Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیپٹن حسنین اختر نے وطن کی مٹی سے وفا  کا عہد نبھا دیا

    کیپٹن حسنین اختر نے وطن کی مٹی سے وفا کا عہد نبھا دیا

    جرات و بہادری کی داستان، کیپٹن حسنین اختر شہید،25 سالہ کیپٹن حسنین اختر شہید کا تعلق ضلع جہلم سے ہے

    کیپٹن حسنین اختر شہید کے والد اختر محمود پاک فوج میں حوالدار کےعہدے پرفائز رہے،کیپٹن حسنین اختر شہید نے 4 سال قبل انتھک محنت اور لگن سے پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی،کیپٹن حسنین اختر شہید نے 20 مارچ 2025کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں فتنتہ الخوارج کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا،اس سے قبل کیپٹن حسنین اختر شہید نےدہشتگردوں کے خلاف مختلف آپریشنزمیں جرات و بہادری کاعملی مظاہرہ پیش کیا،کیپٹن حسنین اختر شہیدنے ان آپریشنز میں "لیڈنگ فرام دی فرنٹ” کا عملی نمونہ پیش کیا،27 دسمبر 2024 کو کیپٹن حسنین اختر شہید نے فتنتہ الخوارج کے خلاف آپریشن کے دوران بغیر فائر کیے 12 بچوں کی جان بچائی،اس آپریشن کے دوران 3 اطراف سے کیپٹن حسنین اختر شہید پر 35-40 خارجیوں نے حملہ کیا،اس حملے میں کیپٹن حسنین اختر شہید نے بڑی مہارت کامظاہرہ پیش کیا،27مئی 2024کو ٹانک کے علاقے بابر ملا خیل کے مقام پربھی ایک آپریشن کیا گیا،اس آپریشن میں کیپٹن حسنین اختر شہید نے انتہائی مطلوب دہشتگرد خارجی عباس بٹنی کو جہنم واصل کیا،آپریشن کے دوران 12 دہشتگرد بھی جہنم واصل ہوئے،اسی طرح نومبر 2024 میں بھی ایک آپریشن کے دوران کیپٹن حسنین اختر شہید کا سامنا ایک دہشتگرد کے ساتھ ہوا،دو بدو کی لڑائی میں کیپٹن حسنین اختر شہید کا ایک بازو فریکچر ہوا مگر انھوں نے دہشتگرد کوموقع پر جہنم واصل کر دیا،اس کے ساتھ ساتھ 30اور 31 جنوری 2025 کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں ہلاک کئے جانے والے دہشتگرداحمد الیاس عرف بدر الدین کی ہلاکت میں بھی کیپٹن حسنین اختر شہید کا نہایت اہم کردار رہا،اس آپریشن کےدوران ہلاک ہونے والاخارجی احمد الیاس عرف بدرالدین ، صوبہ باغدیس کے نائب گورنر مولوی غلام محمد کا بیٹا تھا،خارجی بدر الدین نے پہلے افغان طالبان کے تربیتی مرکز میں تربیت حاصل کی اور پھرفتنتہ الخوارج میں شامل ہوا،کیپٹن حسنین اختر شہید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے وطن کی مٹی سے وفا کا عہد نبھا دیا،

  • بیوی نے بھائی سے شوہر کو پٹوا دیا، ملزم گرفتار

    بیوی نے بھائی سے شوہر کو پٹوا دیا، ملزم گرفتار

    لاہور میں لاقانونیت کا واقعہ، ستوکتلہ میں بیوی نے اپنے بھائی کےہاتھوں شوہر کو پٹوا دیا

    پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تشدد کرنے والے ملزم یوسف کو گرفتار کر لیا ہے، جو گزشتہ دنوں ستوکتلہ کے علاقے میں اپنے بہنوئی کو رسیوں سے باندھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کیا اور اسے گرفتار کر لیا۔پولیس کو گزشتہ روز اس تشدد کا ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی جس کے بعد فوری طور پر پولیس نے ایکشن لیتے ہوئے ملزم یوسف کو گرفتار کیا۔ واقعے کا مقدمہ نمبر 991/25 کے تحت درج کیا گیا اور ملزم علی حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ ایک گھریلو معاملے پر پیش آیا تھا، جس میں ملزم یوسف نے اپنے بہنوئی کو باندھ کر اس پر تشدد کیا۔ فیصل کامران نے مزید بتایا کہ یوسف کی بیوی اپنے میکے جانے کے بہانے ملزم یوسف کو اپنے ساتھ لے کر گئی تھی اور سسرال والوں نے گھریلو مسائل کا بہانہ بنا کر یوسف کو تشدد کا نشانہ بنایا۔فیصل کامران نے واضح کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ایسے افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    فیصل کامران نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ پولیس ایسے واقعات پر ہرگز نظر انداز نہیں کرے گی اور اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے شہریوں سے درخواست کی کہ وہ کسی بھی قسم کی لاقانونیت کے خلاف پولیس سے تعاون کریں تاکہ شہر میں امن قائم رکھا جا سکے۔

  • نازش جہانگیر کی غلط معلومات پھیلانے والوں کو  کارروائی کی دھمکی

    نازش جہانگیر کی غلط معلومات پھیلانے والوں کو کارروائی کی دھمکی

    پاکستان کی معروف اداکارہ نازش جہانگیر نے اپنے متعلق غلط، گمراہ کُن اور غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانے والوں کو شدید وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ عمل نہ رکا تو وہ پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت قانونی کارروائی کریں گی۔

    نازش جہانگیر نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر ایک باضابطہ نوٹس شیئر کیا، جس میں انہوں نے اپنے بارے میں غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلانے والے افراد، پیجز اور اداروں کو قانونی کارروائی کی دھمکی دی۔ اداکارہ نے کہا کہ "میرے بارے میں غلط، گمراہ کن یا غیر تصدیق شدہ معلومات پوسٹ کرنے والے تمام افراد کے لیے یہ ایک باضابطہ وارننگ ہے۔ اگر ان پوسٹس کو فوراً ہٹایا نہ گیا اور 24 گھنٹوں کے اندر عوامی معافی نامہ نہ جاری کیا گیا تو میں ان ہتک آمیز پوسٹس کے ذمے دار تمام فریقین کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر مجبور ہو جاؤں گی۔”

    نازش جہانگیر نے مزید کہا کہ "اس طرح کی غلط معلومات کو مزید پھیلانے کے نتیجے میں پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت قانونی کارروائی سمیت ہتک عزت کا باقاعدہ مقدمہ دائر کیا جائے گا اور ساتھ ہی تمام ممکنہ قانونی کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔”

    یہ بیان اداکارہ کی جانب سے اس وقت سامنے آیا جب چند روز قبل لاہور کی کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے نازش جہانگیر کے خلاف امانت میں خیانت، فراڈ اور دھمکیاں دینے کے الزامات کے تحت وارنٹِ گرفتاری جاری کیے تھے۔ عدالت نے پولیس کو اداکارہ کو گرفتار کر کے 22 مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    تاہم، نازش جہانگیر نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں اپنے خلاف جاری ہونے والے وارنٹِ گرفتاری کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی یہ وضاحت کی کہ ان سے متعلق کون سی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔اداکارہ کا یہ اقدام اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ اپنے خلاف پھیلائی جانے والی جھوٹی خبروں اور الزام تراشیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں اور وہ ان کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں۔

  • طورخم سرحدی گزرگاہ 28 روز بعد پیدل آمدورفت کے لیے کھل گئی

    طورخم سرحدی گزرگاہ 28 روز بعد پیدل آمدورفت کے لیے کھل گئی

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان واقع طورخم سرحدی گزرگاہ 28 روز بعد دوبارہ پیدل آمدورفت کے لیے کھول دی گئی ہے۔ امیگریشن حکام کے مطابق طورخم پر پیدل آمدورفت کا آغاز ہو چکا ہے، اور اس وقت افغانستان جانے کے لیے متعدد افراد امیگریشن سیکشن میں موجود ہیں۔ تاہم، حکام نے واضح کیا ہے کہ صرف وہ مسافر جن کے پاس پاسپورٹ اور ویزہ موجود ہے، انہیں افغانستان جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    طورخم سرحد کے راستے روزانہ اوسطاً 10 ہزار افراد کی آمدورفت ہوتی ہے۔ یہ سرحد پاکستان اور افغانستان کے درمیان اہم تجارتی اور سفر کی گزرگاہ ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان روابط کی اہمیت مزید بڑھتی ہے۔21 فروری کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے سبب طورخم سرحد ہرقسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دی گئی تھی۔ تاہم، 3 روز قبل تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے لیے طورخم سرحد کو کھول دیا گیا تھا۔ اس دوران امیگریشن سسٹم کو فنی خرابی کا سامنا بھی تھا، جس کی وجہ سے پیدل آمدورفت کا عمل معطل ہو گیا تھا۔

    اس کشیدگی کے دوران، پاک افغان فورسز کے درمیان فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے، جس سے سرحدی گزرگاہ پر حالات مزید پیچیدہ ہو گئے تھے۔ تاہم اب حالات میں بہتری آنے کے بعد طورخم سرحدی گزرگاہ کو کھول دیا گیا ہے، جس سے لوگوں کو افغانستان جانے میں آسانی ہوگی۔

  • شہزادہ ولیم کی استونیا میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ ٹینک میں سواری

    شہزادہ ولیم کی استونیا میں برطانوی فوجیوں کے ساتھ ٹینک میں سواری

    استونیامیں نیٹو بیس کے دورے کے دوران، برطانیہ کے شہزادہ ولیم نے برطانوی فوجیوں کے ساتھ چیلنجر 2 ٹینک میں سفر کیا۔ یہ بیس روسی سرحد سے محض 100 میل کے فاصلے پر واقع ہے۔

    شہزادہ ولیم تاپا آرمی کیمپ میں کمانڈر کے ٹریٹ میں بیٹھے جب ٹینک کیچڑ بھرے میدان میں تیز رفتاری سے آگے بڑھا۔ اس موقع پر انہوں نے رجمنٹ کے فوجیوں کو تربیتی مشقوں میں حصہ لیتے ہوئے دیکھا۔مرکین رجمنٹ، جس کے وہ کرنل اِن چیف ہیں، نے حال ہی میں استونیا میں چھ ماہ کی تعیناتی شروع کی ہے، جہاں وہ نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ استونیامیں تعینات 900 برطانوی فوجی برطانیہ کی سب سے بڑی مستقل بیرونِ ملک تعیناتی کا حصہ ہیں۔شہزادہ ولیم نے فوجیوں کو خندقیں صاف کرنے کی مشق کرتے ہوئے دیکھا، جہاں دھوئیں کے گرنیڈ چھوڑے گئے اور مشقی گولیاں چلائی گئیں۔

    قبل ازیں، انہوں نے رائل ڈریگون گارڈز اور مرکین رجمنٹ کے درمیان آپریشنل ہینڈ اوور کی تقریب کی نگرانی کی، جہاں انہیں مختلف فوجی گاڑیاں دکھائی گئیں، جن میں وارئیر انفینٹری فائٹنگ وہیکل، چیلنجر 2 مین بیٹل ٹینک، اور ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹمز شامل تھے۔بعد میں انہیں آرچر نامی موبائل آرٹلری وہیکل چلانے کی بھی اجازت دی گئی، جو 50 کلومیٹر (31 میل) تک نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ فوجیوں سے بات چیت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا:”مجھے امید ہے کہ یہ تجربہ آپ سب کے لیے دلچسپی کا باعث ہوگا اور آپ کے حوصلے بلند رکھے گا۔”

    شہزادہ ولیم کا یہ دورہ برطانوی حکومت کی جانب سے دو روزہ سفارتی مشن کا حصہ تھا، جس کا مقصد استونیا، یوکرین، اور نیٹو کے لیے برطانیہ کی حمایت کا اظہار کرنا تھا۔یہ دورہ چھ ماہ سے منصوبہ بندی میں تھا، لیکن اس کی اہمیت موجودہ حالات میں مزید بڑھ گئی ہے، جہاں روس کی دھمکیوں، یوکرین-روس جنگ بندی پر مذاکرات، اور نیٹو پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید جیسے عوامل شامل ہیں۔

    مرکین رجمنٹ کے کمانڈر، لیفٹیننٹ کرنل گرانٹ براؤن نے کہا،”ہر ہفتے یہاں کچھ نیا ہو رہا ہوتا ہے۔ ہمارا کام اپنے اتحادیوں کو یقین دلانا ہے کہ ہم آزادی کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں، اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔”شہزادہ ولیم نے استونیا کے فوجیوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے روس کی قریبی موجودگی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا، جس پر شہزادے نے کہا،”ہاں، یہ واقعی فکر میں ڈالنے والی بات ہے۔”


    انہوں نے برطانوی فوجیوں سے بھی گفتگو کی اور ان کی تعیناتی کے تجربات اور ذہنی صحت پر اس کے اثرات پر تبادلہ خیال کیا۔ ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر بات کرنا اور ان کے گرد قائم سماجی رکاوٹوں کو ختم کرنا شہزادہ ولیم کے باضابطہ کاموں کا ایک اہم حصہ ہے۔

    برطانوی افواج کو استونیا اور پولینڈ میں آپریشن کیبریٹ کے تحت تعینات کیا گیا ہے، جو نیٹو کے فارورڈ لینڈ فورسز میں برطانیہ کی شراکت داری کا حصہ ہے، جس کا مقصد روسی جارحیت کو روکنا ہے۔یہ دورہ نہ صرف فوجیوں کا حوصلہ بلند کرنے کا موقع تھا، بلکہ اس کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ برطانیہ نیٹو اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر وقت تیارہے

  • اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان خشک سالی ، غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔شیری رحمان

    اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان خشک سالی ، غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔شیری رحمان

    پاکستان میں پانی کی شدید قلت کی صورتحال پر پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمٰان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر پانی کی شدید کمی کا شکار ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا۔ورلڈ واٹر ڈے کے موقع پر شیری رحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ اس دن کا مقصد لوگوں میں پانی کی اہمیت اور اس کے تحفظ کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پانی کی کمی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور پاکستان میں یہ مسئلہ انتہائی سنگین ہو چکا ہے۔تربیلا اور منگلا ڈیم کے پانی کی سطح بہت کم ہو چکی ہے اور چند دنوں میں یہ ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی کی شدید کمی ہوگی اور رواں ربیع سیزن کی فصلیں متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد کم بارشیں اور برف باری کی وجہ سے خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جو کہ ملکی زرعی پیداوار اور معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ٹیوب ویلز کے استعمال اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمارے زیرِ زمین پانی کے وسائل کی سطح ہر سال ایک میٹر نیچے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑھتی ہوئی آبادی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافے کا امکان ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان میں پانی کی کمی مزید سنگین ہو جائے گی۔ غیر پائیدار زرعی نظام اور دیگر اسباب کی وجہ سے بھی پانی کی طلب میں مزید اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فی کس پانی کا استعمال دیگر ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی بہت زیادہ ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان خشک سالی اور غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔

    شیری رحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پانی کے وسائل کے تحفظ کے لیے نیشنل ایڈاپٹیشن پلان، "لیونگ انڈس” اور "رین واٹر ہارویسٹنگ سسٹم” جیسے اہم منصوبوں پر فوری طور پر عمل درآمد کیا جائے تاکہ پانی کی کمی کے مسئلے پر قابو پایا جا سکے اور مستقبل میں اس بحران سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ہم سب پانی کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں تاکہ ہم اپنی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ ماحول چھوڑ سکیں۔

  • پنجاب کے مختلف شہروں سے 11 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب کے مختلف شہروں سے 11 دہشت گرد گرفتار

    محکمۂ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 166 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 11 دہشت گردوں کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    یہ کارروائیاں سرگودھا، راولپنڈی، پاک پتن، گجرات، چکوال، بہاولپور، بہاول نگر اور فیصل آباد میں کی گئیں، جن کے دوران متعدد دہشت گردوں کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق ان آپریشنز کے دوران میانوالی میں ٹی ٹی پی (تحریک طالبان پاکستان) کے ایک خطرناک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا، جو بارودی مواد سمیت پکڑا گیا۔ اس دہشت گرد کے قبضے سے دھماکا خیز مواد، ڈیٹونیٹرز، پمفلٹ، نقدی اور پرائمہ کارڈ بھی برآمد کیے گئے ہیں۔ترجمان سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت حیدر سلطان، ولی رحمٰن، زبیر، امین، اکبر، مقصود خان، عمیر، ظفر اقبال، ابراہیم قاسمی، محب اللّٰہ اور صدام حسین کے ناموں سے ہوئی ہے۔

    سی ٹی ڈی کی جانب سے یہ کارروائیاں دہشت گردوں کے منصوبوں کو ناکام بنانے اور عوامی تحفظ کے لیے کی گئی ہیں۔ ان کارروائیوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ادارے اپنی صلاحیتوں کو بڑھاتے ہوئے دہشت گردوں کی سرگرمیوں کا پتہ لگا رہے ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کر رہے ہیں۔یہ کامیاب آپریشنز اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں اور سیکورٹی ادارے اپنے فرائض کو بخوبی انجام دے رہے ہیں۔

  • ہیتھرو ایئرپورٹ کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

    ہیتھرو ایئرپورٹ کو جزوی طور پر کھول دیا گیا

    لندن کا ہیتھرو ایئرپورٹ، جو دنیا کے مصروف ترین ایئرپورٹس میں شمار ہوتا ہے، کو آگ لگنے کے بعد جزوی طور پر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔

    برطانوی میڈیا کے مطابق اس واقعے نے سفری سرگرمیوں میں شدید خلل ڈالا ہے، جس سے لاکھوں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ہیتھرو ایئرپورٹ کی بندش نے عالمی سطح پر پروازوں کے شیڈول میں تبدیلیاں پیدا کی ہیں، اور اس کی وجہ سے مسافروں کو نہ صرف تاخیر کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کچھ پروازیں بھی منسوخ ہو گئی ہیں۔ ایئرلائنز حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز ایئرپورٹ مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی توقع ہے، لیکن اس کے باوجود آنے والے دنوں میں اس بندش کا سنگین اثر دیکھنے کو ملے گا۔ڈاؤننگ اسٹریٹ کی طرف سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہیتھرو ایئرپورٹ کے ایک الیکٹریکل سب اسٹیشن میں آگ لگنے کی وجہ سے تقریباً 1,350 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں، اور لاکھوں مسافروں کا سفر متاثر ہوا۔ اس آگ نے ایئرپورٹ کے تمام آپریشنز کو شدید متاثر کیا تھا۔حکام نے اس منفرد نوعیت کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، اور انسداد دہشت گردی کی پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آگ لگنے کا واقعہ حادثاتی تھا یا اس کے پیچھے کوئی جان بوجھ کر کی گئی کارروائی تھی۔ یہ واقعہ لندن کے عوام اور دنیا بھر میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، اور ایئرپورٹ حکام نے کہا ہے کہ وہ تمام متاثرہ مسافروں کی مدد کے لیے بھرپور کوششیں کریں گے تاکہ ان کے سفر میں مزید مشکلات نہ آئیں۔

    مغربی لندن کے علاقے ہیز میں الیکٹرک سب سٹیشن میں جمعرات کو پہلے دو دھماکے سُنے گئے اور پھر وہاں آگ لگ گئی جس کے سبب تقریباً 5000 گھر بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ آتشزدگی کے باعث قریبی مکانات سے 150 افراد کو بھی کہیں اور منتقل کیا گیا ہے،لندن میٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے پر انسداد دہشتگردی کمانڈ کی سربراہی میں تحقیقات شروع کی گئی ہے تاہم اب تک کوئی ایسے شواہد نہیں ملے ہیں جن سے آگ لگنے کو دہشتگردی سے جوڑا جا سکے،پولیس ترجمان کے مطابق انسداد دہشتگردی کمانڈ کو اس لیے تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی کیونکہ یہ سب سٹیشن اہم جگہ پر واقع ہے اور اس واقعے کے اہم قومی انفراسٹرکچر پر سنگین اثرات مرتب ہوئے۔

    ہیتھرو ایئرپورٹ کا نام اکثر ایک مختلف مسئلے کی وجہ سے سرخیوں میں آتا ہے – تیسری رن وے کے بارے میں طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔ پارم جیت دھندا، جو کہ سابقہ لیبر ایم پی ہیں اور اب بیک ہیئتھرو کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، جو ایئرپورٹ کی توسیع کے لیے مہم چلا رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ تیسری رن وے کی اضافی صلاحیت اس بحران کی شدت کو کم کر سکتی تھی۔ان کا کہنا ہے، "ایسی صورتحال میں، جب ہمیں واقعی لوگوں کو واپس لانا ہے، اور ہم ایک بہت غیر متوقع حادثے سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو یہ سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ اگر ہمارے پاس اضافی صلاحیت ہوتی، تو تیسری رن وے اس میں اہم کردار ادا کرتی اور اس سطح کی صلاحیت میں زبردست بہتری آتی۔”

    ہیتھرو ایئرپورٹ کی بندش کے تخمینی اخراجات ملینز میں ہیں۔ ایئرپورٹ بحران کے مالی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے اسکوپ مارکیٹس کے چیف مارکیٹ اینالسٹ جوشوا مہونی نے اسکائی نیوز بزنس لائیو کو بتایا کہ آئی اے جی، جو کہ برٹش ایئر ویز کی مدرکمپنی ہے، ان کمپنیوں میں شامل ہے جو اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔انہوں نے کہا، "برٹش ایئر ویز جیسے ایئر لائنز ہیتھرو کو اپنے مرکزی مرکز کے طور پر استعمال کرتی ہیں، لہذا انہیں ریان ایئر اور کچھ کم لاگت والی ایئر لائنز کے مقابلے میں زیادہ نقصان ہو گا،

    مسافر کی کہانی: "میں ٹورنٹو میں پھنس گئی ہوں، ساتھ میں سات ماہ کا بچہ ہے”

    آقیلہ جو ٹورنٹو میں اپنے سات ماہ کے بچے کے ساتھ پھنس گئی ہیں۔آقیلہ نے بتایا، "ہم لندن ہیتھرو واپس جا رہے تھے اور اٹلانٹک کے بیچ میں پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہم واپس جا رہے ہیں۔ سات گھنٹوں کی پرواز ہمارے لیے ایک ہلچل بن گئی اور ہم نے چودہ گھنٹے جہاز میں گزارے۔”آقیلہ کو اب ایک رات کے لیے ہوٹل میں قیام کی پیشکش کی گئی ہے، لیکن ان کی ایئر لائن نے ان کی کالز کسٹمر سروس کو ری ڈائریکٹ کر دی ہیں۔ "میں ایک گھنٹے سے فون پر ہوں، لیکن کوئی جواب نہیں آ رہا۔”

    ہیتھرو ایئرپورٹ کی بندش کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہوئے میٹروپولیٹن پولیس نے اس آگ کی تحقیقات کے بارے میں اپنا بیان جاری کیا ہے۔ کمانڈر سائمن میسنجر، جو کہ پولیس کی تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ "ہم ابتدائی طور پر اس واقعے کو مشتبہ نہیں سمجھ رہے ہیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، "چونکہ اس سب سٹیشن کا مقام اور اس واقعے کا اثر اہم قومی انفراسٹرکچر پر پڑا ہے، اس لیے میٹ پولیس کا کاؤنٹر ٹیررازم کمانڈ اس تحقیق کی قیادت کر رہا ہے۔”

    ہیتھرو میں بجلی کی فراہمی: پروازوں کو دوبارہ شروع ہونے میں کیوں وقت لگا؟
    ہیتھرو ایئرپورٹ کے چیف ایگزیکٹیو نے کچھ دیر پہلے بتایا کہ ایئرپورٹ کو بجلی فراہم کرنے والے تین سب سٹیشنوں میں سے دو اب بھی کام کر رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ صلاحیت ایئرپورٹ کی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔تھامس وولڈبائے، ہیتھرو کے چیف ایگزیکٹیو، کا کہنا تھا، "ہم بجلی سے باہر نہیں ہیں، لیکن ہمیں اپنے بجلی کے نظام کو دوبارہ ترتیب دینا پڑا۔ اس کے لیے ہمیں کچھ نظاموں کو بند کرنا پڑا تاکہ یہ یقینی بن سکے کہ ہم محفوظ طریقے سے کام کر سکیں۔”پھر جب دوپہر کے بعد کچھ بجلی بحال ہو گئی، تو کیوں ہیتھرو ایئرپورٹ تیزی سے کام شروع نہ کر سکا؟ ایک سابق سینئر انجینئر نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ "ہیتھرو کو متعدد ذرائع سے طاقت فراہم کرنے والا ایک لچکدار بجلی کا نظام ہے۔ ایک بار جب بجلی کی کمی کا پتہ چلا، ایئرپورٹ کے کنٹرول انجینئرز نے صبح سے ہی نیٹ ورک کی ترتیب دینے پر کام کیا تھا تاکہ سپلائیز بحال کی جا سکیں۔”

    یہ آگ ایک بڑا بحران بنی، جس کے نتیجے میں ایک دن میں ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو گئیں، کئی پروازیں عالمی سطح پر ری روٹ ہو گئیں، اور 200,000 مسافر متاثر ہو گئے۔

  • نائجر: مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں 44 افراد جاں بحق، 13 زخمی

    نائجر: مسجد پر دہشت گردوں کے حملے میں 44 افراد جاں بحق، 13 زخمی

    افریقی ملک نائجر کے دیہی قصبے کوکورو میں جمعہ کے روز دہشت گردوں نے مسجد پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 44 افراد جاں بحق اور 13 افراد شدید زخمی ہوگئے ہیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ حملہ دوپہر کے وقت اس وقت کیا گیا جب لوگ مسجد میں نماز جمعہ ادا کر رہے تھے۔وزارت داخلہ کے مطابق حملہ آوروں نے مسجد کو گھیر کر اندر نماز پڑھنے والے افراد کو نشانہ بنایا۔ اس دوران دہشت گردوں نے مقامی بازار اور گھروں کو بھی آگ لگا دی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔حملے میں 44 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے، جبکہ زخمی ہونے والوں میں سے بعض کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

    نائجر کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔نائجر کی حکومت نے اس حملے کے بعد تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ حکام نے حملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اضافی فورسز بھی بھیجی گئی ہیں۔

    یہ حملہ نائجر میں دہشت گرد گروپوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کا حصہ ہے، جو اس علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں۔ عالمی برادری نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور نائجر کی حکومت کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔

  • ایلون مسک کا پینٹاگون کا دورہ، چین کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،ٹرمپ

    ایلون مسک کا پینٹاگون کا دورہ، چین کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایلون مسک کو چین کی جنگی منصوبہ بندی پر بریفنگ نہیں دی گئی،

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کی تردید کی کہ (DOGE) کے سربراہ اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک کو پینٹاگون میں امریکی فوج کے چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے خفیہ منصوبے پر بریفنگ دی جائے گی۔ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں نہیں چاہتا کہ کوئی بھی ممکنہ جنگ کے بارے میں جانے۔”ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کے دوران کہا: "میں کسی کو بھی یہ دکھانا نہیں چاہتا۔ آپ ایک ممکنہ جنگ کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ہم چین کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، لیکن میں آپ کو بتا سکتا ہوں، اگر ایسا ہوا تو ہم اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔”

    ایلون مسک نے آج پینٹاگون میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات کی، لیکن نہ تو مسک اور نہ ہی ہیگستھ نے اس بات کی تصدیق کی کہ آیا چین سے متعلق کوئی گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں، ہیگستھ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اس ملاقات کو "شاندار” قرار دیا، مگر مزید تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔

    یاد رہے کہ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک کے پاس ٹاپ سیکرٹ سیکیورٹی کلیئرنس موجود ہے اور وہ ٹرمپ انتظامیہ میں ایک خصوصی سرکاری ملازم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، امریکی حکومت کے خفیہ معلومات کے اصولوں کے مطابق، کسی بھی فرد کو معلومات تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ‘جاننے کی ضرورت’ (Need to Know) کا جواز درکار ہوتا ہے۔

    ٹرمپ نے جمعہ کے روز اس بات کا اعتراف کیا کہ مسک کے چین میں کاروباری مفادات ہیں، جو کہ ممکنہ جنگی منصوبوں سے آگاہی کی صورت میں مفادات کا ٹکراؤ پیدا کر سکتے ہیں۔”میں یہ کسی کو بھی دکھانا نہیں چاہتا – لیکن خاص طور پر ایک ایسے کاروباری شخص کو نہیں جو ہماری اتنی مدد کر رہا ہے،” ٹرمپ نے کہا۔ "آپ جانتے ہیں، ایلون کے چین میں کاروباری مفادات ہیں، اور وہ اس معاملے میں حساس ہو سکتے ہیں – لیکن یہ ایک جعلی خبر تھی۔”

    ایلون مسک کی پینٹاگون میں ملاقاتیں اب مکمل ہو چکی ہیں۔ وہ صبح 9 بجے سینئر پینٹاگون قیادت کے ساتھ ملاقات کے لیے پہنچے اور 10:21 پر سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے دفتر سے باہر نکلے۔سی این این کے رپورٹر کے سوال کے جواب میں کہ ملاقات کیسی رہی، مسک نے کہا: "ہمیشہ کی طرح ایک بہترین ملاقات تھی۔” انہوں نے مزید کہا، "میں پہلے بھی یہاں آ چکا ہوں،” اور پھر ہیگستھ کے ساتھ قہقہہ لگاتے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے اترے۔پینٹاگون کے باہر، مسک اور ہیگستھ نے ایک دوسرے سے مصافحہ کیا، جہاں مسک نے کہا: "اگر میں کسی بھی طرح سے مدد کر سکتا ہوں تو مجھے ضرور بتائیں۔” انہوں نے ہیگستھ سے کہا کہ وہ "واقعی ایک اچھے نتیجے کے خواہاں ہیں۔”

    یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب نیویارک ٹائمز نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ مسک کو امریکی فوج کے چین کے ساتھ ممکنہ جنگ کے منصوبے پر بریفنگ دی جائے گی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رات گئے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں اس خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "چین کا ذکر تک نہیں ہوگا۔”ہیگستھ اور مسک سے جب پوچھا گیا کہ آیا ان کی ملاقات میں چین کے متعلق کوئی بات ہوئی یا یہ کوئی خفیہ بریفنگ تھی، تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نیویارک ٹائمز کے ایک رپورٹر نے مسک کی روانگی کے بعد جب ہیگستھ سے سوال کیا کہ ان کی گفتگو کا موضوع کیا تھا، تو انہوں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، "میں آپ کو کیوں بتاؤں؟” اور اندر چلے گئے۔

    ماہرین کے مطابق، امریکی فوج مختلف سطحوں پر جنگی منصوبے تیار کرتی ہے، جن میں سے کچھ انتہائی خفیہ "کوڈ ورڈ” کلیئرنس کے تحت ہوتے ہیں، جو حساس ذرائع اور طریقہ کار پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کم حساس نوعیت کی بریفنگز بھی تیار کی جاتی ہیں، جن میں اعلیٰ درجہ کی خفیہ معلومات شامل نہیں ہوتیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ مسک کو کس سطح کی بریفنگ دی گئی۔

    چین کی وزارت خارجہ نے جمعہ کے روز اس خبر پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ ایلون مسک کو امریکی فوج کے چین کے ساتھ ممکنہ جنگی منصوبے پر بریفنگ دی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نِنگ نے ایک بریفنگ کے دوران کہا: "مجھے اس حوالے سے کسی اطلاع کا علم نہیں ہے۔”