Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جناح ہسپتال میں ڈاکٹر لڑ پڑے،پانچ زخمی

    جناح ہسپتال میں ڈاکٹر لڑ پڑے،پانچ زخمی

    کراچی: جناح اسپتال میں ینگ ڈاکٹروں کے دو گروپوں میں جھگڑے کے نتیجے میں پانچ ڈاکٹرز زخمی ہوگئے۔ اسپتال حکام کے مطابق یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب ینگ ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے او پی ڈی (آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ) کھولنے کی کوشش کی، جس پر دوسرے گروپ نے اسے بند کرنے کی کوشش کی۔

    یہ تنازعہ گزشتہ ہفتے تیمارداروں کے ڈاکٹرز پر تشدد کے خلاف ہونے والے احتجاج سے جڑا ہوا تھا۔ وائی ڈی اے (ینگ ڈاکٹرس ایسوسی ایشن) کا ایک گروپ اس بات پر احتجاج کر رہا تھا کہ اسپتال میں تیمارداروں نے ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کی تھی، جس کے نتیجے میں یہ صورتحال اور پیچیدہ ہوگئی۔اسپتال حکام کے مطابق، پولیس فوراً موقع پر پہنچ کر صورت حال کو قابو کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ پولیس کی مداخلت کے بعد او پی ڈی دوبارہ کھول دی گئی اور کچھ ڈاکٹروں کو حفاظتی تدابیر کے تحت پولیس اپنے ساتھ لے گئی تاکہ کسی مزید بدامنی سے بچا جا سکے۔

    اس تنازعے کے پس منظر میں وائی ڈی اے کے احتجاج کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا، اور اسپتال میں ینگ ڈاکٹروں کے گروپوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسپتال میں امن قائم کرنے کے لئے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس واقعے کے بعد جناح اسپتال میں ڈاکٹرز اور دیگر عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے اضافی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

  • پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت میں کشمیری طلبا کو ہراساں کیا جانے لگا

    پہلگام ڈرامہ کے بعد بھارت میں کشمیری طلبا کو ہراساں کیا جانے لگا

    مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو ہراساں کیا جارہاہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کنوینر ناصر کھوہامی نے کہا کہ کشمیری طلبہ پر دہشتگرد ہونےکاا لزام عائد کیا جارہا ہے، بھارتی ریاستوں اتراکھنڈ، اترپردیش اور ہماچل پردیش میں کشمیری طلبہ سے اپارٹمنٹ اور ہاسٹل چھوڑنے کا کہا جارہاہے،نہ چھوڑنے پرسنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

    ناصرکھوہامی نے کہا کہ ہماچل پردیش کی یونیورسٹی میں ہاسٹل کے دروازے توڑے جانے کے بعد طلبہ کو ہراساں کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایاگیا، یہ مخصوص علاقے اور شناخت رکھنے والے طلبہ کے خلاف نفرت اور توہین کی مہم ہے۔

    یاد رہے کہ 3 روز قبل مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن زخمی ہوگئے تھے۔

  • بھارت نے حکومتِ پاکستان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کر دیا

    بھارت نے حکومتِ پاکستان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بلاک کر دیا

    بھارت نے حکومتِ پاکستان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بند کر دیا ہے، جس میں گورنمنٹ آف پاکستان کا ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل شامل ہے۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا ہے جب بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کے خلاف شدید اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

    28 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کی دھمکی دی تھی۔ پہلگام میں یہ ہلاکتیں ایک حملے کے نتیجے میں ہوئیں، جس کے بعد بھارت نے واہگہ اٹاری سرحد کو یکطرفہ طور پر بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔بھارت نے سندھ طاس معاہدہ بھی یکطرفہ طور پر معطل کر دیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بھارت سے پانی کی فراہمی کی ضمانت حاصل ہے، لیکن بھارت نے اس معاہدے کی معطلی کا فیصلہ کیا ہے۔ علاوہ ازیں بھارت نے پاکستانی شہریوں کے بھارتی ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں اور ہندوستان میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

    پاکستان نے بھارت کے ان اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو عالمی سطح پر متنازعہ قرار دیا ہے۔ حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ رویہ خطے میں امن کے لیے خطرہ بن سکتا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی ظاہر ہوں گے۔

  • ڈی جی والڈ سٹی لاہور، کامران لاشاری مستعفی

    ڈی جی والڈ سٹی لاہور، کامران لاشاری مستعفی

    ڈی جی والڈ سٹی لاہور، کامران لاشاری نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے استعفے کی وجہ سرکلر روڈ لاہور کی تقریباً 6 ہزار دوکانوں کو مسمار کرنے کی ذمہ داری سے فرار کو سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس میں یہ انکشاف ہوا کہ شاہی قلعہ لاہور سمیت دیگر قدیمی عمارتوں میں شادی بیاہ اور نجی تقریبات کا انعقاد کمرشل بنیادوں پر جاری ہے، حالانکہ ہائیکورٹ نے ان تقریبات کے حوالے سے سخت احکامات دے رکھے تھے۔

    کامران لاشاری نے ان مسائل کے سامنے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جس سے ان کی جانب سے اس ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ظاہر ہوتی ہے۔ اس پیش رفت کو لاہور کی تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور ترمیم کے حوالے سے ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یاد رہے کہ حال ہی میں مسلم لیگ ن کے صدر، میاں محمد نواز شریف نے لاہور کو اس کی حقیقی شکل میں بحالی اور خوبصورتی کے حوالے سے ایک اہم اعلان کیا تھا۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت بھی کی تھی، جس میں شہر کی تاریخی ورثہ کی حفاظت اور ترقی کے لئے حکومتی اقدامات پر غور کیا گیا تھا۔

  • کراچی،قانون کے طلبا اور پولیس میں تصادم

    کراچی،قانون کے طلبا اور پولیس میں تصادم

    کراچی: ڈیفنس تھانے میں قانون کے طلبہ اور پولیس کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس میں طلبہ نے توڑ پھوڑ کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دو طلبہ کو اہلکاروں نے تلاشی کے دوران روکا، جس پر تلخ کلامی ہوئی، اور اس دوران طلبہ نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی اور تشدد کیا۔

    اس واقعے کے بعد وکلا نے الزام عائد کیا کہ طلبہ کو تھانے میں تذلیل کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ وکلا کے مطابق، ایف آئی آر کی درخواست پر تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد معاملہ بڑھا اور پولیس کی جانب سے کارروائی کی گئی۔وکلا نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی فائرنگ سے 4 طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی طلبہ کے مطابق، پولیس کی کارروائی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان پر بلاجواز فائرنگ کی گئی۔ وکلا نے مطالبہ کیا کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ اس طرح کے واقعات کا تدارک ہو سکے اور انصاف کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔

    پولیس کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، تاہم یہ واقعہ شہر میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر رہا ہے اور دونوں طرف سے الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

  • فحش ویڈیو  وائرل ہونے پر ٹک ٹاکر سجل کا ردعمل

    فحش ویڈیو وائرل ہونے پر ٹک ٹاکر سجل کا ردعمل

    پاکستان کی مشہور سوشل میڈیا شخصیت، ٹک ٹاکر سجل ملک حالیہ دنوں میں ایک نازیبا ویڈیو کے وائرل ہونے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تیزی سے پھیل گئی تھی اور دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون سجل ملک ہیں۔ اس ویڈیو کی وائرل ہونے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت میں بھی قیاس آرائیاں اور بحث جاری تھیں۔

    مذکورہ وائرل ویڈیو میں ایک خاتون معیوب حالت میں نظر آ رہی ہیں، تاہم یہ تصدیق کرنا مشکل تھا کہ آیا یہ خاتون سجل ملک ہیں یا کوئی اور۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سجل ملک کو شدید تنقید کا سامنا رہا ، اس ویڈیو کی وجہ سے سجل ملک کی شہرت پر منفی اثرات پڑے۔سجل ملک نے خود اس معاملے پر خاموشی توڑتے ہوئے اس ویڈیو کے بارے میں ردِ عمل دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ "میرے نام سے منسوب وائرل ہونے والی فحش ویڈیو کا تعلق مجھ سے نہیں ہے۔” سجل ملک نے اس ویڈیو کے بارے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں شکایت درج کروا دی ہے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں۔ایک نجی میڈیا ہاؤس سے بات کرتے ہوئے سجل ملک نے کہا کہ "اس ویڈیو کو میرے ساتھ منسوب کرنے کا مقصد میرا نام خراب کرنا ہے اور اس ویڈیو کے ذریعے میری بدنامی کی جا رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "میں جعلی فحش ویڈیو کے وائرل ہونے کی وجہ سے شدید ذہنی پریشانی کا شکار ہوں۔”ٹک ٹاکر سجل ملک نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "یہ ویڈیو میری نہیں ہے، بلکہ کسی اور خاتون کی نامناسب ویڈیو ہے جسے میرے ساتھ جوڑ کر پھیلایا جا رہا ہے۔” ان کے مطابق اس ویڈیو کا مقصد صرف ان کی شہرت کو نقصان پہنچانا ہے۔

    سجل ملک کی سوشل میڈیا پر ایک بڑی فین فالوئنگ ہے۔ ٹک ٹاک پر ان کے 1 لاکھ 76 ہزار سے زائد فالوورز اور 2 ملین سے زیادہ لائکس ہیں، جبکہ انسٹاگرام پر بھی ان کے 574 ہزار فالوورز موجود ہیں۔

    سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سجل ملک کی حمایت اور مخالفت دونوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، تاہم سجل ملک نے اس تمام معاملے کو جھوٹا اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے فالوورز سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی بے بنیاد اور من گھڑت خبروں پر یقین نہ کریں۔

  • بھارتی اقدامات امن کے لئے سنگین خطرہ ہیں، یوسف رضا گیلانی

    بھارتی اقدامات امن کے لئے سنگین خطرہ ہیں، یوسف رضا گیلانی

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے بھارتی الزامات کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں اور یہ بدنیتی پر مبنی ہیں۔

    ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور ان الزامات کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ہونے والے مظالم سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانا ہے۔یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ بھارت کے اقدامات خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں اور عالمی برادری کو بھارت کے ان ہتھکنڈوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا فیصلہ قابلِ مذمت ہے اور اس کا مقصد پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے یہ اقدامات نہ صرف پاکستان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہیں اور ان کے ذریعے بھارت نے ہمیشہ خطے کے امن کو داؤ پر لگایا ہے۔

    یاد رہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ کے تین بڑے دریاؤں پر حقوق حاصل ہیں، جنہیں بھارت نے حالیہ برسوں میں مختلف بہانوں سے چیلنج کیا ہے۔چیئرمین سینیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے حقوق کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھاتا رہے گا اور عالمی برادری کو بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا محاسبہ کرنا چاہیے۔

  • فالس فلیگ آپریشن،بھارتی مکاریوں  کی طویل فہرست

    فالس فلیگ آپریشن،بھارتی مکاریوں کی طویل فہرست

    بھارت کی جانب سے عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنے اندرونی مسائل سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لینے کی ایک طویل اور منظم تاریخ سامنے آ چکی ہے۔ ان جھوٹے اور منصوبہ بند واقعات کا مقصد نہ صرف پاکستان کو عالمی سطح پر دہشتگرد کے طور پر پیش کرنا تھا بلکہ سفارتی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچانا تھا۔

    1971 کا طیارہ اغواء : جنوری 1971 میں انڈین ایئرلائنز کے ایک طیارے کو اغواء کر کے لاہور لے جایا گیا، جس کا الزام فوری طور پر پاکستان پر لگا کر مشرقی پاکستان کے لیے فضائی رابطہ معطل کر دیا گیا۔ بعد میں یہ سازش خود بھارتی ایجنسیوں کی کارستانی ثابت ہوئی۔

    کلنٹن کے دورے کے دوران سکھوں کا قتل عام : 20 مارچ 2000 کو امریکی صدر بل کلنٹن کے دورہ بھارت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 36 بے گناہ سکھوں کو قتل کیا گیا۔ ابتدا میں پاکستان پر الزام لگا، مگر شواہد سے ثابت ہوا کہ یہ واقعہ بھارتی فورسز کا منصوبہ بند حملہ تھا تاکہ کلنٹن کے دورے کے دوران پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔

    بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ – 2001 : 13 دسمبر 2001 کو بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کا الزام بغیر کسی واضح شواہد کے پاکستان پر لگا دیا گیا۔ اس واقعے کو بھارت نے جنگی ماحول پیدا کرنے اور سرحد پر فوجی نقل و حرکت کا جواز بنانے کے لیے استعمال کیا۔

    سمجھوتہ ایکسپریس حملہ – 2007 : فروری 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکوں سے 68 افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی۔ حملے کا الزام پاکستان پر لگا، لیکن بعد میں بھارتی ہندو شدت پسند تنظیموں کی شمولیت کے ثبوت سامنے آئے۔

    ممبئی حملہ – 2008 : ممبئی حملے کا الزام بھی فوری طور پر پاکستان پر لگا دیا گیا، تاہم تحقیقات میں تضادات، اور انسداد دہشتگردی کے سربراہ ہیمنت کرکرے کی مشکوک ہلاکت نے معاملے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

    پٹھان کوٹ حملہ – 2016 : نریندر مودی کے اچانک دورہ پاکستان کے چند دن بعد جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ ایئربیس پر حملہ ہوا، جسے پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن شواہد نے اسے سفارتی سازش قرار دیا۔

    پلوامہ حملہ – 2019 : فروری 2019 میں پلوامہ میں حملہ ایسے وقت پر ہوا جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان کا دورہ کرنے والے تھے۔ بھارت نے فوری طور پر پاکستان کو ملوث قرار دیا، مگر تحقیقاتی تضادات اور وقت کا تعین اس حملے کو مشکوک بناتا ہے۔

    جعلی کارروائی کا انکشاف – 2023 : جنوری 2023 میں پاکستانی انٹیلیجنس نے پونچھ، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فالس فلیگ آپریشن کا منصوبہ بے نقاب کیا، جسے بھارت یومِ جمہوریہ کے موقع پر انجام دے کر پاکستان کو دہشتگرد ریاست کے طور پر پیش کرنا چاہتا تھا۔

    یہ تمام واقعات بھارت کے اُس منظم طرزعمل کی عکاسی کرتے ہیں، جس کے تحت وہ اہم سفارتی مواقع اور بین الاقوامی دوروں کے دوران فالس فلیگ آپریشنز کا سہارا لے کر پاکستان کے خلاف جھوٹی مہم چلاتا رہا ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

  • وفاقی وزیرِ خزانہ  کی واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات

    وفاقی وزیرِ خزانہ کی واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات، محمد اورنگزیب نے آج واشنگٹن ڈی سی میں ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیرِ خزانہ نے پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال، مالیاتی استحکام کے اقدامات اور معیشت کے کلیدی محرکات پر تفصیل سے گفتگو کی۔

    وزیرِ خزانہ نے اس بات کا خیرمقدم کیا کہ ایس اینڈ پی گلوبل کی ٹیم رواں ماہ کے آخر میں پاکستان کا دورہ کرے گی، جس کے دوران وہ ملک کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے وفد کو پاکستان کی معیشت کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی۔محمد اورنگزیب نے خاص طور پر فِچ ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری (B-) کا ذکر کیا، جسے حکومت کے ساختی اصلاحاتی ایجنڈے پر عالمی سطح پر اعتماد اور پاکستان کی معیشت میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح مظہر قرار دیا۔ وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ یہ بہتری پاکستان کے معاشی استحکام اور اصلاحات کے اقدامات کی کامیابی کا غماز ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ ایس اینڈ پی گلوبل بھی فِچ ریٹنگز کی طرز پر پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری لانے پر غور کرے گا، جس سے ملک کی معیشت کو عالمی سطح پر مزید فائدہ پہنچے گا۔

  • بھارت کو اس کے ہر اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔شیخ رشید

    بھارت کو اس کے ہر اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔شیخ رشید

    سابق وزیرِ داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت کی آبی دہشت گردی قرار دیا ہے۔

    شیخ رشید احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو معطل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو مشترکہ طور پر اس کی پاسداری کرنی چاہیے، اور بھارت کا اس معاہدے کو ختم کرنے کا فیصلہ پاکستان کے خلاف ایک جارحانہ اقدام ہے۔شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ کشمیر میں بھارت کے ظلم و ستم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور عالمی سطح پر اس پر آواز اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے بھارت کے جارحانہ رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قوم اپنی سرزمین کے ایک ایک چپے کی حفاظت کرنا خوب جانتی ہے، اور وقت آنے پر بھارت کو اس کے ہر اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور مختلف سیاسی و عوامی حلقوں کی جانب سے بھارت کی مذمت کی جا رہی ہے۔