Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میانمار میں زلزلے سے تباہی، 144 افراد کی ہلاکت، 730 زخمی

    میانمار میں زلزلے سے تباہی، 144 افراد کی ہلاکت، 730 زخمی

    میانمار کے فوجی حکومت کے سربراہ سینئر جنرل من آنگ ہلائنگ کے مطابق ایک طاقتور زلزلے کے نتیجے میں کم از کم 144 افراد ہلاک اور 730 زخمی ہو گئے ہیں۔

    جنرل من آنگ ہلائنگ نے ٹی وی پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔”زلزلہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے قریب آیا، جس کی شدت 7.7 تھی اور اس کی گہرائی صرف چھ میل تھی۔ زلزلے کا مرکز منڈالی کے دوسرے شہر کے قریب تقریباً دس میل دور تھا۔ زلزلے کے فوراً بعد جھٹکے محسوس ہوئے، جن میں سے ایک کا شدت 6.4 ریکارڈ کی گئی، جو کہ 12 منٹ بعد آیا۔اس زلزلے کے اثرات نے ہمسایہ ملک تھائی لینڈ کو بھی ہلا دیا، جہاں دارالحکومت بنکاک میں نو افراد ہلاک ہو گئے۔ ان میں آٹھ مزدور شامل ہیں، جو ایک 33 منزلہ زیر تعمیر عمارت کے گرنے کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ امدادی کارکنوں نے کہا کہ عمارت کے ملبے میں سو سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں۔

    میانمار میں پانچ شہروں اور قصبوں میں عمارتیں گر گئیں، جبکہ یانگون-منڈالی ایکسپریس وے پر ایک ریلوے پل اور ایک سڑک پل بھی تباہ ہوگئے۔ ریاستی میڈیا کے مطابق، ایراوادی دریا پر واقع آوا پل کے تباہ ہونے کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جس کے آچوں نے پانی کی طرف جھکاؤ کر لیا۔مو سیادنار چیریٹی گروپ کے ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ اس گروپ نے پین منار میں کم از کم 60 لاشیں مکتبوں اور عمارتوں سے نکالی ہیں، اور مزید لوگ ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔منڈالی کے رہائشیوں نے کہا کہ "ہم سب گھر سے باہر دوڑ گئے جب سب کچھ ہلنے لگا۔ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک پانچ منزلہ عمارت کو گرتے ہوئے دیکھا۔” ایک اور رہائشی نے کہا کہ شہر کے پورے علاقے میں تباہی پھیل گئی، اور سین پین نامی محلہ آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ سڑکیں تباہ ہو گئیں، فون لائنیں معطل ہو گئیں اور بجلی کی فراہمی بھی بند ہو گئی۔

    دیگر عینی شاہدین نے بتایا کہ تین افراد نماز پڑھتے ہوئے ہلاک ہو گئے جب بگو علاقے میں ایک مسجد جزوی طور پر گر گئی۔ نپیتو کے علاقے میں ایک مندر کے تباہ ہونے کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔مقامی میڈیا کے مطابق، آنگ بین میں ایک ہوٹل گرنے کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 20 زخمی ہو گئے۔

    یہ قدرتی آفت اس وقت آئی ہے جب میانمار خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔حکومتی فوج نے اعلان کیا ہے کہ سیگا ئنگ، منڈالی، مغوی اور شمال مشرقی شان ریاست، نیپی داو کونسل ایریا اور بگو علاقے میں ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ "ہم نے ان علاقوں میں نقصان کی تیز ترین تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ہم فوری طور پر امدادی کاموں کا آغاز کریں گے اور ضروری امداد فراہم کریں گے۔”

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ جنوب مشرقی ایشیا میں زلزلے سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے اپنی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ گوتریس کے مطابق "میانمار کی حکومت نے بین الاقوامی امداد کی درخواست کی ہے اور ہمارے میانمار میں موجود ٹیم پہلے ہی اس خطے میں اپنے وسائل کو پوری طرح متحرک کرنے کے لیے رابطے میں ہے تاکہ میانمار کے عوام کی مدد کی جا سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "البته دیگر ممالک بھی متاثر ہوئے ہیں۔ زلزلے کا مرکز میانمار میں تھا، اور اس وقت میانمار سب سے زیادہ کمزور ملک ہے۔”

    میانمار کے دارالحکومت نیپیداؤ میں 1,000 بیڈز والا ہسپتال بھی آج کے زلزلے کے دوران متاثر ہو گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، اس زلزلے نے 144 افراد کی جان لے لی اور کئی عمارتوں کو تباہ کر دیا، اس کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔ این جی او ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے میانمار اور تھائی لینڈ میں کام کرنے والے عملے نے اپنی سلامتی کی تصدیق کی ہے۔ اس تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی میڈیکل ہیومینیٹری ٹیمیں اس علاقے میں متاثرہ کمیونٹیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، بشرطیکہ حکام تیز اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کریں تاکہ وہ ضروری امداد فراہم کر سکیں۔

    میانمار کی فوجی حکومت نے زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر خون کی عطیات اور طبی سامان کی فوری اپیل کی ہے۔ فوجی حکومت کے ترجمان زاومِن تن نے رات دیر گئے ایک نیوز بلیٹن میں اس کی درخواست کی، جہاں تین شہری مراکز میں بڑی تعداد میں زخمی افراد رپورٹ ہوئے ہیں۔

    تھائی لینڈ کے وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ بینکاک میں صورتحال میں بہتری آئی ہے، تاہم ایک صحافی نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ اس کا تصور کرنا "کچھ مشکل” تھا۔ تارا ابہساکون، جو زلزلے کے دوران اپنی رہائشی عمارت کی چودہویں منزل پر موجود تھیں، نے کہا، "جب میں باہر نکلی تو سڑک پر بہت زیادہ ٹریفک تھی، اور چیزیں معمول پر آنے کی بات کرنا ابھی مشکل ہے کیونکہ ابھی بھی لوگ لاپتہ ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ سب کچھ کل تک معمول پر آ جائے گا۔”

  • پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام اسرائیلی مظالم کیخلاف ملک گیر احتجاج

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام اسرائیلی مظالم کیخلاف ملک گیر احتجاج

    شہروں میں مظاہرے، ریلیاں،ہزاروں افراد کی شرکت،اسرائیل کیخلاف نعرے بازی
    فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا ہوناہر مسلمان کا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے۔مقررین کے خطابات

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیراہتمام جمعۃ الوداع کے موقع پر مظلوم فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا گیا، لاہور،کراچی،اسلام آباد، پشاو،راولپنڈی، ملتان، بہاولپور، فیصل آباد، سکھر،لاڑکانہ سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے،خطبات جمعہ میں علماء کرام نے اسرائیلی مظالم کے خلاف مذمتی قراردادیں پیش کیں،چوبرجی چوک لاہور میں ہونے والے مظاہرے میں اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ احتجاجی مظاہروں کے دوران زبردست جذباتی ماحول دیکھنے میں آیا۔ شرکا نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے پلے کارڈز، بینرز اٹھا رکھے تھے. چوبرجی چوک لاہور میں احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ عبدالرؤف ،سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ لاہور مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں محصور مسلمانوں پر اسرائیلی حملوں کی محض مذمت سے کچھ نہیں ملے گا۔عالم اسلام کے قائدین اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ،مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر کے صرف مشر ق وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات سے دو چار کر رہے ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے گوجرانوالہ میں خطبہ جمعہ کے اجتماع ، بعد ازاں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اسرائیل کی بربریت ناقابل برداشت ہے ،جنگ بندی کے باوجود اسرائیل فلسطین میں کھلی دہشت گردی کر رہا ہے، مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے جوہر ٹاؤن میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ فلسطینی مسلمانوں پر اسرائیلی مظالم ، دہشت گردی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے مسلمان متحد و بیدار ہو جائیں ،او آئی سی اسرائیلی جارحیت کے خلاف موثر اقدامات کرے،کراچی میں جامع مسجد خالد بن ولید میں غزہ کے شہدا کی نماز جنازہ ادا کی گئی، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ سندھ کے صدر فیصل ندیم، کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان نے شرکا سے خطاب میں کہا کہ مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا فرض ہے ۔ غزہ میں انسانی قوانین کو روندا جارہا ہے ۔

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کی جانب سے آئی ایٹ مرکز میں یکجہتی فلسطین مظاہرہ کیا گیا،مظاہرے سے جنرل سیکریٹری مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد یاسر عرفات بٹ و دیگرنے خطاب کیا،فیصل آباد میں نشاط آباد پل کے پاس شیخ فیاض، احسن تارڑ نے احتجاجی مظاہرین سے خطاب کیا، ملتان میں وہاڑی روڈ نزد کوکا کولا میں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا،پشاور پریس کلب کے باہر مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے احتجاج کیا، گجرات میں رحمان شہید روڈپر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا،اوکاڑہ میں پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام دہلی سویٹ فیصل آباد روڈ پر اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے اشفاق ورک نے خطاب کیا،سکھر میں پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کے شرکاء سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونیوالی سازشوں کا محاسبہ کرنے کے لئے اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرے.

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام حیدر آباد میں پریس کلب کے سامنے،لاڑکانہ میں نئون دیرو روڈ پر،اوکاڑہ میں مرکز القادسیہ کے باہر،پاکپتن میں مرکز عبداللہ بن مبارک نگینہ چوک میں،سرگودھا میں مسلم لیگ ہاؤس ، عقب سول ہسپتال ،حافظ آباد میں کسوکی روڈ نزد المنیب میرج ہال،نارووال میں ظفروال بائی پاس پر،میانوالی میں سٹیشن چوک پر،ننکانہ میں مدینہ کالونی ،قصور میں کچہری روڈ پر،سیالکوٹ میں حاجی پورہ روڈ پر،منڈی بہاؤ الدین میں واسو روڈ پر، بہاولپور میں ون یونٹ چوک پر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی ،اسرائیلی مظالم کے لئے احتجاجی مظاہرے کئے گئے.

  • پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا کوئٹہ میں بلوچستان امن مارچ، سینکڑوں افراد کی شرکت

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا کوئٹہ میں بلوچستان امن مارچ، سینکڑوں افراد کی شرکت

    بلوچستان کے عوام امن کے خواہاں،دہشتگردی کو مسترد کر دیا،حافظ محمد امجد
    بلوچ محب وطن،پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، میر عارف بادینی
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام کوئٹہ میں بلوچستان امن مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف بلوچ قوم کا آج سڑکوں پر آنا اس امر کی دلیل ہے کہ اہل بلوچستان نے ملک دشمن قوتوں کو مسترد کر دیا ہے،بلوچستان محفوظ ہو گا تو پاکستان محفوظ ہو گا، بلوچستان امن مارچ کا مقصد بلوچستان میں امن و استحکام کے لیے آواز بلند کرنا ہے،پاکستان مرکزی مسلم لیگ قیام امن کے لئے ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کو متحد کر کے تحریک چلائے گی.

    ان خیالات کا اظہار پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام ریلوے سٹیشن سے پریس کلب تک منعقدہ بلوچستان امن مارچ سے پاکستان مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر حافظ محمد امجد،بلوچ رہنماؤں میر عارف بادینی ،صدر ملی لیبر فیڈریشن بلوچستان میر شکر خان رئیسانی ،چیئرمین سرمست قومی اتحاد غلام حسین مومن و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کیا، بلوچستان امن مارچ کی قیادت مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے صدر حافظ محمد امجد نے کی، بلوچستان امن مارچ کا آغاز ریلوے اسٹیشن سے ہوا اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا کوئٹہ پریس کلب پر اختتام پذیر ہوا، بلوچستان امن مارچ میں بڑی تعداد میں شہری شریک ہوئے .شرکا نے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم اٹھا رکھے تھے،امن مارچ کےشرکاء نے امن و یکجہتی کے حق میں نعرے لگائے.

    بلوچستان امن مارچ کے دوران شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد امجد نے کہا کہ بلوچستان کے عوام امن چاہتے ہیں اور ترقی کے خواہاں ہیں،بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر نہ صرف صوبے بلکہ ملک کے امن و امان کے لئے انتہائی خطرناک ہے،سی پیک پاکستان کا بہترین منصوبہ جس کو ناکام بنانے کے لئے مذموم سازشیں کی جا رہی ہیں،مرکزی مسلم لیگ بلوچستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرے گی، بلوچستان کے مسائل کا حل پرامن مذاکرات اور باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہے۔تمام سیاسی جماعتیں بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں،صوبے کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ہمارا دل بلوچی بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ہمارا بلوچستان کے ساتھ لا الہ الا اللہ کا رشتہ ہے اور اسی کلمے کو بنیاد بنا کر ہم سیاست کے میدان میں اترے ہیں

    بلوچ رہنماؤں میر عارف بادینی ،صدر ملی لیبر فیڈریشن بلوچستان میر شکر خان رئیسانی ،چیئرمین سرمست قومی اتحاد غلام حسین مومن و دیگرکا کہنا تھا کہ بلوچستان کے شہری دہشت گردی کو مسترد کرتے ہیں، بلوچ محب وطن ہیں اور پاکستان پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے، بلوچوں کا خون پاکستان کے دفاع کے لئے سب سے پہلے گرے گا، بلوچ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں، بلوچستان کے باسیوں کی محرومیوں کا ازالہ کیا جائے، ہم امن چاہتے ہیں اور پاکستان کو محفوظ و خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، بلوچستان میں امن ہو گا تو پاکستان ترقی کرے گا.

  • عمران خان کو کتابیں فراہم کرنے اور  بچوں سے بات کرانے کا حکم

    عمران خان کو کتابیں فراہم کرنے اور بچوں سے بات کرانے کا حکم

    انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کتابیں فراہم کرنے اور بچوں سے بات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کو کتابوں کی عدم فراہمی اور بچوں سے بات نہ کرانے سے متعلق کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں ہوئی۔سماعت کے بعد عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی دونوں درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے عمران خان کو فوری طور پر کتابیں فراہم کرنے اور بچوں سے بات کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواستوں پر جیل حکام کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو فوری طور پر کتابوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔عدالتی حکم میں کہا گیا کہ عید سے قبل بانی پی ٹی آئی کی اپنے بچوں سے بات بھی کرائی جائے،عید مذہبی تہوار ہے، درخواست گزار کی بچوں سے فوری بات کرائی جائے۔

  • نومئی کےتین مقدمے،یاسمین راشد کی ضمانت خارج

    نومئی کےتین مقدمے،یاسمین راشد کی ضمانت خارج

    انسداد دہشت گردی عدالت لاہور: عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ سمیت چار مقدمات کی سماعت

    لاہور: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت لاہور میں آج اہم مقدمات کی سماعت کی گئی، جن میں عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ سمیت چار مختلف مقدمات شامل تھے۔ عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی تین مقدمات میں ضمانتیں واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کر دیں۔ تھانہ شادمان،اس مقدمے میں ملزمان کے خلاف جلاؤ گھیراؤ کی کارروائی کی گئی تھی۔عسکری ٹاور مقدمہ، یہاں پر بھی جلاؤ گھیراؤ کی کارروائی کی گئی جس میں کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔جناح ہاؤس کے باہر گاڑی جلانے کا مقدمہ، اس واقعے میں بھی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا، اور عدالت نے اس مقدمے میں ضمانتیں خارج کر دی۔

    عدالت نے ایک اور اہم مقدمے میں بھی فیصلہ سناتے ہوئے، راحت بیکری کے باہر جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں ضمانت پر دلائل طلب کیے ہیں۔ اس مقدمے کی مزید سماعت میں پیش رفت کے لئے عدالت نے سماعت کو 10 اپریل تک ملتوی کر دیا۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے آج ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کی اور ان مقدمات کی بنیاد پر اپنے فیصلے سنائے۔

  • میانمار میں زلزلہ،عمارتوں کے گرنے کی اطلاعات

    میانمار میں زلزلہ،عمارتوں کے گرنے کی اطلاعات

    آج دوپہر 1:30 بجے میانمار میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس کے اثرات بنکاک، تھائی لینڈ تک محسوس ہوئے۔ زلزلہ کا مرکز میانمار کے شہر مینڈلی کے قریب تھا، جو 1.2 ملین افراد کی آبادی والا شہر ہے۔ ابھی تک کسی جانی نقصان کی خبریں موصول نہیں ہو سکیں، تاہم سوشل میڈیا پر عمارتوں کے گرنے کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں۔

    میانمار فائر سروسز کے ایک افسر نے رائٹرز کو بتایا کہ "ہم نے تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے اور یانگون میں نقصانات اور جانی نقصان کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں”۔ افسر نے مزید کہا، "فی الحال ہمیں کوئی معلومات نہیں ملی ہیں”۔زلزلے کا مرکز مینڈلی سے تقریباً 17.2 کلومیٹر (10.6 میل) دور تھا، اور اس کی شدت نے بنکاک تک جھٹکے محسوس کیے۔ سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جن میں بلند عمارتوں کے گرنے کے مناظر دکھائی دے رہے ہیں، تاہم ابھی تک کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔اس وقت میانمار کے مختلف علاقوں سے نقصانات کی مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں اور حکام نے امدادی کاموں کا آغاز کر دیا ہے۔

  • روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

    روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت وفاقی اور صوبائی قیادت کی بڑی بیٹھک میں روایتی اور ڈیجیٹل میڈیا پر ملک دشمن مہم کا منہ توڑ جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دہشتگردی کے خلاف حکومت کے واضح اور دو ٹوک مؤقف پر گزشتہ روز وزیرِ اعظم ہاؤس میں اجلاس ہوا جس میں عسکری اور سول قیادت، چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی نمائندے شریک ہوئے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جعفر ایکسپریس کے حملہ آوروں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں کو ئی کسر نہ چھوڑی جائے جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قومی بیانیے کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا گیا اور دہشتگردوں اور شرپسندوں کے سد باب کے لیے مؤثر اور سرگرم بیانیہ بنانے کی ہدایات دی گئیں،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قومی بیانیے اور ملک کی سلامتی کے خلاف کسی بھی قسم کے مواد کا سدباب کیا جائے گا، ملکی سلامتی اور ہم آہنگی کے لیے تمام صوبوں کا تعاون اور آپسی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا،قومی بیانیے کو نوجوانوں تک پہنچانے کے لیے فلم اور ڈراموں میں قومی موضوعات اپنائے جائیں گے، فلم اور ڈراموں میں شر پسندوں کے بیانیے کا مؤثر مقابلہ ہوگا، اس حوالے سے اتفاق کیا گیا کہ اس میں چاروں صوبے کا تعاون ہوگا،

    اجلاس میں یہ بھی فیصلہ ہوا ہے کہ قومی بیانیے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پر بھی مواد نشر کیا جائے گا، دہشتگردی کے منفی معاشرتی اثرات کو اجاگر کیا جائے، سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا سدباب کیا جائے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈیپ فیک اور دیگر ذرائع سے بنائی گئی جھوٹی معلومات اور مواد کا مستند معلومات سے بھرپور جواب دیا جائے، قومی نصاب میں دہشتگردی کے حوالے سے آگاہی شامل کی جائے۔

  • پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر 28 ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف

    پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر 28 ماہ میں فراہم کیے جائیں گے۔آئی ایم ایف

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے حالیہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پاکستان کو کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد پاکستان کے لئے کلائمیٹ فنانسنگ اور ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت فنڈز کی فراہمی پر تھا۔

    جولی کوزیک نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ کی جانے والی بات چیت کلائمیٹ فنانسنگ کے حوالے سے کامیاب رہی ہے اور 1.3 ارب ڈالر کی یہ رقم پاکستان کو 28 ماہ میں فراہم کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس رقم کی فراہمی عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی مالی مدد کرے گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 37 ماہ کا ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) پروگرام ستمبر میں طے ہو چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت پاکستان کو 7 ارب ڈالر اقساط میں فراہم کیے جائیں گے، جو کہ ملک کی مالی حالت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔جولی کوزیک نے مزید بتایا کہ پاکستان کے لئے نئی قسطوں کی فراہمی کے لئے 25 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے تحت، پاکستان نے ای ایف ایف پروگرام کے پہلے جائزہ اجلاس میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ان کامیاب مذاکرات کے بعد پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان جائزہ مذاکرات کی کامیابی کے بعد اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس سے پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام حاصل ہونے کی توقع ہے۔پاکستان کے لیے آئی ایم ایف سے ملنے والی مالی امداد نہ صرف ملک کی مالی مشکلات کو کم کرے گی بلکہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے پاکستان کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔

  • سڑک پر نماز جمعہ پڑھا تو پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا،بھارتی مسلمانوں کو دھمکی

    سڑک پر نماز جمعہ پڑھا تو پاسپورٹ منسوخ کردیا جائے گا،بھارتی مسلمانوں کو دھمکی

    بھارتی ریاست میرٹھ (اتر پردیش) میں عید الفطر کی نماز اور رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کے لیے پولیس نے سڑکوں پر نماز پڑھنے والوں کے خلاف سخت وارننگ جاری کی ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ جو لوگ سڑکوں پر نماز پڑھنے کی کوشش کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی جس کے نتیجے میں ان کے پاسپورٹ منسوخ کیے جا سکتے ہیں اور ڈرائیونگ لائسنس بھی منسوخ ہو سکتا ہے۔

    میرٹھ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس (شہر) آیوَش وکرَم سنگھ نے کہا ہے کہ عید کی نماز مقامی مساجد یا مخصوص عیدگاہوں میں ادا کی جانی چاہیے اور سڑکوں پر نماز نہیں پڑھی جانی چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ےنت سنگھ چودھری نے کہا کہ اگر افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوتے ہیں تو ان کے پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے جا سکتے ہیں، اور نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے این او سی کی ضرورت ہوگی۔ سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے یا فساد بھڑکانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے

    جےنت سنگھ چودھری نے کہا کہ علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز کا استعمال کیا جائے گا اور مقامی انٹیلی جنس ٹیمیں بھی فعال ہیں تاکہ کسی بھی طرح کے فساد یا کشیدگی کو روکا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمام حساس مقامات پر پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا، جن میں وردی والے اور عام لباس میں پولیس افسران شامل ہوں گے۔

  • تونسہ میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کیلیے وزیراعلیٰ نے کیا پلان طلب

    تونسہ میں ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کیلیے وزیراعلیٰ نے کیا پلان طلب

    لاہور: وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے تحصیل تونسہ میں ایڈز کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے آپریشنل پلان طلب کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں لاہور میں ایک اہم اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے کی۔ اجلاس میں تحصیل تونسہ کے علاقے میں ایڈز کے پھیلنے کے اسباب کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر ایک مشترکہ مشن تشکیل دیا گیا ہے، جس میں یونیسف، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور محکمۂ صحت پنجاب شامل ہیں۔ اس مشن کا مقصد ایڈز کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانا ہے اور اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر تجاویز تیار کرنا ہے۔جوائنٹ مشن وزیرِ اعلیٰ کو ایڈز کے کنٹرول اور بچاؤ کے لیے مفصل تجاویز پیش کرے گا، اور اس کے علاوہ 7 سے 14 اپریل تک متاثرہ بچوں کی ہسٹری ٹریسنگ کی جائے گی تاکہ ایڈز کے پھیلاؤ کے اسباب کا پتہ چلایا جا سکے۔مریم نواز نے ایڈز سے متاثرہ بچوں کے مکمل فری علاج کی ہدایت بھی کی ہے اور ساتھ ہی ایڈز کے پھیلاؤ کے اسباب اور اس میں ملوث ذمے داروں کا تعین کرنے کے لیے فوری تحقیقات کرانے کا حکم دیا ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب ایڈز کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو فعال اور ہم آہنگ بنانے کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی۔