Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹک ٹاکر،ڈانسر مہک ملک کا "فحش”رقص،مقدمہ درج

    ٹک ٹاکر،ڈانسر مہک ملک کا "فحش”رقص،مقدمہ درج

    مشہور ٹک ٹاکر ڈانسر مہک ملک کے خلاف ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت منڈی یزمان میں مقدمہ درج کرلیا۔ مقدمہ مہک ملک سمیت 35 افراد پر درج کیا گیا ہے

    پولیس رپورٹ نمبر BW-CYZ-003781 کے مطابق، ایک سنگین واقعہ رپورٹ کیا گیا ہے جس میں فحش ڈانس اور موسیقی کی آواز کے ذریعے عوامی امن و سکون میں خلل ڈالا گیا۔تھانہ علی یزمان کی پولیس کو 8 اپریل 2025 کو ایک اطلاع موصول ہوئی جس کے مطابق 5 اور 6 اپریل کی درمیانی رات کو چک نمبر 90/DB میں ایک شادی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں فحش گانے اور ڈانس کی محفل سجائی گئی۔ اس محفل میں مشہور ڈانسر مہک ملک نے عریاں لباس میں ڈانس کیا جس کے باعث عوامی امن میں خلل پڑا اور لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ، ریاست علی ولد بشیر احمد نے اپنی بیٹے محمد ذیشان عرف شانی کی مہندی کی تقریب میں مہک ملک کو بک کر کے فحش گانے اور ڈانس کروایا۔ پولیس نے اس سلسلے میں ویڈیوز بھی حاصل کی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ مہک ملک نے عریاں لباس میں فحش ڈانس کیا، اور محفل میں شریک افراد نے نوٹ نچھاور کیے۔

    درج مقدمے کے مطابق اس تقریب میں شریک افراد میں ریاست علی، محمد ذیشان عرف شانی، اور دیگر افراد شامل تھے، جنہوں نے اس غیر قانونی اور فحش سرگرمی میں حصہ لیا۔ پولیس نے ابتدائی اطلاع کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس میں ریاست علی اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف پنجاب ساؤنڈ سسٹمز (ریگولیشن) ایکٹ 2015 کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی دفعات 294 اور 65 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کیس کے تمام گواہان کے بیانات درج کر لیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

    یہ واقعہ صرف اخلاقی طور پر ہی نہیں بلکہ قانونی طور پر بھی سنگین نوعیت کا ہے جس میں عوامی امن و سکون کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ پولیس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کے جذبات مجروح نہ ہوں اور معاشرتی اصولوں کی پامالی نہ ہو۔پولیس کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے جرائم کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں گے اور عوامی محافل میں غیر قانونی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تحقیقات کے دوران مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • شادی شدہ جوڑے کا "عشق”،9 بچوں کو چھوڑ کر فرار

    شادی شدہ جوڑے کا "عشق”،9 بچوں کو چھوڑ کر فرار

    بھارت میں مہاریا گاؤں کی رہائشی پانچ بچوں کی ماں گیتا اور چار بچوں کے باپ گوپال کا ناجائز معاشقہ بالآخر شادی پر منتج ہوا۔ دونوں اپنے اپنے شریک حیات اور مجموعی طور پر نو بچوں کو چھوڑ کر فرار ہو گئے اور تقریباً ایک ہفتہ قبل شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا جب 5 اپریل کو گوپال کے فیس بک اکاؤنٹ پر ان کی شادی کی تصاویر سامنے آئیں۔

    گاؤں والوں نے جب یہ تصاویر دیکھیں تو انہوں نے فوراً گیتا کے شوہر شری چند اور گوپال کی بیوی کو اس بارے میں اطلاع دی۔ اس سے قبل گیتا کے سسرال والوں کا خیال تھا کہ وہ گھر کے کسی جھگڑے کی وجہ سے میکے چلی گئی ہے۔فیس بک پر آئی تصاویر نے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچا دی۔ شری چند، جو ممبئی میں وڑا پاؤ بیچ کر روزی کماتے ہیں، حال ہی میں گھر آکر خاندان کی مدد کر رہے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گیتا جاتے ہوئے ان کے 90 ہزار روپے نقد اور گھر کے تمام زیورات بھی ساتھ لے گئی ہے۔ شری چند نے مقامی پولیس سے بھی رجوع کیا ہے اور شکایت درج کروانے کی کوشش کی ہے۔

    دوسری جانب گوپال کی بیوی بھی اس صدمے سے نبرد آزما ہے اور اپنے چار بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ گوپال نہ صرف گھر کے اخراجات میں حصہ نہیں لیتا تھا بلکہ اس کا رویہ بھی انتہائی ناروا اور بدتمیز تھا۔گوپال کی بیوی نے اپنے شوہر کو مردہ قرار دیتے ہوئے کہا”وہ جہاں مرضی رہے، مجھے کوئی اعتراض نہیں، لیکن میرے بچوں کا حق انہیں ضرور ملنا چاہیے۔ گوپال کو ان کے خرچ کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔”

    سدر تھ نگر تھانے کے ایس ایچ او انوج سنگھ نے واقعے سے آگاہی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ تاحال کسی جانب سے باقاعدہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔”اگر کوئی شکایت آتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی،” انہوں نے واضح کیا۔یہ واقعہ نہ صرف دونوں خاندانوں بلکہ پورے گاؤں میں موضوع بحث بنا ہوا ہے، جہاں سوشل میڈیا ایک بار پھر رشتوں کے ٹوٹنے اور نئی شروعات کا ذریعہ بن گیا ہے۔

  • بھارت میں اجتماعی شادیوں کے نام پر لڑکیوں کے فروخت کا انکشاف

    بھارت میں اجتماعی شادیوں کے نام پر لڑکیوں کے فروخت کا انکشاف

    بھارتی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور کے قریب ایک این جی او کے تحت چلنے والے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوگیا ہے

    اس نیٹ ورک میں غریب خاندانوں کی لڑکیوں کو اجتماعی شادیوں کے نام پر فروخت کیا جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق اس این جی او کی سربراہ گایتری وشو کرما ایجنٹس سے غریب لڑکیوں کو خریدتی اور پھر انہیں شادی کے خواہشمند مردوں کو 2.5 لاکھ سے 5 لاکھ روپے میں فروخت کر دیتی تھی۔گایتری کی چلائی جانے والی این جی او "سروا سماج فاؤنڈیشن” کا دفتر باسسی کے سوجن پورہ گاؤں کے ایک فارم ہاؤس میں قائم تھا، جہاں وہ جعلی اجتماعی شادیوں کا دعویٰ کرتی تھی۔ اس نیٹ ورک کے تحت لڑکیاں بہار، مغربی بنگال، اوڈیشہ اور اترپردیش جیسے ریاستوں سے سمگل کی جاتی تھیں۔ ان لڑکیوں کی قیمت رنگت، قد اور عمر کے مطابق طے کی جاتی تھی، اور نابالغ لڑکیوں کی عمر کو 18 سال سے زائد ظاہر کرنے کے لیے جعلی آدھار کارڈز بنوائے جاتے تھے۔

    این ڈی ٹی وی کے مطابق، گایتری اب تک تقریباً 1500 شادیاں کروا چکی تھی اور اس کے خلاف 10 مقدمات درج ہیں۔ اس نیٹ ورک کا انکشاف اس وقت ہوا جب اتوار کے روز ایک 16 سالہ لڑکی، جو اترپردیش سے تعلق رکھتی تھی، فارم ہاؤس سے فرار ہو کر پولیس تک پہنچی۔ اس لڑکی کی شکایت پر پولیس نے فوری طور پر فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا اور گایتری، اس کے ساتھی ہنومان، اور دو دیگر افراد کو گرفتار کر لیا، جو اس لڑکی کو خریدنے آئے تھے۔دیہاتیوں نے بتایا کہ انہیں صرف اتنا علم تھا کہ یہ این جی او غریب لڑکیوں کی شادیاں کراتی ہے، تاہم فارم ہاؤس گاؤں کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے انہیں اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ ایک دیہاتی نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً 4 ماہ قبل ایک اور لڑکی بھی وہاں سے فرار ہوئی تھی، لیکن زبان نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگ اس کی باتوں کو سمجھنے میں ناکام رہے۔

    اس نیٹ ورک کے بے نقاب ہونے کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے گایتری اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس واقعے نے بھارت میں انسانی سمگلنگ کے مسئلے کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کر دیا ہے اور اس کے سدباب کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو واضح کیا ہے۔

  • جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    جیب”مردانگی” کی علامت، خواتین کو مردوں جتنے جیب کیوں نہیں ملتیں؟

    یہ ایک دلچسپ اور پیچیدہ سوال ہے جو صنفی مساوات اور تاریخ کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مختلف ادوار میں بحث کی گئی ہے، اور آج بھی یہ مسئلہ اس بات کی علامت ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو کتنی آزادی اور خودمختاری نہیں ملتی۔

    جیبیں مردوں کے لباس میں 1550 کی دہائی میں ظاہر ہوئیں، جب مردوں کے پینٹ میں ڈرا اسٹرنگ بیگ شامل کیے گئے تھے۔ اس سے پہلے مرد و خواتین دونوں ہی اپنے سامان کو آزادانہ طور پر رکھتے تھے، لیکن جیسے جیسے مردوں کے ملبوسات میں تفصیل آئی، جیبیں بھی ان کا حصہ بن گئیں۔ اس کے برعکس خواتین کا لباس اس وقت تک جیبوں سے خالی رہا۔ خواتین اپنی چیزیں رکھنے کے لیے بیلٹ یا کمر کے ساتھ لٹکتی بیگز استعمال کرتی تھیں۔جب خواتین نے 18ویں اور 19ویں صدی کے دوران مزید آزادی حاصل کی اور اپنے لباس میں تبدیلیاں کیں، تو اس وقت خواتین کے لباس میں جیبیں شامل کرنا ایک بڑا قدم تھا۔ لیکن اس دوران بھی جیبوں کا ڈیزائن مردوں کی جیبوں سے مختلف تھا۔ خواتین کے لیے جیبیں اکثر اسکرٹس کے اندر ایک چھوٹے سے تھیلے کی شکل میں ہوتی تھیں، یا پھر ان جیبوں کو ٹائی کر کے رکھا جاتا تھا، جو کہ ہمیشہ کھلنے کا خطرہ رکھتے تھے۔19ویں صدی کے آخر میں، جب خواتین کے لباس میں کچھ بہتری آئی، تو جیبوں کا ڈیزائن بدل کر بیک بسل (پچھلے حصے) میں رکھا گیا تھا، جس سے خواتین کو اپنی چیزیں تلاش کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔ اس کے بعد، 20ویں صدی کے اوائل میں خواتین کے لیے جیبیں تیار کرنا ایک حقیقت بننے لگا، خاص طور پر خواتین کے فوجی لباس میں، لیکن ان جیبوں کی حقیقت ہمیشہ شکوک و شبہات کے ساتھ جڑی رہی۔

    پہلی جنگ عظیم کے دوران جب خواتین نے صنعتوں میں کام کرنا شروع کیا اور فوج میں خدمات انجام دیں، تب انہوں نے زیادہ عملی لباس کی ضرورت محسوس کی۔ اس دور میں خواتین نے مردوں کی طرح جیبوں والی جیکٹیں، ٹراوزرز اور دیگر عملی لباس اختیار کیے۔ لیکن اس کے باوجود، ان جیبوں کی تعداد اور سائز میں ہمیشہ کمی رہی۔ مثال کے طور پر، 1940 میں خواتین کے فوجی یونیفارم میں جیبوں کی جگہ محض جعلی جیبیں رکھی گئی تھیں تاکہ یہ ظاہری طور پر مردوں کے لباس کے جیسے دکھائی دیں، لیکن حقیقت میں ان جیبوں میں کچھ بھی رکھنے کا امکان نہیں تھا۔20ویں صدی کے دوران، خاص طور پر 1960 کی دہائی میں، دوسری لہر کی نسوانی تحریک نے خواتین کے لباس میں جیبوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس تحریک کے دوران، خواتین کے حقوق کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات اور ان کے لباس میں عملی جگہ بنانے کی بھی بات کی گئی۔ خواتین کی جیبوں کا فقدان اس وقت ایک نکتہ چینی کا موضوع بنا، اور کئی خواتین نے اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا استعمال کیا، جس سے ان کے لباس کی عملیت پر سوالات اٹھنے لگے۔

    women
    آج بھی خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک مسئلہ ہے۔ اکثر خواتین کے لباس میں جیبوں کا سائز چھوٹا ہوتا ہے، یا پھر ان جیبوں کی جگہ محض غیر فعال فلیپ ہوتے ہیں۔ 2018 میں کیے گئے ایک مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے جینز میں جیبوں کا سائز خواتین کے جینز کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ اس میں خاص طور پر خواتین کے اسکننی جینز اور اسٹریٹ جینز کا ذکر کیا گیا، جن کی جیبیں اتنی چھوٹی ہوتی ہیں کہ ان میں ایک موبائل فون یا دیگر ضروری سامان رکھنا ممکن نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ، فاسٹ فیشن کی صنعت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ جب لباس کے ڈیزائن میں جیبوں کا اضافہ کیا جاتا ہے تو یہ اضافی خرچ اور محنت کا سبب بنتا ہے، جسے فیشن انڈسٹری اپنے منافع کو بڑھانے کے لیے نظرانداز کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کا ایک اور سبب یہ ہے کہ فیشن ڈیزائنرز نے ہمیشہ خواتین کے جسمانی خطوط کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، اور جیبیں انہیں اس مقصد میں رکاوٹ محسوس ہوتی ہیں۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی کو صنفی عدم مساوات کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ کارلسن کے مطابق، جیبیں ہمیشہ مردوں کی خصوصیت رہی ہیں، اور یہ "مردانگی” کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جیبیں ایک عملی اور خودمختار خصوصیت رہی ہیں، جو ہمیشہ مردوں کے لیے مخصوص کی گئی تھیں، جبکہ خواتین کو اپنے سامان کو رکھنے کے لیے بیگوں کا محتاج بنایا گیا۔یہ مسئلہ صرف ملبوسات تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرتی طور پر خواتین کو مردوں کے مقابلے میں کم خودمختاری دی جاتی ہے۔ جیبیں اس حقیقت کی علامت بن گئی ہیں کہ مردوں کو ہمیشہ زیادہ عملی آزادی حاصل رہی ہے، جبکہ خواتین کو جمالیاتی اور سجاوٹی لباسوں میں محدود رکھا گیا ہے۔

    خواتین کے لباس میں جیبوں کی کمی ایک تاریخی، ثقافتی اور صنفی مسئلہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ یہ سوال صرف خواتین کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ معاشرتی مساوات کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ جیبوں کی کمی خواتین کی آزادی اور خودمختاری کی کمی کی علامت بن چکی ہے۔ فیشن انڈسٹری اور ڈیزائنرز کے لیے یہ ایک اہم چیلنج ہے کہ وہ خواتین کے لباس میں جیبوں کو شامل کریں تاکہ خواتین کو مردوں کے مساوی آزادی اور خودمختاری حاصل ہو سکے۔

  • ایئرپورٹ پر کسٹم اہلکاروں سے الجھنے والی گرفتار 3 خواتین رہا

    ایئرپورٹ پر کسٹم اہلکاروں سے الجھنے والی گرفتار 3 خواتین رہا

    لاہور: لاہور ایئرپورٹ پر کسٹم اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کرنے والی تین خواتین کو رہا کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ سعید احمد ورک نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تفتیشی افسر کی نااہلی پر اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری کر دیا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تفتیشی افسر مقدمے میں شواہد جمع کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے نہ تو جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور نہ ہی ریکوری کا مال عدالت میں پیش کیا۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسر نے موقع پر موجود گواہوں کے بیانات بھی قلمبند نہیں کیے اور نہ ہی سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لی۔ عدالت نے کہا کہ ملزمان کے خلاف کوئی مواد موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔عدالت نے مزید کہا کہ تفتیشی افسر کی نااہلی پر ایک الگ سے شوکاز نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔

    اس فیصلے کے بعد، لاہور ایئرپورٹ پر دو روز قبل پیش آنے والے اس واقعہ میں ملوث تینوں ملزمان، جن میں نور فاطمہ، ثمن خالد اور علیشہ شامل ہیں، کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔یاد رہے کہ لاہور ایئرپورٹ پر خواتین مسافروں اور کسٹم اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد ان خواتین کو گرفتار کیا گیا تھا۔

  • کوئٹہ،پولیس موبائل پر حملے میں 3 اہلکار شہید

    کوئٹہ،پولیس موبائل پر حملے میں 3 اہلکار شہید

    کوئٹہ،نیوسریاب تھانے کی پولیس موبائل پر دہشت گردوں کے حملے میں تین پولیس اہلکار شہید ہوگئے ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق، دہشت گردوں نے پولیس موبائل پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں تین اہلکاروں کی شہادت ہوئی، جبکہ ایک اہلکار شدید زخمی ہوگیا۔

    پولیس کے مطابق شہید ہونے والے اہلکاروں میں ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹیبل شامل ہیں۔ دہشت گردوں کی فائرنگ کے بعد علاقے میں پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا کہ دہشت گردوں کا یہ بزدلانہ حملہ بلوچستان کے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کسی صورت کمزور نہیں ہے، اور دشمنوں کو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

    مزید برآں، مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر حافظ محمد امجد نے بھی اس دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے اور شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔

  • کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار شخص زخمی ہوگیا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے غصے میں آکر کئی ڈمپرز کو نذر آتش کر دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ایک تیز رفتار ڈمپر ناگن چورنگی فلائی اوور سے آ رہا تھا جب اس نے دو موٹرسائیکلوں کو کچل دیا۔ حادثے میں کسی کی جان نہیں گئی تاہم ایک موٹر سائیکل سوار زخمی ہو گیا۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ڈمپر کا ڈرائیور تقریباً 17 سے 18 سال کا لڑکا تھا اور وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ حادثے کے بعد لوگوں نے ڈمپر کو روک لیا اور ڈرائیور کو مارا پیٹا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے 7 ڈمپرز کو آگ لگا دی۔ ان میں سے 4 ڈمپر ناگن چورنگی اور 3 فور کے چورنگی پر جلا دیے گئے۔ بعد میں فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ بجھا دی گئی۔پولیس نے کہا ہے کہ کراچی کے تمام اسپتالوں سے حادثات سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ زخمی افراد کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔

    ڈمپر ایسوسی ایشن کے رہنما لیاقت محسود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی 11 گاڑیوں کو جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حادثے میں کسی شخص کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ لیاقت محسود نے مزید کہا کہ ڈمپرز کو جلانے والے افراد کو گرفتار کیا جائے اور حکومت ان کی حفاظت کرے۔: ڈمپر ڈرائیوروں نے پاور ہاؤس چورنگی پر ڈمپروں کو آگ لگانے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاج کے دوران ڈرائیوروں نے سڑک پر کچرا بھی پھینک دیا جس کے باعث سہراب گوٹھ اور آلاصف اسکوائر کے قریب ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی۔

    کراچی میں گزشتہ روز بھی ایک اور افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ٹریلر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ کورنگی کے ویٹا چورنگی پر پیش آیا۔ولیس کے مطابق کراچی میں 99 روز میں ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں سال اب تک ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 256 ہو چکی ہے۔

  • سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،طلبی پر پیش نہ ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پروپیگنڈہ،طلبی پر پیش نہ ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ کا فیصلہ

    پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے

    ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متعدد رہنماؤں کے خلاف تحقیقات میں عدم تعاون پر وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لیے متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تھے، مگر وہ پیش نہ ہوئے۔جے آئی ٹی کی تحقیقات سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے جاری ہیں، اور اس میں پی ٹی آئی کے 20 رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں شامل ہونے والے افراد کے خلاف ریاست مخالف پروپیگنڈہ پھیلانے کا الزام ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ان رہنماؤں میں وقاص اکرم، حماد اظہر، زلفی بخاری، عون عباس، میاں اسلم، فردوس شمیم، تیمور سلیم، جبران الیاس، خالد خورشید، شہباز گل، اظہر مشوانی اور دیگر شامل ہیں، جن کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے ہیں۔جے آئی ٹی نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پیشی کے لیے متعدد نوٹس بھیجے تھے، اور پولیس ذرائع کے مطابق تمام رہنماؤں کے گھروں پر نوٹسز کی تعمیل بھی کرائی گئی۔ تاہم، ان رہنماؤں کی جانب سے تحقیقات میں تعاون نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    واضح رہے کہ بعض پی ٹی آئی رہنما جیسے بیرسٹر گوہر، شبلی فراز، علیمہ خان اور دیگر جے آئی ٹی میں پیش ہوچکے ہیں۔ تحقیقات کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف ریاست مخالف پروپیگنڈے کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ تحقیقات اسلام آباد کے آئی جی کی سربراہی میں قائم جے آئی ٹی کی جانب سے کی جا رہی ہیں، جو کہ پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا ایکٹ) 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔

  • غزہ لہو لہو، مرکزی مسلم لیگ کے تیسرے روز بھی یکجہتی فلسطین مظاہرے،کانفرنسز

    غزہ لہو لہو، مرکزی مسلم لیگ کے تیسرے روز بھی یکجہتی فلسطین مظاہرے،کانفرنسز

    جمعہ کو ملک گیر احتجاج ،قربانیوں کے باوجود فلسطینیوں کے حوصلے بلند ہیں، قاری یعقوب شیخ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام غزہ لہو لہو ،ہفتہ یکجتہی فلسطین مہم کے تحت تیسرے روز بدھ کو بھی کئی شہروں میں احتجاجی مظاہروں ، ریلیوں، کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا،جمعہ کو مختلف شہروں میں ملک گیر احتجاج کیا جائے گا،ننکانہ،بھکر، جھنگ، حافظ آباد، مظفر گڑھ و دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کیا،اس موقع پر شرکا نے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی ، اسرائیلی پرچم ،اسرائیلی وزیراعظم کے پتلے نذر آتش کئے گئے، احتجاجی مظاہروں کے شرکا نے بینرز،پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر فلسطینیوں کے حق میں اور اسرائیل کے خلاف نعرے درج تھے،احتجاجی مظاہروں سے مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،شیخ فیاض احمد، رائے منیر احمد کھرل، شیر افگن،عرفان مہیس،احمد محبوب و دیگر نے خطاب کیا.

    مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ نے یکجہتی فلسطین ریلی کے شرکا سے خطاب میں کہا کہ دنیا میں قیام امن کے لئے ضروری ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل کروایا جائے، غزہ میں نہتے مسلمانوں کا خون بہہ رہا، اسرائیلی دہشت گردی پر عالمی دنیا کی خاموشی،بے حسی کی واضح مثال ہے،غزہ میں اسرائیلی حملوں سے فلسطین میں صرف عمارتیں گری ہیں, فلسطینیوں کے حوصلے نہیں گرے اور وہ آج بھی اپنی آزادی کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں,اسرائیل نے اپنے آباٶ اجداد کی طرح معاہدے کو توڑا ،اسلامی ممالک کے سربراہان اسرائیلی بربریت کے خلاف متحد ہوں.

    بھکر، جھنگ، حافظ آباد، مظفر گڑھ و دیگر شہروں میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یکجتی غزہ مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں شیخ فیاض احمد، رائے منیر احمد کھرل، شیر افگن،عرفان مہیس،احمد محبوب ودیگر کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے سڑکوں پر ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی ممالک کے حکمران بھی یکجا ہو کر اہل غزہ کے ساتھ یکجہتی کریں، غزہ کے باسیوں کے ساتھ ہمارا کلمے کا رشتہ ہے، فلسطینی شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی.

  • وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی کی ملاقات

    وزیراعظم سے امیر جماعت اسلامی کی ملاقات

    وزیراعظم پاکستان، محمد شہباز شریف سے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں تین رکنی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے متعدد اہم امور پر بات چیت کی، جن میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات شامل ہیں۔

    ملاقات میں وزیرِ اعظم اور جماعت اسلامی کے وفد نے غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی بلا اشتعال بمباری اور ظلم و ستم پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف مؤثر اقدامات کرے اور فلسطینیوں کی حمایت میں آواز اٹھائے۔وزیرِ اعظم نے غزہ کے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کے جاری مظالم کے خلاف ہر بین الاقوامی فورم پر آواز اٹھانے اور پاکستان کی حمایت کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کا موقف فلسطینیوں کے حق میں واضح ہے اور ہم ان کے حقوق کے لیے عالمی سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے۔”

    ملاقات میں وزیرِ اعظم نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے بھی بات کی۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اصلاحات لانے کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں مزید اصلاحات عام آدمی کی زندگی میں آسانی کے مدنظر ترتیب دی جا رہی ہیں۔”مشکلات کے باوجود ہم عوامی ریلیف کو اپنی اولین ترجیح بنا کر اس مشن کو جاری رکھیں گے اور انشاء اللہ پاکستان کی ترقی کا سفر تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا۔”

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا اور حالیہ دنوں میں بجلی کی قیمتوں میں کمی کو عوام کے لیے ایک خوش آئند اقدام قرار دیا۔ انہوں نے وزیراعظم کی حکومت کی طرف سے عوامی مشکلات کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

    ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، جماعت اسلامی کے راہنما لیاقت بلوچ، اور آصف لقمان قاضی بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون اور ملکی مسائل پر مشترکہ موقف کے قیام کا اہم قدم ثابت ہوئی۔