Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عدالت جن کو سزا سنا دے ان کو میڈل بھی دیا جاتا ہے۔جسٹس بابر ستار

    عدالت جن کو سزا سنا دے ان کو میڈل بھی دیا جاتا ہے۔جسٹس بابر ستار

    ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب خلاف توہین عدالت کیس میں جسٹس بابرستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کیلئے اچھی بات یہ ہے اگر عدالت سے سزا ملے تو پھر میڈل بھی ملتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس بابرستار کے حال ہی میں تمغے دینے کے حوالے سے اہم ریمارکس دیئے ہیں، دوران سماعت جسٹس بابرستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ آپ کیلئے اچھی بات یہ ہے اگر عدالت سے سزا ملے تو پھر میڈل بھی ملتا ہے،آج کل عدالت جن کو سزا سنا دے ان کو میڈل بھی دیا جاتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نےملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق ڈی جی کا نام سفری پابندی کی فہرست سے نکالنے کے کیس میں عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب کو توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا جواب جمع کرائیں کہ آپ کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع اور جرمانہ کیوں نہ عائد کیا جائے؟ ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور ڈائریکٹر نیب نے جواب جمع کرانے کیلئے وقت طلب کر لیا۔ عدالت نے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل کو معاونت کیلئے نوٹس جاری کر دیا جبکہ ایڈووکیٹ عبدالرحیم بھٹی اور شعیب شاہین ایڈووکیٹ کو کیس کا عدالتی معاون مقرر کر دیا۔ عدالت نے کہا سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائیکورٹ اور دیگر ہائیکورٹس کے فیصلوں میں اصول طے کیے جا چکے ہیں۔ہائیکورٹس نیب کی سفارش پر سفری پابندی میں نام شامل کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے چکیں عدالتیں بار بار لکھ رہی ہیں لیکن ریاست وہی کر رہی ہیں جو وہ ہمیشہ سے کر رہی ہے۔ نیب پھر اُسی طرح کی سفارش کر دیتا ہے اور پھر اُسی طرح نام پابندی کی فہرست میں شامل کر دیے جاتے ہیں۔ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے آپ کے لیے اچھی بات یہ ہے کہ اگر عدالت سے پینلٹی لگ گئی تو پھر میڈل بھی ملتا ہے۔آج کل عدالت جن کو سزا سنا دے اُن کو میڈل بھی دیا جاتا ہے۔

    جسٹس بابرستار نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان میمن کو توہین عدالت پر سزا سنائی تھی،انٹراکورٹ اپیل میں وہ سزا گزشتہ سال معطل ہوئی تھی لیکن ابھی ختم نہیں ہوئی، ڈپٹی کمشنر کو چند روز قبل 23مارچ کو تمغہ امتیاز سے نوازا گیا ہے.

  • مہنگائی کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،وزیراعظم

    مہنگائی کے باوجود آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان، میاں شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کرلیا ہے۔

    وزیراعظم نے یہ اعلان وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا جو ان کی زیرصدارت ہوا،کابینہ اجلاس میں ملکی معیشت اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکراتی عمل پر تفصیل سے بات کی گئی۔ اجلاس میں وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار، وزیرِ مملکت برائے خزانہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ کابینہ کے اجلاس کے دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ وزیراعظم نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ آرمی چیف کی والدہ کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطا فرمائے۔وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی فوج کے عظیم سپہ سالار کی والدہ کی وفات پر ان کے خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہبازشریف نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں معاونین خصوصی کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور آئندہ حکومتی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور عوام کی فلاح کے لیے مکمل طور پر متحرک ہے، اور تمام اہم فیصلوں میں معاونین خصوصی کی رائے کو شامل کیا جائے گا تاکہ ہر سطح پر بہتر کارکردگی یقینی بنائی جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت نے حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدے میں آرمی چیف کا بھی کلیدی کردار ہے، نائب وزیراعظم، وزیر خارجہ، وزیر خزانہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں،پوری قوم نے ہدف کے حصول کے لئے دعائیں کیں،عام عوام اور تںخواہ دار طبقے نے مہنگائی کا بوجھ برداشت کیا، دہشتگردی،مہنگائی کے باوجودمعاہدہ طے پانا حکومتی سنجیدگی ہے،معیشت کی بحالی کےلئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ذاتی طور پر بے پناہ کوششیں کیں، اُن کا بے حد شکریہ ادا کرتا ہوں، یہ میرے لئے فریش اور نیا تجربہ ہے، میں بہت حوصلہ محسوس کر رہا ہوں،

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ معاہدہ اقتصادی استحکام کی جانب اہم قدم ثابت ہوگا۔ اس معاہدے سے پاکستان کو مالی امداد کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گی اور ملک کی معیشت کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔

  • بی آرٹی کیس،پرویز خٹک کو”کلین چٹ” مل گئی، کیس بند

    بی آرٹی کیس،پرویز خٹک کو”کلین چٹ” مل گئی، کیس بند

    نیب خیبر پختون خوا نے پرویز خٹک اور شہاب علی شاہ کے خلاف پشاور بی آر ٹی منصوبے میں مبینہ کرپشن کیس کی کارروائی روک دی

    قومی احتساب بیورو (نیب) خیبر پختون خوا نے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے پرویز خٹک اور شہاب علی شاہ کے خلاف کارروائی روک دی ہے۔ نیب کے ترجمان نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پشاور بی آر ٹی کرپشن کیس میں ان دونوں افراد کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔نیب نے اس معاملے میں پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو ایک مراسلہ بھیجا ہے، جس میں انہیں اس کیس میں مزید کارروائی سے آگاہ کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اس کیس میں سابق چیف سیکریٹری خیبر پختون خوا اور مختلف کنٹریکٹرز کے خلاف بھی کارروائی روک دی گئی ہے، جن میں تین چینی کنٹریکٹرز بھی شامل ہیں۔

    یہ منصوبہ سابق وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کے دورِ حکومت میں شروع کیا گیا تھا، اور شہاب علی شاہ اس وقت خیبر پختون خوا کے سیکریٹری منصوبہ بندی و ترقی تھے۔ نیب کی کارروائی میں ان افراد کے کردار کی تحقیقات کی جا رہی تھیں، تاہم اب ان کے خلاف کارروائی روک دی گئی ہے۔

    بی آر ٹی منصوبے پر خیبر پختون خوا میں مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے تھے، اور یہ منصوبہ مختلف مراحل میں تاخیر اور مالی طور پر غیر ضروری اخراجات کی وجہ سے زیر بحث رہا تھا۔ لیکن اب نیب کے فیصلے کے بعد ان افراد کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی جب تک مزید شواہد سامنے نہیں آتے۔

  • الاسکا میں ہوائی جہاز ،جنوبی کوریا میں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار

    الاسکا میں ہوائی جہاز ،جنوبی کوریا میں ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار

    الاسکا، امریکہ: الاسکا کی برفیلی جھیل میں ایک ہوائی جہاز گرنے کے بعد پائلٹ اور اس کی دو بیٹیاں طیارے کے ونگ پر رات گزارنے میں کامیاب ہو گئیں۔ حادثے کے بعد پائلٹ اور اس کی دونوں بیٹیاں تقریباً 12 گھنٹے تک جہاز کے پر پر بیٹھے رہے۔ اس دوران، ان کی مدد کے لیے علاقے کی انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے تیز تر امدادی کارروائیاں کیں۔

    الاسکا آرمی نیشنل گارڈ کے رکن ٹیری گوڈس نے اے پی کو بتایا کہ اتوار کی رات ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر دیکھی جس میں لاپتہ طیارے کی تلاش کے لیے مدد کی درخواست کی گئی تھی۔ فوراً، پیر کی صبح 12 پائلٹس، جن میں گوڈس بھی شامل تھے، طیارے کی تلاش میں روانہ ہو گئے۔ انہیں تسٹومینا جھیل کے قریب ایک لاپتہ پائپر سپر کروزر طیارہ نظر آیا، جس کے ونگ پر پائلٹ اور اس کی بیٹیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ پائلٹ اور اس کی بیٹیوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا اور انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔پائلٹ اور اس کی بیٹیاں جزیرہ نما کینائی سے سیاحتی دورے کے بعد واپس آ رہے تھے، جب حادثہ پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور اب تحقیقات جاری ہیں۔

    دوسری جانب جنوبی کوریا کے جنوب مشرقی علاقے میں فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں پائلٹ ہلاک ہو گیا۔ یہ حادثہ یوسیونگ کے پہاڑی علاقے میں پیش آیا، جہاں ہیلی کاپٹر جنگل کی آگ بجھانے کے لیے کام کر رہا تھا۔ ہیلی کاپٹر سیئول سے تقریباً 180 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں واقع تھا، جب وہ حادثے کا شکار ہوا۔ حکام نے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس سانحے کی اصل وجہ کا پتا چل سکے۔

    یہ دونوں واقعات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہیں، جہاں ایک طرف الاسکا میں خوش قسمتی سے پائلٹ اور اس کی بیٹیاں بچ گئیں، تو دوسری جانب جنوبی کوریا میں ایک فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں انسانی جان کا نقصان ہوا۔

  • کرینہ کپور اور راہول گاندھی، ایک انکشاف جو مداحوں کو حیران کر گیا

    کرینہ کپور اور راہول گاندھی، ایک انکشاف جو مداحوں کو حیران کر گیا

    بالی وڈ کی مشہور اداکارہ کرینہ کپور کے ماضی کے تعلقات ہمیشہ بھارتی میڈیا اور مداحوں کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہے۔ چاہے وہ شاہد کپور سے ان کا رشتہ ہو یا پھر سیف علی خان سے محبت، یہ سب کچھ خبروں کی زینت بنتا رہا۔ تاہم، بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کرینہ کپور کی زندگی میں ایک ایسا وقت بھی تھا جب وہ بھارت کے معروف سیاستدان راہول گاندھی کو پسند کرتی تھیں اور ان سے ملاقات کی خواہشمند تھیں۔

    بھارتی میڈیا کی حالیہ رپورٹس کے مطابق، کرینہ کپور نے سیف علی خان سے شادی سے قبل مشہور میزبان سیمی گریوال کے شو میں اپنی پسند کا اعتراف کیا تھا۔ شو کے دوران کرینہ نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ راہول گاندھی کو جاننے کی خواہشمند تھیں۔کرینہ کپور نے کہا تھا، "میں راہول گاندھی سے ملنا چاہوں گی کیونکہ ہم دونوں بااثر خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔”جب سیمی گریوال نے کرینہ کپور سے سوال کیا کہ اگر انہیں کسی کو ڈیٹ کرنے کا موقع ملے تو وہ کس کا انتخاب کریں گی، تو کرینہ نے جواب دیا،”مجھے نہیں پتہ کہ مجھے یہ کہنا چاہیے یا نہیں، کیونکہ یہ تھوڑا متنازع ہو سکتا ہے، لیکن میں راہول گاندھی کو ڈیٹ کرنا چاہوں گی۔”

    کرینہ کپور نے مزید کہا، "میں راہول گاندھی کی تصویریں دیکھتی ہوں اور سوچتی ہوں کہ انہیں جاننا کتنا دلچسپ ہوگا۔ میرا تعلق ایک فلمی گھرانے سے ہے جبکہ وہ ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے شاید ہماری گفتگو بہت دلچسپ رہے۔”

    یہ انکشاف اس وقت بھارتی میڈیا میں کافی زیر بحث آیا اور مداحوں کے لیے بھی حیرانی کا باعث بنا۔ تاہم، کرینہ کی زندگی میں آگے چل کر سیف علی خان آئے اور دونوں کی محبت شادی میں بدل گئی۔ آج کرینہ اور سیف بالی وڈ کے سب سے پسندیدہ جوڑوں میں شمار ہوتے ہیں۔

  • ایک دو نہیں، دو درجن سابق اراکین اسمبلی نااہل قرار

    ایک دو نہیں، دو درجن سابق اراکین اسمبلی نااہل قرار

    الیکشن کمیشن نے 2023-2022 میں اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے سے متعلق کیس کا فیصلہ جاری کیا جس میں قومی اسمبلی کے 10 سابق ارکان کو نااہل قرار دیا گیا۔فیصلے کے مطابق سندھ اور بلوچستان اسمبلیوں کے 7، 7 سابق ارکان کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ سابق ارکان اسمبلی اس وقت تک عام، ضمنی یا سینیٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے جب تک وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہیں کر دیتے۔ مالی سال 2023-2022 کے اثاثوں کی تفصیلات کے فارم بی جمع کرانے تک یہ ارکان نااہل رہیں گے۔سابق ارکان قومی اسمبلی جنہیں نااہل قرار دیا گیا ہے ان میں خرم دستگیر خان، محسن نواز رانجھا، محمد عادل، رانا محمد اسحاق خان، کمال الدین اور عصمت اللہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سابق ایم این ایز ثمینہ مطلوب، نصیبہ، شمیم آرا پنہور اور روبینہ عرفان بھی نااہل قرار دی گئی ہیں۔الیکشن کمیشن نے گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر سندھ اسمبلی کے سابق ارکان عدیل احمد، حزب اللہ بھگیو، ارسلان تاج حسین، عارف مصطفیٰ جتوئی، عمران علی شاہ، علی غلام اور طاہرہ کو بھی نااہل قرار دیا ہے۔

    بلوچستان اسمبلی کے سابق ارکان میر سکندر علی، میر محمد اکبر، سردار یار رند، عبدالرشید اور عبدالواحد صدیقی کو بھی نااہل قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی کے سابق ارکان میر حمال اور بی بی شاہینہ بھی نااہل قرار پائی ہیں۔

  • امریکہ نے پاکستان،چین ،یو اے ای کی کمپنیوں‌پر کی پابندی عائد

    امریکہ نے پاکستان،چین ،یو اے ای کی کمپنیوں‌پر کی پابندی عائد

    امریکہ نے پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکہ نے پاکستان سمیت چین، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی 70 کمپنیوں پر برآمدی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں میں 19 پاکستانی کمپنیوں، 42 چینی کمپنیوں اور 4 متحدہ عرب امارات کی کمپنیوں کے علاوہ ایران، فرانس، افریقہ، سینیگال اور برطانیہ کی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ جن کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہ امریکہ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ان کمپنیوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ امریکہ نے پاکستان یا دیگر ممالک کی کمپنیوں پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کی ہوں، اپریل 2024 میں امریکہ نے چین کی تین اور بیلاروس کی ایک کمپنی پر پاکستان کے میزائل پروگرام کے لیے تعاون کرنے کے الزام میں پابندیاں عائد کی تھیں۔

    امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والی پاکستانی کمپنیوں میں "الائیڈ بزنس کنسرن پرائیویٹ لمیٹڈ”، "اریسٹن ٹریڈ لنکس”، "بریٹلائٹ انجینئرنگ کمپنی”، "گلوبل ٹریڈرز”، "انڈنٹیک انٹرنیشنل”، "انٹرا لنک انکارپوریٹڈ”، "لنکرز آٹومیش پرائیویٹ لمیٹڈ”، "این اے انٹرپرائزز” شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی کمپنیوں میں "اوٹو مینوفیکچرنگ”، "پوٹھوہار انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ کنسرن”، "پراک ماسٹر”، "پروفیشنل سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ”، "رچنا سپلائیز پرائیویٹ لمیٹڈ” اور "رسٹیک ٹیکنالوجیز” بھی پابندیوں کا شکار ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2021 میں بھی امریکی انتظامیہ نے پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں 13 پاکستانی کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اس کے علاوہ 2018 میں امریکہ نے پاکستان کی سات انجینیئرنگ کمپنیوں کو سخت نگرانی کی فہرست میں شامل کیا تھا جن پر الزام تھا کہ وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں اور جوہری آلات کی تجارت میں ملوث ہو سکتی ہیں۔

    امریکہ کی جانب سے یہ پابندیاں عالمی سطح پر پاکستانی اور دیگر متعلقہ ممالک کی کمپنیوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہیں، جس سے ان کے کاروباری تعلقات اور عالمی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  • صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں صحافی وحید مراد کی گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں ان کی فوری بازیابی اور مبینہ اغوا میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    درخواست وحید مراد کی ساس عابدہ نواز کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری دفاع، انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد اور تھانہ کراچی کمپنی کے ایس ایچ او کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ رات تقریباً دو بجے، سیاہ وردی میں ملبوس نامعلوم افراد ان کے گھر واقع جی-8 میں داخل ہوئے۔ درخواست گزار کے مطابق، ان کے ہمراہ دو پولیس کی گاڑیاں بھی موجود تھیں، اور وہ وحید مراد کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔ درخواست میں مزید کہا گیا کہ ان افراد نے نہ صرف وحید مراد کو اغوا کیا بلکہ ان کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، جبکہ جاتے وقت درخواست گزار کا موبائل فون بھی ساتھ لے گئے۔عابدہ نواز نے عدالت کو بتایا کہ جب انہوں نے تھانہ کراچی کمپنی میں وحید مراد کی بازیابی کے لیے درخواست دی تو مقدمہ درج کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پولیس حکام نے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کر لی۔

    درخواست کے مطابق، مسلح افراد نے چہرے پر نقاب پہن رکھے تھے اور تین گاڑیوں میں سوار تھے۔ وہ وحید مراد کو ان کے گھر سے زبردستی لے گئے جبکہ اہل خانہ کو کسی بھی قسم کی مزاحمت کرنے سے روک دیا۔دائر کردہ درخواست میں عدالت سے گزارش کی گئی ہے کہ وحید مراد کو فوری طور پر بازیاب کرانے اور انہیں مبینہ طور پر اغوا کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے۔

    دوسری جانب صحافتی برادری نے وحید مراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • 54 سالہ” ہاؤس وائف” ہوں، سزا معطل کی جائے،بشریٰ بی بی کی درخواست

    54 سالہ” ہاؤس وائف” ہوں، سزا معطل کی جائے،بشریٰ بی بی کی درخواست

    بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر جلد سماعت کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہے۔

    بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں کہا کہ 25 مارچ کو سزا معطلی کا کیس سماعت کے لیے مقرر تھا تاہم اس روز مرکزی وکیل قتل کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں مصروف تھے جس کی وجہ سے درخواست کی سماعت نہ ہو سکی۔ بشریٰ بی بی نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے مختصر کاز لسٹ کی وجہ سے سزا معطلی کی درخواستیں عید کے بعد تک ملتوی کردیں۔بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ 54 سالہ ہاؤس وائف ہیں اور سزا معطلی کی درخواست کو مرکزی اپیل کے ساتھ عید سے قبل سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ مقدمے کی کارروائی میں تاخیر نہ ہو۔

    درخواست میں بشریٰ بی بی نے وفاقی حکومت اور چیئرمین نیب کو فریق بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سزا کی معطلی سے متعلق ان کی درخواست کو جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے تاکہ ان کے خلاف عدالتی کارروائی میں فوری انصاف مل سکے۔

  • صحافی فرحان ملک کا دوسرے مقدمہ میں ریمانڈ منظور

    صحافی فرحان ملک کا دوسرے مقدمہ میں ریمانڈ منظور

    کراچی کی مقامی عدالت نے معروف صحافی اور نجی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز فرحان ملک کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے ان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست منظور کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا حکم دیا۔

    فرحان ملک کو غیر ملکیوں کے ساتھ انٹرنیٹ فراڈ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہیں ملیر کورٹ میں پیش کیا گیا تھا، تاہم اس سے قبل ایک اور عدالت نے انہیں عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم، عدالتی حکم پر جیل منتقل کرنے کے بجائے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔20 مارچ کو ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی نے پیکا آرڈیننس کے تحت فرحان ملک کو گرفتار کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق، ان کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے انکوائری جاری تھی۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے ان کے دفتر پر چھاپہ مارا اور وہاں سے کمپیوٹر، یو ایس بی ڈرائیو سمیت دیگر ڈیجیٹل شواہد ضبط کر لیے۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی نے 20 مارچ کو فرحان ملک کو بیان دینے کے لیے طلب کیا تھا۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر سائبر کرائم کے احکامات پر سب انسپکٹر ذیشان نے ان کے خلاف مقدمہ نمبر 25/25 درج کر کے انہیں باقاعدہ طور پر گرفتار کر لیا۔

    فرحان ملک کی گرفتاری پر صحافتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی صحافتی تنظیموں نے اس گرفتاری کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ صحافیوں کو آزادیٔ اظہار کے حق کے تحت تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ کیس مزید تحقیقات کے مراحل میں ہے اور مستقبل میں مزید انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔