Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جعفر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ کے لیے حملے کے 15 دن بعد بحال

    جعفر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ کے لیے حملے کے 15 دن بعد بحال

    بولان میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے باعث 15 دن کی معطلی کے بعد جعفر ایکسپریس پشاور سے کوئٹہ کے لیے روانہ ہو گئی۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے پشاور میں مسافروں کو رخصت کیا اور بتایا کہ جعفر ایکسپریس جمعے کو کوئٹہ سے پشاور واپس آئے گی۔

    وزیر ریلوے حنیف عباسی نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ بولان میل جو پہلے ہفتے میں صرف 2 دن چلتی تھی، اب روزانہ کی بنیاد پر چلائی جائے گی تاکہ عوام کو بہترین سفری سہولت مل سکے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا کہ "جو لوگ بلوچستان کی ترقی روکنا چاہتے تھے، وہ آج مایوس ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف قوم متحد ہے اور ہم سب کو اس کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ "کوئی سیاست نہ کرے، کیونکہ مخصوص جماعتیں نفرت اور شر انگیزی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، اور اس طرح کی سیاست سے بلوچستان کی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔”

    یاد رہے کہ دو ہفتے قبل بلوچستان کے علاقے بولان میں دہشت گردوں نے جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا تھا، جس میں خواتین اور بچوں سمیت تمام مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔اس واقعے کے بعد ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف عزم مزید مضبوط ہوا ہے اور حکومتی اقدامات کے تحت ٹرین سروسز کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے تاکہ عوام کو سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے اور دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

  • امریکی صدر  کا امپورٹڈ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس کا اعلان

    امریکی صدر کا امپورٹڈ گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں ایک اہم اعلان کیا کہ امریکا سے باہر تیار کی جانے والی تمام گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیکس (ٹیرف) عائد کیا جائے گا۔

    صدر ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت کی کہ یہ ٹیکس صرف غیر ملکی گاڑیوں پر عائد ہوگا، اور امریکا میں بننے والی گاڑیوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام امریکی صنعت کو تحفظ دینے اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایلون مسک نے ان سے آٹو ٹیرف کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں دیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ وہ چین پر عائد کردہ ٹیکس میں تھوڑی کمی کر دیں، لیکن اس پر فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    ایک صحافی کی جانب سے یمن حملے کے بارے میں غلطی سے بھیجے جانے والے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ مشیر قومی سلامتی نے اس کی ذمہ داری قبول کی ہے، لیکن یہ ممکن ہے کہ سگنل ایپ میں کسی قسم کی خرابی کی وجہ سے یہ معلومات غلطی سے پہنچ گئی ہوں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سگنل ایپ ایک مؤثر ذریعہ نہیں ہے اور اس کے ذریعے کبھی کبھار مسائل پیش آ سکتے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اس دوران یہ بھی اعلان کیا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف اپنے حملے جاری رکھے گا، اور ان کے خلاف تمام کارروائیاں بلا روک ٹوک جاری رہیں گی۔

    اس فیصلے کا اثر عالمی سطح پر ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو امریکا میں اپنی گاڑیاں برآمد کرتے ہیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

  • امریکی میگزین نے ٹرمپ انتظامیہ کے یمن منصوبےکی مزید تفصیلات کی جاری

    امریکی میگزین نے ٹرمپ انتظامیہ کے یمن منصوبےکی مزید تفصیلات کی جاری

    امریکا کے اٹلانٹک میگزین نے یمن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کےجنگی منصوبے کی مزید تفصیلات جاری کردیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے سینیئر ترین اہلکاروں نے گزشتہ دنوں اس امریکی میگزین کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈ برگ کو غلطی سے اس گروپ میں شامل کرلیا تھا جسے حوثی پی سی اسمال گروپ کا نام دیا گیا تھا۔جیفری گولڈبرگ نے دعویٰ کیا تھا کہ دنیا کو تو یمن پر امریکی بمباری کا 15 مارچ کو امریکا کے ایسٹرن ٹائم 2 بجے دوپہر معلوم ہوا تاہم انہیں یہ اطلاع 2 گھنٹے پہلے ہی مل گئی تھی کہ ممکنہ طورپر حملے کیے جارہے ہیں،اٹلانٹک میگزین کا کہنا ہے کہ منصوبے کی پہلی قسط جاری کیے جانے کے بعد ایک صحافی نے وزیردفاع پیٹ ہیگسیتھ سے پوچھا تھا کہ آخر انہوں نے یمن کے خلاف جنگ کا منصوبہ سگنل میسیجنگ ایپ پرکیوں شیئر کیا تو انہوں نے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ کوئی بھی شخص اس میں جنگی منصوبے پرپیغامات نہیں بھیج رہا تھا۔

    ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تُلسی گیبارڈ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کےسامنے پیش ہوئے تو گیبارڈ نے کہا کہ سگنل گروپ میں کوئی بھی خفیہ معلومات شیئر نہیں کی گئی جبکہ ریٹکلیف نے کہا کہ ان کی تمام ترچیٹ جائز اور قانونی تھی اوراس میں خفیہ معلومات شامل نہیں تھی اور صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اصرار کیا کہ یہ خفیہ معلومات نہیں تھی،میگزین کے مطابق جو معلومات سگنل گروپ میں شئیر کی گئیں، انہوں نے اس میں سے ہتھیاروں اورحملوں کے وقت سے متعلق بعض معلومات کو روک لیا تھا کیونکہ فوجی آپریشنز سے متعلق معلومات شائع کیے جانے سے امریکی فوجیوں کی جان کو خطرات لاحق ہوسکتے تھے،میگزین کے مطابق ہیگسیتھ، گیبارڈ، ریٹکلیف اور ٹرمپ کے بیانات کو اگر انتظامیہ کے بہت سے دیگر افسروں کے دعوؤں سے ملایا جائے کہ اٹلانٹک میگزین مذکورہ چیٹ کے مواد سے متعلق جھوٹ بول رہا ہے تو اس سے ادارہ اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگوں کو وہ مواد خود دیکھ کرفیصلہ کرلینا چاہیے،اٹلانٹک میگزین کے مطابق ایڈیٹران چیف کو یمن پرحملوں کی اطلاع اہداف نشانہ بنائے جانے سے 2 گھنٹے پہلے مل گئی تھی۔ اگر یہ معلومات بالخصوص امریکی طیاروں کے یمن کی جانب پرواز کرنے کی اطلاع غلط ہاتھوں میں چلی جاتی تو امریکی پائلٹوں اور دیگر اہلکاروں کو کہیں زیادہ خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔

    اٹلانٹک میگزین کے مطابق اس نے ٹرمپ انتظامیہ میں سی آئی اے، ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر، نیشنل سکیورٹی کونسل، محکمہ دفاع اور وائٹ ہاؤس سے اجازت مانگی کہ انہیں اعتراض تو نہیں ہوگا اگر ادارہ سگنل چیٹ کا تمام ترمواد شائع کردے؟ اس پر ان میں سے زیادہ تر جواب دینے میں ناکام رہے ،وائٹ ہاؤس کی پریس سیکررٹری کیرولائن لیویٹ نے ای میل پرجواب دیا کہ گروپ پرخفیہ معلومات شئیر نہیں کی گئی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس بات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ بات چیت عوام کیلئے جاری کردی جائے۔ اس میں حساس معلومات پر بات کی گئی تھی اور ہمیں اسے جاری کیے جانے پر اعتراض ہے،میگزین کے مطابق سی آئی اے کے ایک ترجمان نے مطالبہ کیا کہ جان ریٹکلیف کے اس چیف آف اسٹاف کا نام جاری نہ کیا جائے جو کہ ریٹکلیف نے سگنل گروپ میں لیا تھا۔

    اس تناظر میں اٹلانٹک میگزین نے حملوں کی مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 15 مارچ یعنی حملے کے روز سگنل گروپ میں آپریشنل امور پر بھی بات ہوئی تھی،ایسٹرن ٹائم 11 بج کر 44 منٹ پر ہیگسیتھ نے لکھا کہ ٹیم اپ ڈیٹ، موسم موافق ہے۔ سینٹ کام سے تصدیق کرلی، ہم مشن لانچ کرنے جارہے ہیں، سینٹ کام یا سینٹرل کمانڈ مشرق وسطی میں فوج کی لڑاکا کمانڈ ہے،12 بج کر 15 منٹ پر لکھا کہ ایف 18 طیاروں نے پہلا حملہ کر دیا۔ایک بج کر 45 منٹ پر لکھا کہ ٹریگر بیسڈ ایف 18 کا پہلا حملہ شروع ہوگیا۔ ہدف دہشت گرد اپنے مقام پر ہے، اسٹرائیک ڈرونز ایم کیو نائن لانچ کردیے گئے ہیں،میگزین کے مطابق یہ سب امریکا کے پہلے جنگی جہاز کو لانچ کیے جانے سے 31 منٹ پہلے اور بنیادی حوثی ہدف کو قتل کیے جانے سے 2 گھنٹہ ایک منٹ پہلے بتایا جارہا تھا۔اگر یہ معلومات کسی غیرجانبدار شخص کومل جاتی جس کی رسائی سوشل میڈیا تک ہوتی تو حوثیوں کو امریکا کے اچانک کیے جانے والے حملے سے بچنے کی تیاری کا موقع ملا جاتا اور امریکی پائلٹوں کیلیے تباہ کن اثرات ہوتے،میگزین نے بتایا کہ ہیگسیتھ نے 2 بج کر 10 منٹ پر لکھا کہ مزید ایف 18 طیارے لانچ کردیے گئے ہیں جو کہ دوسرا حملہ تھا۔2 بج کر 15 منٹ پر لکھا کہ اسٹرائیک ڈرونز ہدف پر پہنچ گئے ہیں۔3 بج کر 36 منٹ پر لکھا کہ طیاروں سے دوسرا حملہ شروع کردیا گیا ہے اور سمندر سے پہلا ٹام ہاکس بھی لانچ کردیا گیا ہے۔مزید حملے بھی کیے جائیں گے۔آپریشنل سکیورٹی ہے۔ ہمارے جنگجوکامیاب ہوں،اس کے فوری بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے ٹیکسٹ کیا کہ میں فتح کیلئے دعاکروں گا۔

    دوپہر ایک بج کر 48 منٹ پر والز نے خفیہ معلومات براہ راست شیئر کرتے ہوئے ممکنہ طور پر صنعا پر حملے کے بارے میں لکھا کہ نائب صدر عمارت تباہ ہوگئی۔ اس میں کئی اہم افراد تھے۔ وزیردفاع، جنرل مائیکل کوریلا، انٹیلی جنس کمیونٹی کو مخاطب کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ شاندار کام کیا گیا ہے،6 منٹ بعد نائب صدر نے بظاہر تذبذب کی حالت میں پوچھا کہ کیا؟ جس پر 2 بجے والز نے جواب دیا کہ پہلا ہدف جو کہ حوثیوں کے میزائل سے متعلق شخص ہے،ہمارے پاس شناختی ثبوت ہے کہ وہ اپنی دوست کی عمارت میں داخل ہو رہا تھا کہ عمارت تباہ ہوگئی ہے،جے ڈی وینس نے ایک منٹ بعد لکھا، شاندار۔35 منٹ بعد سی آئی اے ڈائریکٹر نے لکھا کہ اچھا آغاز ہوا ہے، یمن کی وزارت صحت نے ان حملوں میں 53 افراد مارے جانے کی تصدیق کی تھی،اسی دوپہر ہیگسیتھ نے لکھا کہ سینٹ کام کی نظرہدف پر ہے۔سب نے اعلیٰ کام کیا ہے، رات کو بھی کئی گھنٹے تک حملے جاری رکھے جائیں گے اورابتدائی رپورٹ اگلے روز جاری کی جائے گی۔

    اٹلانٹک میگزین کے مطابق یہ اب تک واضح نہیں کہ سگنل گروپ میں ایک صحافی کو شامل کیوں کیا گیا؟ والز جنہوں نے سگنل چیٹ میں گولڈ برگ کو شامل کیا تھا وہ خود اس بات کی تحقیقات کررہے ہیں کہ گولڈبرگ کو اس گروپ میں شامل کیسے کرلیا گیا؟

  • امریکا کی قطر کو جدید دفاعی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری

    امریکا کی قطر کو جدید دفاعی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری

    امریکا نے قطر کو تقریباً 2 ارب ڈالر مالیت کا جدید دفاعی سازوسامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے میں 8 MQ-9B ڈرونز، 500 پاؤنڈ وزنی بم، ریڈار، سیٹلائٹ کمیونیکیشن، اور ٹارگٹنگ سسٹمز شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 1.96 ارب ڈالر ہے۔

    امریکی ادارے ڈیفنس سکیورٹی کو آپریشن ایجنسی (DSCA) کے مطابق، قطر کو اس جدید دفاعی سازوسامان کے مؤثر استعمال کے لیے امریکا تربیت اور تکنیکی مدد بھی فراہم کرے گا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا کی جانب سے قطر کو ٹیکنیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی تاکہ وہ ان آلات کا بہتر طریقے سے استعمال کر سکے۔امریکی حکام کے مطابق، یہ معاہدہ قطر کی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گا اور اسے اپنے دفاعی انتظامات میں بہتری لانے میں مدد دے گا۔ یہ سازوسامان قطر کو درپیش خطرات سے نمٹنے اور سرحدی تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔ خاص طور پر، یہ فوجی آلات قطر کی سرزمین کی حفاظت اور سکیورٹی میں اہم کردار ادا کریں گے۔

    اس معاہدے کے حوالے سے امریکا نے خطے کے دیگر ممالک کو یقین دلایا ہے کہ اس سے خطے میں فوجی توازن متاثر نہیں ہوگا۔ امریکا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ قطر کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔اس دفاعی معاہدے میں امریکا کے دو اہم دفاعی ادارے، جنرل ایٹامکس اور لاک ہیڈ مارٹن بھی شامل ہیں، جو اس سازوسامان کی فراہمی کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔

  • مالاکنڈ، کار نہر میں‌گرنے سے 5 افراد کی موت

    مالاکنڈ، کار نہر میں‌گرنے سے 5 افراد کی موت

    مالاکنڈ کے علاقے خٹکو شاہ میں واقع مہاجر کیمپ کے قریب ایک المناک کار حادثے کے نتیجے میں پانچ افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک کار نہر میں جاگری۔

    کار حادثے کے بعد پانچوں افراد کی لاشوں کو ریسکیو حکام نے نہر سے نکال کر ٹی ایچ کیو اسپتال درگئی منتقل کردیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں ایک مرد، دو خواتین اور دو بچے شامل ہیں۔ریسکیو حکام نے مزید بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں، اور گاڑی اور لاشوں کو محفوظ طریقے سے نکال لیا گیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی وجہ معلوم کرنے کے لئے مزید تحقیقات جاری ہیں.

  • گوادر،دہشتگردوں کی فائرنگ،چھ افراد کی موت،نصیرآباد،گھر میں فائرنگ،7 جاں بحق

    گوادر،دہشتگردوں کی فائرنگ،چھ افراد کی موت،نصیرآباد،گھر میں فائرنگ،7 جاں بحق

    بلوچستان کے علاقے گوادر میں ایک اور خونریز واقعہ پیش آیا ہے جس میں نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ فائرنگ کا واقعہ گوادر کے علاقے کلمت میں پیش آیا، جہاں مسافروں پر فائرنگ کی گئی جو گوادر سے کراچی جا رہے تھے۔

    پولیس کے مطابق، نامعلوم حملہ آوروں نے گوادر سے کراچی جانے والی ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ تاہم، زخمی شخص بھی دوران علاج دم توڑ گیا جس کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی۔ پولیس نے مزید بتایا کہ جاں بحق افراد میں سے ایک شخص کا تعلق ملتان سے تھا، جبکہ باقی افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کلمت میں مسافروں پر فائرنگ کے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا۔ محسن نقوی نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ بے گناہ افراد کو ناحق قتل کرنا انسانیت سوز جرم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شناخت کر کے مسافروں کو نشانہ بنانا بربریت اور درندگی کی مثال ہے۔

    دوسری جانب، بلوچستان کے ضلع نصیرآباد کے علاقے صحبت پور میں بھی ایک اور خونریز واقعہ پیش آیا۔ پولیس کے مطابق، یہاں ایک گھر پر حملہ کیا گیا جس میں فائرنگ اور گھر کو آگ لگانے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں ایک خاتون اور 3 بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق، یہ واقعہ زمین کے تنازعہ کی وجہ سے پیش آیا ہے، اور اس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حملہ آوروں کی تلاش بھی تیز کر دی گئی ہے۔

  • آن  لائن گینگز  بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن گینگز بچوں کو کیسے نشانہ بنا رہے،والدین خبردار

    آن لائن دنیا میں ہر لمحہ کچھ نیا اور حیران کن ہو رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں ایک انتہائی خطرناک رجحان سامنے آیا ہے، جو نوجوانوں، خاص طور پر لڑکیوں کے لیے شدید خطرے کا باعث بن رہا ہے۔ یہ "کام” (Com) نامی آن لائن گروہوں کی ایک ایسی شیطانی دنیا ہے، جہاں نوعمر لڑکے ایک دوسرے سے زیادہ سفاک اور ظالمانہ بننے کی دوڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔

    جو* نامی ماں کو ایک سال تک یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اس کی بیٹی میری* "کام” کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔ میری کو دھوکہ دے کر خود کو نقصان پہنچانے اور بچوں کے جنسی استحصال کے مواد بھیجنے پر مجبور کیا گیا۔ جو کے مطابق، اس ظلم نے میری پر خوفناک اثر ڈالا، وہ نیند سے محروم ہو گئی، دوستوں سے الگ تھلگ ہو گئی اور اس کا وزن تیزی سے کم ہونے لگا۔جو تمام والدین کو اس خطرے سے آگاہ کرنا چاہتی ہیں اور ان کا مشورہ ہے کہ بچوں کو انٹرنیٹ تک رسائی دینے میں دیر کریں اور زیادہ سے زیادہ پیرنٹل کنٹرولز کا استعمال کریں۔

    آن لائن گینگز کے بھیانک حربے
    "کام” ان بچوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذباتی طور پر کمزور ہوتے ہیں، انہیں دھوکہ دے کر گھناؤنے مطالبات کیے جاتے ہیں، اور پھر دھمکیاں دے کر مزید خطرناک مواد مانگا جاتا ہے۔ میری بھی اسی جال میں پھنس چکی تھی۔
    جو نے بتایا کہ "میں خوفزدہ تھی کہ اگر میں اس کا موبائل لے لوں گی تو وہ خودکشی کر لے گی، اس لیے میں نے اکثر اس پر یقین کرنے کا فیصلہ کیا۔”

    یہ گینگ کیسے کام کرتے ہیں؟
    "کام” کے پیچھے کوئی ایک لیڈر نہیں ہے بلکہ یہ مختلف گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔ نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کے مطابق، ان گروہوں میں زیادہ تر نوعمر لڑکے شامل ہیں، جو سائبر کرائم، فراڈ، مالویئر اٹیک اور جنسی استحصال جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہیں۔این سی اے کے ڈائریکٹر جیمز بیبج کے مطابق: "ہم نے دیکھا ہے کہ ہزاروں صارفین لاکھوں پیغامات میں جسمانی اور جنسی تشدد پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ ایک تیزی سے بڑھتا ہوا خطرہ ہے۔”

    سلی* نامی ماں کی 12 سالہ بیٹی بھی "کام” کے نشانے پر تھی۔ ابتدا میں بات چیت معمولی تھی، مگر آہستہ آہستہ گفتگو خودکشی، ذہنی صحت اور جسمانی نقصان تک جا پہنچی، اور آخرکار اس سے برہنہ تصاویر مانگی گئیں۔جب سلی کو اس بارے میں معلوم ہوا تو وہ سکتے میں آگئی۔ اس کی بیٹی ابھی تک صدمے اور شرمندگی میں مبتلا ہے۔

    "کام” بین الاقوامی سطح پر کام کرتا ہے اور اس کے کچھ ممبران برطانیہ میں بھی موجود ہیں۔2024 میں، ویسٹ سسیکس کا رہائشی 18 سالہ کیمرون فنیگن "کام” سے جڑے جرائم میں ملوث پایا گیا اور اسے 6 سال قید کی سزا دی گئی۔ اس پر دہشت گردی کے مواد رکھنے، بچوں کی فحش تصاویر رکھنے اور خودکشی کی ترغیب دینے کے الزامات ثابت ہوئے۔سائبر کرائم کی تحقیقات میں شامل "کیلی” نامی ایک ماہر کے مطابق: "ان چیٹس کو پڑھنا بدترین تجربہ تھا۔ تصاویر سے زیادہ خوفناک چیز وہ گفتگو تھی جو یہ مجرم کر رہے تھے۔”

    "کام” میں شامل افراد نوجوانوں کو بلیک میل کرنے کے لیے "ڈاکسنگ” (ذاتی معلومات لیک کرنا) اور "سواٹنگ” جیسے حربے استعمال کرتے ہیں۔ سواٹنگ میں جھوٹی شکایات درج کروا کر پولیس کو کسی کے گھر بھیج دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات جان لیوا واقعات بھی پیش آ سکتے ہیں۔اس کے علاوہ، "کام” کے کچھ ممبران "روبلوکس” جیسے بچوں کے آن لائن گیمز میں شامل ہو کر معصوم بچوں کو ورغلاتے ہیں، ان سے جنسی استحصال کرتے ہیں، اور پھر انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے۔

    جب اس حوالے سے ٹیلی گرام، ڈسکارڈ اور روبلوکس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ مسلسل نقصان دہ مواد کی نگرانی کر رہے ہیں اور "کام” سے منسلک گروپس کو ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔ ٹیلی گرام کے مطابق، فروری 2024 میں تمام "کام” گروپس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا اور مزید مانیٹرنگ جاری ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن دنیا میں بچوں کے ساتھ دوستانہ گفتگو کرنا بے حد ضروری ہے۔ جیمز بیبج کے مطابق: "ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی بچہ گھر میں انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے تو وہ محفوظ ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔”سلی نے والدین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا: "آپ اپنی اولاد کو کھو سکتے ہیں۔ ہمیں مل کر اس کے خلاف کام کرنا ہوگا تاکہ ہمارے بچے محفوظ رہیں۔”ماہرین کے مطابق، حکومت، اسکولز، سوشل میڈیا کمپنیوں اور والدین کو مل کر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ "کام” جیسے خطرناک نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔

  • ایشائی پروازوں میں پاور بینکس کے استعمال پر پابندی عائد

    ایشائی پروازوں میں پاور بینکس کے استعمال پر پابندی عائد

    دنیا بھر کی مختلف ایئر لائنز نے حالیہ برسوں میں لیتیھیم بیٹریز کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرنا شروع کر دی ہیں، خاص طور پر ان پاور بینکس پر جو مسافروں کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ یہ پابندیاں مختلف ایشیائی ممالک کی ایئر لائنز میں زیادہ سخت ہو گئی ہیں، جو پروازوں میں آگ لگنے یا اوور ہیٹنگ کے واقعات کے بعد لیتیھیم بیٹریز پر کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    جنوری 2025 میں جنوبی کوریا کے ایئر بس ائیر لائن کے ایک طیارے میں آتشزدگی کا ایک واقعہ پیش آیا، جو پرواز کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے اپنے ایک اعلامیے میں کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ایک پاور بینک جس میں لیتیھیم بیٹری تھی، ممکنہ طور پر آگ کا باعث بن سکتا ہے۔ تحقیقات کے دوران پاور بینک کے ملبے سے بجلی کی پگھلنے کے متعدد نشان پائے گئے، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاور بینک نے آگ پکڑ لی تھی۔

    پاور بینکس جو عام طور پر موبائل فونز، ٹیبلٹس، لیپ ٹاپس اور کیمروں کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، پروازوں کے دوران ایک اہم خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان پاور بینکس میں لیتیھیم آئن بیٹریاں استعمال کی جاتی ہیں، جو اپنے توانائی کی مقدار کے لحاظ سے بہت ہلکی اور مؤثر تو ہوتی ہیں، مگر ان کی ساخت میں ایسے مواد بھی شامل ہوتے ہیں جو بہت زیادہ آتش گیر ہوتے ہیں۔ بیٹری کے اندر موجود کیمیکلز اور مواد کے انضمام کی وجہ سے یہ بیٹریاں زیادہ گرمی کی حالت میں یا اگر ان میں کوئی خرابی آ جائے تو آگ یا دھوئیں کی صورت میں ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہیں۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق پچھلے بیس سالوں میں 500 سے زائد ایسی پروازوں کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں لیتیھیم بیٹری کی وجہ سے آگ لگی ہو، دھواں نکلا ہو یا بہت زیادہ حرارت محسوس کی گئی ہو۔

    ایئر لائنز نے ان واقعات کے پیش نظر پاور بینکس کے حوالے سے اپنی پالیسیز کو مزید سخت کر دیا ہے۔ جن ایئر لائنز نے اپنی پالیسیاں تبدیل کی ہیں ان میں سے کچھ اہم ایئر لائنز درج ذیل ہیں

    جنوبی کوریا: اس ماہ کے شروع میں جنوبی کوریا کی حکومت نے اپنے ملک کی تمام ایئر لائنز کے لیے پاور بینک اور ای سگریٹس کو اوور ہیڈ کمپارٹمنٹس میں رکھنے پر پابندی لگا دی ہے۔ اب مسافر پاور بینک کو اپنی سیٹ کے جیب یا سیٹ کے نیچے رکھ سکتے ہیں۔ مزید برآں، طیارے کی USB پورٹس کے ذریعے پاور بینک کو چارج کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

    تھائی ایرویز: تھائی ایرویز نے 15 مارچ 2025 سے پروازوں میں پاور بینکس کے استعمال اور چارجنگ پر پابندی لگا دی ہے، اور اس کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی ایئر لائنز میں ہونے والی آگ کے واقعات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

    سنگاپور ایئر لائنز: اپریل سے سنگاپور ایئر لائنز نے پروازوں میں پاور بینک کو موبائل ڈیوائسز چارج کرنے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس کے علاوہ، ان کے طیاروں میں پاور بینک کو USB پورٹس سے چارج کرنا بھی ممنوع ہوگا۔

    ہانگ کانگ ایوی ایشن ریگولیٹر: ہانگ کانگ ایوی ایشن ریگولیٹر نے اپریل سے اپنے قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے پاور بینکس کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، اور ایئر لائنز میں لیتیھیم بیٹریز رکھنے والے پاور بینکس کو اوور ہیڈ کمپارٹمنٹس میں رکھنا بھی ممنوع ہو گا۔

    اگرچہ مختلف ایئر لائنز نے پاور بینکس کے حوالے سے اپنے قوانین میں تبدیلی کی ہے، پھر بھی مسافر اپنے پاور بینکس کو درست طریقے سے لے جا سکتے ہیں۔ امریکی FAA اور TSA کے قوانین کے مطابق، پاور بینکس کو صرف کیری آن سامان میں رکھا جانا چاہیے، اور اکثر ایئر لائنز ہر مسافر کو 100 سے 160 واٹ گھنٹے تک کی صلاحیت والے دو پاور بینکس لے جانے کی اجازت دیتی ہیں۔تاہم، ان بیٹریوں کے استعمال پر پابندی لگانے والی ایئر لائنز میں سے کچھ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاور بینک کی صلاحیت 100 واٹ گھنٹے سے زیادہ ہو، تو مسافر کو ایئر لائن سے اجازت لینے کی ضرورت ہوگی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاور بینک میں لیتیھیم آئن بیٹریاں ایک اہم خطرہ بن سکتی ہیں، خاص طور پر جب وہ کسی قسم کی خرابی، زیادہ گرمی، یا چارجنگ کی زیادہ مقدار سے متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، پاور بینک اور دیگر بیٹریوں کے ٹرمینلز کو دیگر دھاتی اشیاء سے رابطے سے بچانے کے لیے انہیں اچھی طرح محفوظ کیا جانا چاہیے۔پاور بینک کے ساتھ سفر کرتے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا اور ایئر لائن کی نئی پالیسیوں کو سمجھنا نہایت ضروری ہے تاکہ سفر کو محفوظ اور پرامن بنا سکیں۔ ان پابندیوں کا مقصد مسافروں کی حفاظت ہے، تاکہ پروازوں کے دوران کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔

  • مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت میں اضافہ،ایران کیلئے پیغام یا کچھ اور

    مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی قوت میں اضافہ،ایران کیلئے پیغام یا کچھ اور

    امریکہ اپنی فوجی موجودگی کو مشرق وسطیٰ میں بڑھانے کے لیے اہم اقدامات کر رہا ہے، جس کے تحت جدید ترین ہوائی جہازوں اور دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر اس خطے میں بھیجا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں کم از کم پانچ بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیارے ڈیگو گارسیہ پہنچے ہیں، جو کہ برطانوی فوجی اڈہ ہے جسے امریکہ بحر ہند میں استعمال کرتا ہے۔ مزید بمبار طیارے بھی اس راستے پر ہیں۔

    سات سی-17 طیارے بھی اس دور دراز جزیرے پر پہنچے ہیں، جو سامان، اہلکاروں اور سپلائیز کی ترسیل کو ظاہر کرتے ہیں، اور ایندھن بھرنے والے طیارے بھی حکمت عملی کے اہم مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں۔پینٹاگون نے حال ہی میں یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو بحر احمر میں اس کی تعیناتی میں ایک ماہ کی توسیع کرنے کا حکم دیا ہے، اور ایک دوسرا اسٹرائیک گروپ، جو کہ یو ایس ایس کارل ونسن ایئرکرافٹ کیریئر کی قیادت میں ہے، مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ ہو رہا ہے۔ دونوں گروپوں میں مدد دینے والے بحری جہاز، بشمول تباہ کن جہاز، بھی شامل ہیں۔یہ فوجی وسائل کا غیر معمولی اضافہ ہے اور شاید یہ اشارہ ہو کہ امریکہ یمن میں حوثیوں پر شدید حملوں کا ارادہ رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ایران کو ایک سخت پیغام بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    حوثی، جو کہ ایک اسلام پسند گروپ ہے اور یمن کا بڑا حصہ، بشمول دارالحکومت صنعا، پر قابض ہیں، نے جنگ کے دوران بحر احمر میں جہازوں اور اسرائیل پر حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں اس وقت توقف آیا جب جنگ بندی پر عمل درآمد کیا گیا، مگر جب اسرائیل نے غزہ میں فوجی آپریشنز دوبارہ شروع کیے تو یہ حملے پھر سے شروع ہوگئے۔حوثیوں نے اسرائیل کے بن گوریون ایئرپورٹ پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے اور حالیہ ہفتوں میں یومیہ کی بنیاد پر اسرائیل کی طرف بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس سے تل ابیب اور یروشلم میں فضائی حملے کی سائرن کی آوازیں سنائی دی ہیں۔انہوں نے منگل کی رات اسرائیل کی طرف ڈرون بھیجے ہونے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم اسرائیلی فوج نے اس کی تصدیق نہیں کی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے حوثیوں کے خلاف بحر احمر میں جہازوں کی آزادی کو بحال کرنے کے لیے حملے شروع کیے ہیں، جو عالمی تجارت کے لیے ایک اہم آبی راستہ ہے کیونکہ یہ بحیرہ روم کو سوئز نہر کے ذریعے جوڑتا ہے۔

    ان حملوں کی پہلی لہر ایک بڑے سیکیورٹی واقعہ کا سبب بنی تھی جب ایک صحافی کو امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ سگنل ایپ پر ہونے والی گفتگو میں غلطی سے شامل کر لیا گیا تھا۔امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیٹھ نے حوثیوں کے خلاف حملے جاری رکھنے کا وعدہ کیا ہے، اور صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر تہران مذاکرات کے لیے راضی نہ ہوا تو وہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

  • بلوچستان، دہشتگردوں کا رات کے اندھیرے میں بزدلانہ وار،14 جہنم واصل

    بلوچستان، دہشتگردوں کا رات کے اندھیرے میں بزدلانہ وار،14 جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں مختلف مقامات پر دہشت گردوں کو مار بھگایا

    آج دہشت گردوں نے بلوچستان میں مختلف جگہوں پر حملہ کرنے کی ناکام کوشش کی ،سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور موثر کاروائی کر کے دہشت گردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا ، تربت میں سیکیورٹی فورسز نے موثر کاروائی میں پانچ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا ،دہشت گردوں نے دو خود کش بمباروں کے ذریعے تربت میں مختلف جگہوں پر کوآرڈینیٹڈ حملے کرنے کی کوشش کی گئی جو فوری ناکام بنا دی گئی ،کوسٹل ہائی وے پر بھی تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ،کچلاک کے علاقے میں روڈ بلاک کی کوشش کرنے والے دو دہشت گردوں کو بھی جہنم واصل کر دیا گیا ،دہشت گردوں نے سبی کوئٹہ روڈ پر بسوں کو روکنے کی بھی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی اور دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا،اِسی طرح کوئٹہ تافتان روڈ پر بھی دہشت گردوں نے لک پاس کے قریب معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جو سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دی اور دو بھاگتے دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا

    سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے تمام بزدلانہ حملوں کو ناکام بنا کر کلیئرنیس آپریشن شروع کر دیا ہے جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا

    سیکیورٹی فورسز کے آتے ہی دہشتگرد بھاگ گئے یہ رٹ نہیں، بزدلی ہے،قومی شاہراہ پر مسافروں کی تذلیل دہشتگردوں کی شکست کا ثبوت ہے،کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر بسوں اور گاڑیوں کی لوٹ مار کرنے والے چند مسلح دہشتگرد جیسے ہی سیکیورٹی فورسز کی نفری پہنچی، دم دبا کر بھاگ گئے۔یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ رٹ نہیں بلکہ کھلی بزدلی ہے۔جو عناصر ریاست کے خلاف بیانیہ گھڑ کر خود کو "مزاحمت کار” یا "نوجوانوں کے نمائندے” ظاہر کرتے ہیں، وہ دراصل عوام کو ڈرا دھمکا کر، بندوق کے زور پر عورتوں اور بچوں کو یرغمال بنا کر چند منٹ کی کاروائی سے خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔ مگر ان کی یہ کوششیں اب ناکام اور بے اثر ہو چکی ہیں۔دہشتگرد اب صرف خرچہ پانی اور لوٹ مار تک محدود ہو چکے ہیں۔نہ ان کے پاس کوئی نظریہ بچا ہے، نہ عوامی حمایت، نہ کوئی ساکھ۔یہ اب صرف بدحواس گروہ ہیں، جو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے سڑکوں پر نمودار ہوتے ہیں اور ایف سی یا لیویز کے آتے ہی فرار ہو جاتے ہیں۔

    بلوچستان: بزدل دہشتگرد عورتوں، بچوں اور بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنانے والے انسان نہیں درندے ہیں، کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشتگردوں کی بزدلی اور پستی کی کوئی حد نہیں۔چند مسلح افراد نے شاہراہ پر ناکہ بندی کر کے عام شہریوں، عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ماہِ رمضان کے بابرکت مہینے میں عید کی تیاری کے لیے سفر کر رہے تھے۔ان عناصر کا مقصد صرف ایک ہے: عید کے موقع پر ‘خرچہ پانی’ جمع کرنا، لوگوں کو لوٹنا اور خوف و دہشت پھیلانا۔یہ وہی دہشتگرد ہیں جو کسی اخلاق، مذہب، رحم یا تہذیب کو نہیں مانتے۔ماہ رمضان جیسا مقدس مہینہ بھی ان کے ضمیر کو نہیں جھنجھوڑتا۔یہ صرف مسلح بدمعاش ہیں، جنہیں عوام، ریاست یا دین سے کوئی سروکار نہیں صرف مفاد، لوٹ مار اور خون۔ایسے بزدل حملہ آور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ریاست کو چاہیے کہ ان عناصر کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کرے، تاکہ عوام میں اعتماد بحال ہو اور دہشتگردی کا نیٹ ورک جڑ سے ختم ہو۔یہ جنگ صرف گولی کی نہیں، بیانیے کی بھی ہے اور اب عوام جان چکے ہیں کہ کون ان کے ساتھ ہے اور کون ان کے خلاف۔