Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسپائس جیٹ کے کیبن کریو کا دوران پرواز ہولی ڈانس

    اسپائس جیٹ کے کیبن کریو کا دوران پرواز ہولی ڈانس

    ایک ویڈیو جس میں اسپائس جیٹ کے کیبن کریو کے اراکین ہولی کے موقع پر بالی ووڈ کے مشہور گانے "بالم پچکاری” پر ڈانس کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ یہ ویڈیو ایئرلائن کے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر شیئر کی گئی، جس میں کیبن کریو کو سفید لباس میں ایئرلائن کے جہاز کے گلیارے میں ڈانس کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ مسافر ان لمحوں کا لطف اٹھا رہے ہیں اور ویڈیو بنا رہے ہیں۔

    اس ویڈیو کے کیپشن میں ایئرلائن نے وضاحت کی کہ یہ ڈانس پرفارمنس پہلے سے طے شدہ تھی اور زمین پر اس کا اہتمام کیا گیا تھا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام حفاظتی پروٹوکولز کی مکمل پیروی کی گئی۔اسپائس جیٹ نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا،”دستخطی تہوار، دستخطی گانا، اور جشن جیسے کبھی نہ تھا! ہماری ٹیم نے ہولی کو زندگی بخشی ایک توانائی سے بھرپور ڈانس کے ساتھ، ثابت کرتے ہوئے کہ روایات ہمارے ساتھ آسمانوں پر بھی پرواز کرتی ہیں! ویڈیو زمین پر فلمائی گئی تھی، تمام حفاظتی معیارات کے ساتھ۔”

    کمنٹس سیکشن میں صارفین کے ردعمل مختلف ہیں۔ کچھ نے ایئرلائن کی کوششوں کو سراہا کہ وہ تہوار کی روح کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، تو کچھ نے اس حرکت کو بالکل بھی پسند نہیں کیا۔

    ایک صارف نے لکھا:”ایک ہی وائب اب بھی برقرار ہے… کیونکہ میں بھی کبھی اس ایئرلائن کا حصہ تھا۔ اسپائس جیٹر ہونے پر فخر ہے۔”دوسرے نے کمنٹس کیا:”دوسری ایئرلائنز کے کریو کو آج چھٹی ہے، لیکن اسپائس جیٹ کے کریو؟ وہ ہوائی سفر کے دوران ہولی کا لطف اٹھا رہے ہیں!”

    تاہم، کچھ صارفین نے اس عمل پر تنقید کی، اور اسے "غیر پیشہ ورانہ” قرار دیا۔”یہ کیا بات ہے کہ اپنے ملازمین سے ایسا ڈانس کرایا جائے؟” ایک صارف نے سوال کیا۔ایک اور نے کہا:”ایک کیبن کریو ممبر کے طور پر، مجھے یہ بالکل بھی پسند نہیں آیا۔ یہ بالکل پیشہ ورانہ نہیں ہے۔”ایک تیسرا صارف کہتا ہے:”یہ بالکل غیر پیشہ ورانہ ہے۔ ایئرلائنز کو کچھ معیار رکھنا چاہیے، صرف کلاؤٹ حاصل کرنے اور زیادہ گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے۔ کریو کی عزت کے ساتھ سمجھوتہ کرنا مناسب نہیں ہے۔”ایک اور صارف نے لکھا:”مجھے حیرانی ہے کہ یہ خیالات کون لاتا ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ کون ان کی منظوری دیتا ہے۔ اس میں کوئی دلچسپی یا تخلیقیت نہیں ہے۔ کہاں ہے تہذیب، آداب؟ بدقسمتی سے یہ عمل صرف اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ مینجمنٹ نے اسے ایک زبردست آئیڈیا سمجھا۔”ایک اور نے کہا:”اس لیے بھارت میں کوئی بھی کیبن کریو کو سنجیدگی سے نہیں لیتا۔ براہ کرم صرف حفاظت، سیکیورٹی اور کسٹمر سروس پر توجہ مرکوز کریں۔”

  • سانحہ جعفر ایکسپریس،اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی،ایف آئی اے میں تین مقدمے

    سانحہ جعفر ایکسپریس،اداروں کیخلاف ہرزہ سرائی،ایف آئی اے میں تین مقدمے

    وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے جعفر ایکسپریس حملے کے بعد ریاستی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر ہرزہ سرائی کرنے والے یوٹیوبرز کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت وفاقی دارالحکومت میں تین مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائم اسلام آباد کے شعبے نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔

    ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کی جانب سے سائبر کرائم کے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں درج کیے گئے مقدمات میں ملزمان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی معلومات پھیلائیں اور ریاستی اداروں کے خلاف پراپیگنڈہ کیا۔ ان کے مطابق ان افراد نے عوام کو اداروں کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے مطابق مقدمات پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں، جن میں پراپیگنڈہ کے ذریعے عوام میں بے چینی اور اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے کا الزام ہے۔ ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ملزمان نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایک کالعدم تنظیم کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی۔ ایف آئی اے نے اس معاملے میں بیرون ملک مقیم معروف صحافی اور یوٹیوبر احمد نورانی، اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے شفیق احمد ایڈووکیٹ اور ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والی خاتون آئینہ درخانی کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عوام میں بے یقینی اور اضطراب پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس کیس میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں اور دیگر ممکنہ مشتبہ اکاؤنٹس کی چھان بین بھی کی جا رہی ہے۔

    ایف آئی اے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد جو بھی ملوث افراد پائے جائیں گے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی اور جو بھی اس قسم کی کارروائی میں ملوث ہوگا، اسے سخت سزا دی جائے گی۔

  • پیمرا میں مالی کرپشن،عہدے کا ناجائز استعمال،دو ملازمین برطرف

    پیمرا میں مالی کرپشن،عہدے کا ناجائز استعمال،دو ملازمین برطرف

    پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے مالی کرپشن اور اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرنے پر اپنے دو ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔

    یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب ایک شہری، شاہد اقبال نے پیمرا کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ شکایت میں کہا گیا تھا کہ ان دونوں ملازمین نے وزارت خارجہ میں نوکری دلانے کے لیے اس سے پیسے لیے تھے۔ شکایت کی تفتیش کے بعد پیمرا نے دونوں ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے انہیں برطرف کر دیا۔برطرف ہونے والے ملازمین میں قاسم عباس شامل ہیں، جو کہ سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر پیمرا ریجنل آفس گوجرانوالہ میں کام کرتے تھے، جبکہ مجاہد عباس سابقہ جونیئر اسسٹنٹ تھے جو کہ پیمرا ریجنل آفس ملتان میں تعینات تھے۔

    پیمرا کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں مزید کہا گیا کہ ان دونوں ملازمین نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی پیمرا کے خلاف ہرزہ سرائی کی تھی۔ ان دونوں کے خلاف کی گئی کارروائی ادارے کی پالیسیوں اور اصولوں کے مطابق تھی اور اس کا مقصد ادارے کی شفافیت اور دیانتداری کو یقینی بنانا ہے۔پیمرا نے اس بات کا عزم کیا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں اور عوامی اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔

  • گورنمنٹ کالج میں طالبات کا رقص،ویڈیو وائرل،پرنسپل کو ہٹا دیا گیا

    گورنمنٹ کالج میں طالبات کا رقص،ویڈیو وائرل،پرنسپل کو ہٹا دیا گیا

    رحیم یارخان کے گورنمنٹ خواجہ فرید گریجویٹ کالج کے پرنسپل پروفیسر جمیل خان اور وائس پرنسپل ارشد بیگ کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب کالج میں 27 فروری کو نئے پرنسپل کے اعزاز میں ہونے والی میوزیکل نائٹ کی تقریب میں طالبات کے رقص کی ویڈیوز وائرل ہو گئیں۔ ان ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر کافی ہلچل مچائی جس کے بعد ہائر ایجوکیشن نے فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے دونوں اعلیٰ تعلیمی افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔

    ہائر ایجوکیشن کے سیکرٹری نے گورنمنٹ خواجہ فرید کالج کے پرنسپل اور وائس پرنسپل کو لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔ مزید برآں، اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ اس پورے واقعے کی مکمل چھان بین کی جا سکے اور اس میں ملوث افراد کا تعین کیا جا سکے۔اس کے علاوہ، ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن کالجز پنجاب نے لاہور ڈویژن کے ڈائریکٹر کالجز کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں فن فیئر، اسپورٹس ڈے اور دیگر غیر نصابی سرگرمیوں کے دوران اساتذہ اور طلبہ کو ڈانس کرتے ہوئے پایا گیا ہے۔ ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ایسی سرگرمیوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور اس حوالے سے سخت ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔

    یہ واقعہ تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے بڑھتی ہوئی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں تعلیمی ماحول کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس ضمن میں محکمہ ہائر ایجوکیشن پنجاب نے اپنے اقدامات مزید سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

  • پولٹری تاجر کے ساتھ دوران ڈکیتی بدفعلی،بنائی گئیں برہنہ ویڈیو

    پولٹری تاجر کے ساتھ دوران ڈکیتی بدفعلی،بنائی گئیں برہنہ ویڈیو

    گوجرانوالہ شہر کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں ایک شہری کو مسلح افراد کی جانب سے شدید تشدد، بدفعلی اور بھتہ خوری کا نشانہ بنانے کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔

    متاثرہ شہری محمد عدنان ولد محمد بوٹا، جو کہ گلہ میاں عارف والا گلی نمبر 1 ناصر کالونی گوجرانوالہ کا رہائشی ہے، نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں دی گئی اپنی درخواست میں بتایا کہ وہ فیروزوالہ چوک ریس کورس روڈ پر دانی چکن پوائنٹ کے نام سے پولٹری کا کاروبار کرتا ہے۔ مورخہ 23 دسمبر 2024 کو شام 4 بجے وہ اپنی دکان کے اوپر رہائشی پورشن میں موجود تھا جب چار مسلح ملزمان زبردستی اس کے کمرے میں داخل ہو گئے۔ملزمان میں انعام الرحمن ولد ذوالفقار علی، محمد رضوان ولد نامعلوم، محمد طارق ولد محبوب سلطان، اور ایک نامعلوم شخص شامل تھے۔ تمام افراد مسلح تھے اور انہوں نے متاثرہ شہری کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔محمد عدنان کے مطابق، ملزمان نے اس سے 13 لاکھ 70 ہزار روپے چھین لیے۔ اس کے بعد انعام الرحمن نے متاثرہ کو زبردستی بدفعلی کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی ویڈیو اور تصاویر بھی بنا لیں۔ ملزمان نے دھمکی دی کہ اگر اس نے واقعے کے بارے میں کسی کو بتایا تو تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائیں گی۔

    ملزمان نے واقعے کے چند دن بعد واٹس ایپ پر متاثرہ شہری کو اس کی نازیبا تصاویر بھیج کر اسے مزید بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ ملزم محمد عادل ولد محمد طارق نے 2 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا، جس میں سے متاثرہ شخص نے 1 لاکھ 50 ہزار روپے محمد طارق کو ادا کر دیے۔ اس موقع پر اس کا بھائی سیف اللہ بھی موجود تھا۔وقوعہ کے بعد متاثرہ شہری نے قانونی مدد حاصل کرنے کا فیصلہ کیا اور بالآخر پولیس میں رپورٹ درج کروا دی۔ تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس نے مقدمہ نمبر 232/25 درج کر لیا ہے، جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 392 (ڈکیتی)، 377 (بدفعلی)، اور 506 (دھمکیاں) شامل کی گئی ہیں۔

    محمد عدنان نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی شہری اس قسم کے درندگی کا شکار نہ ہو۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
    fie

  • سانحہ جعفر ایکسپریس،اپوزیشن اتحاد کا بھی اے پی سی بلانےکا اعلان

    سانحہ جعفر ایکسپریس،اپوزیشن اتحاد کا بھی اے پی سی بلانےکا اعلان

    تحریک انصاف اور اپوزیشن اتحاد نے جعفر ایکسپریس کے سانحے کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال پر آل پارٹیز قومی کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس حوالے سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ دنوں ہونے والے سانحہ اے پی ایس کی طرح کسی بڑے نقصان کو ہونے سے بچا لیا، ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستان کے لیے ایک سنگین زخم ہے اور سویلین کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہیں۔

    بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اس واقعے پر سب سے پہلے پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنایا، اور چند بیانات کا سہارا لے کر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ اس تناظر میں اپوزیشن اتحاد نے فیصلہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائے، تاکہ تمام سیاسی جماعتیں اس اہم مسئلے پر مل کر بات کر سکیں۔

    محمود خان اچکزئی کی سیکیورٹی نظام پر تجاویز
    اپوزیشن اتحاد کے رکن محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمیں ایک ہمہ جہت کانفرنس بلانی چاہیے تاکہ اجتماعی طور پر ایک ایسا نظام بنایا جا سکے جس سے ملک کو مزید بربادی سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے الیکشن سے قبل اس بات کی تجویز دی تھی کہ تمام ادارے ایک مشترکہ گیم پلان تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے زر اور زور کی طاقت سے الیکشن جیتا اور اس سے ملک کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی۔

    صاحبزادہ حامد رضا کا پارلیمنٹ میں ان کیمرا سیشن کا مطالبہ
    تحریک انصاف کے رہنما صاحبزادہ حامد رضا نے پارلیمنٹ میں ان کیمرا سیشن بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جعفر ایکسپریس واقعے کے بعد 36 گھنٹے تک حکومتی وزراء نے قوم کو بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کے ذمہ دار وزیر دفاع کو قرار دیتے ہوئے انکوائری کا مطالبہ کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ سیکیورٹی اہلکاروں سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، لیکن اس واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

    اسد قیصر کی حکومت پر سخت تنقید

    پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ وزیراعظم نے جعفر ایکسپریس پر بات کرنے کے بجائے پی ٹی آئی پر الزامات لگانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس سانحے پر فوری طور پر ردعمل دینا چاہیے تھا، مگر وہ لیپ ٹاپ تقسیم کرتے رہے۔ اسد قیصر نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس حکومت کو ملک کا خیال ہوتا تو وہ قوم سے معافی مانگ کر استعفیٰ دیتے۔

    اس تمام صورتحال میں اپوزیشن اتحاد اور تحریک انصاف نے مل کر سیکیورٹی کے مسائل پر بحث کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ ملک کے سیکیورٹی نظام کو بہتر بنایا جا سکے اور مستقبل میں ایسے سانحات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا سکیں۔

  • عام آدمی کا مافیا کے ہاتھوں قطعاً استحصال نہیں ہونے دیں گے. وزیرِاعظم

    عام آدمی کا مافیا کے ہاتھوں قطعاً استحصال نہیں ہونے دیں گے. وزیرِاعظم

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے چینی کے ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی طور پر چینی کی قلت پیدا کر کے قیمتوں میں اضافے کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف سخت ترین کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ چینی ذخیرہ کرنے اور قیمتوں میں سٹہ بازی کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی اور اس حوالے سے تمام متعلقہ حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    وزیرِ اعظم نے اپنے بیان میں کہا، "چینی ذخیرہ کرنے، قیمتوں میں سٹہ کھیلنے اور مصنوعی اضافے کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔ ناجائز منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کر کے اس کی رپورٹ پیش کی جائے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چینی کی کھپت اور رسد پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ عوام کو مصنوعی بحران کا سامنا نہ ہو۔وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ شوگر ملوں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط کریں تاکہ چینی کی کھپت اور رسد کی موثر نگرانی کی جا سکے۔ وزیرِ اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک میں چینی کی وافر مقدار موجود ہے اور اس کا ذخیرہ اندوزوں کے ہاتھوں استحصال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں عوام کو چینی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کسی قسم کا استحصال برداشت نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت عوام کو چینی کی مقررہ قیمت پر فراہمی یقینی بنائے گی۔وزیرِ اعظم نے چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ہدایت دی کہ وہ چینی کی مقررہ قیمت پر عوام کو فراہمی یقینی بنائیں اور اس عمل میں کسی قسم کی غفلت نہ برتی جائے۔

    وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت چینی کی کھپت و رسد اور مقررہ قیمتوں پر عوام کو فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام کے ساتھ ساتھ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو چینی کی کھپت و رسد اور موجودہ قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔وزیرِ اعظم نے اجلاس میں کہا کہ چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور عوام کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • دہشت گردی کیخلاف وزیراعظم کا اے پی سی بلانے کا فیصلہ خوش آئند ہے.خالد مسعود سندھو

    دہشت گردی کیخلاف وزیراعظم کا اے پی سی بلانے کا فیصلہ خوش آئند ہے.خالد مسعود سندھو

    کلمہ کے نام پر بنائے گئے ملک میں خون بہانے والا کسی رحم کا مستحق نہیں.صدر مرکزی مسلم لیگ

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف وزیراعظم شہباز شریف کا اے پی سی بلانے کا فیصلہ خوش آئند ہے.سانحہ بولان کے بعد وزیراعظم کا اے پی سی بلانے کا اعلان مرکزی مسلم لیگ کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل ہے. ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت و اپوزیشن قیام امن کے لیے ایک پیج پرہوں. کلمہ کے نام پر بنائے گئے ملک میں خون بہانے والا کسی رحم کا مستحق نہیں.مرکزی مسلم لیگ قیام امن کے لئے سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطےکر ملک گیر تحریک چلائے گی

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے افطار ڈنر کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا. خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کے لئے ضروری ہے کہ قوم کے ساتھ ہمارے سیاستدان بھی متحد ہوں. دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کسی قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہئے.مرکزی مسلم لیگ نے نے ہمیشہ نیشنل ڈائیلاگ کی بات کی . وزیراعظم اے پی سی میں تمام محب وطن جماعتوں کو دعوت دیں. سیکورٹی فورسز کے جوان، عام شہری شہید ہو رہے ہیں.سیاستدانوں کو آپس کی لڑائیوں کو ترک کر کے ایک میز پر بیٹھنا ہو گا اور ایک مضبوط لائحہ عمل،ردعمل دینا ہو گا.وزیر دفاع خواجہ آصف اپوزیشن کو اے پی سی میں شرکت کا دعوت نامہ دیتے ہیں تواپوزیشن کو اے پی سی میں شریک ہونا چاہیے. دہشتگردی کسی ایک جماعت کا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے.بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے.دین اسلام میں کسی بے گناہ کا خون بہانے کی اجازت نہیں.

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ قوم سانحہ بنوں، جامعہ حقانیہ،بولان کے غم سے نہیں نکلی اور ہمارے سیاستدان ایک دوسرے پر ہی تنقید کر رہے ہیں. مرکزی مسلم لیگ قیام امن کے لئے ملک گیر تحریک چلائے گی اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے کرے گی.اندرونی و بیرونی دشمنوں کے خلاف قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے.

  • جعفرایکسپریس کا واقعہ بھارت کی دہشت گرد ذہنیت کا تسلسل ہے۔ترجمان پاک فوج

    جعفرایکسپریس کا واقعہ بھارت کی دہشت گرد ذہنیت کا تسلسل ہے۔ترجمان پاک فوج

    سانحہ جعفر ایکسپریس ، ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف اور وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس کی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹینٹ جنرل احمد شریف کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جہاں حملہ ہوا وہاں موبائل سروس نہیں ہے ،یہ جگہ دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے، دہشت گردوں نے ٹرین پر حملے سے قبل ایف سی کی قریبی چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس میں تین جوان شہید ہوئے. دہشت گردوں نے دشوار گزار علاقے میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کیا، حملے کے ساتھ میڈیا پر جنگ شروع ہوئی جو بھارت سے چلائی جا رہی تھی.11 مارچ کو ایک بجے کے قریب دھماکا کر کے ٹرین کو روکا گیا، دہشت گرد مختلف گروپس میں بٹے ہوئے تھے.بھارتی میڈیا نے ٹرین پر دہشتگردی کو کارنامے کے طور پر پیش کیا.انڈین میڈیا نے پرانی ویڈیوز دکھا کر ایک بیانیہ بنا دیا ہے،اس انفارمیشن وار کو بھارت ہینڈل کر رہا تھا.دہشت گردوں نے منظم انداز میں کاروائی کی.دہشت گردوں نے مسافروں کو یرغمال بنا کر رکھا.اے آئی تصاویر،جعلی ویڈیو دکھا کر پروپیگنڈہ کیا گیا.

    جعفر ایکسپریس ہائی جیک کرنے والے دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلر کے ساتھ رابطے میں تھے، ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے لسانی بنیادوں پر کچھ مسافروں کو چھوڑا.اور بعد میں سوشل میڈیا پر تاثر پیدا کیا گیا کہ یہ انسانی ہمدردی کا کام ہے.جعفر ایکسپریس ہائی جیک کرنے والے دہشتگرد افغانستان میں اپنے ہینڈلر کے ساتھ رابطے میں تھے، اس حملے کے دوران ان دہشت گردوں کو بھارتی میڈیا سپورٹ کر رہا تھا. دہشت گردوں کی کمیونیکیشن سے واضح ہوا کہ ان کے درمیان خودکش بمبار موجود ہے ، خودکش بمباروں کی وجہ سے محتاط انداز میں آپریشن کیا گیا، جب 12 مارچ کو سیکورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو اسنائپر سے انگیج کرنا شروع کیا تو کئی یرغمالی اس دوران دہشت گردوں کے شکنجے سے نکلے.آپریشن کے دوران کسی یرغمالی کی جان نہیں گئی، بلوچستان میں دہشتگردی کا اسپانسر بھارت ہے، موجودہ دہشتگردی واقعے کا تعلق پڑوسی ملک افغانستان سے ملتا ہے۔ پاکستان ایئرفورس نے آپریشن کے دوران بہت اہم کردار ادا کیا، ٹرین ہائی جیکنگ کے واقعات میں یہ سب سے کامیاب ترین آپریشن تھا، افواج پاکستان نے قوم کی دعاؤں سے یہ کامیاب آپریشن کیا، ان لوگوں کا نہ بلوچیت سےتعلق ہے، نہ پاکستان سے، نہ اسلام سے، جو لوگوں میں فرق نسلی بنیادوں پر کر رہے تھے، پورے آپریشن کو مہارت احتیاط اور پروفیشنل ازم کے ساتھ کیا گیا، انڈین میڈیا پر کفن اور ریل کی پرانی ویڈیو سوشل میڈیا سے اٹھا کر چلائی گئی۔ دہشتگردوں اور بھارتی میڈیا کا گٹھ جوڑ بےنقاب ہو گیا،بنوں واقعہ میں بھی افغان دہشت گرد ملوث تھے ،افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحہ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فائنل کیلئرنس آپریشن میں دہشتگرد کسی کو نقصان نہ پہنچا سکے ، دہشتگرد شہریوں کو شہید کرتے رہے تاکہ خوف پھیلا رہے، دہشت گرد جو ٹرین کی سائیڈ پر موجود تھے ان کو ہلاک کیاگیا، پہاڑ سے فائر کرنے والے دہشت گرد کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا، پورے آپریشن کے دوران کسی مسافرکو نقصان نہیں پہنچا، دہشت گردوں کے پاس غیر ملکی اسلحہ موجود تھا۔پاکستان میں خارجیوں سمیت افغانی بھی دہشت گردی میں ملوث ہیں، بلوچستان میں یہ جو ٹرین کا واقعہ ہوا اور اس سے پہلے جو واقعات ہوئے اس کا مین اسپانسر مشرقی پڑوسی ملک ہے۔ افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے، جعفرایکسپریس کا واقعہ بھارت کی دہشت گرد ذہنیت کا تسلسل ہے۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو آج ہی پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ کا عمران خان کو آج ہی پیش کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو آج ہی ویڈیو لنک یا ذاتی حیثیت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے مشال یوسفزئی کی عمران خان سے ملاقات سے روکنے کے خلاف درخواست پر پہلے سپرنٹنڈنٹ اڈیالا جیل کو طلب کیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بانی پی ٹی آئی سے مل کر آئیں، ان سے پوچھ کر بتائیں مشال یوسفزئی بانی پی ٹی آئی کی وکیل ہے یا نہیں،عدالت نے کہا کہ یہ عدالتی حکم کی توہین ہے جو گزشتہ سماعت پرفریقین کی رضامندی سے ہوا تھا، گزشتہ سماعت پر عدالت نے پٹیشنر کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا حکم دیا تھا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے کہا کہ جیل اتھارٹیز سے توقع تھی کہ وہ عدالتی حکم پر عمل کرتیں، بادی النظر میں عدالت مطمئن ہے کہ یہ جیل اتھارٹیز نے توہین عدالت کی،ہمارے سامنے ایک لسٹ پیش کی گئی کہ یہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے دی گئی، عدالت مطمئن نہ ہوئی تو بانی پی ٹی آئی سے خود پوچھ لیں گے،عدالت نے ایس پی جیل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مذاق بنایا ہوا ہے،عدالت نے حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی آئی کو 2 بجے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کریں، اگر ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کرنا ہے تو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد بتائیں، اگر 2 بجے بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک پر پیش نہ کیا گیا تو 3 بجے ذاتی حیثیت میں پیش کریں۔