Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یونان کشتی حادثہ  میں ملوث بدنام زمانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 2 ملزمان گرفتار

    یونان کشتی حادثہ میں ملوث بدنام زمانہ گینگ کے سرغنہ سمیت 2 ملزمان گرفتار

    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی اینٹی منی لانڈرنگ ٹیم نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں بدنام زمانہ گینگ کا سرغنہ مشتاق احمد اور اس کا ساتھی محمد توصیف شامل ہیں۔

    ملزمان کو منڈی بہاؤالدین اور میانوالی سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر الزام ہے کہ یہ غیر قانونی طریقے سے شہریوں کو یورپ اور خاص طور پر لیبیا سے یونان منتقل کرتے تھے، جہاں ایک المناک کشتی حادثہ پیش آیا تھا۔مشتاق احمد پر الزام ہے کہ وہ 2024 میں یونان کے قریب ہونے والے کشتی حادثے میں ملوث تھا، جس میں کئی انسانی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔ اس حادثے میں انسانی سمگلنگ کی غیر قانونی سرگرمیوں کا بڑا ہاتھ تھا۔گرفتار ملزمان کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتاق احمد اور محمد توصیف انسانی سمگلنگ کے ذریعے حاصل شدہ رقم مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کرتے تھے۔ یہ ملزمان نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی سمگلنگ کے گینگ کے ساتھ رابطے میں تھے اور مختلف طریقوں سے پیسے منتقل کرتے تھے۔

    مشتاق احمد سال 2023 سے اشتہاری تھا اور اس کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔ اس کے خلاف کمپوزٹ سرکل سرگودھا میں بھی انسانی سمگلنگ کے مقدمات درج ہیں۔ تفتیشی ٹیم کے مطابق مشتاق احمد کا بھائی اور بھابھی پہلے ہی انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مشتاق احمد کے دیگر قریبی رشتہ دار بھی انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ اس کے دیگر ساتھی، جن میں یاسر بلال، مختار اور محمد نواز شامل ہیں، کے خلاف بھی سال 2023 اور 2025 میں متعدد مقدمات درج ہیں۔ایف آئی اے نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔ایف آئی اے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی انسانی سمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے پاکستان کو ان غیر قانونی سرگرمیوں سے پاک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • ایلون مسک کی اسٹارلنک کو پاکستان میں این او سی   جاری کرنے کی منظوری

    ایلون مسک کی اسٹارلنک کو پاکستان میں این او سی جاری کرنے کی منظوری

    اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے بانی، ایلون مسک کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کے پاکستان میں آپریشنز کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ نے اسٹارلنک کو این او سی جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

    اس پیشرفت کے بعد، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذریعے اسٹارلنک کو لائسنس جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جس سے پاکستان میں اس کی آپریشنز کے آغاز کا امکان مزید روشن ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، پی ٹی اے اسٹارلنک کو لائسنس جاری کرنے کے لیے تقریباً 4 ہفتے کا وقت لے سکتا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے اسٹارلنک کو ایک رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد کمپنی پاکستان میں اپنی سروسز فراہم کرنے کے لیے آپریشنز شروع کر سکے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک کو لائسنس ملنے کے بعد اسے پاکستان میں آپریٹ کرنے کے لیے کم سے کم ایک سال کا وقت درکار ہوگا۔ سیٹلائٹ سروس پرووائیڈر کے لیے اسپیس ایکٹیویٹی ریگولیٹری بورڈ سے کلیئرنس حاصل کرنا ایک ضروری شرط تھی، جو اب پوری ہو چکی ہے۔

    وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اور ریگولیٹری اداروں کی مشاورت سے اسٹارلنک کو پاکستان میں آپریشن شروع کرنے کے لیے عارضی این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) جاری کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قدم پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے باقاعدہ آغاز کی راہ ہموار کرے گا۔وفاقی وزیر نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ سائبر کرائم ایجنسی، سیکیورٹی ایجنسیز، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور اسپیس اتھارٹی نے اس عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں اسٹارلنک کی آمد سے پاکستان میں جدید سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہو گی۔شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ وزیرِاعظم کی ہدایت پر اسٹارلنک کی رجسٹریشن کو یقینی بنایا گیا۔ انھوں نے کہا کہ وزیرِاعظم کا یہ واضح پیغام تھا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کے نظام کو جدید بنایا جائے اور اسے عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جائے تاکہ عوام کو بہتر سروس فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی اے اسٹارلنک کی فیس ادائیگی اور دیگر لائسنسنگ ضروریات کو مکمل کرے گا تاکہ کمپنی پاکستان میں اپنی سروسز فراہم کر سکے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی منظوری پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گی، جو ملک میں انٹرنیٹ کی سہولت کو بہتر بنانے اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔

    پاکستان میں اسٹارلنک کی آمد کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو نہ صرف پاکستان کی ٹیکنالوجی کی صنعت کو ترقی دے گا بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی انٹرنیٹ کی بہتر سروس فراہم کرے گا۔

  • پشاور ہائیکورٹ ،فوجی عدالتوں سے سزاکیخلاف تمام درخواستیں خارج

    پشاور ہائیکورٹ ،فوجی عدالتوں سے سزاکیخلاف تمام درخواستیں خارج

    پشاورہائیکورٹ نے فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف تمام درخواستیں خارج کردی ہیں

    ملٹری کورٹ کی سزاؤں کے خلاف دائر 29 رٹ درخواستوں پر سماعت پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کی عدالت نے تمام 29 رٹ درخواستیں خارج کردیں۔پشاورہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملٹری کورٹ سے سزا یافتہ ملزمان کی سزا اس وقت سے شمار ہوگی جس وقت ان کی سزاؤں پر فیلڈ جنرل کورٹ مارشل دستخط کرے گا،دورانِ سماعت عدالت میں درخواست گزاروں کے وکلا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثنااللہ اور عدالتی معاون شمائل احمد بٹ پیش ہوئے۔ وکیل نے دلائل میں کہا کہ گرفتار ملزمان کو ملٹری کورٹس نے مختلف نوعیت کی سزائیں دی ہیں، ملزمان اپنی سزائیں پوری کرچکے ہیں، اب انہیں رہا نہیں کیا جا رہا،قانون کے تحت دوران حراست گزارا گیا عرصہ بھی قید میں شمار کیا جاتا ہے۔

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ سزائیں خصوصی قانون کے تحت دی جائیں ان میں 382 بی کا فائدہ ملزمان کو نہیں دیا جاتا،گرفتار ملزمان دہشت گرد ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں،کورٹ کے لارجر بینچ اور پشاور ہائیکورٹ کے ایک بینچ نے بھی قرار دیا ہے کہ اسپیشل قوانین کے تحت دی گئی سزاؤں میں 382 بی کا فائدہ نہیں مل سکتا،سزائیں اسی وقت شمار ہوں گی جس وقت ان ملزمان کی سزاؤں پر دستخط ہوگا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے دی گئی سزائیں خصوصی قانون کے دائرہ میں آتی ہیں،ملٹری کورٹ کے قوانین میں ہائیکورٹ صرف یہ دیکھتی ہے کہ جو سزا دی گئی ہے وہ ان سیکشن کے تحت دی گئی ہیں یا نہیں، درخواست گزاروں کو دی گئی سزا آرمی ایکٹ کے تحت دی گئی ہے ، یہ دستخط کے دن سے ہی شمار ہوگی۔ خصوصی قانون کے تحت سزا یافتہ ملزمان 382 بی کا فائدہ حاصل کرنے کے حقدار نہیں،بعد ازاں عدالت نے تمام درخواستیں خارج کردیں۔

  • پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز

    پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز

    پاراچنار ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی (PAA) اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی مشترکہ ٹیم نے پاراچنار ایئرپورٹ کا دورہ مکمل کیا ہے۔ یہ دورہ پاراچنار ایئرپورٹ پر تجارتی اور امدادی پروازوں کی بحالی کے امکانات اور ممکنہ اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے کیا گیا۔

    جوائنٹ بورڈ آف آفیسرز نے ایئرپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، تکنیکی پہلوؤں اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس جائزے میں ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ، رن وے، فائر گیراجز، پی اے اے کی رہائش گاہ، جنریٹر روم اور دیگر آپریشنل سہولتوں کا معائنہ شامل تھا۔معائنے کے بعد ٹیم کے ارکان نے ڈپٹی کمشنر پاراچنار سے بھی ملاقات کی، جس میں پاراچنار ایئرپورٹ پر آپریشنز کی بحالی کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ ایئرپورٹ کی دوبارہ فعالیت سے نہ صرف تجارتی پروازوں کے آپریشنز میں بہتری آئے گی بلکہ امدادی پروازوں کے لئے بھی یہ ایئرپورٹ ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل وزارت دفاع کی ہدایت پر پی اے اے اور پی آئی اے کے ارکان پر مشتمل آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کا مقصد پاراچنار ایئرپورٹ کی بحالی اور اس کی آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لینا تھا۔یہ اقدامات پاراچنار کے عوام کے لیے اہم ہیں، کیونکہ ایئرپورٹ کی فعالیت سے علاقے میں سفری سہولتیں بہتر ہوں گی اور کاروباری اور انسانی امداد کے لئے نئی راہیں کھلیں گی۔

  • نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے یومِ پاکستان کی تقریب

    نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے یومِ پاکستان کی تقریب

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے یومِ پاکستان کی مناسبت سے ایک شاندار تقریب کا انعقاد کیا، جس میں سیاسی شخصیات، سفارتکاروں، تاجروں، میڈیا کے نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

    تقریب کی میزبانی نئی دہلی میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن نے کی، اور اس میں معزز مہمانوں کا استقبال چانسری کے لان میں چارج ڈی افیئرز نے کیا۔ اس موقع پر یومِ پاکستان کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور پاکستانی قوم کی تاریخ اور قربانیوں کو سراہا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناظم الامور نے کہا کہ 23 مارچ 1940ء کی لاہور کی قرارداد برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک اہم سنگ میل تھی اور پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی متحرک اور ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان کے قیام کا خواب حقیقت بنا، جو کہ ایک پرامن اور جمہوری جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ ناظم الامور نے یہ بھی کہا کہ ہمارے متحرک نوجوان، سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا نے قوم کے عزائم کو تقویت دی ہے، اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    پاکستان کے نائب ہائی کمشنر سعید احمد وڑائچ نے یومِ پاکستان کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی عالمی امن و سلامتی، اجتماعی فلاح و بہبود اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ برابری، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر بنیاد رکھتے ہوئے دیگر ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

    یومِ پاکستان کی اس تقریب میں پاکستانی ثقافت کو نمایاں کرنے کے لیے مختلف قسم کے دلکش رنگوں، فنون، اور ورثے کی عکاسی کرنے والے فن پارے بھی پیش کئے گئے۔ پاکستانی فنکاروں نے اپنے شاندار کام کے ذریعے پاکستانی ثقافت کی جاذبیت کو دنیا کے سامنے پیش کیا، جس سے تقریب کو ایک منفرد رنگ و روپ ملا۔

  • صدر مملکت کایوم پاکستان، عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں کمی کا اعلان

    صدر مملکت کایوم پاکستان، عید کے موقع پر قیدیوں کی سزا میں کمی کا اعلان

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے یومِ پاکستان اور عید الفطر کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں 180 روز کی خصوصی چھوٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ یہ چھوٹ آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت دی گئی ہے، جس کے مطابق صدر مملکت کو قیدیوں کی سزاؤں میں کمی کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

    اس خصوصی چھوٹ کا اطلاق صرف ان قیدیوں پر ہوگا جو مختلف نوعیت کی معمولی نوعیت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ تاہم، اس چھوٹ کا اطلاق ان قیدیوں پر نہیں ہوگا جو سنگین جرائم جیسے قتل، جاسوسی، اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ علاوہ ازیں، ان قیدیوں پر بھی یہ رعایت نہیں دی جائے گی جنہوں نے زنا، چوری، ڈکیتی، اغواء اور دہشت گردی جیسے سنگین جرائم کی سزا کاٹی ہے۔اس کے علاوہ، سزاؤں میں کمی کا اطلاق مالی جرائم، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے مجرموں اور غیر ملکی افراد ایکٹ 1946 اور منشیات کنٹرول (ترمیمی) ایکٹ 2022 کے تحت سزا یافتہ افراد پر بھی نہیں ہوگا۔

    تاہم، اس رعایت کا فائدہ ان قیدیوں کو ہوگا جو ایک تہائی سزا کاٹ چکے ہیں، خاص طور پر وہ 65 سال سے زائد عمر کے مرد قیدی اور 60 سال سے زائد عمر کی خواتین قیدی ہوں گے۔ اس کے علاوہ، بچوں کے ساتھ جیل میں موجود خواتین قیدی اور 18 سال سے کم عمر کے افراد جنہوں نے ایک تہائی سزا مکمل کی ہو، وہ بھی اس رعایت سے مستفید ہوں گے۔صدر آصف علی زرداری کی جانب سے یہ قدم ملک میں قیدیوں کی حالت کو بہتر بنانے اور انسانی ہمدردی کے تحت ایک مثبت اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا 1700 یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ

    وفاقی حکومت کا 1700 یوٹیلیٹی اسٹورز بند کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے نجکاری منصوبے کے تحت ملک بھر میں چلنے والے نقصان میں 1700 یوٹیلیٹی اسٹورز کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس بات کا انکشاف سینیٹر عون عباس کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں سامنے آیا، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے مستقبل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز حکومت کی نجکاری کی فہرست میں شامل ہیں، لیکن دو سالہ آڈٹ کی عدم تکمیل کی وجہ سے نجکاری کا عمل تاخیر کا شکار ہو گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ آڈٹ اگست 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں اس وقت 3200 سے زائد یوٹیلیٹی اسٹورز موجود ہیں، جن میں سے 1700 اسٹورز نقصانات میں چل رہے ہیں اور انہیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نجکاری کے عمل کے بعد صرف 1500 اسٹورز کے لیے عملے کی ضرورت ہوگی، جبکہ باقی ملازمین کو سرپلس پول میں منتقل کر دیا جائے گا۔یوٹیلیٹی اسٹورز کے 5000 ملازمین ریگولر بنیادوں پر کام کر رہے ہیں، جبکہ تقریباً 6000 ملازمین کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر ہیں۔ حکام کے مطابق، مستقل ملازمین کو سرپلس پول میں شامل کیا جائے گا، تاہم کنٹریکٹ اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین کو کوئی پیکج نہیں دیا جائے گا اور انہیں نجکاری کے بعد فارغ کر دیا جائے گا۔

    بریفنگ کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کا ماہانہ خرچ ایک ارب 2 کروڑ روپے تھا، لیکن نقصان میں چلنے والے اسٹورز کو بند کرنے کے بعد یہ خرچ کم ہو کر 52 کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ایک ماہ میں نقصانات میں 22 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی ہے، اور مجموعی نقصان 17 کروڑ روپے کم ہو کر 50 کروڑ روپے تک آ گیا ہے۔

    یہ اقدامات حکومت کی جانب سے مالی مشکلات کے حل اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے بہتر انتظام کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاکہ ادارے کے نقصانات کو کم کیا جا سکے اور نجکاری کے عمل کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

  • ایئر انڈیا کی پرواز میں دوران سفر مسافر کی موت

    ایئر انڈیا کی پرواز میں دوران سفر مسافر کی موت

    بھارتی ایئر لائن کی نئی دہلی سے لکھنؤ جانے والی پرواز کے دوران ایک مسافر کی اچانک موت واقع ہو گئی، جس کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔

    ایئر انڈیا کی پرواز AI2845 میں ایک مردہ مسافر کی موجودگی کی اطلاع ملی ہے، جس کی شناخت آصف اللّٰہ انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پرواز لکھنؤ کے چوہدری چرن سنگھ ایئر پورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔جہاز کے عملے نے مسافر کو بے ہوشی کی حالت میں پایا، اور فوری طور پر پرواز میں موجود ڈاکٹروں نے اس کا معائنہ کیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے اس شخص کو مردہ قرار دے دیا گیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور پوسٹ مارٹم کے بعد موت کی اصل وجہ کا پتا چل سکے گا۔ ذرائع کے مطابق، مسافر کی سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اس کی موت دورانِ پرواز ہوئی ہے۔پولیس نے مزید کہا کہ تحقیقات میں اس بات کی تفصیل سامنے آئے گی کہ آیا مسافر کو کسی بیماری کا سامنا تھا یا کسی اور وجہ سے اس کی موت ہوئی۔ اس واقعہ نے ایئر لائن کے مسافروں کے درمیان تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور عوام اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ تحقیقات کے بعد اصل حقیقت سامنے آئے۔

  • صحافی فرحان ملک  4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    صحافی فرحان ملک 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے

    کراچی: کراچی کی عدالت نے صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی) کے حوالے کر دیا ہے اور ان کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ یہ پیشی کراچی میں واقع جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ہوئی، جہاں ایف آئی اے نے صحافی کو پیش کیا۔

    ایف آئی اے کی درخواست پر عدالت نے فرحان ملک کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔فرحان ملک کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کے خلاف پہلے سے کئی انکوائریز چل رہی تھیں اور سندھ ہائی کورٹ نے ان انکوائریوں پر کارروائی نہ کرنے کے احکامات جاری کر رکھے تھے۔ وکیل نے مزید کہا کہ ایف آئی اے نے سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے موکل کے خلاف کارروائی کی ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز، نجی چینل کے سابق ڈائریکٹر نیوز،رفتار کےمالک صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی کی ٹیم نے گرفتار کر لیا تھا۔ ان کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے انکوائری جاری تھی اور انہیں جمعرات کو ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی میں بیان دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر سائبر کرائم کے احکامات پر سب انسپکٹر ذیشان نے مقدمہ نمبر 25/25 درج کیا اور فرحان ملک کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔

    اس گرفتاری کے بعد، میڈیا میں اس معاملے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، اور صحافی برادری نے اس کارروائی کو غیر ضروری اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ صحافی برادری نے واقعہ کی مذمت کی ہے.

  • لاپتہ افراد کیس، عدالت کی درخواست گزار کو تفتیشی سے تعاون کی ہدایت

    لاپتہ افراد کیس، عدالت کی درخواست گزار کو تفتیشی سے تعاون کی ہدایت

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے تین لاپتہ شہریوں کی گمشدگی کے حوالے سے درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار کو تفتیشی افسر سے تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس معاملے میں سنجیدہ تفتیش کی جا سکے۔

    سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ لاپتہ شہریوں کے فراہم کردہ موبائل فونز کی آخری لوکیشن لاڑکانہ سے ملی ہے۔ تاہم، عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ کیا ان افراد کا کسی مخصوص تنظیم سے تعلق ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ ابھی تک ان افراد کی گمشدگی کی ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی؟ اور ان تینوں افراد کا آپس میں کیا تعلق ہے؟درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان افراد کا کسی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تینوں افراد میں سے ایک شاہجہاں کا بیٹا ہے اور باقی دو اس کے دوست ہیں۔

    عدالت نے سوال کیا کہ صرف شاہجہاں نے ہی درخواست کیوں دائر کی؟ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ شاہجہاں کے رشتہ دار بھی عدالت میں موجود ہیں اور یہ افراد بنوں سے کسی ملاقات کے لیے آئے تھے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ یہ افراد کراچی نہیں آئے اور ان کی لوکیشن لاڑکانہ کی ہے۔ تاہم، عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا کہ تفتیشی افسر نے عدالت میں غلط بیانی کی ہے، کیونکہ ریکارڈ بتا رہا تھا کہ یہ افراد لاڑکانہ ہی گئے تھے۔سماعت کے دوران عدالت نے مزید کہا کہ ممکن ہے یہ کیس ہنی ٹریپ سے متعلق ہو، اور درخواست گزار سے کہا کہ وہ تفتیشی افسر کے ساتھ تعاون کریں تاکہ اس معاملے کی سنجیدگی سے تفتیش کی جا سکے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔