Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ملاقات

    ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ملاقات

    سربراہ نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سربراہی میں نیشنل پارٹی کا وفد جاتی امرا پہنچ گیا
    وفد میں سینیٹر جان محمد بلیدی،چیئرمین اسلم بلوچ و دیگر رہنما شامل ہیں،ڈاکٹر مالک بلوچ کی صدر مسلم لیگ ن و سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات ہوئی ہے، اس موقع پر ن لیگی رہنما بھی موجود تھے، صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور نواز شریف کی ملاقات کے دوران ملکی سیاسی صورتحال اور بلوچستان کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ڈاکٹر عبدالمالک کی جانب سے مہنگائی اور بجلی قیمتوں میں کمی پر مبارکباد دی گئی،

    ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان اور بلوچستان کے عوام کی نواز شریف سے اُمیدیں جُڑیں ہیں، چاہیں وہ بلوچستان کے سیاسی مسئلے ہوں یا معاشی، نواز شریف نے بلوچستان میں اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے،نواز شریف نے بلوچستان کا دورہ کرنے کی درخواست قبول کر لی، بلوچستان میں بے گناہوں کا قتل قابل مذمت ہے،

    مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ نے نواز شریف سے ملاقات میں بلوچستان کی تازہ ترین صورتحال اور وہاں کے سلگتے ہوئے مسائل کو اجاگر کیا ہے، لااینڈ آرڈر اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات ہوئی، صوبے کی پسماندگی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے میاں نواز شریف سے بطور سینیئر سیاسی رہنما اور سابق وزیراعظم کے طور پر صوبے کی بحراتی کیفیت سے نکالنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے، نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی بات غور سے سنی اور اس پر مشاورت بھی کی ہے، نواز شریف نے ڈاکٹرعبدالمالک بلوچ اور ان کی پارٹی قیادت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ بلوچستان کے امن و استحکام، جمہوری رویوں کے فروغ اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی طور پر حل نکالا جائے گا، نواز شریف نے ملاقات میں اختر مینگل اور بلوچستان کے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کرنے کا کہا ہے جبکہ ماہرنگ بلوچ کے حوالے سے نواز شریف نے کوئی ذکر نہیں کیا،

  • خواتین اساتذہ کے لئے دوپٹہ لازم، مرداساتذہ کے جینز ،ٹی شرٹ پر پابندی

    خواتین اساتذہ کے لئے دوپٹہ لازم، مرداساتذہ کے جینز ،ٹی شرٹ پر پابندی

    پنجاب کے محکمہ سکولز ایجوکیشن نے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے ایک نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت خواتین اساتذہ کے لیے شلوار قمیض اور دوپٹہ پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مرد اساتذہ کو جینز اور ٹی شرٹ پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    محکمہ سکولز ایجوکیشن نے اس فیصلے کے بعد تمام سرکاری اور پرائیویٹ سکولز میں اساتذہ کے لیے لباس کے حوالے سے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ان ہدایات میں یہ بھی شامل ہے کہ سکولوں میں نماز ظہر کے دوران نماز کا انتظام کیا جائے۔یہ نیا فیصلہ حالیہ دنوں میں سندھ کے محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری کردہ ایک ڈریس کوڈ کے بعد آیا ہے جس میں خواتین اساتذہ کو زیادہ میک اپ، زیادہ زیورات اور اونچی ہیلز پہننے سے روکا گیا تھا، جبکہ مرد اساتذہ کو بھی جینز اور ٹی شرٹ پہننے سے منع کیا گیا تھا۔

    تاہم، سندھ کے محکمہ تعلیم نے بعد میں میڈیا پر چلنے والی خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سکولوں میں کسی بھی ڈریس پر پابندی عائد نہیں کی گئی، اور اساتذہ کے لیے جاری کردہ کوڈ آف کنڈکٹ کو محض رہنمائی کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ حکم نامہ سمجھنا چاہیے۔

    یہ نیا ڈریس کوڈ پنجاب کے سکولوں میں اساتذہ کی ظاہری حالت اور سکول کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے بعض حلقوں میں ردعمل بھی سامنے آیا ہے، جنہوں نے اس فیصلے کو اساتذہ کی ذاتی آزادی کے حق میں محدود سمجھا ہے۔ اس کے باوجود محکمہ سکولز ایجوکیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدام تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضروری تھا اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • امریکی شہریت یافتہ خاتون وجیہہ سواتی کا قتل،ملزم سابق شوہر کو پھانسی کی سزا

    امریکی شہریت یافتہ خاتون وجیہہ سواتی کا قتل،ملزم سابق شوہر کو پھانسی کی سزا

    اربوں روپے کی پراپرٹی کے تنازع پر امریکی خاتون کے اغوا اور قتل کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا، جس میں عدالت نے مقتولہ کے سابق شوہر رضوان حبیب کو سزائے موت، 5 لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی ہے،

    عدالت نے اغوا کے جرم میں 10 سال قید، 1 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ اسی طرح کیس کے شواہد مٹانے کے جرم میں7سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی جب کہ شریک ملزم سلطان کو 7 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے،عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت واقع نہ ہو جائے،عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے وقت امریکی سفارت خانہ کے 3سفارت کار اور ایک ایف بی آئی آفیسر بھی موجود تھے۔عدالتی فیصلے کے بعد مجرم سابق شوہر رضوان حبیب کو کڑے پہرے میں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ مجرم کا اپنی سابقہ اہلیہ وجیہہ سواتی سے اربوں روپے کی پراپرٹی کا جھگڑا چل رہا تھا۔ تمام پراپرٹی وجیہہ سواتی کی ملکیتی تھی، جس پر ملزم نے جبری قبضہ کر لیا تھا۔ ملزم نے سابق اہلیہ کو راضی نامہ کرنے کا جھانسا دے کر امریکا سے پاکستان بلایا ، جس پر وجیہہ سواتی 16اکتوبر 2021ء کو پاکستان آئی ،ملزم سابق شوہر نے پاکستان آتے ہی وجیہہ سواتی کو قتل کیا اور لاش مسخ کر کے راولپنڈی سے خیبر پختونخوا لے جاکر دفنا دی۔ قتل بعد مجرم سابق شوہر خود ہی وجیہہ سواتی کے گم ہونے کا ڈرامہ کرتا رہا ۔ بعد ازاں پولیس نے گرفتار کیا تو قتل کا راز اگل دیا اور لاش بھی خیبر پختون خوا سے برآمد کروا دی،مقتولہ کے بیٹے عبداللہ نے امریکا سے آن لائن ایف آئی آر تھانہ مورگاہ میں درج کروائی تھی۔

    کیس میں مجرم کو پہلے بھی پھانسی کی سزا ہوئی تھی مگر ہائی کورٹ نے کیس ریمانڈ کر دیا تھا، جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری ماجد حسین گادی نے آج پھر مجرم کو سزا سنا دی۔ اس دوران امریکی ایف بی آئی ٹیم اور سفارتکار ہر تاریخ پر کیس پیروی کرتے رہے ۔

  • 20 سال بعد "منت” چھوڑنا…شاہ رخ "دیوالیہ”ہو گئے

    20 سال بعد "منت” چھوڑنا…شاہ رخ "دیوالیہ”ہو گئے

    بالی وڈ کے معروف اداکار شاہ رخ خان نے 20 سال بعد پہلی مرتبہ اپنے مشہور بنگلے "منت” کو چھوڑ دیا ہے، جس کے بعد وہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، شاہ رخ خان اور ان کا خاندان ممبئی کے پوش علاقے میں واقع ’پوجا کاسا‘ اپارٹمنٹس میں منتقل ہو گئے ہیں۔شاہ رخ خان گزشتہ دو دہائیوں سے ممبئی کے معروف علاقے باندرہ میں واقع اپنے شاندار بنگلے "منت” میں مقیم تھے، تاہم مئی سے اس بنگلے کی تزئین و آرائش کا کام شروع ہونے کے باعث شاہ رخ خان اور ان کا خاندان عارضی طور پر قریبی عمارت میں منتقل ہو گئے ہیں۔اس تبدیلی کے بعد سے شاہ رخ خان کی ذاتی زندگی کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں صحافی سدھارتھ کنن، نجومی گیتانجلی سکسینہ سے انٹرویو کر رہے ہیں۔ اس ویڈیو میں سدھارتھ نے گیتانجلی سے شاہ رخ خان کے بارے میں افواہوں کے متعلق سوال کیا، جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ شاہ رخ خان دیوالیہ ہو گئے ہیں۔

    نجومی گیتانجلی سکسینہ نے شاہ رخ خان کی تاریخ پیدائش کا تجزیہ کیا اور ان افواہوں کے حوالے سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اداکار کو اپنے کام کا جنون ہے، لیکن ان کے مطابق شاہ رخ خان مالی مسائل کا شکار ہیں، اور ممکنہ طور پر وہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ گیتانجلی نے دعویٰ کیا کہ ان کے کارڈز کے مطابق شاہ رخ خان کو مالی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ دیوالیہ ہو گئے ہیں۔نجومی نے یہ بھی کہا کہ شاہ رخ خان ان مسائل سے نکلنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور وہ قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وقت ہے جب شاہ رخ خان کو آگے بڑھ کر نئے راستوں پر گامزن ہونا چاہیے۔

    جب نجومی سے شاہ رخ خان کے مستقبل کے منصوبوں اور فلموں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے پیش گوئی کی کہ شاہ رخ خان کی فلمیں اگست 2025 کے بعد بہتر کارکردگی دکھائیں گی، جب ان کی فلمیں ریلیز ہوں گی۔

    اس وقت شاہ رخ خان کے مداح اور انڈسٹری کے لوگ ان افواہوں پر تبصرے کر رہے ہیں، لیکن شاہ رخ خان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا ہے۔ ان کی زندگی کے اس نئے مرحلے میں کیا کچھ بدلے گا، اس کا پتہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس وقت وہ اپنے نئے مقام پر فیملی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • لاہور ہائیکورٹ کی خشک سالی کے خطرات کے پیش نظر واٹر ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز

    لاہور ہائیکورٹ کی خشک سالی کے خطرات کے پیش نظر واٹر ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کے تدارک اور خشک سالی سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کی ہدایت دیتے ہوئے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ اس فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے اسموگ کے کنٹرول اور پانی کی کمی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے۔

    اسموگ کے تدارک کے لیے حکومتی محکموں کی کارکردگی پر سوالات عدالت نے اسموگ کے تدارک کے حوالے سے حکومتی محکموں کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناکام قرار دیا۔ عدالت نے کہا کہ اسموگ کے تدارک کے لیے ابھی تک مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں کو صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔لاہور ہائی کورٹ نے خشک سالی کے خطرات کے پیش نظر واٹر ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز دی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پانی کی کمی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اقدامات کیے جائیں اور پی ڈی ایم اے کو اس حوالے سے مزید فعال ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ عدالت نے گھروں میں پانی ضائع کرنے والے افراد اور ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی انتظامیہ کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے ہدایت کی ہے کہ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ ان افراد پر جرمانے عائد کرے جو اپنے گھروں میں گاڑیاں دھو کر پانی ضائع کرتے ہیں یا صاف پانی کو ضائع کرنے والے پائپ استعمال کرتے ہیں۔

    عدالت نے پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی ہے کہ پانی کے تحفظ کے حوالے سے مختلف محکموں کے فوکل پرسنز کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کمیٹی کے ممبران پانی کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں گے اور ان کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔ یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ماحولیاتی تبدیلی کے پیشِ نظر دریاؤں میں پانی کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دیگر محکموں کے ساتھ مل کر پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔ عدالت نے مزید کہا کہ واٹر ایمرجنسی کے معاملے کو فوری طور پر کابینہ میں پیش کیا جائے تاکہ اس کے نفاذ کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس صورتحال میں کورونا کی طرز پر ایمرجنسی نافذ کی جائے تاکہ پانی کی کمی کے مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے۔

    آئندہ سماعت 11 اپریل کو عدالت نے کیس کی آئندہ سماعت 11 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے حکومتی محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ واٹر ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کریں۔

  • پاکستان کا ٹیرف کے حوالہ سے مذاکرات کیلئے وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان کا ٹیرف کے حوالہ سے مذاکرات کیلئے وفد امریکہ بھیجنے کا فیصلہ

    پاکستان نےامریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور نئے ٹیرف کے حوالے سے مذاکرات کیلئے اعلی سطحی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے

    وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وفد میں معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کندگان کی بھی شمولیت ہو گی،وفد کو وزیرِ اعظم کی جانب سے امریکہ کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر مذاکرات کے بعد مستقبل کیلئے باہمی طور پر مفید لائحہ عمل طے کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا،وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملکی برآمدات میں اضافے اور امریکہ کی جانب سے درآمدات پر لگائے گئے نئے ٹیرف پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم سید توقیر شاہ، معاونین خصوصی طارق فاطمی، ہارون اختر، وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر رانا احسان افضل اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے تجارتی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں.حکومت، امریکہ کے ساتھ تجارتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی خواہاں ہے.

    وزیرِ اعظم کو اجلاس میں امریکہ کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف پر، اسٹئیرنگ کمیٹی اور ورکنگ گروپ کی رپورٹ اور مستقبل کا مجوزہ لائحہ عمل پیش کیا گیا. اجلاس کو مختلف متبادل لائحہ عمل پیش کئے گئے. اجلاس کو بتایا گیا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانہ مسلسل امریکی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے. وزیرِ اعظم نے امریکہ کے ساتھ اس حوالے سے مذاکرات کیلئے وفد کی تشکیل کے دوران معروف کاروباری شخصیات اور برآمد کندگان کی شمولیت یقینی بنانے کی ہدایت کی.

  • جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت 119 ملزمان کو پیش کرنے کا حکم

    جی ایچ کیو حملہ کیس، عمران خان سمیت 119 ملزمان کو پیش کرنے کا حکم

    : جی ایچ کیو حملہ کیس کی آئندہ سماعت پر سابق وزیر اعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور دیگر 119 ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کیا۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ہوئی، جس میں سابق صوبائی وزیر پنجاب راجہ بشارت انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔ اس دوران، وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی بھی حاضری لگائی گئی۔ عدالت نے اس کیس کے تمام 119 ملزمان کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیے ہیں۔عدالت نے 2 گواہان کے طلبی کے نوٹس بھی جاری کیے ہیں، اور بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جیل عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ شاہ محمود قریشی کو لاہور جیل سے 12 اپریل کو پیش کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔

    سماعت کے دوران، عدالت نے وکلائے صفائی کو گواہان پر جرح کرنے کا حکم دیا۔ مزید برآں، عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی تفتیشی ٹیم کو مکمل ریکارڈ سمیت اڈیالہ جیل پیش ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ آئندہ سماعت پر مجسٹریٹ مجتبی اور گواہ سب انسپکٹر ریاض کی طلبی کا نوٹس بھی جاری کیا گیا۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کیس کا فیصلہ کیا جائے گا اور آئندہ کسی بھی فریق کو بلاجواز التوا نہیں ملے گا۔ عدالت نے یہ بھی اعلان کیا کہ جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہفتے میں دو بار ہوگی۔ اب تک اس کیس میں 25 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • سوشل میڈیا کی محبت،امریکی خاتون شادی کے لئے بھارت پہنچ گئی

    سوشل میڈیا کی محبت،امریکی خاتون شادی کے لئے بھارت پہنچ گئی

    امریکی خاتون جیکولین فاریرو، جو ایک فوٹوگرافر ہیں، نے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں کا سفر کیا تاکہ وہ اپنے انسٹاگرام پر ہونے والی محبت کی شادی کو حقیقت میں بدل سکیں۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، جیکولین فاریرو کی محبت کی کہانی کا آغاز سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر ہوا، جہاں ان کی ملاقات بھارتی نوجوان، چندن سے ہوئی۔ دونوں کے درمیان بات چیت کا آغاز ایک عام دوستی سے ہوا، جو کہ آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہو گئی۔جیکولین نے اپنی محبت میں چندن کی سادگی اور خلوص سے متاثر ہو کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان 14 ماہ کا وقت گزرا جس میں وہ ایک دوسرے کے قریب آئے اور اب شادی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔امریکی خاتون نے بتایا کہ چندن عیسائی ہے اور اس کے لیے شادی کے لیے اس کی والدہ کی رضامندی بھی حاصل ہے۔ جیکولین نے مزید کہا کہ وہ چندن سے عمر میں نو سال بڑی ہیں اور ان کے تعلقات پر مختلف ردِ عمل سامنے آ رہے ہیں، جس میں کچھ لوگ ان کی عمر کے فرق کو لے کر تشویش ظاہر کر رہے ہیں، جبکہ کچھ نے ان کے تعلقات کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

    یہ کہانی نہ صرف محبت کے جذبے کو اجاگر کرتی ہے بلکہ یہ دکھاتی ہے کہ سوشل میڈیا کس طرح لوگوں کے درمیان روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جیکولین اور چندن کی یہ محبت بھری کہانی ان لوگوں کے لیے ایک پیغام ہے جو رشتہ داریوں میں عمر کے فرق کو اہمیت دیتے ہیں، اور یہ کہ محبت کسی بھی شکل یا فرق کو نہیں دیکھتی۔اب جب کہ دونوں کی شادی کی منصوبہ بندی جاری ہے، ان کا کہنا ہے کہ وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ محبت کسی بھی حد کو پار کر سکتی ہے۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرک میئر کی قیادت میں امریکی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف سے امریکی وفد نے ملاقات کی، جس کی قیادت ایرک میئر کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    امریکی وفد پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں بے شمار مواقع اور وسیع استعداد موجود ہے اور وہ امریکی کمپنیوں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔وزیراعظم نے امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو تجارت، سرمایہ کاری، اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانا چاہیے۔شہباز شریف نے اس موقع پر مزید کہا، "یہ ایک خوشخبری ہے کہ ہماری قومی ایئر لائن نے 20 سال کے بعد پہلی بار منافع کمایا ہے، جو کئی دہائیوں سے جاری خسارے کے بعد ایک بڑی تبدیلی ہے۔ وزیرِ ہوا بازی کی قیادت میں ٹیم کی محنت قابل تعریف ہے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل تابناک ہے۔

    امریکی وفد نے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کے کامیاب انعقاد پر پاکستان کو مبارکباد دی اور پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں موجود وسیع امکانات کا اعتراف کیا۔ ایرک میئر نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دلچسپی کے امور پر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، اور اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون کی ضرورت ہے۔

    یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے افق کو کھولنے کی ایک اہم کوشش سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات کے حوالے سے۔

  • چین پر عائد 104 فیصد تجارتی ٹرمپ ٹیرف نافذ

    چین پر عائد 104 فیصد تجارتی ٹرمپ ٹیرف نافذ

    واشنگٹن: امریکی صدر کی جانب سے چین پر عائد 104 فیصد تجارتی ٹیرف آج سے نافذ ہوگیا ہے، جس سے عالمی تجارت پر ایک نیا تنازعہ جنم لے رہا ہے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس فیصلے کا مقصد چین کی درآمدات کو محدود کرنا اور امریکی صنعتوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ امریکی صدر نے چین کی درآمدات پر فروری اور مارچ میں 10-10 فیصد ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس کے جواب میں چین نے 10 اپریل کو امریکی مصنوعات پر 34 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چین کے اس اقدام کے فوراً بعد، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین پر مزید 50 فیصد محصولات عائد کر دیے، جس کے نتیجے میں چینی مصنوعات پر عائد مجموعی ٹیرف اب 104 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    یہ تجارتی تنازعہ اس بات کا غماز ہے کہ دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان تجارتی تعلقات مزید پیچیدہ اور کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ چین نے امریکی ٹیرف کے جواب میں سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ اس اقدام کا مناسب جواب دے گا، اور عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق، امریکہ اور چین کے درمیان اس تجارتی جنگ کا عالمی تجارت پر طویل مدتی اثر پڑ سکتا ہے، خصوصاً ان شعبوں پر جو دونوں ممالک کی معیشت کے لیے اہم ہیں۔ تجارتی شعبے کے ماہرین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اس تنازعہ کا اثر عالمی مارکیٹس، خاص طور پر خام مال اور برآمدات کے کاروبار پر پڑے گا۔

    یہ بھی واضح رہے کہ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل اضافی ٹیرف عائد کرنے سے عالمی سطح پر تجارتی تعلقات میں عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جو عالمی معیشت کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔ اس کشیدہ صورتحال میں عالمی رہنماؤں کی جانب سے مداخلت اور مذاکرات کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ اس بحران کو کسی قابل قبول حل کی جانب لے جایا جا سکے۔

    اس تجارتی جنگ کا اگلا مرحلہ کیا ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا کیا نتیجہ نکلے گا، یہ دیکھنا باقی ہے۔