Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک بھارت بڑھتی کشیدگی،اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    پاک بھارت بڑھتی کشیدگی،اقوام متحدہ کا اظہار تشویش

    اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عالمی ادارہ دونوں ممالک سے درخواست کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر مسئلے کا حل بامعنی اور باہمی مشاورت کے ذریعے پرامن طریقے سے نکل سکتا ہے اور یہی بہتر راستہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ کی کوششوں میں تعاون کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ایک بڑا سبب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں چند روز قبل ہونے والا حملہ ہے، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے اور اس کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل کر دیا ہے۔ بھارت نے سفارتی سطح پر بھی مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا کرنا شامل ہے۔بھارت کے اقدامات کے جواب میں پاکستان نے بھی بھرپور ردعمل دیا ہے۔ پاکستانی حکام نے سندھ طاس معاہدے کے معطل ہونے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پاکستان کی ملکیت کے پانی کا بہاؤ روکا گیا تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر صورت اپنے حقوق کا دفاع کرے گا اور کسی بھی غیر قانونی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ کشیدگی پہلے ہی کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور اس نوعیت کے واقعات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں تاکہ علاقائی امن اور استحکام کو برقرار رکھا جا سکے۔اقوام متحدہ کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہر قسم کی جنگی یا غیر ضروری کارروائیوں سے بچنے کی درخواست کی جا رہی ہے تاکہ ایک اور جنگ کی تباہی سے بچا جا سکے۔

  • تھائی لینڈ پولیس کا طیارہ تباہ،6 افراد ہلاک

    تھائی لینڈ پولیس کا طیارہ تباہ،6 افراد ہلاک

    تھائی لینڈ کی پولیس کا چھوٹا طیارہ ساحل کے قریب سمندر میں گر گیا، جس کے نتیجے میں جہاز میں سوار 6 افراد ہلاک ہوگئے۔ یہ واقعہ تھائی لینڈ کے مشہور سیاحتی شہر ہواہن کے قریب پیش آیا، جہاں کا ایئرپورٹ بھی واقع ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، یہ حادثہ تھائی لینڈ کے ہواہن ایئر پورٹ کے نزدیک سمندر میں پیش آیا، جب پولیس کا ٹوئن اوٹر طیارہ حادثے کا شکار ہو گیا۔ تھائی نیشنل پولیس نے اپنے سوشل میڈیا پیج پر اس حادثے کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ یہ طیارہ پولیس ایوی ایشن ڈویژن کا حصہ تھا اور افسران کی پیرا شوٹ کی تربیت کے لیے ایک آزمائشی پرواز پر تھا۔تھائی ایمرجنسی سینٹر کے مطابق، یہ حادثہ صبح سوا آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔ طیارے میں کل 6 افراد سوار تھے، جن میں ایک پائلٹ اور پانچ پولیس اہلکار شامل تھے۔ ان تمام افراد کی موت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    واقعے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور مقامی حکام نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ حادثے کی وجہ طیارے میں تکنیکی خرابی یا پرواز کے دوران کوئی غیر متوقع مسئلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اس بات کا تعین کیا جا سکے گا۔یہ واقعہ تھائی لینڈ میں پولیس کی ایوی ایشن ڈویژن کی تربیتی پروازوں کے دوران ایک سنگین حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں مقامی کمیونٹی اور پولیس فورس میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

  • دریائے راوی میں تین بچے ڈوب کر جاں بحق

    دریائے راوی میں تین بچے ڈوب کر جاں بحق

    لاہور کے علاقے بند روڈ ٹی نمبر 5 کے قریب دریائے روای میں تین بچے ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق یہ دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت پیش آیا جب بچے دریا کے قریب کھیل رہے تھے اور اچانک پانی میں گر گئے۔

    مقامی ذرائع کے مطابق پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے بچوں کی لاشوں کو دریا سے نکال لیا، اور ان کی شناخت کر لی۔ ڈاکٹرز نے بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔جاں بحق ہونے والے بچوں میں چھ سالہ نصیب اللّٰہ، سات سالہ امیر حمزہ اور نو سالہ قدرت اللّٰہ شامل ہیں۔ تینوں بچے مقامی علاقے کے رہائشی تھے اور کھیل کے دوران دریا کے قریب پہنچ گئے تھے جہاں وہ پانی میں گر گئے۔

    مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ بچوں کی حفاظت کے لیے دریا کے قریب حفاظتی انتظامات کیے جانے چاہئیں تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • توشہ خانہ ٹو،عمران،بشریٰ کی بریت درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    توشہ خانہ ٹو،عمران،بشریٰ کی بریت درخواست جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ ٹو کیس میں بریت کی درخواستوں پر جلد سماعت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ عدالت کے جسٹس انعام امین منہاس کی سربراہی میں دیا گیا۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی جلد سماعت کی درخواست منظور کی۔ وکیل خالد یوسف چوہدری کی جانب سے یہ استدعا کی گئی تھی کہ توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کی تاریخ جلد مقرر کی جائے، جس پر عدالت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے کیس کی سماعت کے لیے تاریخ مختص کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس انعام امین منہاس نے اس موقع پر ریمارکس دیے کہ "میں نے آرڈر کر دیا ہے، آفس کیس سماعت کے لیے جلد مقرر کر دے گا۔”

    یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں اپنی بریت کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ ان درخواستوں میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں توشہ خانہ میں مبینہ طور پر غیر قانونی خرید و فروخت کے الزامات سے بری کیا جائے۔

  • ندا ڈار مینٹل ہیلتھ کا شکار ہو گئیں

    ندا ڈار مینٹل ہیلتھ کا شکار ہو گئیں

    پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ندا ڈار نے حالیہ دنوں میں اپنے ذہنی دباؤ کا سامنا کیا ہے اور مینٹل ہیلتھ کے مسائل کے پیش نظر کرکٹ سے بریک لے لیا ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کا اعلان سوشل میڈیا پر کیا، جہاں انہوں نے اپنے مداحوں سے حمایت کی اپیل کی۔

    ندا ڈار نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ "پچھلے کچھ عرصے میں میری ذات اور کرکٹ پروفیشن کے حوالے سے مختلف مسائل پیدا ہوئے ہیں جس کی وجہ سے میری ذہنی صحت پر گہرا اثر پڑا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے باعث وہ کرکٹ سے وقفہ لے رہی ہیں تاکہ اپنی ذہنی اور جسمانی صحت پر توجہ دے سکیں۔سابق کپتان نے مزید کہا کہ "میں اپنے ذاتی معاملات اور پرائیویسی کا احترام کرنے کی درخواست کرتی ہوں۔” یہ بھی واضح کیا کہ کرکٹ سے بریک لینے کا مقصد اپنے آپ پر فوکس کرنا اور خود کو بہتر محسوس کرنا ہے۔

    ندا ڈار کو حال ہی میں آئی سی سی ویمن کرکٹ ورلڈ کپ کوالیفائر کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کیمپ میں شامل ہونے کا دعوت دی گئی تھی، جس کے بعد ان کا فٹنس ٹیسٹ لیا گیا۔ تاہم، فٹنس کی بنیاد پر انہیں اس موقع پر ٹیم میں جگہ نہیں مل سکی تھی۔

    اسی دوران فیصل آباد میں ہونے والے کرکٹ کیمپ میں ندا ڈار کی غیر حاضری بھی ایک اہم سوال بنی، اور اس کے بعد انہیں نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کھیلنے کے لیے مدعو کیا گیا، تاہم ندا ڈار نے اس ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور اس کے بجائے کرکٹ سے بریک لینے کا فیصلہ کیا۔

  • فضائی حدود بند،ایئر انڈیا،انڈیگو نے مسافروں کو دیا پیغام

    فضائی حدود بند،ایئر انڈیا،انڈیگو نے مسافروں کو دیا پیغام

    پاکستان نے بھارتی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جس کے بعد انڈیگو اور ایئر انڈیا نے اپنے مسافروں کو پروازوں کی تاخیر اور روٹ کی تبدیلی کے بارے میں خبردار کیا ہے۔

    دونوں ایئر لائنز نے ایکس پر جاری پیغامات میں کہا ہے کہ کچھ بین الاقوامی پروازوں کے شیڈول متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ پروازوں کے راستے تبدیل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے "متبادل طویل راستے” اختیار کیے گئے ہیں۔ایئر انڈیا نے کہا کہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے لیے جانے والی کچھ پروازیں متاثر ہو سکتی ہیں۔دونوں ایئر لائنز نے اس پریشانی پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور مسافروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے پرواز کے اوقات اور شیڈول کی دوبارہ تصدیق کر لیں۔

    چند گھنٹے پہلے پاکستان نے بھارتی ملکیت یا آپریٹ کی جانے والی تمام ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔یہ اقدام بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کے ردعمل میں کیے گئے متعدد سفارتی اقدامات کے بعد اٹھایا گیا تھا، جن میں ویزوں کی معطلی اور انڈس واٹر معاہدے کا معطل کرنا شامل ہے۔پاکستان نے انڈس واٹر معاہدے کی معطلی پر کہا کہ اس کے پانی کے حقوق چھیننے کی کسی بھی کوشش کو "جنگ کا عمل” سمجھا جائے گا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو اپنے دریائی پانی کی فراہمی کا 80 فیصد حصہ بھارت سے ملتا ہے۔

  • پہلگام واقعہ،پاک بھارت کشیدگی،امریکا کا ردعمل آ گیا

    پہلگام واقعہ،پاک بھارت کشیدگی،امریکا کا ردعمل آ گیا

    امریکا کا مقبوضہ کشمیر میں پہلگام واقعہ کے بعد بھارت اورپاکستان کے درمیان کشیدگی پر ردعمل سامنے آیا ہے

    امریکا نے مقبوضہ کشمیر میں دہشتگردی کے واقعہ کی ایک بار پھر مذمت کی ہے اور زور دیا ہے کہ اس واقعہ میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے،امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ میں کہا کہ ہم ان لوگوں کے لیے دعاگو ہیں جن کے عزیز اس واقعہ میں مارے گئے اور دعاگو ہیں کہ زخمی جلد صحت یاب ہوں،اس سوال پر کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کے لیے کردار کی خواہش ظاہر کی تھی، ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کریں گی،ہ وہ اس صورتحال پر مزید کچھ بھی نہیں کہیں گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو پہلے ہی اس معاملے میں بات کرچکے ہیں۔ وہ اس ضمن میں اپنا مؤقف واضح کرچکے ہیں اس لیے وہ خود اس معاملے پر مزید کچھ نہیں کہیں گی۔

    اس سوال پر کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرانے کے لیے کوئی کردار ادا کررہی ہے؟ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور یقینی طور پر اس وقت ہم کشمیر یا جموں کے اسٹیٹس پر کوئی مؤقف نہیں اپنا رہے۔

  • پہلگام واقعہ،ہلاک افراد کے لواحقین بھارت سرکار پر برس پڑے

    پہلگام واقعہ،ہلاک افراد کے لواحقین بھارت سرکار پر برس پڑے

    مقبوضہ جموں کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں منگل کے روز نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 26 سیاح ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ ایک خونریز حملے کی صورت میں سامنے آیا جس کے بعد مقامی عوام اور لواحقین نے بھارتی حکومت اور مودی سرکار پر شدید تنقید کی ہے۔

    پہلگام میں مارے گئے افراد کے لواحقین نے مودی حکومت کی سیکیورٹی انتظامات پر سوالات اٹھائے اور مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ مقبوضہ کشمیر میں ایک خاتون، جو اپنے شوہر کے قتل کے بعد بیوہ ہو چکی تھی، نے تعزیت کے لیے آنے والے بھارتی یونین منسٹر سی آر پاٹل کو سخت انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بیوہ نے کہا، "تمہارے پاس وی آئی پی گاڑیاں ہیں، تمہاری زندگی اہم ہے، مگر ٹیکس دینے والوں کی فکر نہیں۔”بیوہ نے مزید کہا کہ پہلگام میں سیکیورٹی اہلکار کیوں نہیں تھے؟ اور میڈیکل یونٹ کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ہولناک واقعے کے بعد اگر فوری طور پر امدادی کارروائیاں کی جاتیں تو شاید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

    مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی پارس جین نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 25 سے 30 منٹ تک جاری رہا، مگر اس دوران کسی سیکیورٹی اہلکار نے موقع پر پہنچ کر مدد فراہم نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے کے دوران بھارتی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کا کوئی نشان نہیں تھا، جو کہ ایک انتہائی سنگین بات ہے۔

    کشمیری عوام نے پہلگام میں ہونے والے اس واقعے کو بھارت کا فالس فلیگ آپریشن قرار دیا اور اس کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب بھارتی حکومت کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے، کیونکہ جہاں حملہ ہوا وہاں تک گاڑی نہیں جا سکتی۔ اس علاقے میں بھرپور سیکیورٹی انتظامات تھے، تو پھر یہ دہشت گرد کہاں سے آ گئے؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد کشمیری عوام کو کیا فائدہ ہوا؟

    مودی حکومت نے سیکیورٹی کی ناکامی کا سارا ملبہ پہلگام کے ہوٹل مالکان پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ہوٹل مالکان پولیس سے اجازت لیے بغیر سیاحوں کو سیاحتی مقامات پر لے کر گئے تھے۔ تاہم، بھارت کے وزیر داخلہ امیت شاہ نے تسلیم کیا کہ یہ واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا اور انہوں نے اعتراف کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی انتظامات میں کمی تھی۔

    پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، جس کے دوران 1500 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ گرفتاریوں کا سلسلہ بھارتی حکومت کی جانب سے علاقے میں مزید سیکیورٹی اقدامات کی علامت کے طور پر شروع کیا گیا ہے، تاہم کشمیری عوام نے اسے مزید جبر و استبداد کا حصہ قرار دیا ہے۔

  • پرنس ہیری اور میگھن کی بچوں کو سوشل میڈیا  نقصانات سے بچانے  کی اپیل

    پرنس ہیری اور میگھن کی بچوں کو سوشل میڈیا نقصانات سے بچانے کی اپیل

    پرنس ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن نے بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ نقصانات سے بچانے کے لیے سخت اقدامات کی اپیل کی ہے۔

    ڈیوک اور ڈچس آف سسیکس نے یہ درخواست اس وقت کی جب انہوں نے نیو یارک سٹی میں ایک عارضی یادگار کی نقاب کشائی کی، جس میں ان بچوں کی تصاویر شامل ہیں جو آن لائن مواد سے متاثر ہو کر فوت ہو گئے۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق، یہ مواد نقصان دہ تھا۔ "لوسٹ اسکرین” نامی یہ انسٹالیشن 24 گھنٹے کے لیے کھلی رہتی ہے، اور اس میں 50 روشن لائٹ باکس شامل ہیں جو اسمارٹ فونز کی شکل میں ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ ہر لائٹ باکس میں ایک بچے کی تصویر دکھائی گئی ہے "جس کی زندگی ڈیجیٹل خطرات کے باعث مختصر ہو گئی”۔

    پرنس ہیری نے اس مسئلے کو ایک "بڑھتا ہوا بحران” قرار دیتے ہوئے کہا: "سوشل میڈیا خاموشی سے ہمارے بچوں کو لے جا رہا ہے، اور وہ لوگ جو تبدیلی لا سکتے ہیں وہ اس پر عمل کرنے میں ناکام ہیں۔” انہوں نے ایک بیان میں کہا: "یہ بچے بیمار نہیں تھے۔ ان کی اموات غیر ضروری نہیں تھیں – انہیں آن لائن نقصان دہ مواد سے متاثر کیا گیا، وہ مواد جو کسی بھی بچے کے لیے دستیاب ہو سکتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا: "کسی بھی بچے کو ڈیجیٹل اسپیسز میں استحصال، گمراہ یا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ان پلیٹ فارمز کے لیے یہ بچے محض اعداد و شمار ہو سکتے ہیں، لیکن ان کے خاندانوں کے لیے وہ قیمتی اور ناقابلِ تبدیل تھے۔”ڈیوک نے یہ بھی کہا: "اگرچہ سوشل میڈیا کمپنیاں اقدامات اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں، لیکن بیشتر ابھی بھی غمگین والدین سے اہم ڈیٹا چھپاتی ہیں – وہ ڈیٹا جو جوابات اور جوابدہی فراہم کر سکتا ہے۔”

    جوڑے نے یادگار پر ایک نجی محفل میں شرکت کی اور کہا کہ تقریباً 50 خاندان اس مسئلے میں شامل ہیں اور یہ "وہ ہزاروں خاندانوں کی طاقتور نمائندگی ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو آن لائن نقصان کے باعث کھو دیا ہے۔”

    میگھن نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا: "ہمارے بچے ابھی چھوٹے ہیں … وہ شاندار ہیں، لیکن ایک والدین کے طور پر آپ کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ آپ انہیں محفوظ رکھیں۔””اور جیسے ہی ہم آن لائن دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہیں، ہمیں پتہ ہے کہ یہاں بہت کام کرنا باقی ہے، اور ہم خوش ہیں کہ ہم اچھے کی تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں۔”

    اوفکام نے جمعرات کو نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے جن کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں پر بھاری جرمانے یا پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں جو نوجوان صارفین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔ یہ اقدامات برطانیہ کے نگران ادارے کے بچوں کے قوانین کا حصہ ہیں، جو آن لائن سیفٹی ایکٹ کے تحت آتے ہیں، اور اس کا مقصد آن لائن پلیٹ فارمز کو بچوں کی حفاظت کے لیے ضروری قواعد و ضوابط فراہم کرنا ہے۔

  • بھارت ٹی ٹی پی، بی ایل اے سےدہشتگردی کروا سکتا،خواجہ آصف

    بھارت ٹی ٹی پی، بی ایل اے سےدہشتگردی کروا سکتا،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مصدقہ اطلاع ملی ہے کہ بھارت کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مسلح کررہا ہے۔

    جیونیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان اورکالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے )کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مسلح کررہا ہے تاکہ پنجاب اور سندھ سمیت پورے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پھیل جائے،پہلگام حملے میں جس تنظیم کا نام لیا جارہا ہےاسے کوئی جانتا بھی نہیں۔ پلواما اور سکھوں کے قتل میں بھی ایسی ہی ڈمی تنظیموں کے نام لیے گئے،یہ بھارت کے انٹیلی جنس اہل کار ہیں جو قتل عام کر رہے ہیں، ہم کراچی سے گلگت تک ہائی الرٹ رہیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیردفاع خواجہ آصف نے برطانوی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دے گا، دنیا کو دونوں جوہری ملکوں کے درمیان کشیدگی پر فکر مند ہونا چاہیے، بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، دونوں ملکوں کے درمیان تصادم کے تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔