Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ن لیگ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں،خیبر پختونخوا میں بنایا گیا مینڈیٹ ہے، مولانا فضل الرحمان

    ن لیگ کا مینڈیٹ تسلیم نہیں،خیبر پختونخوا میں بنایا گیا مینڈیٹ ہے، مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی لوگ آپس میں ویسے ہی لڑتے ہیں جن کو اقتدار ملتا ہے ان کو بھی مینج کیا جاتا ہے، وفاق کے ساتھ صوبوں میں بھی الیکشن کو مینج کیا گیا، خیبرپختونخوا میں بھی مینڈیٹ عوامی نہیں یہ بھی بنایا گیا مینڈیٹ ہے۔

    نجی ٹی وی کو انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ دہشتگردی کے حوالے سے ریاست کی غلطیوں کا بڑا عمل دخل ہے، افغان جنگ کے بعد مہاجرین ایران کی طرف بھی گئے اور ایران نے افغان مہاجرین کو تو جگہ دی لیکن جنگ کے لیے بیس کیمپ نہیں بنایا، ہم نے پاکستان میں جنگ کے لیے بیس کیمپ بنایا، جب لفظ جہاد استعمال ہوگا تو مذہبی لوگ ہی اس طرف جائیں گے، ریاست لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکی کہ روس افغانستان آیا تو جہاد اور امریکا آیا تو جہاد نہیں، تضاد تب آیا جب پرویز مشرف نے امریکا کو سپورٹ کیا،پاکستان میں اس وقت مسلکی تنازعات اور جنگیں نہیں ہیں، ہمارے علما کرام شہید ہوئے ان کو بھی شہید کہتا رہوں اور قاتلوں کو بھی تو ایسا نہیں ہوسکتا، افغانستان میں افغان علما نے فتویٰ جاری کیا کہ جہاد اپنے انجام کو پہنچ چکا، اب کوئی جنگ کرے گا تو وہ جنگ ہوگی جہاد نہیں،25 ہزار علما پشاوراور 10 ہزار علما بلوچستان میں جمع ہوئے، 35 ہزار علما نے قرار داد پاس کی کہ ہم آئین پاکستان کے ساتھ ہیں، تمام مکاتب فکر نے لاہور میں اے پی سی کی اور اتفاق کیا کہ اکابرین کے متفقات کو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جائے گا اور نظام کے اصلاح کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے، وفاق المدارس عربیہ نے ڈیڑھ سو علما کو بلایا جنھوں نے ملک میں اسلحہ اٹھا کر لڑنے کو غیرشرعی قرار دیا، ہم اپنے ملک کے لیے بات کرنا چاہتے ہیں، داعش ہو یا کوئی اور تنظیم ان کے ساتھ اتفاق ہوتا تو کیا میں پارلیمنٹ میں بیٹھا ہوتا،افغانستان نے دعوت دی تو حکومت اور وزارت خارجہ کو اعتماد میں لیا، افغانستان میں ایک ہفتہ گزارا اور تمام معاملات پر بات کی اور نتائج حاصل کیے، ان نتائج کو یہاں آکر رپورٹ کیا اس رپورٹ کو تسلیم کیا گیا خراج تحسین پیش کی گئی، ہم نے امریکیوں کو اڈے دیے اور دوسری طرف افغانستان سے آنے والوں کو یہاں کور دے رہے تھے، ہمارے تیس چالیس ہزار لوگ وہاں گئے اور ان کے ہمراہ بیس سال تک لڑے، اب کیا ان سے بندوقیں لے کر آپ کے حوالے کردیں ظاہر ہے ان کے لیے بھی مشکلات ہیں، کچھ چیزوں پراتفاق رائے حاصل کیا انھوں نے کہا کہ ہمارا اور آپ کا مؤقف ایک ہی ہے، افغانستان نے کہا کہ آپ عجلت اور ہم مہلت کا تقاضا کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ ہمیں ان چیزوں کے لیے وقت چاہیے۔

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھاکہ اتفاق رائے ہوا تھا مجھے علم نہیں کہ ہم نے آج معاملہ کیوں بگاڑ دیا، ہم افغانستان کی جنگ کو نہ روئیں تواچھا ہے، گوادر سے لیکر چترال باجوڑ تک مسئلہ ہے، افغانستان سے متعلق امید رکھتا ہوں کہ اس پر مزید سوچنے کی گنجائش ہے، جنگ نہ افغانستان اور نہ پاکستان کے لیے مفید سمجھتا ہوں، اگر ہم جنگ کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں تو قدم روک لینا چاہیے اور جامع حکمت عملی کی طرف جانا چاہیے، حکمرانوں کو دعوت دیتا ہوں تھوڑا سا ان معاملات پر سوچیں تمام جماعتوں کو بلالیں۔

    الیکشن کے حوالے سے سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان کا کہناتھاکہ مجھے الیکشن کے نتائج تسلیم نہیں، اسٹیبلشمنٹ اور الیکشن کو تسلیم کرنے والی جماعتوں سے اختلاف ہوا، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں صلاحیت کیوں نہیں جو کامیابیاں حاصل کیں ان کو فالو کرسکیں، ہم مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کر رہے ہیں،سیاست میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو سینیئر تسلیم کیا جاتا ہے، توقع رکھی جاتی ہے کہ بڑے ہونے کے ناطے وہ ایسا کردار ادا کریں کہ مسائل حل ہوں، نوازشریف کا ہمیشہ احترام کیا ہے ، وہ بالکل ہی سین سے غائب ہوگئے ہیں، سین میں بظاہر نوازشریف کا کوئی بڑا کردار سامنے نظر نہیں آرہا ہے، معاملات بگڑے ہوئے ہیں ، الیکشن خراب ہوگئے، حکومت پر اعتماد نہیں،جمہوریت شکست کھائے گی تو انتہاپسندی اور شدت پسندی کامیاب ہوگی، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان تعلق اعتدال کی طرف آرہا ہے، رویوں میں نرمی آرہی ہے ایک دوسرے کو سمجھے کے مواقع مل رہے ہیں، اچھی سمت ہے جس کی طرف سفر ہورہا ہے، میں ان رویوں کو ہمیشہ بہتر رکھنے کے لیے بات کررہا ہوں، یہ نہیں کہ محدود وقت کے لیے دوستی کروں اور آگے جاکر کہوں کہ مطلب پورا ہوگیا اب ضرورت نہیں،بانی پی ٹی آئی کا کردار سیاست میں کیا ہوگا یہ انھوں نے خود طے کرنا ہے، سیاست میں گنجائش رکھنی چاہیے کہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں اور بات کرسکیں، عید کے بعد جے یو آئی نے جنرل کونسل کا اجلاس بلایا ہے، جنرل کونسل اجلاس میں مستقبل کی پالیسیاں طے ہوں گی، سیاسی لوگ آپس میں ویسے ہی لڑتے ہیں جن کو اقتدار ملتا ہے ان کو بھی مینیج کیا جاتا ہے، وفاق کے ساتھ صوبوں میں بھی الیکشن کو منیج کیا گیا ہے،خیبرپختونخوا میں بھی مینڈیٹ عوامی نہیں یہ بھی بنائی گئی مینڈیٹ ہے، ہم دونوں اب اپوزیشن میں ہیں پی ٹی آئی کا بھی الیکشن کاعدم اعتماد ہے، جب ہم الیکشن پر اعتراض کررہے تھے تو سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور ہمارے ساتھ اتحاد میں بھی تھی اب وہی پوزیشن پی ٹی آئی کی ہے۔

  • نوشکی میں پولیس موبائل پر فائرنگ،چار اہلکار شہید

    نوشکی میں پولیس موبائل پر فائرنگ،چار اہلکار شہید

    بلوچستان کے ضلع نوشکی میں پولیس موبائل پر فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید ہوگئے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ نوشکی کے علاقے غریب آباد میں اس وقت کیا گیا جب پولیس کی موبائل گشت پر تھی۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ کے نتیجے میں 4 اہلکار شہید ہوئے جن میں ہیڈ کانسٹیبل نذیر احمد، کانسٹیبل منصور احمد، کانسٹیبل عبد الکریم اور کانسٹیبل عبدالقاہر شامل ہیں۔ حکام نے بتایا کہ شہید ہونے والے اہلکاروں کا تعلق نوشکی کے مختلف علاقوں سے تھا۔ حملے کے بعد اہلکاروں کی لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی پوسٹ مارٹم کی کارروائی جاری ہے۔پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی اور تحقیقات جاری ہیں۔

    وزیر اعلیٰ بلوچستان، میر عبدالقدوس بزنجو نے نوشکی میں پولیس موبائل پر ہونے والے حملے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور بے گناہ مزدوروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور ان کے قاتلوں کو سخت سزا دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ خون بہانے والوں کو بلوچستان میں پناہ نہیں لینے دی جائے گی اور اس حوالے سے فوری کارروائی کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج، ڈی چوک میں مبینہ ہلاکتیں، وزیراعظم کیخلاف درخواست خارج

    26 نومبر احتجاج، ڈی چوک میں مبینہ ہلاکتیں، وزیراعظم کیخلاف درخواست خارج

    اسلام آباد: اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے 26 نومبر 2022 کو ڈی چوک احتجاج کے دوران مبینہ ہلاکتوں کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ محسن نقوی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کردی۔ شہری کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے سماعت کی۔

    آج سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے اندراج مقدمہ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے اب سناتے ہوئے عدالت نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، وزیرداخلہ محسن نقوی اور دیگر حکومتی شخصیات کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال 26 نومبر کو سکیورٹی فورسز نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کو ڈی چوک سے باہر نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا تھا۔ اس دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قائدین بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور موقع سے فرار ہوگئے تھے جبکہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی انتشار کے باعث موقع سے بھاگ نکلی تھی۔پولیس نے اس دوران سیکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا تھا ،پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس احتجاج کے دوران کارکنوں کی ہلاکتوں کے بارے میں متضاد دعوے کیے تھے، جن میں بالآخر 12 افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا تھا تاہم کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے تھے.

    دوسری جانب، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 26 نومبر کے احتجاج کے دوران ہونے والی صورتحال نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت نے کسی بھی ہلاکت کی اطلاع دینے سے انکار کیا تھا، جبکہ پی ٹی آئی نے متعدد ہلاکتوں کے دعوے کیے تھے۔ تاہم، ایچ آر سی پی کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے 7 افراد کے اہلخانہ سے ملاقات کی گئی، جنہوں نے مختلف بیانات دیے۔

    عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد درخواست پر فیصلہ دیا اور وزیراعظم، وزیرداخلہ سمیت دیگر حکومتی افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی متوقع ہے۔

  • پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے،یوم پاکستان پر عسکری قیادت کا پیغام

    پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے،یوم پاکستان پر عسکری قیادت کا پیغام

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر قوم کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ملک کی ترقی اور کامیابی کے عزم کو دہراتے ہوئے، پاکستانی عوام کی غیر متزلزل عزم اور حب الوطنی کو سراہا۔

    23 مارچ 1940 کا دن ہمارے تاریخ کا ایک سنگ میل تھا، جس نے ہماری اجتماعی نظریات اور اصولوں کو تشکیل دیا اور ایک آزاد وطن کے قیام کا راستہ دکھایا۔ یہ دن ہماری تاریخ میں ایک نیا آغاز تھا، جب ہماری قوم نے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کی جدوجہد شروع کی۔ ہمارا ایمان، ہماری امید اور ہماری عزم نے ہمیں ایک مضبوط اور خوشحال ریاست کی طرف رہنمائی فراہم کی۔ اللہ کی بے پایاں رحمت کے ساتھ، پاکستان نے ہمیشہ اپنے قومی اصولوں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ترقی کی ہے۔پاکستان اپنے آئین اور جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے اور اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کی حفاظت کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ پاک فوج ہر وقت اپنی سرحدوں کی حفاظت اور مادر وطن کی خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

    آج پاکستان عالمی برادری کا ایک ذمہ دار اور پُرعزم رکن کے طور پر کھڑا ہے، جو امن، استحکام اور تعاون کے اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔ ہم ایک متحد قوم کے طور پر، اُمید اور عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں، تاکہ پاکستان کو عالمی سطح پر فلاح اور خوشحالی کا ایک نشان بنایا جا سکے۔پاک فوج نے اپنی لازوال قربانیوں اور عزم کے ساتھ قوم کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہر قیمت پر تیار ہے۔ ہم پاکستان کو امن کا علمبردار بنانے اور اس کی حفاظت کرنے کے لیے ہر حال میں عزم کی تکمیل کریں گے، انشاء اللہ۔

    پاک فوج زندہ باد، پاکستان پائِندہ باد

    پاکستان کا مستقبل روشن اور خوشحال ہے۔ ہمیں ایک قوم کے طور پر اپنے ملک کی ترقی اور سلامتی کی طرف مسلسل کوششیں جاری رکھنی ہیں تاکہ پاکستان دنیا میں امن اور ہم آہنگی کا نمونہ بنے۔

  • ماہ رنگ بلوچ کو جیل منتقل کر دیا گیا

    ماہ رنگ بلوچ کو جیل منتقل کر دیا گیا

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے سریاب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ انہیں دیگر چار خواتین کے ہمراہ ایک ماہ کے لیے جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام تھری ایم پی او (قومی تحفظ آرڈیننس) کے تحت کیا گیا۔

    کمشنر کوئٹہ حمزہ شفقات نے میڈیا کو بتایا کہ یہ گرفتاری جعفر ایکسپریس کے ہلاک دہشت گردوں کے حق میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاج کے دوران ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے دوران پُرتشدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 2 مزدور اور ایک افغان شہری ہلاک ہوگئے۔حمزہ شفقات کے مطابق، احتجاج کے دوران بلوچ یکجہتی کمیٹی کے قائدین کے ساتھ موجود مسلح افراد کی فائرنگ سے مذکورہ ہلاکتیں ہوئیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مظاہرین کی پُرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے پولیس کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

    ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے کہا کہ سول اسپتال کوئٹہ پر ہونے والے حملے کے بعد بلوچ یکجہتی کمیٹی کی قیادت کو گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی وائی سی کے احتجاج میں مسلح افراد بھی شامل تھے، اور ان کی موجودگی نے حالات کو مزید کشیدہ کردیا۔شاہد رند نے کہا کہ بلوچستان میں بعض مخصوص حالات میں خصوصی قوانین کی ضرورت پیش آتی ہے، اور بلوچ یکجہتی کمیٹی مارے گئے دہشت گردوں کی لاشوں کے لیے احتجاج کر رہی تھی۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔

    ماہ رنگ بلوچ پر سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کوئٹہ،خود کش دھماکہ کرنیوالا ماہ رنگ بلوچ کا مسنگ پرسن نکلا

    دہشتگردوں کی سہولت کار،ملک دشمنوں کی ایجنٹ،ماہ رنگ بلوچ پر مقدمہ درج

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    ماہ رنگ بلوچ پیادہ،کر رہی ملک دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل

  • کوئٹہ میں ریاست مخالف سوشل میڈیا سرگرمیوں میں ملوث 4 افراد گرفتار

    کوئٹہ میں ریاست مخالف سوشل میڈیا سرگرمیوں میں ملوث 4 افراد گرفتار

    ضلعی انتظامیہ نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ریاست مخالف پروپیگنڈے اور دہشت گردوں کی حمایت میں مصروف چار افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی اداروں کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کر رہے تھے اور دہشت گردوں کی حمایت میں مواد شیئر کر رہے تھے۔

    گرفتار ہونے والے افراد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھے اور انہوں نے بی وائی سی (Baloch Youth Conference) کے جھنڈے تلے اپنے مواد کا اشتراک کیا تھا، جس کا مقصد عوام میں حکومتی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا اور دہشت گردوں کو سپورٹ فراہم کرنا تھا۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ معاشرتی امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔

    یہ گرفتاری اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ حکومت ریاست مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے  پاکستان بدامنی کی لپیٹ میں ہے.خالد مسعود سندھو

    حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان بدامنی کی لپیٹ میں ہے.خالد مسعود سندھو

    آزادی اظہار رائےبنیادی حق، کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا، صحافیوں کو ڈیجیٹل تربیت دیں گے.تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان بدامنی کی لپیٹ میں ہے.بلوچستان پاکستان کی شان، مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتیں کردار ادا کریں، دہشتگردخواہ کوئی بھی ہو، ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے، ایک قوم بن کر ملک کو درپیش مسائل سے نکالا جاسکتا ہے، پاکستان میں سیاسی استحکام کے لیے ڈائیلاگ بہت ضروری ہے،خدمت کا رمضان مہم کے تحت ملک بھر میں سحر و افطار دسترخوان لگائےگئے ہیں،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ننکانہ میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مرکزی مسلم لیگ ننکانہ کے سیکرٹری جنرل ثاقب مجید، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری پنجاب محمد عبداللہ بھی موجود تھے. خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان بیرونی دہشت گردی کی زد میں ہے، بلوچستان، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی پر تشویش ہے، امن و امان قائم کرنا صوبائی حکومتوں پر لازم ہے، پاکستان میں امن قائم کرنے کے لیے قومی سطح پر گرینڈ جرگہ بلایا جائے، کلمہ کے نام پر حاصل کیا گیا ملک 77 سال میں آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے چلا گیا،وطن عزیز پاکستان میں امن و امان کے قیام کے لیے صدر مملکت کو خط لکھا ہے.

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب حکومت نے گندم کا ریٹ تاحال مقرر نہیں کیا ،حکومت کسانوں کو ریلیف فراہم کرے، مہنگائی کے خاتمے کے دعویدار حکمران اپنی تںخواہوں میں تو اضافے کر رہے ہیں لیکن عوام غربت کی چکی میں پستی چلی جا رہی ہے. آئی ایم ایف ودیگر عالمی اداروں سے قرضے لے کر ملک نہیں چلایا جا سکتا، اگر پاکستان کو معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو سب سے پہلے سودی نظام کو ختم کرنا ہوگا،

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ سیاست کو خدمت سمجھتی ہے، مرکزی مسلم لیگ پاکستان کی بہتری کے لیے سیاست کر رہی ہے، پیکا قانون صحافت پر قدغن ہے، پاکستان کی صحافت مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا، پیکا ایکٹ کی وجہ سے صحافی ڈر، خوف کا شکار ہیں، آزادی اظہار رائےبنیادی حق، اس پر کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا،ہم ملک بھر میں صحافیوں کو ڈیجیٹل تربیت فراہم کریں گے، سیاسی شعور سے قوموں کی تقدیر بدلتی ہے،مرکزی مسلم لیگ اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کی خدمت کر رہی ہے ، پاکستان کو اس سیاست کی ضرورت ہے جو انتشار اور تفریق کی بجائے اتحادویکجہتی کے لئے ہو.

    پانی زندگی ہے، پاکستان میں پانی کا مسئلہ سنگین بحران کی صورتحال اختیار کر چکا ،چولستان کینال منصوبے پریکطرفہ فیصلے کی بجائے قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، حکومت ہنگامی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر کرے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھائے، مرکزی مسلم لیگ عوام میں پانی کے درست استعمال اور بچت کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے گی.

  • وزیرِ اعظم  سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے جدہ سے اسلام آباد روانہ

    وزیرِ اعظم سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے جدہ سے اسلام آباد روانہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے جدہ سے اسلام آباد روانہ ہو گئے،

    گورنر جدہ عزت مآب شہزادہ سعود بن عبد اللہ بن جلاوی نے وزیراعظم کو ایئرپورٹ پر رخصت کیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 19 سے 22 مارچ 2025 تک سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا۔ دورہءِ سعودی عرب کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا، اقتصادی تعاون کو بڑھانا اور دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

    دورے کے دوران وزیراعظم نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم عزت مآب محمد بن سلمان آل سعود سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تجارت کو فروغ دینے، کلیدی شعبوں میں شراکت داری کو بڑھانے اور وسیع تر اقتصادی تعاون کو سہل بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے سعودی وزیر سرمایہ کاری عزت مآب خالد الفالح اور اقتصادی امور کے لیے تشکیل کردہ ٹاسک فورس کے سربراہ عزت مآب محمد التجویری سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے مابین اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور پاکستان میں مزید سعودی سرمایہ کاری لانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے دورے کے آخر میں مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں روضہ رسول پر حاضری دی اور مکہ مکرمہ میں وفد سمیت عمرہ بھی ادا کیا۔

  • نیب کا ایکشن، ملک ریاض کی بحریہ فیز سیون میں جائیدادیں سیل

    نیب کا ایکشن، ملک ریاض کی بحریہ فیز سیون میں جائیدادیں سیل

    قومی احتساب بیورو (نیب) راولپنڈی نے احتساب عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن فیز 7 میں ملک ریاض کی ملکیتی جائیداد کو سیل کر دیا ہے۔ نیب کی اس کارروائی کا مقصد کرپشن کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا اور ملک میں احتساب کا عمل تیز کرنا ہے۔

    نیب کی اس کارروائی کی قیادت ایڈیشنل ڈائریکٹر علی محمد نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ کرنل (ر) محمد رفیق اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ نیب کی ٹیم نے بحریہ ٹاؤن فیز 7 کے مختلف جائیدادوں پر کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں سرکاری نوٹسز چسپاں کیے۔ ان نوٹسز میں عوام کو مطلع کیا گیا کہ یہ اثاثے اب نیب کی تحویل میں ہیں اور ان جائیدادوں کا کوئی بھی لین دین اب نیب کے اختیار میں ہے۔نیب نے جن جائیدادوں کو سیل کیا ہے، ان میں ارینا سینما، بحریہ ٹاؤن انٹرنیشنل اکیڈمی، اور روبیش مارکی شامل ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹسز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ان جائیدادوں کی خرید و فروخت کے تمام قانونی حقوق اب نیب کے پاس ہیں، اور ان جائیدادوں کے کسی بھی قسم کے لین دین کا اختیار صرف نیب کے پاس ہوگا۔

    نیب حکام کا کہنا ہے کہ ان جائیدادوں کو سیل کرنے کا اقدام احتساب عدالت کے احکامات کے مطابق کیا گیا ہے اور اس عمل میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔نیب کے اس اقدام کو کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ عمل ملک میں احتساب کے عمل کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

    ملک ریاض کے خلاف کارروائی،بحریہ ٹاؤن کی جائیداد سیل

    ملک ریاض کی راولپنڈی میں جائیداد سرکاری تحویل میں لے لی گئی

    بحریہ ٹاؤن ،ملک ریاض کیخلاف دو نیب ریفرنس دائر

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

  • مصطفیٰ قتل کیس،ملزم ارمغان اعتراف جرم کے بعد مکر گیا

    مصطفیٰ قتل کیس،ملزم ارمغان اعتراف جرم کے بعد مکر گیا

    کراچی: جنوبی کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں مصطفی عامر کے قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے اعترافِ جرم کرنے کے بعد پھر اس سے انکار کر دیا، جس پر عدالت نے ملزم کے اعترافی بیان کی درخواست کو خارج کر دیا۔

    عدالت کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملزم کی ذہنی حالت ایسی نہیں ہے کہ اس کا اعترافی بیان ریکارڈ کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزم نے پہلے جرم کا اعتراف کیا تھا لیکن بعد میں اس سے انکار کر دیا۔عدالت نے اپنی بات کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ملزم چاہے جرم کا اعتراف کرے یا نہ کرے، اسے بہرحال جیل بھیج دیا جائے گا۔

    سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ وہ کوئی اعترافِ جرم نہیں کرنا چاہتا۔ اس بیان کے بعد عدالت نے مزید کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے اعترافی بیان کی درخواست کو مسترد کر دیا۔اس کیس میں مصطفی عامر کے قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزم کی ذہنی حالت کی مزید جانچ پڑتال کی جائے گی۔ عدالت نے مزید کہا کہ ملزم کے اعترافِ جرم سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جب تک اس کی ذہنی حالت کا مکمل جائزہ نہ لیا جائے۔