Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیر خزانہ کی واشنگٹن میں فلپ مورس انٹرنیشنل کے نائب صدرسے ملاقات

    وزیر خزانہ کی واشنگٹن میں فلپ مورس انٹرنیشنل کے نائب صدرسے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف – ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں فلپ مورس انٹرنیشنل کے نائب صدر، جناب کرسٹوس ہارپانڈیتس سے ملاقات کی۔

    وزیرِ خزانہ نے پاکستان میں کمپنی کی دیرینہ سرمایہ کاری اور اس کے اقتصادی کردار کو سراہا۔ انہوں نے ملک میں بہتری کی جانب گامزن کاروباری ماحول اور حکومت کی ٹیکس اصلاحات پر روشنی ڈالی، جن کی بنیاد افراد، نظام اور ٹیکنالوجی پر رکھی گئی ہے۔وزیرِ خزانہ نے تمباکو نوشی کی غیر قانونی پیداوار اور فروخت کی روک تھام کے لیے مؤثر نفاذ اور تعمیل کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس کو وزارتِ خزانہ میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ محصولات اور ٹیرف سے متعلق فیصلے معاشی قدر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جا سکیں۔

    آخر میں، وزیرِ خزانہ نے فلپ مورس انٹرنیشنل سے درخواست کی کہ وہ اپنی ٹیکس تجاویز وزارتِ خزانہ کے ساتھ شیئر کرے۔

  • احسن اقبال کی زیر صدارت گوادر پورٹ کو فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس

    احسن اقبال کی زیر صدارت گوادر پورٹ کو فعال بنانے سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت وزیرِ اعظم کی کمیٹی برائے گوادر پورٹ کی فعالیت کا اعلیٰ سطحی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کا مقصد گوادر پورٹ کو تجارتی، صنعتی، سیاحتی اور لاجسٹکس کے مرکز کے طور پر فعال بنانے کے لیے مربوط لائحہ عمل کو حتمی شکل دینا تھا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور جناب محمد جنید انور، ممبر انفراسٹرکچر وقاص انور، وزارتِ خارجہ، داخلہ، صنعت، تجارت اور متعلقہ صوبائی محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
    اجلاس کے دوران ممبر انفراسٹرکچر نے گزشتہ اجلاسوں کے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ مختلف وزارتوں نے اپنی اپنی پیش رفت سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ احسن اقبال نے مقامی ماہی گیر برادری کو اقتصادی ترقی میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گوادر کی ترقی میں مقامی آبادی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہی گیری اور “بلو اکانومی” جیسے شعبہ جات کو “اڑان پاکستان” کے تحت برآمدات میں اضافے کے قومی پروگرام سے جوڑنے کی ضرورت ہے، اور اس مقصد کے لیے قابل ماہرین کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ایک جامع بزنس پلان مرتب کیا جائے۔
    احسن اقبال نے گوادر اور مسقط کے درمیان صرف 12 گھنٹے کی سمندری مسافت کا حوالہ دیتے ہوئے “پاکستان-خلیجی ریاستوں تجارتی راہداری” کے قیام کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سڑک، ریل اور بندرگاہوں کے مربوط نظام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں مؤثر تجارتی رابطے کے لیے یہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
    انہوں نے N-85 اور کوسٹل ہائی وے جیسے اہم سڑک رابطوں کی جلد تکمیل کی ہدایت کی اور کہا کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو مدعو کرنے سے پہلے بنیادی ڈھانچے اور سیکیورٹی کی مکمل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے گوادر سیف سٹی منصوبے پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور وزارت داخلہ اور حکومت بلوچستان کو ہدایت دی کہ منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔

    وزیرِ منصوبہ بندی نے ML-4 ریلوے منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے اور گوادر کو معدنیات کی برآمدات کے لیے خصوصی بندرگاہ بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ جات کی قیادت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے قابل اور کل وقتی پراجیکٹ ڈائریکٹرز کی تقرری ناگزیر ہے۔ اسی طرح گوادر کی شہری ترقیاتی منصوبہ بندی (Urban Development Plan) پر بھی نظرثانی کرتے ہوئے نیا PC-1 تیار کر کے سی ڈی ڈبلیو پی کو ارسال کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    وفاقی وزیر نے حکومت بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو ہدایت دی کہ صوبائی سیکٹرل منصوبے وفاقی حکومت سے شیئر کیے جائیں تاکہ انہیں “اُڑان پاکستان” کی مجموعی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ زمین کی منتقلی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک زمین کی منتقلی مکمل نہیں ہوتی، بندرگاہ کے لیے 40 سالہ ترقیاتی معاہدہ مؤثر نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کا مسئلہ گزشتہ دہائی سے زیر التواء ہے اور اب اس کا فوری حل قومی مفاد میں ناگزیر ہے۔

    بین الاقوامی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے وزیر منصوبہ بندی نے گوادر میں غیر ملکی ماہرین و کاروباری افراد کے لیے ایک محفوظ رہائشی کمپاؤنڈ کی تعمیر کی تجویز دی، جس کی طرز شَرم الشیخ یا دمّام جیسے کامیاب ماڈلز پر ہو۔ اسی طرح انہوں نے ساحلی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے عالمی سطح کے تفریحی مقامات کے قیام پر زور دیا اور معروف بین الاقوامی ہوٹل چینز کو گوادر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔احسن اقبال نے گوادر کی بین الاقوامی مسابقتی حیثیت جانچنے کے لیے دیگر بندرگاہوں جیسے سوہار، جبل علی وغیرہ کے ساتھ تقابلی جائزہ مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقصد محض ریونیو نہیں بلکہ گوادر کو ایک پرکشش سرمایہ کاری مرکز کے طور پر ابھارنا ہے۔2025 سے 2027 کے درمیان مجوزہ حکمت عملی میں افغان ٹرانزٹ تجارت کو فعال بنانا، سنٹرل ایشین ریاستوں سے روابط کو بڑھانا، RO-RO ٹرمینلز کی فزیبلٹی اسٹڈیز اور عالمی شپنگ کمپنیوں جیسے COSCO، CMA، CGM کے ساتھ مشاورت شامل ہے۔ اس کے علاوہ M-8 موٹر وے، ایسٹ بے ایکسپریس وے اور ML-4 جیسے منصوبوں کی بہتری بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

    وزیر منصوبہ بندی نے زور دیا کہ مقامی ماہی گیر برادری کی شراکت کو یقینی بنایا جائے اور بلوچستان و سندھ کی صوبائی آبی حکمت عملیوں کو “اڑان پاکستان” کے قومی وژن سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، آبی حیاتیات، ماہی گیری، اور بحری شعبے میں ہنر مندی کے فروغ کے اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے اجلاس میں گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GDA) کی غیر حاضری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزارت کو ہدایت دی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کو تحریری طور پر آگاہ کیا جائے کہ اتھارٹی کی شمولیت مستقبل کے تمام اہم اجلاسوں میں یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ گوادر ماسٹر پلان پر عملدرآمد کی رپورٹ تین روز کے اندر پیش کی جائے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ منصوبہ بندی کے مرحلے سے نکل کر عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوں۔ انہوں نے وفاقی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوادر کو قومی ترقی، علاقائی روابط اور برآمدات کے فروغ کے ایک موثر مرکز کے طور پر فعال بنانے کے لیے تمام اقدامات مربوط انداز میں کیے جائیں گے۔

  • بجلی جانے پر دولہے کا دلہن پر تشدد،بارات واپس،دلہن دیکھتی رہ گئی

    بجلی جانے پر دولہے کا دلہن پر تشدد،بارات واپس،دلہن دیکھتی رہ گئی

    بھارت میں شادیوں کے دوران کچھ نہ کچھ عجیب و غریب اور مضحکہ خیز واقعات پیش آنا معمول بن چکا ہے، اور حال ہی میں ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا ہے جس میں دولہے نے دلہن کو پٹائی کر دی۔ یہ واقعہ بھارتی شہر اندور کے ایک گاؤں بنگنگا میں پیش آیا، جہاں شادی کی تقریب کے دوران اچانک بجلی چلی گئی اور پھر وہی ہوا جس کی کسی نے بھی توقع نہیں کی تھی۔

    شادی کی تقریب میں دلہن کے اہل خانہ بارات کا انتظار کر رہے تھے۔ جیسے ہی دولہا ہیمنت کیتھواس بارات کے ساتھ انٹری دیتے ہیں، ان کا استقبال کیا جاتا ہے۔ تاہم، خوشی کا ماحول بہت جلد ٹوٹ گیا جب اچانک بجلی چلی گئی۔ اس پر دلہن والوں نے بجلی بحال کرنے کے لیے فوری طور پر متبادل انتظامات شروع کر دیے۔لیکن اس دوران دولہے اور باراتیوں کا پارہ ہائی ہو گیا، اور بات تلخ کلامی تک پہنچ گئی۔ دونوں طرف سے لفظوں کا تبادلہ اس قدر بڑھا کہ باراتیوں نے دلہن والوں پر حملہ کر دیا۔ ان کی جانب سے نہ صرف لفظی جنگ چھڑی بلکہ جسمانی تشدد بھی شروع ہو گیا ،پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی اور وہ فوراً موقع پر پہنچ گئی، مگر تب تک بارات والے تقریب چھوڑ کر واپس جا چکے تھے۔

    دلہن نے پولیس کو بتایا کہ اس کی شادی ہیمنت کیتھواس سے طے تھی اور بارات رات 10 بجے ان کے گھر پہنچی۔ دلہن کے اہل خانہ نے باراتیوں کا استقبال کیا اور انہیں کھانا کھلایا۔ مگر جب اچانک بجلی چلی گئی، تو اس کے بعد دولہا اور اس کے اہل خانہ نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ دولہے کے گھر والوں نے تلخ کلامی کی اور پھر تشدد کا راستہ اپنایا۔ دلہن کے مطابق، دولہے اور اس کے گھر والوں نے نہ صرف اس پر بلکہ اس کے اہل خانہ اور درمیان میں مداخلت کرنے والوں پر بھی تشدد کیا، اور اس کے بعد شادی کو منسوخ کر کے واپس روانہ ہو گئے۔

  • اہم شخصیات بارے توہین آمیز ویڈیوز بنانے پر درجنوں مقدمات

    اہم شخصیات بارے توہین آمیز ویڈیوز بنانے پر درجنوں مقدمات

    لاہور: لاہور میں اہم شخصیات سے متعلق توہین آمیز ویڈیوز بنانے اور سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے کے خلاف پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے دوران پیکا ایکٹ کے تحت 23 مقدمات درج کرلیے ہیں۔

    پولیس ذرائع کے مطابق یہ مقدمات لاہور کے مختلف تھانوں میں درج کیے گئے ہیں اور ان مقدمات میں وہ افراد شامل ہیں جو اہم شخصیات کے خلاف نازیبا مواد تیار کرتے تھے اور پھر اس کو سوشل میڈیا پر پھیلاتے تھے۔ یہ ویڈیوز نہ صرف متعلقہ شخصیات کی عزت کو مجروح کرتی تھیں بلکہ اداروں کی تضحیک اور تمسخر اڑانے کے عمل کا حصہ بھی تھیں۔اس سلسلے میں لاہور پولیس کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس قسم کے غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل میں ملوث افراد کو ہر صورت میں قانون کے مطابق سخت سزائیں دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اداروں کی عزت اور اہم شخصیات کے حقوق کا تحفظ کرنا پولیس کی اولین ترجیح ہے، اور ایسے عناصر کو ہر قیمت پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پولیس نے واضح کیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں اور جلد ہی مزید افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے مواد کو فوری طور پر ہٹائیں اور مستقبل میں اس قسم کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

    یہ واقعہ لاہور میں بڑھتے ہوئے سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کے خلاف کارروائیوں کی ضرورت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات میں ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لا کر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی تاکہ معاشرتی امن اور اخلاقی قدروں کا تحفظ کیا جا سکے۔

  • وفاق،سندھ کانئی نہریں نہ بنانے کا فیصلہ درست اور بروقت ہے،تابش قیوم

    وفاق،سندھ کانئی نہریں نہ بنانے کا فیصلہ درست اور بروقت ہے،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ نئی نہریں نہ بنانے کاوفاق اور سندھ کا باہمی اتفاق درست اور بروقت فیصلہ ہے، اندرونی مسائل کا حل مل بیٹھ کر کرنا خوش آئند،قوم کو بھارتی جارحیت کیخلاف متحد کیا جائے،

    اپنے ایک بیان میں تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پانی پاکستان کیلئے اب قومی سلامتی کا معاملہ بن چکا ،پانی ہو گا تو پنجاب اور سندھ کی نہروں میں پہنچے گا،بھارتی غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا بھرپور اور متحد ہو کرجواب دیا جائے، بھارت نے پاکستان کا پانی روکا تو منہ توڑ جواب ملے گا، پاکستان کے پانیوں کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے گا،ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی آبی جارحیت کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے،

  • مسئلہ کشمیر کی بنیاد شملہ معاہدہ،پاکستانی قوم اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے،خالد مسعود سندھو

    مسئلہ کشمیر کی بنیاد شملہ معاہدہ،پاکستانی قوم اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے،خالد مسعود سندھو

    قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامئے نے 24 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی،صدر مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی بنیاد شملہ معاہدہ،پاکستانی قوم اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہے، بانی پاکستان نے کشمیر کو شہہ رگ کہا،کشمیر پر قائداعظم محمد علی جناح کا مؤقف ،اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو آزادی ملنی چاہئے،اپنایا جائے، بھارتی اقدامات نے ثابت کر دیا کہ نظریہ پاکستان ہی بقائے پاکستان اور شہہ رگ کو چھڑانا فرض ہے، قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامئے نے 24 کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کی،بھارتی غیرذمہ دارانہ رویہ،قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ کی تائید کرتے ہیں، بھارتی غیر ذمہ دارانہ رویہ کے خلاف آج جمعہ کو بھی ملک گیر احتجاج ہو گا، دفاع پاکستان کیلیے قوم کو متحد کریں گے.

    ان خیالات کا اظہار خالد مسعود سندھو نے مرکزی سیکرٹریٹ میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، اجلاس میں سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ سیف اللہ قصوری، مرکزی ترجمان تابش قیوم بھی موجود تھے، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ بھارتی آبی جارحیت ،پاکستان کی لائف لائن پر حملے کا جواب عوام و افواج پاکستان ملکر دیں گے، مودی باز نہیں آتا تو شملہ سمیت تمام معاہدے معطل کئے جائیں،یک نکاتی کشمیرپالیسی بنائی جائے جس کا مقصد کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے آزادی دلانا ہو، بھارت کے ساتھ تجارتی روابط معطل کرنا قوم کی امنگوں کے مطابق ہے،پاکستانی قوم دنیا بھر میں بھارتی فلموں، گانوں کا بھی بائیکاٹ کرے،آج جمعہ کو ملک بھر میں مرکزی مسلم لیگ دفاع پاکستان کے لئے پھر سڑکوں‌پر ہو گی. ہر شہر میں بھارتی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا جائے گا.

  • بھارتی جھوٹ پکڑا گیا،پہلگام حملہ متاثرین زندہ نکلے،ویڈیو وائرل

    بھارتی جھوٹ پکڑا گیا،پہلگام حملہ متاثرین زندہ نکلے،ویڈیو وائرل

    بھارتی میڈیا کے جھوٹے دعوے بے نقاب، پہلگام حملے کے متاثرین زندہ و سلامت نکلے

    پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی میڈیا کا جھوٹ ایک بار پھر بے نقاب ہو گیا،پہلگام حملے میں مبینہ طور پر ہلاک بھارتی نیول آفیسر سے منسوب تصاویر اور ویڈیوز جعلی نکلیں، سوشل میڈیا پر وائرل بھارتی جوڑے کی ویڈیو میں زندہ ہونے کا انکشاف سامنے آگیا،زندہ بھارتی جوڑے کی پرانی تصاویر مبینہ طور پر ہلاک افراد کے ساتھ منسوب کی گئیں

    ویڈیو میں لڑکی کو سنا جا سکتا ہے کہ ’’ہم زندہ ہیں، معلوم نہیں کہ ہماری تصاویر کو بھارتی میڈیا پر کیوں چلایا جا رہا ہے‘‘ہماری تصاویر کو نیول آفیسر اور اس کی اہلیہ کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے،ان تصاویر کے میڈیا پر چلنے سے ہم اور ہمارے اہلخانہ بہت پریشان ہیں،بھارتی عوام تمام بھارتی نیوز چینلز اور اخبارات کو رپورٹ کریں کہ ہماری جعلی تصاویر نہ چلائیں،

    سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طرح یہ جوڑا زندہ نکلا ہے، اسی طرح بہت سے دوسرے لوگ بھی بعد میں زندہ ہو سکتے ہیں، یہ سب بھارتی ایجنسی را کا ڈرامہ تھا جو آہستہ آہستہ بے نقاب ہو رہا ہے،

  • پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ

    پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے نجکاری کمیشن نے اظہار دلچسپی کی درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ یہ فیصلہ پی آئی اے کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مالی استحکام کے لیے کیا گیا ہے۔

    نجکاری کمیشن کے مطابق، پی آئی اے کی نجکاری کے لیے اظہار دلچسپی کی درخواستوں کی آخری تاریخ 3 جون 2025 رکھی گئی ہے۔ اس تاریخ تک متوقع سرمایہ کار اپنی درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔کمیشن نے مزید بتایا کہ نجکاری کے ذریعے پی آئی اے کا مینجمنٹ کنٹرول بھی متوقع سرمایہ کار کو منتقل کر دیا جائے گا۔ یہ اقدام پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری لانے اور کمپنی کو منافع بخش بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔کمیشن کے مطابق، نئے سرمایہ کاروں کو متعدد مراعات دی جائیں گی۔ ان مراعات میں نئے جہاز خریدنے یا لیز پر لینے پر 18 فیصد جی ایس ٹی کی چھوٹ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کو پی آئی اے کی بیلنس شیٹ میں شامل کچھ واجبات کی منتقلی کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔

    اس کے ساتھ ساتھ بعض ٹیکسوں اور قانونی مقدمات کے حوالے سے تحفظ یا کوریج بھی فراہم کی جائے گی تاکہ سرمایہ کاروں کو قانونی پیچیدگیوں سے بچایا جا سکے اور وہ اپنے کاروبار پر توجہ مرکوز کر سکیں۔یہ اقدام پی آئی اے کی مالی حالت کو مستحکم کرنے اور قومی ایئرلائن کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ جدید چیلنجز کا مقابلہ کر سکے اور زیادہ موثر طریقے سے کام کر سکے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،اہم فیصلے ہو گئے، اعلامیہ جاری

    وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی اجلاس،اہم فیصلے ہو گئے، اعلامیہ جاری

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اہم اجلاس وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہوا

    اجلاس میں غیر قانونی طور پر بھارت کی زیر تسلط جموں و کشمیر میں حالیہ صورتحال اور اسکے نتیجے میں بھارتی یکطرفہ و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے تناظر میں اہم فیصلے متوقع ہیں،اجلاس میں اعلی سول و عسکری قیادت شریک ہے.

    وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس اعلامیہ جاری کر دیا گیا،پہلگام حملے پر بھارتی الزامات مسترد،بھارت کی آبی جارحیت پر سخت ردعمل، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کی بھارتی کوشش ناقابل قبول قرار دی گئی، پاکستان نے سندھ طاس معاہدہ ملتوی کرنے کے بھارتی اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔شرکاء نے قومی سلامتی کے منظر نامے، علاقائی صورتحال بالخصوص غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں منگل کو ہونے والے پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔کمیٹی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی ثالثی عالمی بینک نے کی اور اس میں یکطرفہ طور پر معطلی کی کوئی شق نہیں ہے۔ پانی پاکستان کا ایک اہم قومی مفاد ہے، جس پر اس کے 24 کروڑ عوم کی زندگی منحصر ہے اور اس کی دستیابی کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کوئی بھی کوشش اور زیریں دریا کے حقوق غصب کرنے کو ایک جنگی قدم تصور کیا جائے گا اور قومی طاقت کے مکمل دائرہ کار میں پوری قوت سے جواب دیا جائے گا۔

    بین الاقوامی کنونشنز، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کو اپنی مرضی سے نظر انداز کرنے والے بھارت کے لاپرواہ اور غیر ذمہ دارانہ رویے کو دیکھتے ہوئے، پاکستان اس وقت بھارت کے ساتھ تمام دوطرفہ معاہدوں کو معطل کرنے کا حق استعمال کرے گا، جو صرف شملہ معاہدے تک ہی محدود نہیں رہے گا، جب تک بھارت سرحد پار قتل و غارت، بین الاقوامی قوانین اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی عدم پاسداری سے باز نہیں آتا۔فورم نے فیصلہ کیا کہ پاکستان واہگہ بارڈر کو فوری طور پر بند کر دے گا۔ اس راستے سے ہندوستان سے تمام سرحد پار آمدورفت بغیر کسی استثنا کے معطل رہے گی۔ جو لوگ درست قانونی طریقے سے پاک بھارت سرحد عبور کر چکے ہیں وہ اس راستے سے فوری طور پر واپس جا سکتے ہیں لیکن 30 اپریل 2025 کے بعد یہ سہولت بند کردی جائے گی۔پاکستان نے ہندوستانی شہریوں کو جاری کردہ سارک ویزہ استثنی اسکیم (SVES) کے تحت تمام ویزوں کو بھی معطل کر دیا ہے، سکھ مذہبی یاتریوں کے علاوہ اورانہیں فوری طور پر منسوخ تصور کیا ہے۔ سارک ویزہ اسیکم کے تحت فی الحال پاکستان میں موجود ہندوستانی شہریوں، سکھ یاتریوں کے علاوہ، کو 48 گھنٹوں کے اندر پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاکستان نے اسلام آباد میں بھارتی دفاعی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ شخصیات قرار دے دیا۔ انہیں 30 اپریل تک پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان مشیروں کے معاون عملے کو بھی ہندوستان واپس جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔30 اپریل 2025 سے اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کی تعداد 30 سفارت کاروں اور عملے کے ارکان تک محدود کر دی جائے گی۔پاکستان کی فضائی حدود میں ہندوستان کی ملکیت اور ہندوستان سے چلنے والی تمام ایئرلائنز کو فوری طور پر بند کیا جارہا ہے۔ بھارت کے ساتھ تمام تجارت، بشمول کسی تیسرے ملک سے پاکستان کے راستے تجارت، فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔قومی سلامتی کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور اس کی مسلح افواج کسی بھی مہم جوئی کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کی بھرپور صلاحیت کی حامل اور مکمل طور پر تیار ہیں، جیسا کہ فروری 2019 میں بھارت کی دراندازی پر پاکستان کے بھارت کے خلاف بھرپور ردعمل سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔فورم نے اس امر کو اُجاگر کیا کہ بھارت کے جارحانہ اقدامات نے دو قومی نظریہ کے ساتھ ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح کے خدشات کی بھی توثیق کی ہے ۔ 1940 کی قرارداد جو کہ پوری پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمان ہے، کی بنیاد بھی دو قومی نظریہ ہی تھا۔پاکستانی قوم امن کے لیے پرعزم ہے لیکن کسی کو بھی اپنی خودمختاری، سلامتی، وقار اور ناقابل تنسیخ حقوق سے تجاوز کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

  • بھارتی رویئے کی مذمت، جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    بھارتی رویئے کی مذمت، جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 31 واں اجلاس ہوا جس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حکومت کے جارحانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی حکومت کا یہ رویہ افسوسناک اور ناقابل برداشت ہے اور مودی سرکار ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس واقعے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے،
    علی امین گنڈاپور نے اپنے دوٹوک موقف میں کہا کہ خیبر پختونخوا اور پورا پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے ہر طرح سے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ بھارتی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے،وزیر اعلیٰ کے پی نے مزید کہا کہ بھارتی حکومت اپنی نااہلی چھپانے کے لئے پاکستان کے خلاف زہر اگل رہی ہے اور اگر بھارت نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی سالمیت اور قومی مفاد کے لئے ہم سب متحد ہیں اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی کے لئے تیار ہیں،علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بھارتی حکومت کا جارحانہ رویہ ہمیشہ سے خطے کے امن کے لئے ایک بڑا خطرہ رہا ہے اور یہ صورتحال مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔