Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ نے "دھوکے” سے بلایا، عدالت میں بیان

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ نے "دھوکے” سے بلایا، عدالت میں بیان

    لاہور: مشہور ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوئی۔

    کیس میں ملزمہ آمنہ عروج، حسن شاہ اور دیگر 12 ملزمان کی موجودگی میں آج سماعت ہوئی۔آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت دیگر ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت میں مدعی مقدمہ خلیل الرحمان قمر بطور گواہ پیش ہوئے۔ دوران سماعت، ملزمان کے وکلاء نے خلیل الرحمان قمر کے بیان پر جرح کی، جبکہ تمام ملزمان کے وکلاء نے الگ الگ بیانات پر جرح کی۔خلیل الرحمان قمر نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ ملزمہ آمنہ عروج نے دھوکہ دہی سے انہیں اپنے فلیٹ پر بلایا اور وہاں پر انہیں اغوا کر لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزمان نے ان سے ایک کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔

    سماعت کے دوران دیگر گواہان کی شہادتیں بھی ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جنہوں نے ملزمان کے اغوا اور تاوان کے مطالبے کی تصدیق کی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی ہے، اور کل آخری گواہ، تفتیشی افسر عمران یوسف کے بیان پر جرح کی جائے گی۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس کیس کا جلد فیصلہ کرنے کا حکم دے رکھا ہے، اور انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کیس پر سماعت کی۔

  • بھٹو کی برسی ،سندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    بھٹو کی برسی ،سندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر 4 اپریل کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔

    سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جمعہ 4 اپریل کو صوبے بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر تمام سرکاری دفاتر، اسکولز، کالجز اور دیگر حکومتی ادارے بند رہیں گے۔ یہ تعطیل سابق وزیراعظم کی خدمات اور ان کی سیاسی وراثت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو، جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، 4 اپریل 1979 کو پھانسی کی سزا پائی تھی۔ ان کی قیادت نے پاکستان کی سیاست اور عالمی تعلقات میں اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ان کی برسی ہر سال مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں یاد کی جاتی ہے۔سندھ حکومت کا یہ اقدام بھٹو کے نظریات اور ان کی جدوجہد کو یاد کرنے کی ایک کوشش ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنان اس دن کو خصوصی طور پر مناتے ہیں اور اس موقع پر مختلف تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

  • خود کو غیر ملکی ظاہر کر کے شہریوں کو لوٹنے والا گروہ گرفتار

    خود کو غیر ملکی ظاہر کر کے شہریوں کو لوٹنے والا گروہ گرفتار

    لاہور: پنجاب پولیس نے خود کو غیر ملکی ظاہر کر کے شہریوں کو لوٹنے والے نوسرباز گروہ کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان بینک سے رقم نکلوانے والے شہریوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق گروہ میں دو مردوں کے ساتھ ایک خاتون بھی شامل تھی۔ ان ملزمان نے ایک شہری کو بینک سے نکلتے ہوئے روکا اور اس سے کرنسی ایکسچینج دفتر کا پتہ پوچھا۔ بات چیت کے دوران ملزمان نے پاکستانی کرنسی دیکھنے کی فرمائش کی۔ جیسے ہی شہری نے اپنی رقم نکالی، ملزمان رقم چھین کر فرار ہو گئے۔واردات کی اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری کارروائی کی اور سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ سیف سٹی آفیسرز نے کیمروں کے ذریعے ملزمان کو ٹریک کیا اور حاصل شدہ شواہد کی بنیاد پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس حکام نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا حادثے کی صورت میں فوراً 15 پر اطلاع دیں تاکہ جرائم پر قابو پایا جا سکے۔ شہریوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اجنبی افراد کی کسی بھی غیر معمولی درخواست پر محتاط رہیں اور کسی بھی مشکوک شخص سے فاصلہ رکھیں۔پولیس نے گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور مزید وارداتوں کا سراغ لگایا جا سکے۔

  • سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مواد شیئر کرنے والے کی ضمانت منظور

    سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مواد شیئر کرنے والے کی ضمانت منظور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سوشل میڈیا پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف مواد شیئر کرنے کے کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن حیدر سعید کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی۔

    عدالت نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے درخواست پر محفوظ شدہ فیصلہ جاری کیا۔دورانِ سماعت، ملزم کے وکیل تابش فاروق نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ کیس مزید انکوائری کا متقاضی ہے اور ان کے موکل حیدر سعید کو اغوا کیا گیا تھا۔ وکیل نے عدالت میں مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کے حوالے پیش کیے اور کہا کہ ملزم کسی تنظیم کا سربراہ نہیں اور نہ ہی کسی قسم کی بغاوت میں ملوث ہے۔ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے سوشل میڈیا پر مس انفارمیشن پھیلائی اور کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی ایک پوسٹ کو ری پوسٹ کیا تھا۔ تاہم، وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پوسٹوں سے عوام میں کسی قسم کا اشتعال نہیں پھیلا اور ان کا مقصد کسی بھی قسم کی انتشار پسندی نہیں تھا۔

    سماعت کے دوران، ملزم کی والدہ بھی روسٹرم پر آئیں اور جذباتی انداز میں بیان دیا کہ ان کے بیٹے کو جب اٹھایا گیا تو انہیں بتایا گیا کہ اس نے قتل کیا ہے، جبکہ ان کا بیٹا محب وطن ہے اور اسے دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ جس اکاؤنٹ سے متنازع پوسٹ ری پوسٹ کی گئی وہ ایک ویریفائیڈ اکاؤنٹ تھا، جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

  • صحافی فرحان ملک کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ،نوٹس جاری

    صحافی فرحان ملک کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ،نوٹس جاری

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے صحافی فرحان ملک کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ فرحان ملک، جو کہ ایف آئی اے کی حراست میں ہیں، نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں سندھ حکومت، ایس ایس پی ایسٹ، ڈائریکٹر ایف آئی اے اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے نے 20 مارچ کو پیکا آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے انکوائری جاری تھی اور 20 مارچ کو انہیں ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی میں بیان دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر سائبر کرائم کے احکامات پر سب انسپکٹر ذیشان نے مقدمہ نمبر 25/25 درج کر کے فرحان ملک کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔21 مارچ کو، عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر صحافی فرحان ملک کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ اس دوران، صحافی نے عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    سندھ ہائی کورٹ نے اس درخواست پر سماعت کے لیے عید کی تعطیلات کے بعد کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی ہے۔فرحان ملک کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے موکل کو بلاجواز گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ دوسری طرف، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پیکا آرڈیننس کی خلاف ورزی کے شواہد ملے ہیں، جس پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • نظریہ پاکستان کی بنیاد پر  قومی اتحاد تشکیل دیا جائے،خالد مسعود سندھو

    نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قومی اتحاد تشکیل دیا جائے،خالد مسعود سندھو

    ارباب اقتدار ہوش میں آئیں اور قوم کو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ہی متحد کریں،صدر مرکزی مسلم لیگ
    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل نظریہ پاکستان میں ہے،معاشی بحران، بدامنی، دہشت گردی ،سیاسی افرا تفری کے خاتمے کے لئے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر قومی اتحاد تشکیل دیا جائے،قیام پاکستان والے جذبے آج زندہ ہوں گے تومشکلات کا خاتمہ ہو گا.نظریہ پاکستان سے انحراف کرنے والوں کا حال قوم دیکھ چکی، ارباب اقتدار ہوش میں آئیں اور قوم کو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ہی متحد کریں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے یوم پاکستان کے موقع پرمنعقدہ صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،صدر جنوبی پنجاب عمران بھٹی،صدر مرکزی مسلم لیگ ملتان حنیف قریشی،ترجمان جنوبی پنجاب احمد اجمل بھی موجود تھے. خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا،قیام پاکستان سے لے کر اب تک اسلام دشمنوں کو پاکستان کھٹک رہا ہے،یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتوں نے کلمہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کو نشانہ بنا رکھا ہے،مرکزی مسلم لیگ روایتی سیاست کی بجائے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر سیاست کررہی ہے۔مرکزی مسلم لیگ پاکستان کو لسانیت،فرقہ واریت،انتشار،شدت پسندی اورپارٹی بازی کی دلدل سے نکالے گی۔

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ قائد اعظم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہندو مسلم دو علیحدہ قومیں ہیں یہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں، جس طرح پاکستان کا قیام ضروری تھا اسی طرح آج پاکستان کو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر کھڑا کرناضروری ہے،نظریہ پاکستان پر آج بھی متحد ہو جائیں تو معاشی مسائل ،دہشت گردی ،سیاسی افراتفری ختم ہو سکتی ہے،بلوچستان ،خیبر پختونخوا میں پاکستان دشمن طاقتیں متحرک ہو چکی ہیں، علماء کرام ،سیکورٹی فورسز،عام عوام پر دہشتگردانہ حملےپاکستان پر حملے ہیں،قیام پاکستان کے بعد سیاستدانوں و حکمرانوں نے اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا نہیں کیا،حکمران رب سے معافی مانگیں اور اپنے رویئے بدلیں.

  • امریکہ سے نکالے گئے جنوبی افریقن سفیر کا ملک پہنچنے پرشاندار استقبال

    امریکہ سے نکالے گئے جنوبی افریقن سفیر کا ملک پہنچنے پرشاندار استقبال

    امریکا کی جانب سے فلسطین اور ایران کی حمایت کا الزام عائد کرنے کے بعد جنوبی افریقا کے سابق سفیر ابراہیم رسول کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے امریکا سے نکال دیا گیا تھا۔ تاہم جب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ وطن واپس پہنچے تو کیپ ٹاؤن ائیرپورٹ پر ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ ان کے استقبال کے لیے عوام کی بڑی تعداد ائیرپورٹ پر موجود تھی، اور اس قدر رش تھا کہ انہیں باہر جانے کے لیے پولیس کی مدد لینا پڑی۔

    ابراہیم رسول نے ائیرپورٹ پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لوگوں کو بے عزت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جب آپ کو عوام کی جانب سے اس قدر محبت اور والہانہ استقبال ملے تو میں اس ناپسندیدہ شخصیت کو فخر کے ساتھ اپنے سینے پر سجاؤں گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہماری خواہش نہیں تھی کہ ہم واپس آئیں، لیکن ہم بغیر کسی افسوس کے واپس آئے ہیں، ہمیں امریکا کی پالیسیوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے پر نکالا گیا۔”

    ابراہیم رسول نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی افریقا کے لیے یہ ضروری ہے کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے، کیونکہ امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی افریقا پر کئی الزامات عائد کیے اور ملک کی فنڈنگ بند کر دی۔ ان الزامات میں فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس اور ایران کی حمایت کا الزام شامل تھا۔ علاوہ ازیں، ٹرمپ انتظامیہ نے جنوبی افریقا پر یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ وہ سفید فام افراد کے خلاف پالیسیوں کو فروغ دے رہا ہے۔

    ابراہیم رسول نے اپنی تقریر میں کہا کہ "ہمیں امریکا کی جھولی میں اپنے مفادات ڈالنے سے انکار کرنے کی وجہ سے نکالا گیا، اور ہم نے ہمیشہ اپنے اصولوں کے تحت فیصلہ کیا۔” جنوبی افریقا نے دسمبر 2023 میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کی درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد دنیا کے 10 سے زائد ممالک نے اس کی حمایت کی۔

    امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ابراہیم رسول کو ملک سے نکالنے کے ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ابراہیم رسول ایک امریکا اور ٹرمپ مخالف سیاستدان ہیں، اور ان کی پالیسیوں کا امریکا کے مفادات کے ساتھ تضاد ہے۔”

  • عمران سے ملنے والا میڈیا ٹاک نہیں کرے گا، عدالت کا حکم

    عمران سے ملنے والا میڈیا ٹاک نہیں کرے گا، عدالت کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل ملاقاتوں کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے ان کی جیل میں ملاقاتوں کی بحالی کا حکم دے دیا۔ عدالت نے عمران خان سے ہفتے میں دو دن، یعنی منگل اور جمعرات کو ملاقاتوں کی اجازت دے دی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کی جیل ملاقاتوں سے متعلق درخواستوں پر سماعت کا عمل قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محمد اعظم پر مشتمل لارجر بینچ نے کیا۔ اس دوران جیل سپرینٹنڈنٹ اڈیالہ کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ دسمبر تک جیل میں ملاقاتیں اسی ایس او پیز (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز) کے تحت کی جا رہی تھیں، تاہم جنوری کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی اور سیکورٹی تھریٹس کے باعث ملاقاتوں کا عمل متاثر ہوا۔جیل سپرینٹنڈنٹ کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں کا شیڈول منگل کے روز رکھا گیا ہے، کیوں کہ جنوری کے بعد عمران خان کا اسٹیٹس انڈر ٹرائل قیدی سے سزا یافتہ قیدی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

    اس موقع پر قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ہر قیدی کی طرف سے جیل ملاقاتوں کی درخواستیں آنا معمول بن چکا ہے، اور بعض اوقات جیل ملاقاتوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے بعد میڈیا ٹاک کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور اگر جیل میں ملاقات کرنی ہے تو اس کے بعد میڈیا میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان ملاقاتوں کے دوران جو لوگ عمران خان سے ملیں گے، وہ صرف وہی افراد ہوں گے جو بانی پی ٹی آئی کے کوآرڈینیٹر کی طرف سے نامزد کیے جائیں گے۔ علاوہ ازیں، عدالت نے یہ بھی کہا کہ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو نہیں کی جائے گی، اور جو بھی عمران خان سے ملے گا، اسے اس بات کی یقین دہانی کرانی ہوگی کہ وہ میڈیا کے سامنے کوئی بیان نہیں دے گا۔

  • 7 مختلف مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    7 مختلف مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 7 مختلف مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 5 مئی تک توسیع کر دی ہے۔

    اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ اس کیس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے کارروائی کی۔بشریٰ بی بی کی نمائندگی انصر کیانی ایڈوکیٹ اور شمسہ کیانی ایڈوکیٹ نے کی، جو عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے 7 مختلف مقدمات میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 5 مئی تک توسیع کی۔ بشریٰ بی بی کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ اور کیس میں شاملِ تفتیش ہونے کے لئے بھی درخواست دائر کی گئی۔

    یاد رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف تھانہ آبپارہ، سیکرٹریٹ، ترنول، رمنا، مارگلہ اور کراچی کمپنی میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

  • ٹرمپ کا حکم،  5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم

    ٹرمپ کا حکم، 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم

    امریکا نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے مطابق انہیں 24 اپریل تک ملک چھوڑنے کا وقت دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیا گیا ہے، جس کا مقصد خاص طور پر لاطینی امریکی ممالک سے آنے والے تارکین وطن کو ملک سے باہر نکالنا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی ملک بدری مہم شروع کرنے اور لاطینی امریکی ممالک کے شہریوں پر قابو پانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ اقدام ان تارکین وطن کے خلاف ہے جو سابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے شروع کی گئی ایک اسکیم کے تحت امریکا میں داخل ہوئے تھے۔اس فیصلے کا براہ راست اثر کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا سے آنے والے تارکین وطن پر پڑے گا۔ ان افراد نے امریکا میں پناہ کی تلاش میں سابق صدر بائیڈن کی اسکیم کے تحت قدم رکھا تھا۔ امریکی صدر کی جانب سے اس فیصلے کے مطابق، وفاقی رجسٹر میں شائع ہونے کے 30 دن بعد یہ افراد اپنی قانونی حیثیت کھو دیں گے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم کے مطابق، ان تارکین وطن کو 24 اپریل تک امریکا چھوڑنا ہوگا، جب تک کہ انہوں نے کوئی دوسرا قانونی امیگریشن status حاصل نہ کر لیا ہو جو انہیں ملک میں رکنے کی اجازت دے۔ اگر یہ افراد اپنے قانونی معاملے کو حل نہ کر پائے، تو انہیں ملک چھوڑنا ہوگا۔رپورٹ کے مطابق، ’ویلکم یو ایس‘ نامی ایک پروگرام بھی ان افراد کی مدد کرتا ہے جو امریکا میں پناہ کے متلاشی ہیں۔ اس پروگرام کی طرف سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر کسی امیگریشن وکیل سے مشورہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے حقوق اور قانونی حیثیت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔امریکا کی جانب سے کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا اور وینزویلا کے شہریوں کے لیے شروع کردہ سی ایچ این وی پروگرام جنوری 2023 میں شروع کیا گیا تھا، جس کے تحت ان ممالک سے ہر ماہ 30 ہزار افراد کو امریکا آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم اب اس فیصلے کے بعد یہ افراد امریکی حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔

    امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ان افراد کو 24 اپریل تک امریکا چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان ممالک سے آنے والے افراد کو قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر مشورہ لینے کی ہدایت دی گئی ہے۔