Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نکاح سے قبل زوجین کے متعدی مرض کے ٹیسٹ  نکاح نامہ کا حصہ بنانے کا مشورہ

    نکاح سے قبل زوجین کے متعدی مرض کے ٹیسٹ نکاح نامہ کا حصہ بنانے کا مشورہ

    اسلامی نظریاتی کونسل کا 241 واں اجلاس مورخہ 25-26 مارچ دفتر کونسل کے میٹنگ ہال منعقد ہوا،جس کی صدارت ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کی۔ اجلاس میں کل 19 ایجنڈا آئٹمز پر غور و فکر ہوا۔ انسانی دودھ کے بینک کے قیام سے متعلق سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ اینڈ نیوناٹالوجی کے چار ماہرین کو مدعو کیا گیا، جنہوں نے اراکین کونسل کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے 33 سوالات کے جوابات بھی دیئے،اراکین کونسل کے کچھ مزید سوالات کے جوابات بھی دئیے گئے،کونسل نے اپنے ہاں بھی عمیق تحقیق کا اہتمام کیا ہے،مسئلہ کی اہمیت اور حقیقی ضرورت کے گہرے مطالعہ کی غرض سے اس بابت حتمی فیصلہ اگلے اجلاس میں زیرغور لایا جائے گا۔

    سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ اینڈ نیوناٹالوجی کے چار ماہرین نے اراکین کونسل کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے 33 سوالات کے جوابات دیئے، مسئلہ کی اہمیت اور حقیقی ضرورت کے گہرے مطالعہ کی غرض سے اس بابت حتمی فیصلہ اگلے اجلاس میں زیرغور لایا جائے گا۔

    انسانی اعضاء کی پیوند کاری سے متعلق کونسل نے فیصلہ کیا کہ عضو عطیہ کرنے والے فرد کی زندگی کو خطرہ لاحق کئے بغیر دوسرے فرد کے جسم میں اعضاء (گردہ و جگر) کی پیوند کاری کی جا سکتی ہے۔ کونسل نے طے کیا کہ اسلامی اصطلاحات جیسے صلاة،آیت،مسجد وغیرہ کی انگلش ٹرانسلیشن کے بجائے اصل عربی الفاظ ہی استعمال کئے جائیں۔بجلی چوری سے متعلق طے کیا گیا کہ اس حوالے اہل علم وفکر اپنی اپنی سطح کے موافق آواز بلند کرے۔کنٹری بیوٹری پینشن سے متعلق طے کیا گیا کہ نئے بھرتی ہونے والے ملازمین کو اس حوالے پابند کیا جاسکتا ہے،لیکن قدیم ملازمین کو اس میں جانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا،نیز اس فنڈ کو سودی نظام سے مکمل طور پر الگ کیا جانا ضروری ہے۔نکاح سے قبل زوجین کے تھیلسیمیا یا دیگر کسی متعدی مرض کے ٹیسٹ کروانے کو اختیاری طورپر نکاح نامہ کا حصہ بنایا جاسکتا ہے،تاہم شرعا نکاح کرنا فریقین کی مرضی پر منحصر ہوگا۔بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کے نتیجے میں پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر شرعی ہے،اور ایسا عدالتی فیصلہ جو یہ حق دے شریعت کی نظر میں درست نہیں ہے۔ زکوٰة کی رقوم کو جلد از جلد مستحقین میں تقسیم کیا جائے،تاخیر ہر گز نہ کی جائے تاہم جب تک تقسیم کرنے میں انتظامی طور پر وقت لگے تو اس دوران اس فنڈ کو اسلامی بینکوں کے نفع بخش اکاؤنٹ میں رکھنے کی گنجائش ہے،تاہم اگر نقصان ہو جائے تو حکومت ضامن ہو گی۔
    کے پی ٹرانس جینڈر بل انہی غیر شرعی امور پر مشتمل ہے جو ٹرانس جینڈر ایکٹ،2018 کے قانون میں موجود ہیں،اس قانون کو قبل ازیں کونسل اور وفاقی شرعی عدالت اسلامی احکام سے متصادم قرار دے چکی ہے،کے پی کا بل گرو چیلہ کے غیر شرعی تصور پر بھی مبنی ہے۔ اجلاس کے آخر میں چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کی والدہ محترمہ کی وفات پر دعائے مغفرت کی گئی۔

    حسب ذیل اراکین کونسل نے اجلاس میں شرکت کی:
    نمبر شمار نام نمبر شمار نام
    1- جناب علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی 2- جناب ظفر اقبال چوہدری
    3- جناب ڈاکٹر عبد الغفور راشد 4- جناب صاحبزادہ پیر خالد سلطان قادری
    5- جناب محمد جلال الدین 6- محترمہ فریدہ رحیم
    7- جناب جسٹس (ر) الطاف ابراہیم حسین قریشی 8- جناب ڈاکٹر عزیر محمود الازہری
    9- جناب پیر شمس الرحمن مشہدی 10- جناب علامہ محمد یوسف اعوان
    11- جناب مفتی محمد زبیر 12- جناب سید افتخار حسین نقوی
    13- جناب پروفیسر ڈاکٹر مفتی انتخاب احمد 14- جناب حسان حسیب الرحمٰن
    15- جناب محمد شفیق خان (شفیق پسروری) 16- جناب صاحبزادہ حافظ محمد امجد
    17- جناب سید سعید الحسن 18- جناب سید عتیق الرحمٰن

  • اے این پی کا عید سادگی سے منانے کا اعلان

    اے این پی کا عید سادگی سے منانے کا اعلان

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے موجودہ حالات کے پیش نظر عید الفطر کو سادگی سے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان نے اس حوالے سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اقتصادی اور سماجی صورتحال کے پیش نظر پارٹی نے عید کی خوشیوں کو سادگی اور اعتدال کے ساتھ منانے کا عزم کیا ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ عید الفطر کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان اور ذمہ داران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں اور غیر ضروری سرگرمیوں سے بچیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کارکنان اور عوام خاص طور پر نادار اور مستحق افراد کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ ان تک خوشیوں کی چھنکار پہنچ سکے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں سادگی کو ترجیح دینی چاہیے۔ اے این پی ہمیشہ انسانی ہمدردی اور مساوات کے اصولوں پر عمل پیرا رہی ہے اور اس عید پر بھی یہی جذبہ کارکنان میں دکھائی دے گا۔ ایمل ولی خان نے پارٹی کے کارکنان کو عید کی تعطیلات میں خدمت اور یکجہتی کے جذبے کو فروغ دینے کی بھی تاکید کی۔انہوں نے آخر میں کہا کہ اے این پی کا عزم ہے کہ وہ ہر موقع پر عوامی مفاد کو مقدم رکھے گی اور سادگی کے ساتھ عید منانے کا فیصلہ اسی عزم کا حصہ ہے۔

  • مئیر لندن صادق خان کے خلاف اسلاموفوبک سوشل میڈیا پوسٹس کی تعداد میں اضافہ

    مئیر لندن صادق خان کے خلاف اسلاموفوبک سوشل میڈیا پوسٹس کی تعداد میں اضافہ

    لندن کے مسلمان مئیر صادق خان کے خلاف اسلاموفوبک سوشل میڈیا پوسٹس کی تعداد گزشتہ ایک سال میں دگنی ہو گئی ہے۔

    ایک حالیہ تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ 2024 کے دوران تقریباً 28 ہزار پوسٹس میں صادق خان کو مسلم دشمن جملوں کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔تحقیق کے مطابق، صرف اس سال اب تک 2,180 مرتبہ صادق خان کے نام کے ساتھ اسلاموفوبک الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ان پوسٹس میں انہیں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ 89 فیصد اسلاموفوبک مواد "ایکس” (پہلے ٹویٹر) پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا، جو اس وقت ایلون مسک کی ملکیت ہے۔ اس پلیٹ فارم کی زیر انتظامی میں کچھ متنازعہ شخصیات جیسے ٹامی رابنسن کے اکاؤنٹس کو دوبارہ بحال کیا گیا ہے، جنہیں ماضی میں انتہاپسند نظریات کے حوالے سے تنقید کا سامنا تھا۔

    تحقیق کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صادق خان کے مسلمان ہونے کو ان کے خلاف سازشوں اور نفرت انگیز مہموں کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔ یہ مہمیں ان کے سیاسی کیریئر اور شخصیت کو متاثر کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں، اسلاموفوبک مواد کی یہ بڑھتی ہوئی مقدار ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے، خاص طور پر اس وقت جب دنیا بھر میں مسلم کمیونٹی کے خلاف تعصب اور نفرت کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ اس تناظر میں، یہ سوالات بھی اٹھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ان مواد کو روکنے اور اس کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں۔

    مئیر صادق خان کے خلاف اس نوعیت کی مہمات نہ صرف لندن بلکہ عالمی سطح پر بھی مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کی عکاسی کرتی ہیں، اور اس پر روک تھام کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • کراچی کی جیل میں بھارتی قیدی کی خودکشی، تحقیقات جاری

    کراچی کی جیل میں بھارتی قیدی کی خودکشی، تحقیقات جاری

    کراچی: ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں قید بھارتی شہری گورو ولد رام آنند نے خودکشی کرلی۔ جیل انتظامیہ کے مطابق، قیدی نے جیل کے واش روم میں جا کر پھندا لگا لیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    انتظامیہ کے مطابق، گورو کو 17 فروری 2022 کو جیل منتقل کیا گیا تھا۔ جیل حکام کا کہنا ہے کہ قیدی کی لاش سہراب گوٹھ میں واقع سرد خانے منتقل کردی گئی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے سپرنٹنڈنٹ ارشد شاہ کے مطابق، یہ واقعہ 24 اور 25 مارچ کی درمیانی شب پیش آیا۔ جیل کے ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کے بعد لاش کو قانونی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کر دیا۔ مزید برآں، سپرنٹنڈنٹ کا کہنا ہے کہ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی قیدی کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا تاکہ موت کی حتمی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

    جیل سپرنٹنڈنٹ کے مطابق، گورو کی قومیت اور دستاویزات سے متعلق بھارتی قونصلیٹ کے ساتھ مشاورت جاری تھی۔ وہ دیگر بھارتی قیدیوں کے ساتھ رہ رہا تھا، مگر جیل کے دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کم گفتگو کرتا تھا۔
    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ خودکشی کے اسباب معلوم کیے جا سکیں۔ حکام بھارتی قونصلیٹ سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ قانونی کارروائی کو جلد از جلد مکمل کیا جا سکے۔

  • خواتین اساتذہ میک اپ سے اجتناب،مردٹی شرٹ نہ پہنیں،ہدایات جاری

    خواتین اساتذہ میک اپ سے اجتناب،مردٹی شرٹ نہ پہنیں،ہدایات جاری

    محکمہ تعلیم سندھ نے اسکول اساتذہ کے لیے نیا ضابطہ اخلاق تیار کیا ہے جس میں اساتذہ کے پیشہ ورانہ کردار اور اخلاقی رویوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ ضابطہ اخلاق اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں ایک مثبت اور پیشہ ورانہ ماحول قائم کیا جا سکے۔

    ضابطہ اخلاق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اساتذہ ایسا لباس پہنیں جو پیشہ ورانہ اقدار اور ثقافتی احترام کی عکاسی کرے۔ خواتین اساتذہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ میک اپ سے اجتناب کریں، ہائی ہیلز پہن کر اسکول آنے سے گریز کریں اور زیادہ زیورات نہ پہنیں۔ اس کے بجائے روایتی لباس کا انتخاب کریں تاکہ اسکول کا ماحول رسمی اور ادب کے مطابق رہے۔ مرد اساتذہ کو بھی ٹی شرٹ اور جینز پہن کر اسکول آنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ اسکول کے ماحول کے مطابق زیادہ مناسب لباس پہنیں۔

    محکمہ تعلیم نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ اساتذہ اسکول کے احاطے میں گٹکا، نسوار، ماوا، سگریٹ یا اس قسم کی دیگر مضر صحت اشیاء کا استعمال نہیں کر سکتے۔ یہ ضابطہ اخلاق اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ اسکول ایک صحت مند اور مثبت ماحول ہو۔اساتذہ کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے طلبا سے ذاتی کام نہ کروائیں اور جسمانی سزا سے بھی اجتناب کریں۔ اساتذہ کو اسکول انتظامیہ، تدریسی عملے اور غیر تدریسی عملے کے ساتھ احترام کے ساتھ بات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور پیشہ ورانہ لہجے کو برقرار رکھنے کی درخواست کی گئی ہے۔اساتذہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے طلبا کے ساتھ پیشہ ورانہ حدود میں رہتے ہوئے سلوک کریں اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک سے گریز کریں۔ تمام طلبا کے ساتھ یکساں اور مساوی برتاؤ کو یقینی بنایا جائے گا۔

    یہ ضابطہ اخلاق سندھ کے تعلیمی اداروں میں بہتر انتظام، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ رویوں کو فروغ دینے کی کوشش کا حصہ ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ نے اس ضابطہ اخلاق کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسکولوں میں ایک مثبت اور تعلیمی ماحول قائم کیا جا سکے۔

  • نایاب نسل کی ڈولفن کو ماہی گیروں نے واپس سمندر میں چھوڑ دیا

    نایاب نسل کی ڈولفن کو ماہی گیروں نے واپس سمندر میں چھوڑ دیا

    اورماڑہ کے ساحل پر کل ایک نایاب نسل کی ڈولفن پھنس گئی تھی جسے ماہی گیروں نے فوری طور پر بچا کر واپس سمندر میں چھوڑ دیا۔

    تکنیکی مشیر ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان، محمد معظم خان کے مطابق یہ ڈولفن ریسو ڈولفن کہلاتی ہے، جو پاکستان کی آبی حدود میں پائی جانے والی ایک نایاب سمندری نوع ہے۔محمد معظم خان نے بتایا کہ کل صبح اورماڑہ ساحل کے قریب یہ ڈولفن پھنس گئی تھی، جسے ماہی گیروں نے بڑی مہارت سے نکالا اور محفوظ طریقے سے دوبارہ سمندر میں چھوڑ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈولفن پاکستان کے سمندری جانوروں کی 26 اقسام میں شامل ہے۔

    ریسو ڈولفن کا جسم خاصا موٹا اور سر گول اور چپٹا ہوتا ہے۔ یہ ڈولفن عام طور پر معتدل اور گرم پانیوں میں پائی جاتی ہے اور اس کا قدرتی مسکن اکثر ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سمندر کی گہرائی 1,000 فٹ تک پہنچتی ہو۔

    معظم خان کے مطابق، ریسو ڈولفن 30 منٹ تک سانس روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور کم از کم 1,000 فٹ کی گہرائی تک غوطہ لگانے کی طاقت رکھتی ہے۔تاریخی طور پر پاکستان میں ریسو ڈولفن کے بارے میں صرف تین واقعات کی اطلاع ملی ہے۔ ان میں سب سے پہلا واقعہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں سامنے آیا تھا، جب اس کی موجودگی کو پہلی بار رپورٹ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد، 24 مارچ 2020 کو، ایک نر ریسو ڈولفن کو کراچی کے کلفٹن بیچ پر پایا گیا تھا۔ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان میں سمندری حیات کی حفاظت اور ماہی گیری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے واقعات کے دوران فوری طور پر ماہرین کی مدد حاصل کی جائے تاکہ سمندری حیات کو نقصان نہ پہنچے۔

  • عمران خان سے 45،45منٹ کی ملاقات کروائی جائے،عدالت

    عمران خان سے 45،45منٹ کی ملاقات کروائی جائے،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے اڈیالہ جیل حکام کو پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے جیل میں دو دن 45، 45 منٹ کی ملاقاتیں کرانے کا شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کر دی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل تین رکنی لارجر بینچ نے بانی پی ٹی آئی سے جیل ملاقاتوں کی 30 درخواستوں کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا،عدالت نے فیصلے میں لکھا سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا شیڈول انٹراکورٹ اپیل میں طے پایا تھا جسے جیل اتھارٹیز نے خود سے تبدیل کر دیا، ملاقات کرنے والوں کے نام بھجوانے کے لیے کمیٹی بنائی گئی تھی، جیل حکام کمیٹی کی جانب سے بھجوائے گئے ناموں کو بھی ملاقات کے لیے زیر غور نہیں لا رہے۔عمران خان سے ملاقات کرنے والوں کے نام سلمان اکرم راجہ، بیرسٹر گوہر اور انتظار پنجوتھہ پر مشتمل کمیٹی بھجواتی ہے جسے بانی پی ٹی آئی نے تشکیل دیا ہے، جیل سپریٹنڈنٹ کے وکیل نوید ملک ایڈوکیٹ نے کہا کہ سکیورٹی تھریٹس کی وجہ سے ملاقاتوں کے شیڈول میں معمولی تبدیلی کی گئی، وکلا اور فیملی ممبرز کی ملاقاتیں پہلے الگ الگ دن کرائی جاتی تھیں لیکن اب ایک ہی دن وقفے کے ساتھ کرائی جا رہی ہیں۔ دوستوں سے ملاقات کی سہولت کو جیل میں ملاقات کے فوری بعد سیاسی بیان بازی کے ذریعے غلط استعمال کیا جا رہا تھا، ایسی صورتحال میں سپرنٹنڈنٹ جیل کے پاس اختیار ہے کہ وہ یہ سہولت واپس لے لے، جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سہولیات کی فراہمی اور جیل میں ملاقاتیں کرنے کے لیے 101 درخواستیں دائر کی گئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جیل رولز کے مطابق قیدیوں کو ملاقات کے دوران سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں لیکن ملاقاتی جیل سے نکلنے کے بعد الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرتے اور ریاستی اداروں کے خلاف اشتعال دلانے والی تضحیک آمیز گفتگو میں بے بنیاد الزام تراشیاں کرتے ہیں، جیل ٹرائل کے دوران وکلا اور پراسیکیوٹرز کو بلا رکاوٹ داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سلمان اکرم راجہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملاقات کرنے والوں کی جانب سے جیل کے باہر کوئی میڈیا ٹاک نہیں کی جائے گی،عدالت کے سامنے موجود فریقین میں سے کسی نے بھی اس بینچ کے سامنے سماعت پر اعتراض نہیں اٹھایا، فریقین کی رضامندی سے تمام پٹیشنز نمٹائی جا رہی ہیں لہٰذا توہین عدالت کی کارروائی بھی ختم کی جا رہی ہے اور آئندہ اس متعلق درخواستیں اسی بینچ کے سامنے مقرر کی جائیں گی،ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ بانی پی ٹی آئی سے منگل اور جمعرات کو ملاقاتوں کے لیے پہلے سے طے شدہ میکنزم میں مداخلت کی جائے لہٰذا جیل سپرنٹنڈنٹ دو دن ملاقات کرانے کے شیڈول پر سختی سے عمل کریں۔

  • یو اے ای کے اعلیٰ سطحی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات،والدہ کی وفات پر کی تعزیت

    یو اے ای کے اعلیٰ سطحی وفد کی آرمی چیف سے ملاقات،والدہ کی وفات پر کی تعزیت

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے اعلیٰ سطحی وفد نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی اور ان کی والدہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایت پر یہ وفد پاکستان آیا۔ اس وفد کی قیادت شیخ نہیان بن مبارک النہیان نے کی، جبکہ وفد میں یو اے ای کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران، شیخ نہیان نے آرمی چیف سے شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے تعزیت کا پیغام پہنچایا اور ان کی والدہ کے انتقال پر گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ وفد نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی والدہ کے بلند درجات کے لیے دعا بھی کی۔

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے یو اے ای کے وفد کی تعزیتی ملاقات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور یو اے ای کے صدر اور دیگر عہدیداروں کی جانب سے دکھائے گئے ہمدردی کے جذبات کو سراہا۔

  • محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست دائر

    محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کی درخواست دائر

    محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے

    خاتون اشبا کامران کی درخواست میں سابق وزیراعظم اور محسن نقوی سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ کیوں نگران حکومت نے محسن نقوی کو غیر قانونی طور پر چئیرمین پی سی بی تعینات کیا،الیکشن ایکٹ 2017 نگران حکومت کو اداروں کے سربراہ تعینات کرنے سے روکتا ہے، آئینی پابندی کے باوجود نگران وزیراعظم انوار الحق پنوں نے محسن نقوی کو چیئرمین پی سی بی تعینات کیا، محسن نقوی کی بطور چیئرمین پی سی بی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیا جائے،محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی کے عہدے سے فوراً ہٹایا جائے،

  • صحافی وحید مراد عدالت پیش،دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    صحافی وحید مراد عدالت پیش،دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے اردو نیوز کے صحافی وحید مراد کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ بدھ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ کی عدالت میں سنایا گیا، جہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    وحید مراد کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب اسلام آباد کے سیکٹر جی ایٹ میں ان کے گھر سے اغوا کیا گیا تھا۔ اہل خانہ کے مطابق، کالے کپڑوں میں ملبوس نقاب پوش افراد نے انہیں اغوا کر لیا تھا، جس کے بعد ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے گئے۔صحافی وحید مراد کی بازیابی کے لیے ان کے اہل خانہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں ان کی ساس، عابدہ نواز نے استدعا کی تھی کہ کراچی کمپنی تھانے میں درخواست دینے کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا گیا، اور عدالت سے مغوی کو فوری طور پر بازیاب کرانے کا حکم دینے کی درخواست کی گئی تھی۔