Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • منیجرز کو تھانے طلب کرنا، لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے،عدالت

    منیجرز کو تھانے طلب کرنا، لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے،عدالت

    سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس ظفر راجپوت نے غیر ملکی شہری کو رہائش فراہم کرنے پر ہوٹل منیجر کو دھمکیوں کے کیس میں پولیس انسپکٹر کو طلب کر لیا۔

    غیر ملکی باشندوں کو رہائش فراہم کرنے پر پولیس کی ہوٹل منیجر کو مبینہ دھمکیاں دینے کے کیس کی سماعت سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی،وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا ہوٹل مالک کو کہا گیا اگر چینی باشندوں کو رہائش فراہم کی تو کارروائی کی جائے گی، جبکہ پولیس کا مؤقف تھا کہ ہوٹل منیجر کو ہراساں نہیں کیا گیا،جسٹس ظفر راجپوت نے ریمارکس دیے پولیس کے کرتوت ہی ایسے ہیں کہ ان پر یقین کرنا مشکل ہے، ایس ایچ او کہاں ہے، اس نے اس الزام کے بارے میں کیا کہا ہے،وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا ایس ایچ او کا بیان ریکارڈ پر ہے اس کا کہنا ہےکہ ہوٹل منیجر کو ملاقات کیلئے بلایا تھا، جس پر عدالت نے کہا ریکارڈ پر سب انسپکٹر عبد القیوم کا بیان ہے، کسی اور کے دستخط نہیں ہیں۔

    وکیل کا کہنا تھا یہ بیان ایس ایچ او کی جانب سے عبد القیوم نے لکھا ہے، ایس ایچ او کا بیان سمجھا جائے، جس پر عدالت نے کہا ایس ایچ او کب سے اتنا بڑا افسر ہو گیا کہ اس کی جانب سےکوئی اور بیان داخل کرے، بیان کو ایس ایچ او کے بیان کی حیثیت سے پیش کرنے والوں نے غلط بیانی کی ہے،کمرہ عدالت میں موجود پولیس اہلکاروں اور سرکاری وکیل نے معذرت طلب کرلی، عدالت نے کہا یہاں بیٹھ کر معلوم ہو جاتا ہےکیسے ہوٹلوں میں کمرے بک کروائے جاتے ہیں اور کھانے منگوائے جاتے ہیں،جسٹس ظفر راجپوت کا کہنا تھا پولیس یا انٹیلی جنس اہلکار ہوٹل جاکر کسی کا بھی پاسپورٹ یا ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں، سفید پوش منیجرز کو تھانے طلب کرنا اور لاک اپ کی دھمکیاں دینا کون سا قانون ہے؟ محکموں کا کام شہریوں کی حفاظت ہے، یہی ہراساں کرتے ہیں، کسی کا کاروبار تباہ ہو جائے، کسی کی عزت برباد ہو جائے انھیں خیال ہی نہیں ہے۔

  • پاکستانی پابندی،بھارتی ایئر لائنز بحران کا شکار،بھارتی نائب صدر بھی پھنس گئے

    پاکستانی پابندی،بھارتی ایئر لائنز بحران کا شکار،بھارتی نائب صدر بھی پھنس گئے

    پاکستان کی جانب سے بھارت کے لیے فضائی حدود بند کیے جانے کے بعد بھارتی ائیر لائنز میں ایک بڑا بحران پیدا ہوگیا ہے جس کا اثر دنیا بھر میں بھارتی پروازوں کی روانگی اور آمد پر پڑا ہے۔ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی پروازوں کو اہم راستوں پر تاخیر اور دوبارہ راستہ بدلنے کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    بھارتی نائب صدر کی خصوصی پرواز، جو نیو دہلی سے اٹلی جا رہی تھی، فضائی حدود کی بندش کے سبب تاخیر کا شکار ہوئی۔ اس پرواز نے ڈیڑھ گھنٹہ طویل فاصلہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں بھارت سے بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔بھارت کے مختلف شہروں سے بین الاقوامی مقامات کے لیے روانہ ہونے والی کئی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود کے بند ہونے کی وجہ سے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کچھ اہم پروازوں میں ٹورنٹو، نیویارک، لندن، ڈنمارک اور دمام سے دہلی جانے والی پروازیں شامل ہیں جنہیں دو گھنٹے اضافی وقت لگ گیا۔ اس کے علاوہ برمنگھم، سان فرانسسکو، فرینکفرٹ اور پیرس سے دہلی کی پروازوں کو بھی دو گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔

    فضائی حدود کی بندش کے باعث کئی بین الاقوامی پروازوں کو دیگر ممالک کے ائیرپورٹس پر اتارنا پڑا۔ شارجہ سے امرتسر جانے والی پرواز کو احمد آباد اور ٹورنٹو دہلی کی ائیر انڈیا کی پرواز کو ڈنمارک کے ائیرپورٹ پر اتارا گیا۔ اسی طرح ابوظبی جانے والی پرواز کو بھی پیرس اور لندن سے نیو دہلی پہنچنے کے بعد ری فیولنگ کے بعد روانہ کیا گیا۔دہلی سے تبلیسی کے لیے روانہ ہونے والی پرواز احمد آباد اتاری گئی۔ اسی طرح الماتے اور تاشقند کے لیے جانے والی دو پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا، جس سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دبئی سے امرتسر جانے والی پرواز کو بھی ڈھائی گھنٹے کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

    پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی بندش کے نتیجے میں بھارتی ائیر لائنز کی پروازوں کا نظام شدید متاثر ہوا ہے اور مسافروں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بحران کے حل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

    پاکستانی فضائی حدود کی بندش،بھارت کو لینے کے دینے پڑ گئے ،پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کو شدید دھچکا لگا ہے، بھارت سے یورپ اور امریکہ جانے والی پروازوں کے دورانیے میں اضافہ ہو گیا، بھارت سے امریکہ اور یورپ جانے والی پروازوں کے لیے زیادہ ایندھن،ٹکٹس بھی مہنگے ہو گئے،2019 میں بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایئر لائنز کو 700 ارب روپے کا نقصان ہوا تھا، پاکستانی فضائی حدود بند ہونے سے بھارتی ایئر لائنز کے لیے ایندھن کی لاگت اور اپریشنل پیچیدگیوں میں بھی اضافہ ہوا، بھارت سے وسطی ایشیا، مغربی یورپ، مغربی ایشیا، برطانیہ اور امریکہ جانے والی پروازیں متاثرہوئی ہیں، پاکستان سے گزر کر بھارت آنے اور جانے والی دیگر ایئر لائنز بدستور آپریٹ کرتی رہیں گی، بھارتی ایئر لائنزپر پابندی سے دیگر ایئر لائنز کو فائدہ ہوگا ،پالاکوٹ حملے کے بعد بھارت کی قومی ایئر لائنز ایئر انڈیا سب سے زیادہ متاثر ہوئی تھی،بھارتی ایرلائنز کو اب شمالی امریکہ، یورپ، برطانیہ اور مشرق وسطی جانے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے

    پاکستانی پابندیوں سے ایئر انڈیا، انڈیگو، سپائس چیٹ کی پروازوں کا روٹ تبدیل ہو گا، پروازوں کا روٹ تبدیل ہونے سے دورانیہ میں اضافے اور ایندھن کی کھپت میں اضافہ ہوگا ،پاکستان سول ایوی ایشن کے نوٹم کے مطابق پابندی کا اطلاق تمام بھارتی ملٹری طیاروں بشمول لیز شدہ طیاروں پر بھی ہوگا ،بھارت کے ملکیتی یا بھارتی ایئر لائنز کے تحت اپریٹ کیے جانے والے طیاروں پر پابندی ہوگی ، روزانہ 70 سے 80 پروازیں بھارت آنے اور جانے کے لئے پاکستانی فضائی حدود سے گزرتی ہیں، بعض اوقات بھارت آنے اور جانے والی پروازوں کی تعداد 100 سے بھی تجاوز کر جاتی ہیں ، پاکستان سے گزرنے والی بھارتی پروازیں زیادہ تر یورپ، شمالی امریکہ، مشرق وسطی اور وسط ایشیا کے لیے ہوتی ہیں، پاکستانی پابندیوں کے نتیجے میں ممبئی، احمد اباد، لکھنؤ،دہلی اور گوا آنے جانے والی فلائٹس سب سے زیادہ متاثرہوئی ہیں، انڈین ایئر لائنز کو ممبئی اور دلی سے آنے جانے والی پروازوں کو بحیرہ عرب کے اوپر سے گزارنا ہوگا ،دہلی سے باکو اور تبلیسی جانے والی پروازوں کے دورانیہ میں 90 منٹ کا اضافہ ہو گا، پاکستانی پابندی کے نتیجے میں دہلی سے الماتا سروس مکمل طور پر بندہوئی ہے، شمالی بھارت سے متحدہ عرب امارات جانے والی پروازوں کا دورانیہ بڑھنے سے اضافی ایندھن استعمال کرنا پڑے گا ، بھارتی ایئر لائنز کو طویل دورانیے کی پروازوں اور ہیوی ڈیوٹی طیاروں کے لیے زیادہ ایندھن خرچ کرنا پڑے گا ،بھارتی ایئر لائنز کو اندھن کی مد میں یومیہ کروڑوں کا نقصان متوقع ہے

  • پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

    پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی عوام بھارت کو منہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے پہلگام میں پیش آئے واقعے اور اس پر بھارت کے رویے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ
    بھارت کو بتا دیا ہے کہ پاکستان کے لوگ جارحیت کامنہ توڑ جواب دینا جانتے ہیں، پاکستان پر کوئی آنچ آئے گی تو عوام مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہوں گے، پنجاب میں کینالوں پر کوئی کام شروع نہیں ہوا، جب تک ایکنک سے منظور نہ ہو نہریں نہیں بن سکتیں، پیپلز پارٹی ناصرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے حقوق کی ضامن ہے، کچھ لوگوں نے پیپلز پارٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے، ہم نے جون میں پانی کی دستیابی کے جاری سرٹیفکیٹ کو چیلنج کیا، صدر زرداری کے پاس منصوبے کی منظوری کا اختیار ہی نہیں، نہر کے منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ کی گئی جو نہیں کرنی چاہیے تھی، ہم سوتے ہوئے بھی سندھ کے حقوق کے لیے غلط فیصلہ نہیں کر سکتے،کراچی میں 17 جنوری کو یہ مسئلہ شروع ہوا تھا جب نگراں حکومت تھی، پُر امن احتجاج ہر ایک حق ہے، احتجاج کرنے پر پہلے بھی کہا کہ لوگوں کو تنگ نہ کیا جائے۔

  • پی آئی اے نجکاری،وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس

    پی آئی اے نجکاری،وزیراعظم کی زیر صدارت جائزہ اجلاس

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری پر جائزہ اجلاس ہوا،

    اجلاس میں وزیرِ اعظم کو نیلامی کے طریقہ کار، درکار مدت اور نیلامی میں شرکت کیلئے شرائط سے آگاہ کیا گیا. وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری میں شفافیت کو کلیدی اہمیت دینے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری مجوزہ معینہ مدت میں یقینی بنانے کی ہدایت کی،وزیرِ اعظم نے پی آئی اے کی نجکاری کیلئے روڈ شوز اور سرمایہ کاروں کو مکمل اعتماد میں لینے کی ہدایت کی، اور کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری کے طریقہ کار میں شفافیت کو مرکزی اہمیت دی جائے.شفافیت یقینی بنانے کے لئے، پی آئی اے سمیت آئندہ تمام سرکاری کمپنیوں کی نجکاری براہ راست ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نشر کی جائے.

    اجلاس میں دوران بریفنگ بتایا کہ انوسٹر آؤٹ ریچ کے لئے کنسلٹنٹ کے ساتھ مل کر ایک جامع سٹریٹجی بنائی گئی ھے اور اس پر مکمل عمل درآمد ہو رہا ہے. اجلاس میں وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، مشیران محمد علی، سید توقیر شاہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، نیشنل کوارڈینیٹر خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

  • کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ میں دھماکا، چار افراد کی موت، 3 زخمی

    کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے مارگٹ میں ایک بارودی سرنگ کے دھماکے کی اطلاعات ہیں، جس کے نتیجے میں 4 افراد جاں بحق اور 3 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ صبح کے وقت ہوا، جب یہ افراد علاقے میں معمول کے کام کاج کے لیے جا رہے تھے۔

    پولیس کے مطابق دھماکہ مارگٹ کے ایک گاؤں میں اس وقت ہوا جب بارودی سرنگ کو چلا دیا گیا۔ دھماکے میں 4 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ علاقے کو محفوظ بنایا جا سکے اور مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے کو بھی موقع پر طلب کر لیا گیا ہے تاکہ بارودی سرنگ کا مزید کوئی خطرہ نہ ہو۔زخمی افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت نازک ہے اور انہیں خصوصی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    پولیس نے اس دھماکے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں موجود دیگر مشتبہ مواد کو بھی فوراً برآمد کرنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے پیچھے دہشت گردی کا ہاتھ ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت تک مزید تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکی ہیں۔دھماکے کے بعد بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بھی سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کی رجسٹریشن شروع ہے،رانامشہود

    وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کی رجسٹریشن شروع ہے،رانامشہود

    اسلام آباد: چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے ملک بھر کے طلباء کو وزیراعظم یوتھ لیپ ٹاپ سکیم کے تحت بروقت رجسٹریشن کرانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے اس سکیم کے حوالے سے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس سکیم کے تحت وفاقی سطح پر ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، جو صرف میرٹ کی بنیاد پر طلباء میں تقسیم ہوں گے۔

    رانا مشہود احمد خان نے اس بات پر زور دیا کہ لیپ ٹاپ کے لیے رجسٹریشن کی آخری تاریخ 20 مئی 2025 ہے، اور اس تاریخ تک تمام اہل طلباء و طالبات اپنی درخواستیں مکمل کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ لیپ ٹاپ کے لیے رجسٹریشن وزیراعظم ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے کی جائے گی، جو ایک آن لائن پورٹل ہے جہاں طلباء اپنی درخواستیں آسانی سے جمع کر سکتے ہیں۔اس سکیم میں پاکستان کے تمام پبلک سیکٹر ہائیر ایجوکیشن انسٹیٹیوٹ کے طلباء و طالبات اپلائی کرنے کے اہل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ملک کے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی میں مدد فراہم کرنا اور انہیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں مدد دینا ہے، تاکہ وہ اپنے تعلیمی معیار کو بہتر بنا سکیں اور عالمی سطح پر مقابلہ کر سکیں۔

    رانا مشہود احمد خان نے لیپ ٹاپ سکیم کے آغاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سکیم کے تحت جلد ہی طلباء و طالبات جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جو ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں مددگار ثابت ہو گا۔اس سکیم کے ذریعے حکومت کا مقصد ملک کے تعلیمی معیار کو بلند کرنا اور طلباء کو تعلیمی میدان میں کامیابی کے لیے بہترین وسائل فراہم کرنا ہے۔ طلباء کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنی رجسٹریشن مکمل کریں تاکہ اس سکیم کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

  • ساڑھے سات لاکھ فوج،پہلگام واقعہ کیسے ہو گیا؟شبلی فراز

    ساڑھے سات لاکھ فوج،پہلگام واقعہ کیسے ہو گیا؟شبلی فراز

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف، شبلی فراز نے کہا ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان نے ہمیشہ کہا ہے کہ "پاکستان میری جان سے بھی قیمتی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا دفاع اور سالمیت ہر چیز سے بڑھ کر اہم ہے۔

    سینیٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ حالیہ قرارداد میں ایوان کا دشمنوں کو ایک مضبوط اور مشترکہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان ایک طاقتور اور متحد ملک ہے، اور اس کے مفادات کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔انہوں نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا ہے اور وہ ہر موقع پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ بھارت نے پہلگام کے حالیہ واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا، جو کہ ایک نیا جھوٹ تھا، جسے دنیا کے سامنے لایا گیا۔ بھارت میں ساڑھے سات لاکھ فوج موجود ہے، اور ایسی بڑی فوجی موجودگی کے باوجود یہ واقعہ بھارتی فوج کی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ شبلی فراز نے مزید کہا کہ پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونے دی جائے گی۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت میں کبھی کسی انتخاب پر دھاندلی کے الزامات نہیں لگے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت میں جمہوریت کی حالت پاکستان کی نسبت کہیں زیادہ خراب ہے۔ پاکستان کی جمہوریت ہمیشہ مضبوط اور پائیدار رہنے کی جانب گامزن ہے۔شبلی فراز کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے عوام کی فلاح کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گا، اور بھارت سمیت کسی بھی دشمن کو ملک کی ترقی اور امن کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    شبلی فراز نے سینیٹ میں اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی دفاعی پوزیشن مضبوط ہے، اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کا موقف درست ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے جھوٹے الزامات کی تحقیقات کرے اور بھارتی سازشوں کا مقابلہ کرے۔

  • سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور

    سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور

    سینیٹ اجلاس، پہلگام واقعہ پر بھارتی الزامات کے خلاف متفقہ قرار داد منظور کر لی گئی
    سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت ہوا، سینیٹ اجلاس میں معمول کی کاروائی معطل کر دی گئی،حالیہ پاک بھارت تنازع پر سینیٹ میں متفقہ طور پر قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کی گئی ،متفقہ قرارداد اسحاق ڈار نے پیش کی، سینیٹ میں متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی،قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان ہرقسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑجواب دیا جائے گا، بھارت کے تمام الزامات مسترد کرتے ہیں۔

    نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں، دیکھیں، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو میزائلی قوت بنایا ہے، کسی نے ہماری طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو اُسے جواب ویسا ہی ملے گا جیسا ماضی میں دیا گیا، 22 اپریل کو پہلگام کا واقعہ ہوتا ہے، وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے دورے پر تھے، قوم نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے، پہلگام واقعے پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا افسوسناک ہے، پہلگام میں سیاحوں کی ہلاک پر ہمیں تشویش ہے،بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو یکسرمسترد کرتے ہیں، سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے 24 کروڑعوام کی لائف لائن ہے، واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، سارک اسکیم کے تحت پاکستان میں موجود بھارتیوں کے ویزے منسوخ کردیے ہیں، ویزہ معطلی کے فیصلے کا اطلاق سکھ یاتریوں پر نہیں ہوگا، اٹاری بارڈر بند کرنے پر پاکستان نےجوابی طور پر واہگہ بارڈر کو بند کیا، بھارتی ہائی کمیشن میں موجود دفاعی اتاشیوں کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے، بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد کم کر کے 30 کرنے کا فیصلہ ہوا، پاکستان کی فضائی حدود بھارتی پروازوں کیلئے بند کر دی گئی ہے، قومی سلامتی نے کہا پانی بند کرنا جنگ کے مترادف ہوگا۔ پیش گوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کہ مستقبل کی جنگیں پانی پر ہوں گی۔ ہم نے بھارت سے تمام تجارت معطل کر دی ہیں، گزشتہ روز 26 ممالک کے سفیروں کو دفترخارجہ میں بریفنگ دی گئی، کسی نے بھی پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھا تو وہ جان لے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں،بہتر ہوگا کہ پاکستان کے خلاف مہم جوئی کی غلطی نہ دہرائی جائے، اگر بھارت پیچھےنہ ہٹا تو ہم دوسرے طرفہ معاہدوں کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے پرغور کریں گے، بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث سارک تنظیم غیر فعال ہے، افغانستان کا ایک روزہ دورہ کیا، وہاں کی قیادت سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔

  • مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے تیار ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ

    مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے تیار ہیں۔ ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بھارتی پروازوں کیلئے بند کر دی گئی ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے تیار ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہد کو معطل کیا، بھارت کے رویے سے علاقائی امن واستحکام کو نقصان کا اندیشہ ہے،واہگہ بارڈر پر ہر قسم کی آمدورفت بند کر دی گئی، سارک اسکیم کے تحت بھارتیوں کے تمام ویزے معطل کر دیے، سکھ یاتری ویزہ معطل سے مستثنیٰ ہیں،بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف کی تعداد کم کر کے 30 کر دی گئی ہے، پاکستان کی فضائی حدود بھارتی پروازوں کیلئے بند کر دی گئی ہے، پاکستان کی مسلح افواج ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے تیار ہیں،بھارتی اقدامات نے دو قومی نظریے پر مہر ثابت کر دی، کل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان نے بھارت کو جوابات دیے، وزیراعظم نے حالیہ دورہ ترکیہ میں ترک قیادت کے ساتھ مفید بات چیت کی،متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا، فریقین نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھنے پراتفاق کیا.

  • قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستانی قوم کی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی،صدر مملکت

    قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستانی قوم کی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے جواب میں قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستانی قوم کی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے تمام فیصلے قوم کے دل کی آواز ہیں اور یہ فیصلے ملک کی سلامتی اور خود مختاری کے لیے اہم ہیں۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی اور انہیں پہلگام واقعے کے بعد بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے تناظر میں تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیر داخلہ نے صدر کو قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے بارے میں آگاہ کیا اور بھارت کے خلاف جوابی اقدامات کی تفصیل بتائی۔صدر آصف علی زرداری نے قومی سلامتی کمیٹی کے بروقت اور دور اندیش فیصلوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس کمیٹی نے قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے انتہائی اہم فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے ساتھ کھڑی ہے اور بھارت کے بے بنیاد الزامات اور غیر منطقی اقدامات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کی پوزیشن کو واضح کیا ہے اور اس نے پاکستانی قوم کی امنگوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر پاکستان کا ردعمل واضح اور مضبوط ہے۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا کہ دشمن کسی غلط فہمی میں نہ رہے، پاکستان کا دفاع الْحَمْدُ لِلَّهِ ناقابل تسخیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے جواب میں فیصلہ کیا تھا کہ بھارت کے ساتھ ہر قسم کی زمینی تجارت فوری طور پر بند کر دی جائے اور بھارتی طیاروں کے لیے پاکستانی فضائی حدود پر پابندی عائد کی جائے۔ اس کے علاوہ، قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان میں موجود بھارتی سفارتی عملے کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دیتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم بھی دیا تھا۔پاکستانی حکام نے واضح کیا کہ ان تمام فیصلوں کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور بھارت کے غیر منطقی اقدامات کا بھرپور جواب دینا ہے۔