Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جیب میں بم رکھ دیا،ڈکیتی کے بعد واپس چھوڑ آؤ،شہری نے ڈاکو کی بات مان لی

    جیب میں بم رکھ دیا،ڈکیتی کے بعد واپس چھوڑ آؤ،شہری نے ڈاکو کی بات مان لی

    لاہور میں ڈکیتی کی انوکھی واردات ہوئی ہے جہاں لٹنے والا شہری خود ڈاکو کو گھر لے گیا،لوٹ مار کروائی اور پھر واپس بھی چھوڑ آیا،

    لاہور کے علاقے شالیمار میں انوکھی واردات ہوئی جہاں متاثرہ شہری حسن شہزاد کے مطابق وہ 19 اپریل صبح ساڑھے 8 بجے موٹرسائیکل پر جا رہا تھا کہ سیٹھاں والی باغیچی کے قریب ایک راہ گیر نے راستہ پوچھنے کے لیے روکا اور ایک ڈیوائس اس کی جیب میں ڈال دی اور کہایہ بم ہے ،مزاحمت کی توبم سے اُڑا دوں گا۔ پھر کہا اپنے گھر لے چلو،گھر پہنچ کر اس نے زیورات ،نقدی،موبائل فون،کریڈٹ کارڈز لیے اور کہا ،اب واپس چھوڑ آؤ،سی سی ٹی وی میں ڈاکو شہری حسن شہزاد کے ساتھ موٹرسائیکل پر بیٹھا نظر آتا ہے۔

    دوسری جانب پولیس نے 2 دن بعد ڈکیتی کی بجائے چوری اور دھوکا دہی کا مقدمہ درج کر لیا،ایس پی اثر علی چوہدری کے مطابق مقدمہ درج کرلیا اور ملزم کی گرفتاری کیلئے ٹیم بھی تشکیل دےدی ہے، مقدمہ درج کرنے میں تاخیر اور دفعات سے متعلق ایس ایچ او سے وضاحت طلب کی جائے گی۔

  • دس برس میں 55 کھرب کا نقصان،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    دس برس میں 55 کھرب کا نقصان،قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    پاکستان کے 23 سرکاری اداروں (اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائزز) نے گزشتہ 10 سال کے دوران قومی خزانے کا 55 کھرب روپے (5.19 ارب ڈالرز) کا نقصان کیا ہے اور اس میں اگر صرف قومی ائیرلائن پی آئی اے کی بات کی جائے تو اسے 700 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کے اجلاس میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور نجکاری محمد علی کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار سرکاری شعبہ جات میں کئی دہائیوں سے پائی جانے والی نا اہلی اور بد انتظامی پروشنی ڈالتے ہیں،محمد علی کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال نہ صرف ناپائیدار ہے بلکہ ہر ٹیکس دہندہ پر بوجھ ہے۔ رکن قومی اسمبلی فاروق ستار کی زیر صدارت ہوئے اجلاس میں بتایا گیا کہ رواں ماہ مزید ایک ہزار یوٹیلیٹی اسٹورز بند کیے جائیں گے، سینکڑوں ملازمین فارغ ہو جائیں گے۔ اس صورتحال سے ملازمین کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت اجاگر ہوتی ہے۔

    کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ موجودہ 5500 میں سے صرف 1500 یوٹیلیٹی اسٹورز ہی فعال رہیں گے، جبکہ مالی لحاظ سے بہتر حالات والے اسٹورز کی نجکاری کا منصوبہ موجود ہے،فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ملازمتوں کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ان اقدامات کی وجہ سے ملازمین کا مستقبل نظر انداز نہیں ہونا چاہیے،کمیٹی کو بتایا گیا کہ اسٹورز کے 2237 ملازمین کو فارغ کیا جا چکا ہے، گزشتہ مالی سال کے دوران 38 ارب روپے کی سبسڈی کے باوجود یوٹیلیٹی اسٹورز کو رواں سال مختص کردہ 60 ارب روپے نہیں دیے گئے۔ پاور ڈویژن کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ خسارے کا شکار بجلی کی تین تقسیم کار کمپنیاں (سیپکو، حیسکو اور پیسکو) کی نجکاری کیلئے ورلڈ بینک کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

  • پہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارت کی پاکستان کیخلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    پہلگام فالس فلیگ آپریشن، بھارت کی پاکستان کیخلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    ہندوستان کی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں پاکستان کے خلاف سازش کھل کر سامنے آ گئی

    پہلگام فالس فلیگ حملے کے پیچھے چھپے بھارتی محرکات کھل کر سامنے آگئے،بھارت کی آبی جارحیت کھل کر سامنے آگئی،ہندوستان کسی بھی طرح قانونی طور پر اس معاہدے کو یک طرفہ ختم نہیں کر سکتا، ہندوستان نے اپنا غیر ذمہ دارانہ اور مذموم چہرہ دنیا کو دکھا دیا ،ہندوستان نے پہلگام فالس فلیگ کے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر سندھ طاس معاہدے کو غیر قانونی طور پر یک طرفہ معطل کر دیا، یہ مذموم حرکت 1960 کے سندھ طاس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے،سندھ طاس معاہدے کے شق نمبر12۔ (4) کے تحت یہ معاہدہ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جبکہ دونوں ملک تحریری طور پر متفق نہ ہوں، بھارت نے بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے یہ انتہائی اقدام اٹھایا

    سندھ طاس معاہدے کے علاوہ بھی انٹرنیشنل قانون کے مطابق Upper riparian , lower riparian کے پانی کو نہیں روک سکتا ،پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960ء میں دریائے سندھ اور دیگر دریاؤں کا پانی منصفانہ طور تقسیم کرنے کیلئے سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا،اس معاہدے کے ضامن میں عالمی بینک بھی شامل ہے، معاہدےکی روح سے بھارت یکطرفہ طور پر یہ معاہدہ معطل نہیں کر سکتا,انٹرنیشنل واٹر ٹریٹی بین الاقوامی سطح پر پالیسی اور ضمانت شدہ معاہدہ ہے، انٹرنیشنل معاہدے کو معطل کر کے بھارت دیگر معاہدوں کی ضمانت کو مشکوک کر رہا ہے، ہندوستان اس طرح کے نا قابل عمل اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کر کے اپنے اندرونی بے قابو حالات سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے،

  • پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟کشمیری صحافی

    پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟کشمیری صحافی

    کشمیری صحافی نے بھارتی سیکیورٹی نظام پر بڑا سوال اٹھا دیا

    کشمیری صحافی نےسوال کیا کہ "پہلگام میں حملہ آور سخت نگرانی کے باوجود کیسے پہنچے؟”7 سے 12 لاکھ بھارتی فوجی تعینات، پھر بھی سیکیورٹی ناکام کیوں؟ ،”ایک عام شہری کو دس بار چیک کیا جاتا ہے، مگر حملہ آور بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ گئے؟”،سخت ترین سیکیورٹی کے باوجود پہلگام میں دہشتگردی کیوں ممکن ہوئی؟،”کیا بھارتی فوج صرف عام کشمیریوں کی تلاشی کے لیے ہے؟” ،”حملہ آور کہاں سے آئے؟ انہوں نے درجنوں چیک پوسٹس کیسے عبور کیں؟” "کیا یہ حملہ اندرونی سہولت کاری کے بغیر ممکن تھا؟”اتنی بھاری نفری کے باوجود سیکیورٹی میں اتنا بڑا خلا کیوں؟ –

    بھارتی فوج کی کارکردگی اور نیت، دونوں پر کشمیری عوام سوال اٹھا رہے ہیں،ان سوالات نے بھارت کی ممکنہ سازش اور فالس فلیگ آپریشن کا پردہ فاش کر دیا

  • سابق آسٹریلوی کرکٹر کیتھ اسٹیک پول چل بسے

    سابق آسٹریلوی کرکٹر کیتھ اسٹیک پول چل بسے

    آسٹریلیا کے سابق کرکٹر کیتھ اسٹیک پول 84 برس کی عمر میں وفات پا گئے،

    آسٹریلیا کے سابق اوپننگ بیٹر کیتھ اسٹیک پول وکٹوریا سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے 1966 سے 1974 کے دوران 43 ٹیسٹ میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی،دائیں ہاتھ کے اوپنر نے 43 ٹیسٹ میچز میں 37.42 کی اوسط سے 2 ہزار 807 رنز بنائے، جن میں 7 سنچریاں بھی شامل تھیں،کیتھ اسٹیک پول نے 1971 میں میلبورن کرکٹ گراؤنڈ میں انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے تاریخ کے پہلے ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں بھی حصہ لیا، جہاں انہوں نے لیگ اسپن بولنگ کے ذریعے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

    انہوں نے 6 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 224 رنز اسکور کیے تھے،اسٹیک پول کو 1970-71 کی ایشیز سیریز میں گابا کے مقام پر انگلینڈ کے خلاف 207 رنز کی یادگار اننگز کھیلنے پر یاد کیا جاتا ہے،وہ 1972 کی ایشیز سیریز میں آسٹریلوی نائب کپتان کی حیثیت سے 485 رنز بنا کر ٹاپ اسکورر بھی رہے۔کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹیک پول نےریڈیو اور ٹی وی کمنٹری میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔

    ان کے انتقال پر کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین مائیک بیئرڈ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیک پول کی کرکٹ کیلئے خدمات کو طویل عرصے تک یاد کیا جائے گا۔

  • پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

    پہلگام "ڈرامہ”،بھارتی بدمعاشی، سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ،سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ پہلگام خودساختہ واقعہ کے بعد بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا کھلم کھلا اعلان جنگ ہے، بھارت پاکستان کی زراعت ،صنعت کو تباہ کرنے کے درپے ہے، مرکزی مسلم لیگ آج جمعرات کو بھارتی ہٹ دھرمی،پروپیگنڈے اور پاکستان کیخلاف اقدامات پر ملک گیر احتجاج کرے گی، لاہور سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کئے جائیں گے، بھارتی اقدامات کے خلاف قوم کو متحد و بیدار کریں گے.

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ گزشتہ دن پہلگام میں جو حملہ ہوا،اس میں 27 جانوں‌کے ضیاع کی پرزور مذمت کرتے ہیں، اس حملے کی آڑ میں بھارتی میڈیا نے میرے خلاف الزام تراشی اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا ہے جو قابل مذمت ہے ،اس واقعہ کے بعد بھارت نے اب سندھ طاس معاہدہ کو معطل کر دیا ہے،بھارت پاکستان کے پانیوں کو روکنا چاہتا ہے،پاکستان کی زراعت ،صنعت کو تباہ کرنا چاہتا ہے، وہ ایک جنگی دشمن ہے اور پاکستان کے امن کو تباہ کرنا چاہتا ہے،مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوج بھیج کر مودی سرکار نے جنگ کی کیفیت پیدا کی ہے،ہم بھارت کے عزائم سمجھتے ہوئے عالمی دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بھارت کی حمایت کی بجائے حق و سچ کے ساتھ کھڑے ہوں، بھارتی جارحیت کی مذمت کی جائے، پہلگام میں رچائے گئے بھارتی خود ساختہ ڈرامے کو مسترد کرتے ہیں،یہ اسکی سوچی سمجھی سازش ہے، اس کا پاکستان یا کسی پاکستانی شہری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ پہلگام خود ساختہ ڈرامے کا مودی سرکار کا اصل مقصدسندھ طاس معاہدہ ختم کرنا تھا ،بھارت نے ماضی میں پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز بنائےاور پاکستان کا پانی روکا، اب بھی مودی سرکار اسی روش پر چل رہی ہے، بھارت پاکستان کی زراعت کو تباہ ،بنجر کرنے کی سازش کر رہا ہے اور یہ بھارتی اقدامات پاکستان کے خلاف اعلان جنگ ہیں،ہم بھارتی اقدامات کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے اور پاکستانی قوم کو متحد و بیدار کریں گے، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت بھی بھارت کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے اور قومی مفاد ،عوامی جذبات کومدںظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے.

    پہلگام حملے کا الزام پاکستان پر لگانا نامناسب ہے، وزیر دفاع

    پہلگام واقعہ،قابل مذمت،سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ کا افسوس،تشویش کا اظہار

    پہلگام حملہ، سری نگر کے رہائشی نےبھارتی پروپیگنڈے کا دیا منہ توڑ جواب

    بھارت کا پاکستان مخالف پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا بیانیہ بے نقاب

  • بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری چیک پوسٹ بند،سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان

    بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل،اٹاری چیک پوسٹ بند،سفارتی عملہ کم کرنے کا اعلان

    بھارت نے پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور اٹاری چیک پوسٹ کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی زیر صدارت کابینہ اجلاس کے بعد کیا گیا ہے۔

    بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ بھارت نے پاکستانی شہریوں کے لئے سارک کے تحت ویزے بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق، تمام پاکستانیوں کے بھارتی ویزے فوری طور پر کینسل کر دیے جائیں گے۔ مزید برآں، بھارت میں موجود پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں کے اندر بھارت چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں موجود بھارتی شہریوں کو یکم مئی تک اٹاری چیک پوسٹ کے ذریعے واپس آنے کی اجازت ہوگی۔اس کے علاوہ، بھارت نے پاکستانی ہائی کمیشن میں تعینات تمام دفاعی، فوجی، بحری اور فضائی مشیروں کو ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے انہیں واپس بلا لیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق، بھارتی دفاعی اتاشی کو پاکستان سے واپس بلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کا عملہ بھی محدود کر دیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت بھارتی ہائی کمیشن کے عملے کی تعداد یکم مئی تک 55 سے کم کر کے 30 کر دی جائے گی۔

    جموں و کشمیر کے پہلگام میں حملے میں 26 افراد کی ہلاکت کے بعد، بھارت کے سابق خارجہ سیکریٹری کنول سبھال نے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "خون اور پانی ساتھ نہیں چل سکتے”۔یہ حملہ جس کی ذمہ داری تحریکِ مزاحمت فرنٹ نے قبول کی ہے، منگل کو کیا گیا۔ اس حملے میں 26 افراد، جن میں ایک نیوی آفیسر اور انٹیلی جنس بیورو کے افسر بھی شامل تھے، ہلاک ہو گئے۔

    سابق بھارتی سفیر کنول سبھال نے بدھ کے روز ایک پوسٹ میں کہا کہ اس حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرنا ایک مستند اور مؤثر ردعمل ہوگا۔ انہوں نے کہا: "ہم نے پہلے ہی کہا ہے کہ خون اور پانی ساتھ نہیں چل سکتے، اب ہمیں اپنے موقف پر عمل کرنا چاہیے۔ یہ ایک اسٹریٹجک جواب ہوگا۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت امریکہ کے ساتھ ایک طاقتور پوزیشن میں ہے، کیونکہ یہ حملہ امریکی نائب صدر کے بھارت کے دورے کے دوران ہوا۔

    سندھ طاس معاہدہ اور اس کی اہمیت
    سندھ طاس معاہدہ 1960 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک کو دریاؤں کے پانی کے استعمال میں تعاون اور معلومات کے تبادلے کی اجازت دی گئی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کے زیرِ استعمال دریاؤں کے پانی کے معاملات کا فیصلہ ایک نیوٹرل ماہر کے ذریعے کیا جاتا ہے، اور حالیہ برسوں میں بھارت نے پاکستان سے اس معاہدے پر نظرثانی کی درخواست بھی کی تھی۔

    بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کی شام کابینہ کمیٹی برائے سیکیورٹی کے اجلاس سے پہلے کہا کہ بھارت دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا: "جو لوگ ان درندہ صفت اقدامات کے ذمہ دار ہیں، انہیں جلد ہی سخت جواب دیا جائے گا۔ ہم نہ صرف ان درندوں کو سزا دیں گے جنہوں نے اس بربریت کو انجام دیا، بلکہ ان کے پیچھے چھپے ہوئے ماسٹر مائنڈز کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔”

  • پہلگام واقعہ،قابل مذمت،سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ کا افسوس،تشویش کا اظہار

    پہلگام واقعہ،قابل مذمت،سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ کا افسوس،تشویش کا اظہار

    حکومت سیاسی جماعت کے عہدیدار کیخلاف بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈےکا جواب دے،سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پہلگام میں سیاحوں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعہ پر گہری تشویش کا اظہا رکرتے ہیں۔ معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

    اپنے ایک بیان میں سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لیے جائز تحریک کو دہشت گردی سے جوڑنے کے لیےسازشیں کرتا رہا ہے۔حالیہ واقعہ کے بعد بھی جس طرح بھارتی میڈیا پاکستان کے خلاف مہم بنا کر پروپیگنڈا کررہا ہے یہ بھی بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی حق خود ارادیت کے لیے جاری تحریک کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش معلوم ہوتی ہے۔بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو ہوا دینے میں بھی ملوث ہے،کلبھوشن یادیو کی پاکستان سے گرفتاری بھارتی دہشتگردی کا دنیا کے سامنے واضح ثبوت ہے،کینیڈا و دیگر ممالک میں بھارتی دہشت گردی و سازشیں عالمی دنیا کے سامنے آ چکی ہیں.

    سیف اللہ قصوری کا مزید کہنا تھا کہ بطور سیکرٹری جنرل پاکستان مرکزی مسلم لیگ بھارت کی ان تمام سازشوں اور دنیا بھر میں معصوم انسانی جانوں کے ضیاع کی بھرپور مذمت کرتا ہوں ۔ میرے حوالے سے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا انتہائی بے بنیاد اور لغو ہے۔ میں پاکستان کا ایک پر امن شہری ہوں اور ایک پر امن سیاسی جماعت کا عہدیدار ہوں۔ حکومت پاکستان بھارت کی طرف سے ایک سیاسی جماعت کے عہدیدار کے خلاف ہونے والے بے بنیاد پروپیگنڈےکا جواب دے اور عالمی سطح پر بھارت کی سازشی پالیسیوں کو بے نقاب کرے،

  • اہل غزہ پر بربریت ڈھانے والے درندے جدید دور کے نمرود ہیں۔ سیف اللہ قصوری

    اہل غزہ پر بربریت ڈھانے والے درندے جدید دور کے نمرود ہیں۔ سیف اللہ قصوری

    پاکستانی قوم فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔حافظ طلحہ سعید،قاری یعقوب شیخ،حافظ خالد نیک

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی درندگی، نسل کشی اور بربریت نے انسانیت، بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کو روند ڈالا ہے،ہسپتالوں، اسکولوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی درندے دراصل جدید دور کے نمرود ہیں۔ پاکستانی قوم اور پوری امت مسلمہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔مرکزی مسلم لیگ اعلان کرتی ہے کہ اہل غزہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا،اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رکھا جائے،

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ طلحہ سعید، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک نے مختلف تقریبات و کارکنان سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا، سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے درحقیقت دہشت گردی اور وحشت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں، اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی اس ظلم میں برابر کی شریک ہے، شیلٹر اسکول پر بمباری، بچوں کو زندہ جلانا، اسپتالوں کو کھنڈر بنانا ، یہ سب اسرائیلی فوج کی بربریت نہیں بلکہ حیوانیت کی بدترین مثالیں ہیں،مرکزی مسلم لیگ اہل غزہ کے ساتھ ہے

    مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، قاری محمد یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک کا کہنا تھا کہ اسرائیل دہشت گردوں کا مسکن ہے، جہاں درندے وردی پہن کر بچوں کو آگ میں جھونک رہے ہیں، پناہ گزین اسکول پر بمباری اور معصوم بچے کا زندہ جل جانا انسانیت نہیں، درندگی کا وہ نمونہ ہے جس پر اگر امت مسلمہ خاموش رہی، تو وہ کل قیامت کے دن جواب دہ ہوگی۔ اسرائیل کے جرائم پر خاموش رہنے والے شریک جرم ہیں،اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھا جائے،

  • ایل او سی پر دراندازی، بھارت کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

    ایل او سی پر دراندازی، بھارت کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

    23اپریل 2025 کو لائن آف کنٹرول کے علاقے سرجیور میں 2مبینہ دراندازوں کو ہلاک کرنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹا نکلا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جھوٹا بھارتی دعویٰ بظاہر ایک من گھڑت بیانیے کو پھیلانے کی دانستہ کوشش ہے،وقت کے تسلسل، زمینی حقائق ، اور جاری کی گئی تصویری شہادتوں میں سنگین تضادات پائے جاتے ہیں، ذرائع کے مطابق جس واقعے میں 2 افراد کو درانداز قرار دیا جا رہا ہے، ان کی شناخت مقامی افراد کے طور پر ہوئی ہے، ملک فاروق ولد صدیق اور محمد دین ولد جمال الدین گاؤں سجیور کے پرامن شہری تھے،ذرائع نے بتایا ہے کہ مارے جانے والے افراد کے لواحقین نے 22 اپریل کی صبح ان کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی تھی، ان افراد کی گمشدگی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ وہ کسی ممکنہ دراندازی سے پہلے ہی غائب ہو چکے تھے،۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی ذرائع کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر واضح طور پر بھارت کے مؤقف کو جھٹلا رہی ہیں، تصویر میں ایک متوفی کی لاش صاف ستھری، چمکتی ہوئی کالی جوتیوں کے ساتھ دکھائی دیتی ہے،یہ لاش دشوار گزار پہاڑی راستے سے دراندازی کرنے والے کی ہرگز نہیں ہو سکتی،مارے جانے والے شخص کے کپڑے بھی حیران کن حد تک صاف ہیں، اس کے ہتھیار پر مٹی یا خون کے نشانات تک نہیں،اس کے ساتھ ساتھ جائے وقوعہ پر کسی لڑائی کے آثار بھی دکھائی نہیں دیتے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی طرح، دوسری لاش کے پاس کسی قسم کا لوڈ بیئرر، اضافی گولہ بارود، پانی کی بوتل، یا کوئی بھی جنگی ساز و سامان موجود نہیں، اگر یہ واقعی ایک درانداز ہوتا تو وہ اس طرح ناپختہ اور غیر محفوظ حالت میں کبھی بھی حرکت نہ کرتا،ایک شخص کے پاس تو صرف پستول ہے جو کہ دراندازی کی کسی بھی فوجی حکمت عملی سے مطابقت نہیں رکھتا،ذرائع کے مطابق مقامی افراد اور متاثرہ خاندانوں کے بیانات اس حقیقت کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ یہ دونوں افراد پرامن شہری تھے، ہلاک ہونے والے افراد کا کسی بھی عسکری یا غیر قانونی سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں تھا، بھارتی افواج نے انہیں بے دردی سے قتل کر کے اسے ایک فالس فلیگ آپریشن کا رنگ دے د یا۔بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ اس انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا سختی سے نوٹس لے۔