Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 26 نومبر احتجاج، بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع

    26 نومبر احتجاج، بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج کیس میں بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 15 اپریل تک توسیع کر دی۔

    بشریٰ بی بی کیخلاف 26 نومبر احتجاج کے کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت چودھری عامر ضیا ایڈیشنل سیشن جج، ویسٹ نے کی، بشریٰ بی بی کیجانب سے حاضری سے استثنیٰ اور شامل تفتیش کرنے کی درخواست دائر کی گئی،بشریٰ بی بی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہونا چاہتی ہیں، تفتیشی افسر کو ہدایت کی جائے کہ وہ بشریٰ بی بی کو شامل تفتیش کریں۔ عدالت نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت میں 15 اپریل تک توسیع کردی، بشریٰ بی بی کیخلاف دفعہ 144 کی خلاف ورزی و دیگر دفعات کے تحت تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

  • ملک ریاض کی راولپنڈی میں جائیداد سرکاری تحویل میں لے لی گئی

    ملک ریاض کی راولپنڈی میں جائیداد سرکاری تحویل میں لے لی گئی

    راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ نے بحریہ ٹاؤن فیز 8 میں واقع ملک ریاض کی جائیداد سرکاری تحویل میں لے لی۔ یہ اقدام اسلام آباد کی نیب کورٹ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے گئے ضابطہ حکم کے مطابق کیا گیا۔

    جائیداد میں واقع پلاٹ نمبر 1351 اور مکان نمبر 1440 پر سرکاری نوٹس آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ یہ نوٹس رہائشی افراد کو جائیداد کی ضابطگی سے متعلق آگاہ کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے واضح کیا کہ اگر کوئی فرد اس جائیداد میں مداخلت کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ ملک ریاض، جو کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کے اسکینڈل کے ریفرنس میں اشتہاری ملزم ہیں۔ اس حوالے سے نیب کی تحقیقات جاری ہیں اور ملک ریاض کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم، وہ ابھی تک عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوئے، جس کے نتیجے میں ان کی جائیداد کی ضبطی کا حکم دیا گیا۔ضبط کی جانے والی جائیداد کی تحویل حکومت کی جانب سے ملک ریاض کے خلاف کارروائی کا حصہ ہے، جو کہ کرپشن کے الزامات کے تحت جاری ہے۔ یہ اقدام ملکی قانون کی حکمرانی کو مستحکم کرنے اور کرپشن کے خاتمے کے لیے اہم قدم ہے۔

    بحریہ ٹاؤن ،ملک ریاض کیخلاف دو نیب ریفرنس دائر

    ملک ریاض کو دھمکی،مقدمہ درج

    سرکاری زمین پر قبضہ، ملک ریاض اور بیٹے کیخلاف ریفرنس دائر

    ملک ریاض کے گرد گھیرا مزید تنگ،پاکستان واپسی کیلئے رابطے

  • بنوں میں دہشت گردوں کا  دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    بنوں میں دہشت گردوں کا دوپولیس تھانوں اور چوکی پر حملہ

    خیبر پختونخوا کے شہر بنوں کے دو تھانوں اور ایک پولیس چوکی پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے، تاہم بروقت پولیس کارروائی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے تھانہ بکاخیل اور تھانہ غوری والہ پر حملہ کیا جبکہ خوجڑی پولیس چوکی پر دستی بم پھینکے گئے۔ ان حملوں میں دہشت گردوں کا مقصد پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا، مگر پولیس کی فوری کارروائی کے باعث اہلکار محفوظ رہے۔پولیس نے بتایا کہ جیسے ہی دہشت گردوں نے حملہ کیا، اہلکاروں نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے مزید سرچ آپریشن شروع کر دیے گئے ہیں۔

    پولیس حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اور دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ علاقے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے تاکہ دہشت گرد دوبارہ کسی قسم کی کارروائی کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

  • آئی ایم ایف کا پاکستان کو  قرض کی فراہمی کا عندیہ

    آئی ایم ایف کا پاکستان کو قرض کی فراہمی کا عندیہ

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے متعلق اعلامیہ جاری کردیا ہے

    آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ پاکستان کے ساتھ 7 ارب ڈالر قرض پروگرام پر جائزہ کے لیے بات چیت ہوئی اور پاکستان کے ساتھ کلائمیٹ فنانسنگ کے لیے بھی بات چیت ہوئی، پاکستان کے ساتھ قرضوں کی ادائیگی کی مینجمنٹ، توانائی کے شعبے میں لاگت کم کرنے اور توانائی شعبے کی بہتری، معاشی ترقی کی شرح بڑھانے اور صحت عامہ کی بہتری کے لیے بھی بات چیت ہوئی، پاکستان کے ساتھ تعلیم کے فروغ، سماجی تحفظاور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کم کرنے پر تبادلہ خیال ہو،پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام پر سختی سے عمل درآمد کیا، پاکستان کے ساتھ بات چیت مثبت رہی، پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات کو حتمی شکل دینے کے لیے ورچوئلی بات چیت جاری رکھیں گے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے میں مزید کہا گیا ہےکہ پاکستان اور آئی ایم ایف نے اسٹاف لیول معاہدے کے لیے نمایاں پیشرفت کی ہے، پاکستان نے حکومتی قرضوں کو کم کرنے کے لیے سخت معاشی اقدامات کیے ہیں، مہنگائی کم کرنے کے لیے سخت مانیٹری پالیسی اپنائی گئی ہے، بجلی کی پیداواری لاگت کو کم کرنے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں جب کہ معاشی شرح نمو کو بڑھانے کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کیا گیا ہے، کلائمیٹ ریفارمز ایجنڈے پر مذاکرات کیے گئے اور پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ممکنہ طور پر فنڈز فراہم کیے جاسکتے ہیں۔

    واضح رہےکہ گزشتہ روز پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا آخری دور ہوا جس میں پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہےکہ تین شعبوں میں تحفظات کے باوجود آئی ایم ایف مشن قسط کے اجرا کی سفارش کرے گا۔

  • بتایا جائے پابندی کے باوجود کون سے حکومتی ادارے ایکس استعمال کر رہے ہیں؟ عدالت

    بتایا جائے پابندی کے باوجود کون سے حکومتی ادارے ایکس استعمال کر رہے ہیں؟ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا ایپ ایکس پر پابندی کے خلاف درخواستوں پر وفاقی وزرات داخلہ سے رپورٹ طلب کرلی۔

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3 رکنی فل بینچ نے سوشل میڈیا ایپس اور ایکس پر پابندی کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی ، بینچ نے پی ٹی اے کے ذمہ دار افسر کو بھی ریکارڈ سمیت طلب کرلیا، عدالت نے کہا کہ بتایا جائے پابندی کے باوجود کون سے حکومتی ادارے ایکس استعمال کر رہے ہیں؟ ایکس کی قانونی حیثیت سے متعلق بھی آگاہ کیا جائے، تمام فریقین جواب داخل کرانے کے پابند ہیں، وزرات داخلہ نے ایکس کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا ہے۔

    جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا کہ اگر ایکس یا ٹوئٹر بلاک ہونے کے باوجود استعمال ہو رہا ہے تو ذمہ دار کون ہے؟ رپورٹ دی جائے کہ پابندی کے باوجود ایکس کیوں استعمال ہو رہا ہے،اس پر پی ٹی اے کے وکیل نے بتایا کہ وی پی این کے ذریعے ایکس ٹوئٹر استعمال ہوتا ہے۔بعد ازاں عدالت نے درخواستوں پر سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی۔

  • برطانوی فوج میں خواتین کی زیادتی کا شکار

    برطانوی فوج میں خواتین کی زیادتی کا شکار

    جین نے برطانوی فوج میں تقریبا20 سال تک ملازمت کی،انہیں اپنی نوکری سے محبت تھی اور وہ اس میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکی تھی اس دوران ایک مرد فوجی نے انہیں زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا

    جین نے رائل ملٹری پولیس میں شکایت درج کرائی لیکن چند دنوں بعد انہیں فوجی افسران کی ایک میٹنگ میں بلایا گیا اور وہاں ان کو مردوں سے فلرٹنگ اور زیادہ شراب پینے کا ذمہ دار قرار دے دیا، حالیہ انکشافات میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ کی فوج میں جنسی ہراسانی اور زیادتی کے متعدد واقعات نہ صرف رپورٹ کیے گئے بلکہ ان پر مناسب قانونی کارروائی بھی نہیں کی گئی۔ کئی خواتین سابق فوجیوں نے اپنی داستانیں شیئر کی ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک زہریلا کلچر پروان چڑھ رہا ہے، جہاں نہ صرف بدسلوکی برداشت کی جاتی ہے بلکہ متاثرین کو خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

    ایک سابق فوجی خاتون، جین نے بتایا کہ ایک ساتھی نے اس کا ریپ کیا اور بعد میں فوجی حلقے میں اسے کسبی کہا جانے لگا۔ رائل ملٹری پولیس نے تفتیش کی، لیکن مقدمہ کبھی کورٹ مارشل تک نہیں پہنچا۔ جین کو بتایا گیا کہ مجرم کو سزا ملنے کا غیر حقیقی امکان ہے۔ہیلی نے بھی اپنی دردناک کہانی سنائی۔ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کی خاتون ساتھی کو ایک سینئر افسر نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔ جب اس نے اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی، تو اسے سیڑھیوں سے نیچے گھسیٹ دیا گیا اور خاموش رہنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ بعد میں، ایک مرد ساتھی نے اس کے بستر پر چڑھ کر اسے بیدار کیا اور نازیبا حرکات کرنے کی کوشش کی۔ جب اس نے رپورٹ درج کروائی، تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ نشے میں تھی اور کیا اس نے دروازہ بند کیا تھا۔ کیس ناکافی ثبوت کی بنا پر خارج کر دیا گیا۔

    برطانیہ کے سابق وزیر دفاع اور فوجی تجربہ کار جانی مرسر نے تسلیم کیا کہ فوج میں جنسی استحصال کے خلاف کارروائی میں ناکامی ہوئی ہے۔ اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اعتراف کیا کہ پچھلی حکومت نے اس مسئلے کو مناسب طریقے سے نہیں نمٹایا اور انہیں سخت موقف اپنانا چاہیے تھا۔ انہوں نے موجودہ حکومت سے اپیل کی کہ اب اس معاملے میں اصلاحات کی جائیں۔

    2021 میں 19 سالہ سپاہی جیسلے بیک کی خودکشی کے بعد سینکڑوں خواتین نے اپنے تجربات شیئر کیے، جن میں فوجی حلقے میں جنسی زیادتی کے عام ہونے کا ذکر کیا گیا۔ تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ بیک کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی اور جب اس نے اطلاع دی، تو فوج نے اس کی مدد نہیں کی۔مشیل*، جو 11 سال تک فوج میں خدمات انجام دے چکی ہیں، نے کہا کہ ہراسانی ایک معمول بن چکی تھی۔ انہوں نے بتایا، "لڑکوں نے میری اسکرٹ کے نیچے جھانکنے کی کوشش کی، میری چھاتیوں کو پکڑا، اور نازیبا تبصرے کیے۔”

    مہم چلانے والے سیاستدانوں پر زور دے رہے ہیں کہ جنسی جرائم کے مقدمات کو فوجی عدالت سے نکال کر سویلین عدالت میں منتقل کیا جائے۔ سینٹر فار ملٹری جسٹس کی وکیل ایما نورٹن نے کہا، "فوجی عدالت میں عصمت دری اور جنسی حملے کے مقدمات میں سزا کی شرح عام عدالتوں کی نسبت بہت کم ہے، جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔”لیبر پارٹی نے سنگین اور جنسی جرائم کو فوجی انصاف کے دائرہ کار سے نکالنے کی حمایت کی ہے۔ یہ معاملہ اب پارلیمنٹ میں زیر بحث ہے، جہاں حکومتی سطح پر اصلاحات کا امکان موجود ہے۔

    برطانوی فوج میں جنسی ہراسانی اور زیادتی کے واقعات نے ایک سنگین بحران کو بے نقاب کیا ہے۔ متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے پالیسی میں واضح تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پارلیمنٹ میں اس پر بحث جاری ہے، لیکن کیا فوجی نظام میں واقعی اصلاحات ممکن ہو پائیں گی؟ یہ سوال ابھی باقی ہے۔

  • 22 سالہ طالبہ نے 18 کروڑ روپے میں اپنا”کنوارپن”فروخت کردیا

    22 سالہ طالبہ نے 18 کروڑ روپے میں اپنا”کنوارپن”فروخت کردیا

    برطانیہ کی ایک 22 سالہ طالبہ نے اپنے کنوار پن کھونے کی بولی 18 کروڑ روپے (تقریباً 1.7 ملین یورو) میں لگا کر دنیا بھر میں شہرت حاصل کر لی۔

    برطانوی اخبار "مرر” کے مطابق، مانچسٹر کی رہائشی لاورا نے دسمبر 2023 میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کنواری پن فروخت کرنے کی بولی لگائیں گی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک ایجنسی میں درخواست جمع کروائی اور ممکنہ بولی دہندگان سے ملنے کے لیے متعدد تقریبات میں شرکت کی۔ کچھ ہی مہینوں بعد، ایک سخت مقابلے کے بعد، ہالی ووڈ کے ایک معروف اداکار نے سب سے زیادہ بولی لگا کر یہ موقع حاصل کر لیا۔مرر کے مطابق، لاورا جو ایک مذہبی پس منظر سے تعلق رکھتی ہیں، نے کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر کوئی افسوس نہیں ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو مالی تحفظ کے لیے ایک عملی قدم قرار دیا۔ لاورا کا کہنا تھا، "مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔ بہت سی لڑکیاں بغیر کسی فائدے کے اپنی کنواری ہونے سے محروم ہو جاتی ہیں، لیکن میں نے کم از کم اپنے مستقبل کو محفوظ کر لیا ہے۔”

    22 سالہ طالبہ نے مزید انکشاف کیا کہ ان کی نیلامی میں نہ صرف عام افراد بلکہ بڑے سیاستدانوں، کاروباری شخصیات اور مشہور شخصیات نے بھی دلچسپی ظاہر کی۔ بالآخر، لاس اینجلس کے ایک "انتہائی مشہور” ہالی ووڈ اداکار نے نیلامی جیت لی، جس نے لندن کے ایک سیاستدان اور دبئی کے ایک کاروباری شخص کو پیچھے چھوڑ دیا۔

    نیلامی کے بعد، ایک تاریخ مقرر کی گئی اور لاورا ایک ایجنسی کے نمائندے کے ساتھ لندن کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں اداکار سے ملنے پہنچیں۔ معاہدے کے مطابق، خریدنے والے شخص کی موجودگی میں ایک طبی معائنہ کیا گیا تاکہ لاورا کی کنواری ہونے کی تصدیق ہو سکے۔ پورے عمل کو مکمل رازداری کے ساتھ انجام دیا گیا تاکہ تمام فریقین کی شناخت محفوظ رہے۔لاورا نے اس متنازع فیصلے کے پیچھے اپنی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی "غیر روایتی” پسند پر خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا، "میں نے جو فیصلہ کیا، اس پر میں مطمئن ہوں کیونکہ میں ایک حقیقت پسند انسان ہوں۔ امکان یہی تھا کہ میں اپنی کنواری ہونے سے کسی ایسے شخص کے ساتھ محروم ہو جاتی جو بعد میں مجھ سے شادی نہ کرتا۔ یہ میرے لیے فائدہ مند نہ ہوتا۔”انہوں نے مزید بتایا کہ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم ان کی زندگی بدلنے کا باعث بنی۔ اس رقم سے انہوں نے جائیدادیں خرید کر کرائے پر دینے کا انتظام کیا، نئے کپڑے خریدے اور سیاحت کے مواقع سے فائدہ اٹھایا۔ مستقبل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لاورا نے کہا کہ وہ ایک امیر ساتھی تلاش کرنا چاہتی ہیں جو انہیں مالی مدد فراہم کرے اور ساتھ ہی ایک رومانوی تعلق بھی قائم رکھے۔”میں نے اپنی زندگی سنوار لی ہے،” انہوں نے کہا، "اب میں بغیر مالی پریشانی کے اپنے مقاصد پر توجہ مرکوز کر سکتی ہوں۔”

  • عمر اور صنفی امتیاز کا مقدمہ،چار خاتون صحافیوں نے بی بی سی کو”جھکا”دیا

    عمر اور صنفی امتیاز کا مقدمہ،چار خاتون صحافیوں نے بی بی سی کو”جھکا”دیا

    بی بی سی نے اپنی چار خواتین نیوز پریزنٹرز کے ساتھ روزگار سے متعلق مقدمات میں تصفیہ کر لیا ہے، جن میں عمر اور صنفی امتیاز کے الزامات شامل تھے،

    پریزنٹرز انیتا میک وی، کرین جینونے، کاشیا مادیرا اور مارٹین کروکسال نے بی بی سی کے خلاف ایک درخواست دائر کی تھی جس کی سماعت اگلے ہفتے ہونا تھی۔ مس میک وی، مس کروکسال اور مس مادیرا نے عمر، جنس، یونین کی رکنیت اور اجرت کے حوالے سے امتیازی سلوک کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ مس جینونے نے عمر، جنس اور اجرت کی بنیاد پر امتیاز کا الزام لگایا تھا۔یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ اس تصفیہ میں کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی اور تین ہفتے کی ٹریبونل سماعت اب نہیں ہوگی۔ایک بیان میں پریزنٹرز نے کہا: "ہم تصدیق کرتے ہیں کہ ہم نے بی بی سی انتظامیہ کے ساتھ ایک ایسا حل نکالا ہے جو ہمارے روزگار سے متعلق دعووں کے سلسلے میں ٹریبونل کی ضرورت کو ختم کر دیتا ہے۔”تقریباً تین سال تک جاری رہنے والا ایک طویل عمل اب مکمل ہو گیا ہے۔ ہمیں ملنے والی حمایت نے ہمیں بے حد متاثر کیا ہے۔

    بی بی سی کے ترجمان نے کہا: "ہم نے احتیاط سے غور کرنے کے بعد ایک تصفیہ تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے، جو چار ملازمین کے ساتھ طویل قانونی کارروائی کو ختم کرتا ہے اور بی بی سی کے لیے مزید اخراجات سے بچاتا ہے۔”ایسا کرتے ہوئے، ہم نے کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی ہمارے خلاف پیش کیے گئے کسی بھی دلائل کو تسلیم کیا ہے۔ ہم محض ان تمام کارروائیوں کو ختم کر رہے ہیں تاکہ تمام فریقین آگے بڑھ سکیں۔

    مس میک وی نے بی بی سی میں اکتوبر 1995 سے کام شروع کیا اور 2006 سے بی بی سی نیوز چینل اور بی بی سی ورلڈ نیوز کی چیف پریزنٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، اور وہ بی بی سی نیٹ ورک نیوز پر بھی نظر آ چکی ہیں۔مس جینونے نے جنوری 2005 میں بی بی سی میں شمولیت اختیار کی اور اپریل 2008 میں مستقل رکن بن گئیں۔ وہ بی بی سی ورلڈ نیوز اور بی بی سی نیوز چینل کی چیف پریزنٹر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔مس مادیرا مارچ 2012 سے بی بی سی نیوز چینل اور بی بی سی ورلڈ نیوز کی چیف پریزنٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں اور بی بی سی ون کے نیٹ ورک نیوز بلیٹن پر بھی آ چکی ہیں۔مس کروکسال نے اکتوبر 1991 میں بی بی سی میں شمولیت اختیار کی اور 2001 سے بی بی سی نیوز چینل اور بی بی سی ورلڈ نیوز کی چیف پریزنٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں، جبکہ وہ بی بی سی ون کے نیٹ ورک نیوز بلیٹن پر بھی نظر آئی ہیں۔

  • ہوٹل میں فحاشی کا اڈہ،پولیس نے 4 خواتین کو بچا لیا

    ہوٹل میں فحاشی کا اڈہ،پولیس نے 4 خواتین کو بچا لیا

    ممبئی پولیس نے سیکس ریکٹ کا پردہ فاش کیا، 4 خاتون اداکاروں کو بچایا، ایک شخص گرفتار

    ممبئی پولیس نے شہر کے واقع ایک ہوٹل سے 4 خاتون اداکاروں کو بچایا ہے جنہیں جسم فروشی کے لئے ہوٹل میں لایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔

    ممبئی پولیس نے مخصوص معلومات کی بنیاد پر ہوٹل میں چھاپہ مارا اور ایک شخص کو گرفتار کیا جس کی شناخت شیم سندر ارورا کے طور پر کی گئی ہے، جو خواتین کو جسم فروشی میں ملوث کرنے کا کام کرتا تھا۔ پولیس کے مطابق، 4 خواتین اداکاروں کو بچایا گیا جن میں سے ایک نے ہندی ٹیلی ویژن سیریلوں میں کام کیا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیایا سنہیتا اور غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا ہے۔ گرفتار ملزم اور اس کے معاون کے خلاف پوأی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک بڑی کامیابی ہے جو اس غیر قانونی سرگرمی کی روک تھام کے لیے کی گئی۔

  • بھارتی فوج کے بریگیڈیئر پر کرنل کی بیوی کے ساتھ جنسی ہراسانی کا الزام

    بھارتی فوج کے بریگیڈیئر پر کرنل کی بیوی کے ساتھ جنسی ہراسانی کا الزام

    میگھالیہ کے دارالحکومت شیلانگ میں ایک بھارتی فوج کے بریگیڈیئر پر ایک جونیئر افسر کی بیوی نے جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا ہے۔ میگھالیہ پولیس نے اس شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ بھارتی فوج کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    متاثرہ خاتون کے شوہر، جو کہ کرنل رینک کے افسر ہیں اور شیلانگ میں تعینات ہیں، نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں متعدد مواقع پر پیش آنے والے نامناسب رویے، جسمانی دھمکیوں اور توہین آمیز زبان کے استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ واقعہ 8 مارچ کو افسران کے میس میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں متاثرہ خاتون کے مطابق بریگیڈیئر نے ان سے مسلسل نازیبا گفتگو کی اور ان کے انکار کے باوجود اپنی حرکات جاری رکھیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر نے ان کے ساتھ بدزبانی کی اور انہیں جسمانی طور پر دھمکایا، جس پر ان کے شوہر کو مداخلت کرنا پڑی۔

    شکایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ بریگیڈیئر اور متاثرہ خاتون ہمسایہ بھی ہیں، اور انہیں اپنی جان کا خطرہ لاحق ہے۔ اس سے قبل 13 اپریل 2024 کو ایک ہاؤس وارمنگ تقریب کے دوران بھی بریگیڈیئر نے ان کے لباس پر نامناسب تبصرہ کیا تھا۔ دو ماہ بعد ایک ڈنر کے دوران مبینہ طور پر انہوں نے متاثرہ خاتون کا ہاتھ زبردستی تھام لیا، جبکہ ان کے شوہر بھی وہیں موجود تھے۔متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ان واقعات نے انہیں شدید ذہنی صدمے سے دوچار کیا، جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر پولیس سے رجوع نہیں کر سکیں۔ تاہم، اب ان کی شکایت پر پولیس نے جنسی ہراسانی، خواتین کی عزت مجروح کرنے اور مجرمانہ دھمکیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ابھی تک بھارتی فوج نے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، جبکہ پولیس کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے۔