Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گووندا کی اہلیہ کا طلاق کی افواہوں پر ردعمل

    گووندا کی اہلیہ کا طلاق کی افواہوں پر ردعمل

    بالی وڈ کے مشہور اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان تعلقات کے بارے میں حالیہ دنوں میں گردش کرتی خبروں نے کافی توجہ حاصل کی۔ فروری 2025 سے یہ خبریں منظر عام پر آ رہی تھیں کہ گووندا اور سنیتا کے درمیان علیحدگی ہو چکی ہے اور انہوں نے طلاق کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ تاہم، اب سنیتا آہوجا نے ان تمام خبروں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی کو تقریباً 38 سال ہو چکے ہیں اور دونوں کی محبت بھری ازدواجی زندگی بالی وڈ کے مشہور جوڑوں میں شمار ہوتی ہے۔ فروری سے شروع ہونے والی طلاق کی خبریں گووندا کے وکیل لتل بندل کی تصدیق کے بعد مزید زور پکڑ گئی تھیں۔ انہوں نے یہ کہا تھا کہ سنیتا آہوجا نے طلاق کے لیے درخواست دائر کی تھی، تاہم کچھ عرصہ بعد یہ بھی کہا گیا کہ گووندا اور سنیتا دوبارہ ایک ساتھ ہیں۔

    اب سنیتا آہوجا نے ان افواہوں کا سختی سے ردعمل دیتے ہوئے اپنے مداحوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی بات پر یقین نہ کریں جب تک کہ گووندا یا خود وہ اس پر بات نہ کریں۔ سنیتا نے کہا، "لوگ بہت کچھ بولتے ہیں، لیکن آپ کسی بھی خبر پر اس وقت تک یقین نہ کریں جب تک کہ ہم خود کچھ نہ کہیں۔”

    سنیتا آہوجا کی یہ باتیں ان افواہوں کے حوالے سے ایک واضح پیغام ہیں کہ یہ صرف بے بنیاد قیاس آرائیاں ہیں، اور دونوں کے درمیان کوئی ایسی صورتحال نہیں ہے جس کی بنیاد پر ایسی خبریں پھیلائی جا رہی ہوں۔ سنیتا آہوجا کی اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اور گووندا اپنی شادی شدہ زندگی کو درپیش چیلنجز کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور ان کے تعلقات میں کوئی بڑی کشیدگی نہیں ہے۔

  • چین،نرسنگ ہوم میں آگ،20 افراد ہلاک

    چین،نرسنگ ہوم میں آگ،20 افراد ہلاک

    چین کے صوبے ہیبائی میں ایک نرسنگ ہوم میں آگ لگنے کے نتیجے میں 20 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے۔

    سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حادثہ گزشتہ رات پیش آیا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے نرسنگ ہوم کے اندر موجود افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔رپورٹ کے مطابق، نرسنگ ہوم میں موجود دیگر افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ زخمیوں کی حالت مختلف ہے، اور حکام ان کی صحت کا جائزہ لے رہے ہیں۔چینی حکام نے اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔ ابتدائی طور پر آگ کے لگنے کی کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    یہ واقعہ چین میں حالیہ مہینوں میں آگ لگنے کے دیگر واقعات کے بعد پیش آیا ہے۔ رواں سال جنوری میں ہیبائی صوبے کی ایک مارکیٹ میں آگ لگنے کے باعث 8 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، مگر عوامی تحفظ کے حوالے سے مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔

  • ہم انصاف کے لئے کہاں رجوع کریں، بتایا جائے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    ہم انصاف کے لئے کہاں رجوع کریں، بتایا جائے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ اڈیالہ میں پولیس کی جانب سے عمران خان کی بہنوں اور دیگر قائدین کے ساتھ غیر انسانی سلوک ہے،بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہنوں، حامد رضا اور دیگر کی غیر قانونی حراست اور ویرانے میں چھوڑنا انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہے،وقت آنے پر اس کا حساب لیا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ علیمہ خان اور اُن کی بہنوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک ناقابل قبول اور ناقابل برداشت ہے، علیمہ خان، عظمی خان اور نورین نیازی کی جرآت اور بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں، فارم 47 کی ناجائز حکومت بانی کی دشمنی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تمام حدیں پار کر رہی ہے، حکومت کی طرف سے اس طرح کے غیر انسانی اور غیر قانونی ہتھکنڈے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، ہم نے جعلی حکومت کی فسطائیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے آرہے ہیں اور آگے بھی کرتے رہیں گے، بانی چئیرمین نا حق قید میں ہیں، ان کی رہائی تک ہماری جدو جہد جاری رہے گی، عمران خان کے اہل خانہ اور پارٹی قائدین کو ملاقات کی اجازت نہ دینا آئین و قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، بانی چیئر مین کے ساتھ ملاقات کی اجازت نہ دینا عدالتی حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، عدلیہ اپنے احکامات اور انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کا نوٹس لے، ہمیں وہ فورم بتائے جہاں ہم انصاف کے لئے رجوع کر سکیں، فارم 47 کی جعلی حکومت کو نہ عدالتی احکامات کی کوئی پرواہ ہے اور نہ بنیادی انسانی حقوق کا کوئی لحاظ ہے، ملک میں اس وقت قانون کی عملداری کا نام و نشان تک نہیں،عمران خان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہ دینا اور ان پر تشدد کرنا جعلی حکمرانوں کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے، جعلی حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک کو انارکی کی طرف لے جانے سے باز آئے۔

  • ارشد چائے والا مشکل میں،  شناختی کارڈ ،پاسپورٹ بلاک ،عدالت پہنچ گیا

    ارشد چائے والا مشکل میں، شناختی کارڈ ،پاسپورٹ بلاک ،عدالت پہنچ گیا

    ارشد خان، جو کہ چائے والے کے نام سے مشہور ہیں اور 17 برس کی عمر میں اسلام آباد کے ایک بازار میں چائے بیچتے ہوئے اپنی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شہرت کی بلندیاں چھوئے، ان کی پاکستانی شہریت پر سوالات اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔

    پاکستانی حکام نے ارشد خان کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کر دیا ہے، جس کا سبب ان کی جانب سے شہریت کے شواہد پیش نہ کرنا بتایا جا رہا ہے۔ نادرا اور پاسپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ ارشد خان کی شہریت کی تصدیق کے لیے ضروری دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں، جس کی بناء پر ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بلاک کر دیا گیا ہے۔ارشد خان نے اس اقدام کے خلاف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ سے رجوع کیا ہے۔ ان کے وکیل، عمر اعجاز گیلانی ایڈووکیٹ، نے عدالت میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ حکام کی طرف سے 1978 سے قبل کے رہائشی شواہد طلب کیے جا رہے ہیں، جو کہ ان کے لیے فراہم کرنا ممکن نہیں۔

    عدالت نے اس درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 17 اپریل کو نادرا اور پاسپورٹ حکام کو ریکارڈ سمیت عدالت میں طلب کر لیا ہے تاکہ اس معاملے کی مزید تفصیل اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔

    یہ پیشرفت ارشد خان کی شہرت کے بعد ایک نیا قانونی تنازعہ بن چکی ہے، جس پر عوامی سطح پر بھی بحث جاری ہے۔ ارشد خان کی مقبولیت کے پیچھے ان کی محنت اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کا بڑا ہاتھ ہے، مگر اب ان کی شہریت کے حوالے سے پیدا ہونے والا سوالات کا سلسلہ مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔عدالت میں کیس کی سماعت کی تاریخ 17 اپریل کو مقرر کی گئی ہے، جہاں دونوں فریقین اپنے شواہد اور موقف پیش کریں گے۔

  • قائمہ کمیٹی کا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر صوبائی وزرا کو بلانے کا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی کا قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر صوبائی وزرا کو بلانے کا فیصلہ

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے معاملے پر چاروں صوبائی وزراء کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس آئندہ ہفتہ بلائے جانے کا امکان ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت صوبوں کو منتقل ہونے والے محکموں کو فنڈز فراہم نہیں کرنا چاہتی، کے پی حکومت کا دعویٰ ہے فاٹا اضلاع کے انضمام کے بعد صوبے کی آبادی بڑھ چکی ہے۔ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ آبادی بڑھنے کے باعث این ایف سی ایوارڈ میں حصہ بڑھنا چاہیے، ہر پانچ سال بعد قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وسائل کی تقسیم آئینی تقاضا ہے۔

    یاد رہے کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ 2009 میں طے ہوا تھا، این ایف سی ایوارڈ کو گزشتہ 15 سالوں سے ہر سال توسیع دی جا رہی ہے، این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابل تقسیم وسائل کا 57.5 اور مرکز کو 42.5 فیصد منتقل کیا جاتا ہے۔

  • پی آئی اے نے دو دہائیوں بعد منافع حاصل کرلیا

    پی آئی اے نے دو دہائیوں بعد منافع حاصل کرلیا

    اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے سال 2024 کے مالیاتی نتائج کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے، جن کے مطابق قومی ایئرلائن نے 21 سال بعد پہلی بار خالص منافع حاصل کیا ہے۔

    سال 2024 کے مالیاتی نتائج کے مطابق پی آئی اے نے 3.9 ارب روپے کا آپریشنل منافع حاصل کیا، جبکہ خالص یا نیٹ منافع 2.26 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔ اس شاندار کارکردگی کے ساتھ پی آئی اے کا آپریٹنگ مارجن 12 فیصد سے تجاوز کرگیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر بہترین ایئرلائنز کی کارکردگی کے ہم پلہ سمجھا جاتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی آئی اے نے آخری مرتبہ سال 2003 میں منافع حاصل کیا تھا، جس کے بعد گزشتہ 21 سالوں کے دوران ایئرلائن مستقل خسارے کا شکار رہی۔پی آئی اے کی اس شاندار مالیاتی واپسی میں حکومت پاکستان کی سرپرستی میں کی جانے والی جامع اصلاحات کا کلیدی کردار رہا۔ ان اصلاحات میں افرادی قوت اور غیر ضروری اخراجات میں کمی، منافع بخش روٹس پر توجہ، نقصان دہ روٹس کا خاتمہ اور بیلنس شیٹ کی مؤثر تنظیم نو شامل تھی۔

    پی آئی اے کی اس واپسی سے نہ صرف ادارے کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ یہ ملکی معیشت کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ ماہرین کے مطابق ایک منافع بخش ایئرلائن نہ صرف قومی اثاثہ ہوتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا باعث بھی بنتی ہے۔وفاقی وزیر دفاع جناب خواجہ محمد آصف نے اس کامیابی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے اسے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ایک "اہم سنگ میل” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مالیاتی کارکردگی ادارے کی نجکاری میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھانے میں مدد دے گی اور قومی خزانے پر بوجھ کم ہوگا۔

  • برطانیہ کے شہزادہ ہیری کو القاعدہ کی جانب سے دھمکی کا انکشاف

    برطانیہ کے شہزادہ ہیری کو القاعدہ کی جانب سے دھمکی کا انکشاف

    لندن — برطانیہ کے شہزادہ ہیری کے وکیل نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے ان کی سیکیورٹی میں کمی کے فیصلے کو "غیر منصفانہ اور بلاجواز” قرار دیا۔ وکیل نے بتایا کہ شہزادے کو حال ہی میں القاعدہ اور پاپارازی کی طرف سے خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    شہزادہ ہیری، جنہوں نے 2020 میں شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے ساتھ امریکہ منتقل ہو گئے، اب جب وہ برطانیہ آتے ہیں تو ان کی سیکیورٹی کا فیصلہ ہر موقع پر علیحدہ کیا جاتا ہے۔لندن کی رائل کورٹ آف جسٹس میں جاری قانونی کارروائی کے دوران شہزادہ ہیری بذات خود موجود تھے۔ وہ کالے سوٹ اور نیلے ڈیزائن والے ٹائی میں ملبوس تھے، عدالت میں خاموشی سے بیٹھے، اپنے وکیل سے سرگوشی کرتے اور نوٹس لیتے رہے۔

    جب 2020 میں ہیری نے شاہی فرائض سے علیحدگی اختیار کی تو حکومت نے طے کیا کہ اب وہ ویسا عوامی مالی اعانت والا سیکیورٹی تحفظ نہیں پائیں گے جیسا پہلے حاصل تھا۔ شہزادے نے 2021 میں وزارت داخلہ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا، اور ابتدائی فیصلے کے خلاف اپیل اب کورٹ آف اپیل میں زیر سماعت ہے۔ان کے وکیل شاہد فاطمہ نے عدالت کو بتایا کہ ہیری کے ساتھ "غیر منصفانہ اور امتیازی سلوک” کیا گیا ہے۔ وکیل کی تحریری درخواست میں بتایا گیا کہ شہزادے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔تحریری دلائل میں کہا گیا کہ "حال ہی میں القاعدہ نے (ہیری) کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے” اور مئی 2023 میں ہیری اور میگھن نیویارک میں پاپارازی کے ساتھ ایک خطرناک کار کا پیچھا کرنے والے واقعے کا شکار ہوئے۔ اگرچہ مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، لیکن یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔

    شہزادہ ہیری کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے اپنی خود نوشت "اسپئیر” میں دعویٰ کیا کہ انہوں نے افغانستان میں 25 افراد کو ہلاک کیا تھا، جس پر طالبان کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا۔

    ہیری اپنی والدہ، شہزادی ڈیانا، کی موت سے ہمیشہ متاثر رہے ہیں، جو 1997 میں پیرس میں ایک تیز رفتار گاڑی کے حادثے میں اس وقت جاں بحق ہو گئی تھیں جب وہ پاپارازی سے بچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

    یہ قانونی جنگ اس فیصلے کے گرد گھومتی ہے جو فروری 2020 میں وزارت داخلہ اور ایک متعلقہ کمیٹی نے سیکیورٹی میں کمی کے حوالے سے کیا تھا۔ 2024 کے اوائل میں ہائی کورٹ نے ہیری کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ حکومت کا فیصلہ قانونی تھا۔دی ٹائمز کے مطابق، شہزادے کو اپریل 2023 میں اپیل کی اجازت نہ ملنے پر تقریباً £1,000,000 (1.27 ملین ڈالر) کے قانونی اخراجات ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ لیکن مئی میں ایک جج نے کہا کہ وہ کورٹ آف اپیل میں اس فیصلے کو چیلنج کر سکتے ہیں۔منگل کے روز ہیری کے وکیل نے دلیل دی کہ کمیٹی نے شہزادے کے خلاف خطرات کا مناسب انداز میں جائزہ نہیں لیا، اور ہائی کورٹ نے اس اہم نکتے کو نظرانداز کیا۔

    دوسری جانب، وزارت داخلہ کے وکیل جیمز ایڈی نے کہا کہ ہیری کی سیکیورٹی کی بنیاد "ان کے شاہی حیثیت میں تبدیلی اور زیادہ تر وقت بیرونِ ملک قیام” کے باعث بدلی گئی۔ حکومتی تحریری دلائل میں کہا گیا کہ ہیری کی سیکیورٹی ہر صورتحال کے مطابق دیکھی جائے گی۔دو روزہ سماعت بدھ کو مکمل ہوگی، جس کے کچھ حصے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر بند کمرے میں ہوں گے۔ فیصلے کا اعلان تحریری صورت میں بعد میں کیا جائے گا۔

  • تاج حیدر کی وفات پارٹی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے،حسن اقبال جوئیہ

    تاج حیدر کی وفات پارٹی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے،حسن اقبال جوئیہ

    پاکستان پیپلز پارٹی ساہیوال کے سینئر رہنما حسن اقبال جوئیہ نے پارٹی کے بزرگ رہنما اور اہم سیاسی شخصیت تاج حیدر کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔

    حسن اقبال جوئیہ کا کہنا تھا کہ تاج حیدر کی وفات پارٹی کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک شاندار سیاستدان، اصول پسند رہنما اور عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ کوشاں رہنے والے شخص تھے۔ تاج حیدر کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے کئی اہم سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی راہ ہموار کی۔ ان کی رہنمائی میں پارٹی نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اولین ترجیح دی اور ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ تاج حیدر کی وفات سے نہ صرف پیپلز پارٹی کو بلکہ پورے ملک کو ایک عظیم رہنما سے محروم ہونا پڑا ہے۔ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی نظریات اور اصولوں کو زندہ رکھا جا سکے۔

    حسن اقبال جوئیہ نے تاج حیدر کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر و سکون دے۔

  • دلہن کے ماں دولہے کے ساتھ”فرار”دلہن دیکھتی رہ گئی

    دلہن کے ماں دولہے کے ساتھ”فرار”دلہن دیکھتی رہ گئی

    بھارت میں علی گڑھ کے تھانہ مدرک کے علاقے سے ایک انتہائی حیران کن اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک خاتون اپنی بیٹی کے ہونے والے شوہر کے ساتھ شادی سے صرف 9 دن پہلے فرار ہو گئی۔ مذکورہ خاتون نہ صرف اپنے داماد کے ساتھ بھاگ نکلی بلکہ اپنے ساتھ بیٹی کی شادی کے لیے رکھے گئے زیورات اور نقدی بھی لے گئی۔

    داماد اپنی ہونے والی ساس کے ساتھ محبت کے جذبات میں مبتلا ہو چکا تھا اور دونوں نے اس تعلق کو چھپانے کے بجائے منصوبہ بندی کے تحت گھر چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کے بعد لڑکی کے والد نے فوری طور پر پولیس میں رپورٹ درج کروا دی ہے اور دونوں کی تلاش جاری ہے۔یہ انتہائی سنجیدہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تیاریوں میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 16 اپریل کو ہونے والی شادی کی تمام تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، اور شادی کے کارڈ بھی تقسیم کیے جا چکے تھے۔ داماد بھی اکثر سسرال کے گھر آتا جاتا رہتا تھا اور لڑکی کے والدین کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کے درمیان کوئی ناجائز تعلق پروان چڑھ رہا ہے۔دراصل، داماد نے اپنی ساس کو ایک موبائل فون بھی تحفے میں دیا تھا، جسے گھر والے ایک معمولی تحفہ سمجھ کر نظر انداز کر گئے۔ تاہم، شادی کے قریب آتے ہی، 9 اپریل کو ساس اور داماد خریداری کے بہانے گھر سے نکلے اور اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔

    جب لڑکی کے والد کو اس فرار کا شک ہوا تو اس نے گھر کی الماری چیک کی اور وہاں سے شادی کے لیے رکھے گئے زیورات اور نقدی غائب پائی، جس سے ان کے خدشات کی تصدیق ہوگئی۔پولیس نے دونوں کی تلاش شروع کر دی ہے اور ان کے موبائل فونز کی لوکیشنز کو ٹریس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔

    یہ واقعہ نہ صرف علی گڑھ بلکہ پورے علاقے میں سنسنی پھیلانے کا سبب بن چکا ہے۔ مقامی پولیس اس وقت دونوں کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مار رہی ہے اور اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے تاکہ اس گھناؤنے فعل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

  • نائٹ کلب کی چھت گرنے سے 98 افراد ہلاک

    نائٹ کلب کی چھت گرنے سے 98 افراد ہلاک

    ڈومینیکن ریپبلک کے دارالحکومت سانتو ڈومنگو میں جٹ سیٹ نائٹ کلب کی چھت گرنے کے بعد بچاؤ کے کاموں میں حصہ لینے والے افراد نے تیز رفتاری سے ملبے میں دبے تقریباً 100 افراد تک پہنچنے کی کوششیں جاری رکھی ہیں۔ اس حادثے میں کم از کم 98 افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہیں۔

    ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے ڈائریکٹر، جوان مینویل مینڈیز نے بتایا کہ اب تک 146 افراد کو زندہ نکال لیا گیا ہے، جبکہ جب چھت گری تھی تو تقریباً 300 افراد نائٹ کلب کے اندر موجود تھے۔ متاثرہ افراد کے اہل خانہ موقع پر جمع ہو گئے ہیں اور وہ اپنے پیاروں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں، جبکہ 150 سے زائد ایمبولینسیں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں۔ اس موقع پر 22 سے زائد سرکاری اداروں کے اہلکار امدادی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ مقامی نیوز چینلز پر نشر ہونے والی فضائی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ کلب کی عمارت کے درمیان میں ایک بڑا سوراخ نظر آ رہا ہے، جہاں پر اسٹیج کے سامنے موجود سامعین بیٹھے ہوتے۔ہلاک ہونے والوں میں مونٹے کرسٹی صوبے کی گورنر نیلسے کروز بھی شامل ہیں، جن کی موت پر ڈومینیکن صدر لوئس ابی نادر نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نیلسے کروز، میجر لیگ بیس بال کے آل سٹار کھلاڑی نیلسن کروز کی رشتہ دار تھیں، جس پر ان کے خاندان نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    چھت تقریباََ صبح 1 بجے گری جب مرینگی آرٹسٹ روبی پیریز اور ان کا آرکسٹرا اسٹیج پر پرفارم کر رہا تھا۔ ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جب چھت گرنے لگی، تو اسٹیج کے قریب ایک شخص بتا رہا تھا کہ کلب کے پیچھے کچھ گرا ہے، اور کچھ لمحے بعد چھت اور لٹکتے ہوئے لائٹس گرنے لگیں۔ اس کے بعد، شور اور چیخوں کی آواز سنائی دینے لگی۔روبیکا پیریز کی بیٹی نے مقامی میڈیا سے کہا کہ ان کے والد اس حادثے میں بچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریسکیورز نے انہیں ملبے میں سے نکالا، تو وہ گاتے ہوئے نکلے تاکہ لوگ انہیں سن سکیں۔سابق ایم ایل بی پچر اور ورلڈ سیریز چیمپئن اوکٹیو ڈیویل بھی زندہ ملے اور انہیں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ، وزیر تعمیرات عامہ ایڈورڈو ایسٹریا کے بیٹے کا بھی پتہ نہیں چل سکا۔

    صدر ابی نادر نے اس سانحے کے بعد تین دنوں کے سوگ کا اعلان کیا ہے اور منگل کے روز اپنی بیوی، فرسٹ لیڈی راکویل آرباجے کے ساتھ نائٹ کلب کا دورہ کیا تاکہ متاثرہ افراد سے تعزیت کریں۔سانتو ڈومنگو کی میئر کیرولینا میجیا ڈی گاریگو نے کہا کہ شہر "ایک خوفناک سانحے” کے ساتھ جاگ رہا ہے، اور وہ ان خاندانوں کے ساتھ تعزیت پیش کر رہی ہیں جو ابھی بھی اپنے پیاروں کے بارے میں خبر کا انتظار کر رہے ہیں۔

    جٹ سیٹ نائٹ کلب کی عمارت ڈومینیکن ریپبلک کے مشہور تفریحی مقامات میں شامل ہے اور اس کے پیر کے روز کے پروگرام خاص طور پر بڑے پیمانے پر لوگ آتے ہیں۔