے کا انتظار کرتا ہے، کوئی آنکھوں سے رابطہ نہیں کرتا، اور کوئی قدرتی طور پر آ کر بات نہیں کرتا۔ اس سے رشتہ غیر حقیقت پسندانہ اور مشینی محسوس ہونے لگتے ہیں۔”

    اس کے باوجود، ایسین نے کہا کہ وہ اب بھی انگوٹھی پہننا جاری رکھتی ہے تاکہ وہ مردوں کی فلیرٹنگ سے بچ سکے اور اسے یہ توجہ پسند نہیں۔ "کم از کم اس قسم کی توجہ نہیں،” اس نے وضاحت کی۔ "میں سکون کو ترجیح دیتی ہوں، اگر کوئی مرد واقعی دلچسپی رکھتا ہے، تو اسے واضح طور پر آگے بڑھنا پڑے گا۔ اور اگر میں بھی دلچسپی رکھتی ہوں، تو میں بس بتا دوں گی کہ میں حقیقت میں شادی شدہ نہیں ہوں۔”اس طرح انگوٹھی اب صرف ایک زیور نہیں رہی، بلکہ یہ ایک فلٹر کی طرح کام کرتی ہے جو اس کی زندگی میں بے جا توجہ کو روک دیتی ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھارتی اپوزیشن مودی سرکار پر برس پڑی

    سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے پر بھارتی اپوزیشن مودی سرکار پر برس پڑی

    پہلگام ڈرامے پر بھارتی اپوزیشن نے آل پارٹی اجلاس کے دوران مودی سرکار سے سخت سوالات کیے ہیں، یہ اجلاس وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ کی زیرصدارت منعقد ہوا،

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کےبیشتر سوالات پہلگام کے قریب بیساران علاقے میں سیکورٹی فورسز کی عدم موجودگی پر مرکوز تھے جہاں حملہ ہوا۔ یہ سوال باقاعدہ طور پر کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اٹھایا، اور دیگر رہنماؤں بشمول راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملک ارجن کھڑگے اور عام آدمی پارٹی کے ایم پی سنجے سنگھ نے بھی اس پر سوالات اٹھائے۔اپوزیشن نے سوال کیا کہ حملے کے مقام پر سیکورٹی فورسز کیوں تعینات نہیں کی گئی تھیں؟ دوسرا سوال جو اپوزیشن نے اٹھایا وہ یہ تھا کہ اگر بھارت کے پاس پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو سندھ طاس معاہدہ کیوں معطل کیا گیا؟ حکومت کے حکام نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم فوری نتائج کے بارے میں نہیں تھا بلکہ ایک علامتی اور اسٹریٹجک پیغام تھا۔”اس معاہدے کو معطل کرنا حکومت کے سخت اقدامات کرنے کے ارادے کو ظاہر کرنے کے لیے تھا۔ اس کا مقصد ایک مضبوط پیغام دینا تھا۔ یہ فیصلہ حکومت کے مستقبل کے موقف کو ظاہر کرتا ہے,

    وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اجلاس کا آغاز موجودہ سیکورٹی صورتحال کے جائزے کے ساتھ کیا۔ انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر تپن ڈیکا نے ایک 20 منٹ کی پریزنٹیشن دی جس میں پہلگام حملے کے سلسلے، انٹیلی جنس کی معلومات، اور اس واقعے کے بعد کیے گئے اقدامات کو شامل کیا۔اجلاس میں مختلف سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔ ان میں ملک ارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کے علاوہ بی جے پی کے صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف جے پی نڈا، این سی پی کے سپریا سولے اور پرفل پٹیل، بی جے ڈی کے ساشمت پاترا، شیو سینا کے شری کانت شنڈے، آر جے ڈی کے پریم چند گپتا، ڈی ایم کے کے تروچی شیوا، اور ایس پی کے رام گوپال یادو شامل تھے۔

  • پہلگام ڈرامہ،ہر بات کا کریڈٹ لینے والے مودی استعفیٰ دیں گے؟کانگریس

    پہلگام ڈرامہ،ہر بات کا کریڈٹ لینے والے مودی استعفیٰ دیں گے؟کانگریس

    جموں و کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں گزشتہ منگل کو ہونے والے حملے کے بعدبھارت میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے اور متعدد دیگر زخمی ہوئے جن کا علاج مختلف اسپتالوں میں جاری ہے۔ ا

    پہلگام حملے کے تناظر میں مرکزی حکومت نے کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی جس میں کانگریس سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کرنے کا اعلان کیا۔ اس میٹنگ میں تمام سیاسی جماعتوں نے یکجہتی کا اظہار کیاتھا،کل جماعتی میٹنگ کے ایک دن بعد، کانگریس نے مودی حکومت سے کچھ بڑے سوالات کیے ہیں۔ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اور ویڈیو کی شکل میں یہ سوالات اٹھائے ہیں۔ ویڈیو میں کہا گیا ہے کہ پہلگام میں ہونے والے حملے نے پورے ملک کو غمزدہ کر دیا ہے، لیکن عوام میں کچھ اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں جن کا جواب حکومت سے مانگا جا رہا ہے۔

    کانگریس کے سوالات میں یہ شامل ہیں،
    کشمیر میں لگاتار حملے ہو رہے سیکورٹی میں چوک کیسے ہوئی؟
    انٹلی جنس ناکامی کیوں ہوئی؟
    عسکریت پسند سرحد کے اندر کس طرح آئے؟
    28 افراد کی موت کا ذمہ دار کون ہے؟
    کیا وزیر داخلہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں گے؟
    کیا وزیراعظم مودی اس واقعہ کی ذمہ داری لیں گے؟

    کانگریس نے ویڈیو میں مزید کہا کہ سوال یہ ہے کہ اس حملے کے بعد ایسے حالات کیسے پیدا ہوئے؟ کانگریس نے اس بات کا بھی سوال اٹھایا کہ کیا وزیر داخلہ اپنی ناکامی کو تسلیم کرتے ہوئے استعفیٰ دیں گے، یا وزیراعظم مودی جیسے ہر معاملے میں کریڈٹ لیتے ہیں، ویسا ہی اس حملے کی ذمہ داری بھی لیں گے، یا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ذمہ داری سے بچ جائیں گے؟