Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شان رسالت ﷺ میں گستاخی دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ سیف اللہ قصوری

    شان رسالت ﷺ میں گستاخی دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔ سیف اللہ قصوری

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخیاں روکنے کیلئے مسلم دنیا اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کیلئے پاکستان سمیت تمام مسلمان ملکوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے. پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو ایسے قوانین بنانے چاہیے جن کے تحت گستاخانہ مواد پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی ممکن ہو سکے۔شان رسالت ﷺ میں گستاخی کرنا دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے۔

    اسلامو فوبیا کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام یوم تحفظ ناموس رسالت منایا گیا، اس ضمن میں سحر و افطار کے موقع پر لاہور،کراچی،پشاور،کوئٹہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں یوم تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے کانفرنسز و سیمینارز کا انعقاد کیا گیا جن میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی. کانفرنسز و سیمینارز سے مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری، نائب صدر حافظ عبدالرؤف،ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ،صدر پنجاب چوہدری محمد سرور ،مرکزی ترجمان تابش قیوم و دیگر نے خطاب کیا.مقررین نے اسلامو فوبیا کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور گستاخانہ حرکات کی روک تھام کے لیے عالم اسلام کو متحد ہونے کی تلقین کی۔

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین کو جرم قرار دیا جا سکے،مسلمان اپنی دینی غیرت کا عملی مظاہرہ کریں اور اتحاد و یگانگت کے ذریعے اپنی آواز بلند کریں۔نبی اکرمﷺ کی حرمت کادفاع پورے اسلام کا دفاع کرنا ہے۔ حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کیلیے ہر مسلمان کو بڑھ چڑھ کر کردار اداکرنا چاہیے۔

    حافظ عبدالرؤف،حافظ خالد نیک،قاری محمد یعقوب شیخ،چوہدری محمد سرور،تابش قیوم و دیگر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی،نفرت انگیز مواد کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔یوم تحفظ ناموس رسالت کا مقصد مسلمانوں میں شعور بیدار کرنا اور دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کفر سے بڑا جرم ہے جسے آسمان سے بھی معاف نہیں کیا گیا۔دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ مسلمانوں کے لیے ناموس رسالت ریڈ لائن ہے۔

  • معیشت مضبوط نہ ہو تو روٹی نہیں ملتی، دفاع مضبوط نہ ہو تو عزت بھی نہیں بچتی،حنیف عباسی

    معیشت مضبوط نہ ہو تو روٹی نہیں ملتی، دفاع مضبوط نہ ہو تو عزت بھی نہیں بچتی،حنیف عباسی

    وفاقی وزیر ریلوے، مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی نے جعفر ایکسپریس سانحے اور حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ "پولیس کانسٹیبل اور مکینیکل ریلوے ملازم کی شہادت کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی، ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔” انہوں نے کہا کہ شہیدوں کے لواحقین کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا، اور ان کے بچوں کو ریلوے میں ملازمت دی جائے گی۔

    حنیف عباسی نے مزید کہا کہ "سانحہ کوئٹہ میں شہید ہونے والے افراد کے لواحقین کو باون لاکھ روپے دیے جائیں گے، اور ان کے بچوں کو ریلوے میں بھرتی کروایا جائے گا تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ریلوے پولیس کے کانسٹیبل کا سکیل پنجاب پولیس کے برابر کر دیا گیا ہے، اور اب ریلوے پولیس کا سکیل سات اے ایس آئی گیارہ میں ہوگا۔”

    حنیف عباسی نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جعفر ایکسپریس کا سانحہ ایک سنگین واقعہ تھا، جس میں خواتین، بچے اور عید کی تعطیلات منانے والے افراد سفر کر رہے تھے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا تیسرا بڑا دہشت گردی کا واقعہ تھا، اور ہمیں اس پر ایک مضبوط موقف اپنانا ہوگا۔”انہوں نے کہا کہ "پاکستان ایٹمی ملک ہے اور اس کی قوت عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے۔ ہماری دشمن قوتیں ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، خاص طور پر سی پیک کی کامیابی سے ان کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہمیں اس کی تکمیل کے لیے کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرنا ہوگا۔”

    حنیف عباسی نے افغانستان میں بھارتی اثرات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ "بھارتی قونصل خانہ کھولنے کا مقصد علاقے میں مزید عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔ اگر علاقے کا شیر ہے تو اسے براہ راست لڑنا چاہیے، لیکن جب وہ لڑ نہیں سکتا تو ایسی بزدلانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔”انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے اپنے لوگ سہولت کار بنے ہوئے ہیں، اور ہمیں ان کا مکمل تعاقب کرنا ہوگا۔”حنیف عباسی نے پاکستان کی معیشت اور دفاع پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ "معیشت مضبوط نہ ہو تو روٹی نہیں ملتی، اور دفاع مضبوط نہ ہو تو عزت بھی نہیں بچتی۔ پاکستان کے دشمنوں نے عراق، شام اور لیبیا کی طرح پاکستان کو بھی کمزور کرنے کی سازش تیار کی ہے، لیکن ہمیں اس سازش کو ناکام بنانا ہوگا۔”

    حنیف عباسی نے کہا کہ "ریلوے کے بہت سے مسائل ہیں، لیکن ہم اسے سرسبز اور ترقی یافتہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہم ریلوے کی صفائی، شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنائیں گے۔ ریلوے پولیس کی نفری اور انفراسٹرکچر کی حالت پر کام کریں گے اور اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کریں گے۔”انہوں نے کہا کہ "وزیر اعظم، چیف آف آرمی سٹاف اور وزیر اعلیٰ بلوچستان کے تعاون سے ہم بلوچستان کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائیں گے۔”حنیف عباسی نے آخر میں کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہو جائیں۔ ہمیں اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا۔”انہوں نے کہا کہ "ہمیں اپنے دشمنوں کے سامنے ایک مضبوط اور یکجہتی والا پاکستان بننا ہوگا تاکہ ہم ان کی سازشوں کو ناکام بنا سکیں۔”

  • گلوکارہ نصیبو لال بھی شوہر سے” پٹ” گئی، مقدمہ درج

    گلوکارہ نصیبو لال بھی شوہر سے” پٹ” گئی، مقدمہ درج

    معروف گلوکارہ نصیبو لال پر شوہر کا تشدد،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

    شاہدرہ ٹاؤن پولیس نے گلوکارہ کی درخواست پر خاوند کیخلاف مقدمہ درج کرلیا،درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی اور اسی دوران میرا خاوند نوید حسین گھر آیا،خاوندنےآتےساتھ ہی گالم گلوچ ہوگیا،خاوند نے قریب پڑی ہوئی اینٹ اٹھاکرچہرےپرماردی،اینٹ لگنے سے چہرے کی بائیں سائیڈ اور ناک پر شدید چوٹ آئی،خاوند اکثر اوقات مجھ سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے ،

    علی پارک، گڑوی محلہ کی رہائشی خاتون اداکارہ نصیبو لال نے تھانہ شاہدرہ ٹاؤن میں درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کے شوہر نوید حسین نے گھریلو تنازع کے دوران اس پر اینٹ سے حملہ کیا، جس سے اس کے چہرے اور ناک پر شدید چوٹیں آئیں۔متاثرہ خاتون کے بیان کے مطابق، واقعہ 14 مارچ 2025 کی شام تقریباً 5 بجے پیش آیا جب وہ اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی تھی۔ اس دوران اس کا شوہر نوید حسین گھر آیا اور بلا وجہ گالم گلوچ شروع کر دی۔ اسی دوران ملزم نے قریب پڑی اینٹ اٹھا کر نصیبوں لال کے چہرے پر ماری، جس سے وہ زخمی ہو گئی۔ خاتون کے مطابق، اس کا شوہر اکثر اس کے ساتھ جھگڑا کرتا تھا، مگر اس بار تشدد کی شدت زیادہ تھی۔متاثرہ خاتون کی درخواست پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مقدمہ نمبر 249/25 درج کر لیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کیس دفعہ 354 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کیا گیا ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے انوسٹی گیشن ونگ کو منتقل کر دیا گیا ہے۔

    تفتیشی افسر محمد خالد کے مطابق، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کیا۔ پولیس رپورٹ میں جائے وقوعہ کا فاصلہ تھانے سے تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر شمال مشرق کی جانب بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ابتدائی شواہد کی روشنی میں قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔تفتیشی حکام کے مطابق، مقدمہ کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور خاتون کا میڈیکل معائنہ بھی کروایا جائے گا تاکہ زخمی ہونے کی تصدیق ہو سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو جلد گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔شاہدرہ ٹاؤن پولیس کے مطابق، کسی بھی قسم کی گھریلو تشدد کی شکایات پر فوری کارروائی کی جاتی ہے اور خواتین کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • لاہور ،کامران اکمل کے فارم ہاؤس سے سولر سسٹم چوری

    لاہور ،کامران اکمل کے فارم ہاؤس سے سولر سسٹم چوری

    لاہور میں سابق قومی کرکٹر کے کامران اکمل کے فارم ہاؤس سے 5 لاکھ روپے مالیت کا سولر سسٹم چوری ہوگیا۔

    تھانہ ہیئر لاہور کے علاقے قتلے روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس میں چوری کی واردات رپورٹ ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جس کے مطابق نامعلوم چوروں نے فارم ہاؤس کے کمروں کے کنڈے توڑ کر قیمتی سامان چوری کر لیا۔چوری کی واردات 15 مارچ 2025 کی صبح تقریباً 7:30 بجے کے قریب وقوع پذیر ہوئی۔ اطلاع دہندہ کاشف محمود ولد رشید، جو فارم ہاؤس میں کوچ کے طور پر کام کر رہے تھے، نے صبح آ کر دیکھا کہ فارم ہاؤس سے ایک عدد بیٹری (NIRADA)، ایک عدد سولر انورٹر (6KV) اور گاڑی کا سامان غائب تھا۔ چور نامعلوم تھے اور انہوں نے رات کی تاریکی میں واردات انجام دی۔

    واردات کی اطلاع ملتے ہی سلطان محمود ایس آئی تھانہ ہیئر لاہور پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ شکایت گزار کی جانب سے ایک تحریری درخواست پولیس کو پیش کی گئی جس کی بنیاد پر دفعہ 457 اور 380 تعزیرات پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ چوری شدہ سامان میں ایک عدد بیٹری (NIRADA)،ایک عدد سولر انورٹر (6KV)،گاڑی کا سامان شامل ہے،چوری شدہ سامان کی کل مالیت: 500,000 روپے ہے،

    مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے شکایت درج کر کے انویسٹی گیشن ونگ کے حوالے کر دی ہے۔ایس ایچ اوتھانہ ہیئر کو معاملے سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور جلد از جلد مجرموں کی گرفتاری کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔

  • پاکستان نے کرپٹو کونسل قائم کر دی،سربراہ بھی مقرر

    پاکستان نے کرپٹو کونسل قائم کر دی،سربراہ بھی مقرر

    پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کا باضابطہ قیام عمل میں آگیا ہے، جو ملک میں بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے فروغ اور ضابطہ کاری کی جانب ایک نمایاں پیش رفت ہے۔ یہ کونسل کرپٹو اپنانے کے لیے مؤثر پالیسی سازی، جدیدیت کے فروغ اور محفوظ مالیاتی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    پاکستان کے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب پاکستان کرپٹو کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے، جو ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے حوالے سے حکومت کے عزم کا مظہر ہے۔ وزیر خزانہ کے چیف ایڈوائزر برائے پاکستان کرپٹو کونسل، بلال بن ثاقب، کونسل کے سی ای او مقرر کیے گئے ہیں، جو بلاک چین ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری حکمت عملی، اور ڈیجیٹل جدت کے شعبے میں اپنی مہارت کے ذریعے اس اقدام کی قیادت کریں گے۔پاکستان کرپٹو کونسل کے ابتدائی بورڈ ممبران میں گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان، چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، وفاقی سیکرٹری قانون، اور وفاقی سیکرٹری آئی ٹی شامل ہیں۔ یہ متنوع قیادت مالی استحکام، قانونی فریم ورک، اور تکنیکی ترقی کے امتزاج کو یقینی بنائے گی تاکہ پاکستان میں کرپٹو ایکو سسٹم کو فروغ دیا جا سکے۔

    پاکستان میں ڈیجیٹل فنانس کے نئے دور کا آغاز
    پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت بلاک چین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اثاثوں کے عالمی رجحان کو اپنانے کے لیے سرگرم ہے۔ پاکستان ایک واضح ضابطہ جاتی حکمت عملی کے تحت سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور جدید ٹیکنالوجی کے خواہشمند افراد کے لیے محفوظ اور مربوط ماحول فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

    وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کونسل کے قیام پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:“دنیا تیزی سے ڈیجیٹل فنانس کی طرف بڑھ رہی ہے، اور پاکستان اس میدان میں قیادت کا خواہاں ہے۔ پاکستان کرپٹو کونسل کا قیام جدیدیت کے فروغ اور ایک ایسا ضابطہ جاتی فریم ورک بنانے کی جانب قدم ہے جو سرمایہ کاروں اور مالیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ہم ایک ذمہ دار اور ترقی پسند کرپٹو ایکو سسٹم کے قیام کے لیے پرعزم ہیں جو پاکستان کی معیشت میں مثبت کردار ادا کرے گا۔”

    پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے اس اقدام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا:“یہ کونسل صرف ضوابط کے لیے نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول بنانے کے لیے ہے جہاں بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس کو ترقی دی جا سکے۔ ہمارا مقصد پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں ایک مؤثر کھلاڑی بنانا ہے، جہاں سیکیورٹی، شفافیت اور جدیدیت کو اولیت دی جائے۔ ہم کلیدی اسٹیک ہولڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایسی پالیسیاں ترتیب دینا چاہتے ہیں جو ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھیں، تاکہ کاروباری افراد اور سرمایہ کار بلا خوف اپنی صلاحیتوں کا اظہار کر سکیں۔”

    پاکستان کرپٹو کونسل کا فوکس واضح ضابطہ جاتی پالیسیوں کی تشکیل، نجی اور سرکاری شعبے کے اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر روابط، اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی صنعت میں ایک نمایاں حیثیت دلوانے پر ہوگا۔
    آئندہ اقدامات
    کونسل کے ابتدائی اقدامات درج ذیل ہوں گے:
    • کرپٹو اپنانے کے لیے واضح ضابطہ جاتی ہدایات مرتب کرنا۔
    • عالمی کرپٹو اور بلاک چین تنظیموں سے روابط قائم کر کے بہترین عالمی روایات اپنانا۔
    • مالیاتی ٹیکنالوجی (Fintech) اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، اور بلاک چین ڈویلپرز کے ساتھ مل کر ذمہ دارانہ جدت کو فروغ دینا۔
    • صارفین کے تحفظ اور مالیاتی سلامتی کے لیے مضبوط قانونی اور تعمیلی فریم ورک تیار کرنا۔
    پاکستان کرپٹو کونسل کے قیام سے ملک میں مالیاتی اور تکنیکی ترقی کا نیا باب کھلے گا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کاروبار اور جدیدیت کے فروغ کے لیے تیار ہے اور ڈیجیٹل فنانس کے شعبے میں ایک نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتا ہے۔
    پاکستان کرپٹو کونسل کے بارے میں
    پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) ایک حکومتی اقدام ہے جس کا مقصد بلاک چین اور کرپٹو کرنسی کی ترقی، انضمام، اور ضابطہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور ترقی پسند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ کلیدی پالیسی سازوں، ریگولیٹری سربراہان، اور صنعت کے ماہرین پر مشتمل یہ کونسل پاکستان میں ایک جدید اور محفوظ ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ایکو سسٹم قائم کرنے کے لیے پرعزم ہے

  • 190 ملین پاؤنڈ،وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    190 ملین پاؤنڈ،وزیراعظم نے دانش یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے 190 ملین پاؤنڈ (تقریباً 60 ارب روپے) کی لاگت سے تعمیر ہونے والی دانش یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔ یہ یونیورسٹی تعلیم کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگی اور ملک بھر کے طلباء کو جدید اور اعلیٰ تعلیم فراہم کرے گی۔

    اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ "یہ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم قومی خزانے میں واپس لانے پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا شکر گزار ہوں۔ ان کی بدولت یہ رقم عوام کی امانت واپس آئی ہے، جو کہ بہت اہم ہے۔”وزیراعظم نے مزید کہا کہ "اس یونیورسٹی میں صرف میرٹ پر داخلہ دیا جائے گا، اور یہاں آنے والے غریب بچوں اور بچیوں کو مفت تعلیم فراہم کی جائے گی۔ یہ یونیورسٹی چاروں صوبوں کے بچوں کو ایک بہتر تعلیمی موقع فراہم کرے گی، اور یہاں کی تعلیم عالمی معیار کی ہوگی۔”

    وزیر اعظم نے یونیورسٹی کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دانش یونیورسٹی میں بہترین اساتذہ، جدید تدریسی طریقے اور تحقیق کے لیے جدید ترین سینٹرز ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "یہ یونیورسٹی دنیا بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائے گی۔”

    وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ منصوبہ 190 ملین پاؤنڈ کی رقم سے بنایا جا رہا ہے جو پاکستانی عوام کی ملکیت تھی۔ بدقسمتی سے پچھلی حکومت نے اس رقم کو عوام سے چھین لیا تھا، لیکن جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے عوام کی امانت کو واپس دلایا۔”احسن اقبال نے کہا کہ "دانش یونیورسٹی ‘اڑان پاکستان’ پروگرام کے لیے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی اور اس سے پاکستان کے تعلیمی منظر نامے میں ایک نئی تبدیلی آئے گی۔”

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات کا بھی عہد کیا کہ "14 اگست 2026 تک یونیورسٹی کا پہلا سیکشن مکمل کر لیا جائے گا اور تعلیمی سرگرمیاں شروع ہو جائیں گی۔”

  • 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی

    9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت 12 اپریل تک ملتوی

    راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے سانحۂ 9 مئی کے 13 مقدمات کی سماعت کو 12 اپریل تک ملتوی کر دیا۔

    آج کی سماعت میں معروف سیاستدان،سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، پی ٹی آئی کے رہنما عثمان ڈار اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ اس موقع پر ملزمان کو ان کے مقدمات سے متعلق چالان کی نقول بھی فراہم کی گئیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل محمد فیصل ملک نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے دلائل دیے۔ عدالت نے تمام فریقین کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا اور آئندہ سماعت کے لیے کارروائی کو 12 اپریل تک ملتوی کر دیا۔

    اس کیس کے حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں آیا، اور سانحۂ 9 مئی کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ عدالت کی طرف سے آئندہ سماعت میں مزید کارروائی متوقع ہے۔ نومئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آءی کارکنان نے ملک بھر میں احتجاج کرتے ہوئے توڑ پھوڑ کی تھی اور شہدا کی یادگاروں سمیت فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا.

  • پاکستان سمیت 43 ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر  پابندیوں کا امکان

    پاکستان سمیت 43 ممالک کے شہریوں پر امریکہ کے سفر پر پابندیوں کا امکان

    ٹرمپ انتظامیہ امریکہ آنے کے لئے 43 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے، اس فہرست میں 11 ممالک شامل ہیں جن کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے کی مکمل ممانعت ہوگی، اس میں افغانستان، بھوٹان، کیوبا، ایران، لیبیا، شمالی کوریا، صومالیہ، سوڈان، شام، وینیزویلا اور یمن شامل ہیں

    اس کے علاوہ، 10 دیگر ممالک کی "اورینج” فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں سفر کو محدود کیا جائے گا مگر مکمل طور پر بند نہیں کیا جائے گا۔ ان ممالک میں پاکستان، روس، بیلاروس، ترکمانستان سمیت دیگر شامل ہیں۔یہ تجویز ریاستی محکمہ کی جانب سے تیار کی گئی ہے اور اس میں تبدیلیاں متوقع ہیں۔ اس پابندی کا مقصد ان ممالک سے آنے والے افراد کی سیکیورٹی چیکنگ کو مزید سخت کرنا ہے،فی الحال یہ واضح نہیں کہ موجودہ ویزہ ہولڈرز اور گرین کارڈ ہولڈرز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا یا نہیں

    سفارتخانوں کے حکام، ریاستی محکمہ کے علاقائی دفاتر میں کام کرنے والے سیکیورٹی ماہرین،دیگر محکموں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ماہرین اس ڈرافٹ کا جائزہ لے رہے ہیں

    ٹرمپ انتظامیہ چاڈ، ڈومینیکا اور لائبیریا سمیت 22 ممالک کو یلو لسٹ میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے جس کا مطلب ہے کہ ان ممالک کے شہریوں کے پاس ویزا درخواست کے حوالے سے کسی قسم کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے 60 روز ہوں گے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا سفر پر پاپندی کے 3 ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے تھے جسے Muslim Ban کے نام سے جانا جاتا تھا،اس پابندی کے تحت ایران، عراق، لیبیا، سوڈان، سومالیہ اور سوڈان کے شہریوں پر پابندی عائد کی گئی تھی تاہم سابق صدر جو بائیڈن نے جنوری میں حلف اٹھاتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کو ختم کر دیا تھا۔

  • پاکستان محبت ، امن کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے.وزیراعظم

    پاکستان محبت ، امن کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے.وزیراعظم

    اسلام فوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پیغام سامنے آیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج، 15 مارچ کو ہم عالمی برادری کے ساتھ مل کر اسلامو فوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن منا رہے ہیں۔ تین سال قبل، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو منانے کا تاریخی فیصلہ منظور کیا تھا جس میں بڑھتے ہوئے تعصب، نفرت، امتیازی سلوک اور مسلم کمیونٹیز کے ساتھ ساتھ ان کی مقدس علامتوں اور عبادت گاہوں کے خلاف حملوں کے تناطر میں، یہ دن دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش چیلنجز کی سنگینی کی ایک واضح یاد دہانی ہے. یہ دن بھرپور انداز سے متحرک عملدرآمد کی پکار کے طور پر کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کی ٹھوس قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی خواہش کی عکاسی بھی کرتا ہے۔پاکستان کو اقوام متحدہ میں اس اہم اقدام کی قیادت کرنے پر بے حد فخر ہے اور وہ کچھ رکن ممالک کی طرف سے قرآن پاک کی بے حرمتی کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خلاف تعصب کو دور کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتا ہے۔ تاہم، اسلامو فوبیا کی خطرناک لہر کو ختم کرنے، بنیادی انسانی حقوق و مذہبی آزادیوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کو ختم کرنے کے لیے مزید بہت کچھ کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب مذہبی عدم برداشت عروج پر ہے، ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ آزادی اظہار کی آڑ میں توہین مذہب یا مقدس علامتوں کی بے حرمتی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ہر مسلمان کے لیے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت صرف ایک فرض ہی نہیں بلکہ ایک مقدس امانت ہے، جسے ہم پورے یقین کے ساتھ برقرار رکھتے ہیں۔ عالمی امن اور ہم آہنگی کے لیے تمام مذاہب اور ان کی قابل احترام شخصیات کا احترام ضروری ہے۔ یہ ضروری ہے کہ بین الاقوامی فورمز ایسی کارروائیوں سے ہونے والے گہرے نقصان کو پہچانیں اور ان کی روک تھام کے لیے اجتماعی طور پر کام کریں۔اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے اس عالمی دن کے موقع پر، پاکستان عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی رہنماؤں سے اس عفریت کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی بے حرمتی، مساجد پر حملوں اور مسلمانوں کے خلاف مذہبی عدم برداشت کے دیگر واقعات کو روکنے کے لیے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فیصلے کے مطابق، ہم اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک اہم سنگ میل کے طور پر اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی جلد تقرری کے منتظر ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ آئیے اس دن کو نہ صرف اسلامو فوبیا اور مسلم مخالف نفرت کی بڑھتی ہوئی لہر کے خلاف بات کرنے اور عمل کرنے، بلکہ مذاہب، عقائد، ثقافتوں اور تہذیبوں میں مکالمے، ہم آہنگی اور باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور عالمی اتحاد اور یکجہتی کے لیے استعمال کریں۔ یہ اقدامات باہمی تقسیم پر قابو پانے اور متنوع برادریوں میں باہمی احترام کی تعمیر کے لیے ضروری ہے۔   پاکستان اسلام کے محبت اور امن کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے.

  • نادیہ حسین کو  کال کرنے والے جعل ساز کی تفصیلات سامنے آگئیں

    نادیہ حسین کو کال کرنے والے جعل ساز کی تفصیلات سامنے آگئیں

    پاکستانی اداکارہ نادیہ حسین کو ایف آئی اے (فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی) کے افسر بن کر کال کرنے والے جعل ساز کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق، جعل ساز کا فون نمبر وہاڑی کے رہائشی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ ملزم نے اس فون نمبر کا استعمال کرتے ہوئے نادیہ حسین کے شوہر کے کام کرنے والے نجی بینک کے ملازمین سے بھی رابطہ کیا۔

    ذرائع کے مطابق، ملزم نے اس ہی نمبر سے نجی بینک کے دیگر ملازمین کو بھی رقم کا تقاضہ کیا، اور بعد میں متعدد افراد کو کالز کرنے کے بعد اپنا نمبر بند کر دیا۔

    یہ واقعہ اُس وقت سامنے آیا جب نادیہ حسین نے سوشل میڈیا پر الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے کے حکام نے ان کے شوہر کے کیس میں 50 لاکھ روپے رشوت طلب کی۔ نادیہ حسین کا کہنا تھا کہ کسی شخص نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر بن کر انہیں فون کیا اور 50 لاکھ روپے کی رشوت طلب کی، جس پر انکار کرنے کے بعد دھمکیاں دی گئیں اور فون بند کردیا گیا۔نادیہ حسین نے مزید کہا کہ انہوں نے اس جعل ساز کال کی ایف آئی آر تو نہیں کرائی، تاہم ایف آئی اے میں شکایت درج کروا دی ہے۔

    یہ واقعہ ایک مرتبہ پھر جعل سازی اور دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو اجاگر کرتا ہے، جہاں جرائم پیشہ عناصر اہم شخصیات کو بھی اپنے جھانسے میں لا کر مالی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایف آئی اے حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور جعل ساز کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے تاکہ اس طرح کے مزید واقعات کو روکا جا سکے۔