Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • رجب بٹ نے  ایک بار پھر معافی مانگ لی

    رجب بٹ نے ایک بار پھر معافی مانگ لی

    یوٹیوبر رجب بٹ، نے ایک بار پھر اپنے 295 پرفیوم کے نام پر معافی مانگ لی ہے۔ ان کا نیا پرفیوم جب تنازعے کا شکار ہوا، تو وہ سعودی عرب پہنچ گئے اور وہاں عمرے کی سعادت حاصل کی۔ رجب بٹ نے خانہ کعبہ کے سامنے حرم شریف میں کھڑے ہو کر حالتِ احرام میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ کسی بھی بات کو جان بوجھ کر نہیں کر رہے تھے۔

    رجب بٹ نے حرم شریف میں ریکارڈ کی گئی اپنی نئی ویڈیو میں کہا کہ "میں اس پاک جگہ پر کھڑے ہو کر حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے کچھ بھی جان بوجھ کر نہیں کیا۔” انہوں نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ویڈیو میں کہا کہ "سوشل میڈیا پر میرے بارے میں جو مسائل چل رہے ہیں، میں اس مقدس جگہ پر کھڑے ہو کر اور حلف لے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے کسی بھی طرح کا کوئی جان بوجھ کر عمل نہیں کیا۔”رجب بٹ نے مزید کہا کہ "جو کچھ بھی لاعلمی میں ہوا، اس کے لیے میں پہلے بھی معذرت کر چکا ہوں اور ایک بار پھر دل سے معذرت کرتا ہوں۔” انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ "اپنے دلوں کو میرے لیے صاف کر لیں۔”

    ویڈیو میں رجب بٹ نے علمائے کرام، پنجاب حکومت اور پاک فوج سے بھی اپیل کی کہ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت درج مقدمے پر نظرثانی کی جائے اور انہیں انصاف دلوایا جائے۔ رجب بٹ نے اپنے وی لاگ میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ دفعہ 295 جو ان پر لگائی جا رہی ہے، وہ جھوٹ ہے، لیکن اس کے باوجود اس پر فتویٰ دیا گیا تھا۔آخر میں رجب بٹ نے کہا کہ "میں ایک بار پھر اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور تمام مسلمانوں سے دل کی گہرائیوں سے معذرت کرتا ہوں۔”

  • بھارتی اداکار سونو سود کی اہلیہ کار حادثے میں زخمی

    بھارتی اداکار سونو سود کی اہلیہ کار حادثے میں زخمی

    بھارتی اداکار سونو سود کی اہلیہ کار حادثے میں زخمی ہوگئیں

    بھارتی میڈیا کے مطابق، ممبئی کے ناگپور ہائی وے پر پیر کی رات سونو سود کی اہلیہ، سونالی، کی گاڑی ایک ٹرک سے ٹکرا گئی۔ اس حادثے میں سونالی شدید زخمی ہو گئیں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سونالی اپنے بھانجے اور بہن کے ساتھ سفر کر رہی تھیں، جب حادثہ پیش آیا۔ سونالی کا بھانجا گاڑی چلا رہا تھا اور وہ بھی حادثے میں زخمی ہو گیا۔ سونالی اور ان کے بھانجے کو فوراً اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں 48 سے 72 گھنٹے تک زیر نگرانی رکھا جائے گا۔سونالی کی بہن، جو گاڑی میں موجود تھیں، کو معمولی چوٹیں آئیں لیکن وہ محفوظ رہیں۔ سونالی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اور سونو سود فوراً ناگپور پہنچ گئے ہیں تاکہ وہ اپنی اہلیہ کی حالت کو دیکھ سکیں۔اداکار کے ترجمان نے اس حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سونالی کی گاڑی کا حادثہ ہوا ہے، اور اس میں وہ اور ان کا بھانجا زخمی ہوئے ہیں۔

    یاد رہے کہ سونالی اور سونو سود نے 1996 میں شادی کی تھی، اور ان کے دو بیٹے بھی ہیں۔ سونالی نے ناگپور یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ ایک معروف فلم پروڈیوسر ہیں۔

  • پی ٹی آئی رہنماؤں کی جے آئی ٹی طلبی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    پی ٹی آئی رہنماؤں کی جے آئی ٹی طلبی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو طلب کرنے والی جے آئی ٹی چیلنج کرنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 21 اپریل تک جواب طلب کر لیا۔

    تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم اور دیگر کو جے آئی ٹی کی تشکیل کے خلاف کیس میں فوری ریلیف نہیں مل سکا، دائر درخواست میں سیکرٹری داخلہ، جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم اور آئی جی اسلام آباد کو فریق بنایا گیا ہے،دورانِ سماعت وکیل نے استدعا کی کہ عدالت اگر نوٹیفکیشن معطل نہیں کرتی تو ہراساں کرنے سے روکے،عدالت نے شیخ وقاص اکرم و دیگر کو جے آئی ٹی میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے وائریز چیلنج کی ہیں آپ وہاں پیش ہو کر اپنا جواب جمع کروائیں۔جسٹس راجہ انعام امین منہاس کے روبرو سماعت میں درخواست گزار کے وکیل نے دلائل میں بتایا کہ 26 جولائی کا نوٹیفکیشن چیلنج کیا ہے، وفاقی حکومت نے پیکا کے تحت جے آئی ٹی تشکیل دی جو آئی جی کی سربراہی میں چل رہی ہے، سیکشن 30 کے تحت یہ جے آئی ٹی غیر قانونی ہے، جے آئی ٹی تشکیل کا نوٹیفکیشن سیکشن 30 کے بھی منافی ہے۔وکیل نے کہا کہ رول ٹو کے مطابق الیکٹرانک کرائم سے متعلق مجاز افسر ڈی ہونا چاہیے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے یہاں رولز کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے؟وکیل نے بتایا کہ جی بالکل رولز کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا مہم سے متعلق تحقیقات کرنا تھیں، جے آئی ٹی ہیڈ کرنے والا انویسٹی گیشن ایجنسی کا افسر ہونا چاہیے، آئی جی ہیڈ ہی نہیں کر سکتا، سائبر کرائم سے متعلق تحقیقات ایف آئی اے اور انویسٹی گیشن ایجنسی کرتی ہے پولیس نہیں، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا یہ سارا کام ہے، کبھی کہتے ہیں پرانی ایجنسی ختم ہوگئی، نئی آگئی کبھی کہتے ہیں پرانی بحال ہوگئی ہے،بعد ازاں عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر منفی پراپیگنڈے کے خلاف آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں جے آئی ٹی کی تحقیقات کا معاملہ، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کو جے آئی ٹی نے آج دوبارہ طلب کر لیا۔

  • پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

    پی آئی اے کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت

    کابینہ کی نجکاری کمیٹی نے قومی ایئر لائن کے 51 فیصد شیئرز فروخت کرنے کے لیے نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

    نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں قومی ایئر لائن کی نجکاری کے معاملات پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں قومی ایئر لائن کی مالی حالت اور نجکاری کے عمل میں درپیش رکاوٹوں پر بھی غور کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق، کمیٹی نے قومی ایئر لائن کے 51 فیصد شیئرز فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ نجکاری کے عمل کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ مالی استحکام حاصل کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ کمیٹی نے نئے جہازوں کی خریداری یا لیز پر ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی اور سفارش کی کہ خریدار کمپنی کو جہازوں کی لیز یا خریداری پر سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہو۔نجکاری کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ آئی ایم ایف نے اس ٹیکس استثنیٰ پر کسی قسم کے اعتراضات نہیں اٹھائے ہیں، جس سے اس عمل کی تکمیل میں مزید آسانی پیدا ہو گی۔ اس کے علاوہ، کمیٹی نے قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے مختلف طریقہ کار اور اس کے طویل المدتی اثرات کا بھی جائزہ لیا۔

  • ملک دشمنوں‌کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری

    ملک دشمنوں‌کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری

    جنوبی وزیرستان کے علاقے تورہ گولہ میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا کمانڈر سعید ہلاک ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق سعید کا تعلق دہشت گردوں کے ایک گروہ سے تھا اور وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف کئی کارروائیوں میں ملوث تھا۔

    دوسری جانب جنوبی وزیرستان میں اسی علاقے میں فائرنگ کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ ڈی پی او کے مطابق، شہید پولیس اہلکار عمران پولیس لائن وانا میں تعینات تھا اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران اپنی جان کی قربانی دی۔ پولیس نے علاقے کی سرچ آپریشن کو مزید تیز کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کو پکڑا جا سکے۔

    ٹانک کے علاقے ڈیورنڈ گیٹ کے قریب دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا۔ تاہم، فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں حملہ آور فرار ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ان حملہ آوروں کو گرفتار کیا جا سکے۔

    ڈی آئی خان کے علاقے رتہ کلاچی میں پولیس اور سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا اور وہ علاقے میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔

    اسی طرح کرک کے علاقے بہادر خیل کے پہاڑی سلسلے میں پولیس اور سی ٹی ڈی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو تباہ کر دیا۔ اس کارروائی کے دوران دہشت گردوں کا بڑا نیٹ ورک تباہ ہوا اور کئی دہشت گردوں کو پکڑنے کی اطلاعات ہیں۔

    ہنگو میں بھی سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس میں کالعدم ٹی ٹی پی کے کمانڈر سعید ہلاک ہوگئے۔ اس دوران ایک اور دہشت گرد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

    خیبرپختونخواہ کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کارروائیوں میں جہاں کئی دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں، وہیں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد علاقے میں امن و امان کو بحال کرنا اور دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھنا ہے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2 ارب ڈالر کا اسٹاف لیول معاہدہ طے

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2 ارب ڈالر کا اسٹاف لیول معاہدہ طے

    پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دو ارب ڈالر کے قرض کے حوالے سے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، جو پاکستان کے لیے اہم اقتصادی سنگ میل ثابت ہو گا۔ دونوں طرف کے مذاکرات کامیاب ہوئے جس کے بعد معاہدہ طے پا گیا

    آئی ایم ایف کے مطابق، آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی، جبکہ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے بورڈ سے ملے گی۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسیلیٹی ( ے تحت 1 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے، اور موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر کا اضافی قرض بھی دیا جائے گا۔ اس پروگرام کے تحت مجموعی قرض کی رقم 2 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی، اور یہ توسیعی فنڈ فیسیلیٹی ارینجمنٹ 37 ماہ کے لیے ہوگا۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اس معاہدے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پر آ چکا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق، گزشتہ 18 ماہ کے دوران پاکستان نے کئی چیلنجز کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں اہم پیش رفت کی ہے۔آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ پاکستان میں اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے کا امکان ہے، تاہم ملک کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے خطرات کا سامنا بدستور برقرار ہے۔

    آئی ایم ایف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ پاکستان میں اصلاحات پر عمل درآمد اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے عزم کو جاری رکھے گا۔ اس کے علاوہ، پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا، اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ضروری بجٹ اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے آئی ایم ایف پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔آئی ایم ایف نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لیے بھی پاکستان کے اقدامات کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کی اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کے لیے پیداواری اور برآمدی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے پر عزم ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ٹیکس کے نظام، توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر عمل درآمد کے لیے بھی پختہ ارادہ رکھتا ہے۔

  • بیوی سے ناجائز تعلقات،شوہر نے کرایہ دار کو زندہ دفن کر دیا

    بیوی سے ناجائز تعلقات،شوہر نے کرایہ دار کو زندہ دفن کر دیا

    بھارتی ریاست ہریانہ ایک دل دہلا دینے والے واقعہ پیش آیا ہے، ہریانہ کے روہتک میں ایک شخص نے اپنی بیوی کے کرائے دار کے ساتھ مبینہ ناجائز تعلقات کا پتہ چلنے پر اسے اغوا کر کے زندہ دفن کر دیا۔ پولیس کے مطابق، یہ قتل دسمبر 2023 میں ہوا تھا، لیکن مقتول کی لاش تین ماہ بعد، پیر کے روز برآمد کی گئی۔

    پولیس کے مطابق، ہردیپ نامی شخص کو معلوم ہوا کہ اس کے گھر میں کرائے پر رہنے والا یوگا ٹیچر جگدیپ، جو بابا مست ناتھ یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا، اس کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات قائم کر چکا ہے۔ اس انکشاف کے بعد، ہردیپ نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا۔ اس نے چرخھی دادری کے پانتواس گاؤں میں سات فٹ گہرا گڑھا کھدوایا، 24 دسمبر کو، ہردیپ اور اس کے ساتھیوں نے جگدیپ کو اغوا کر لیا جب وہ کام سے واپس آ رہا تھا۔ انہوں نے اس کے ہاتھ پیر باندھ دیے اور اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں، اسے چرخھی دادری لے جا کر اس کے منہ پر ٹیپ لگا دی تاکہ وہ شور نہ مچا سکے اور پھر اسے گڑھے میں پھینک کر مٹی سے زندہ دفن کر دیا۔

    جگدیپ کی گمشدگی کی رپورٹ 3 جنوری کو شواجی کالونی پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی، مگر پولیس کو کوئی خاص سراغ نہ ملا۔ بعد میں، جب پولیس نے جگدیپ کے کال ریکارڈز کا تجزیہ کیا تو ہردیپ اور اس کے ایک ساتھی دھرام پال پر شک ہوا۔عدالت سے تحویل میں لینے کے بعد، دورانِ تفتیش ہردیپ اور دھرام پال نے جرم کا اعتراف کیا اور قتل کی مکمل تفصیلات بتائیں۔ ان کی نشاندہی پر پولیس نے 24 مارچ کو لاش برآمد کی،جرم کی مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس کا کہنا ہے کہ مزید ملزمان کی گرفتاری بھی جلد عمل میں لائی جائے گی۔ کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے انچارج کلدیپ سنگھ نے کہا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • بھارتی خود ساختہ پادری پر خواتین کا نازیبا طریقے سے "چھونے”ہراسانی کا الزام

    بھارتی خود ساختہ پادری پر خواتین کا نازیبا طریقے سے "چھونے”ہراسانی کا الزام

    بھارتی پنجاب کے خود ساختہ پادری بجندر سنگھ، جو ایک ویڈیو میں ایک مرد اور عورت کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے نظر آئے تھے، اب ایک اور سنگین الزام کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر ایک عورت کو بدسلوکی اور غلط طریقے سے قید کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    یہ واقعہ ایک دعائیہ اجلاس کے بعد پیش آیا، خاتون رانجیت کور نے الزام لگایا کہ اس نے اور دیگر افراد نے بدسلوکی اور جسمانی تشدد کا سامنا کیا۔خاتون نے دعویٰ کیا کہ بجندر سنگھ نے 17 سال کی عمر میں ان کے ساتھ نازیبا رویہ اپنایا اور غیر مناسب طور پر چھوا تھا۔28 فروری کو، کپورتھلا پولیس نے بجندر کے خلاف ایک کیس درج کیا۔ ان پر بھارتی قانون کے سیکشن 74 (عورت کو توہین کرنے کے ارادے سے حملہ یا جسمانی تشدد) اور سیکشن 126 (غلط طریقے سے قید) کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کی ایک خصوصی تفتیشی ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور قومی کمیشن برائے خواتین نے اس پر رپورٹ طلب کی ہے۔

    "شکایت کنندہ رانجیت کور اور تین سے چار دیگر خواتین نے بتایا کہ دعاؤں کے بعد ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ شکایت درج کی گئی ہے اور اس کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔” یہ بیان موہت کمار اگروال، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کا ہے۔

    45 سالہ بجندر سنگھ پر 2017 میں جنسی ہراسانی کا کیس بھی درج ہوا تھا۔ ان پر دھوکہ دہی اور جعلسازی کے بھی الزامات ہیں اور ان کی انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے چھاپے مارے ہیں۔2018 میں انہیں پنجاب کے شہر زرکپور سے تعلق رکھنے والی ایک عورت کے ساتھ ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس عورت نے دعویٰ کیا تھا کہ بجندر سنگھ نے اسے بیرون ملک سفر کی مدد کے جھوٹے وعدے کر کے دھوکہ دیا تھا۔جو عورت اس خود ساختہ پادری کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوئی، اس نے بھی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔بجندر سنگھ کا تعلق ایک ہندو جٹ خاندان سے تھا، مگر انہوں نے 2000 کی دہائی میں قتل کے مقدمے میں جیل جانے کے دوران عیسائیت اختیار کی۔

    واضح رہے کہ بھارتی پنجاب میں ایک خود ساختہ شخص نے نعوذ بااللہ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر دیا، بجندر سنگھ نامی شخص نے خود کو نبی کہا اور وہ اپنے عقائد کی پرچار کر رہا ، اس کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں اور اپنے مذہب کو تبدیل کر رہے ہیں.ایک خود ساختہ "نبوت” کا دعوی کرنے والے شخص کا نام بجندر سنگھ ہے، جو اپنے آپ کو پیغمبر کہلاتا ہے۔ اس شخص کے زیر اثر کئی لوگ عیسائیت قبول کر چکے ہیں، اور یہ رجحان پہلے مذہبی سکھوں تک محدود تھا، لیکن اب اس میں جٹ سکھ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ ایک واضح تبدیلی ہے جس کا اثر پورے پنجاب پر پڑ رہا ہے۔تقریباً دس سال قبل پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد 2 فیصد تھی، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 15 فیصد ہو چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مذہبی تبدیلی کے عمل میں اضافہ اور نئے مشنری اداروں کا پنجاب میں فعال ہونا ہے۔ کئی مقامات پر عیسائیت کے مشنری لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور انہیں مذہبی تعلیمات اور اقتصادی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    بجِندر سنگھ کی وزارت کا آغاز 2016 میں چنڈی گڑھ میں ایک چھوٹی سی عبادت گاہ سے ہوا۔ ابتدا میں اس عبادت گاہ میں صرف 100 لوگ آتے تھے، لیکن 2016 کے آخر میں جالندھر میں ایک اور کلیسا قائم کر لیا، جہاں 50 افراد شامل تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، بجندر سنگھ کی قیادت میں اس کلیسا کی تعداد بڑھتی گئی اور 2017 تک ہزاروں لوگ ان کی عبادات میں شامل ہونے لگے۔ جالندھر اور چنڈی گڑھ میں ہر اتوار کو ہونے والی عبادات میں لوگ ہر عمر اور نسل سے آتے ہیں۔ ان کی عبادات میں شامل ہونے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے اور 2019 تک بَجندر سنگھ کی وزارت کی ماہانہ حاضری لاکھوں افراد تک پہنچ چکی ہے۔

  • آسٹریلوی مصنفہ پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی تیاری کا الزام

    آسٹریلوی مصنفہ پر بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی تیاری کا الزام

    سڈنی: ایک آسٹریلوی مصنفہ کو ان کے متنازعہ ناول "ڈیڈی لٹل ٹوائے "میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد تخلیق کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    آزاد خبر رساں ادارے انڈیپنڈنٹ کے مطابق، اس کتاب میں ایک نوجوان خاتون اور اس کے والد کے دوست کے درمیان تعلقات کو موضوع بنایا گیا ہے۔سڈنی کی رہائشی مصنفہ لورین ٹیسولن-ماسٹروسا جو ٹوری ووڈز کے قلمی نام سے شہرت رکھتی ہیں، اس کتاب کی اشاعت کے بعد شدید تنقید کی زد میں آگئی ہیں۔ اگرچہ اس کتاب کے تعارفی مواد میں اسے ایک "بمشکل قانونی” 18 سالہ لڑکی کی کہانی کہا گیا، لیکن نقادوں نے نشاندہی کی کہ اس کے سرورق پر بچوں کے کھلونا بلاکس سے عنوان لکھا گیا ہے۔ مزید برآں، قارئین نے یہ بھی نوٹ کیا کہ کہانی میں اشارہ دیا گیا ہے کہ مرکزی کردار کے والد کا دوست اسے محض تین سال کی عمر سے چاہنے لگا تھا۔

    نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے مارچ میں اس کتاب کی اشاعت کے بعد شکایات موصول ہونے پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ جمعہ کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12:30 بجے، پولیس نے 33 سالہ مصنفہ کو سڈنی کے علاقے کویکرز ہل میں ان کے گھر سے گرفتار کر لیا۔ تفتیشی افسران نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر کتاب کی کئی ہارڈ کاپیاں بھی قبضے میں لے لیں تاکہ ان کا فرانزک معائنہ کیا جا سکے۔پولیس نے تصدیق کی ہے کہ ٹیسولن-ماسٹروسا پر بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد رکھنے، پھیلانے اور تیار کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ انہیں مشروط ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور وہ 31 مارچ کو بلیک ٹاؤن لوکل کورٹ میں پیش ہوں گی۔مصنفہ نے سوشل میڈیا پر اپنے کام کا دفاع کرتے ہوئے اس تنازعہ کو "بڑی غلط فہمی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کتاب بچوں کے استحصال کو فروغ نہیں دیتی۔انہوں نے کہا، "جو کچھ کہا جا رہا ہے وہ نہایت بھیانک اور تکلیف دہ ہے اور میرے دل کو توڑ رہا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ کتاب کے کچھ حصے ناپسندیدہ محسوس ہو سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ غیر قانونی ہے۔” انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ کتاب کی تیاری میں شامل دیگر افراد، بشمول سرورق ڈیزائنر اور ایڈیٹر، مواد سے لاعلم تھے اور بلاوجہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔

    اس تنازعے کے بعد مصنفہ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کر دیے ہیں، جبکہ ایمیزون اور گڈریڈز نے ان کی کتاب کو اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دیا ہے۔کتاب کی سرورق ڈیزائنر جارجیا اسٹوو نے خود کو مصنفہ سے الگ کرتے ہوئے عوامی سطح پر بیان دیا کہ وہ اس تنازعے کا حصہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "میں نے فوری طور پر ٹوری ووڈز سے تمام تعلقات منقطع کر دیے ہیں۔ میں نے صرف بیک کور پر لکھے گئے بمشکل قانونی الفاظ دیکھے تھے، اور مجھے لگا تھا کہ یہ قابل قبول ہوگا۔ براہ کرم میرے خلاف دھمکی آمیز رویہ ترک کریں کیونکہ میں اس کہانی کے مواد سے بے خبر تھی۔”یہ معاملہ اس وقت آسٹریلیا میں نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ قانونی ماہرین میں بھی موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

  • تصویر نہ بنوانے پر 46 سالہ ڈاکٹر   بیوی کو قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار

    تصویر نہ بنوانے پر 46 سالہ ڈاکٹر بیوی کو قتل کی کوشش کے الزام میں گرفتار

    ایک 46 سالہ ڈاکٹر، گیرہارڈ کونگ، کو پیر کے روز اپنی 36 سالہ بیوی، ایریئل کونگ، جو ایک نیوکلیئر انجینئر ہیں، کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق، گیرہارڈ کونگ نے اپنی بیوی پر مکوں،تھپڑوں اور ایک پتھر سے حملہ کیا اور پھر اسے ہائیکنگ ٹریل سے نیچے دھکیلنے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس حملے کے دوران گیرہارڈ نے دو سرنجز نکالیں اور انہیں اپنی بیوی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کی۔رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایریئل کونگ نے اپنے شوہر کے ساتھ تصویر کھنچوانے سے انکار کیا۔ ہوائی نیوز کے مطابق، انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کے چہرے اور سر پر شدید چوٹیں پائی گئیں۔ دوسری جانب، گیرہارڈ کونگ کو پیر کی شام تقریباً 6:45 بجے پالی ہائی وے کے قریب ایک مختصر تعاقب کے بعد گرفتار کر لیا گیا،

    گرفتاری کے بعد، معلوم ہوا کہ گیرہارڈ کونگ اینستھیزیا میڈیکل گروپ کے ساتھ بطور ڈاکٹر وابستہ تھا اور ماؤئی میں مختلف طبی مراکز، بشمول ماؤئی میموریل میڈیکل سینٹر، میں طبی خدمات فراہم کر رہا تھا۔ تاہم، تحقیقات کے دوران انہیں طبی عملے سے معطل کر دیا گیا ہے۔

    ماؤئی ہیلتھ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا:”ماؤئی ہیلتھ مریضوں کی سلامتی اور اعلیٰ معیار کی دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ہمیں گیرہارڈ کونگ، ایم ڈی، کے خلاف الزامات کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کونگ کو تحقیقات مکمل ہونے تک طبی عملے سے معطل کر دیا گیا ہے۔

    گیریہارڈ اور ایریئل کونگ ماؤئی میں ایک 1.5 ملین ڈالر مالیت کے گھر میں رہائش پذیر ہیں، لیکن واقعے کے وقت وہ اوآہو کے دورے پر تھے۔ یہ جوڑا 2018 سے شادی شدہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گیرہارڈ کونگ کی یہ دوسری شادی ہے اور ان کے پچھلے تعلق سے کم از کم ایک بچہ بھی ہے۔پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے، اور گیرہارڈ کونگ پر عائد الزامات کے حوالے سے قانونی کارروائی جاری ہے۔