Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت،درجنوں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ویڈیو بنانے والا گینگ گرفتار

    بھارت،درجنوں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر ویڈیو بنانے والا گینگ گرفتار

    بھوپال میں خواتین کالج طلبہ کے ساتھ جنسی زیادتی، ان کی ویڈیوز بنانا، زبردستی نشہ آور اشیاء کا استعمال کرانا، بلیک میلنگ اور مذہب تبدیلی کی کوشش جیسے لرزہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ یہ کیس حیران کن حد تک 1992 کے مشہور اجمیر جنسی اسکینڈل سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں تقریباً 100 اسکول کی طالبات متاثر ہوئی تھیں اور کئی خاندان اجڑ گئے تھے۔

    بھوپال جنسی زیادتی کیس کیا ہے؟
    تحقیقات کے مطابق، اس بھیانک واقعے میں ملوث افراد کا تعلق ایک منظم گینگ سے ہے جس کی قیادت فرحان خان کر رہا تھا۔ یہ گینگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کالج طالبات کو نشانہ بناتا تھا۔ کیس کا انکشاف اس وقت ہوا جب دو بہنوں، جو بھوپال کے ایک کالج میں بی ٹیک کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں، نے پولیس کو اپنی دل دہلا دینے والی کہانی سنائی۔بیان کے مطابق، بڑی بہن کو 2022 میں جہانگیرآباد کے ایک مکان میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ چھوٹی بہن کو دھمکیوں کے ذریعے جنسی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں بہنوں پر شادی کے لیے دباؤ ڈالا گیا، اور انکار پر بدنام کرنے کی دھمکیاں دی گئیں۔مزید تفتیش سے پتا چلا کہ فرحان نے چھوٹی بہن کا تعارف اپنے ساتھی عدیل خان سے کرایا، جس نے پہلے اسے ہراساں کیا اور پھر زیادتی کی۔ اس دوران واقعات کی ویڈیوز بنا کر متاثرہ لڑکی کو بار بار بلیک میل اور زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا، اور اکثر اسے زبردستی نشہ آور اشیاء دی جاتیں تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکے۔فرحان کے موبائل فون سے پولیس کو متعدد فحش ویڈیوز برآمد ہوئیں، جن میں متاثرہ بہنوں کی ویڈیوز بھی شامل تھیں۔ ویڈیوز میں ایک متاثرہ کو سگریٹ سے جلانے جیسے بھیانک مناظر بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق، فرحان نے اپنے موبائل میں مخصوص فولڈرز میں یہ ویڈیوز ترتیب دے کر رکھی تھیں،بعض متاثرہ لڑکیوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ انہیں اسلحہ کے زور پر چلتی گاڑیوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں زبردستی نشہ آور اشیاء دے کر مدہوش کر دیا جاتا تھا۔

    فرحان کے علاوہ ایک اور مرکزی ملزم، ساحل خان، مدھیہ پردیش کے ضلع پنّا کا رہائشی ہے، جو بھوپال میں ڈانس کلاسز چلاتا تھا۔ ساحل نے دیہی علاقوں سے تعلیم حاصل کرنے آئی غریب لڑکیوں کو نشانہ بنایا۔ وہ انہیں لاؤنجز اور پبز لے جاتا اور پھر ایک کرائے کے کمرے میں لے جا کر ان کے مشروبات میں نشہ آور مواد ملا کر زیادتی کرتا اور خفیہ طور پر ویڈیوز بناتا تھا۔ ان ویڈیوز کے ذریعے متاثرہ لڑکیوں کو بلیک میل کر کے بار بار جنسی استحصال کیا جاتا تھا۔ کبھی کبھار فرحان بھی ان جرائم میں شامل ہوتا تھا۔ساحل کے موبائل فون سے براہ راست کوئی فحش ویڈیو نہیں ملی، تاہم اسے فارنزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔دیگر ملزمان میں علی خان، جو ایک اور کالج طالبہ کے ساتھ زیادتی میں ملوث ہے، مکینک سعد، جو لڑکیوں کو 500 سے 700 روپے کے عوض لے جایا کرتا تھا، اور ابرار اور نبیل شامل ہیں۔

    اب تک پولیس نے تین الگ الگ ایف آئی آرز درج کی ہیں، جن میں ریپ، اغواء، مذہبی آزادی ایکٹ اور پاکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، دورانِ تفتیش فرحان نے اپنے اعمال پر کسی قسم کی ندامت کا اظہار نہیں کیا۔پولیس کو شبہ ہے کہ بھوپال کے علاوہ اس گینگ نے اندور میں بھی خواتین کو نشانہ بنایا ہے۔ فرحان، ساحل اور سعد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ علی، ابرار اور نبیل فرار ہیں۔

    1992 کا اجمیر اسکینڈل کیا تھا؟
    1992 میں راجستھان کے شہر اجمیر میں ایک بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس میں اجمیر شریف درگاہ سے وابستہ بااثر شخصیات، فاروق اور نفیس چشتی سمیت کئی افراد ملوث پائے گئے تھے۔ ایک مقامی فوٹو لیب کے ذریعے اسکول کی طالبات کی برہنہ تصاویر چھاپ کر انہیں بلیک میل کیا گیا تھا۔اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد اجمیر میں شدید مذہبی کشیدگی پھیل گئی تھی اور شہر میں مکمل ہڑتال ہو گئی تھی۔ متاثرین کو گزشتہ 30 سالوں سے عدالتی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے ان کے زخم کبھی بھر نہ سکے۔32 سال بعد، 2024 میں، ایک پاکسو عدالت نے چھ مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی، جبکہ نو دیگر افراد پہلے ہی عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ اس کیس پر 2023 میں ایک ہندی فلم "اجمیر 92” بھی بنائی گئی تھی۔

  • بھارت،رکشہ ڈرائیور نے دوستوں کے ساتھ ملکر 20 سالہ لڑکی کی عزت لوٹ لی

    بھارت،رکشہ ڈرائیور نے دوستوں کے ساتھ ملکر 20 سالہ لڑکی کی عزت لوٹ لی

    بھارت میں اوڈیشہ کے جاجپور قصبے میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک خاتون کو مبینہ طور پر ایک آٹو رکشہ ڈرائیور نے اغواء کیا، اس کے بعد اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر قاتلانہ حملے میں اسے چاقو کے متعدد وار کر کے نیم مردہ حالت میں چھوڑ دیا گیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ 22 اپریل کی رات پیش آیا تھا، لیکن خاتون کی حالت بہتر ہونے پر اتوار کے روز اس نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی۔متاثرہ خاتون، جس کی عمر بیس برس ہےکام سے واپسی پر ایک آٹو رکشہ میں سوار ہوئی تھی۔ تاہم، ڈرائیور نے اسے گھر پہنچانے کے بجائے شہر کے نواحی علاقے میں ایک سنسان مقام پر لے جایا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق، آٹو رکشہ میں پہلے سے دو افراد موجود تھے اور سنسان مقام پر مزید تین نشے میں دھت افراد ان کا انتظار کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق، ملزمان نے خاتون کے دوپٹے سے اس کے ہاتھ باندھ دیے اور اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں، انہوں نے چاقو سے اس پر متعدد حملے کیے اور اسے خون میں لت پت حالت میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔خاتون نے اپنی آخری ہمت جمع کر کے ایک راہگیر سے مدد طلب کی، جس نے فوری طور پر اس کے اہل خانہ کو اطلاع دی۔ متاثرہ خاتون کو شدید زخمی حالت میں جاجپور ضلع ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی کمر، ہاتھوں اور ہتھیلی پر گہرے زخم پائے گئے۔

    پولیس نے واقعہ کی ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جاجپور ٹاؤن پولیس اسٹیشن کے انچارج انسپکٹر سرت چندر پاترا کا کہنا ہے کہ "ہم ملزمان کی گرفتاری کے لیے پوری تندہی سے کام کر رہے ہیں اور جلد ہی تمام مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”اس واقعے نے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے، اور لوگ انصاف کے فوری تقاضے کر رہے ہیں۔

  • پہلگام فالس فلیگ حملہ، بھارت کے اندر سے بھی سچ سامنے آنے لگا

    پہلگام فالس فلیگ حملہ، بھارت کے اندر سے بھی سچ سامنے آنے لگا

    پہلگام میں پیش آنے والے مبینہ فالس فلیگ حملے کے بعد بھارت کے اندر سے مسلسل ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو حکومت کے دعوؤں پر سوالیہ نشان لگا رہی ہیں۔ سابق رکن پارلیمنٹ اور ممتاز سکھ رہنما، سمرنجیت سنگھ مان نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ بھارت کے پاس پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔

    سمرنجیت سنگھ مان نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملے میں سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی مکمل ناکامی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی حملہ پاکستان یا کسی بیرونی قوت کا کارنامہ تھا تو بھارتی سیکیورٹی ادارے بروقت کارروائی کرنے میں کیوں ناکام رہے؟انہوں نے مزید کہا کہ بھارت خود معصوم نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتی ایجنسیوں نے کینیڈا میں تین سکھ رہنماؤں کا قتل کروایا اور امریکہ میں معروف سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ سمرنجیت سنگھ مان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اس جارحانہ پالیسی نے عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    سمرنجیت سنگھ مان نے بھارتی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بارڈر بند کرنے کے نتیجے میں بھارتی پنجاب کی زراعت اور معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو پنجاب کا کسان مزید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔سابق رکن پارلیمنٹ نے بھارتی صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مودی حکومت کو برطرف کریں، ملک میں نئے انتخابات کا اعلان کریں اور پہلگام حملے کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

    دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کے اندر سے اٹھنے والی یہ آوازیں مودی حکومت کے جھوٹے بیانیے کی قلعی کھول رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب خود ملک کے اندر سے حکومتی موقف کو جھٹلایا جا رہا ہو تو بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پوزیشن مزید کمزور ہو جاتی ہے۔

    یاد رہے کہ پہلگام حملے کے فوراً بعد بھارتی حکومت نے بغیر کسی تحقیق کے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی تھی، جس پر اب خود بھارت کے اندر سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • لندن، پاکستانی ہائی کمیشن پر بھارتی حملہ،پاکستانی ابھینندن کی تصاویر ،چائےکا کپ اٹھائے پہنچ گئے

    لندن، پاکستانی ہائی کمیشن پر بھارتی حملہ،پاکستانی ابھینندن کی تصاویر ،چائےکا کپ اٹھائے پہنچ گئے

    لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی عمارت پر بھارتی شرپسندوں نے حملہ کیا، جس میں عمارت کے شیشے توڑ دیے گئے اور عمارت پر سرخ رنگ پھینکنے کی کوشش کی گئی پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام نے فوری طور پر اس معاملے کی اطلاع میٹروپولیٹن پولیس کو دے دی ہے، اور پولیس نے اس حملے میں ملوث افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جمعہ کی شام بھارتی شرپسندوں نے پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے احتجاج کیا تھا۔ مظاہرے کے دوران نازیبا حرکات کی گئیں، جس پر میٹروپولیٹن پولیس نے دو بھارتی شہریوں کو حراست میں بھی لیا تھا۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے فائرنگ کے واقعے کے بعد مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کشیدگی کے اثرات لندن میں بھی محسوس ہو رہے ہیں جہاں پاکستانی ہائی کمیشن پر بھارتی شرپسندوں کے حملے کے بعد برطانوی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔


    لندن میں موجود پاکستانی کمیونٹی نے بھارتی شرپسندوں کے کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں حفاظتی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلمان کمیونٹی کے کاروباروں جیسے دکانوں اور ہوٹلز کو مکمل سیکیورٹی فراہم کر دی گئی ہے۔پاکستانی تارکین وطن کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث وہ ایک متفقہ موقف اختیار کر چکے ہیں۔

    بھارتی شرپسندوں نے مظاہرہ کیا تو پاکستانی بھی بڑی تعداد میں پہنچ گئے اور پاکستان زندہ باد نعرے لگائے، پاکستانی شہریوں نے پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے تو کئی افراد چائے کے کپ ساتھ لئے ابھینندن کی تصاویر اٹھائے بھی مظاہرے میں شریک ہوئے.پاک فوج، زندہ باد کے نعرے لگائے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینےکا مطالبہ کیا،حملے کے دوران بھارتی شرپسندوں نے عمارت پر آر ایس ایس کا نارنجی رنگ پھینکنے کی کوشش کی، مگر پاکستانی کمیونٹی نے نہ صرف ان کی یہ سازش ناکام بنائی بلکہ ملی نغموں کے ذریعے ان کے شرانگیز نعروں کو بھی دبایا پاکستانی ہائی کمیشن کے عملے اور وہاں موجود پاکستانیوں نے جرات اور قومی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے پرچم اور وقار کا بھرپور دفاع کیا۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی سے بات چیت کی اور انہیں موجودہ علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس دوران اسحاق ڈار نے پاکستان کے قومی مفادات کے دفاع اور امن و استحکام کے لیے غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی آزاد اور شفاف تحقیقات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

  • بھارت میں اب سب حکمران ہندو،ہندو خطرے میں کیوں،شہری کو مودی سرکار سے سوال

    بھارت میں اب سب حکمران ہندو،ہندو خطرے میں کیوں،شہری کو مودی سرکار سے سوال

    پہلگام حملے کے بعد مودی سرکار کیخلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں، بھارت سے شہری بول رہے ہیں، اب ایک بھارتی شہری نےبھارت میں مودی حکومت سے سوال کیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، شہری کا کہنا ہے کہ سات سو سال مسلمانوں کی حکومت رہی، ایک سو سال انگریزوں کی، پھر بھی ہندو خطرے میں نہ تھا، اب سب کچھ ہندو کے پاس ہے تو ہندو خطرے میں کیوں؟”

    بھارت میں ایک عام شہری کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی سے ایسا سوال سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ یہ سوال بھارت کے موجودہ سیاسی و سماجی حالات کی عکاسی کرتا ہے اور مودی سرکار کی "خطرے میں ہندو” کی پالیسی پر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔بھارتی شہری نے اپنے بیان میں کہا،”تقریباً سات سو سال مسلمانوں نے برصغیر پر حکمرانی کی۔ اس کے بعد تقریباً ایک سو سال انگریزوں کی حکومت رہی۔ اس طویل عرصے میں بھی ہندو خطرے میں نہیں تھا۔ لیکن آج جب بھارت میں وزیر اعظم ہندو ہے، صدر ہندو ہے، گورنر ہندو ہیں، سپیکر ہندو ہیں، وزرائے اعلیٰ ہندو ہیں، پورا نظام ہندو اکثریت کے پاس ہے، تو پھر آخر کیوں کہا جا رہا ہے کہ ہندو خطرے میں ہیں؟”

    شہری نے مزید کہا کہ "جب اقتدار مسلمانوں کے پاس تھا تو ہندو دھرم زندہ رہا، ان کی روایات قائم رہیں۔ انگریزوں کے دور میں بھی ہندو دھرم ختم نہ ہوا۔ آج جب ہر ریاست میں ہندو حکمران ہیں، ہر اہم عہدہ ہندو کے پاس ہے، تب بھی اگر خطرہ ہے تو پھر اس خطرے کی اصل جڑ کیا ہے؟”

    بھارت میں برسرِ اقتدار بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ مذہبی منافرت کو ہوا دے کر ہندو ووٹ بینک کو مستحکم کرتے ہیں۔ "ہندو خطرے میں” کا بیانیہ دراصل عوام کے جذبات کو ابھارنے اور انتخابی فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت جیسے سیکولر ملک میں، جہاں آئینی طور پر تمام مذاہب کو برابر کا درجہ دیا گیا ہے، وہاں اکثریتی طبقے کو بھی خطرے میں ظاہر کرنا محض سیاسی چال ہو سکتی ہے۔اس عام شہری کے سوال نے نہ صرف مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی ہزاروں افراد نے اس موقف کی حمایت کی۔ کئی صارفین نے کہا کہ یہ سوال "عوام کی اصل آواز” ہے اور مودی حکومت کو اس کا سنجیدگی سے جواب دینا چاہیے۔

  • اگر شرارت کی تو بھارت میں ہو گی ہر طرف تباہی ،پاکستان نے ٹارگٹ سیٹ کر لئے

    اگر شرارت کی تو بھارت میں ہو گی ہر طرف تباہی ،پاکستان نے ٹارگٹ سیٹ کر لئے

    پاکستان نے انٹیلی جنس اطلاعات کے بعد بھارت کے خلاف اپنی دفاعی حکمت عملی کو مزید مستحکم کرنے کی تیاری کرلی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی نئی لہر کی تیاری کی جا رہی ہے، جس میں بھارت کے مختلف ایجنسیوں کے ذریعے دہشت گردوں کو تربیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی ذرائع کے مطابق، ہندوستانی ایجنسیاں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور سندھودیش آرمی (ایس آر اے) جیسے علیحدگی پسند گروپوں کے دہشت گردوں کو راجستھان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں قائم کیمپوں میں تربیت دے رہی ہیں۔پاکستان کے انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق، بھارت کا مقصد سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا اور وہاں کی علیحدگی پسند تحریکوں کو مزید ہوا دینا ہے۔ ان علاقوں میں دہشت گردوں کو تربیت دینے کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔

    پاکستان نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں اہم تبدیلیاں کی ہیں اور اپنے جوابی حملوں کے لیے جامع آپریشنل پلانز تیار کیے ہیں۔ پاکستان کے سیکورٹی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی کی کوشش کی یا سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی، تو پاکستان فوراً جوابی کارروائی کرے گا۔ اس جوابی حکمت عملی میں مختلف جدید ہتھیاروں کا استعمال شامل ہے، جیسے:

    کروز میزائل: پاکستان اپنے کروز میزائلوں کو استعمال کرکے دشمن کے اہداف کو درستگی سے نشانہ بنائے گا۔

    ایم ایل آر ایس (MLRS): ایک سے زیادہ لانچ راکٹ سسٹم (MLRS) کا استعمال کیا جائے گا تاکہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی جا سکے اور دشمن کے اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا سکے۔

    مخصوص زمینی کارروائیاں: ان کارروائیوں میں زمینی فوج کو دشمن کے کیمپوں اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    دقیق ہتھیار: پاکستان کی فوج کی جدید ہتھیاروں کی مدد سے دشمن کے خلاف موثر اور درست کارروائیاں کی جائیں گی۔

    پاکستان نے بھارت کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی جارحیت کا انتظار نہیں کرے گا اور اس کی خودمختاری پر حملہ کرنے کی صورت میں پاکستان کی طرف سے سخت اور فوری جوابی ردعمل ہوگا۔ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا جارحیت کی صورت میں پاکستان کا جواب اتنا شدید ہوگا کہ وہ اگلی صبح تک دنیا بھر میں گونج جائے گا۔پاکستان نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ ایسی مہم جوئی کی قیمت انتہائی مہنگی پڑے گی اور پاکستان کا ردعمل نہ صرف فوجی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی گونجے گا۔ پاکستان کی فوج اور فضائیہ دونوں اس وقت مکمل جنگی تیاری کے ساتھ ہیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

    پاکستان کی اس تیاری کے بعد عالمی برادری کی توجہ ایک مرتبہ پھر جنوبی ایشیا کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، جہاں دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عالمی طاقتیں، خاص طور پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے، پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ایک سنگین مسئلہ کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ عالمی سطح پر اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔

    پاکستان کا یہ موقف ہے کہ اس کا ردعمل دفاعی نوعیت کا ہوگا اور یہ کسی بھی جارحیت کے خلاف عالمی سطح پر اپنا حق دفاع استعمال کرے گا۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کے لئے بھارت کو نہیں چھوڑے گا

    پاکستان کی یہ تیاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی سرحدوں اور خودمختاری کا بھرپور دفاع کرنے کے لیے تیار ہے۔ بھارت کی جانب سے اگر کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی یا سرحدی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی تو پاکستان فوراً اپنے جوابی حملوں کا آغاز کرے گا، جو نہ صرف بھارت بلکہ پوری دنیا کو ایک سخت پیغام دے گا۔

  • میرے ہاتھ کبھی نہیں اٹھے، جس دن وسیم اکرم سے سامنا ہو گیا دنیا دیکھے گی،عطاء الرحمان

    میرے ہاتھ کبھی نہیں اٹھے، جس دن وسیم اکرم سے سامنا ہو گیا دنیا دیکھے گی،عطاء الرحمان

    پاکستان کےسابق فاسٹ بائولر عطاء الرحمان نے کہا ہے کہ وسیم اکرم سے میرا سامنا نہیں ہوا، جس دن سامنا ہوا اس دن لگ پتہ جائے گا،

    ذیشان کے ساتھ یوٹیوب پر ایک وی لاگ میں ایک انٹرویو میں عطاء الرحمان کا کہنا تھا کہ راشد لطیف کی کتاب پر تبصرہ کرتا ہوں انکا بیان بھی آیا تھا کہ عطاء الرحمان بے قصور ہے ،میں ان کا مشکو ر ہوں ،انکو حقیقت کا پتہ چل گیا، باقی اور بھی بتائیں گے میں بھی بتاؤں گا، میں نے ایک ٹی وی پروگرام میں بھی بتا دیا تھا کہ پروگرام بدلنے کی وجہ سے مجھ پر پابندی لگی تھی، وسیم اکرم فکسنگ کا سلطان ہے، عمران خان نے اس کو تمغہ امتیاز سے کیوں نواز ا یہ میرے لئے حیران کن تھا، ملک کے غداروں کو بھی تمغہ دیا جاتا ہے، کرپشن ایک ملک کے اندر ہوتی ہے، جنہوں نے کی انکے ہاتھ کاٹ دیں لیکن ان لوگوں نے تو ملک کو بیچ دیا، اسکی وجہ سے پاکستان کی بدنامی ہوئی،ہمارے مستقبل کے کھلاڑیوں کا مستقبل تباہ ہوا،یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا، انکو تمغے نہیں چھتروں کے ہار ڈالنے چاہئے، انکے ضمیر مرے ہوئے ہیں، یہ ضمیر فروش لوگ ہیں، وسیم اکرم……کو اپنا باپ فائدے کے لئے بنالیتا ہے، وسیم اکرم پر ایک نہیں سو بین لگنے چاہئے،جسٹس قیوم نے مجھے کہا تھا کہ اس کو کیوں بچا رہے ہو، میں جھوٹا ہوں تو عدالت لے جائیں، جسٹس قیوم کی رپورٹ پڑھیں سب سامنے آیا ہوا ہے،

    عطاء الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے لوگوں کی سمجھ نہیں آتی، منافقت کیوں کرتے ہیں، ٹی وی پر بیٹھ کر کہتے ہیں کہ یہ الزام تھا، کھلاڑی پکڑے گئے، انکو جیل ہو گئی کیا پھر بھی الزام تھا، آج ٹی وی پر بیٹھ کر تبصرے ہو رہے ہیں یہ بھی ایک پاکستان کی کرکٹ کا المیہ ہے کہ رپورٹر کرکٹ پر بات کر رہا اور کھلاڑیوں کو کرکٹ سکھا رہے، یہ سلسلہ ہوا پڑا ہے،میں گڑھے مردے نہیں اٹھاتا ،وہ باتیں کرتا ہوں جو نیوجنریشن کو پتہ چلے، ان کے بچوں کو پتہ چلے کہ ان کا باپ فکسر تھا، ہمارا آپ نے فیوچر تباہ کر دیا،میں اپنے بچوں کو کہتا ہوں حلال کا تھوڑا ہی ہوتا ہے، حرام تو وسیم اکرم کی نسلوں سے نکلے گا، میرے ہاتھ اٹھے نہیں،کبھی نہیں اٹھائے، جس دن سامنا ہو گیا پوری دنیا دیکھے گی، وسیم اکرم اکیلا نہیں داڑھی نما بندے بھی ایسے ہی ہیں،میں دنیا کو ان کے بارے میں بتاتا ہوں کہ یہ ہیرو نہیں غدار ہیں، انہوں نے پاکستان کا سودا کیا،یہی لوگ کرکٹ کی تباہی ہیں.وسیم اکرم نے ملک کا سودا کیا ہوا ہے،وسیم اکرم ایسا ہے ساتھ والے کا سودا کر دے تو پتہ نہ چلے،کئی ایسے راز ہیں میں نے بتائے تو یہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے،

  • پہلگام ڈرامہ،آرایس ایس کارکنان کو سزا سنانے والے ججز کو قتل کرنے کی سازش،انکشاف

    پہلگام ڈرامہ،آرایس ایس کارکنان کو سزا سنانے والے ججز کو قتل کرنے کی سازش،انکشاف

    پہلگام ڈرامہ،مودی سرکار کے پاکستان پر الزامات تاہم حقیقت اب کھل کر سامنے آنے لگی، پہلگام ڈرامہ مبینہ طور پر تین ججوں کو قتل کرنے کی سازش تھی جنہوں نے ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے پانچ کارکنان کو عمر قید کی سنائی تھی تا ہم حملہ سے قبل ججز وہاں سے روانہ ہو گئے اور بچ گئے

    پہلگام ڈرامہ بے نقاب ہو رہا ہے،سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ
    پہلگام میں حملے کا مقصد دراصل تین کیرالہ کے ججوں کو قتل کرنا تھا۔ یہ ججز حملے سے چند لمحے پہلے ہی پہلگام سے روانہ ہو چکے تھے، جس کے باعث وہ حملے سے بچ گئے۔پہلگام میں ہونے والے حملے کے پیچھے ایک سنجیدہ سازش چھپی ہوئی ہے۔ ان تین ججوں نے حال ہی میں پانچ آر ایس ایس (راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ) کارکنوں کو ایک قتل کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس فیصلے کے بعد سے ان ججوں کی جان کو خطرہ لاحق تھا اور ان کے قتل کی سازش کا خدشہ بڑھ گیا تھا۔اس حملے کی منصوبہ بندی کا مقصد ان ججوں کو نشانہ بنانا تھا ،ججز پہلگام آئے ہوئے تھے تا ہم حملے سے قبل ہی وہ وہاں سے روانہ ہو گئے تھے.

    کیتھی رولانووا نے ایکس پر پوسٹ کی اور اس سازش کی تفصیل دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایک منظم کوشش تھی تاکہ ججز کے فیصلے کو دبایا جا سکے اور اس کا سیاسی مقصد بھی تھا۔ ان کے مطابق، اس طرح کے واقعات کشمیر کے اندر قانونی نظام اور انصاف کی بحالی کے لیے ایک سنگین چیلنج ہیں۔

    اس حملے نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے، اور اس کے پیچھے کی حقیقت نے لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ان واقعات کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا تھا۔ پہلگام میں ہونے والا یہ واقعہ نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پورے بھارت کے لیے ایک سنگین الارم ہے ،آر ایس ایس ہندو انتہا پسند تنظیم ہے اور بی جے پی سے وابستہ ہے، بی جے پی کی بھارت میں حکومت ہے اور مودی وزیراعظم ہے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھا جائے کہ بھارت سرکار نے آر ایس ایس کے کارکنان کے خلاف فیصلہ دینے والے ججز کو ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا تھا، ماضی میں بھی بھارت ایسے حملے کروا چکا ہے،

    پہلگام ڈرامہ،عسکریت پسند تنظیم کا حملے کی ذمہ داری سے انکار

    سندھ طاس معاہدہ نشانہ اور پہلگام واقعہ بہانہ ہے،حنیف عباسی

    پہلگام حملہ:وزیر اعلیٰ کرناٹکا نے بھارتی سکیورٹی کی ناکامی قرار دیدیا

    پہلگام ڈرامہ،بھارت کے اندر سے مودی سرکار کیخلاف آوازیں آنا شروع

    پہلگام ڈرامہ، مودی یاد رکھے،حقیقت ہمیشہ سامنے آتی ہے،سحرکامران

  • پہلگام ڈرامہ،عسکریت پسند تنظیم کا حملے کی ذمہ داری سے انکار

    پہلگام ڈرامہ،عسکریت پسند تنظیم کا حملے کی ذمہ داری سے انکار

    عسکریت پسند تنظیم "دی ریزسٹنس فرنٹ” (ٹی آر ایف) نے بھارتی میڈیا کی جانب سے پہلگام میں ہونے والے واقعے کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں کسی بھی طرح ملوث نہیں ہے، اور ان الزامات کا کوئی حقیقت سے تعلق نہیں۔

    ایک بیان میں ٹی آر ایف نے کہا ہے کہ پہلگام کا یہ واقعہ ان سے منسلک کرنا "بےبنیاد اور جلد بازی کا نتیجہ” ہے۔ تنظیم کے مطابق، ان الزامات کا مقصد کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو بدنام کرنا اور ان کے خلاف بدنیتی پر مبنی مہم چلانا ہے۔ٹی آر ایف نے مزید کہا کہ واقعے کے کچھ ہی دیر بعد تنظیم کے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ایک غیر مجاز پوسٹ شیئر کی گئی تھی، جسے بعد میں ایک "مربوط سائبر حملہ” قرار دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق، یہ حملہ بھارتی ریاستی ڈیجیٹل جنگی حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد جھوٹے الزامات کے ذریعے ٹی آر ایف کو بدنام کرنا تھا۔

    تنظیم نے اپنے داخلی آڈٹ کے حوالے سے بھی تفصیلات فراہم کیں، جس سے یہ بات سامنے آئی کہ یہ حملہ ایک مربوط سائبر حملے کا نتیجہ تھا۔ ٹی آر ایف کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی کے شواہد بھارتی سائبر انٹیلی جنس آپریٹرز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔”دی ریزسٹنس فرنٹ” نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت نے ماضی میں بھی سیاسی مقاصد کے تحت ایسے ہتھکنڈے استعمال کیے ہیں، اور ان حملوں کا مقصد افراتفری پیدا کرنا اور کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک کو نقصان پہنچانا ہے۔اس بیان میں ٹی آر ایف نے یہ بھی کہا کہ بھارتی حکام اس طرح کے حملوں کو چھپانے اور اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہ صورتحال کشمیری عوام کے لیے مزید مشکلات کا سبب بن سکتی ہے۔

    پہلگام واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، تاہم ٹی آر ایف نے اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ اس واقعے میں ان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے اور یہ صرف بھارت کا ایک گہرا اور منصوبہ بند حربہ ہے۔

  • بھارتی آبی جارحیت ، مودی نے پانی چھوڑ کر جنگ کا آغاز کر دیا،خالد مسعود سندھو

    بھارتی آبی جارحیت ، مودی نے پانی چھوڑ کر جنگ کا آغاز کر دیا،خالد مسعود سندھو

    پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہے،خالد مسعود سندھو

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارتی آبی جارحیت ، مودی نے پانی چھوڑ کر جنگ کا آغاز کر دیا، قوم متحد و بیدار ہے،مودی سرکار ہوش کے ناخن لے،بھارتی آبی حملے کا منہ توڑ جواب ملے گا، پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کا جواب دینے کے لئے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ہے، پاکستان اقوام متحدہ ، او آئی سی کا فوری اجلاس بلا کر بھارتی اقدامات سے عالمی دنیا کو آگاہ کرے،

    خالد مسعود سندھو نے بھارت کی جانب سے دریائے جہلم میں بغیر اطلاع پانی چھوڑنے پر اپنے ایک بیان میں بھارتی اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت نہ صرف خطے میں قدرتی آفات کو جنم دے سکتی ہے بلکہ معصوم جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے،بھارت کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ قابل قبول نہیں،دریا کنارے آباد آبادیوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ کارکنان بھارتی آبی جارحیت کے سلسلے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیار رہیں .