Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس،عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ زیر بحث

    قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس،عمران خان سے ملاقاتوں کا معاملہ زیر بحث

    قائمہ کمیٹی داخلہ کے اجلاس میں عمران خان سے ملاقات زیر بحث آگئی۔

    حامد رضا نے کہا کہ جیل میں ہم عمران خان سے ملنے جاتے ہیں تو وہاں پولیس ہمارے ساتھ کیا کرتی ہے،نثار جٹ نے سوال اٹھایا کہ اسلام آباد پولیس کا کام کیا پارلیمنٹیرینز کو ہراساں کرنا رہ گیا ہے،حامد رضا نے اعتراض اٹھایا کہ اسلام آباد پولیس کی کیا کارکردگی ہے؟چوری ڈکیتی کے بڑھتے واقعات پر تو کوئی اقدام نہیں ہوتا۔

    طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کا اختیار میرے پاس ہے ہم جواب دیں گے، اگر کوئی دوسرا ادارہ ملوث ہے تو وہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے، اسلام آباد پولیس سے جواب کے لیے آئندہ ایجنڈے پر رکھیں،زرتاج گل نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے لیے جاتی ہوں تو 6،6 گھنٹے باہر روک کر ملاقات نہیں کروائی جاتی، عمران خان کی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا جاتا ہے، روزانہ کا ایک تماشہ بنا رکھا ہے،حامد رضا نے کہا آئی جی اسلام آباد کو بلا لیں کیونکہ میری انسانی حقوق کمیٹی میں تو وہ کئی نوٹسز کے باوجود نہیں آئے۔

  • پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی  نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    مقبوضہ کشمیر پہلگام فالس فلیگ حملہ پر سری نگر کے ایک کشمیری نے اہم ترین سوال اٹھا دیے

    پہلگام حملے کے حوالے سے سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا ہے، سری نگر کے رہائشی کا کہنا ہے کہ یہ گورنمنٹ فیلئیر ہے، انٹیلیجنس اور سیکیورٹی فیلئیر ہے ،مقبوضہ کشمیر چھوٹا سا علاقہ ہے یہاں 7 لاکھ سے زائدفوج ہے، حملے کے وقت وہ کہاں تھی کیا کر رہی تھی،حملے کے وقت امت شاہ کیا کر رہا تھا ، وقف بل ہو یا اور معاملہ اسے صرف مسلمانوں کیخلاف بولنا آتا ہے،یہ حملہ پر امن کشمیریوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے،کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو،یہ حملہ پہلے جیسے فالس فلیگ آپریشنز جیسا ہی ہے، جیسے چھتی سنگھ پورہ کا واقعہ کیا گیا یہ بھی ویسا ہی ہے،یہاں دال گیٹ میں جو گرینیڈ حملہ ہوا وہ کس نے کیاتھا، اس کی رپورٹ کہاں ہے،پہلگام حملے کی تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئے،میں یہاں لال گیٹ کا رہائشی ہوں، میں 1990 سے دیکھ رہاہوں یہاں کیا ہو رہا ہے،کشمیریوں نے تو 1990 میں بھی کسی سیاح کو ہاتھ نہیں لگایا، جب یہاں سیکیورٹی والے یہاں چل نہیں سکتے تھے،

  • بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام  فالس فلیگ آپریشن  کا بیانیہ بے نقاب

    بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بے نقاب

    مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والا حملہ بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز کا تسلسل ہےجس کے شواہد سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر موجود ہیں ۔2007ء کا سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ ، 2008 ءکے ممبئی حملے ، 2018 ءمیں انتخابات سے پہلے سیاحوں پر حملے، پلوامہ 2019 ء ہو یا 2023 میں راجوڑی ۔ ان تمام واقعات میں بھارت کی ریاستی مشینری فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جاری حق خود ارادیت کی تحریک اور پاکستان کیخلاف ایک مربوط بیانیہ تشکیل دیتی آرہی ہے۔

    جنگی جنون میں مبتلا بھارت کی جانب سے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد خطے کے امن کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر پاکستان کے عوام اور مسلح افواج دندان شکن جواب دینے کیلئے تیار ہیں، بھارت نے ایسی ہی ایک حرکت فروری 2019ء میں کی تھی جس کا جواب آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی صورت میں پاکستان کی جانب سے واضح طور پر دیا گیا تھا اب بھی بھارت کی جانب سے کوئی ایسی مہم جوئی کی گئی تو مسلح افواج اور عوام متحد ہو کر ازلی دشمن بھارت کو منہ توڑ جواب دینگے۔

    میڈیا ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری کشمیری مزاحمتی گروپ ٹی آر ایف نے قبول کی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ واقعہ مقامی سطح پر پیش آیا۔ ٹی آر ایف آرٹیکل 370 کے اطلاق کے بعد مزاحمت کے طور پر سامنے آئی۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کشمیریوں پر مظالم اور سخت قوانین کے اطلاق کیلئے جواز پیدا کرنے کی مذموم سازش ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی وقف املاک پر قبضہ کرنے کیلئے مودی سرکار نے ناجائز قوانین سے توجہ ہٹانے کیلئے فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا ہے۔

    بھارت جانتا ہے کہ پاکستان نے فتنہ الخوراج اور بی ایل اے جیسے دہشتگرد گروہوں کو منظم اور عسکری حکمت عملی سے زیر کرلیا ہے اور ملک میں بھی سیاسی استحکام آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ بھارت اپنے ناکام مگر طے شدہ عسکری آپشن آزمانے کی کوشش کررہا ہے ۔پہلگام حملے پر واویلا مچا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی مذموم سازش کی جا رہی ہے مگر کچھ سنجیدہ سوالات ہیں جن کا جواب بھارت کو بہرحال دینا ہوگا، ۔

    پہلگام حملہ اگر واقعی دہشت گرد حملہ تھا تو ان نام نہاد دہشت گردوں کی لاشیں کہاں ہیں۔۔۔؟
    میڈیا پر ایک مشکوک تصویر سامنے آئی ہے جس میں زمین پر لیٹے مرد کے پاس ایک عورت بیٹھی ہے، مگر تصویر میں نہ خون نظر آتا ہے، نہ زخم، اور نہ ہی کوئی فوری تباہی کا ثبوت۔۔۔۔۔؟
    بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے عین اس وقت پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرنا شروع کی جب بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ ہو رہا تھا، کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ تھا۔۔۔۔؟
    جہاں یہ واقعہ پیش آیا، لائن آف کنٹرول سے تقریباً 400 کلومیٹر دور واقع ہے، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی تعینات ہیں یعنی ہر سات کشمیریوں پر ایک فوجی اور ہر سو میٹر پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے تو ایسے میں پہلگام تک حملہ آور کیسے پہنچ گئے۔۔؟
    کیا کوئی ہتھیار، مواصلاتی ریکارڈ، ویڈیو فوٹیج یا کوئی بھی مادی شواہد موجود ہیں۔۔۔؟
    سوال یہ ہے کہ یہ منظم حملے اکثر تب ہی کیوں پیش آتے ہیں جب کوئی مغربی یا امریکی سیاسی شخصیت بھارت کا دورہ کر رہی ہو۔۔۔۔؟
    بھارت کے جھوٹ اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ جو ملک دنیا بھر میں سکھوں کو ٹارگٹ کر کے بین الاقوامی دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، وہ کس منہ سے پاکستان پر الزام لگا سکتا ہے۔۔۔؟

  • ،پنجاب حکومت کی کسان کیلئے پالیسی چوں چوں کا مربہ ہے،ندیم قریشی

    ،پنجاب حکومت کی کسان کیلئے پالیسی چوں چوں کا مربہ ہے،ندیم قریشی

    سینئر رہنما پاکستان تحریک انصاف، ترجمان پی ٹی آئی پنجاب اسمبلی ،ممبر صوبائی اسمبلی ندیم قریشی نےعظمی بخاری اور عاشق کرمانی کی پریس کانفرنس کے ردعمل میں کہا ہے کہ ن لیگ کی نااہل حکومت نے کسانوں کو آئی ایم ایف کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے ،

    ندیم قریشی کا کہنا تھا کہ ن لیگی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کسانوں کو زندہ درگور کرنے کے بعد ان کے ارمانوں پر فاتحہ خوانی پڑھنے کی تقریب تھی،حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ فوڈ سکیورٹی کو یقینی بنائے،پنجاب حکومت کی کسان کیلئے پالیسی چوں چوں کا مربہ ہے،ن لیگ حکومت کی زراعت پالیسی مڈل مین اور انویسٹر کو سپورٹ کرنے کیلئے ہے،جب کسان مجبور ہو کر دو ہزار میں اپنی گندم بیچ دے گا تو سرمایہ دار سٹور کرلے گا، دو تین ماہ بعد جب گندم قیمت بڑھ جائے گی تب انویسٹر فائدے سمیٹے گاکسان کو پنجاب حکومت کی پالیسی کا رتی برابر بھی فائدہ نہیں ہوگا،ن لیگ کی قاتل حکومت نے کسان کی کمر توڑ دی ہے،اگر پنجاب حکومت کی کسان پالیسی اچھی ہوتی تو کسان سڑکوں پر کیوں احتجاج کررہا ہوتا؟کیوں کسان لاہور کی طرف مارچ کررہے ہیں

  • حکومتی کارکردگی میں بہتری کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی

    حکومتی کارکردگی میں بہتری کیلئے وزیراعظم نے کمیٹی بنا دی

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے حکومتی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے وفاقی وزرا اور دیگر حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی حکومتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لے گی اور انہیں مزید مؤثر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کرے گی۔

    حکام کے مطابق، اس کمیٹی میں وزیر توانائی، وزیر موسمیاتی تبدیلی، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اہم حکام شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، وزیر خزانہ کو اس کمیٹی کا کنوینر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد حکومتی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے، تاکہ عوام کو زیادہ موثر اور بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔کمیٹی ایف بی آر کے موجودہ فریم ورک اور اس کے نتائج کا تفصیل سے تجزیہ کرے گی تاکہ اس کی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔ اس کے علاوہ، وفاقی اداروں کے لیے ایک معیاری جانچ اور فیڈبیک (feedback) سسٹم تیار کیا جائے گا تاکہ حکومتی کارکردگی کو مسلسل بہتر بنایا جا سکے۔

    کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 30 دنوں کے اندر اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے تاکہ اس کے نتائج پر مزید فیصلے کیے جا سکیں۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ کمیٹی ایک اہم قدم ہے جس کا مقصد حکومتی اداروں میں شفافیت اور بہتری لانا ہے تاکہ عوام کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔

  • عالیہ حمزہ کی ضمانت منظور

    عالیہ حمزہ کی ضمانت منظور

    راولپنڈی کی عدالت نے پی ٹی آئی رہنما عالیہ حمزہ کی ضمانت منظور کر لی۔

    راولپنڈی کی مقامی عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ قمر عباس نے پی ٹی آئی کی رہنما عالیہ حمزہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کی شرط پر ضمانت دی۔عالیہ حمزہ کی ضمانت کے لئے مقامی کارکن شبان جاوید راجہ ساکن یونین کونسل ترائیہ نے مچلکے جمع کر ادیئے

    یاد رہے کہ عالیہ حمزہ کو 19 اپریل کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ان پر اور پی ٹی آئی کے دیگر چار کارکنان پر تھانہ ایئرپورٹ میں مقدمہ درج ہے، جس میں سرکاری کام میں مداخلت اور پولیس سے مزاحمت کے الزامات شامل کیے گئے ہیں،پولیس کا مؤقف ہے کہ عالیہ حمزہ اور ان کے ساتھیوں کو ایک غیر قانونی سرگرمی سے باز رہنے کی ہدایت کی گئی، تاہم مزاحمت پر انہیں حراست میں لے کر مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں عوامی سڑک بلاک کرنے، پولیس پر پتھراؤ اور مزاحمت جیسی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

  • عمران خان کے قریبی ساتھیوں پر فردجرم عائد،ضمانت میں توسیع

    عمران خان کے قریبی ساتھیوں پر فردجرم عائد،ضمانت میں توسیع

    عمران خان کی نااہلی پر احتجاج کے کیس میں عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کردی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نااہلی پر فیض آباد کے مقام پر احتجاج کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی جب کہ ملزمان کی جانب سے صحت جرم سے انکار کردیا گیا،کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی ۔جس میں فیصل جاوید خان، عامر کیانی، واثق قیوم اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے، جہاں پی ٹی آئی وکلا نے عدالت سے فرد جرم مؤخر کرنے کی استدعا کی.جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ ہر جگہ یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمات درج ہوگئے،ٹرائل نہیں ہورہا۔ یہ آپ لوگ ہی کہتے ہیں یا تو کہہ دیں کہ مقدمات کا ٹرائل نہ ہو.وکیل سردار مصروف ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ بات ان کیسز کی نہیں ہے، یہ سیاسی کیسز کی بات ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی بریت کی درخواستیں خارج ہوچکی ہیں، اب تو وہ چیلنج بھی ہوچکی ہیں،عدالت نے راجا راشد حفیظ کو ایک لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ راشد حفیظ جب تک مچلکہ جمع نہیں کروائیں گے کورٹ روم نہیں چھوڑیں گے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 12 مئی تک ملتوی کردی۔کیس کے سلسلے میں ملزمان کی جانب سے وکیل سردار مصروف خان ، زاہد بشیر ڈار عدالت میں پیش ہوئے ۔ مقدمے کے ملزمان میں فیصل جاوید خان، واثق قیوم، عامر کیانی ودیگر نامزد ہیں۔

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنماوں کیخلاف تھانہ آئی 9 میں مقدمہ درج ہے،

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف 26 نومبر احتجاج پر درج مقدمات میں ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت انسداددہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں عدالت نے پی ٹی آئی کے 3 ایم این ایز کی عبوری ضمانتوں میں توسیع کردی،دورانِ سماعت پی ٹی آئی ایم این ایز، ساجد خان، فضل محمد خان اور آصف خان عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ باقی ملزمان کی ضمانتیں 5 مئی کو فکس ہیں،جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ میں نے یہ الگ رکھی تھی تاکہ ملزمان شامل تفتیش ہوجائیں۔ان درخواستوں کو بھی باقی کا ساتھ اب رکھ لیتے ہیں،بعد ازاں عدالت نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت 5 مئی تک ملتوی کردی ۔ ملزمان کی جانب سے ایڈووکیٹ طلعت رضوان سیال عدالت میں پیش ہوئے،یاد رہے کہ پی ٹی آئی ایم این ایز تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمے میں نامزد ہیں۔

  • وزیر خزانہ کی امریکہ میں عالمی مالیاتی اداروں ،کارپوریٹ لیڈرز سے ملاقاتیں

    وزیر خزانہ کی امریکہ میں عالمی مالیاتی اداروں ،کارپوریٹ لیڈرز سے ملاقاتیں

    پاکستانی سفارتخانے میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے عالمی مالیاتی اداروں، معروف امریکی کمپنیوں اور کارپوریٹ لیڈرز سے اہم ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستان کی اقتصادی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے مواقع اور نجی شعبے کے کردار پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملک کی اقتصادی ترقی کو آگے بڑھانے میں نجی شعبے کے اہم کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آبادی میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کے تعاون کی اشد ضرورت ہے،اس موقع پر امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان 250 ملین کی بڑی مارکیٹ ہے اور وہ وسطی ایشیا، چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے لیے گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے آئی ٹی سیکٹر اور معدنیات میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

    ملاقات میں معروف ٹیلی کام کمپنی جاز کے سی ای او عامر ابراہیم نے حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ملکی معیشت کی استعداد پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ اسی طرح امریکی کمپنی فلپ مورس نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کا عندیہ دیا۔

    ورلڈ بینک کے نائب صدر مارٹن ریزر نے بھی پاکستان کی معاشی استحکام سے متعلق حکومتی پالیسیوں کو سراہتے ہوئے مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لیے 40 ارب ڈالر کے دس سالہ پروگرام کا اعلان ورلڈ بینک کے پاکستان سے وابستگی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے،آئی ایم ایف کے ایگزیکیٹو ڈائریکٹر بہادر بیجانی نے بھی حکومتی اصلاحاتی عمل اور اقتصادی پالیسیوں کو سراہا، اور عالمی اداروں کے اعتماد کی توثیق کی۔

  • عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کیلئے اپیل،سپریم کورٹ نے نمٹا دی

    عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کیلئے اپیل،سپریم کورٹ نے نمٹا دی

    سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر پنجاب حکومت کی اپیلیں نمٹا دیں۔

    دوران سماعت عدالت نے کہا کہ پنجاب حکومت چاہے تو ٹرائل کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، بانی پی ٹی آئی کے وکلاء درخواست دائر ہونے پر مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ملزم کی گرفتاری کو ڈیڑھ سال گزر چکا، اب تو جسمانی ریمانڈ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے کہا کہ ملزم کے فوٹو گرامیٹک، پولی گرافک اور وائس میچنگ ٹیسٹ کرانے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ درخواست میں استدعا ٹیسٹ کرانے کی نہیں جسمانی ریمانڈ کی تھی،

    جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ کسی عام قتل کیس میں تو ایسے ٹیسٹ کبھی نہیں کرائے گئے، توقع ہے عام آدمی کے مقدمات میں بھی حکومت ایسے ہی کارکردگی دکھائے گی،جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ ڈیڑھ سال بعد جسمانی ریمانڈ کیوں یاد آیا،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم بانی پی ٹی آئی نے تعاون نہیں کیا،جسٹس ہاشم کاکڑ نے سوال کیا کہ جیل میں زیرِ حراست ملزم سے مزید کیسا تعاون چاہیے؟ میرا ہی ایک فیصلہ ہے کہ ایک ہزار سے زائد ضمنی چالان بھی پیش ہو سکتے ہیں، ٹرائل کورٹ سے اجازت لے کر ٹیسٹ کروالیں،جسٹس صلاح الدین پنہور نے سوال کیا کہ استغاثہ قتل کے عام مقدمات میں اتنی متحرک کیوں نہیں ہوتی؟ اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ 14جولائی 2024ء کو ٹیم بانی پی ٹی آئی سے تفتیش کرنے جیل گئی لیکن ملزم نے انکار کر دیا، بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسے پیغامات ہیں جن میں کہا گیا گرفتاری ہوئی تو احتجاج ہو گا،جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ اگر یہ سارے بیانات یو ایس بی میں ہیں تو جا کر فارنزک ٹیسٹ کرائیں،اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں ہمارے ساتھ تعاون کیا جائے۔

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے، 26 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اگر ہم نے کوئی آبزرویشن دے دی تو ٹرائل متاثر ہوگا، ہم استغاثہ اور ملزم کے وکیل کی باہمی رضامندی سے حکمنامہ لکھوا دیتے ہیں،ذوالفقار نقوی نے کہا کہ میں اسپیشل پراسیکیوٹر ہوں، میرے اختیارات محدود ہیں، میں ہدایات لیے بغیر رضامندی کا اظہار نہیں کر سکتا،جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ چلیں ہم ایسے ہی آرڈر دے دیتے ہیں، ہم چھوٹے صوبوں سے آئے ہوئے ججز ہیں، ہمارے دل بہت صاف ہوتے ہیں، 5 دن پہلے ایک فوجداری کیس سنا، نامزدملزم کی اپیل 2017ء میں ابتدائی سماعت کے لیے منظور ہوئی، کیس میں نامزد ملزم 7 سال تک ڈیتھ سیل میں رہا جسے باعزت بری کیا گیا، ہمیں 3 ماہ کا وقت دیں فوجداری کیسز ختم کر دیں گے۔

    سپریم کورٹ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے جسمانی ریمانڈ کے لیے دائر کی گئی اپیلیں 2 بنیادوں پر نمٹائی جاتی ہیں، استغاثہ بانہ پی ٹی آئی کے پولی گرافک ٹیسٹ، فوٹو گرافک ٹیسٹ اور وائس میچنگ ٹیسٹ کے لیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے میں آزاد ہے، بانی پی ٹی کی قانونی ٹیم ٹرائل کورٹ میں ایسی درخواست آنے پر لیگل اور فیکچوئل اعتراض اٹھا سکتی ہے۔

  • مذاکرات دھمکیوں کےذریعے نہیں ہوتے، عظمیٰ بخاری

    مذاکرات دھمکیوں کےذریعے نہیں ہوتے، عظمیٰ بخاری

    وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ کینالز منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا اور اس پر سندھ ہمیں ڈکٹیشن نہیں دے سکتا۔

    لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کوسندھ کے کسانوں کی فکرکیوں نہیں ہوتی؟ پیپلزپارٹی سندھ میں 16 سال سے اقتدارمیں ہے، اپنی کارکردگی پردھیان دے، اگرپیپلزپارٹی غلط بیانی سے کام لےگی توجواب دینا پڑے گا، ابھی تک کوئی نہربننا شروع نہیں ہوئی مگر ایسا نہیں کہہ رہی کہ اتفاق رائے نہیں ہوا تونہریں نہیں بنیں گی، مذاکرات دھمکیوں کےذریعے نہیں ہوتے، اس منصوبے میں سیلاب کا پانی استعمال ہوگا، سندھ ہمیں ڈکٹیشن تونہیں دے سکتا کہ ہم سیلاب کے پانی کا کیا کریں گے۔

    واضح رہے کہ دریائے سندھ سے 6 کینالز نکالنے کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے جب کہ وکلا کی جانب سے سکھر ببرلو بائی پاس پر دیا گیا دھرنا بھی تاحال جاری ہے جس کے باعث سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹریفک معطل ہے۔

    دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ اور وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کرنے اتفاق ہوا تھا۔